[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > نومبر 2008 ء > فہم دین، توبہ اور آنسوؤں کی بستی۔۔۔۔ شہر اعتکاف اور عالمی روحانی اجتماع
ماہنامہ منہاج القرآن : نومبر 2008 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > نومبر 2008 ء > فہم دین، توبہ اور آنسوؤں کی بستی۔۔۔۔ شہر اعتکاف اور عالمی روحانی اجتماع

فہم دین، توبہ اور آنسوؤں کی بستی۔۔۔۔ شہر اعتکاف اور عالمی روحانی اجتماع

خصوصی رپورٹ

ماہ رمضان المبارک کی پرنور ساعتوں میں احیائے اسلام کی عالمی تحریک، تحریک منہاج القرآن کو حرمین شریفین کے بعد دنیا کے سب سے بڑے اجتماعی اعتکاف کے انعقاد کی سعادت حاصل ہے۔ اس شہر اعتکاف میں معتکفین حضرات کو فیضان غوثیت مآب حضور سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض و برکات اور عالم اسلام کی مقتدر روحانی شخصیت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی فکر انگیز اور ایمان افروز صحبت نصیب ہوتی ہے۔ اس نورانی ماحول میں ہر شخص اللہ تعالٰی کی بندگی اور محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ اس روح پرور فضا میں ذکر و اذکار کے ساتھ قرآن، حدیث، فقہ و تصوف اور تجدید و احیائے دین کی تعلیمات کا حسین امتزاج بھی پیش کیا جاتا ہے۔

تنہا اعتکاف میں بھی بے شمار ثمرات ہیں لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مل کر مسجد نبوی میں اعتکاف کرتے اور شب قدر کو تلاش کرنے کی تلقین فرماتے۔

تحریک منہاج القرآن نے اجتماعی اعتکاف کی اس سنت کو زندہ کر کے عالم اسلام میں نئے ایمانی جذبوں کی تحریک پیدا کر دی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مرکز حرمین شریفین کے بعد اسلام کی سب سے بڑی اعتکاف گاہ بن گیا ہے۔ اعتکاف کا مقصد تعلق باللہ، ربط رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، رجوع الی القرآن اور فکر آخرت پیدا کرنا ہے جو تنہا بیٹھنے کی بجائے اجتماعی اعتکاف کے ذریعے زیادہ موثر ہوتی ہے کیونکہ تنہائی، گوشہ نشینی الا ماشاء اللہ عام شخص کو انتشار خیالی اور غفلت کا شکار بھی کر دیتی ہے۔

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام اجتماعی اعتکاف میں دس دن ایک شیڈول کے مطابق پر کیف تلاوت، ذکر و اذکار، نعت خوانی، درس و تدریس کے حلقہ جات، نوافل اور وظائف کے ذریعے عبادت کے کئی روحانی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ اجتماعی اعتکاف ایک ایسا سنہری موقع ہے جس میں ہر سطح کے تحریکی کارکنان شریک ہوتے ہیں۔ اس دوران ان کی فکری و نظریاتی، اخلاقی و روحانی اور تنظیمی و انتظامی تربیت کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں دین اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں۔ گویا یہ اجتماعی اعتکاف تحریک کا دس روزہ تربیتی کیمپ ہوتا ہے فرزندان اسلام کو اللہ رب العزت کے حضور اجتماعی توبہ اور گریہ و زاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اس مرتبہ نظامت اجتماعات نے معتکفین کے لئے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے تھے۔ مرکزی اعتکاف گاہ کو جامع المنہاج کے علاوہ متصلہ گراؤنڈ تک پھیلا دیا تھا اور اقامت گاہ کو مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ انتظامات کو بروقت اور احسن انداز میں مکمل کرنے اور اعتکاف کے آخر تک شیڈول کے مطابق انعقاد پذیر رہنے کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن میں سیکیورٹی کمیٹی، الیکٹرک سپلائی اینڈ لائٹنگ، طعام کمیٹی، ساؤنڈ کمیٹی، واٹر سپلائی کمیٹی، فارنر کمیٹی، میڈیا کمیٹی، انعقاد حلقہ جات کمیٹی، ریکارڈنگ کمیٹی، VIP مہمان رابطہ و ڈیلنگ کمیٹی، ٹرانسپورٹ کمیٹی، معلومات آفس، شکایات سیل، سٹالز کمیٹی، نصاب کمیٹی، علماء و مشائخ رابطہ کمیٹی، نگرانی معمولات، میڈیکل ایڈ کمیٹی، سیل سنٹر کمیٹی، اور انٹرنیٹ کمیٹی شامل ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلی ڈاکٹر رحیق احمد عباسی اور سربراہ اعتکاف شیخ زاہد فیاض نے اعتکاف گاہ کے تمام انتظامات کو انتظامی کمیٹیوں کے سربراہان اور ممبران کے ذریعے حتمی شکل دی۔

اعتکاف میں مرکزی نظامت تربیت کے زیر اہتمام معتکفین کی تربیت کے لئے محترم پروفیسر سلیم احمد چودھری، محترم ڈاکٹر تنویر اعظم سندھو، محترم غلام مرتضیٰ علوی اور محترم عبدالرزاق چودھری کی زیر نگرانی 6 تربیتی حلقہ جات قائم کئے گئے۔ جن میں 1۔ تدریس عقائد 2۔ فقہی مسائل 3۔عرفان القرآن کورس 4۔ ترجمہ قرآن

5۔ منہاج ایجوکیشنز سوسائٹی کے اساتذہ کرام کے لئے تربیتی کیمپ

6۔ مصطفوی سٹوڈنٹ موومنٹ کے طلباء کے لئے تربیتی کیمپ شامل ہیں۔

ان کیمپوں میں تحریک کے مرکزی قائدین، نظامت دعوت، تربیت اور عرفان القرآن کورسز کے معلمین نے لیکچرز دیئے۔

شہر اعتکاف میں جملہ معتکفین و معتکفات کو باقاعدہ ایک شیڈول دیا گیا جس پر عمل کرنا ہر معتکف کے لئے ضروری تھا۔ اس شیڈول کے مطابق فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نماز رتہجد، نماز اشراق، نماز چاشت، اوابین اور دیگر نوافل کی ادائیگی کا ایک ماحول قائم تھا جس میں ہر معتکف ذوق و شوق کے ساتھ شریک رہا۔ علاوہ ازیں حلقہ ہائے درود، تربیتی حلقہ جات اور طاق راتوں میں محافل نعت کا خصوصی اہتمام بھی معتکفین کے ذوق عبارت، نورانیت و روحانیت کو جلا بخشنے کا ذریعہ بن رہے تھے۔ شہر اعتکاف کی تفصیلی رپورٹ نذر قارئین ہے :

20 رمضان المبارک

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام 18 ویں سالانہ شہر اعتکاف کا آغاز 21 ستمبر کو ہوا۔ تزکیہ نفس، فہم دین، توبہ اور آنسووں کی اس بستی میں متعکف خواتین و حضرات کی تعداد اس مرتبہ تقریباً 50 ہزار تک جا پہنچی۔ عالمی وملکی حالات اور دہشت گردی کے خوف و دہشت سے بے نیاز ہزاروں افراد اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے حصول کے لئے حضور قدوۃ الاولیاء پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی القادری کی روحانی و نورانی بارگاہ کے سائے تلے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سنگت سے بہرہ یاب ہونے والے ہزاروں معتکفین کا یہ اجتماع ہر پہلو اور ہر رنگ سے اپنی نظیر آپ تھا۔

نماز مغرب کے بعد ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے شرکاء کو باقاعدہ خوش آمدید کہا اور انتظامی امور پر ضروری بریفنگ دی۔ نماز تراویح کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خصوصی خطاب سے قبل تمام معتکفین کو خوش آمدید کہا۔

خطاب شیخ الاسلام

شیخ الاسلام نے حسب سابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالے سے شان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موضوع پر شہر اعتکاف میں افتتاحی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ آج کا دن حضرت علیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے۔ اس مناسبت سے ہم اپنے اعتکاف کا آغاز ’’یاد علی رضی اللہ عنہ‘‘ سے کر رہے ہیں۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے مطابق جتنی آیات قرآنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئیں اتنی کسی اور فرد کی شان میں نہیں۔

آج ہم اہل بیت کی محبت کا دم بھرنے والے طبقہ کو مخصوص ’’گروہ‘‘ قرار دینے کی عام روش کا جائزہ لیں گے۔ حُبِّ علی رضی اللہ عنہ کسی فرقے یا گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ جملہ اہل ایمان کا وطیرہ ہے۔ شان علی رضی اللہ عنہ، امام بخاری، امام مسلم، امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ رحمھم اللہ علیھم کا عقیدہ ہے۔ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی وہ شان بیان کی جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ان ائمہ کا تعلق اہلسنت سے ہے، لہذا یہی عقیدہ اہل سنت کا ہے۔ میرے عقیدہ کے بارے میں کوئی شش و پنج میں نہ پڑے۔

میں سنی، حنفی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا پیروکار ہوں اور قادری سلسلہ میرا مشرب ہے۔ غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ میرے شیخ اور مربی ہیں، اللہ کے فضل سے مرتے دم تک اسی عقیدہ پر قائم رہوں گا لیکن میں اہل بیت کا بھی خادم ہوں۔ شیعہ سنی اختلافات اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت ہیں مگر انہیں بڑھا چڑھا کر کفر اور ایمان کا مسئلہ بنا دینا معاصر تقاضوں اور عالم کفر کے مقابلے میں باہمی اتحاد کی ضرورت کو نقصان پہنچانے کی کاوش ہیں۔ یہ مسائل دراصل خارجیت کے پیدا کردہ ہیں۔ خارجی فتنہ کا آغاز بنو امیہ کے دور سے ہوا۔ آج تک یہ خارجیت کی لہر قائم ہے۔ یہی لوگ یزید کے پیروکار ہیں جو آج بھی موجود ہیں اور یہ دین میں رخنہ سازی کا کام کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کو پہچاننا اور پھر ان سے بچنا ہے۔ خارجیت سے متاثر ہو کر لوگوں نے حب علی رضی اللہ عنہ کو اہل تشیع اور حب صحابہ رضی اللہ عنہم کو اہلسنت سے جوڑ دیا اور یوں دو طرزِ فکر وجود میں آگئے۔ اس فتنہ نے امت کو گمراہ کیا ہے۔ آج ہمیں علم اور معتدل مزاجی کے ذریعے اس فتنہ کو ختم کرنا ہے، یہی فتنہ ہے جس نے اہلسنت اور اہل تشیع کو باہم متصادم کر دیا ہے۔

آج بھی خارجی فتنہ نے اہلسنت پر گردوغبار ڈال دیا۔ بعض دہشت گرد تنظیموں نے اس طرح واویلا مچایا کہ لوگ ڈر گئے کہ حب علی اور اہل بیت کا نام لیا تو نجانے کیا ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی محبت علی کا درس دیا۔

اپنے خطاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہونے والے اعتراضات کا علمی محاکمہ فرماتے ہوئے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہنے کے حوالے سے اعتراض کیا جاتا ہے جب کہ ایک مولوی صاحب بھی اپنے نام کیساتھ مولانا لکھتے ہیں، اگر انہیں مولانا نہ کہیں تو اس کسرِ شان سمجھتے ہیں مگر وہی حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ’’مولا‘‘ ہونے پر کیوں اعتراض کرتے ہیں؟ مولا کا لقب تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کو غدیر خم کے مقام پر عطا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مَنْ کُنْتُ مَوْلَاه فَعَلیٌ مَوْلَاه ’’جس کا میں مولا ہوں اْس کا علی مولا ہے۔‘‘

آج لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو "علیہ السلام" کہنے پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ یہ صرف خارجی ذہن کی پیداوار ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی، مجدد الف ثانی، امام قسطلانی سمیت دیگر مستند ائمہ حدیث سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کے نام کیساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھتے تھے۔ ہم ہر نماز میں اپنے اوپر سلام بھیجتے ہیں تو ہر نمازی علیہ السلام ہو گیا۔ ہمارے علیہ السلام ہونے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علیہ السلام ہونے پر شک اور اعتراض ہے۔ یہ وہ خانوادہ ہے جس کے دم سے دنیا کو ہدایت نصیب ہوئی۔ آپ مہدی و ہادی ہیں جن کے قدموں سے دنیا کو ہدایت نصیب ہوئی کیا وہ علیہ السلام نہیں ہو سکتے ؟ یہ کہنا صرف خارجی فتنہ ہے۔ جس نے آج امت کو مختلف گروہوں میں تقسیم دیا ہے۔

اہل بیت اطہار علیھم السلام کے بارے میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو فرمایا کہ میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسری میری اہل بیت۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں اور ان سے پیار کرنا۔

منہاج القرن آج دنیا میں واحد عالمی تحریک ہے جو اہل بیت کی محبت اور صحابہ کی محبت کا سنگم ہے۔ جو امت میں خارجی فتنہ کے خلاف شعور بیدار کر کے قیام امن کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہمارا مقصد جوڑنا ہے توڑنا نہیں۔ ان شاء اللہ وہ وقت جلد آئے گا جب امت دوبارہ اتفاق و اتحاد کا پیکر ہوجائے گی۔

21 رمضان المبارک

نماز تہجد، سحری اور نماز فجر کے بعد معتکفین تلاوت و انفرادی ذکر میں نماز اشراق تک مصروف رہے۔ نماز اشراق کے بعد نماز چاشت تک آرام کرنے کے بعد تمام معتکفین نے نماز چاشت ادا کی۔ اس روحانی و نورانی ماحول کی کیفیات سے بہرہ مند ہونے کے لئے ہر طرف وعظ و نصیحت ذکر و اذکار کی مختلف انفرادی اور گروہی مجالس کا سلسلہ نماز ظہر تک قائم رہا۔

طوفانِ باد و باراں

نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد الگ الگ اجتماعی تربیتی حلقہ جات کا انعقاد شروع ہوا۔ ان تربیتی حلقہ جات میں ’’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی و تجدیدی خدمات‘‘ کے موضوع پرمحترم رانا محمد ادریس۔۔۔ ’’عرفان القرآن کورس (تصحیح تلاوت)‘‘ کے موضوع پرسعید رضا بغدادی (پہلا لیکچر)۔۔۔ ’’ترجمہ عرفان القرآن‘‘ کے حوالے سے سید منور علی کاظمی شاہ (پہلا لیکچر) نے لیکچرز دیئے۔

ابھی یہ حلقہ جات ہو ہی رہے تھے کہ اچانک تیز ہوا اور آندھی چلنا شروع ہوئی جس میں لمحہ بہ لمحہ شدت آتی گئی اور ساتھ ہی موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا اس ناگہانی صورتحال کی بناء پر تمام انتظامی تدابیر رب کائنات کی تقدیر کے سامنے بے بس نظر آئیں اور اعتکاف گاہ میں واقع جامع المنہاج کے صحن کی عارضی آہنی چھت منہدم ہوگئی۔ انتظامیہ نے حفاظتی تدابیر کے تحت فوری ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔

معتکفین نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکاران، انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کے ساتھ مل کر اس ناگہانی صورت حال پر قابو پایا۔ بارش کا یہ سلسلہ نماز مغرب تک جاری رہا۔ چھت گرنے سے صرف تین افراد معمولی زخمی ہوئے جنہیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرانتظام میڈیکل کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔ تاہم اس دوران تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والا ایک معتکف محمد سلیمان شہید ہوا۔ جس کی نماز جنازہ اگلی صبح شیخ الاسلام نے خود پڑھائی جس میں شہر اعتکاف میں موجود ہزاروں معتکفین نے شرکت کی۔

طوفان باد و باراں اور اعتکاف گاہ میں پانی بھر جانے کا ناخوشگوار تجربہ اس شدت سے پہلی بار ہو رہا تھا۔ حالات دیکھ کر سمجھا جا رہا تھا کہ اب بہت سے لوگ ہمت ہار جائیں گے اور سخت موسم سے گھبرا کر شاید گھروں کو لوٹ جائیں مگر ان بوڑھے اور جوان معتکف خواتین و حضرات کے جذبوں کو سلام جنہوں نے اس مشکل کو آزمائش سمجھ کر نہ صرف برداشت کر لیا بلکہ خندہ پیشانی سے معمولات جاری رکھے۔

نماز عشاء اور نماز تروایح کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا خصوصی خطاب شروع ہوا۔ جملہ معتکفین دن بھر کے تمام واقعات کو بھلا کر اس خطاب کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش تھے۔

خطاب شیخ الاسلام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب کی دوسری نشست میں نہج البلاغہ سے درس تصوف دیا۔ نہج البلاغہ کا تعارف کراتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ وہ تصنیف ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کو جمع کیا گیا ہے۔ آپ نے بتایا کہ پہلی تین صدیوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطابات تحریر ہوتے رہے تھے۔ یہ کتاب اہل تشیع کے نزدیک وہی درجہ رکھتی ہے جو ہمارے ہاں صحاح ستہ کا درجہ ہے۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ ’’اے دنیا میرے سامنے سے دور ہو جا‘‘۔ اس سے مراد وہ دنیا ہے جو بندے کو ذلیل کر دیتی ہے۔ دنیا بہت قلیل اور انسان کا سفر بہت طویل ہے، اس لیے اے انسان تو اس دنیا میں نہ کھو، تیرا سفر طویل ہے، کہیں ادھورا نہ رہ جائے۔۔۔ لوگو! زاہدوں والی زندگی بسر کرو۔ زاھد وہ ہوتا ہے جو دنیا میں رہتا ہے لیکن دنیا اس میں نہیں رہتی۔۔۔ جو شخص خواہشات نفس سے پاک ہو جاتا ہے وہ صوفی بن جاتا ہے۔ خواہشات نفس کی دوری اسے جنت کے قریب کر دیتی ہے، دوسری طرف خواہشات نفس کے تابع ہونے والا جنت سے دور ہو جاتا ہے۔ اگر انسان کو جہنم کا خوف ہو تو وہ حرام سے بچتا ہے۔ اس لیے آپ بھی اگر جہنم سے ڈرتے ہیں تو اپنی زندگی میں حرام نہ داخل ہونے دیں۔ امید ایک سراب ہے جس نے ہمیں مایوس اور دکھی کردیا ہے لہذا لوگو اللہ کے سوا کسی اور سے امید نہ رکھنا۔ جب امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو ماں باپ کا بھی دل ٹوٹ جاتا ہے کہ اولاد نے توقعات پوری نہیں کیں۔ اس کے برعکس صوفی کسی سے امید نہیں رکھتا اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اللہ کے لیے کرتا اور اسی سے ہی امید رکھتا ہے۔

اے انسان! جھوٹی امیدوں سے بچ، اس امید نے ہی تجھے ناامید کر دیا ہے اور حقیقت میں امید ہی وہ شے ہے جو بندے کو ناامید کر دیتی ہے۔ اس لیے بندے! تو اللہ پر امید رکھ جو کبھی ناامید نہیں کرتا۔ اللہ پر امید رکھ کر سب امیدیں توڑ دو تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اولیاء و صوفیاء کرام کے ہاں یہی تصوف اور یہی تعلیمات ہیں۔ کشف المحجوب، عوارف المعارف، احیاء علوم الدین، رسالہ قشیریہ، طبقات سلمی، قوت القلوب، غنیتہ الطالبین اور فتوح الغیب سمیت کل اولیاء کی معتبر کتب میں یہ درس ہے کہ بندے کو صرف اللہ سے ہی امید رکھنی چاہیے۔

تصوف اللہ سے کٹے ہوئے بندوں کو اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔ اللہ سے دوری کو ختم کر دیتا ہے۔ پتھر جیسے دلوں میں رقت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر تصوف بندے کو گدا سے شاہ بنا دیتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن اور شہر اعتکاف تصوف کی وہ بستی ہے جہاں گدلے دلوں کو روحانیت کے فیض سے دھویا جا رہا ہے۔ یہ ایک دھوبی گھاٹ ہے جہاں ہر کوئی آ کر اپنے من کو اجلا کر سکتا ہے۔ شہر اعتکاف میں کوئی معتکف یہ مت سمجھے کہ اس نے منہاج القرآن میں آکر اعتکاف بیٹھ کر کسی پر احسان کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سوچ گناہ ہے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے آپ کو اپنے گھر کے لیے مہمان منتخب کیا۔ آپ دس دن اللہ کے مہمان ہیں تو یہ صرف اسی کا ہی کرم ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی ایسی سوچ دلوں سے نکال کر اصلاح احوال کی طرف لگانی چاہیے۔

22 رمضان المبارک

روٹین کے معمولات کی انجام دہی اور معتکفین کے ہر گزرتے لمحہ کیف و سرور میں اضافہ کے ساتھ شہر اعتکاف اپنے کمال کی حدوں کو چھو رہا تھا نماز ظہر کے بعد مختلف حلقہ جات کا آغاز ہوا۔

ان حلقہ جات میں ’’تحریک منہاج القرآن کی عالمگیر جدوجہد‘‘ کے موضوع پر محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی۔۔۔ ’’عرفان القرآن کورس (تصحیح تلاوت)‘‘ کے موضوع پر سعید رضا بغدادی (دوسرا لیکچر)۔۔۔ ’’توحید اور شرک (تصحیح عقائد)‘‘ کے موضوع پر ارشاد حسین سعیدی۔۔۔ ’’ترجمہ قرآن‘‘ کے حوالے سے حافظ نصیر احمد نوری۔۔۔ ’’فقہی مسائل پر محترم عبدالقیوم ہزاروی‘‘۔۔۔ ’’ہم نئی نسلوں کو مشن کیسے منتقل کریں‘‘؟ (منہاج ایجوکیشنز سوسائٹی کے اساتذہ سے) کے موضوع پر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خصوصی گفتگو کی۔

نماز عشاء کے بعد منہاج القرآن یوتھ لیگ کی طرف سے محفل نعت کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں محترم اختر حسین قریشی، محترم قاری نجم مصطفیٰ، منہاج نعت کونسل، محترم شکیل احمد طاہر، محترم محمد شہزاد اور محترم محمد افضل نوشاہی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کیں۔ بعد ازاں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب فرمایا۔

خطاب شیخ الاسلام

22 رمضان المبارک کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے "انسانی حقوق اور امن عالم کا تصور" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں سلامتی اور امن کا دین ہے اور اسلام میں دہشت گردی کا تصور بالکل نہیں ہے۔ آج جو لوگ بم دھماکوں یا کسی دوسرے طریقے سے دنیا میں دہشت گردی کر رہے ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔ دنیا کا امن خراب کرنے والے دہشت گرد ہیں، جن کا خواہ مخواہ اسلام سے ناطہ جوڑا جا رہا ہے۔ حقیقت میں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مسلمان وہ ہیں جن کے عمل سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی محفوظ و مامون رہیں۔ جو شخص انسانیت کا خون بہائے وہ مسلمان نہیں اور نہ اسلام کی تعلیمات ایسی دہشت گردی کی اجازت دیتی ہیں۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب انسانیت کے قتل اور تباہی کی اجازت نہیں دیتا۔ دہشت گرد لادین اور بے مذہب ہیں۔ بدقسمتی سے آج نام نہاد سامراجی طاقتیں اسلام کے چہرے پر دہشت گردی کا لیبل تھوپ رہی ہیں۔ اسلام وہ دین ہے جس کی تعلیمات برداشت، تحمل، بردباری اور کلی امن کا درس دیتی ہیں۔ سورہ النساء میں ارشاد فرمایا :

وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًاO

’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہو o‘‘۔

اس آیت کریمہ کی روشنی میں مسلمانوں کو اپنے والدین سے لے کر معاشرے کے ہر طبقے کے ساتھ حسن سلوک اور بہتر اخلاق سے پیش آنے کا درس دیا گیا ہے۔

مومن کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ امن فراہم کرنے والا ہے یعنی مومن وہ ہے جس سے مسلمانوں کے ساتھ یہودی، عیسائی، نصرانی، کافر اور غیر مذاہب بھی محفوظ رہیں۔ ایمان کی جڑ امن ہے۔ ایمان امن سے نکلا ہے۔ جس کے پاس امن نہیں ہے تو اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔

اسلام میں صوفیاء کی تعلیمات بھی ہمیشہ امن سے معمور رہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام سب سے زیادہ صوفیاء کی تعلیمات تصوف و امن سے پھیلا۔ وہ تعلیمات کیا تھیں؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی مجلس میں بیک وقت مسلمان، ہندو اور سکھ سمیت دیگر مذاہب کے لاکھوں لوگ شرکت کرتے اور ان کا وعظ سنتے تھے۔ غور طلب مقام یہ ہے کہ آج کسی مولوی صاحب کی مجلس میں کتنے غیرمسلم شریک ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ صوفیاء کرام نے امن کی تعلیمات عام کر کے انسانیت سے پیار کرنا سکھایا۔ انہوں نے انسانیت سے بھلائی اور محبت سکھائی، جس سے متاثر ہو کر ایک ایک مجلس میں کئی کئی لاکھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔

یہ صوفیاء کرام کی مخلصانہ تعلیمات و کرامات تھیں کہ اسلام اس انداز میں پوری دنیا میں پھیلا کہ کوئی شخص اس قدر بڑی تعداد میں غیر مذاہب کو اپنی تعلیمات سے متاثر نہیں کر سکتا۔ صوفیاء کرام کے پاس نفرت نہ تھی۔ ان کے پاس پیار، وعظ، برکت، کرامت، علم، خوش اخلاقی اور امن کی تلواریں تھیں، جن کے ذریعے انہوں نے پیغام امن کو عام کر کے اسلام کا سب سے بڑا جہاد کیا۔ وہ جہاد بالسیف کے منکر نہیں تھے لیکن اسے آخری حربہ سمجھتے تھے، پہلے خوش اخلاقی اور امن کے ہتھیاروں سے دوسروں کے دل موہ لیتے تھے۔ یہ سب پیغام امن تھا جو آج کے دور میں ناپید ہو رہا ہے۔

آج تحریک منہاج القرآن نے ایک بار پھر اس پیغام امن کا آغاز کیا ہے۔ تحریک منہاج القرآن پرانی صدیوں کی تحریک ہے، جو اس دور میں بپا ہوئی ہے اور اس کا جام نیا ہے۔ ہم انہی صوفیاء کرام کی تعلیمات امن و محبت کو دنیا میں عام کر رہے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے تحریک منہاج القرآن ہر سال شہر اعتکاف کی صورت میں دس روزہ تربیتی کیمپ منعقد کرتی ہے۔ یہاں دہشت گردی اور انتہاء پسندانہ نظریات کو کچلنے کے لئے صوفیاء کی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کو تحمل، برداشت اور بردباری کے علاوہ احسان، ایمان اور امن کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ صوفیاء کرام کی تعلیمات کے اس تسلسل کی بحالی ہے جس کا ربط اس زمانہ میں ٹوٹ گیا تھا۔ اب تحریک منہاج القرآن اس ربط کو دوبارہ بحال کر کے دنیا میں پھر سے قیام امن کی کوششیں کر رہی ہے۔ منہاج القرآن کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں۔ ہم دنیا میں قیام امن کے لئے دہشت گردی کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ منہاج القرآن کا پیغام امن اور سلامتی ہے۔

23 رمضان المبارک

تہجد، سحری اور نماز فجر کی ادائیگی معمول کے مطابق ہوئی۔ بعد از نماز فجر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے معتکفین سے قرآن فہمی کے حوالے سے خصوصی گفتگو فرمائی۔ بعد ازاں تسبیحات، نماز اشراق، آرام، نماز چاشت اور نماز ظہر کی ادائیگی کے نظامت دعوت، نظامت تربیت، فقہی نشست اور دیگر حلقہ جات کا انعقاد ہوا جس میں معتکفین نے اپنے حسب حال اور خواہش کے مطابق شرکت کی۔

ان حلقہ جات میں توحید اور استعانت (تصحیح عقائد) کے موضوع پر صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی۔۔۔ عرفان القرآن کورس (تیسرا لیکچر) کے موضوع پر سعید رضا بغدادی۔۔۔ ترجمہ قرآن کے حوالے سے نصیر احمد نوری۔۔۔ فقہی مسائل (نشست دوم) مفتی عبدالقیوم ہزاروی۔۔۔ شیخ الاسلام کا روحانی مقام اور ہماری ذمہ داریاں (مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے طلباء سے) کے موضوع پر شیخ زاہد فیاض اور موثر تدریس کی حکمت عملی (MES کے اساتذہ کے لئے) کے موضوع پر پروفیسر محمد رفیق سیال نے لیکچرز دیئے۔

نماز عصر کی ادائیگی کے بعد بیرون ممالک سے آئے معتکفین کے لئے نظامت امور خارجہ نے شیخ الاسلام کے ساتھ افطاری کا خصوصی اہتمام کیا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کویت کے سابق امیر محترم محمد یوسف بختاور، برطانیہ سے ڈاکٹر زاہد، شاہد مرسلین، امیر تحریک محترم مسکین فیض الرحمن درانی، ناظم اعلیٰ محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ محترم شیخ زاہد فیاض اور تحریک منہاج القرآن کے دیگر مرکزی قائدین بھی یہاں موجود تھے۔ اس موقع پر شیخ الاسلام نے اظہار خیال کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن کی بیرون ممالک تنظیمات کے کردار کو سراہا۔

نماز عشاء اور نماز تراویح کے بعد شیخ الاسلام نے انسانی حقوق کے موضوع پر خصوصی خطاب کا آغاز فرمایا۔

خطاب شیخ الاسلام

اسلام، دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ دنیا کے کسی بھی مذہب میں اسلام سے بڑھ کر انسانی حقوق کی حفاظت نہیں کی گئی۔ اسلام بچے کی پیدائش سے قبل انسانی حقوق شروع کرتا ہے اور اس کی موت کے بعد تک اس کی حفاظت کرتا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو قرآن نے اس کو دودھ پلانے تک کی مدت کا ذکر کیا۔ آج یورپی دنیا میں معاشرہ نہ صرف تہذہبی سطح پر ٹوٹ رہا ہے بلکہ وہاں عائلی روایات بھی دم توڑ رہی ہیں۔ خاندان کے تمام لوگ ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتے جا رہے ہیں۔ آج یورپ کے اکثر ممالک میں یہ صورتحال ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو ان کی بالغ العمری سے قبل ہی علیحدہ کر رہے ہیں۔ بچے پارٹ ٹائم جاب کر کے اپنے سکول کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ماں، باپ، بیٹے اور بیٹی کی باہمی محبت ختم ہو گئی ہے۔ دوسری طرف اسلام کی روایات اس کے برعکس ہیں اور اس نے اجتماعی معاشرہ کی نہ صرف تلقین کی ہے بلکہ عائلی و خاندانی نظام کی پختگی پر بھی بڑا زور دیا ہے۔

آج نام نہاد مغربی مفکرین صرف دہشت گردی کے نام پر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دنیا کا پرامن ترین مذہب ہے جس میں کسی کی دل آزاری کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ اس صورتحال میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کا پرامن چہرہ پیش کریں۔ اس کے لیے بیرون ملک مقیم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک باسیوں کو بھی ذمہ داری سے کام کرنا ہو گا۔ اس کا بہترین حل تعلیم اور شعور کی بیداری ہے۔ اس شعور کی بیداری کے لیے تحریک منہاج القرآن کام کر رہی ہے۔ منہاج القرآن دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف ہے۔ ہم کسی بھی سطح پر ہونے والی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی مذمت کرتے ہیں۔ دہشت گرد اور انتہا پسند، نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔

اسلام نے بچے اور عورتوں سمیت معاشرہ کے ہر طبقہ کے حقوق کی ترجمانی کی اور حفاظت کی ہے۔ اسلام وہ دین ہے جس نے زندوں کے حقوق کی حفاظت کے علاوہ مُردوں کو بھی حقوق دیئے ہیں۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اسلام نے اس کی تدفین اور اس کے بعد کی رسومات کا ایک طریقہ کار مقرر کر رکھا ہے تاکہ کسی بھی انسان کی میت کی بے حرمتی نہ ہو۔ اس کے لیے جنازہ وہ عمل ہے جو صرف مسلمانوں کے پاس ہے اور کسی مذہب میں مردہ کو اس شان سے دفن نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ تعلیمات صرف اسلام نے دی ہیں۔

24 رمضان المبارک

روزانہ معمولات کی ادائیگی اور نماز ظہر کے بعد حلقہ جات کا انعقاد عمل میں آیا۔ ان حلقہ جات میں توحید اور توسل (تصحیح عقائد) کے موضوع پر علامہ محمد فیاض بشیر۔۔۔ عرفان القرآن کورس (چوتھا لیکچر) کے موضوع پر سعید رضا بغدادی۔۔۔ ترجمہ قرآن کے حوالے سے سید منور علی کاظمی۔۔۔ فقہی مسائل (نشست سوئم) محترم مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی۔۔۔ امت مسلمہ پر طاغوتی یلغار اور طلباء کے لئے نئے زاویے (مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے طلباء کے ساتھ) کے موضوع پر محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے اظہار خیال کیا۔

شہر اعتکاف میں دار الاحسان سے آئے علماء کرام کے وفد کی شیخ الاسلام کیساتھ افطار پارٹی اور خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ ان تمام معزز مہمانوں کو نظامت دعوت کے نائب ناظم سید منور شاہ کاظمی نے منہاج القرآن علماء کونسل کے تعاون سے یہاں مدعو کیا تھا۔ اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مختصر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دارالاحسان کے بانی صوفی برکت علی غفرلہ منہاج القرآن سے بڑی محبت اور پیار کرنے والے تھے۔ درالاصل دار الاحسان اور منہاج القرآن دونوں ایک ہی فکر کے پلیٹ فارم ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو صوفی برکت علی بھی کہتے تھے اور آج میں بھی اس کی تصدیق کر رہا ہوں۔ دار الاحسان کے علماء کرام و عقیدت مندوں کے لیے منہاج القرآن کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔

نماز تراویح کے بعد شیخ الاسلام کے خطاب سے قبل طاق رات کی مناسبت سے محفل نعت کا آغاز پروفیسر قاری محمد مشتاق احمد نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ بعد ازاں ثناء خوانان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہاج نعت کونسل، بلالی برادران، شہزاد برادران، حافظ عنصر علی قادری، حکیم محمد عارف اور پیر حبیب اللہ سلومی سمیت دیگر نعت خوانوں نے بھی مدح سرائی کی۔ محفل نعت کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ’’اسلام میں انسانی حقوق‘‘ کے حوالے سے خصوصی گفتگو فرمائی۔

خطاب شیخ الاسلام

اسلام یتیموں، مساکین اور فقراء کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کسی بھی مذہب نے محروم طبقات اور غریبوں کی کفالت کا ذمہ نہیں لیا۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک کی متعدد آیات میں غریبوں اور یتامیٰ سمیت فقراء اور معاشرے کے محروم و مقہور طبقات کا ذکر کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس گھر میں یتیم ہو اللہ کی اس گھر پر رحمت ہوتی ہے۔ اس لیے یتیم کی کفالت کرنا وہ عبادت ہے جس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔ اللہ تعالٰی نے یتیم اور مساکین کے حقوق ان تک لوٹا دینے کا کہا ہے لیکن ان کو لوٹانے اور انہیں ادا کرنے کا ایک طریقہ ہونا چاہیے۔

انسانی حقوق کی سب سے بڑی دعویدار مغربی دنیا آج بھی اسلام کے مقابلہ میں وہ حقوق نہیں دے سکی جو یتامیٰ کا حق ہیں۔ اس کی وجہ اسلام کی وہ عالمگیر تعلیمات ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہیں۔ یتیموں کے حقوق کے لیے قرآن پاک میں واضح حکم دیا گیا کہ یتامیٰ کی بہتر طریقے سے کفالت کرو۔ اسلام اصل میں یتامی اور مساکین کے لیے ایک امتحان بھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اصحاب صفہ وہ غرباء تھے جو دین کی تعلیم سیکھنے کے لیے صفہ میں مقیم تھے۔ اسلام نے یتیموں کی کفالت کو احسن انداز میں کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس کی عزت نفس بھی نہ مجروح ہو۔ اس کے لیے بہت سے ادارے ملک بھر میں کام کر رہے ہیں۔ تحریک منہاج القرآن نے اس حکم قرآنی کے پیش نظر منہاج ویلفئیر فاونڈیشن کے زیراہتمام آغوش نام سے وہ ادارہ بنایا ہے جو یتامیٰ اور غریبوں سمیت معاشرے کے محروم و مقہور طبقات کی خدمت کر رہا ہے۔ آج ملک بھر میں ایسے اداروں کے قیام اور اس طرح کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی مسکین اور یتیم کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔

ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے کاروبار میں سے یتامیٰ اور مساکین کا حصہ نکال کر رکھیں۔ اللہ تعالٰی نے اسے وہ عبادت قرار دیا ہے جو نماز، حج سے بھی افضل ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس سے نماز، روزہ اور دیگر عبادات کو بھی قبولیت ملتی ہے۔ اگر یہ عمل ادھورا رہ گیا تو اللہ کو ہماری نمازوں، نوافل سمیت دیگر عبادتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے اس مقصد کے لیے آغوش کا منصوبہ شروع کیا ہے جس میں لاوارث اور یتیم بچے زیر کفالت ہیں اور مستقبل میں کروڑوں کی لاگت سے اس کی نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ ہم معاشرے کے محروم و مجبور طبقات کو ان کے حقوق لوٹا کر دم لیں گے۔ اس کام کے لیے ہمیں یہ پیغام دنیا بھر میں عام کرنا ہو گا تاکہ کوئی یتیم بے سہارا نہ رہ جائے۔

25 رمضان المبارک

باقاعدہ معمولات کی ادائیگی کے بعد جمعۃ الوداع کے حوالے سے تیاریوں کا آغاز شروع ہوگیا۔ جمعۃ الوداع کی محفل نعت اور شیخ الاسلام کے خصوصی خطاب کو کیو ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل کے ذریعے دنیا بھر میں براہ راست نشر کیا گیا۔

جمعۃ الوداع پر خصوصی خطاب

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے جمعۃ الوداع کے موقع پر "اسلام کے تصور امن میں اقلیتوں کے حقوق" پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام اقلیتوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اس کے باوجود عالم مغرب میں اسلام کا تصور درست نہیں ہے۔ مغرب والوں نے اسلام پر دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر اسے مزید دھندلا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے عالم مغرب میں اسلام کے دین امن، تحمل، برداشت اور معتدل دین ہونے کے تصور پر غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ اس کے داخلی، خارجی، سیاسی، تہذیبی، ملکی اور بین الاقوامی سمیت معتدد کئی اسباب ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہر قسم کی انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے پاک ہے۔ اسلام بندوق کی نوک پر کسی کو مسلمان نہیں کرتا بلکہ ہر مذہب کے پیروکاروں کو اجازت ہے کہ وہ اپنے دین پر رہیں۔ ارشاد ربانی ہے :

لَکُمْ دِيْنُکُمْ وَلِیَ دِيْن. (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے۔ (الکافرون : 6)

قرآن مجید میں سورہ کافرون Freedom of Religious Rights پر ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات انسانی کے وہ عظیم اور برتر رہبر تھے جنہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے انسانیت کو وہ احیاء بخشا جو کسی اور پیغمبر اور اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کے حصہ میں نہیں آیا۔ ایک طرف مغربی مفکرین بغض اور حسد کی عینک پہن کر اسلام پر انتہاء پسندی اور دہشت گردی جیسے الزامات تھوپ رہے ہیں۔ دوسری طرف پروفیسر ہیٹی جیسے مفکرین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اسلام دین امن ہے اور اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے اور مسلمان کسی پر اپنا مذہب مسلط نہیں کرتے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کائنات انسانی کا پہلا امن معاہدہ جو میثاق مدینہ کے نام سے ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کیساتھ کیا۔ یہ معاہدہ عالمی قیام امن کی عظیم مثال ہے۔ دنیا کے اس پہلے تحریری دستور میں آقا علیہ السلام نے یہود کے کلچر، ثقافت، مذہب اور سیاست سمیت دیگر شعبوں کو تحفظ دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آقا علیہ السلام نے یہ سب کچھ اس وقت کیا جب آپ اقتدار میں تھے اور ریاست مدینہ کے سربراہ تھے۔ اس معاہدہ کے بعد آپ نے ثابت کر دیا کہ کائنات میں دین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے امن کی بنیاد رکھی۔ آج اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ جنگ و جدل سے دنیا میں پھیلا۔ یہ سراسر غلط تاثر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سالہ مدنی زندگی ہے اور اس میں ایک بھی جنگ ایسی نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دشمن پر پیشگی حملہ آور ہو کر لڑی ہو۔ تمام جنگیں مسلمانوں پر مسلط کی گئیں اور آپ نے اپنے بارڈر پر دفاع کے لیے تمام جنگیں لڑیں۔ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ خندق اس کی مثالیں ہیں۔ آج مغربی دنیا جو غلط فہمیوں کی بنیاد پر اسلام کو جنگوں کا دین قرار دیتی ہے، اس حقیقت سے ناواقف ہے۔ آج صرف اسلام دشمنی کی وجہ سے مغربی مفکرین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پر امن سیرت مبارکہ پر ایسے داغ لگاتے ہیں جو سراسر غلط اور جانبدارانہ تصور ہے۔

صلح حدیبیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام امن کے لیے اپنا عمرہ ادھورا چھوڑ دیا۔ جب صحابہ کرام احرام باندھ کر مکہ مکرمہ کی طرف عازم سفر ہوئے تو راستہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف قیام امن کے لیے صلح حدیبیہ کر لیا۔ اس معاہدہ امن کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کیساتھ احرام اتار کر عمرہ کیے بغیر واپس آ گئے اور بغیر عمرہ ادا کیے ہی وہیں قربانیاں دیدیں۔ یہ معاہدہ خالصتا کفار کے حق میں تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف امن کی خاطر ایسا کیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اقلیتوں اور غیر مسلموں کو مذہبی آزادی دی۔ نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ وہ آج سے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج سے اسلام ان کے گرجا گھروں، ان کی عبادت گاہوں، ان کی ثقافت سمیت ان کی ہر چیز کی حفاظت کریگا۔ اسلام ان کے پادریوں، راہبوں کو ان کے مناصب سے نہیں ہٹائے گا اور ان کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی اجازت ہے۔ مسلمان حکومت انہیں تحفظ دے گی۔ اس کے علاوہ جب نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہمان بنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مسجد نبوی میں ٹھہرا کر انہیں اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کی اجازت دی۔

اسی طرح جب حبشہ سے ایک وفد مسلمانوں کا مہمان بنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ ان کی خاطر تواضع کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے انہیں کھانا کھلایا۔

آج کچھ لوگ اسلام کیخلاف سازش کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام واحد دین ہے جس نے سب سے پہلے غیر مذاہب کے لوگوں کی کفالت کا ذمہ لیا۔ آپ کے دور میں صدقہ و خیرات غیر مسلموں کو بھی دیا جاتا۔ امہات المومنین میں سے حضرت ام صفیہ رضی اللہ عنھا کے یہود رشتہ دار تھے جن کو انہوں نے 30 ہزار درھم مالیت کا مال بطور صدقہ دیا۔ اس کے علاوہ صحابہ کرام، عیسائی راہبوں کو بھی صدقہ و خیرات بھیجتے تھے۔ ریاست مدینہ میں غیر مسلموں میں سے کوئی شہری بڑھاپے، بزرگی یا کسی اور وجہ سے کام سے ناکارہ ہو جاتا تو اسلام کے قانون کے مطابق اسے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا جاتا۔ اس کے بعد اسے ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام تو ایک فرد کے قتل کی اجازت نہیں دیتا تو انسانیت کے قتل کو کس طرح جائز قرار دے سکتا ہے ؟ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی ایک رویہ ہے جس میں امریکی، برطانوی، انڈینز، جاپانی اور چینی بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ تحریک منہاج القرآن اس صدی کی وہ تحریک ہے جس نے مذاہب عالم اور اسلام کے درمیان مفاہمت کے لیے ایک پل کا کام کیا ہے۔ یہ وہ تحریک ہے جس نے مصطفوی انقلاب کے اعلان سے دہشت گردی کیخلاف اعلانیہ جنگ کا اعلان کیا۔ ہم دنیا کو امن کا پیغام دے رہے ہیں۔ امن کی طرف لا رہے ہیں۔ لوگو! آؤ آج دین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سمجھو اور یہی تحریک منہاج القرآن کا پیغام ہے۔

٭ جمعہ کی نماز کے بعد حلقہ جات کا آغاز ہوا۔ ان حلقہ جات میں منہاج القرآن کی مرکزی ویب سائٹس کا تعارف عبدالستار منہاجین نے پیش کیا۔۔۔ فقہی مسائل (نشست چہارم) محترم مفتی عبدالقیوم ہزاروی۔۔۔ تعلیمی اداروں میں موومنٹ کا کام اور ہماری حکمت عملی کے حوالے سے محترم ساجد گوندل نے گفتگو کی۔

نماز عصر کے بعد منہاج القرآن یوتھ لیگ اور مصطفوی سٹوڈنٹس کے ملک بھر سے آئے معتکفین عہدیداران کی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کیساتھ افطاری کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ امسال سینکڑوں طلبہ نے شہر اعتکاف میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، منہاج یوتھ لیگ اور ایم ایس ایم کی مرکزی قائدین بھی موجود تھے۔ شیخ الاسلام نے منہاج یوتھ لیگ اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے آئے معتکف طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ نوجوان اور طلبہ تحریک منہاج القرآن کا پیغام مزید بہتر انداز میں دنیا تک پہنچائیں۔ نوجوان اور طلبہ تحریک منہاج القرآن کا سرمایہ ہیں۔

نماز تروایح کے بعد ایرانی قرآء کیساتھ محفل قرآت و نعت کا اہتمام کیا گیا۔ اس محفل کا آغاز قاری ظہیر احمد کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محفل نعت میں الطاف برادران سمیت دیگر معروف نعت خواں حضرات نے مدح سرائی کی۔ ایرانی قرآء میں سے قاری ماشاء اللہ نے نہایت پر سوز اور خالص ایرانی انداز میں تلاوت قرآن پاک کی جسے شیخ الاسلام اور معتکفین نے بے حد سراہا۔

اس موقع پر ایرانی قونصلیٹ جنرل لاہور ڈاکٹر عبدالرضا عباسی نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس قدر ہمیں منہاج القرآن اور شہر اعتکاف میں آ کر وجد و سکون ملتا ہے وہ دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں ہے۔ ایرانی قراء کی طرف سے سبحان گروپ نے قصیدہ بردہ شریف اور اس کے ساتھ اردو ترجمہ اور نعت مبارکہ "المدد یارسول اللہ المدد" بھی پیش کی۔ پروگرام کے آخر میں شیخ الاسلام نے ایرانی قراء کو اہل بیت کے حوالے سے اپنی کتب کا تحفہ دیا۔

26 رمضان المبارک

روزانہ کے معمولات کے ذوق و شوق میں ہر آئے دن اضافہ شہر اعتکاف کے پر نور اور روحانی ماحول کا عکاس تھا۔ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد حلقہ جات کا آغاز ہوا۔ ان حلقہ جات میں تحریک منہاج القرآن کی رفاقت کی اہمیت کے حوالے سے محترم صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی نے اظہار خیال فرمایا۔۔۔ عرفان القرآن کورس (پانچواں لیکچر) کے حوالے سے سعید رضا بغدادی نے لیکچر دیا۔۔۔ ترجمہ عرفان القرآن (کلاس) کے حوالے سے سید منور علی کاظمی۔۔۔ اور فقہی مسائل (نشست پنجم) پر مفتی عبدالقیوم ہزاری نے روشنی ڈالی۔

عالمی روحانی اجتماع (لیلۃ القدر) 2008ء

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام اعتکاف کے جملہ پروگرامز کا کلائمیکس عالمی روحانی اجتماع منعقد ہوا۔

اس پروگرام میں بھیرہ شریف کے سجادہ نشین پیر امین الحسنات شاہ، سرجن جنرل پنجاب ڈاکٹر فیاض رانجھا، خادم دربار عالیہ سلطان الہند سید معین الدین چشتی اجمیری خواجہ راحت حسین، منہاج القرآن انٹرنیشنل لندن سے پیر محمد یونس مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ مرکزی قائدین میں سے امیر تحریک منہاج القرآن صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی، نائب امیر تحریک پیر خلیل الرحمن چشتی، ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض اور دیگر مرکزی قائدین شامل تھے۔ دنیا بھر سے علماء کرام اور مختلف طبقہ ہائے فکر کی معزز شخصیات بھی معزز مہمانوں میں شامل تھیں۔

پروگرام کے پہلے حصہ کا آغاز صلوٰۃ التسبیح سے ہوا۔ عالمی روحانی اجتماع کے دوسرے حصے کو کیو ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل کے ذریعے براہ راست پیش کیا گیا۔ محترم علامہ ارشاد حسین سعیدی نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ شریعہ کالج، منہاج یونیورسٹی کے قاری خالد حمید کاظمی نے تلاوت قرآن پاک سے پروگرام کے دوسرے حصہ کا آغاز کیا۔ کالج آف شریعہ کے شہزاد برادران نے دف کیساتھ پروگرام کی افتتاحی نعت پڑھی۔ ان کے بعد منہاج نعت کونسل کے بلالی برادران اور حسان منہاج محمد افضل نوشاہی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں مدح سرائی کی۔

تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ الحمد اللہ تحریک منہاج القرآن نے آج اٹھارہویں سالانہ شہر اعتکاف اور ستائیسویں شب کے عالمی روحانی اجتماع کو کامیاب انداز میں منعقد کیا ہے۔ ہم اس موقع پر دنیا کو پیغام دینا چاہتے کہ منہاج القرآن اور اس کے رفقاء دنیا میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں۔ منہاج القرآن وہ تحریک ہے جس کا ہر کارکن امن کا پیامبر اور اس کے قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری امن کے داعی ہیں۔

خطاب شیخ الاسلام

عالمی روحانی اجتماع میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ’’خشیتِ الہٰی‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ خوف الہٰی، خشیت الہٰی، آہ وبکا، گریہ و زاری کا فیض بخشش و رحمت اتنی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَO

(المائده : 83)

’’اور (یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض سچے عیسائی جب اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو اشک ریز دیکھتے ہیں۔ (یہ آنسوؤں کا چھلکنا) اس حق کے باعث (ہے) جس کی انہیں معرفت (نصیب) ہوگئی ہے۔ (ساتھ یہ) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم (تیرے بھیجے ہوئے حق پر) ایمان لے آئے ہیں سو تو ہمیں (بھی حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لےo‘‘۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :

وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًاO

(بنی اسرائيل : 109)

’’اور ٹھوڑیوں کے بل گریہ و زاری کرتے ہوئے گر جاتے ہیں، اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں مزید اضافہ کرتا چلا جاتا ہےo‘‘۔

درج بالا آیات کریمہ میں رب کائنات نے ایسے لوگوں کا بطور خاص ذکر کیا جن کی آنکھیں قرآن کی معرفت کے حصول کے بعد آنسوؤں سے نم ہوجاتی ہیں اور محبت و خشیت الہٰی میں گریہ و زاری کرنا ان کا معمول بن جاتا ہے۔ اللہ کو اپنے ان بندوں سے خصوصی محبت و پیار ہے جو آہ و بکا کرتے ہیں اور اس کے خوف خشیت میں روتے ہیں۔

حضرت ابوعمامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’دو قطرے ایسے ہیں جن سے بڑھ کر اللہ کو کوئی قطرہ پسند نہیں ہے۔ سن لو پہلا قطرہ وہ ہے جو کسی آنکھ سے آنسو بن کر خشیت الہٰی کی وجہ سے گرے، دوسرا قطرہ اس خون کا ہے جو خدا کی راہ میں کسی مجاہد کا بہہ گیا ہو‘‘۔(ترمذی)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دوزخ سے بچنے کا کوئی راستہ بتائیں۔ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری آنکھ سے خشیت الہٰی میں بہے ہوئے آنسو ہی تمہیں بچاسکتے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے جو آنکھ اللہ کی خشیت میں روتی ہے اس پر کبھی دوزخ کی آگ کا عذاب نہیں ہوگا‘‘۔

اللہ کی محبت اور خوف و خشیت میں رونا اور دیوانگی کی حد تک رونا یہ عمل سارے نامہ اعمال کو پاک اور صاف کردیتا ہے۔ جن لوگوں نے جو کچھ بھی پایا رونے تڑپنے کی راہ سے پایا۔ غفلت کے پردے کو چاک کرنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ عشق و محبت الہٰی اور خوف و خشیت الہٰی ہے۔

٭ عالمی روحانی اجتماع کے بعد شہر اعتکاف کے روزانہ کے معمولات اسی شوق و ذوق سے جاری و ساری رہے۔ بقیہ دنوں میں نظامت تربیت کے زیراہتمام منہاج العمل کے روحانی ثمرات کے موضوع پر غلام مرتضیٰ علوی۔۔۔ تعلیم یافتہ و موثر طبقات تک تحریک کا پیغام کیسے پہنچایا جائے؟ کے حوالے سے سردار منصور احمد خان۔۔۔ عرفان القرآن کورس (چھٹا لیکچر) سعید رضا بغدادی۔۔۔ ترجمہ قرآن حافظ نصیر احمد نوری۔۔۔ آئندہ کا لائحہ عمل و سوال و جواب (بریفنگ) شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری۔۔۔ فقہی مسائل (نشست ششم) پر مفتی عبدالقیوم ہزاروی۔۔۔ توحید اور تعظیم (تصحیح عقائد) کے موضوع پر علامہ محمد اعجاز ملک۔۔۔ عرفان القرآن کورس (ساتواں لیکچر) پر سعید رضا بغدادی۔۔۔ اور تحریک منہاج القرآن کا عالمگیر نیٹ ورک کے حوالے سے ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خصوصی لیکچرز دیئے۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Nov 7, 2008



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau