[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > جون 2008 ء > دورہ صحیح مسلم شریف (نشست اول ۔ II)
ماہنامہ منہاج القرآن : جون 2008 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > جون 2008 ء > دورہ صحیح مسلم شریف (نشست اول ۔ II)

دورہ صحیح مسلم شریف (نشست اول ۔ II)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ترتیب و تدوین : محمد یوسف منہاجین

منہاج القرآن انٹرنیشنل برمنگھم کے زیراہتمام دورہ صحیح البخاری کی عالمی سطح پر بے حد پذیرائی اور کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اکتوبر 2007ء میں منہاج القرآن انٹرنیشنل برمنگھم برطانیہ کے زیراہتمام جامع مسجد گھمگول شریف میں دورہ صحیح مسلم (کتاب الایمان تا کتاب الصلاۃ) کے عنوان سے تین روزہ خصوصی علمی، فکری اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ جن میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے حسب پروگرام پچیس گھنٹوں سے زائد دورانیہ پر مشتمل پانچ نشستوں میں سینکڑوں علماء و مشائخ، طلباء اور ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب سے اصول الحدیث، علم الحدیث، امام مسلم کے مقام و مرتبے اور صحیح مسلم کے حوالے سے عقائد، فقہ، تصوف اور دیگر موضوعات پر گفتگو فرمائی۔ دورہ کی ابتدائی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ

’’ہم صحیح مسلم سے کتاب الایمان اور کتاب الصلاۃ سے منتخب موضوعات پر شرح و بسط سے گفتگو کریں گے اور حتی المقدور تمام علمی اور فنی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کریں گے۔ نیز اس دورہ کے حوالے سے میں نے یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ یہ دورہ تو صحیح مسلم کا ہوگا مگر اس کے ساتھ میں پوری صحاح ستہ کو لے کر چلوں گا تاکہ پھر الگ الگ کتابوں کا دورہ نہ کرانا پڑے، جس باب کو مسلم شریف سے پڑھیں اس کے ساتھ ساتھ ہم صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث کا مطالعہ بھی جاری رکھیں تاکہ ایک Comparitive Study ہو اور صحیح مسلم کے شکل میں مکمل صحاح ستہ ہمارے مطالعہ میں آ جائے۔ ‘‘ دورہ صحیح مسلم کی پہلی نشست (II) نذرِ قارئین ہے۔ (مرتب)

امام مسلم، مقدمہ صحیح مسلم میں امام ابن سیرین (تابعی) کا قول درج کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں احادیث کی قبولیت و عدم قبولیت کا معیار یہ تھا کہ اگر راوی اہل سنت میں سے ہوتا تو اس کی روایت کو قبول کرلیتے اور اگر راوی اہل بدعت میں سے ہوتا تو اس کی روایت کو قبول نہ کیا جاتا۔

گویا بدعت کوئی ایسی چیز ہے جو آج کے دور کی پیداوار نہیں بلکہ تابعین سے بھی پہلے سے چلی آرہی ہے۔ نیز بدعت، اہل سنت کے خلاف ایک نقطہ نظر اور مکتبہ فکر ہے۔ فکر اور اعتقاد کا پہلا فتنہ جس سے امت میں بدعت کا آغاز ہوا وہ گستاخ و اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا۔ پس اسلام کی تاریخ میں پہلا بدعتی وہ ہوا جو پہلا گستاخ رسول تھا اور وہ شخص احادیث مبارکہ کے مطابق ذوی الخویصرہ تمیمی جس سے خارجیت اور گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر کا آغاز ہوا۔

حضرت ابو سعید خدری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ

’’ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال (غنیمت) تقسیم فرمارہے تھے تو ذوالخویصرہ نامی شخص جو کہ بنی تمیم سے تھا، جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئیں، اونچی پیشانی، گھنی داڑھی، سر منڈا ہوا اور اونچا تہبند باندھے ہوئے تھا، آگے بڑھا اور کہا : یارسول اللہ! انصاف کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ہلاک ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون انصاف کرے گا؟ اس شخص نے غصے کے ساتھ آپ کی طرف پشت کی اور واپس چلا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑادوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں، اس کی پشت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ ان کی نمازوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں کو حقیر جانو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانو گے۔ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت سے زبان تر رکھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے‘‘۔

(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ماجاء فی قول الرجل ویلک، ج 5، ص 3281، رقم 5811) (صحیح بخاری کتاب المغازی)

اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اللہ سے ڈریں اور تقسیم کریں۔ اس کا یہ قول جسارت تھی اور دوسری گستاخی یہ کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پشت کرکے چل دیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پشت کرکے جانا یہ گستاخ ہونے کی علامت ہے اور الٹ پاؤں، پشت کئے بغیر پلٹنا یہ ادب کی علامت ہے۔ اس سے ادب و بے ادبی کا فرق سمجھ میں آجاتا ہے کہ وہ بے ادبی کی نیت کرکے چل دیا اور پشت کرکے چلنے کو معمولی سمجھا، پس یہی سوچ گستاخی ہے اور یہی آج تک چلی آرہی ہے۔ صحابہ اور ملائکہ پشت کرکے نہ چلتے تھے۔

گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامات

صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی علامات کے بارے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

سَيْمَاهُمُ التَّحْلِيْقُ اَوْ قَالَ : التَسْبِيْدُ.

(صحيح بخاری، کتاب التوحيد، باب : قراء ة الفاجر والمنافق واصواتهم وتلاوتهم لا تجاوز حناجرهم، 6 / 2748، الرقم : 7123)

’’ان کی نشانی سر منڈانا ہے یا فرمایا : سر منڈائے رکھنا ہے‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

اَلْسِنَتُهُمْ اَحْلَی مِنَ السُّکْرِ (وَفِی رِوَايَةٍ : اَلْسِنَتُهُمْ اَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ) وَقُلُوْبُهُمْ قَلُوْبُ الذِّئَابِ.

(الترمذی، کتاب الزهد عن رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم، باب : 59، 4 / 604، الرقم : 2404 - 2405)

’’ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں ہوں گی (ایک روایت میں ہے کہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی) اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے‘‘۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :

يَتَعَمَّقُونَ فِی الدِّيْنِ.

(مسند احمد بن حنبل، 2 / 219، الرقم : 7038)

’’جو دین سے (ظاہراً) بہت گہری وابستگی رکھنے والے نظر آئیں گے‘‘۔

خوارج کی علامات، عادات، رویہ اور اسلامی تعلیمات بارے ان کی سوچ پر میں نے صحاح ستہ اور دیگر 77 کتب حدیث سے 50 احادیث کو جمع کرکے کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے۔ ’’الانتباہ للخوارج والحروراء‘‘ ان کے بارے میں مزید جاننے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہوگا۔

علاماتِ گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے کی حکمت

خوارج کے بارے مذکورہ احادیث مبارکہ اور دیگر احادیث مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام اور اولیاء کرام کا اسوہ، سراپا، لباس اور وضع قطع بیان کیا جائے تو ذہن میں آتا ہے کہ اس کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امت اس کی پیروی کرے مگر جو شخص گستاخی کررہا ہے اور پشت کرکے جارہا ہے صحابہ نے اس کے لباس اور وضع قطع کو کیوں بیان کیا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی مذمت کررہے ہیں اور انہیں فتنہ قرار دے رہے ہیں، اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں، حتی کہ صحابہ کرام میں سے حضرت عمر فاروق رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت خالد بن ولید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے قتل کی اجازت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمادیا کہ لوگوں کو سمجھ نہیں ہے وہ کہیں گے کہ دیکھو کلمے پڑھنے والے، نماز پڑھنے والے مسلمان، مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکمت کے پیش نظر کہ امت پر قتل و غارت کا الزام نہ آئے، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا اس وقت منع فرما دیا۔

اس کے باوجود ان کے احوال اور وضع قطع اور لباس کو بیان کرنے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کو دیکھ لو، اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ اس جیسے لوگ پیدا ہوں گے، جن کے مقابلے میں تم اپنی عبادات کوکم جانو گے، مگر دین سے خارج ہوں گے۔ یہ تمام چیزیں ہونے کے باوجود ان کے ایمان محفوظ نہ رہ سکیں گے۔ ۔ ۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہاں دو چیزوں کا موازنہ کروایا جارہا ہے کہ اعمال تو اس طرح کے ہیں کہ تم بھی اپنے اعمال ان کے مقابلے میں کم دیکھو گے اور احکام شریعت کی ظاہری پابندی اس قدر ہوگی جو بیان ہورہی ہے وہ بھی تم سے بڑھ کر ہوگی۔ سوال یہ ہے کم کیا چیز رہ گئی کہ وہ دین / ایمان سے خارج ہوگئے۔ دین میں ظاہری پختگی، تمسک، تعمق ہے۔ ظاہر میں فیصلے کرنے کی یہی دو چیزیں ہیں اور وہ دونوں چیزوں میں آگے ہیں تو پھر وہ کون سی شے ہے جس کی کمی سے وہ دین و ایمان سے خارج ہورہے ہیں۔ پس وہ چیز ادب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس کے نہ ہونے سے ان کے ظاہر اعمال بھی اکارت چلے گئے۔ پس وہ ادب و تعظیم، حیاء رسول میں کمی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیباکانہ بات کرنے کی جسارت وجرات اور پشت کرکے چلنے نے ظاہری اعمال تباہ کر دیئے۔ معلوم ہوا ادب و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان کا مغز ہے۔ اگر یہ ہے تو بقیہ عبادات بھی کارآمد ہوتی ہیں اور اگر یہ نہیں تو بقیہ عبادات کی کثرت بھی اسے دین میں نہیں رکھ سکتیں۔

تمام ائمہ علم جب ابتدائی طبقات اہل بدعت کی ترتیب کو بیان فرماتے ہیں تو سب سے پہلا نام ہر ایک نے بلا اختلاف خوارج کا لکھا ہے اور جب خوارج بطور طبقہ اور جماعت سامنے آئے تو ان کی بطور جماعت پہلی علامت یہ سامنے آئی کہ وہ دشمنان علی المرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ بن گئے اور ان پر اور ان کے پیروکاروں پر شرک و بدعت کے فتوے لگانے شروع کر دیئے۔ پس خوارج کی تین علامات ہوئیں۔

  1. گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  2. گستاخان علی رحمۃ اللہ علیہ
  3. گستاخان اہل بیت رحمۃ اللہ علیہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ خوارج جنگ صفین میں نکلے اور حرورۃ میں گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر شرک و بدعت کا فتویٰ لگایا۔ پس شرک و بدعت کا پہلا فتویٰ لگانے والے یہ خوارج ہیں۔

خوارج کے الفاظ تھے کہ ’’بدعتیوں اور مشرکوں سے الگ ہوجاؤ‘‘۔ (ان تمام حوالہ جات کے لئے شیخ الاسلام کی کتاب الانتباہ للخوارج والحروراء کا مطالعہ کریں)

یہی وجہ ہے کہ جب امام نسائی (جن کا درجہ جرح و تعدیل اور علم الحدیث میں بہت سے محدثین امام مسلم کے برابر جانتے ہیں اور کئی محدثین ان کو امام بخاری کے اقران میں درجہ دیتے ہیں۔ امام نسائی کا درجہ امام ابوداؤد اور امام ترمذی سے بھی جرح و تعدیل اور فن حدیث میں اونچا ہے) نے دمشق میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب پر پہلی کتاب ’’خصائص علی بن ابی طالب‘‘ لکھی جس میں 194 احادیث سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے مناقب و فضائل پر سند صحیح کے ساتھ جمع کیں اور دمشق کے منبر پر پڑھی تو خوارج کھڑے ہوگئے اور اسی جرم کی سزا میں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے مناقب میں احادیث جمع کی ہیں، آپ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کردیا اور اس سے قبل آپ پر حامِل محبتِ اہل بیت ہونے کی وجہ سے شیعہ ہونے کی تہمت لگادی۔ آپ شہید محبت اہل بیت ہیں۔ آپ نے زخموں کی حالت میں اپنے تلامذہ سے فرمایا کہ میں اب بچ نہیں سکتا۔ اس لئے مجھے مکہ لے چلو اور صفاء و مروہ کے درمیان دفن کردینا۔ جونہی مکہ پہنچے، روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اور صفاء و مروہ کے درمیان آپ کو دفن کردیا گیا، یہ ارجح اور اثبت روایت ہے۔ اسماء الرجال کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں ان کی وجہ وفات میں تمام نے یہی لکھا ہے۔ امام مزی کی تہذیب الکمال کو دیکھ لیں یا سیرالاعلام النبلاء (امام ذہبی) کو دیکھ لیں، امام ابن الجوزی کی صفوۃ الصفوہ دیکھ لیں، الغرض جو بھی کتاب لے لیں ہر ایک میں یہ واقعہ آپ کو ملے گا، یہ کوئی شاذ روایت نہیں بلکہ متفق علیہ، مسلّم اور محقق روایت ہے۔

میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ امام نسائی نے صفاء و مروہ کے درمیان دفن ہونے کی وصیت کیوں کی؟ اللہ تعالیٰ نے پھر القاء کیا اور میں سمجھ گیا کہ آپ نے یہ وصیت کیوں کی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ صفاء سے مروہ چلتے ہوئے باہر دائیں طرف سارا محلہ بنی ہاشم تھا جو 1986ء تک قائم رہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر بھی وہیں تھا۔ بعد ازاں توسیعات کے ضمن میں اس علاقے کو شہید کردیا گیا۔ جب اہل بیت اطہار اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان والے کعبہ کے طواف کے لئے آتے تھے تو اسی صفاء مروہ کے درمیان سے اسی راستے سے آتے تھے۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ امام نسائی یہ دیکھ رہے تھے کہ جن کی محبت اورجن کی خاطر شہید ہوا ہوں پس قبر بھی وہاں بنے جہاں ان کے قدم لگتے تھے۔ یہ ان کی محبت کی معراج تھی۔

پس یہ اس نقطہ کی تشریح ہے جو امام مسلم نے امام محمد بن سیرین کا قول نقل کیا ہے کہ وہ دیکھتے کہ اگر روایت کرنے والے اہل سنت ہیں تو روایت قبول کرلیتے اور اگر اہل بدعت کو دیکھتے تو رد کردیتے۔ پس اہل بدعت حقیقت میں کون تھے اور اب الزام کن پر آگیا ہے اور اب کون بنادیئے گئے ہیں؟ میں نے مکمل تشخیص کرکے آپ کے سامنے رکھ دی کہ اہل سنت کون ہیں اور اہل بدعت کون ہیں۔

تاریخِ اصولِ حدیث

آیئے تاریخ اصولِ حدیث کی طرف لوٹتے ہیں کہ امام اعظم کے زمانے اور اس سے قبل علم اصول الحدیث اور فن جرح و تعدیل کی ضرورت نہ تھی اور جب امام شافعی کا دور آیا تو اس سے قبل وضعِ حدیث کا سارا فتنہ برپا ہوچکا تھا، طویل اسانید بھی وجود میں آگئیں تھیں، لہذا جرح و تعدیل اور علم اسماء الرجال اور دیگر اصولوں کی بھی ضرورت تھی اس لئے جب اس علم کو مرتب کرنے کی ضرورت پیش آئی تو امام شافعی پہلے مؤلف ہوگئے ورنہ اس علم کے اصولوں کو بیان کرنے کے اعتبار سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے متقدم ہیں۔

امام شافعی کے بعد امام بخاری ہیں جنہوں نے اصول الحدیث پر الگ سے کوئی کتاب تو مرتب نہ کی مگر تراجم الابواب کے اندر اصطلاحات میں اصول الحدیث کی کچھ چیزیں اشارتاً ذکر کردیں مثلاً باب قول المحدث، حدثنا و اخبرنا، مناولہ، متی یصح سماع الصغیرکا باب قائم کردیا، خروج فی طلب العلم کا باب قائم کردیا، الحرص علی الحدیث، کتابۃ العلم جیسی اصطلاحات اور دیگر اصطلاحات کو درمیان میں لاکر اصول الحدیث کو بیان کردیا، الگ سے کتاب مرتب نہ کی۔ تاریخ الکبیر اور تاریخ الصغیر اسماء الرجال کے حوالے سے ہیں اور یہ دوسرا فن ہے۔

امام بخاری سے زیادہ اصول الحدیث میں ائمہ صحاح ستہ میں سے اگر کسی نے لکھا ہے تو وہ امام مسلم ہیں، انہوں نے اصول حدیث پر مکمل مقدمہ لکھا۔ اس لحاظ سے امام مسلم، صحاح ستہ پر متقدم ہیں جنہوں نے اصول الحدیث پر الگ سے لکھا ہے اور مختلف ابواب بنائے مثلاً حملۃ الاخبار، رواۃ کے طبقات۔ ۔ ۔ محدث کی حدیث کی معرفت کیسے ہو۔ ۔ ۔ ؟ منکر کی پہچان کیسے ہو؟۔ ۔ ۔ فقہ کے درجات کیا ہوں؟۔ ۔ ۔ فقہ میں زیادہ ثقہ کون ہے؟۔ ۔ ۔ روایت کے آداب کیا ہیں؟۔ ۔ ۔ اسناد کی دین میں قدر و منزلت کیا ہے؟۔ ۔ ۔ جرح کا جواز کیا ہے؟۔ ۔ ۔ حدیث معنعن کی قبولیت کی شرائط کیا ہیں۔ ۔ ۔ اور اس سے حجت کرنے کی شرائط اور دلائل کیا ہیں؟ گویا یہ فنی بحثیں ہیں جو مقدمہ صحیح مسلم میں امام مسلم نے کی ہیں۔

پس یوں سمجھیں کہ امام شافعی کی کتاب ’’الرسالہ‘‘ اور امام مسلم کا مقدمہ مل کر اصول الحدیث کی ابتدائی کتب بنیں۔ جہاں سے علم اصول الحدیث کی تاریخ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

ان کے بعد مزید وضاحت سے اس کو امام ترمذی نے بیان کیا۔ انہوں نے ’’علل الترمذی‘‘ کے نام سے اصول الحدیث پر لکھا، امام ابن رجل الحنبلی نے اس کی شرح لکھی۔ امام ترمذی نے اس حوالے سے دو کتابیں لکھی تھیں :

  1. العلل الکبیر
  2. العلل الصغیر

ان میں ’’العلل الکبیر‘‘ مفقود ہوگئی، آج کل نہیں ملتی اور ترمذی شریف میں جو موجود ہے وہ ’’العلل الصغیر‘‘ ہے۔ اس ’’کتاب العلل‘‘ میں امام ترمذی نے اسناد کی علتوں کو بیان کیا ہے کہ سند کی کمزوری، نقائص کیا ہیں؟۔ آپ وہ پہلے امام ہیں جنہوں نے پہلے باضابطہ طور پر حدیث کو فنی طور پر حدیث کو تین اقسام میں تقسیم کیا۔

  1. حدیث صحیح
  2. حدیث حسن
  3. حدیث ضعیف

اس سے پہلے اس حوالے سے اشارہ ملتا ہے، فہم تھا، ادراک تھا، اعتبار تھا، مگر باضابطہ فنی اور اصطلاحی طور پر تقسیم نہ تھی۔ امام ترمذی سے پہلے صرف دو اصطلاحات تھیں۔

  1. حدیث صحیح
  2. ضعیف (غیر صحیح)

امام بخاری و مسلم کے ہاں یہی تقسیم تھی۔ امام ترمذی نے ’’حسن‘‘ کے درجہ کا اضافہ کیا۔ اس سے قبل ’’حدیث حسن‘‘ کو ’’حدیث صحیح‘‘ میں ہی شمار کیا جاتا تھا۔ بخاری و مسلم کے اندر ’’حدیث حسن‘‘ موجود ہیں مگر وہ بطور صحیح کے ہیں۔

ان کے بعد اصول الحدیث کے مرتب اور مدون کرنے کے حوالے سے ایک طویل فہرست ہے۔ جن میں امام ابو عبید قاسم بن سلام ہیں جنہوں نے ’’غریب الحدیث‘‘ پر کام کیا۔ ۔ ۔ امام ابو حاتم ابن حبان ہیں جنہوں نے ’’الثقات‘‘ کتاب لکھی۔ ۔ ۔ امام بخاری نے ’’الضعفآء‘‘ لکھی۔ ۔ ۔ امام نسائی نے ’’کتاب الضعفآئ‘‘ لکھی۔ ۔ ۔ امام ابو جعفر الطحاوی الحنفی نے اپنی حدیث کی کتاب ’’مشکل والآثار‘‘ میں امام اعظم اور امام بخاری کے طرز پر طریق اختیار کیا اور اس کتاب میں ان اصولوں کو بیان کرتے گئے۔

امام علی بن عبداللہ المدینی نے ’’العلل‘‘ لکھی۔ ۔ ۔ امام احمد بن حنبل نے ’’العلل‘‘ لکھی۔ ۔ ۔ امام ابن ابی حاتم الرازی (وفات 327ھ) نے بھی جرح و تعدیل کے حوالے سے لکھا۔

ان کے بعد ان تمام کتابوں سے زیادہ جامع اور ان تمام کو محیط ایک جامع اور ہمہ جہت کتاب جس کو Science of Hadith (سائنس آف حدیث) کہہ سکتے ہیں، جس میں اس وقت تک اصول الحدیث کا جتنا علم ارتقاء پاچکا تھا اس سارے کو جمع کردیا گیا اور باقاعدہ اصول الحدیث پر جو کتاب وجود میں آئی اسے امام ابو محمد حسن بن عبدالرحمن الرامحر مزی (وفات 360ھ) نے تحریر کیا۔ انہوں نے المحدث الفاصل بین الراوی والواعی نام کی کتاب لکھی جس میں آداب الروایت، طریق تحمل اور طرق اداء پر باضابطہ گفتگو کی۔

ان کے بعد امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ النیشا پوری، صاحب مستدرک ہیں، جنہوں نے معرفتِ علوم الحدیث کے نام سے کتاب لکھی اور ایک مختصر کتاب ’’المدخل‘‘ لکھی۔ یہ دونوں کتابیں اصول حدیث میں پہلا جامع انسائیکلو پیڈیا تصور ہوتا ہے اور یہ المحدث الفاصل سے بھی بڑھ کر ہے جو کہ چند موضوعات کو ڈیل کرتی تھی۔ امام حاکم نے معرفۃ علم الحدیث میں 52 اقسام و انواع کی احادیث کا تذکرہ کیا۔ گویا اس قدر علم اصول الحدیث ارتقاء کے منازل طے کرچکا تھا۔

ان کے بعد امام ابو نعیم اصفہانی آئے انہوں نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ۔ ۔ ان کے بعد خطیب بغدادی (وفات 453ھ) آئے آپ نے الآیہ فی قوانین الروایہ کے نام سے اصول الحدیث پر نہایت جامع کتاب لکھی اور یہ اصول حدیث میں پہلی کتب سے بھی بڑا انسائیکلو پیڈیا ہے اور پھر بعد ازاں خطیب بغدادی نے الجامع للاخلاق الراوی و آداب السامع لکھی۔

اس تمام تفاصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کتب اصول الحدیث میں حجت ہیں، ان کے علاوہ ایسی کوئی کتب باقی نہیں بچتی جو 14 سو سال کی تاریخ اسلام میں اصول حدیث میں حجت ہو۔ اب جتنی باتیں بھی آگے چل کر کوڈ کروں گا وہ انہی کے ناموں سے کروں گا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے علوم و فنون اور اصول کی ا، ب، ج بھی نہیں پڑھی اور ان کتابوں کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ ۔ ۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو حدیث پر کلام کرتے ہیں مگر ان کو عربی زبان میں قرآن پاک بھی صحیح صحت کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا۔ ۔ ۔ انگلش میں پڑھتے ہیں اور انگلش میں کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور اپنے آپ کو محقق، سند اور حجت سمجھتے ہیں۔ نیز بعض احباب اردو کتب اور تراجم کا سہارا لے کر علم کے میدان میں دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انحطاط اور زوال کا وہ دور ہے کہ انگریزی کے تراجم کے ذریعے پڑھ کر فتویٰ دیتے ہیں اور حدیث پر بیان کرتے ہیں اور غضب کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی بات پر ببانگ دہل کہتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی حدیث ہی نہیں ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے حدیث کی کتنی کتابیں پڑھی ہیں یعنی انگریزی تراجم اور اردو تراجم پڑھے ہیں اور قرآن و حدیث بارے دعوے کرتے ہیں، یہ اہل علم کو زیب نہیں دیتا۔ کچھ عرصہ قبل کوئی شخص TV پر کہہ رہا تھا کہ 3 وتر جس طرح احناف پڑھتے ہیں، صحاح ستہ میں کوئی حدیث اس طرح کی نہیں ہے۔ میں آپ کو کم و بیش 75 احادیث صحاح ستہ میں سے دکھاؤں گا جو احناف کے طریق پر ہیں۔ اس حوالے سے صرف امام نسائی نے ہی 40 احادیث سنن نسائی میں روایت کی ہیں۔ اسی طرح صحاح ستہ کی دیگر کتب میں اس حوالے سے احادیث بکثرت ملتی ہیں۔ پس یہ دعویٰ کردینا کہ اس حوالے سے صحاح ستہ میں ایک بھی حدیث نہیں ہے تعجب کی بات ہے۔ یہ کہنا تو درست ہے کہ میری نظر سے نہیں گزریں۔ ۔ ۔ یا یہ کہنا کہ میں زیادہ مطالعہ نہیں رکھتا۔ ۔ ۔ یہ کہنا درست ہے اور دیانتدارانہ بات ہے مگر یہ کہنا درست نہیں کہ اس موضوع پر صحاح ستہ میں احادیث کا وجود ہی نہیں۔

بڑے بڑے آئمہ کرام سے اگر کچھ پوچھا جاتا اور وہ اس بارے علم نہ رکھتے ہوتے تو برملا کہہ دیتے کہ میرے علم میں نہیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات کے حوالے سے تحقیق کے لئے ایک بات پوچھی گئی آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کی تحقیق نہیں، کل آنا اہل علم سے پوچھ کر آپ کو بتاؤں گا۔ یہ شیوہ علم ہے، یہ سنت اہل علم ہے۔ بعد ازاں امام مالک نے امام واقدی سے پوچھا۔ اب علم حدیث کے میدان میں امام واقدی ثقہ نہیں ہیں مگر غزوات و مغازی و سیّر کے واقعات ہوں تو اس میدان میں وہ اوثق ہیں، سب سے ثقہ ہیں۔ پس اپنے اپنے میدان ہیں جن میں اہل علم کو فوقیت و برتری حاصل ہے۔ مختلف کتب حدیث میں جب ہم یہ الفاظ پڑھتے ہیں کہ فلاں ثقہ نہیں ہے، فلاں قوی نہیں ہے، تو اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس کی ثقاہت کا نہ ہونا کس علم کے حوالے سے لکھا ہے اور کس کے لئے لکھا ہے۔ پس ایک ہی شخص جب حدیث میں روایت کرے تو ثقہ نہیں ہے مگر تاریخ، سیر، مغازی میں امام مالک اس کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ ثقہ ہے۔ یہ علم کا شیوہ تھا، امام مالک نے ان سے پوچھا اور اگلے دن سائل کو جواب دیا۔

میں نے اپنی زندگی میں کئی ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ اگر ان سے کسی نے کچھ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرا اس حوالے سے مطالعہ نہیں ہے، میرا میدان علم دوسرا ہے۔ افسوس! آج وہ زمانہ نہیں رہا۔ شیخ احمد دیدات کا ایک واقعہ سناتا ہوں کہ ان سے جب بھی کوئی دینی مسائل، شرعی مسائل، قرآن و حدیث کے حوالے سے پوچھتا تو وہ کہتے کہ میں عالم نہیں ہوں، میرا تو بائبل اور ہندو ازم کے حوالے سے تقابلی مطالعہ ہے، ان کی بات پوچھ لو، علوم شریعہ کی بات علماء سے پوچھ لو۔ وہ لاہور تشریف لائے، کسی نے ان سے دینی حوالے سے کوئی سوال پوچھا تو انہوں نے میری طرف Refer کردیا۔ بعد ازاں مجھے ملنے بھی آئے۔ دنیا بھر میں وہ دورے کرتے اور اس دوران ان کو علوم شریعہ، حدیث، تفسیر، فقہ اور اسلامی مسائل بارے لوگ ادق سوال کرتے تو ان کو کہہ دیتے کہ میں اس میں Expert نہیں ہوں، میرا فیلڈ ادیان کے درمیان تقابلی مطالعہ ہے لیکن اس سوال کو اپنے پاس نوٹ کرلیتے اور میں جب کبھی ساؤتھ افریقہ دورے پر جاتا، وہ مجھے ملتے اور وہ تمام سوال میرے ساتھ Discuss کرتے اور ان کے جواب لکھ لیتے۔ ان کا میرے ساتھ یہ ذاتی تعلق تھا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ عمل ان کی عظمت کردار کو واضح کررہا ہے کہ لوگوں کو بھی کہہ دینا کہ میں اس فیلڈ میں عالم نہیں ہوں اور پھر پوچھنے میں بھی تامل، جھجھک محسوس نہ کرنا، یہ حقیقی شیوہ علم ہے۔ پوچھنا آدھا علم ہے۔

مگر افسوس! آج زمانہ بدل گیا، آج اگر کسی کو کسی میدان کا کچھ پتہ ہی نہیں اور ایک ہی فیلڈ کا اس کو علم ہے اور اس سے اگر باقی 99 فیلڈز کے بارے میں بھی سوال کرلیں جن کی ابجد سے بھی وہ واقف نہیں تو پھر بھی اس پر جواب دینے کو تیار ہے، ہر ایک پر محقق و مفتی ہے۔ اس طرز عمل سے علم کا وقار اور اعتبار ختم ہوجائے گا کیونکہ اگر علماء بے بنیاد باتیں کریں گے اور نوجوان نسل کسی سے اصل اور حقیقی بات سنیں گے تو وہ متنفر ہوجائیں گے کہ جھوٹی عزت اور بھرم رکھنے کے لئے غلط جواب دیا۔ گویا اس سے علماء کا وقار ختم ہوجائے گا۔ پس علم کا حیاء رکھنا چاہئے اور اس بات کے کہنے پر کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ میں نہیں جانتا۔ اکبر الہ آبادی کا شعر ہے کہ

ہر ایک بات پہ کہتا تھا من نمی دانم
یہ بات سچ ہے کہ اکبر بہت ہی عالم تھا

اس کا بڑا عالم ہونا ہی اس بات پر تھا کہ جو بات معلوم نہ ہوتی تو کہتا کہ میں نہیں جانتا یعنی اعتراف کرلینا اکابرکا طریقہ تھا۔

حدیث کی قبولیت و عدم قبولیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہ کہنا کہ یہ حدیث بخاری و مسلم میں دکھائیں، اگر ان کتب میں ہے تب مانتے ہیں ورنہ نہیں، اس بات کا پوچھنا ہی پوچھنے والے کی علمیت کا پول کھول دیتا ہے۔ میں آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع میں اللہ کی قسم کھا کر بتارہا ہوں کہ 12 سو سال کے علم حدیث اور اصول حدیث میں یہ جملہ کبھی کسی صاحب علم نے نہیں کہا، نہ کبھی کسی نے لکھا کہ کسی بات کو تب مانیں گے جب اس کا ثبوت بخاری و مسلم سے ملے گا۔ 12 صدیوں میں جب سے بخاری و مسلم لکھی گئیں تب سے لے کر آج تک اہل علم کا یہ لکھنا، کہنا یا سوچنا شیوہ ہی نہ تھا اور میں نے یہ بات 12 سو سال کے ذخیرہ علم پر محیط بات بڑی ذمہ داری سے کہی ہے۔ آئندہ گفتگو میں اصول حدیث کی جو کتب Mention کررہا ہوں، ان سے References بھی دوں گا، آپ دیکھیں گے کہ اسلام میں ایسا کوئی مکتبہ فکر ہی نہیں ہے جو اس طرح کی باتیں کرے یا لکھے۔ کسی زمانہ میں اہل علم کا کوئی طبقہ ایسا پیدا ہی نہیں ہوا، اور نہ کبھی 12 صدیوں کوئی ایسا عالم، محدث اور اصولی ہوا۔ جس نے کبھی یہ بات کہی ہو۔ یہ جاہلانہ بات ہے، بے بنیاد بات ہے۔ کسی بات کا حوالہ یا ثبوت صرف بخاری و مسلم ہی سے طلب کرنے کا سوال اتنا جاہلانہ ہے کہ سوال بتاتا ہے کہ اس غریب نے اصول حدیث اور علم الحدیث کے کسی فن کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ یہ شیوہ علم ہی نہیں ہے۔ میں اس کا احسان مند ہوں گا اگر کوئی مجھے 12 سو سال کے اصول حدیث و علم حدیث کے ذخیرہ علم میں سے کوئی ایک چھوٹا سا طبقہ اہل علم یا کوئی امام دکھا دے جس نے اصول الحدیث میں اس طرح کا کوئی اصول بیان کیا ہو کہ کسی بات کو اس وقت صحیح مانو اگر صحیح بخاری و مسلم میں ہو، اگر بخاری و مسلم میں نہ ہو تو پھر نہ مانو۔

پس 12 سو سال کے ذخیرہ علم میں اس حوالے سے ایک بھی قول نہیں ہے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ آج کسی بات پر فوراً ہی یہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا بخاری و مسلم میں اس کا وجود ہے۔ یہ بات بے بنیاد، جاہلانہ اور علم و فن سے بے خبری کی بات ہے۔ اسی لئے میں نے دورہ صحیح مسلم کے دوران اصول حدیث پر گفتگو کرنے کا ارادہ کیا اور اس پر آگے چل کر تفصیلی گفتگو کروں گا۔ علاوہ ازیں اس دورہ کے دوران۔ ۔ ۔ حدیث صحیح کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ حدیث، صحیح کا درجہ کس طرح حاصل کرتی ہے۔ ۔ ۔ ؟ حدیث ضعیف کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ حدیث، ضعیف کس طرح ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ؟ موضوع حدیث کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ اور کیسے ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ؟ نیز ان تمام کا حکم کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ ان امور کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کریں گے۔ (جاری ہے)

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Jun 11, 2008



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau