سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | رابطہ
ماہنامہ دختران اسلام > جولائی 2011 ء > اداریہ: تحریک بیدارئ شعور اور منہاج القرآن ویمن لیگ
ماہنامہ دختران اسلام : جولائی 2011 ء
> ماہنامہ دختران اسلام > جولائی 2011 ء > اداریہ: تحریک بیدارئ شعور اور منہاج القرآن ویمن لیگ

اداریہ: تحریک بیدارئ شعور اور منہاج القرآن ویمن لیگ

ارض وطن کو مسائل نے ہر طرف سے ایسے گھیر رکھا ہے جیسے متلاطم سمندر میں بغیر ملاح کے کشتی ہوتی ہے۔ بدقسمتی کہ پاکستان کی کشتی کے ملاح تو ہیں مگر وہ کشتی کو مشکل حالات میں چلانے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں اور ان کی وفاداریاں بحری قذاقوں کے ساتھ ہیں۔ عوام الناس کی اکثریت سابقہ کئی دہائیوں سے مسلط حکمرانوں کو اس امیدپر منتخب کرنے کا جرم کئے جارہے ہیں کہ شائد ان ہی کے ہاتھوں ملک کی تقدیر بدل جائے، یہ سوچ ملک کو ایسی سٹیج پر لے آئی ہے کہ اس کی معیشت اور سیاست دونوں عالمی مالیاتی اداروں اور موثر ممالک کے ہاں گروی ہوچکی ہے۔ دہشت گردی اور خود کش حملے اس کی پہچان بن گئے ہیں۔ بڑی طاقتیںاپنے مفادات کی جنگ اس کی سرزمین پر لڑ رہی ہیں اور فوجی اداروں اور سیکورٹی فورسز پر حملے تسلسل سے ہورہے ہیں۔

کشمیر کے حالیہ الیکشن کے نتائج نے محب وطن لوگوں کی اس معصومانہ سوچ کی بھی نفی کردی ہے جو یہ امید لگا بیٹھے تھے کہ آنے والے قومی الیکشن نام نہاد ’’بڑی‘‘ پارٹیوں کے خلاف عوامی نفرت باصلاحیت، وفادار اور دیانتدار قیادت کو سامنے لانے کا باعث بنے گی۔ ملک کے 97 فیصد طبقے کو سمجھنا ہوگا کہ موجودہ سیاسی نظام فساد کی اصل جڑ ہے اور یہ عوام کا چھپا قاتل ہے، یہ ایسی پارلیمنٹ تشکیل دینا ہے جو اندھی بہری اور گونگی ہوتی ہے اور قانون سازی کا عمل صرف اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کے لئے کرتی ہے۔ اس لئے جب تک غریب کُش استحصالی اور منافقانہ سیاسی نظام کو بدلنے کے لئے موثر کاوشیں نہیں کی جاتیں کسی خیر کی توقع رکھنا دیوانے کا خواب ہوگا۔

وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ملک کی تقدیر بدلنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ بدقسمتی ہے کہ دیہاتوں میں خواندگی کا تناسب بہت ہی کم ہے اور یہ خواتین میں اور بھی زیادہ کم ہے، صحت مند سیاسی کلچر کے فروغ میں خواتین کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا مگر ہمارے معاشرے میں ماں، بہن اور بیٹی کے مقدس رشتوں کا جذباتی حد تک تو احترام ہے مگر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاکر خاندان اور ملکی ترقی کو مہمیز لگانے کا کوئی موثر پلان انفرادی اور اجتماعی سطح پر نہیں ہے۔ گھریلو صنعتوں کا قیام دیہاتوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ متمؤل خاندانوں نے اگر یہ کام شروع کررکھا ہے تو وہاں کی غریب خواتین کا زبردست استحصال کیا جاتا ہے۔

پاکستان جن مسائل کا شکار ہے ان میں سر فہرست قیادت کا بحران ہے جو عوام کی بے شعوری کے باعث ہے۔ ان حالات میں خواتین کی تعلیم پر توجہ دینا بہت ہی ضروری ہے کیونکہ پڑھی لکھی ماں ایک فرد کا نہیں پورے خاندان کا نام ہے۔ تعلیم یافتہ ماں کی گود سے پرورش پانے والی نسل یقینا شعور کی دولت سے آراستہ ہوتی ہے اور مختلف شعبوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کی بدولت ملک و قوم کا نام روشن کرنے کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی حالات کی ذبوں حالی کی بڑی وجہ میں سے ایک خواتین پر تعلیم کے دروازوں کا بند ہونا ہے، یہ ظلم دو سطحوں پر ہوتا ہے۔ خاندان والے بچیوں کو پڑھانے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے جو بہت بڑا ظلم ہے۔ دوسرا فوجی اور ’’جمہوری‘‘ حکومتوں نے تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں کبھی کوئی جگہ نہیں دی۔ یہ دونوں رویے ملکی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

خواتین کی تعلیم کے حوالے سے چند NGO's نے موثر کام کیا ہے جو یقینا لائق تحسین ہے مگر تربیت تعلیم سے بھی زیادہ اعلیٰ عمل ہے جو روایتی تعلیمی اداروں میں خال خال ہی نظر آتا ہے۔ موجودہ حالات میں منہاج القرآن ویمن لیگ کا کردار تربیت کے حوالے سے یقینا بہت زیادہ حوصلہ افزاء ہے۔ تربیت کے اعلیٰ نظام کی تشکیل اور تعلیم کے فروغ میں پورے ملک میں ویمن لیگ انتہائی موثر کردار ادا کررہی ہے۔ بچیوں کے لئے تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں جہاں تربیت پر خاص توجہ ہے۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت پورے ملک میں سینکڑوں سکولز ہیں جہاں بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز ہے اور ان کی تربیت کا موثر اور مربوط نظام بھی موجود ہے۔ منہاج القرآن ویمن لیگ کی تنظیمات معاشرے میں بے شعوری کے خلاف عظیم جہادکررہی ہیں۔ مرکزی اور صوبائی سطح پر تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور شارٹ کورسز ہوتے ہیں جن میں سینکڑوں خواتین شریک ہوکر بے شعوری کے خلاف جہاد کا عزم کرتی ہیں۔ ڈویژن، ضلع اور تحصیل سطح پر بھی منہاج القرآن کی تنظیمات بیدارئ شعور کے لئے نظم کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ منہاج القرآن ویمن لیگ نے معاشرے میں تبدیلی کے لئے تحریک بیدارئ شعور کا جو کام شروع کیا ہے وہ آنے والے وقتوں میں ملک میں انتہائی مثبت تبدیلی کی بنیاد بنے گا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے وطن عزیز کے پسے ہوئے طبقے کو معاشی وقار اور ان کے حقوق دینے کے لئے جدوجہد کے آغاز میں ہی خواتین کو اس عظیم جدوجہد میں شامل رکھا، ان کا یہ فیصلہ اسلام کی طرف سے عورتوں کو دیئے گئے حقوق کاانہیں شعور دلانے اور معاشرے میں اس حقیقی فکر کو پھیلانے میں بہت موثر رہا ہے۔ یہ اللہ، اس کے محبوب رسولA کی منشاء ہے کہ تحریک منہاج القرآن کی عظیم فکر صدیوں تک آئندہ نسلوں کو منتقل ہو، اس کے لئے مائوں کی گود کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ وطن عزیز میں مثبت تبدیلی کے لئے تحریک منہاج القرآن کی بیدارئ شعور کی تحریک جاری ہے اور جب بھی مصطفوی انقلاب اس دھرتی کا مقدر بنے گا منہاج

القرآن ویمن لیگ کے تاریخی کردار کو مورخ کبھی فراموش نہ کرسکے گا۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>






islam quran sunnah hadith urdu english pakistan punjab lahore

© 1980 - 2022 Minhaj-ul-Quran International.


Warning: mysqli_close() expects parameter 1 to be mysqli, string given in /home/minhajki/public_html/minhaj.info/di/index.php on line 132