[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > جنوری 2009 ء > القرآن : تاریخ انسانیت میں شہادتِ امام حسین (رض) کا مقام و مرتبہ
ماہنامہ منہاج القرآن : جنوری 2009 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > جنوری 2009 ء > القرآن : تاریخ انسانیت میں شہادتِ امام حسین (رض) کا مقام و مرتبہ

القرآن : تاریخ انسانیت میں شہادتِ امام حسین (رض) کا مقام و مرتبہ

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ترتیب و تدوین : محمد یوسف منہاجین

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِيْن.

(البقرة : 153)

’’بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔

حسینیت اور یزیدیت تاریخ اسلام میں حق اور باطل، نیکی اور بدی، خیر اور شر کی دو علامات ہیں۔ شخصی آمریت، شعائر دین کا استہزاء، ظلم و تشدد اور جبر و استبداد کی بدترین مثال یزیدیت ہے۔ یزیدیت اس دور، اس نمونہ زندگی اور اس نظام حکومت سے عبارت ہے جو بدی اور ظلم کے چار ستونوں پر قائم تھی۔ بدی کے ان چار ستونوں کے متعلق آگہی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف علم جہاد کیوں بلند کیا۔۔۔ ؟ اور معرکہ کربلا کیوں بپا ہوا۔۔۔ ؟ اس معرکہ کربلاء اور شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا اسلام کی تاریخ، انسانی آزادی کی تاریخ، اسلام کی اقدار کی تاریخ اور انسانی حقوق کی بحالی کی تاریخ میں کیا مقام ہے۔۔۔ ؟

شہادت امام حسین کا مقام نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ انسانیت کی تاریخ میں تب سمجھ میں آسکتا ہے جب یزیدی حکومت کا تصور اور یزیدی کردار آنکھوں کے سامنے ہو۔ یزیدی حکومت جبر و استبداد اور ظلم کے چار ستونوں پر قائم تھی جو درج ذیل ہیں :

1۔ شخصی آمریت

یزید کی حکومت شخصی آمریت کی بدترین شکل تھی۔ یعنی اسلام کا نظام خلافت بدترین ملوکیت سے بدل گیا تھا۔ جمہوری اقدار کو یزید نے کلیتاً پامال کر دیا تھا۔ انسان کے بنیادی حقوق، سیاسی اور قانونی آزادیاں بالکل معطل کر دی تھیں۔

2۔ ظلم و استبداد

ظلم و تشدد اور جبر و استبداد کی انتہائی بدترین شکل یزید نے پیدا کی اور یہ شخصی آمریت کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی حکمران آمریت قائم کرتا ہے تو اس کا لامحالہ ایک منطقی نتیجہ ہوتا ہے کہ ظلم و استبداد پر اس کی شخصی آمریت منتج ہوتی ہے چونکہ آمریت انسانی، سیاسی اور قانونی حقوق کو بحال رکھ کر نہ قائم ہو سکتی ہے اور نہ باقی رہ سکتی ہے، ان دو چیزوں میں تضاد ہے۔ کوئی شخص اگر یزید کی اطاعت قبول نہ کرتا اور یہ کہتا کہ میں قرآن و سنت کی اطاعت قبول کرتا ہوں، اس کا سر قلم کر دیا جاتا۔ ہر وہ شخص جو اس کی اطاعت کرنے اور اس کی بیعت کرنے سے انکاری تھا، یزید اس کو زندہ یا مردہ اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ جیسی ہستیوں سے بھی درگزر نہ کیا۔

3۔ شعائرِ دین کا استہزاء

بدی کا تیسرا ستون، جس پر اس کا نظام حکومت قائم تھا وہ شعائر دین کا استہزاء تھا یعنی دین کا کھلا مذاق، دین کے خلاف بغاوت اور دین اسلام کے ساتھ منافقت۔ یزید شراب اعلانیہ پیتا تھا بلکہ یہ کہتا تھا کہ اگر دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حرام ہے تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں، ہم عیسوی مذہب پر پیتے ہیں۔۔۔ وہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے یزید انہیں حلال سمجھتا تھا۔۔۔ نماز، زکوۃ اور دیگر عبادات کو بطور نظام، اجتماعی طور پر نافذ کرنے کو معطل کر رہا تھا، یعنی اسلام کے نظام کو معطل کر رہا تھا۔ دین اسلام کے خلاف کھلی بغاوت، فسق و فجور اور اسلام کے نام پر ایک منافقانہ طرز حکومت کو رواج دے رہا تھا۔

4۔ قومی امانت میں خیانت

قومی خزانے کو اپنی نفسانی ہوس، اقتدار کے طول اور ذاتی صوابدید پر ناجائز طریقے سے لٹاتا تھا۔ قومی خزانہ جو قوم کی امانت ہوتا ہے اسے اپنی ہوس کی تسکین کے لئے بے دریغ لٹاتا تھا، گویا امانت میں خیانت کا مرتکب تھا۔

یہ وہ چار ستون تھے جن پر یزیدی نظام حکومت قائم تھا۔ اس نظام حکومت کے اندر سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو جینا گوارہ نہ تھا۔ ان کو یہ گوارہ نہ تھا کہ حسین ابن علی جو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو اس کی موجودگی میں یہ نظام حکومت چلتا رہے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس نظام کو للکارا اور فیصلہ کیا کہ یا اس نظام کا خاتمہ ہو جائے یا اپنی جان قربان کر دی جائے۔

راہِ رخصت و عزیمت

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہونے والے کل 72 نفوس تھے۔ سرمایہ و دولت، حکومت، طاقت و اقتدار، وسائل ایک طرف ہیں۔ آمریت سے ڈرے ہوئے، عزت کے خوف سے، جان و مال کے لٹنے کے خوف سے، قتل و غارت گری کے خوف سے، دہشت گردی کے خوف سے، ڈرے ہوئے عوام بھاری اکثریت میں بھی اُسی طرف ہیں، دل سے یزید اور اس کی حکومت پر لعنت بھیجتے ہیں مگر حالات میں اتنی دہشت و وحشت پیدا کر دی گئی کہ اٹھ کر سامنا کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ ایسے حالات میں شریعت نے دو راستے متعین کئے ہیں۔

1۔ رخصت 2۔ عزیمت

1۔ رخصت کا راستہ یہ ہے کہ ان حالات میں اپنی عاجزی و کمزوری اور بے سروسامانی کو دیکھتے ہوئے، جیسے دوسرے خاموش ہیں تم بھی خاموش رہو کیونکہ تم بھی کمزور، عاجز، ناتواں اور بے سروسامان ہو، اتنی قوت، وسائل، ذرائع تمہارے پاس نہیں کہ ظلم کا تختہ الٹ سکو تاکہ ظلم اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے اور اس ظالمانہ اور باغیانہ طرز حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے، چونکہ حالات ایسے نہیں، اس لئے تم بھی کمزوری کی وجہ سے خاموش رہو۔ دل سے برا جانو مگر خاموش رہو، تلوار نہ اٹھاؤ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ایسے ظالمانہ، باغیانہ، وحشیانہ اور آمرانہ نظاموں میں عوام کی بھاری اکثریت ہمیشہ رخصت کی راہ پر چلتی ہے کیونکہ ٹکر لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یزید دور حکومت میں بھی بھاری اکثریت رخصت کے راستے پر تھی۔

2۔ دوسرا راستہ عزیمت کا ہے اور یہ راستہ یہ ہے کہ گردن کٹوا کر کمزور انسانیت کو مضبوط کر دیا جائے۔۔۔ خود کو بے شک کٹوا دیا جائے مگر کمزوروں کو بلند کر دیا جائے۔۔۔ اپنے تن کو ماچس کی تیلی کی طرح جلادیا جائے مگر جل کر اندھیرے کو روشنی میں بدل دیا جائے۔۔۔ خود جل جاؤ مگر اندھیروں کو روشنی دے جاؤ۔۔۔ خود جل جاؤ مگر کئی چراغ روشن کر جاؤ۔۔۔ خود مر جاؤ لیکن اوروں کو جینا سکھا جاؤ۔۔۔ یہ راہِ عزیمت ہے۔

امام حسین رضی اللہ عنہ نے رخصت کے راستے کو چھوڑا، عزیمت کے راستے کو اپنایا اور اگر امام حسین رضی اللہ عنہ بھی رخصت کے راستے کو اپناتے تو آج تاریخ انہیں اس طرح اپنے سینے میں یاد نہ رکھتی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی گردن کٹوا کر، اپنے خانوادے کی قربانی دے کر، ریگزار کربلا میں خود کو خون آلود کر کے اس راہ عزیمت پر قدم رکھ کر لوگوں کو جینا سکھا دیا۔۔۔ لوگوں کو آزادی کا سبق دے دیا۔۔۔ ۔ لوگوں کے ہاتھوں میں حریت کا علم تھما دیا۔۔۔ بلکہ میں یوں کہوں گا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حسین رضی اللہ عنہ بن کر انسان کو انسان بنا دیا۔۔۔ حسین رضی اللہ عنہ نے انسانیت کو زندہ کر دیا۔۔۔ اگر حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا بپا نہ کیا ہوتا تو لوگ رسم آزادی بھول جاتے۔۔۔ گری ہوئی انسانیت کے اٹھنے کی تاریخ ختم ہو جاتی۔۔۔ ظلم کے خلاف ٹکرا جانے کا درس دنیا سے مٹ جاتا۔۔۔ جمہوری اقدار کے بحال کرنے کے لئے دیوانہ وار جنگ لڑنے کا تصور ختم ہو جاتا۔۔۔ آمریت کو للکارنے کا حوصلہ انسانیت میں ختم ہوجاتا۔۔۔ انسانیت کو حوصلہ دیا تو حسین رضی اللہ عنہ نے۔۔۔ دین کو زندگی دی تو حسین رضی اللہ عنہ نے۔۔۔ اخلاقی قدروں کو تازگی دی تو حسین رضی اللہ عنہ نے۔۔۔ انسانی حقوق کو بحال کرنے کا سبق دیا تو حسین رضی اللہ عنہ نے۔۔۔ انسانی عظمت و شرافت کا جھنڈا بلند کیا تو حسین رضی اللہ عنہ نے۔۔۔ سو آج جو کوئی جرات کے میدان میں قدم رکھتا ہے وہ حسین رضی اللہ عنہ کا پیروکار کہلاتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے حسینیت کا تصور نکھرتا جا رہا ہے۔۔۔ جہاں جہاں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں میں سمجھتا ہوں یہ حسین رضی اللہ عنہ بن علی کی روح کا تصرف ہے۔۔۔ جہاں جہاں ظلم ختم ہو رہا ہے محکومی ختم ہو رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روح کا فیض ہے۔

انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین(رض)

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور مقام صبر

یہ گفتگو شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے تاریخ انسانیت میں مقام کے حوالے سے تھی۔ آیئے شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کو ایک اور زاویئے سے دیکھتے ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِيْن ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں‘‘۔ (البقرہ : 153)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :

وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصَّابِرِيْن.

(آل عمران : 146)

’’اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔

قرآن پاک نے جابجا صبر کی تلقین فرمائی اور صبر کی فضیلت بیان کی۔

صبر کی اقسام

صبر کی دو اقسام ہیں :

1۔ زاہدوں کا صبر 2۔ عاشقوں کا صبر

1۔ زاہدوں کا صبر

حضرت ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے زاہدوں کے صبر کے تین درجے بیان کئے ہیں۔

الصبرُلِلّٰهِ (اللہ کے لئے صبر کرنا)

الصَّبْرُ عَلَی اللّٰه (اللہ پر صبر کرنا)

الصَّبْرُ مَعَ اللّٰه (اللہ کے ساتھ صبر کرنا)

الصبرُلِلّٰهِ (اللہ کے لئے صبر کرنا)

اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر استقامت کے ساتھ قائم رہنا الصبرُلِلّٰهِ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی میں، حلال کاموں کو کرتے ہوئے مشکلات آتی ہیں اور کبھی اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں یعنی حرام کاموں سے بچنے میں مشکلات آتی ہیں۔ گویا کبھی حلال پر عمل کرتے ہوئے پریشانی آتی ہے اور کبھی حرام سے بچنے میں پریشانی آتی ہے۔۔۔ کبھی حلال کی راہ میں انسان کسی آرام، راحت، فائدہ کو چھوڑتا ہے۔۔۔ اور کبھی حرام سے بچتے ہوئے کسی فائدے کو قربان کرتا ہے۔ پس اس حلال و حرام کے امتیاز کرنے میں جو پریشانی آئے اسے برداشت کرنا الصبرُلِلّٰهِ کہلاتا ہے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عہد کرے کہ رزق حلال کھانا ہے اگرچہ فاقہ آجائے تو یہ الصبرُلِلّٰهِ ہے۔۔۔ رزق حرام سے بچنا ہے بے شک کھانے کو نہ ملے یہ الصبرُلِلّٰهِ ہے۔ یہ کام اللہ کا حکم ہے، کرنا ہے بے شک تکلیف آجائے۔۔۔ یہ کام نہیں کرنا، اللہ نے منع فرمایا ہے بے شک تکلیف آجائے۔۔۔ پس امر و نہی پر عمل کرتے ہوئے آنے والی تکلیف کو ہنس کر برداشت کرلینا الصبرُلِلّٰهِ ہے یعنی اللہ کے لئے صبر کرنا ہے اور یہ زاہدوں کے صبر کا پہلا درجہ ہے۔ گویا زاہدوں کا صبر یہاں سے شروع ہوتا ہے۔

ہماری صورت حال

اس تناظر میں اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو کیا ہم اس پہلے صبر کی گرد کو بھی پہنچیں ہیں یا نہیں۔۔۔ ؟ افسوس کہ ہم اس صبر کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ ہم حلال کو پسند کرتے ہیں مگر اس وقت تک جب تک حلال کی راہ میں تکلیف نہ آئے۔ اگر حلال کی راہ پر چلتے ہوئے تکلیف آجائے تو ہم حلال کو ترک کر دیتے ہیں۔ ہم بڑے اسلام کے نام لیوا ہیں اور اسلام پر عمل پیرا ہیں، ثابت قدم ہیں، متقی و زاہد ہیں اور اپنی دینداری کے بڑے ڈھنڈورے پیٹتے ہیں مگر یہ سب اس وقت تک ہے جب تک حلال اور ہمارے ذاتی مفاد میں ٹکراؤ نہ آئے۔۔۔ جب تک اللہ کے حکم اور اپنے مفاد میں ٹکراؤ نہ آجائے اس وقت تک ہم دین کے بڑے پرستار ہیں۔۔۔ نیکی سے بڑی محبت کرنے والے ہیں۔۔۔ اور جہاں دین / نیکی اور مفاد میں ٹکر آجائے وہاں مفاد اپنا لیتے ہیں اور نیکی و دین کو چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ یہ ہماری دینداری ہے حالانکہ آزمائش کا وقت یہی ہوتا ہے۔ قربانی کے بغیر کسی کا کس طرح پتہ چل سکتا ہے کہ کون دین کی راہ پر ہے اور کون مفاد کی راہ پر ہے۔۔۔ یہ تو پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب دونوں میں ٹکراؤ آتا ہے۔ پس جہاں سے صبر کا سفر شروع ہوتا ہے اس سے پہلے ہی ہم Expire ہو جاتے ہیں اور بات دینداری کی کرتے ہیں۔۔۔ بات حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کرتے ہیں۔۔۔ بات سیرت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرتے ہیں حالانکہ ان ہستیوں کی زندگی کا آغاز جہاں سے ہوتا ہے ہم اس سے پہلے ہی اپنے ایمان کا سودا ختم کر بیٹھتے ہیں۔ ہم حرام سے بچنے کے دعویدار ہیں مگر اس وقت تک جب تک حرام سے ہمارے مفاد پر زد نہ پڑے اور جب مفاد قربان کرنے کا وقت آئے تو ہم مفاد کو نہیں چھوڑتے بلکہ حرام کو قبول کر لیتے ہیں۔ حرام کو اس لئے قبول کر لیتے ہیں کہ چلو بعد میں توبہ کر لیں گے، ایسی سوچ رکھنا دین کے ساتھ مذاق ہے۔ پس اللہ کے احکام کی پیروی میں، امر و نہی کی بجا آوری میں جو تکلیف آئے اسے برداشت کرنا زاہدوں کے صبر کا پہلا درجہ ہے۔

الصَّبْرُ عَلَی اللّٰه (اللہ پر صبر کرنا)

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے جو کچھ مقدر ہو اس پر خوش رہنا۔۔۔ بیماری ہو تب خوش رہنا، صحت یابی ہو تب خوش رہنا۔۔۔ کھانے کو مل جائے تب بھی صبر کرنا، خوش رہنا، فاقہ آئے تب بھی صبر کرنا، خوش رہنا۔۔۔ عزت و ذلت، خوشی و غمی دونوں حالتوں میں خوش رہنا۔۔۔ الغرض ہر حالت میں اللہ سے خوش رہنا اور جو کچھ اللہ کی بارگاہ سے ملے اس پر صبر کرنا الصَّبْرُ عَلَی اللّٰه ہے۔ یہ زاہدوں کے صبر کا دوسرا درجہ ہے۔ افسوس کہ ہم تو اس بازار کے سوداگر ہی نہیں ہیں، ہمیں مل جائے تو اللہ کا شکر کرتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، ہمیں تو اللہ بھی تب اچھا لگتا ہے جب خوشی، صحت، دولت، عزت، آسائش، سکون الغرض جو ہم چاہیں وہی دے۔ ہم اپنی مرضی اس پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، اسے اپنی منشاء کے تابع کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر جو ہم چاہیں اور وہ نہ ہو تو ہم شکوہ، شکایات اور گلہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔

اس کو کسی عارف نے اس طرح بیان کیا ہے کہ

اَلْمَنْعُ وَالْعَطآءُ عِنْدَه وَاحِدٌ.

ملے یا نہ ملے دونوں میں دل کا حال ایک جیسا رہے یہ زاہدوں کے صبر کا دوسرا درجہ ہے۔

الصَّبْرُ عَلَی اللّٰه پر ایک بزرگ کی حکایت بیان کی جاتی ہے۔ وہ بزرگ تجارت کرتے تھے ایک دن انہیں خبر ملی کہ ان کا جہاز مع سامان تجارت ڈوب گیا ہے اور لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔ یہ خبر سن کر انہوں نے قدرے توقف سے کہا ’’الحمدللہ‘‘ پھر کچھ دنوں کے بعد خبر آئی کہ پہلی خبر جھوٹ تھی۔ سامان تجارت بکا ہے اور لاکھوں کا نفع ہوا ہے۔ یہ خبر سن کر انہوں نے ایک لمحہ توقف کے بعد کہا ’’الحمدللہ‘‘

کسی نے ان سے سوال کیا کہ حضرت یہ کیا ماجرا ہے کہ جب آپ نے جہاز ڈوبنے اور لاکھوں کے نقصان کی خبر سنی تو ’’الحمدللہ‘‘ کہا اورجب مال کے بک جانے اور لاکھوں کے نفع کی خبر سنی تو پھر ’’الحمدللہ‘‘ کہا؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ جب جہاز ڈوب جانے کی اطلاع آئی تھی تو میں نے فوراً اپنے دل کو دیکھا کہ مال کے چلے جانے پر دل کہیں رنجیدہ تو نہیں ہے۔ یہ دل جو اپنے رب کی یاد میں مست تھا کہیں اس کی توجہ اس طرف سے ہٹ تو نہیں گئی؟ جب میں نے دل کو دیکھا تو اسے لاکھوں کے نقصان کی خبر سن کر بھی نقصان سے بے پرواہ اپنے رب کی یاد میں مست پایا لہذا میں نے اپنے دل کی اس حالت پر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد جب جہاز کے محفوظ رہنے اور لاکھوں کا نفع ہونے کی خبر آئی تو میں نے پھر اپنے دل کو دیکھا کہ نفع کی خبر سن کر یہ خوش تو نہیں ہو رہا تو میں نے دیکھا کہ میرے دل کو نقصان کی طرح نفع سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسے صرف اللہ کی یاد سے دلچسپی ہے۔ میں نے جب اپنے دل کی یہ استقامت دیکھی تو اس پر پھر اللہ کا شکر ادا کیا۔

انہی لوگوں کے بارے میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے :

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

زندہ رہنے کا ڈھب اگر سیکھنا ہے اور تم جینا چاہتے ہو تو نفع اور نقصان سے خود کو بلند کر لو۔ یہ راز سمجھ لو کہ صرف جینے کا نام زندگی نہیں ہے۔ زندگی کے دو روپ ہیں جس طرح جینے کو زندگی کہتے ہیں اسی طرح مرنے کو بھی زندگی کہتے ہیں۔ جو لوگ جینا جانتے ہیں ان کے لئے زندگی اور موت برابر ہوجاتی ہے۔

الصَّبْرُ مَعَ اللّٰه (اللہ کے ساتھ صبر کرنا)

زاہدوں کے صبر کا تیسرا درجہ ’’الصَّبْرُ مَعَ اللّٰہ‘‘ ہے۔ اگر زندگی میں کوئی ایسا وقت آجائے کہ جہاں تکالیف مصائب، رنج و الم، پریشانیاں اور دکھ ایک ہجوم کی صورت میں انسان پر حملہ آور ہوں انسان غیر معمولی مصائب و آلام کے بوجھ تلے دب جائے اور مسلسل پریشانیوں کی زد میں رہے گویا اللہ کی قضا اور تقدیر کی چھری چل رہی ہو، سر پر آرے چلائے جا رہے ہوں یا سینہ گولیوں سے چھلنی ہو رہا ہو تو عین ان لمحات میں بھی اللہ کے لئے صابر رہنا ’’الصَّبْرُ مَعَ اللّٰه‘‘ کہلاتا ہے۔

زاہدوں کے صبر کا یہ آخری درجہ کن لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اس کا پتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے چلتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی دشمن کا نیزہ آپ کے جسم میں کسی جگہ پیوست ہوگیا۔ نیزہ اتنا گہرہ چلا گیا تھا کہ اس کا نکالنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے بڑا تکلیف دہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اذیت ہونے کا خیال کر کے نیزہ نہ نکالا گیا اور یہ طے پایا کہ جس وقت آپ رضی اللہ عنہ اللہ کے حضور نماز میں کھڑے ہوں گے اس وقت نیزہ نکالا جائے چنانچہ جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو نیزہ نکال لیا گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تکلیف کا ذرہ بھر بھی احساس نہ ہوا۔ خون کے فوارے جاری ہوگئے مگر آپ بدستور نماز میں مشغول رہے۔ نیزہ نکل آیا مگر اللہ کی بارگاہ میں حضوری کے مکمل انہماک کی وجہ سے آپ کو تکلیف کا بالکل احساس نہ ہوا۔ تکلیف کے ایسے لمحات میں خوش رہنا اور صبر کرنا ’’الصَّبْرُ مَعَ اللّٰه‘‘ ہے۔

2۔ عاشقوں کا صبر

زاہدوں کے صبر کے تینوں درجے امام حسین رضی اللہ عنہ کی آزمائش نہ تھے بلکہ صبر کے یہ تینوں درجے تو امام حسین رضی اللہ عنہ کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔

وہ لوگ جو عشق و محبت کا دعویٰ نہیں کرتے ان سے محبوب اور طرح پیش آتا ہے اور جب وہ عشق و محبت کا دعویٰ کریں تو محبوب کا وطیرہ بدل جاتا ہے۔ اب وہ اور طرح آزماتا ہے۔ انہی عشق و محبت والوں کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ

(البقرة، 2 : 155)

’’اور ہم تم کو کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے، کچھ مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آزمائیں گے‘‘۔

جو عشق و محبت کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں آزمائش کی بھٹی پر چڑھا دیا جاتا ہے اور خوف و بھوک کے ساتھ مال و جان اور دوسری نعمتوں میں کمی کر کے آزمایا جاتا ہے تاکہ معلوم ہوکہ یہ لوگ اپنے دعویٰ محبت میں کہاں تک سچے ہیں۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کو تو زاہدوں کے تینوں درجوں کا صبر تو اپنی والدہ ماجدہ کے دودھ سے ملا تھا۔۔۔ ایسا صبر تو انہیں اپنے والد گرامی کے خون سے ملا تھا۔۔۔ یہ صبر تو انہیں اپنے نانا کی گود سے ملا تھا۔۔۔ یہ صبر تو انہیں بچپن سے نصیب تھے۔۔۔ ان صبر کے پیمانوں پر امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کو پرکھا ہی نہیں جا سکتا۔۔۔ یہ پیمانے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام سے بہت نیچے تھے، اس لئے جب امام حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں آئے، ہر طرف سے تلواروں اور تیروں کی بوچھاڑ تھی۔۔۔ پے درپے حملے ہوئے۔۔۔ فرات کا پانی بند کر دیا گیا۔۔۔ سہولتیں اور راحتیں چھین لی گئیں۔۔۔ مظالم اور مصائب کے پہاڑ گرا دیئے گئے۔۔۔ یکے بعد دیگرے علی اکبر، علی اصغر، قاسم رضی اللہ عنہم ہر کوئی شہید ہوتا گیا۔۔۔ گلشن نبوت کے پھول کچلے جاتے رہے۔۔۔ اپنی آنکھوں کے سامنے سارا گلشن اجڑتا دیکھا۔۔۔ زندہ رخصت کرتے اور میت اٹھا کر خیمے میں لے آتے۔۔۔ سب کچھ دیکھتے رہے لیکن مسکراتے رہے۔۔۔ سب کچھ دیکھتے رہے مگر قدموں میں لرزہ طاری نہ ہوا۔۔۔ اس حالت میں جنات کا بادشاہ حاضر ہوا اور عرض کیا : اے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر سلام ہو، میں جنات کا بادشاہ ہوں اور آپ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنات کی جس قوم کو مسلمان کیا تھا اس میں سے ہوں، آج اس احسان کا بدلہ چکانے آیا ہوں، اشارہ کریں سارے یزیدی لشکر کو چشم زدن میں تباہ کر دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں، تم جن ہو، جنوں کی لڑائی انسانوں سے نہیں جچتی، لہذا تمہیں اجازت نہیں ہے اس لئے کہ تم نظر نہیں آتے اور تم انہیں ماردو گے مگر وہ تمہیں مار نہ سکیں گے، پس میں ناانصافی کی جنگ نہیں کرنا چاہتا۔ میں عدل کی سربلندی کے لئے لڑ رہا ہوں، بے عدلی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ انصاف کی بالادستی کے لئے لڑ رہا ہوں، خود ناانصافی سے جنگ نہیں لڑنا چاہتا۔۔۔ اس جن نے دلیل دی کہ غزوہ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ ملائکہ بھی تو آ کر لڑے تھے، فرمایا : وہ اللہ کا حکم تھا۔ پس اس جن کو واپس بھیج دیا۔

میدان کربلا میں آپ رضی اللہ عنہ پر حملے ہوئے اور وہ حسین رضی اللہ عنہ جو بچپن میں سجدہ کی حالت میں اپنے نانا کی کمر پر چڑھ جاتے تھے وہ حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں گھوڑے سے گر پڑے۔ شمر آگے بڑھا اور سینے پر بیٹھ گیا۔ فرمایا : تو کون ہے۔۔۔ ؟ اس نے کہا : شمر ہوں۔۔۔ فرمایا : سینے سے کپڑا ہٹا۔۔۔ اس نے کپڑا ہٹایا تو اس کے سینے پر برص کے سفید داغ تھے۔۔۔ مسکرا کر فرمانے لگے : کہ میرے نانا نے سچ فرمایا کہ حسین رضی اللہ عنہ تجھے قتل کرنے والا وہ کتا ہے جس کے سینے پر برص کے داغ ہوں گے۔۔۔ شمر تو اپنے انجام کو پہنچ گیا، تیرے ہاتھوں ہی میں نے جام شہادت نوش کرنا تھا۔ آپ نے نماز کی نیت کی سجدہ میں سر رکھا اور ظالموں نے سر تن سے جدا کر دیا۔

اس سب کچھ ہونے کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ ثابت قدم رہے۔ میرے اعتقاد کے مطابق امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام صبر کے ان درجوں سے بلند ہے۔ ان کا صبر ’’الصبر عن الله‘‘ ہے۔ یعنی اللہ کے دیدار کے بغیر صبر کرنا۔۔۔ ہجر محبوب میں صبر کرنا۔۔۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کا صبر تو وہ 56 برس کی زندگی تھی جو وہ کربلا سے پہلے گزار آئے تھے۔۔۔ اس 10 محرم کے دن کے انتظار میں کہ کب وہ لمحہ آئے تلوار چلے، پردہ اٹھے اور اللہ کا دیدار نصیب ہوجائے۔۔۔ 10 محرم کو میدان کربلا میں صبر کا نہیں بلکہ وصال کا وقت تھا۔۔۔ اس لئے کہ نانا نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تجھے شہادت نصیب ہوگی پس اس وقت کے انتظار میں رہے اور صبر سے اس وقت کا انتظار کرتے رہے۔

میدان کربلا میں 10 محرم کو تو وصال یار کا وقت تھا۔۔۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی آرزو پوری ہونے کا وقت تھا۔۔۔ الغرض حسرت و تمنا پوری ہونے کا وقت تھا۔۔۔ آج تو وہ وقت تھا کہ مدت سے نگاہیں جس دیدار کے لئے ترس رہی تھیں، اس دیدار یار کا وقت تھا۔۔۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام، صبر کے ان درجوں سے کہیں بلند ہے پس جونہی گردن کٹی ادھر آواز آئی۔

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُO ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًO

(الفجر : 27. 30)

اے حسین رضی اللہ عنہ ! اے نفس مطمئنہ اگر تو 56 برس منتظر رہا تو ہم بھی تیرے منتظر رہے۔ آج یہ رشتہ روح و بدن کٹا ہے تو آ ہمارا دیدار کر لے۔ ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔۔۔ آتجھے اپنے دیدار کے شربت پلائیں۔۔۔ جنت کی سیر کروائیں۔۔۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام صبر، عاشقوں کا صبر ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں صبر کا فہم عطا فرمائے اور صبر کی ان لذتوں اور حلاوتوں سے ہمیں آشنا کرے جن سے امام حسین رضی اللہ عنہ بہرہ مند ہوئے یقینا اسی سے ایمان و ایقان کی منزلیں عطا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر لطف و کرم فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau