[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > مئی 2008 ء > دورہ صحیح مسلم شریف (نشست اول ۔ I)
ماہنامہ منہاج القرآن : مئی 2008 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > مئی 2008 ء > دورہ صحیح مسلم شریف (نشست اول ۔ I)

دورہ صحیح مسلم شریف (نشست اول ۔ I)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

حدیث اور اصول الحدیث میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ

دورہ صحیح مسلم جامع مسجد گھمگول۔ برمنگھم UK کی پہلی نشست میں
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا علمی وتحقیقی درس حدیث

بدعت کیا ہے؟ اہل بدعت کون ہیں؟

ترتیب و تدوین : محمد یوسف منہاجین

منہاج القرآن انٹرنیشنل برمنگھم کے زیر اہتمام دورہ صحیح البخاری کی عالمی سطح پر بے حد پذیرائی اور کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اکتوبر 2007ء میں منہاج القرآن انٹرنیشنل برمنگھم برطانیہ کے زیر اہتمام جامع مسجد گھمگول شریف میں دورہ صحیح مسلم (کتاب الایمان تا کتاب الصلاۃ) کے عنوان سے تین روزہ خصوصی علمی، فکری اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ جن میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے پچیس گھنٹوں سے زائد دورانیہ پر مشتمل پانچ نشستوں میں سینکڑوں علماء و مشائخ، طلباء اور ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب سے اصول الحدیث، علم الحدیث، امام مسلم کے مقام و مرتبے اور صحیح مسلم کے حوالے سے عقائد، فقہ، تصوف اور دیگر موضوعات پر گفتگو فرمائی۔ دورہ کی ابتدائی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ

’’ہم صحیح مسلم سے کتاب الایمان اور کتاب الصلاۃ سے منتخب موضوعات پر شرح و بسط سے گفتگو کریں گے اور حتی المقدور تمام علمی اور فنی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کریں گے۔ نیز اس دورہ کے حوالے سے میں نے یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ یہ دورہ تو صحیح مسلم کا ہوگا مگر اس کے ساتھ میں پوری صحاح ستہ کو لے کر چلوں گا جس باب کو مسلم شریف سے پڑھیں گے اس کے ساتھ ساتھ ہم صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث کا مطالعہ بھی جاری رکھیں گے تاکہ ایک Comparative Study ہو اور صحیح مسلم کے شکل میں مکمل صحاح ستہ ہمارے مطالعہ میں آجائے‘‘۔

دورہ صحیح مسلم کی پہلی نشست نذرِ قارئین ہے۔ (مرتب)

اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کے تصدق سے ہم صحیح مسلم شریف میں مذکور احادیث مبارکہ سے علمی و روحانی اکتساب کا آغاز کررہے ہیں۔ اس دورۂ صحیح مسلم میں احادیث مبارکہ کی مختلف جہات پر گفتگو کے ساتھ ساتھ ہمارا ارتکاز، توجہ ضمناً تین چیزوں پر بھی رہے گا۔

  1. اصول الحدیث
  2. عقائد
  3. احکام فقہ

اصول الحدیث میں سے صرف ان ضروری علمی امور کو زیر بحث لایا جائے گا جس کے بارے میں اہل علم ہونے کا دعویٰ کرنے والوں اور تھوڑی بہت علمی سوجھ بوجھ رکھنے والوں میں بہت زیادہ مغالطہ پایا جاتا ہے۔ اس مغالطہ کی بنیاد کہیں کم علمی ہے اور کہیں سرے سے جہالت ہے۔۔۔ کہیں کج فہمی ہے، کہیں گمراہی ہے۔۔۔ کہیں بے خبری ہے، کہیں مطالعہ نہیں اور کہیں کم مطالعہ ہے الغرض کئی اسباب ہیں۔ جو چیز دریاؤں میں غوطہ زنی سے حاصل ہوتی ہو وہ ایک تالاب کے کنارے سے ایک گھونٹ پی کر حاصل نہیں کی جاسکتی اور جو سمندروں میں غوطہ زنی سے ملتی ہو وہ دریاؤں سے نہیں ملتی۔ گویا محنت کرکے مراد تک پہنچا جاتا ہے۔

علمی کلچر کی ضرورت

مگر افسوس! ایسا دور آچکا ہے کہ علم میں محنت کا کلچر ختم ہوگیا ہے۔ میری ان تمام کوششوں کا مدعا علم میں محنت کے کلچر کو دوبارہ زندہ کرنا ہے کیونکہ علم کے کلچر کے ختم ہونے کا سب سے زیادہ شکار خود ہم یعنی اہل سنت والجماعت ہیں جو سواد اعظم بھی ہیں اور حقیقی وارثانِ دین، علم دین، معرفت، سلوک و تصوف، بھی ہیں کیونکہ ہمارا ہی ایک تسلسل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے تک ہے۔ 1200 سال قبل کے زمانے کو بھی لے لیں تو اہل علم خواہ وہ ائمہ تفسیر، ائمہ حدیث، ائمہ فقہ، ائمہ سلوک و طریقت و معرفت ہوں۔۔۔ خواہ ائمہ عقیدہ، ائمہ علم فنون و علوم ہوں یہ سارے کے سارے واللہ عقیدہ اہل سنت والجماعت پر تھے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے اور زمانے کا ظلم یہ ہے کہ جس عقیدہ کا 14/13 صدیوں سے تسلسل ہے اس عقیدہ کو آج بدعت، شرک، احداث، نیا فتنہ اور من گھرٹ فرقہ تصور کرایا جارہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل سنت میں علم پر محنت کم ہوگئی ہے اور وہ پوری بات جو صحیح ہے وہ قوی دلائل کے ساتھ لوگوں تک پہنچا نہیں رہے اور دیگر چیزوں پر تکیہ (بھروسہ) کرلیا ہے۔

صرف اسی موجودہ صدی کے علماء و اکابر کی کتابوں پر اکتفا کرنا اور ان کے حوالوں کو بیان کرنے کا شعار عام ہے۔ نتیجتاً دوسرا سننے والا ان حوالوں پر اعتماد نہیں کرتا، وہ تو عین ممکن ہے کہ 13/12 سو سال کے ائمہ اور اکابر و اسلاف امت کے حوالے پر بھی اعتماد نہ کرے بلکہ کہے کہ صرف قرآن اور حدیث کی بات کرو۔ اس صورت میں کیا کریں گے؟ موجودہ صدی میں ہندوستان کے علمی و روحانی اکابر تو ہمارے اکابر و اسلاف ہیں اور ہمارے سروں کا تاج ہیں مگر دوسرا جو انہیں مانتا ہی نہیں، اس کے لئے ان اکابر و اسلافِ اہل سنت کی بات دلیل نہیں ہے۔ المختصر اصل ماخذ، مصادر تک رسائی اور علوم و فنون پر محنت ہمارا وطیرہ نہیں رہا جس کی وجہ سے اہل سنت پر بدعت، شرک اور من گھڑت فرقہ کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پس آج علم کے کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اہل سنت پر اصول الحدیث کے حوالے سے اعتراض

اصول الحدیث کے بارے میں اہل سنت کو ایک بڑا طعنہ یہ دیا جاتا ہے کہ ان کو اصول الحدیث کے بارے میں کیا معلوم؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں ’’شرح نخبۃ الفکر‘‘ اور ایک دو چھوٹی کتابوں کے علاوہ اس موضوع پر کوئی کتاب ہی نصاب میں داخل نہیں ہوتی۔ حدیث مبارکہ پڑھنے اور سمجھنے کا رجحان عام نہیں ہے۔ مدارس میں بھی ’’دورہ حدیث‘‘ کے لئے چند کتب کے مخصوص ابواب کا سرسری مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ نتیجتاً طلباء میں آگے بات کرنے میں اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ اس دورہ کے دوران اصول الحدیث کی وہ ضروری بحثیں جن کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے ان کا مطالعہ کریں گے اور جن کے بارے میں الجھاؤ اور مغالطے پیدا کردیئے گئے ہیں ان شاء اللہ العزیز ان کا ازالہ کروں گا۔

دوسری چیز عقائد ہیں جن کی اس دورہ کے دوران وضاحت کروں گا۔۔۔ تیسری چیز جسے اس دورہ کے دوران موضوع بحث بناؤں گا وہ احکام فقہ ہیں۔

فقۂ حنفی پر اعتراض

امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (کل ائمہ فقہ ان کے عیال ہوئے، ان کے دستر خوان علم الفقہ سے ہر کوئی حاصل کرتا رہا، فیض لیتا رہا) کی مرتب کردہ الفقہ الحنفی پر بہت بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ فقۂ حنفی کی بنیاد جن احادیث پر قائم کی گئی ہے صحیح بخاری و مسلم شریف اور صحاح ستہ میں ان کا وجود ہی نہیں اور یہ احادیث کی نچلی درجہ کی کتب اور نچلے درجے کے طبقات محدثین کی روایتوں سے ثابت ہے۔ اس لئے میں صحیح بخاری کے دورہ کی طرح اس دورہ صحیح مسلم میں بھی اس حوالے سے شکوک و شبہات اور مغالطے علمی و فنی بنیادوں پر ان شاء اللہ دور کروں گا۔

اب آیئے اصول الحدیث کے حوالے سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔

تاریخ اصول الحدیث

اس تناظر میں ہمیں تاریخ اصول الحدیث کے بارے آگاہی ہونا ضروری ہے۔

اصول الحدیث کے باب میں پہلی کتاب ’’الرسالہ‘‘ کے نام سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ایک فقہ کے امام ہیں اور ان کے پیروکار شافعی کہلاتے ہیں مگر اصول حدیث کی تاریخ کی ابتداء امام فقہ کی کتاب ’’الرسالہ‘‘ سے ہورہی ہے چونکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ’’الرسالہ‘‘ میں اصول حدیث کے کچھ بنیادی اصولوں کو باضابطہ طور پر پہلی مرتبہ زیر بحث لائے اس لئے اصول حدیث میں پہلے مصنف امام شافعی بنے۔ ورنہ علم اصول حدیث کے پہلے مرتب امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ انہوں نے کثرت کے ساتھ اصول حدیث وضع کئے اور اس کے ضابطے بیان کئے یعنی Praticaly speaking عملی طور پر اپنے علمی کاموں میں ان اصول و ضوابط کو استعمال کیا۔ اور انہی کی بنیاد پر احکامات فقہ کو ترتیب دیا۔ گویا اس علم کو بھی مرتب و مدون کرنے میں بھی اولیت امام اعظم ابوحنیفہ کو حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ میں جب محدثین لفظ ’’العلم‘‘ استعمال کرتے تھے تو اس سے مراد حدیث اور اصول حدیث دونوں ہوتے تھے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ جو مذہباً شافعی اور طریقتاً شاذلی ہیں انہوں نے ’’تبییض الصحیفہ‘‘ میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ

هُوَ اَوَّلُ مَنْ دَوَّنَ الْعِلْم.

’’تاریخ کے اندر امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ’’العلم‘‘ کو مدون کیا‘‘۔

پس تدوین ’’علم‘‘ میں پہلا درجہ امام اعظم کو حاصل ہے۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ آپ نے حنفی ہونے کی وجہ سے انہیں تدوین علم میں پہلا درجہ دے دیا حالانکہ امام اعظم کی اصول الحدیث پر کوئی کتاب نہیں ہے؟ حدیث اور احکام فقہ کے بیان میں انہوں نے جو حدیث کی قبولیت و عدم قبولیت کے اصول اپنے لئے وضع کئے تھے اس سے وہ اصول الحدیث میں پہلے مدوّن کیسے ہوئے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ امام اعظم کا یہ کام اسی درجہ کا ہے جو اصول الحدیث کے میدان میں امام بخاری کا ہے۔ امام بخاری امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں مگر انہوں نے الگ سے اصول الحدیث پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ وہ بھی صحیح بخاری شریف کو جب مرتب کرتے ہیں اور احادیث کو روایت کرتے ہیں تو باب کے اندر احادیث بیان کردیتے ہیں۔۔۔ اور ترجمۃ الباب میں احکام فقہ بیان کردیتے ہیں جن کی طرف ان کا رجحان ہے۔۔۔ اور ترجمۃ الباب کے بیان کے اسلوب، استعمال کردہ اصطلاحات اور عنوانات میں بعض جگہ اصول حدیث بیان کردیتے ہیں۔ گویا صحیح بخاری تینوں چیزوں کی اس اعتبار سے جامع کتاب ہے۔ پس یہی کام اسی انداز میں اصول حدیث کے باب میں امام اعظم ابوحنیفہ کا ہے اور چونکہ امام اعظم ابوحنیفہ کا زمانہ اتنا اولین تھا کہ اس وقت بنیادی طور پر فنون کی تقسیم الگ سے عمل میں نہ آئی تھی۔

علم الحدیث میں امام اعظم کا مقام و مرتبہ

امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، ائمہ حدیث و ائمہ فقہ میں واحد وہ امام ہیں جو تابعین میں سے ہیں اور ان کی اکثر روایات براہ راست تابعین سے ہیں۔ آپ نے 16 روایات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روایت کی ہیں جو آپ کی ’’اُحادیات‘‘ (ایک واسطے والی) ہیں جبکہ بخاری شریف میں کوئی بھی ایسی روایت نہیں جو احادیات کے درجہ کی ہو حتی کہ ثنائیات (دو واسطوں والی احادیث) بھی صحیح بخاری میں نہیں ہیں۔ صرف 22 احادیث ایسی ہیں جو ثلاثیات ہیں یعنی جن میں امام بخاری اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان 3 راوی ہیں۔۔۔ امام بخاری خود تبع تابعی سے روایت کرتے ہیں۔۔۔ انہوں نے تابعی سے کیا اور تابعی نے صحابی سے روایت کیا اور یہ امام بخاری کی عالی سند ہے۔ امام بخاری کے پاس ’’ثنائیات‘‘ یعنی ایسی روایت جس میں امام بخاری اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان صرف دو واسطے ہوں کوئی حدیث نہیں ہے اس لئے کہ ان کی ملاقات کسی تابعی سے نہیں ہوئی، ان کا زمانہ بعد کا ہے۔ امام بخاری کی ولادت 194ھ میں ہوئی ہے اس وقت نہ کوئی صحابی حیات تھا اور نہ کوئی تابعی حیات تھا۔ اسی طرح دیگر ائمہ صحاح ستہ کے پاس بھی دو واسطوں کی کوئی حدیث نہیں ہے۔ صرف 3 احادیث جو ’’ثنائیات‘‘ (دو واسطوں والی) ہیں امام مالک کے پاس ہیں۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے پاس بھی دو واسطوں والی احادیث نہیں ہیں۔

لہذا جب ہم امام اعظم کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ان کی اکثر روایات براہ راست تابعین سے مروی ہیں اور درجہ اور سند اتنی عالی ہے کہ درمیان میں صرف دو واسطے ہیں۔ امام اعظم کے زمانے تک وضع حدیث کا کوئی فتنہ پیدا نہ ہوا تھا اور جب وضع حدیث کا کوئی فتنہ ہی پیدا نہ ہوا تھا تو اصول حدیث کو الگ سے مدون کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ امام اعظم خود تابعی ہیں اور اکثر احادیث تابعین سے روایت کرتے ہیں۔

امام مسلم، صحیح مسلم کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ اس دور کے ائمہ حدیث کہتے تھے کہ وضع حدیث کے فتنے سے پہلے جب کوئی حدیث روایت کرتا تو ہم اس سے سند ہی نہیں پوچھتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وضع حدیث کا کوئی فتنہ نہ تھا اور سب راوی ثقہ تھے، عدول اور متقی تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے قریب کا زمانہ تھا اور یہ ناممکن ہے کہ صحابی کی طرف نعوذ باللہ کوئی جھوٹ کی تہمت منسوب کی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب صحابہ عدول ہیں اور اصول الحدیث کا ایک اصول یہ ہے کہ اگر اکابر تابعین سے حدیث مرسلاً روایت ہوجائے تو اس پر بھی صحت کے درجے میں اعتماد کیا جاتا ہے۔ اصاغر تابعین (جنہوں نے چھوٹی عمر میں کسی صحابی کی زیارت کی اور ان سے روایت کیا ان) کے بارے میں قبولیت و عدم قبولیت کے اختلافات آئے ہیں مگر اکابر تابعین کی روایت مرسلاً ثابت ہوجائے تو اسے حدیث کا درجہ دیتے ہیں اور اس کو صحیح حدیث کے باب میں لے لیتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی روایت موقوفاً یا مقطوعاً ثابت ہوجائے تو اس کو بھی حدیث کے درجے میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کو بھی صحیح حدیث کے باب میں لے لیتے ہیں، یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اس حدیث کو حدیث ضعیف کی بحث میں بھی ائمہ اصول حدیث نہیں لاتے حالانکہ صحابی پر جاکر سند کٹ گئی۔۔۔ مرفوع نہیں ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہیں پہنچی۔۔۔ صحابی نے یہ نہیں کہا کہ سمعت عن رسول اللہ کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا۔۔۔ صحابی نے ایک بات کہہ دی یا کردی۔۔۔ پس یہ حدیث صحابی پر جاکر موقوف ہوگئی، اس کو حدیث موقوف کہتے ہیں۔۔۔ یا جلیل القدر تابعی نے اپنا قول بیان کردیا اور یہ نہیں کہا کہ سمعت عن ابی ہریرہ/ جابر بن عبداللہ۔ کہ میں نے حضرت ابوہریرہ یا حضرت جابر بن عبداللہ یا کسی اور صحابی سے سنا۔۔۔ اس حدیث کو اصول حدیث میں مقطوع حدیث کہتے ہیں۔ یاد رکھ لیں دونوں صورتوں میں سند قطع ہوگئی اور سند حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع نہیں ہوئی۔۔۔ رفع الی النبی ثابت نہیں ہوا۔۔۔ حدیث کا صحابی تک رفع ہوا ہے یا تابعی تک ہوا ہے اور ائمہ اصول حدیث درج بالا دو قسم کی احادیث کو ضعیف احادیث کی اقسام میں زیر بحث ہی نہیں لاتے بلکہ ان کو حدیث صحیح کے باب میں شمار کرتے ہیں اس لئے کہ خود امام بخاری اور امام مسلم کی بیان کردہ احادیث صحیحہ میں سے کئی موقوفاً اور کئی مقطوعاً ہیں اور ائمہ حدیث ان کو احادیث صحیحہ کہتے ہیں۔ صحابہ سے نیچے اگر سند رک جائے تو اس کے بعد جانچ پڑتال شروع ہوتی ہے۔

ایسے احباب بھی ہیں جن کی تحقیق کے مطابق صرف 7 احادیث امام اعظم نے براہ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روایت کیں۔ جو امام خود تابعین کی صف میں بیٹھا ہوا ہے اور براہ راست ایک صحابی سے روایت کررہا ہے اس کے بارے میں یہ کہنا کہ ان سے صرف 7 احادیث مروی ہیں اور ان کے فقہ حنفی کی بنیاد بھی مستند احادیث پر نہیں ہے تو اس بات کو ذہن قبول نہیں کرتا۔ میں نے دو سال تحقیق کی اور احادیث کے تمام ذخائر کو کھنگالا اور 16 ایسی احادیث کی تلاش کی جو ’’احادیات‘‘ ہیں یعنی جن کو امام اعظم نے براہ راست صحابہ کرام سے روایت کیا اور ان احادیات کو میں نے مکمل تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع کردیا ہے۔

اگر امام اعظم کا تابعین سے روایت کرنا بھی مان لیا جائے تو پھر بھی۔۔۔۔

ایک مکتبہ فکر ائمہ علم میں ایسا بھی ہے جو امام اعظم کو تابعی تو مانتے ہیں مگر ان کا صحابی سے روایت کرنے کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ نے صرف تابعین سے روایت کی ہے۔ اہل علم کا شیوہ یہ ہے کہ اہل علم کے کسی بھی طبقہ کا موقف ہو اس کو کلیتاً رد نہ کیا جائے بلکہ اس کو بھی اعتبار میں لے کر اس پر گفتگو کی جائے۔ بالفرض والمحال ہم ایک لمحہ کے لئے ان احباب کا موقف قبول کرتے ہیں کہ جن کا خیال ہے کہ امام اعظم نے صحابہ کرام سے براہ راست روایت نہیں کیا۔ اس لحاظ سے یہ بات قابل توجہ ہے کہ امام اعظم کا بلا اختلاف تابعین سے روایت کرنا ثابت ہے اور اہل علم کے کسی بھی طبقہ کا اس پر اختلاف نہیں۔ پس اصول حدیث کی رُو سے اگر کوئی حدیث تابعی تک ثابت ہوگئی اور نیچے سند میں کوئی خرابی نہ تھی تو اُس حدیث کو بھی صحیح کے درجہ میں شمار کیا جاتا۔ سند میں نچلی سطح پر خرابی کا اوروں کے لئے تو امکان ہوسکتا ہے مگر امام اعظم کے باب میں تو نیچے کی سند ہے ہی نہیں۔ اگر امام بخاری نے روایت کیا ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ صحابی اور تابعی تو دو محفوظ ہوگئے اور اس سے نیچے کی سند میں کوئی کمزوری تو نہیں ہے۔۔۔ امام بخاری کی سند پرکھی جاسکتی ہے مگر امام بخاری نے اتنی پرکھ کر مرتب کی ہے کہ ہمارا امام بخاری پر اعتماد ہی کافی ہے۔۔۔ امام مسلم کی سند ہو تو پرکھی جاسکتی ہے مگر امت کا صححین پر اتنا اجماع و اعتماد ہے کہ وہ پرکھی نہیں جاسکتیں۔

اس طرح امام ابوداؤد، امام نسائی، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام عبدالرزاق، امام ابوبکر ابن شیبہ، امام دارمی، امام دار قطنی، امام مالک، امام حاکم، امام بیہقی، امام طبرانی، امام بزار رحمہم اللہ اور آئمہ حدیث میں سے کسی کی بھی سند ہو، ہر ایک کی سند کو پرکھنے کا کوئی جواز ہے اس لئے کہ کسی کے پاس بھی صحابی و تابعی پر محیط دو واسطوں کی حدیث نہیں ہے، ان تمام کی سند لمبی ہے، لہذا پرکھنا پڑے گا کہ نیچے کی سند میں کہیں کسی راوی میں نقص تو نہیں ہے۔ ہر ایک کی سند پرکھی جائے گی مگر اگر نہیں پرکھی جاسکتی تو ائمہ حدیث کی پوری تاریخ میں صرف ایک شخص ہیں اور وہ امام اعظم ابوحنیفہ ہیں۔ ان کی سند کو پرکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ جس دور میں وضع حدیث کا فتنہ پیدا ہوا، جھوٹی احادیث گھڑنے کا فتنہ اور غلط چیزیں منسوب کرنے کا فتنہ ہوا اس وقت اصول الحدیث وجود میں آگیا، جرح و تعدیل کا فن وجود میں آیا اور اسماء الرجال کا فن وجود میں آیا اور حدیث کے راویوں کو پرکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ یہ تو ساری چیزیں اس دور سے شروع ہوئیں جس دور میں یہ غلط کاری فتنہ وضع حدیث کا آغاز ہوا۔ یہ تابعین کے دور کے بعد کی بات ہے مگر جو شخص اس دور کے شروع ہونے سے پہلے ہو گزرا اس کی سند کو تو پرکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ تو جو روایت کردے خود سند ہے، حجت ہے۔ اس لئے کہ یا تو وہ صحابی سے روایت کررہا ہے یا تابعی سے روایت کررہا ہے اور اگر تبع تابعی سے روایت کررہا ہے تو اس تبع تابعی کا تعلق بھی اکابر میں سے ہے اصاغر میں سے نہیں اور یہ قرون اولیٰ ہے، جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سند دی کہ

خَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ.

(صحيح بخاری، کتاب فضائل الصحابه، ج 3، ص 1330، رقم 3450)

صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین پر محیط تین طبقات ہی تو خیرالقرون ہیں، جو فتنہ سے بچے ہوئے ہیں۔

امام اعظم ابوحنیفہ وہ واحد شخص ہیں کہ جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کے پاس اُحادیات (ایک واسطے سے روایت) کے علاوہ تابعین سے بھی کثرت کے ساتھ مروی روایات موجود ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ امام مالک کے پاس تابعی سے روایت کردہ احادیث صرف 2 یا 3 ہیں اور ان کے علاوہ امام شافعی، امام احمد بن حنبل کے پاس بھی دو واسطوں والی کوئی حدیث نہیں گویا ائمہ اربعہ میں سے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ (امام مالک کے پاس دو یا تین ہیں) کسی بھی دوسرے امام کے پاس ثنائیات (دو واسطوں والی حدیث) نہیں ہے۔

باقی رہ گئے معروف آئمہ حدیث، اصحاب صحاح ستہ تو ان کا دور ہی بعد کا ہے۔ امام شافعی، امام مالک کے شاگرد ہیں۔۔۔ اور امام شافعی، امام ابویوسف و امام محمد کے بھی شاگرد ہیں۔۔۔ گویا امام اعظم، امام شافعی کے دادا استاد ہیں۔۔۔ اور امام احمد بن حنبل، امام شافعی کے شاگرد ہیں۔۔۔ گویا امام اعظم، امام احمد بن حنبل کے پردادا استاد ہوئے۔ پس جب ان ائمہ کے پاس دو واسطوں کی سند نہیں ہے تو بقیہ ائمہ حدیث کے پاس دو واسطوں والی سند کیسے ہوسکتی ہے کیونکہ امام بخاری و امام مسلم آگے امام احمد بن حنبل کے شاگرد ہیں۔

پس جہاں کسی امام حدیث و امام فقہ کے پاس (سوائے امام مالک کے) دو واسطوں کی سند والی حدیث نہیں ہے وہاں امام اعظم ابوحنیفہ کے پاس ثنائیات (دو واسطوں والی سند کی احادیث) کی تعداد 254 ہے اور یہ میری اب تک کی مکمل شدہ تحقیق و تخریج کے بعد کا نتیجہ ہے اور اصل تعداد اس سے بھی بڑھ کر ہے جن پر میری تحقیق و تخریج جاری ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’امام اعظم ابوحنیفہ۔۔۔ امام الائمہ فی الحدیث‘‘ میں امام اعظم کی تمام اُحادیات، ثنائیات، ثلاثیات اور رباعیات کو بھی مکمل تحقیق و تخریج کے ساتھ جمع کردیا ہے۔ امام اعظم کی 254 ثنائیات میں سے 219 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع ہیں اور 35 ثنائیات موقوف یا مقطوع ہیں اور جس طرح (گذشتہ صفحات پر) عرض کیا کہ یہ بھی حجت ہوتی ہیں۔

امام اعظم جس زمانے میں ہوئے اس زمانے میں نہ تو فتنہ وضع حدیث پیدا ہوا تھا اور نہ علم اصول الحدیث اور علم جرح و تعدیل کو مرتب کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی تھی۔ اس لئے امام مسلم، صحیح مسلم کے مقدمہ میں امام محمد بن سیرین تابعی کا قول نقل فرماتے ہیں کہ

قَالَ لَمْ يَکُوْنُواَ يَسْئَلُوْنَ عَنِ الْاِسْنَاد فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوْا لَنَا رِجَالِکُمْ.

(صحيح مسلم، المقدمة، باب 5 : بيان ان الاسناد من الدين، ص : 15، حديث 2)

’’ہمارے زمانے میں لوگ جب حدیث لیتے تھے تو سند نہیں پوچھتے تھے پس جب فتنہ وضع الحدیث پیدا ہوا تو ہم ان سے کہتے کہ اپنے رجال (سند) بیان کرو‘‘۔

درج بالا قول سے معلوم ہوا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو اصول الحدیث میں اول مؤلف ہونے کا اعزاز اس لئے حاصل ہے کہ تابعین کے دور تک سند ہی نہ پوچھی جاتی تھی اور جب سند ہی نہیں پوچھی جاتی جبکہ اصول الحدیث تو سند پر ہی قائم ہوتا ہے، سند کی خاصیت سے بحث کرتا ہے، اسناد کے خواص سے بحث کرتا ہے، اس کی کیفیت اور کوالٹی سے بحث کرتا ہے۔

پس جب رجال بیان کئے جاتے تو وہ جان لیتے تھے کہ کون فتنہ پرور ہے اور کون معتبرو معتمد ہے؟ کون مقبول ہے اور کس کی روایت یا بات مردود ہے؟ گویا سند کے متعلق تحقیق کرنے کا آغاز فتنہ وضع الحدیث کے بعد ہوا۔ پس جس کے رجال ہی دو ہوں۔

  1. تابعی
  2. صحابی

تو ان کا مسئلہ خود حل ہوگیا اور اگر تبع تابعی آجاتا تو اس کی تحقیق کرلیتے۔ امام اعظم اس دور میں ہوئے جب یہ فتنہ نہیں پھیلا تھا اور اسناد کے اوپر جرح و تعدیل اور اسماء الرجال کا علم تفصیلات کے ساتھ وضع کرنے کی ضرورت پیش ہی نہیں آئی تھی، اس لئے اصول الحدیث کے باب میں انہوں نے وہی کیا جو بعد ازاں امام بخاری نے کیا حالانکہ امام بخاری کے دور میں اس کی ضرورت پیدا ہوچکی تھی۔

امام اعظم نے جو جو احادیث روایت کیں اور احکام فقہ مرتب فرمائے اس میں تحقیق کرلی اور کہیں کہیں حسب ضرورت ان احکامات کی بنیاد ان اصولوں پر رکھ دی۔ مثلاً رفع یدین اور ترک رفع یدین کی احادیث ہمیں کتب حدیث ملتی ہیں کہ ابتداء و افتتاح نماز کے علاوہ رفع یدین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کرنا بھی ثابت ہے اور نہ کرنا بھی ثبوت ہے۔ امام اعظم نے ترک رفع یدین کی احادیث لیں اور رفع یدین کی احادیث چھوڑ دیں تو یہ اصول حدیث کی بنیاد پر کیا۔ اس لئے کہ انہوں نے اصول وضع کئے تھے کہ کون سی احادیث ناسخ ہیں اور کون سی احادیث منسوخ اور یہ اصول حدیث میں سے ہی ہے۔ اس کے زمانے کا تعین کیا جائے۔۔۔ سند کی قوت کیا ہے، اس پر نظر رکھی جائے۔ پس امام اعظم انہی اصولوں پر مدار رکھ کر احکام فقہ کو مرتب کرتے تھے اور ان کا ذکر اصول حدیث کی کتب میں آیا ہے۔ امام حاکم اور دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں امام اعظم کے بیان کردہ اصول حدیث بیان کئے۔ یہی وجہ ہے کہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے درست فرمایا ہے کہ

هوَ اَوَّلُ مَنْ دَوَّنَ الْعِلْمَ.

احادیث کی قبولیت و عدم قبولیت کا معیار

امام مسلم مقدمہ صحیح مسلم میں امام ابن سیرین کا قول نقل کرتے ہیں کہ دیکھا جاتا کہ رجال کون ہیں اور پھر ان رجال کو دیکھتے ہوئے قبولیت و عدم قبولیت کا فیصلہ کیا جاتا فرماتے ہیں :

فَيُنْظَرُِالٰی اَهْلِ السُّنَّه فَيُوْخَذُ حَدِيْثُهُمْ.

’’دیکھا جاتا کہ اگر راوی اہل سنت میں سے ہے تو اس کی حدیث کو قبول کیا جاتا‘‘۔

وَيُنْظَرُِالٰی اَهْلِ الْبِدْعِ فَلَا يُوْخَذُ حَدِيْثُهُمْ.

’’اگر راوی اہل بدعت میں سے ہوتا تو اس کی روایت کو قبول نہ کیا جاتا‘‘۔

گویا دو گروپ تھے :

  1. اہل سنت
  2. اہل بدعت

امام محمد بن سیرین کے درج بالا قول سے معلوم ہوا کہ اہل سنت کے مد مقابل/ مخالف اہل بدعت ہیں۔ افسوس کہ آج انہی اہل سنت کو اہل بدعت تصور کیا جارہا ہے۔

تابعین کے نزدیک جو اہل سنت ہیں ان کی حدیث قبول کی جاتی اور ان کے مخالف جو اہل بدعت ہیں ان کی حدیث رد کردی جاتی۔ معلوم ہوا کہ اہل بدعت وہی ہیں جو اہل سنت کے مخالف ہیں اور یہ امام مسلم کا معیار ہے۔

بدعت کیا ہے اور اہلِ بدعت کون ہیں؟

آج میلاد منانے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت خوانی کرنے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام پڑھنے، ذکر اذکار کرنے، سلوک و تصوف، اولیاء اللہ کی نسبتوں بارے اعتقاد رکھنا، صالحین کی عزت و احترام و ادب، ان کے ایام وفات کو منانا کو بدعت قرار دیا جاتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ امور اور اعمال بدعتیں ہیں اور بدعت کا یہ معنی ہے تو جن کو امام محمد بن سیرین اور امام مسلم بدعتی کہہ رہے ہیں وہ کونسے بدعتی تھے؟

اگر امام محمد بن سیرین اور امام مسلم کے قول کے مطابق معاذاللہ بدعتیں یہی ہیں جو اوپر بیان کی گئیں تو پھر کم از کم اتنا تو مان لیا جائے کہ یہ سارے کام تبع تابعین اور تابعین کے دور میں بھی تھے۔ معلوم ہوا کہ بدعت کوئی ایسی چیز ہے جو اس دور میں پیدا نہیں ہوگئی بلکہ تابعین اور تبع تابعین کے دور سے چلی آرہی ہے۔ نیز بدعت، اہل سنت اور سنت کے خلاف ایک نقطہ نظر اور مکتبہ فکر ہے۔

وہ اہل بدعت کون ہیں؟ اس وقت چونکہ موضوع وہ نہیں اس لئے ان کے بارے میں تفصیلی جاننے کے لئے میری کتاب ’’کتاب البدعۃ‘‘ کا مطالعہ کریں۔ مختصراً بتاتا چلوں کہ سب سے پہلے بدعتی اور اہل بدعت کون تھے جو بطور گروہ اور طبقہ کے تاریخ اسلام میں پیدا ہوئے؟ اور یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا آپ تاریخ اسلام، تاریخ سنت، تاریخ عقائد کی جس کتاب کو اٹھائیں ہر ایک نے یہی لکھا حتی کہ علامہ ابن تیمیہ کے مجموعۃ الفتاویٰ میں بھی یہی درج ہے کہ سب سے پہلا بدعتی گروہ امت مسلمہ کی تاریخ میں خوارج کا تھا۔ پس پہلے اہل البدعت خارجی تھے۔ یہ بطور گروہ و جماعت وجود میں آئے۔

یہ اعتزالی اور انحرافی فکر کہاں سے شروع ہوئی، جو خوارج کے وجود پر آ کر منتہج ہوئی؟ جس فکر نے تدریجاً ارتقاء حاصل کرکے خوارج کا وجود اپنایا وہ فکر گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی۔ میں پختگی، اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں۔ فکر اور اعتقاد کا پہلا فتنہ جس سے امت میں بدعت کا آغاز ہوا وہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا۔ گویا اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلی بدعت، گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے۔ سو سب سے پہلا بدعتی اسلام کی تاریخ میں وہ شخص ہے جو پہلا گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا پس گستاخان رسول پہلے بدعتی ہوئے۔ اہل سنت غلامان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے تھے اور اہل بدعت گستاخانِ رسول ہوتے تھے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو اب بھی چلا آرہا ہے۔ اب چونکہ اہل سنت نے علم میں محنت چھوڑ دی ہے اور جب کوئی محنت چھوڑ دے تو دوسرا طبقہ چڑھائی کر دیتا ہے اور جو چاہے نام دے دے۔ ہندی شاعر کبیرا کا شعر ہے کہ

رنگی کو نارنگی کہیں
چلتی کو سب گاڑی کہیں

دودھ جمے تو کھویا
دیکھ کبیرا رویا

جو چل رہی ہے اس کو کہتے ہیں گاڑی (گاڑھ دینا، دبادینا)۔ دودھ جب جم جائے اور اس سے کھویا بنا یعنی اصل اور کام کی چیز بن گئی مگر اس کا نام کھویا رکھ دیا یعنی Lost، کھو دیا۔ اس طرح جس سنگترے اور مالٹے پر رنگ ہے جو رنگین ہے اس کا نام نارنگی ہے۔ یہ سب کرامات ہندوستان کی ہیں کہ جس کو جو چاہا نام دے دیا۔ اسی طرح انہی کی یہ کرامات ہیں کہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اہل بدعت ہیں ان کو کوئی اہل سنت سمجھنے لگے اور جو غلامان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محبان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اہل سنت ہیں ان کو بدعتی سمجھنے لگے، یعنی الٹ ہوگیا۔

پس گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی بدعت تھی اور پہلا بدعتی اسلام کی تاریخ میں ذوالخویصرہ تمیمی تھا۔ جس سے خارجیت کی فکر اور گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر کا آغاز ہوا۔ اس سے خوارج بنے، یہ وہ شخص ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تنقید کی تھی اور گستاخی اسی تنقید ہی کا نام ہے۔

(جاری ہے)

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on May 7, 2008



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau