[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > ستمبر 2008 ء > القرآن : خوابِ غفلت سے بیداری اور حیاتِ قلبی
ماہنامہ منہاج القرآن : ستمبر 2008 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > ستمبر 2008 ء > القرآن : خوابِ غفلت سے بیداری اور حیاتِ قلبی

القرآن : خوابِ غفلت سے بیداری اور حیاتِ قلبی

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ترتیب و تدوین : محمد یوسف منہاجین

قرآن پاک میں رب کائنات نے ارشاد فرمایا :

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ

(سبا : 46)

’’آ پ فرما دیں اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تمہیں ایک ہی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لئے قیام اختیار کرلو‘‘۔

اللہ کے لئے قیام اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے لئے بیدار ہو جاؤ اور اللہ کی خاطر متنبہ ہو جاؤ۔ اس کو قیام بالیقظہ کہا جاتا ہے۔

شیخ الاسلام ابو اسماعیل عبداللہ الانصاری الحروی (481ھ) نے اپنی نامور تصنیف ’’منازل السائرین‘‘ (سیر الی اللہ کرنے والوں کی منزلیں) میں جو لوگ اللہ کی طرف سیر کرتے ہیں۔ یعنی زہداء، اولیاء، صوفیاء، عرفاء کے 10 میدان مقرر کئے ہیں اور ہر میدان کے اندر 10، 10 مقامات بیان کئے ہیں۔ گویا مصنف نے اللہ کی طرف روحانی سیر کرنے والے لوگوں کی 100 منازل کا ذکر کیا ہے۔ یہ رسالہ کتاب تصوف میں ایک اہم حوالہ ہے۔

ذیل میں ہم ان منازل اور مقامات میں سے بعض کا احوال ترتیب وار بیان کر رہے ہیں۔

خوابِ غفلت سے بیداری

ان میدانوں میں سے پہلا میدان ’’البدایات‘‘ کا ہے اور اس میں پہلا مقام یقظہ یعنی بیداری سے متعلق ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ

(سبا : 46)

’’آ پ فرما دیں اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تمہیں ایک ہی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لئے قیام اختیار کرلو‘‘۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ میں تعلیم و تربیت دینے کے لئے ہی آیا ہوں اور دیتا رہوں گا مگر اس تعلیم و تربیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم ایک ہی نصیحت پکڑ لو تو نجات پا لو گے اور وہ یہ کہ تم اللہ کے لئے غفلت کی نیند سے بیدار ہو جاؤ۔

سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر بڑا پُرمغز ہے فرماتے ہیں :

کئی جاگن کئی جاگ نہ جانن
کئی جاگدیاں وی سُتے ہو

کَیاں نوں رب سُتیاں ملیا
کئی جاگدے وی گئے مُٹھے ہو

’’مُٹھے ہو‘‘ سے مراد ’’لٹ گئے‘‘۔ کئی لوگ جاگتے جاگتے لٹ گئے اور کوئی سونے کی حالت میں بھی پاگئے۔ کیونکہ قلبی، باطنی، روحانی طور پر بیدار رہنے والے اور غفلت سے نجات پاجانے والے بیدار لوگ اگر سوتے بھی ہیں تو ان کا سونا بھی بیداری بن جاتا ہے اور غافل اگر جاگتے بھی ہیں تو ان کا جاگنا بھی غفلت بن جاتا ہے۔

ہم چونکہ غفلت کی حالت میں ہیں اس لئے ہمارا جاگنا بھی سونا ہے اور جو جاگ اٹھتے ہیں ان کا سونا بھی جاگنا ہے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’میری آنکھیں سوتی ہیں دل ہمیشہ بیدار رہتا ہے‘‘۔

بیداری کی منازل

بیداری کے اس مقام کی 10 منازل ہیں :

1. التَّنَبُّهْ عَنْ سِنَةِ الغفلة وَالْقَوْمَةُ لِلّٰهِ

بیداری کی پہلی منزل یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان اس بات پر متنبہ ہو، اس حقیقت سے آگاہ ہو اور شعوری طور پر جان لے کہ وہ غفلت کی نیند میں ہے۔

خرابی یہاں سے جنم لیتی ہے کہ ہم غافل ہیں مگر اپنی غفلت کا شعور بھی نہیں ہے کہ ہم غفلت کی نیند میں ہیں اس نیند کی مثال اس طرح ہے کہ عام حالات میں بستر پر سونے والا جب تک جاگتا نہیں ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ حالت نیند میں ہے، جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ نیند میں تھا۔ ہم جب تک غفلت میں ہیں، ہمیں شعور ہی نہیں ہوگا کہ ہم غفلت کی نیند میں ہیں، تَنَبُّہْ کی آنکھ کھلے گی تب خبر ہوگی کہ ہائے افسوس! ہم تو غفلت کی نیند میں تھے۔ یہ آگاہی ہونا کہ ہم غفلت کی نیند میں ہیں۔ یہ بیداری کی پہلی منزل تَنَبُّہْ ہے۔ شیخ الاسلام عبداللہ الانصاری فرماتے ہیں :

وَالْقَوْمَۃُ لِلّٰہ۔ ۔ ۔ یہی شعور اور خبر ہو کہ میں غفلت کی نیند میں ہوں تو اس سے تَنَبُّہْ نصیب ہو گا اور اس تَنَبُّہْ سے پھر اس کے اندر ایک Earg (رغبت) پیدا ہوگی کہ میں جاگ جاؤں اور اس غفلت کی نیند سے بیدار ہوجاؤں۔ پس والقومۃ للہ کا مطلب ہے اللہ کے لئے غفلت چھوڑ دینا، بیدار ہوجانا، مستعد ہوجانا۔

2. اَلتَّحَرُّزْ اَنْ دَواعِی الشَيْطَان

بیداری کی دوسری منزل یہ ہے کہ انسان ان شیطانی محرکات سے اپنے آپ کو بچالے جو اس کے پیدا کردہ ہیں۔ شیطان، طرح طرح کی زینتیں دے کر ہمیں بہکاتا ہے اور طرح طرح کی عیش و عشرت، دنیوی شہوت، خواہش اور راحت میں نفس کو لبھاتا ہے اور دل کو اس طرف راغب کرتا ہے۔ یہ وہ محرکات ہیں جو شیطان ہمیں غفلت کی نیند سلائے رکھنے، اللہ کی راہ سے ہٹائے رکھنے اور تباہی و بربادی کے راستے پر ڈالے رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے، ان سے احتراز کیا جائے، بچا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِO

(آل عمران : 14)

’’لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہےo‘‘۔

یہ تمام محبتیں انسان کے نفس میں مزیّن کر دی گئی ہیں۔ یہی رغبات نفس اور محرکات شیطان میں خصوصاً جب انسان اعتدال سے ہٹ جائے اور ان رغبات کو ضرورت کی بجائے شہوت بنائے۔ انسان جب ان چیزوں کا خیال کرتا ہے تو انسان کی طبیعت ان چیزوں کی طرف راغب ہوتی ہے۔ ۔ ۔ اسے ان ساری محبتوں میں سکون ملتا ہے۔ ۔ ۔ وہ ان ساری محبتوں میں راحت محسوس کرتا ہے۔ ۔ ۔ اس وجہ سے کوئی مال کی محبت میں غرق ہوگیا۔ ۔ ۔ کوئی عورتوں کی محبتوں میں غرق ہوگیا۔ ۔ ۔ کوئی دنیا کے جاہ و منصب کی محبت و حرص میں غرق ہوگیا۔ ۔ ۔ کوئی طاقت و اقتدار کے حصول کے لئے غرق ہوگیا۔ ۔ ۔ یہ طرح طرح کی روحانی تباہی و ہلاکت کے مناظر ہیں جنہیں سجا دیا گیا ہے، خوبصورت بنا دیا گیا ہے، جنہیں مزین اور آراستہ کردیا گیا ہے اور ہمارے نفس اور طبیعت کو ان کے ساتھ متعلق کردیا گیا ہے، کسی کی طبیعت کسی میں کھوگئی اور کسی کی طبیعت کسی محبت میں کھوگئی۔

الغرض وہ طبیعت ان شیطانی، نفسانی، زینتوں میں کھو گئی اور شیطان کا انسانی طبیعت کو اس طرف راغب و مائل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آخرت کی زینت انسان کی نظر سے پوشیدہ ہوجائے۔ اگر بندہ ان زینتوں میں کھویا رہے تو غفلت کی نیند سویا رہتا ہے۔ آخرت کی طرف رغبت اور رجحان پیدا نہیں ہوتا۔ جب تک آخرت کی طرف اس کی طبیعت میں ذوق، رغبت اور محبت پید انہ ہو اور جب تک آخرت کی نعمتوں، اللہ کی بخشش اور اس کی قربت کے تصور میں اس کی طبیعت میں ایک کیف و سرور پیدا نہ ہو تب تک وہ دنیا کی زیب و زینت کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔

دنیا کی مال و دولت نے انسان کو راحت دی، راحتوں نے انسان کو سکون دیا اور جسم نے نفس کے ساتھ مل کر اس سکون کو منزل بنالیا، نتیجتاً بھٹک گیا۔ اس سکون کا توڑ تبھی ہوگا جب اس غفلت کی نیند سے کوئی جاگے گا اور باطن کی آنکھ کھلے گی اور اسے نظر آئے گا کہ آخرت میں بھی کچھ راحتیں ہیں۔ وہ موازنہ کرے گا کہ مرنے کے بعد کی جو راحت ہے اس کی قدرو قیمت دنیا کی راحت کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ کر ہے۔ آخرت کی زینت کے مقابلے میں دنیا کی زینت کچھ معنی نہیں رکھتی۔ جب ان کو راحت و آرام، عیش و عشرت، سکون، کیفیت، لذت، حلاوت، اطمینان میں اعلیٰ و ارفع دیکھے گا تبھی اِدھر سے بیزار ہوکر اُدھر بیدار ہوگا، اس طرف راغب ہوگا۔ فرمایا کہ ضروری ہے کہ شیطان جن جن چیزوں کی طرف بلاتا ہے ان سے بچا جائے۔

پہلی منزل میں انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہوا تھا، دوسری منزل میں بیدار ہونے کے بعد اب اس کے قدم دنیا کی زینت کی طرف نہیں بڑھ رہے بلکہ اب وہ سوچتا ہے اور اسے سمجھ آگیا ہے کہ شیطان تو مجھے، میری ہی بربادی کی طرف بلا رہا ہے اور نفس میرے اندر اس شیطان کا ایک نمائندہ ہے، یہ وہی کہتا ہے جو اسے دراصل شیطان سمجھاتا ہے۔ لہذا نفس جس شے کو پسند کرتا ہے، اس بندہ کو یہ سمجھ میں آگئی کہ یہ دراصل شیطان کا پیدا کردہ داعیہ ہے، جو شیطان نے ابھارا ہے اور یہ شیطان کا مکرو فریب ہے، لہذا میں بچ جاؤں۔

بیداری کی دوسری منزل پر انسان کو سمجھ آجاتی ہے کہ انسان کے یہ خیالات کہ میں اگر اتنی دولت جمع کرلوں تو ایسا ہوجاؤں گا وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا۔ ۔ ۔ دنیا میں میری عزت ہوگی۔ ۔ ۔ اگر ایسا کرلوں تو یوں ہوجائے گا اور میں ایسا بن جاؤں گا۔ ۔ ۔ یہ خیالات دراصل شیطان اور نفس کے داعیات ہیں، انہی خیالات نے ہماری زندگی تباہ و برباد کرکے رکھ دی ہے۔ بیداری کے دوسرے درجے میں اسے سمجھ آجاتی ہے کہ اگر ان خیالات پر عمل کرلیا تو یہ میرے لئے شرمساری کا باعث ہوں گے کیونکہ عزت و شرمساری ماپنے کا اس کا پیمانہ اب یہ دنیا نہیں رہی بلکہ مولیٰ کی بارگاہ بن گئی ہے۔ اب وہ کسی چیز کو دیکھتا ہے تو کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ اس میں فخر ہے یا شرمساری۔ ۔ ۔ اس میں عزت ہے یا ذلت۔ ۔ ۔ اس میں راحت و آرام ہے یا تکلیف و مصیبت۔ ۔ ۔ اب فرق یہ پیدا ہوگیا کہ پہلے اس کا پیمانہ راحت، عزت، ذلت دنیا کے نقطہ نظر سے تھا، اب وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے پیمانے تو وقتی اور عارضی ہیں، یہ تو نفس اور شیطان کے داعیات ہیں، شیطان کے مکر ہیں، میری بربادی کے حیلے ہیں۔ ۔ ۔ اب جب وہ ماپتا ہے تو سوچتا ہے کہ اس عمل سے اللہ کی بارگاہ میں میری عزت ہوگی یا ذلت۔ ۔ ۔ مرنے کے بعد مجھے راحت و آرام ملے گا یا اذیت و عذاب۔ ۔ ۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں چہرہ دکھانے کے قابل رہوں گا یا یہ کچھ کر کے نہیں رہوں گا۔ ۔ ۔ اب اس کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔

جب پیمانے بدل جاتے ہیں تو وہ ان سے احتراز کرتا ہے یعنی اپنے آپ کو بچاتا ہے، ان خیالات میں اپنی ذلت و شرمساری محسوس کرتا ہے اورجب وہ یہ ذلت و شرمساری محسوس کرنے لگے اور پیمانہ تبدیل کردے تو پھر اسے شیطان کے حملوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ بس ہم نے ایک پیمانہ ہی بدلنا ہے۔ ہم دنیا کی عزت و ذلت پر اڑے ہوئے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ عزت و ذلت کے ہمارے پیمانے غلط ہیں۔ عزت وہ ہے جو میری نگاہ میں ہے اور ذلت وہ ہے جو میری بارگاہ میں ہے۔ ۔ ۔ راحت وہی ہے جو آخرت میں ہو، تکلیف و مصیبت بھی وہی ہے جو آخرت میں ہو۔ ۔ ۔ اگر یہ پیمانہ بدل جائے تو آگے تمام فیصلے آسان ہوجاتے ہیں۔

3. التَّيَقُّظْ فِی الْحَضْرِ عَنْ رَعُوْنَاتِ النَّفْس

انسان کو اپنا عمل اچھا نظر آتا ہے، حسین نظر آتا ہے اس پر خوش ہوتا ہے کہ الحمدللہ میں نے نیک عمل کیا ہے، گویا اب اسے اپنا نیک عمل نیک ہوکر نظر آرہا ہے۔ یہ نفس کی حیلہ سازیاں ہیں کہ کس طرح انسان کو قابو کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ پس جب انسان بیداری کی وادی میں قدم رکھتا ہے تو تیسری منزل پر اسے اپنا نیک عمل ہی نظر نہیں آتا، عُجب اور تکبر سے بچنے کا راستہ ہی یہ ہے کہ اپنے عمل کو نیک عمل ہی نہ دیکھے، شرمساری دیکھے۔

انسان ہلاک کیسے ہوتا ہے؟

فرمایا :

وَتَزَّيُّنْهَا بِاِسْتَحْقَاقِ الْاَجْرِ وَالثَّوَابِ عَلَيْه.

نفس اسے اس کے نیک عمل کو مزین کرکے دکھاتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ الحمدللہ اس عمل پر میں اجر و ثواب کا مستحق ہو گیا۔ پس اسی سوچ سے انسان کی ہلاکت و بربادی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بندہ جب وادی بیداری کی تیسری منزل پر آ جائے تو اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے اور اس کا نفس ناکام ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے عمل کو نیک عمل کر کے دکھائے اور اس کی طبیعت میں اپنے عمل پر عجب اور تکبر پیدا کر سکے اور نتیجتاً اس کے اندر نفس یہ تصور پیدا نہیں کر سکتا کہ میرے عمل پر مجھے کوئی اجر و ثواب ملنے والا ہے۔ وہ عمل کرتا ہے اور اس عمل کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کوئی اجر و ثواب نصیب ہو۔ ۔ ۔ روتا ہے کہ میرے مولیٰ یہ عمل بھی گناہ ہے۔ ۔ ۔ وہ کہتا ہے کہ اجر و ثواب تو دور کی بات ہے کہ میرے رکوع و سجود، تسبیحات و تحلیلات، قیام، آہ و زاری پر کوئی اجر و ثواب ملے گا بلکہ وہ یہ اعمال کرکے بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی کا خواستگار ہوتا ہے، ’’حسنات الابرارِ سیئات المقربین‘‘ کے تحت کوئی ثواب نہیں مانگتا اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ کوئی اچھا کام ہو تو ثواب مانگوں۔ وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے معلوم ہے کہ لوگ میرے جن اعمال کو عبادت کہتے ہیں دراصل یہ نیک اعمال بھی تیرے حضور گناہ ہیں، مجھے ان گناہوں پر معاف کردینا۔ اگر یہ کیفیت راسخ رہے تو پھر انسان کے اندر اپنے نیک اعمال کی بابت عُجب اور تکبر پیدا نہیں ہوتا۔

4. اَلتَّيَقُّظْ بالْمَنْعِ عَنْ رُوْيَةِ فَضِيْلَتِه وَکَمَالِه عَلی غيره

بیداری کی تیسری منزل تک بات اعمال اور افعال تک تھی۔ نفس کی کوشش تھی کہ وہ انسان کے نیک اعمال دکھائے اور ان میں تکبر اور عُجب لائے۔ اگر تیسری منزل پر حفاظت ہو جائے تو اعمال و افعال تکبر سے بچ جاتے ہیں کیونکہ بندہ پھر اپنے نیک اعمال کو حسین کی بجائے قبیح، برا اور مکروہ دیکھتا ہے۔ پس جب بندہ بیداری کی چوتھی منزل میں داخل ہوتا ہے تو نفس و شیطان اعمال، صدقات و خیرات، تہجد، ذکر و اذکار، نوافل و نیکیاں، اطاعت، پرہیزگاری، تقویٰ، اتباع، بھلائی اور دیگر نیک اعمال کی بدولت اس بندہ کے دل اور دماغ کے کسی گوشے میں، یہ خیال ڈال دیتا ہے کہ اللہ کا شکر کر کہ اللہ نے تجھے فضیلت و کمال عطا کیا ہے اور ان چیزوں کی وجہ سے تو دوسروں سے افضل ہے نتیجتاً بندہ انہیں اپنی فضیلت اور دوسروں پر کمال سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ مثلاً اللہ نے تجھے اتنا علم دے دیا، لوگ دور دور سے تجھے سننے کے لئے آتے ہیں، تو دوسروں سے افضل ہے، یہی شیطان کا حملہ ہے۔ ۔ ۔ اسی طرح تو فلاں کا بیٹا ہے، تیرا حسب نسب اونچا ہے لہذا تو افضل ہے، یہی شیطان کا حملہ ہے۔ ۔ ۔ تیرے اعمال اچھے ہیں، یہی حملہ ہے۔ ۔ ۔ تیرا اخلاق اونچا ہے، تیری عبادت، محنت و ریاضت، دین کی خدمت اچھی ہے، اعلیٰ ہے لہذا تو افضل ہے، اسی سوچ کا پیدا ہوجانا شیطانی حملہ ہے۔

یہ خیالات لاشعوری طور پر اس بندے میں داخل کر دیئے جاتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر ایسا سمجھنے لگتا ہے اور جب یہ سمجھ پیدا ہوتی ہے تو وہ لوگوں کے ساتھ اسی سوچ کے ساتھ رویہ رکھتا ہے۔ ۔ ۔ پس جب انسان بیداری کی چوتھی منزل میں قدم رکھتا ہے تو دوسروں پر فضیلت و کمال کے اس خیال کو چکنا چور کرتا ہے اور اپنی فضیلت کے خیال سے اس بندے کو اللہ محفوظ کر لیتا ہے۔

جب بندہ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑھ کر فضیلت و کمال والا جانے گا تو لامحالہ دوسروں کو اپنے سے حقیر و ادنیٰ جانے گا۔ ۔ ۔ اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کو برا سمجھے گا۔ ۔ ۔ دوسروں کے ساتھ کھانے پینے، معاملات رکھنے اور اخلاق سے پیش آنے کو برا اور اپنی شان سے نچلا درجہ سمجھے گا۔ ۔ ۔ اس کو یہی سوچ دامنگیر رہے گی کہ میرا عہدہ بدل دیا۔ ۔ ۔ مجھے سلام نہیں کیا۔ ۔ ۔ میرے مقام و مرتبہ کا خیال نہیں رکھا۔ ۔ ۔ مجلس میں مجھے امتیازی مقام نہ دیا جو میرا حق ہے۔ ۔ ۔ عام لوگوں کے ساتھ مجھے بٹھادیا۔ ۔ ۔ یہ ساری بولی دراصل نفس اور شیطان کی ہے جو وہ بندے کی زبان سے ادا کروا رہا ہے۔

فرمایا : کہ وہ بندہ جو لوگوں کو اپنی نگاہ میں حقیر دیکھتا ہے اگر چوتھی منزل میں آجائے تو حقارت مٹ جاتی ہے، نہ کوئی اس سے حقیر رہتا ہے اور نہ یہ کسی سے افضل رہتا ہے، یہ خود احقر ہوجاتا ہے اور باقی سب افضل ہوجاتے ہیں۔

پہلے وقتوں میں اللہ والے اپنے نام کے ساتھ ’’احقرالعباد‘‘ ’’بندوں میں سے سب سے حقیر تر‘‘ لکھتے تھے، جب وہ لکھتے تھے تو اپنے آپ کو سمجھتے بھی تھے، ہم نے سمجھ ہٹا دی اور لفظ رکھ لئے، ہم بھی احقر العباد لکھتے ہیں مگر صرف لفظ کے طور پر لکھتے ہیں، سمجھتے نہیں ہیں۔

حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان

حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے غنیۃ الطالبین میں بیان فرمایا کہ دوسروں کو حقیر اورخود کو افضل سمجھنے کے شیطانی اور نفس کے حملہ سے بچنے کے لئے انسان یہ سوچ اپنا لے کہ اگر کسی اپنے سے عمر میں چھوٹے کو دیکھے تو اسے اپنے سے یہ خیال کرکے افضل سمجھے کہ اس کی عمر تھوڑی ہے، اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہوں گے، اس لئے مجھ سے بہتر ہے۔ ۔ ۔ اور اگر اپنے سے کسی بڑے کو دیکھے تو اس کو بھی خود سے بہتر سمجھے اور یہ جانے کہ اس کی عمر مجھ سے زیادہ ہے، اس نے نیکیاں بھی مجھ سے زیادہ کی ہوں گی۔ ۔ ۔ اور اگر ہم عمر کو دیکھے تو اس کے بارے حسن ظن رکھے کہ اطاعت، عبادت، نیکی میں مجھ سے بہتر ہے۔ ۔ ۔

اگر اپنے سے کم علم یا جاہل کو دیکھے تو اس کو بھی اپنے سے بہتر سمجھے کہ اس کا علم کم ہے، اس سے حساب کتاب بھی کم ہو گا اور اس کا مواخذہ بھی کم ہو گا کیونکہ اس نے اگر گناہ کئے ہیں تو وہ کم علمی کی وجہ سے کئے ہیں اور میں گناہ کرتا ہوں تو زیادہ علم کے باوجود اس کا ادراک ہوتے ہوئے گناہ کرتا ہوں۔ میرا مواخذہ زیادہ ہو گا، وہ شاید کم علمی کی وجہ سے نہ پکڑا جائے اور معافی مل جائے۔ ۔ ۔ اور اگر کسی کو خود سے زیادہ عالم دیکھے تو اس کو بھی خود سے بہتر سمجھے اور یہ جانے کہ اس کا علم زیادہ ہے لہذا تقویٰ اور علم کی وجہ سے عبادات بھی زیادہ ہوں گی۔ چونکہ زیادہ علم ہے اس لئے اسے معلوم ہے کہ کس کس عبادت کا اجر و ثواب زیادہ ہے، کون کون سے اعمال کا درجہ بلند ہے، اس نے نیکیاں بھی اپنے علم کی وجہ سے زیادہ جمع کرلی ہوں گی اور علم کی فضیلت کی وجہ سے جو بخشش عطاہو گی وہ اس کے نصیب میں ہوگی۔ ۔ ۔

اگر کسی کافر کو دیکھے تو اسے بھی بحیثیت انسان کے خود سے حقیر اور کم تر نہ جانے، کافر کو دیکھ کر اپنی افضلیت کا گھمنڈ یوں ختم کرے کہ یہ کافر ہے اور میں مومن ہوں لیکن معلوم نہیں کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو جائے اورمیرا خاتمہ خدا جانے شر پر ہو جائے۔ کیا معلوم یہ توبہ کرلے اور آخر وقت پر مسلمان ہو جائے اور توبہ کرکے گناہوں سے بالکل صاف ہو کہ بخشش کا مستحق بن جائے اور میں ساری عمر ایمان پر گزار کر ممکن ہے آخر عمر میں برباد ہو جاؤں، کوئی ایسی غلطی، نقصان کر بیٹھوں کہ عمر بھر کر خسارہ ہوجائے، گویا کافر پر بھی حسن ظن کرے۔

شیخ الاسلام عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ یہ سوچ و عمل اس وقت تک جاری رہے اور ان چیزوں پر اتنا بیدار رہے کہ وہ اپنے فضائلِ اخلاق کو رذائلِ اخلاق دیکھے۔ ۔ ۔ جو اس کے اعلیٰ اخلاق ہیں، ان کو گھٹیا و کمینہ اخلاق سمجھے۔ ۔ ۔ اور دیکھے کہ جو کچھ میں کرتاہوں وہ رذائل ہیں، اس لئے کہ میری کیا مجال کہ میں اپنی فضیلت کا سوچ سکوں۔ اس طرح نفس کے عُجب، تکبر، ریاء، نفاق سے بچ جائے گا۔

5. التَّيَقُّظْ بالْحَيَاةِ الْقَلْبِيَه

یہ بیداری کی وہ منزل ہے کہ پہلی 4 منازل عبور کرلینے کے بعد پانچویں منزل پر اس کے دل کو حیات مل جاتی ہے، اس کا دل زندہ ہوجاتا ہے۔

دلِ زندہ سے مراد

ہم نے ایک تصور بنا رکھا ہے کہ دلِ زندہ سے مراد دل کا دھڑکتے ہوئے بظاہر نظر آنا ہے اور اپنے اعصاب (Mussals) کو ہلانے کی پریکٹس کرتے رہتے ہیں اور مسلز کے اس طرح حرکت کرنے سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھیں اس کا دل ذاکر ہے اور اللہ کا ذکر کر رہا ہے۔ اللہ کے ذکر میں مسلز کا کوئی ناچ نہیں ہوتا، آپ کے مسلز تو اسی طرح رہتے ہیں۔ دل کے زندہ ہونے اور ذاکر ہونے سے مراد کوئی جسمانی حرکت نہیں ہے بلکہ وہ ایک باطنی حالت ہے کہ بیدار ہوگیا، پہلے خوابیدہ تھا اب بیدار ہوگیا۔ اللہ کے ساتھ حضوری میں چلا گیا۔ ۔ ۔ اللہ سے دوری ختم ہوگئی۔ ۔ ۔ بارگاہ الوہیت میں قربت نصیب ہوگئی۔ ۔ ۔ اللہ کی طرف سے غافل تھا، بیدار ہوگیا۔ ۔ ۔ اللہ کے احکام سے غافل تھا، اطاعت گزار ہوگیا۔ ۔ ۔ اللہ کی یاد سے غافل تھا، اس کی یاد سے دل بیدار رہنے لگا۔ ۔ ۔ اس میں تَیَقُّظْ آگیا۔ ۔ ۔ اس میں تَحَرُّزْ آگیا۔ ۔ ۔ اس میں تَنَبُّہْ آگئی۔ ۔ ۔ وہ تکبر و ریاء، نفاق، عجب سے بچ گیا۔ ۔ ۔ دل میں عاجزی آگئی۔ ۔ ۔ اب دل جب دیکھو، خدا کی دہلیز پر سجدہ میں رہتا ہے۔ ۔ ۔ ا ب جب دیکھو خدا کی یاد میں رہتا ہے۔ ۔ ۔ اب جب دیکھو دل، خدا کے مکھڑے کی طرف لگارہتا ہے۔ ۔ ۔ خدا کے حسن کو تکتا رہتا ہے۔ ۔ ۔ خدا کی محبت میں مگن رہتا ہے۔ ۔ ۔ اس سے دوری پر روتا رہتا ہے۔ ۔ ۔ اور اس کے دیدار و قربت کے لمحے کے لئے تڑپتا رہتا ہے۔ جو دل غفلت کی اس کیفیت سے نکل جائے اور خدا کے قرب و حضوری میں آجائے اس دل کو زندہ کہتے ہیں، یہی دل ذاکر ہوتا ہے۔

اس کی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ اگر آپ گاڑی میں سفر کر رہے ہوں اور سیدھے بیٹھے ہوں، اس دوران آپ کو اونگھ آ جائے اور آنکھ لگ جائے تو اس سے نیند ثابت ہو گئی اور آپ کو نہیں معلوم کہ کتنی دیر آنکھ لگی، مگر آپ کے بیٹھنے کا اندازہ یہ تھا کہ آپ اپنی سیٹ سے دائیں بائیں ڈھلکے نہیں اور نہ ہی گرے بلکہ بالکل سیدھے بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئی، جب آپ کی آنکھ کھلی تو آپ اب بھی وضو کے ساتھ ہیں، تازہ وضو کئے بغیر نماز ادا کر سکتے ہیں۔ فقہاء بیان کرتے ہیں کہ اس وقت تک اونگھ / نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک آدمی اتنا دائیں یا بائیں نہ ڈھلک جائے کہ اس کو اپنے اعضاء پر کنٹرول نہ رہے، اس کے زمین یا نشست سے ٹکے ہوئے اعضاء اٹھ نہ جائیں اور زمین اور اس کے مقعد کے درمیان خلاء نہ پیدا ہوجائے۔ اگر دائیں بائیں اتنا ڈھلک گئے کہ زمین یا نشست سے لگے ہوئے اعضاء وہاں سے الگ ہوگئے تو آپ کا وضو ٹوٹ گیا۔ اب وضو ٹوٹ جانے کا سبب اونگھ یا نیند نہیں ہے بلکہ غفلت ہے کہ جب آپ کے جسم پر غفلت طاری ہوئی تو آپ کو اپنے اعضاء پر کنٹرول نہ رہا اور ہوسکتا ہے کہ حالت غفلت میں وضو کو توڑنے والا کوئی سبب ظاہر ہوگیا ہو۔ کیونکہ اگر انسان جم کر بیٹھے رہے اور انسان کی باڈی اور زمین میں دائیں بائیں فاصلہ پیدا نہ ہو تو وضو کو توڑنے والا سبب واقع نہیں ہوتا اور اگر وہاں سے ہل جائیں تو معلوم نہیں کیونکہ آپ نیند میں تھے ہو سکتا ہے وضو ٹوٹ گیا ہو۔ پس وضو، نیند نے نہیں توڑا بلکہ غفلت کے اس سبب نے توڑا ہے۔

مقامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جب ایک عام انسان کا آنکھ لگنے کے بعد بھی وضو قائم رہ سکتا ہے اور نئے وضو کی ضرورت بھی نہیں ہے تو تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند سے آپ کا وضو کس طرح ٹوٹ سکتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو غفلت کبھی آئی ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو محض جسمانی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے آرام کرتے ہیں، ان کی نیند غفلت تو نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے حضور پیش ہو جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ارشاد فرماتے ہیں :

اَبِيْتُ عِنْدَ رَبِّیْ يُطْعِمُنِیْ وَيَسْقِيْنِیْ. (متفق عليه)

جب میں سوتا ہوں تو میں اللہ کی بارگاہ میں ہوتا ہوں وہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ میں رات اللہ کے حضور بسر کرتا ہوں۔ نیند میں لوگ سو جاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند میں اللہ کے حضور پیش ہو جاتے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسلسل روزے رکھتے تو آپ کی دیکھا دیکھی صحابہ کرام نے بھی صیام و صال (مسلسل روزے) شروع کر دیئے۔ صحابہ کمزور ہوگئے، رنگ پیلا ہوگیا اور مسلسل روزوں کی وجہ سے کئی صحابہ کرام سے نماز میں بھی کھڑا ہونے کی سکت نہ رہی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھ کر ان سے کمزوری کی وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کیا : آپ کو مسلسل روزے رکھتا دیکھ کر ہمیں بھی مسلسل روزے کی چاہت پیدا ہوئی لہذا ہم بھی مسلسل روزے رکھ رہے ہیں، اس کی وجہ سے کمزوری ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطریق جلال فرمایا :

اَيُّکُمْ مِثْلِیْ ’’تم میں کون ہے میری مثل‘‘۔

لَسْتُ مِثْلُکُمْ ’’میں تم میں سے کسی کی مثل نہیں ہوں‘‘۔

لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ ’’میں تم میں سے کسی کی ہئیت پر نہیں ہوں‘‘۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب مخاطبین کفار مکہ اور مشرکین تھے اور خطاب ابولہب و ابوجہل سے ہو رہا تھا ان سے فرما رہے تھے کہ

اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ. ’’میں تمہارے جیسا بشر ہوں‘‘۔

جب سامنے ابوبکر، عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم کھڑے تھے تو فرما رہے تھے کہ ’’تم میں سے کوئی میری مثل نہیں ہے‘‘۔ ۔ ۔ لوگ اس بیان میں الجھے ہوئے ہیں جو کفار و مشرکین کے لئے ہے اور اس بیان پر کبھی سوچا نہیں جو صحابہ کرام کو دیا۔ ۔ ۔ لوگ انما انا بشر مثلکم میں ہی الجھ گئے ہیں اور یہ نہیں سوچا کہ صرف یہ نہیں کہا بلکہ کسی کو یہ بھی کہا کہ لست مثلکم میں تم جیسا نہیں ہوں۔

ایسا کیوں ہے؟ ان دو باتوں میں فرق کیوں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کفار و مشرکین کو بیان کیا تو ان کی بولی میں کہہ دیا، جو کچھ وہ سمجھتے تھے انہی کی بولی بول دی۔ ۔ ۔ اور ابوبکر، عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم سے بات کی، جو ادب والے تھے تو ان کی بولی میں بات کر دی۔ ۔ ۔ لہذا دو راستے بتا دیئے کہ جو بشر مثلکم کے دھیان میں رہے وہ ابولہب و ابوجہل کے راستے پر ہے۔ ۔ ۔ اور جو لست مثلکم کے دھیان میں رہے وہ ابوبکر، عمر، عثمان و علی کے راستے پر ہے۔ ۔ ۔ مومنین کے لئے صحابہ کرام والا راستہ اور کافروں کے لئے ابو لہب و ابوجہل والا راستہ ہے۔

تعجب ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہوکر بھی بشر مثلکم پر اصرار کرے۔ پوری قرآن گواہ ہے کہ یہ تو بولی ہی کفار و مشرکین کی تھی۔ وہ تو کہتے تھے کہ ہم آپ کو کیوں مانیں آپ تو ہماری مثل بشر ہیں۔ ۔ ۔ بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں، ہماری طرح کھانا کھاتے ہیں، شادی بیاہ کرتے ہیں۔ ۔ ۔ انت بشر مثلنا... آپ ہماری طرح بشر ہیں، ان کی بولی یہ تھی لہذا ان کو بشر مثلکم فرمادیا کہ صورتاً بشر بنایا۔

گویا کفار کو صورت کی بات بتادی اور ان کو ظاہر صورت کا حوالہ دے کر ظاہراً مثلکم کہہ دیا۔ ۔ ۔ یہاں صحابہ کرام حقیقت والے تھے۔ انہیں حقیقی بات بتادی کہ لست مثلکم کہ کوئی میرے جیسا نہیں ہے۔ اُنہیں ظاہر میں گم کردیا اِنہیں باطن کی بات بتادی۔

بتانا یہ مقصود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو کبھی غفلت آئی ہی نہیں، عام انسان پر نیند آبھی جائے اور غفلت نہ آئے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کس طرح ٹوٹ سکتا تھا جن پر کبھی غفلت آئی ہی نہیں، یہ حیات قلبی ہے۔

غفلت اور موت کا خاتمہ

جب دل زندہ و بیدار ہوجائے اور دل کو بیداری نصیب ہو جائے تو اس پانچویں منزل پر آ کر غفلت اور موت اس پر ختم ہو جاتی ہے۔ لہذا اس پر غفلت بھی نہیں ہوتی اور اس پر موت بھی نہیں آتی۔ پھر اس کی موت نہیں ہوتی بلکہ اس کا وصال ہوتا ہے۔ ہماری موت فراق (بچھڑ جانا) ہوتا ہے اور اللہ والے کی موت فراق نہیں بلکہ وصال (مل جانا) ہوتا ہے۔

شیخ الاسلام عبداللہ الانصاری مزید فرماتے ہیں کہ پھر دل کی زندگی ایسی ہو جاتی ہے کہ وہ بندہ کو دائماً مراقبہ میں رکھتی ہے۔ مراقبہ سے مراد نگہبانی و نگرانی ہے۔ بندہ ہر وقت اپنے احوال کا نگہبان رہتا ہے اورجس کا دل زندہ ہو جائے تو اس پانچویں منزل پر اسے ہر وقت اللہ کی بارگاہ میں حضوری نصیب ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ صاف ظاہر ہے کہ جسے اللہ کی حضوری نصیب ہوئی ہے اسے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری کی حضوری ہی نصیب ہوتی ہے اس لئے کہ کچہری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہے، اللہ کی کوئی کچہری نہیں ہے۔ وہ کچہری ایک ہی دن لگائے گاجسے قیامت کا دن کہتے ہیں۔ پس کچہری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے اس لئے حاضری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری میں ہوتی ہے، وہی حاضری اللہ کی بارگاہ میں حضوری تصور ہوتی ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری میں حاضر ہو گیا وہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، وہ حضوری والا ہو گیا۔ ۔ ۔ اور پھر قلبی رغبت، قلبی بیداری، قلبی سجدہ ہے جو بندہ کو اللہ کی بارگاہ میں ہر وقت حاضر رکھتا ہے اور یہ حضوری اپنے احوال و اعمال پر بندے کو نگہبان و نگران رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں غفلت کی نیند سے نکالے اور بیداری عطا کرے، تَنَبُّہْ اور تَیَقُّظْ عطا کرے۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Sep 10, 2008



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau