[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > نومبر 2007 ء > الحدیث : منصبِ رسالت اور اس پر ایمان لانے کے تقاضے
ماہنامہ منہاج القرآن : نومبر 2007 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > نومبر 2007 ء > الحدیث : منصبِ رسالت اور اس پر ایمان لانے کے تقاضے

الحدیث : منصبِ رسالت اور اس پر ایمان لانے کے تقاضے

علامہ محمد معراج الاسلام

حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں، سرکار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَا يُوْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَيهِ مِنْ وَالِدِه وَوَلَدِه وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ.

’’تم میں سے کوئی پکا مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اسے اس کے ماں باپ آل اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوجاؤں‘‘۔

شرح و تفصیل

یہ حدیث بڑی ہی معنی خیز ہے، دین و ایمان میں مقام نبوت اورمنصب رسالت کو جو اہم مقام حاصل ہے، اس میں اس کی نشان دہی کی گئی ہے، اس کا ادراک تب ممکن ہے جب اس کے تقاضوں سے کچھ آگاہی ہو، اسی کی قدرے تفصیل پیش کی جاتی ہے۔

منصبِ رسالت

رسول، اس ’’بندہ خاص‘‘ اور ’’انسان مرتضیٰ‘‘ کو کہتے ہیں جو اللہ کی رحمت اور قرب خاص کی نعمت سے بہرہ ور اور بے پایاں عطا سے فیض یاب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے معصوم اور گناہوں سے پاک پیدا فرماتا ہے تاکہ کوئی شخص اس کی ذات پر حرف گیری نہ کرسکے پھر کسی خاص موقع پر اسے حکم دیتا ہے کہ وہ بگڑی ہوئی قوم اور بھٹکی ہوئی امت کی قیادت و رہنمائی کے لئے خود کو پیش کرے اور لوگوں کو دعوت دے کہ وہ اسے رہبر تسلیم کرکے اس کے نقش قدم پر چلیں اور ان مذموم حرکتوں سے باز آئیں جنہیں اجتماعی طور پر انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی رہنمائی کے لئے اس طرح مامور کئے جانے کو ’’رسالت اور بعثت‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا منصب اور عظیم الشان اعزاز ہے جس سے بڑے اعزاز اور اعلیٰ منصب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا یہ ایک وہبی منصب ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس سے سرفراز فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاللّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيم.

(الْبَقَرَة ، 2 : 105)

’’اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اپنی اس رحمت کے ساتھ خاص فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے‘‘۔

کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس انمول اور یکتا منصب کو اپنے زور بازو، منت خوشامد، مجاہدہ و ریاضت، طاعت وعبادت یا اپنی جتھہ بندی اور لمبی چوڑی برادری کے بل بوتے پر حاصل کرسکے۔

جس برگزیدہ انسان کے سر پر تاج نبوت سجانا ہوتا ہے وہ پہلے ہی سے منتخب اور محبوب و مقبول ہوتا ہے جسے قدرت اپنی نگرانی میں پروان چڑھاتی اور اپنی حفاظت کے حصار میں رکھتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص از خود نبی بننا چاہے اور اس کے دل میں یہ منصب حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوجائے تو وہ اسے حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ کسی بھی لحاظ سے یہ منصب کسبی نہیں۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ منصب وہبی ہے، کسبی نہیں اور یہ منتخب روزگار ہستیوں کو ہی عطا کیا جاتا ہے۔ تو اب یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس عظیم منصب پر ایمان لانے کے کچھ آداب اور تقاضے ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے اور انہیں ملحوظ رکھے بغیر انسان کا ایمان معتبر اور مکمل نہیں ہوتا۔

رسالت پر ایمان لانے کا تقاضا

قرآن پاک نے جس خوبصورت اسلوب میں اور بار بار مقام رسالت کو بیان کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسالت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور قرآن اس حسین اسلوب بیان سے صادق و عاشق اور وفا شعار امت کے دل میں ’’عشق رسول‘‘ پیدا کرنا چاہتا ہے اس لئے کسی سچے اور پکے امتی کے لئے جائز نہیں ہے کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد فارغ بیٹھ جائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اب اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اسے نجات کا پروانہ مل گیا ہے اور اب وہ آزاد ہے جس طرح چاہے زندگی گزارے۔

یہ خیال غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو امتی کو اپنے نبی کا عاشق و طالب بنا دے اور وہ اپنے نبی کے لئے پروانے کا روپ دھار لے کہ اس کی دید اور یاد کے بغیر اسے قرار ہی نہ آئے، اٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے اور ہر کام کے دوران تصورِ جاناں ہی میں مستغرق رہے۔ اس لئے نبی پر ایمان لانے کے کچھ تقاضے ہیں، امتی کے لئے جن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ وہ آداب و تقاضے یہ ہیں۔

  1. اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل و جان سے تعظیم کرے۔
  2. نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل جاننا۔
  3. اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کمالات و مراتب عطا فرمائے ہیں، انہیں تسلیم کرے اور ان کے تذکرے سے خوش ہو، جہاں فضائل و معجزات کی تفصیل سنے اس کا دل کنول کی طرح کھل اٹھے۔

ایمان کے ان تقاضوں کی تفصیل یہ ہے۔

پہلا تقاضا : دل کی گہرائیوں سے نبی کی تعظیم کرنا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر ایمان لانے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان کی تعظیم و تکریم کو اپنا شعار بنائے۔

تعظیم رسالت ایک ایسا مسئلہ ہے جسے قرآن پاک نے بڑی اہمیت دی ہے اور اسے ایسے ایمان افروز اسلوب میں بیان کیا ہے جس سے حسین تر اور معنی خیز اسلوب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انسان کی فطرت بھی عجیب ہے، وہ طبعی طور پر علم و حکمت کا رسیا اور فضل و کمال کا قدر دان ہے۔ اسے کسی شخصیت کی خصوصیات اور اس کی ذات میں پائے جانے والے غیر معمولی اور انمول کمالات کا پتہ چل جائے تو وہ بن دیکھے ہی اس پر دل و جاں سے فدا ہوجاتا ہے اور اسی کے تصور میں گم رہنے لگ جاتا ہے اور ہر حال و مجلس میں اس کے ذکر کے سوا اسے کچھ نہیں سوجھتا۔

اسی اصول کے مطابق، قرآن پاک نے اہل ایمان کے دلوں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عقیدت پیدا کرنے کے لئے سورۃ الفتح کی آیت میں پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچھ اعلیٰ ترین اور یگانہ و یکتا شانیں بیان کی ہیں کہ وہ گواہ اور شاہد ہیں اور بشیر و نذیر بھی، تاکہ امتی اس حقیقت سے آگاہ ہوکر کہ اس کے رسول بڑے ہی مہربان اور شفیق ہیں جو قیامت کے دن اپنی گناہگار امت کے حق میں گواہی دیں گے اور کسی بھی مرحلہ پر اسے بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے۔ اس حوالے سے ان کی ذات نہایت ہی قابل قدر، عظیم و جلیل اور محبت کے لائق ہے اس لئے مومنوں کا حق ہے کہ وہ بھی ان سے ٹوٹ کر پیار کریں اور ان کی عقیدت کو دل میں جگہ دیں چنانچہ ارشاد فرمایا:

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًاO لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ.

(الفتح، 48 : 8، 9)

’’اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو شہادت و بشارت اور انذار کے منصب پر فائز کرکے بھیجا ہے، (اے لوگو! یہ اس لئے ہے) تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوب تعظیم و توقیر کرو‘‘۔

قرآن پاک نے دوسری جگہ ٹوٹ کر پیار کرنے اور تعظیم و توقیر کا یہی عمل اختیا رکرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَO

(الْأَعْرَاف ، 7 : 157)

’’پس جو لوگ ایمان لائے اور ان کی خوب تعظیم اور مدد کی اور جو نور ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، اس کی پیروی کی تو یہی لوگ مسرت و کامیابی حاصل کرنے والے ہونگے‘‘۔

دونوں آیات میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا حکم دینے کے لئے لفظ ’’تعزیر‘‘ لایا گیا ہے جو اپنی جگہ بڑا معنی خیز ہے۔ یہ لفظ عام قسم کی تعظیم و تکریم کے لئے نہیں بولا جاتا بلکہ تعظیم کی اس حالت پر بولا جاتا ہے جو تعظیم کی انتہائی حدوں کو چھولے۔

مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک وہ بے مثل ذات ہے کہ عام انسانوں کے لئے تو تعظیم میں مبالغہ آسکتا ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک وہ بے مثل ذات ہے جہاں مبالغہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لئے قرآن پاک نے یہ لفظ ذکر کیا ہے تاکہ اہل ایمان تعظیم کے لئے جو بھی عمل اور انداز اختیار کرنا چاہیں وہ بلا تکلف اختیار کرلیں اور اپنے پاک نبی کی صفت وثناء بیان کریں، چاہے ان کا بیان کتنا ہی پر شکوہ اور حسنِ عقیدت سے لبریز ہو اور ان کا نیاز مندانہ انداز، خواہ کتنی ہی عاجزی لئے ہوئے ہو پھر بھی اس میں مبالغہ پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اتنی ارفع و اعلیٰ ہے اور رب کریم نے ان کو اتنی عظمتیں عطا فرمائی ہیں کہ امتی جو خوبی اور شان بھی بیان کرے گا وہ ان کی ذات اقدس میں موجود ہوگی۔

حسن یوسف، دم عیسیٰ، ید بیضاء داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

محمد سر بسر حمدِ خدا ہیں
محمد جانِ ہر حمد و ثناء ہیں

محمد ہیں، محمد ہی محمد (ص)
محمدِ مصطفیٰ ہی مصطفیٰ (ص) ہیں

اس حقیقت ثابتہ اور نورانی ضابطہ کے مطابق امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے قصیدہ بردہ شریف میں ارشاد فرمایا:

دَعْ مَا اَدَّعَتْهُ النَّصَارٰی فِی نَبِيِّهِم
وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيْهِ وَاحْتَکِم

’’نصاری نے اپنے نبی کو خدا کا بیٹا کہا تھا تم یہ مت کہو اس کے علاوہ جس طرح چاہو، ان کی شان بیان کرو (سب کچھ بیان واقعہ ہوگا، مبالغہ نہیں ہوگا)‘‘۔

نبی کو خدا کا بیٹا کہنا بے شک مبالغہ اور خلاف واقعہ بات ہے، کفر ہے، اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا اَطْرَتِ النَّصَارٰی.

جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مبالغہ کیا تھا، تم اس سے باز رہو اور میری اس قسم کی تعریف نہ کرو کیونکہ یہ تعریف نہیں، کذب بیانی ہے، خلاف واقعہ، غلط اور جھوٹی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے، کوئی نبی اس کا بیٹا نہیں ہوسکتا، اس لئے جو بھی کسی کو اس کا بیٹا کہے گا وہ جھوٹ بولے گا اور مبالغہ کی حدوں سے بھی آگے بڑھ جائے گا، اس لئے یہ غلط بات کہنے اور اس انداز سے تعریف کرنے کی اجازت نہیں، باقی ہر قسم کی تعریف و ستائش، مدح ونعت اور صفت و ثناء کی اجازت ہے۔

اس حدیث کی آڑ لے کر یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعریف سے منع فرمایا ہے، اس لئے کسی قسم کی مدح و ستائش جائز نہیں اور وہ مبالغہ کی تعریف میں آجاتی ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ اس حدیث پاک میں خدا کا بیٹا کہہ کر مدح کرنے کی ممانعت ہے، باقی رہے وہ اوصاف جو آپ کی ذات اقدس میں حقیقتاً پائے جاتے ہیں ان کے بیان کی ممانعت نہیں بلکہ ان کا ذکر ضروری اور موجب خیرو برکت ہے۔

حضرت حسان رضی اللہ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دعا دیا کرتے تھے۔

اَللّٰهمَّ اَيّدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُس.

’’اے اللہ! جبریل امین کو حسان کی تائید و تقویت کے لئے مامور فرما‘‘۔

اس لئے ایمان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ حکم قرآن کے مطابق دل کھول کر آپ کی تعظیم کی جائے اور مدح و نعت اور درود و سلام کے مہکتے پھول بطور نذرانہ عقیدت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے حضور بصد ادب و احترام پیش کئے جائیں۔

دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا

اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کے بعد ایک امتی پر جو بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مقام رسالت کی رفعت و انفرادیت کو سمجھنے اور کمالات و خصائص نبوت کو دل و جان سے تسلیم کرے، یہ نہیں کہ اللہ کے رسول کو عام انسانوں جیسا ایک فرد تصور کرتے ہوئے اپنے جیسا سمجھنے لگ جائے، یہ کافرانہ سوچ اور ابلیسی نقطہ نظر ہے۔ قرآن پاک نے بتایا ہے، کافر لوگ اسی انداز سے نبی پر اعتراض کرتے تھے اور اپنے جیسا بشر قرار دے کر ایمان نہ لانے کا جواز پیش کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا۔

مَانَرَاکَ اِلَّا بَشَرٌ مِثْلَنَا.

’’ہم تمہیں نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا بشر‘‘۔

مَاهٰذَا اِلَّا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ.

’’نہیں ہے یہ مگر تمہاری مثل بشر‘‘۔

اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا.

’’نہیں ہو تم مگر ہماری مثل بشر‘‘۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا رسول بشر ہوتا ہے، اسے بشر ماننا ضروری ہے مگر یہ کوئی تُک نہیں کہ اسے اپنے جیسا سمجھے اور اس کے نورانی و باکمال اور سراپا جمال، مقبول و مطہر وجود کو اپنے ناپاک اور گندے وجود پر قیاس کرے اور یہ کہنے لگ جائے کہ وہ کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے اور ہم بھی یہی کچھ کرتے ہیں، اس لئے ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ کفار نے یہ بھی کہا تھا:

مَالِهٰذا الرَّسُوْلِ يَاکُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِیْ فَی الْاَسْوَاقِ.

’’یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے‘‘۔

کھانا پینا اور چلنا پھرنا، بشر کا خاصا ہے، یہ ایسی چیز نہیں کہ ایک دانا شخص کے لئے ایمان لانے کے راستے کا پتھر بن جائے، دیکھنا یہ ہے کہ خدا نے جو اسے رسالت کے لئے منتخب کیا ہے تو آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کون سی خاص بات اور نوع امتیاز ہے جس نے اسے تخت نبوت پر بیٹھنے اور تاج رسالت سر پر سجانے کا اہل بنادیا ہے۔ چلنے پھرنے والے اور لوگ بھی تو تھے انہیں یہ انوکھا اعزاز کیوں نہ بخشا؟

ثابت ہوا نبی کے اندر خصوصی اوصاف ہوتے ہیں جو اسے پوری قوم سے ممتاز کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان اوصاف ہی کی وجہ سے اسے رسالت کے لئے منتخب کرلیتا ہے بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ وہ شروع ہی سے منتخب و محبوب ہوتا ہے۔ اس کی عادت بے مثل اور اطوار منفرد ہوتے ہیں مگر بے بصر اور محروم لوگوں کو نظر نہیں آتے، وہ اس کا کھانا پینا اور چلنا پھرنا ہی دیکھتے رہتے ہیں اور مکہ مکرمہ میں قریب ترین رہتے ہوئے بھی ابوجہل اور ابولہب بن جاتے ہیں اور جو اہل نظر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ فارس، روم، حبشہ اور دور دراز علاقوں سے آتے ہیں اور کافروں کی طرح اوصاف بشریت پر نظریں جمانے کی بجائے اوصاف نبوت کو دیکھتے ہیں اور آسمان والوں کی آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں دنیا انہیں سلمان، صہیب اور بلال کے نام سے یاد کرتی ہے اور لبوں پر ان کا نام آتے ہی فرط ادب اور عقیدت سے اپنی آنکھیں جھکالیتی ہے۔

ابلیس کی کوتاہ نظری

ابلیس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا وہ حضرت ابوالبشر آدم علیہ السلام کے خاکی وجود اور مٹی کے پیکر ہی کو دیکھتا رہ گیا لیکن فرشتے اس کے اندر چھپے ہوئے کمالات کو دیکھ کر اور اس کی عظمت کا اعتراف اور دل و جان سے اس کی تعظیم کرکے بازی لے گئے۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ اللہ پاک نے اپنے ارادے سے فرشتوں کو آگاہ فرمایا:

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِيفَة.

’’میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں‘‘۔

فَاِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوْحِی فَقَعُوْا لَهُ سَاجِدِيْنَ.

’’جب میں اسے بنالوں اور اس میں ’’خاص روح‘‘ پھونک دوں تو تم اس کے حضور اظہار تعظیم کے لئے جھک جانا‘‘۔

جب پیکر آدم بن گیا تو ابلیس کی نظر صرف اس کے خاکی وجود پر ہی مرکوز رہی وہ اس سے آگے اوصاف آدم کو نہ دیکھ سکا مگر جب فرشتوں نے اس میں ڈالی جانے والی نورانی روح کا مشاہدہ کیا اور اس کی برکت سے جناب آدم علیہ السلام کو حاصل ہونے والے اوصاف پر ان کی نظر گئی تو وہ جان گئے کہ اس پیکر میں کمالات علمی اور اوصاف نبوت کی صورت میں وہ کچھ ودیعت کردیا گیا ہے جو ہمیں حاصل نہیں اور ان اوصاف و کمالات اور خصائص و فضائل نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہم پر فوقیت بخش دی ہے۔لہذا وہ اسی وقت تعظیم کے لئے جھک گئے۔

مگر ابلیس اکڑا رہا اس کی نظر خاک، مٹی اور بشریت ہی میں الجھ کر رہ گئی۔ اس پیکر بشر میں جو کچھ رکھ دیا گیا تھا وہ اس ’’نور‘‘ کو نہ دیکھ سکا اور اپنے ناری وجود کو ہی دیکھتا رہا اور پھر بڑی روعونت سے بولا۔

اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنٍ.

’’میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ اور اسے مٹی سے پید اکیا ہے‘‘۔

لَمْ اَکُنْ لِاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَاٍ مَسْنُوْنٍ.

’’میں اس بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو نے گوندھی ہوئی بجنے والی چکنی مٹی سے بنایا ہے‘‘۔

اَبٰی وَسْتَکْبَرَوَ کَانَ مِنَ الْکَافِرِيْن.

’’اس نے تعظیم و آداب بجا لانے سے صاف انکار کردیا اور زبردست تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا‘‘۔

اہل کفر کے شعار اور ابلیس کے ان عبرتناک واقعات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہوش و خرد سے کام لے اور نبی کی بشریت پر ہی نظریں مرکوز نہ رکھے اور بشر بشر ہی کی رٹ نہ لگاتا رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وجود کو جن اوصاف و خصائص اور بے مثل کمالات کی وجہ سے رسالت کے لئے چنا اور جو اعزازات بخشے اور مخلوق پر امتیازات عطا کئے، انہیں بھی پیش نظر رکھے اور ان کے مقام و مرتبہ کی تعظیم و تکریم سے کبھی غافل نہ ہو۔

مقام نبوت کی عظمت و شوکت کا عالم یہ ہے کہ قرآن پاک نے ان کی بارگاہ میں حاضری دینے، وہاں بیٹھنے اور گفتگو کرنے تک کے آداب سکھائے ہیں اور آداب ملحوظ نہ رکھنے والوں کو جاہل، جہنمی اور کافر قرار دیا ہے۔

اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ امتی انہیں رسول ہونے کی حیثیت سے بے مثل مانے اور ان کی عظمت و سیادت اور منفرد شان کو دل سے تسلیم کرے۔

تیسرا تقاضا : خصائض و کمالات نبوت کا اعتراف کرنا

حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر ایمان لانے اور آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے خصائص و کمالات کو بھی دل و جان سے تسلیم کرے اور اللہ پاک نے آپ کو جو بے مثل اوصاف عطا فرمائے ہیں، دل کی گہرائیوں سے ان کا اعتراف کرے جنہیں مانے بغیر ایمان میں پختگی نہیں آتی اور نہ ہی ایمان کو حلاوت اور تازگی نصیب ہوتی ہے۔ پرجوش، طاقتور، قابل قبول اور خوبصورت ایمان کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان وہبی اوصاف اور فضائل و خصائص پر ایمان لانا ضروری ہے، وہ اوصاف و کمالات یہ ہیں:

حیات، علم، سماعت، بصارت، اختیارات وغیرہ۔

1۔ حیات

حیات کا مطلب یہ ہے کہ ایمان دار امتی اپنے دل میں یہ بات بٹھالے کہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں، قانون قدرت کے مطابق ایک لمحہ کے لئے وفات ہوئی، موت کا ذائقہ چکھا، پھر قدرت کی طرف سے دوسرے ہی لمحے پہلے جیسی حیات عطا کردی گئی اس لئے آپ زندہ و جاوید نبی ہیں۔

2۔ علم

دوسرا وصف علم ہے، ایمان دار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت پر بھی ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا علم دیا ہے جتنا ساری مخلوق کو بھی نہیں دیا۔ اولین و آخرین اور لوح و قلم کا علم، علم نبوت کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ ہوتا ہے۔

وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ الَّلوْحِ وَالْقَلم.

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماضی و مستقبل کے علوم بھی عطا فرمائے جن کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے اظہار بھی فرمایا:

3۔ سماعت وبصارت و اختیارات

اسی طرح سماعت وبصارت کی انفرادیت، اختیارات، تصرف، فضائل و کمالات اور دوسری اعجازی شانوں پر ایمان لانا اور ان کو دل سے تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ رسالت پر ایمان کے تقاضے پورے ہوں اور امتی کو ’’سچا امتی‘‘ اور ’’عاشق غلام‘‘ بننے کا شرف حاصل ہو اور میدان حشر میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے قرب کا شرف بخشیں اور شفاعت سے نوازیں۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Nov 2, 2007



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau