[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2008 ء > تعارف کتب : صاحبزادہ حسین محی الدین قادری
ماہنامہ منہاج القرآن : اگست 2008 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2008 ء > تعارف کتب : صاحبزادہ حسین محی الدین قادری

تعارف کتب : صاحبزادہ حسین محی الدین قادری

ایم ایس پاکستانی

منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے ممبر صاحبزادہ حسین محی الدین قادری ایک عظیم علمی، دینی اور روحانی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں اور ایک اَعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ آپ نے علمی و ادبی صلاحیت اپنے جدِ امجد فریدِ ملت حضرت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے والد گرامیِ قدر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے ورثہ میں پائی ہے۔ آپ نے اِنٹر تک تعلیم پاکستان میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے جہاں سے مینجمنٹ اور پولیٹکل سائنس کے موضوع پر YORK یونیورسٹی ٹورانٹو سے گریجوایشن کی۔ بعد ازاں پیرس فرانس کی معروف یونی ورسٹی Sciences-Po سے عالمی معیشت میں MBA کی ڈگری حاصل کی۔ گزشتہ سال جب وطن واپس آئے تو آپ نے لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں بطور رِیسرچ فیلو خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں۔ ان دنوں آپ آسٹریلیاکے شہر ملبورن میں ’’عالمی معیشت اور سیاست‘‘ (Global Political Economy) کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔

صاحبزادہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و تقریر اور تحقیق کا ملکہ راسخہ عطا فرمایا ہے۔ آپ کے مختلف قومی و بین الاقوامی، سیاسی اور معاشی و معاشرتی موضوعات پر اُردو، انگریزی میں کئی آرٹیکل بھی طبع ہوچکے ہیں۔ آپ کے اس علمی و تحقیقی ذوق کا منہ بولتا ثبوت درج ذیل کتب ہیں۔

1۔ نقشِ اول (شعری مجموعہ)

آپ کی پہلی تصنیف شعری مجموعہ نقش اول تھی۔ یہ جولائی 2007ء میں شائع ہوئی۔ یہ شعری مجموعہ آپ کے13 سال سے 19سال تک صرف نَو عمری کی سات سالہ قلمی نگارشات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ اس میں آپ نے حمد و نعت، منقبت، تحسین، نظمیں، قطعات، فردیات، غزلیات اور آزاد شاعری سمیت 100 سے زائد کلام جمع کیے ہیں۔ ملک کے نامور شعراء سید الطاف حسین گیلانی اور ریاض حسین چوہدری کی تقاریز بھی اس میں شامل ہیں۔ شاعر کا جامع تعارف فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شعبہ ادب کے ناظم ضیاء نیئر نے پیش کیا ہے۔ صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے اس شعری مجموعہ کا انتساب اپنے والدگرامی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نام کیا ہے۔

Stratégie de diversification d'EDF à l'étranger -2

آپ کا یہ دوسرا علمی شاہکار فرانسیسی زبان میں طبع ہوا ہے۔ اس کتاب کا عالمی معیاری نمبر 978-969-32-0792-7 اور یہ فروری 2008ء میں طبع ہوئی ہے۔ اِس کتاب میں فرانس کی سب سے بڑی نیم سرکاری کمپنی EDF کے بارے میں بہت مفید معلومات اور چشم کشا حقائق درج کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال فرانس میں تنخواہوں کے مسئلہ پر وقوع پذیر ہونے والے فسادات کی وجوہات کیا تھیں؟ ملازمین کی تنخواہوں کے مسئلے کی اندرونی کہانی کیا تھی؟ حکومت کے EDF کے ساتھ اِختلافات کی اصل حقیقت کیا تھی؟ اِس سے کتنے لوگ متاثر ہوئے؟ حسین محی الدین قادری نے ان تمام سوالات کے تفصیلی جواب دینے کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی دی ہیں کہ کس طرح اِن مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

3۔ پاکستان میں شکر سازی کی صنعت (ایک تحقیقی جائزہ)

اس کتاب میں پہلی بار ملک کی شکر سازی صنعت کو ایک تحقیقی جائزہ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں گنے کی پیداواراور زراعت، کیڑے مار دوائیوں کا مربوط استعمال، گنے کی مڈھی فصل یا ’’راٹون‘‘ کی تیاری، شکرکی مرحلہ وار تیاری، تقسیم اور رسد کا چینل، شکر کی پیداوراور فروخت، مارکیٹ کی حرکیات کا صنعتی جائزہ، شکر سازی کی سیاست، حکومت کا کردار، قواعد و ضوابط اور عمل دخل، بین الاقوامی شوگر منظر نامہ، شوگر انڈسٹری اور حالات حاضرہ، دریافت شدہ نتائج اور تجاویز، چینی کی بازیابی، کیمیائی کھادوں کا استعمال، کسانوں پر عائد فرض، مارکیٹنگ سسٹم، گورنمنٹ ڈیوٹی، صارفین کو کم داموں چینی کی فراہمی، بین الاقوامی منڈی میں پیش کاری، ملک میں گندم کی قلت کی وجہ، خام و گنے کی وافرمقدار کی متنوع تبدیلیاں اورتحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں پر تحقیقی بحث شامل ہیں۔ ‘‘ 127 صفحات پر مشتمل کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ ’’پاکستان میں اگرچہ صنعت شکرسازی کا شمار ان شعبوں میں ہوتا ہے جو بہترین منظم کاروباروں میں ایک ہے۔ سردست ملک میں مجموعی طور پر 77 شوگر ملیں مختلف صوبوں میں کام کر رہی ہیں جن میں لاکھوں افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ غلط پالیسیوں اور کوتاہیوں کے باعث شکر سازی کی صنعت ہماری معیشت کی ترقی میں نہ صرف یہ کہ قابل ذکر کردار ادا نہیں کررہی بلکہ یہ صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اس کی بقاء کو خطرات لاحق ہیں۔ ان خطرات سے نکلنے اور فی ایکڑ پیداوار بنانے کے لئے مصنف نے مفید تجاویز بھی شامل کی ہیں۔

4. Sugracane Ethanol (as an Alternate Fuel Source for Pakistan)

آپ کا یہ علمی شاہکار جولائی 2008ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں آپ نے پاکستان میں پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی مانگ کے بعد پٹرول سازی صنعت کے متبادل نظام کے طور پر سبزیوں سے تیل کی پیداوار کو پیش کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اس وقت تک ملکی پٹرولیم کے ذخائر کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل میں پاکستان کی پٹرولیم پالسی پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب میںپاکستان کی معاشی صورتحال کو دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ بھی دیا گیا ہے۔

آج امریکہ اور برطانیہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک کو پٹرولیم کے بحران کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں جب پٹرولیم قیمتیں150ڈالر فی بیرل ہونے کی خبریں گرم ہیں تو ایسے میں پاکستان جیسے ملک میں تیل کی کمی ایک ناقابل حل بحران بنتی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں نے اس بحران کو اور بھی سنگین کر دیا ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اسے اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے 80 صفحات ہیں۔ تمام کتب کو منہاج القرآن پرنٹرز لاہور نے شائع کیا اور یہ مرکزی سیل سنٹر کے علاوہ ملک بھر کے سیل پوائنٹس پر بھی دستیاب ہیں۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Aug 8, 2008



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau