[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > اکتوبر 2007 ء > اداریہ : قوم ضمیر فروش ’’قائدین‘‘ سے محتاط رہے
ماہنامہ منہاج القرآن : اکتوبر 2007 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اکتوبر 2007 ء > اداریہ : قوم ضمیر فروش ’’قائدین‘‘ سے محتاط رہے

اداریہ : قوم ضمیر فروش ’’قائدین‘‘ سے محتاط رہے

ڈاکٹر علی اکبر قادری

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وطن عزیز کی فضائیں آج کل سوگوار ہیں۔ درو دیوار سے مایوسی اور افسردگی ٹپک رہی ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں اغوا، قتل اور بم دھماکوں کا ماحول دن بہ دن خطرناک حدیں عبور کررہا ہے۔ ابھی تین سو سیکورٹی اہل کاروں کی رہائی کا معاملہ حل نہیں ہو پایا تھا کہ گذشتہ روز تربیلا غازی کے حساس فوجی علاقے میں بم دھماکے نے خصوصی فورسز کے درجنوں افسران کی جان لے لی۔ اُدھر کراچی جو کسی دور میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اور اسے پاکستان کا قابلِ فخر صنعتی مرکز سمجھا جاتا تھا آج کل لاقانونیت، منفی سیاست، کرپشن اور غنڈہ گردی کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔ اندرون سندھ سمیت بلوچستان اور صوبہ سرحد میں وفاق مخالف قوتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ خیبر سے کراچی اور چاغی سے کشمیر تک پورا ملک ایک شخص کی ھٹ دھرمی اور اقتدار کی ہوس پرستی کی قیمت ادا کررہا ہے۔ ملک میں غیر دانشمندانہ حکومتی پالیسیوں اور روز مرہ اقدامات کے نتیجے میں جو منظر ابھر رہا ہے وہ نہایت تشویشناک ہے۔ 1971ء میں جب پاکستان دو لخت ہوا تو اس وقت مغربی پاکستان میں وفاق مخالف تحریک ’’مکتی باہنی‘‘ چل رہی تھی جسے بھارت نے قوت فراہم کی اور بالآخر دنیا کی واحد عظیم ترین نظریاتی مسلم ریاست ٹوٹ گئی لیکن آج تو یہاں جگہ جگہ مکتی باہنی جیسی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ اب صرف بھارت نہیں بلکہ عالمی قوت امریکہ اور اسرائیل بھی بھارت کے ساتھ پاکستان دشمنی میں ان منفی قوتوں کی پشت پر متحد دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری طرف ملک میں سفاک آمریت مسلط ہے۔ فوج کے قابل احترام قومی ادارے کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے۔ کراچی سے شمالی علاقہ جات تک فوجی ٹھکانوں پر حملوں کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں اور فوجی جوانوں کا خون بہہ رہا ہے اور یہ صورت حال افغانستان اور عراق جیسی خانہ جنگی کی طرف بڑھتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان کے غیر جمہوری صدر پرویز مشرف اب کسی افریقی ملک کے ڈکٹیٹر کا روپ دھار چکے ہیں۔ جب سے انہوں نے ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے اور ہمسایہ ملک افغانستان میں جاری طالبان تحریک کی مخالفت میں امریکی آلہ کار کی حیثیت سے پاکستانی سرحدی علاقوں میں 90 ہزار پاکستانی آرمی تعینات کی ہے، افغان جنگ کی چنگاریوں نے ہمارے خرمن کو بھی اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ اب آئے روز امریکی عہدیدار اسلام آباد کا چکر لگاتے ہیں اور مکمل ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان دشمنی پر مبنی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمارے صدر صاحب قوم کو اس غیر ملکی مداخلت پر طفل تسلیاں دیتے ہوئے فرمادیتے ہیں ’’میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیتا‘‘ اور وزارت خارجہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ہم ملکی سالمیت کے خلاف کسی کی مداخلت تسلیم نہیں کرتے‘‘ مگر عملاً دونوں کام ہورہے ہیں۔

موجودہ حکومت نے حالیہ سال 2007ء کو انتخابات کا سال قرار دیا ہوا ہے۔ موجودہ اسمبلی اپنا 5 سالہ دورانیہ مکمل کررہی ہے۔ ملک میں باوردی اور بے وردی صدارتی الیکشن کا واویلا مچا ہوا ہے۔ حکومتی حلیفوں کے بیانات سے یوں لگ رہا ہے کہ اب 16 کروڑ عوام میں صرف ایک ہی شخص ہے جس کے سر پر صدارت کا تاج سجنا چاہئے۔ آئندہ چند دن اس اعتبار سے بہت اہم اور تاریخی ہوں گے۔ اصحابِ ’’قاف‘‘ مشرف بے نظیر ڈیل کی بظاہر ناکامی اور نواز شریف کی دوبارہ ملک بدری پر خوش ہیں اور آئندہ حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ صدر مشرف امریکی سرپرستی میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ بہر صورت ڈیل چاہتے ہیں اور محترمہ بھی اقتدار کے نشے میں ہر قسم کا عوام مخالف اور ملک دشمن فیصلہ قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔ دوسری طرف مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی قیادت نے گذشتہ روز امریکی عہدیدار کو یہ اطمینان دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے ظاہری لبادے سے آپ کو کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے اس لئے اس بارہمیں بھی موقع دے کر دیکھ لیں ہم آپ کے ہر اشارے پر پورا اتریں گے۔ ویسے بھی اقتدار کی دوڑ میں اب کوئی نظریہ، کوئی حب الوطنی اور کسی قسم کی اصول پرستی نہیں دیکھی جاتی۔ حصول اقتدار کے لئے پی پی جیسی جمہوری پارٹی کی قیادت نے اپنی تمام تاریخی جدوجہد اور باپ کی قربانیوں کو ایک طرف پھینک کر ڈیل کا دستر خوان سجالیا، حکومت نے بھی حب الوطنی پر مبنی آئینی و دستوری تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں تمام تر جرائم کے ساتھ گلے لگانے میںدیر نہیں کی۔ حتی کہ ان کے خلاف قوم کے کروڑوں روپے غبن کرنے سے متعلق عدالتوں میں زیر التوا مقدمات بھی معاف کرنے کا عندیہ دے دیا۔ اب خدانخواستہ مقررہ تاریخ پر محترمہ پاکستان آتی ہیں اور صدارتی انتخابات میں ان کی جماعت فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت میں خاموش رہتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ امریکی نگرانی میں ہونے والی ڈیل کا پہلا مقصد بخیرو خوبی پورا ہوگیا۔ پھر وفاق مخالف لوگوں کو الیکشن میں بھاری اکثریت میں کامیاب کرواکر وہی ماحول پیدا کیا جائے گا جو عوامی لیگ کی کامیابی کے ساتھ 1971ء میں پیدا ہوا تھا۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ سب کے سامنے ہے۔ لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس سارے تانے بانے میں محض ایک آمر کی ڈھٹائی کار فرما نہیں بلکہ حکمران لیگ کے سرکردہ رہنما اور محترمہ کے ترجمان قریبی ساتھی بھی برابر کے شریک ہیں۔

پرویز مشرف کے دو عہدوں کا معاملہ اب عدالت میں ہے پاکستان کی عدلیہ اب نظریہ ضرورت والی سابقہ عدلیہ نہیں رہی۔ اگرچہ نواز شریف کی ملک بدری اور کراچی کے بدترین واقعات عدلیہ کی بے حرمتی اور اس پر دباؤ بڑھانے کے اقدامات ہیں مگر جج صاحبان کی متفقہ دانش سے قوم کو کافی توقعات وابستہ ہیں۔ تاہم معاملات اتنے الجھ چکے ہیں کہ آسانی کے ساتھ سلجھاؤ کی امید نظر نہیں آتی۔ ایسے میں پاکستانی قوم اور اس کے محب وطن حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ حالات کے دھارے میں بہنے کی بجائے اپنا وجود منوائیں اور بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اس تشویشناک صورتحال میں قوم کو ان ضمیر فروش قائدین کے حربوں سے محتاط رہنا ہوگا جنہوں نے اقتدار کو اپنی عیاشیوں کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے، جنہوں نے قبل ازیں بھی کشمیر، ایٹمی قوت اور افغان پالیسی پر قومی مفادات اور قربانیوں کے خلاف یوٹرن لیا ہے۔ ان کا محاسبہ نہ کیا گیا تو یہ آئندہ بھی ملک دشمن کارروائیوں میں استعمال ہوتے رہیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ قوم موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت کی رسہ کشی اور اقتدار کے گھناؤنے کھیل کا حصہ بننے کی بجائے انقلابی تبدیلی کی طرف بڑھے گی۔ یہ وہی حالات و واقعات ہیں جن کی طرف شیخ الاسلام اپنی دس سالہ سیاسی جدوجہد میں قوم کو متوجہ کرتے رہے اور بالآخر باطل نظام جمہوریت و سیاست کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے موجودہ اسمبلی سے مستعفی ہوگئے۔ تحریک کے لاکھوں کارکن ملک اور بیرون ملک ان حالات و واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات منصفانہ ہوئے تو تحریک کے یہ لاکھوں سرفروش مثبت، اسلام پسند اور محب وطن قوتوں کے ساتھ مل کر اہم تاریخی کردار ادا کریں گے۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Sep 24, 2007



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau