[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > مئی 2009 ء > قیام اللیل کی اہمیت اور سورہ مزمل کے باطنی مطالب (حصہ پنجم)
ماہنامہ منہاج القرآن : مئی 2009 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > مئی 2009 ء > قیام اللیل کی اہمیت اور سورہ مزمل کے باطنی مطالب (حصہ پنجم)

قیام اللیل کی اہمیت اور سورہ مزمل کے باطنی مطالب (حصہ پنجم)

سکواڈرن لیڈر (ر) عبدالعزیز

نائب ناظم اعلیٰ (ریسرچ) تحریک منہاج القرآن

گذشتہ اقساط میں ہم نے تفصیل سے اس معاملے کا جائزہ لیا ہے کہ دعوت کی نتیجہ خیزی اور داعی کی مؤثریت اور کامیابی کا دار و مدار صرف اس بات پر ہے کہ داعی سب سے پہلے اپنے نفس کو اپنی دعوت کا مخاطب بنائے، دعوت کو پہلے خود اپنے من میں اتارے اور اپنے نفس کو عمل مجاہدہ سے تزکیہ و تطہیر کے مراحل سے گذارے حتیٰ کہ اس کی روح دل پر فرمانروائی کرنے لگے، اس کے نفس کو مقام قلب اور اس کے قلب کو مقام روح نصیب ہو جائے اور بندے کو قلبِ سلیم کی نعمت میسر آ جائے۔ پھر ہم نے اس امر کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا کہ قلبِ سلیم کی علامات کیا ہیں اور اسے حاصل کرنے کے طریقے کون کون سے ہیں تا کہ داعی کو کامل داعی بننے کے لئے ایک طے شدہ لائحہ عمل کے ہر گوشے سے کامل آگاہی حاصل ہو جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے شیخ الاسلام مد ظلہ کے رمضان المبارک 2006 کے ستائیسویں شب کے خطاب ’’قلبِ سلیم‘‘ سے بھرپور استفادہ کیا۔ چونکہ قلبِ سلیم کے حصول کے طریقوں میں قیام الیل اہم ترین ہے لہٰذا ہم نے پچھلی قسط میں سورہ مزمل کی پہلی دس آیات مبارکہ کے مضامین کو نذر قارئین کیا۔ اسی سلسلے میں شیخ الا سلام مدظلہ کے جمعۃ الوداع 1999ء کا خطاب ’’سورۃ مزمل کے باطنی مطالب۔۔‘‘ (Audio Cassette No.Fi-32) داعی کی تربیت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لہٰذا موجودہ اور آئندہ قسط میں آپ کے لئے اس خطاب کی تلخیص شامل کی جا رہی ہے تا کہ تحریک منہاج القرآن کے داعی کو پتہ ہو کہ اس کا کام کیا ہے؟ اور اسے دراصل کرنا کیا ہے؟

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُO قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًاO نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًاO أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًاO

(المزمل، 73 : 1. 4)

’’اے کملی کی جھرمٹ والے (حبیب!)o آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لئے)o آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیںo یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریںo‘‘۔

ظاہری معنیٰ و مفہوم

ان آیات مبارکہ میں اﷲ رب العزت نے حضور نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ کے عظیم لقب سے یاد فرمایا ہے۔ یہ وہ لقب ہے جس کا ہم ترجمہ کرتے ہیں ’’اے کملی والے اور اے مبارک کملی اوڑھے ہوئے محبو ب‘‘ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، رات کو اٹھا کر، تھوڑی دیر کے لئے یا نصف شب کے لئے، یا رات کا قیام نصف شب سے تھوڑا کم کر لے یا اور بڑھا لے، تھوڑا سا، اور پھر رات کے اندھیروں میں قرآن مجید درد و سوز کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تھوڑا تھوڑا پڑھا کر۔

باطنی مطالب

ان آیات کریمہ کے ظاہری معنیٰ کو جان لینے کے بعد اب ہم ان کے باطنی معنیٰ کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ہر چند کہ یہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خطابِ خاص ہے مگر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدق اور توسل سے اس میں امت کے لئے خطابِ عام بھی ہے۔ ہر حکم جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاص ہے، وہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے مقام و منصب اور درجہ اور رتبہ کے مطابق ہے۔ اس میں ہر آیت کا حکم امت کے لئے بھی ان کے حال اور ان کے درجہ اور رتبہ کے مطابق خطابِ عام کا درجہ رکھتا ہے، ان کے لئے نصیحت اور تلقین کرتا ہے۔ لہٰذا ہم امت کے لئے اس عمومی تلقین اور خطاب عام کی طرف آ رہے ہیں جو خطاب خاص کے پردوں میں مخفی ہے۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو فرمایا جا رہا ہے اس فرمان کی ہر ہر آیت اور ہر لفظ کے پردے میں ایک خطاب، ایک حکم اور ایک فرمان آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لئے بھی ہے، اﷲ رب العزت کا یہ عمومی خطاب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کی طرف اور امت کے ہر اس شخص کی طرف ہے جو اﷲ کی طرف رجوع کا طالب ہے، جو رجوع الی اللہ اور شوق الی اﷲ کا طلبگار ہے اور جو اﷲ کی محبت اور معرفت اور سیر الی اللہ کا مسافر ہے۔

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ

جب اس الوہی خطاب کی مخاطب امت ہوگئی تو دوسرا معنیٰ شروع ہو گیا اور مراد بھی بدل گئی۔ مزمل کا معنی تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کملی میں لپٹا ہوا ہونا۔ اے کملی والے پیارے ! یایہا المزمل کا خطاب جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ہر فرد کی طرف ہو گیا تو چادر سے کیا مراد لی جائے گی؟

جس چادر کی نسبت سے اﷲ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ہر فرد کو، ہر طالبِ حق کو اور ہر داعئیِ حق کو مزمل کہا، وہ کون سی چادر ہے؟

اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مزملّیت کا فیض جاری ہو گیا۔ اوریہ فیض امت کے ہر فرد کو نصیب ہو گیا ۔ اب خطاب کا معنیٰ یہ ہو گیا کہ اے چادر اوڑھنے والے انسان! اے بدن کی چادر میں لپٹے ہوئے انسان ! اب اس انسان کو خطاب کیا جا رہا ہے جو بدن کی چادر، بدن کے لباس اور بدن کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے، جو پیکر بشری کی شکل میں بیٹھا ہوا انسان نظر آ رہا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اس زندہ بدن کے اندر بھی ایک انسان آباد ہے اور یہ انسان وہ ہے جس کو اﷲ نے اس بدن کے پردے میں لپیٹ رکھا ہے، جو بدن کے لباس میں لپٹا ہوا بدن ہی میں گم ہے۔ بدن کی اوڑھنی میں خوابیدہ ہے، غافل ہے۔ اسے بدن کی زندگی کی محویت سے نکلنا ہے۔ بدنی لذات و شہوات کی اوڑھنی نے اسے غفلت کی نیند سلا رکھا ہے جس سے اسے بیدار ہونا ہے۔ لہٰذا اُسے خطاب ہو رہا ہے :

قُمِ

اے بدن کے لباس اور بدن کے پردوں میں لپٹے ہوئے انسان، قُم! غفلت کی نیند سے بیدار ہو جا، اٹھ کھڑا ہو! یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ اب خطاب ہر انسان کو نہیں ہو رہا بلکہ اس انسان کو ہو رہا ہے جس نے بیداری کا ارادہ کر لیا ہے اور جس میں غفلت سے بیداری کا جوہر موجود ہے۔ جو سویا ہوا تو ہے مگر جس نے عزم کر لیا ہے کہ کاش کوئی سبیل بن جائے اور میں جاگ اٹھوں۔ جس نے سوتے سوتے جاگنے کا ارادہ کر لیا ہے، جس نے غفلت کی نیند سے نکلنے کا ارادہ کر لیا ہے اس انسان کو خطاب ہے کہ اے بدن کی رغبتوں میں لپٹے ہوئے، اب وقت آ گیا ہے کہ اٹھ کھڑا ہو۔ کب تک غفلت کی نیند میں سوتا رہے گا؟ قم! اب اٹھ جا۔ ملاقات کا وقت قریب ہے۔ جن مسافروں کی منزل کٹھن ہو وہ اٹھتے ہیں، تیاری کرتے ہیں، اٹھ اور تیاری کر۔

قُمِ الَّيلْ

غفلت کی نیند سے اٹھ اور اﷲ کی طرف سفر شروع کر۔ اﷲ کی راہ کا مسافر بن۔ الیل : رات کو اٹھ۔ یہ تو ظاہری معنیٰ تھا۔ یہاں رات سے کیا مراد ہے؟

ایک تو وہ رات ہے جو ہر روز دیکھتے ہیں اور 24 گھنٹے میں ایک رات آتی ہے ایک وقت کے لئے آتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے، ہر وقت طاری نہیں رہتی، چلی جاتی ہے۔ پھر سورج طلوع ہوتا ہے اور دن نکل آتا ہے۔ ظاہری معنیٰ میں رات آتی ہے اور جاتی ہے۔ مگر اب باطنی مفہوم میں وہ رات مراد نہیں۔ مگر باطنی معنیٰ میں اُس رات کا ذکر ہے جو ہر وقت ہمارے اندر طاری رہتی ہے۔ یہ غلبۂِ نفس کی رات ہے۔ یہاں رات سے مراد نفس کی تاریکی ہے۔ تاریکی نفس کا مقام ہے۔ جب قلب ہمارے نفس سے مغلوب ہو جاتا ہے، جب نفس ہمارے قلب اور روح پر چھا جاتا ہے تو نفس، اس کی کیفیات، اس کی خواہشات اور اس کے خواص کے چھا جانے سے قلب اور باطن کے مطلع پر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے۔ نفس کی اس تاریکی اورمقام کو لیل کہا جا رہا ہے۔ نفس کے غلبے نے انسان کے باطن میں تاریکی پیدا کر دی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ رات کی طرح تاریکی چھا گئی ہے۔ اے غلبۂِ نفس کے باعث غفلت کی نیند سونے والے انسان! اس مقامِ نفس کی تاریکی میں ڈوبا رہنے کی بجائے اٹھ کھڑا ہو تاکہ اس تاریکی کو چھوڑ دے۔ اٹھ اور تاریکئیِ نفس کا غلبہ دور کرنے کی کوشش کر۔

قُمِ الَّيْلَ اِلاَّ قَلِيْلا

اس جگہ مقامِ نفس، تاریکئیِ نفس، غلبۂِ طبیعت، اور نفس کے تصرّفات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب نفس کا تصرّف ہوتا ہے توطبیعت کے تقاضے حاوی ہوتے ہیں۔ زیادہ کھانا نفس کا ایک تقاضا ہے۔ اس کا غلبہ رات ہے۔ زیادہ کھانا کیا ہے ؟ یہ نفس کی تاریکی ہے۔

زیادہ سونا بھی رات ہے، باطنی رات۔ یہ نفس کی تاریکی ہے جو چھاتی ہے۔

زیادہ باتیں کرنا، لغو باتیں کرنا، فضول باتیں کرنا بھی غلبۂِ نفس اور غلبۂِ طبیعت ہے جو کہ ایک تاریکی ہے۔

حسد، بغض، تکبر، عناد لالچ، حرص، بخل جیسی بری خصلتوں کا شکار رہنا غلبۂِ نفس اورغلبۂِ طبیعت ہے، یہ تاریکی ہے، یہ باطنی تاریکی ہے اور اﷲ کی اطاعت سے دور رہنا، غفلت میں مبتلا رہنا، دنیا اور مادیت کی طلب میں گم رہنا اور اﷲ اور آخرت کو بھولے رہنا بھی غلبۂِ طبیعت ہے۔ یہ مقام، نفس امارہ کی تاریکی ہے جس نے ہمارے دل اور ہمارے باطن کے مطلع پر اندھیرا کر رکھا ہے۔ لہٰذا حکم ہوا ہے کہ اس رات کی تاریکی سے اٹھ، یعنی بیدار ہو، الا قليلا مگر تھوڑا سا۔ اتنا کہ جس سے بدن کی حاجات پوری ہونے میں خلل واقع نہ ہو۔ الا قليلا۔ تھوڑا سا اٹھ اور اس غلبہ نفس سے باہر آ۔ طبیعتوں کے تقاضوں سے باہر آ۔ تیرے باطن پرنفس کی رغبتوں اور طبیعت کی چاہتوں کی جو تاریک رات چھائی ہے، اس رات سے باہر آ۔ اگر یہاں کاملین کے لئے مفہوم لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا :

نفس اور طبیعت کے تقاضوں کو باقی رکھ، الا قليلا مگر تھوڑا سا باقی رکھ، تاکہ اس سے جسم اور جان کی ضرورت پوری ہو سکے۔ یعنی کھانا بالکل نہ چھوڑ کہ جسم کی ضرورت پوری نہ ہو۔ سونا بالکل نہ چھوڑ کہ بدن کی ضرورت ہی پوری نہ ہو۔ بولنا بالکل بند نہ کر کہ زندگی کی ضرورت ہی پوری نہ ہو۔ اسی طرح راحت و آرام کے اور دیگر کسبِ معاش کے تقاضے بالکل نہ چھوڑ کہ کہیں بدن ہی نہ مر جائے۔ نہیں۔ الا قليلا، تھوڑا سا ان کو برقرار رکھ تاکہ اس بدن کی، جسم کی ضرورت پوری ہوتی رہے، اس کی حاجت پوری ہوتی رہے۔ کاملین کو دنیا کی رغبتوں، چاہتوں اور خواہشوں سے کیا غرض ہو گی سوائے تھوڑی سی (قليل) جسمانی ضروریات کے جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔

لیکن اگر اس سے مراد مبتدیوں کی شب بیداری لی جائے تو اس کا مطلب ہو گا : رات کا تھوڑا حصہ قیام کر اور باقی حصہ جسم اور جان کی ضرورت پوری اور نفس کی تاریک رات سے باہر آنے کے لئے تھوڑے تھوڑے اٹھنے سے آغاز کر اور اس طرح طبیعت کا رخ رضائے الٰہی کے حصول کی طرف پھیر دے۔

نِّصْفَه

پھر کسی کے لئے فرمایا نصفه‘ ۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کی جسمانی صحت اور روحانی حالت اس بات کی مقتضی نہیں ہے، بالکل تھوڑا سا قیام کریں، وہ لوگ جو اس قیام سے سیراب نہ ہوں، جن کو تھوڑے قیام سے روحانی تسکین نہ ہو اور جو زیادہ قیام مانگیں ان کے لئے فرمایا : نصفه، چاہے توبدن کی ساری ضرورتوں اور حاجتوں کو آدھا آدھا کر لے۔ آدھا بدن کے لئے چھوڑ دے اور آدھا روح کے لئے چھوڑ دے۔ اپنے اوقات کو بانٹ لے، رات دن کے اوقات کو بانٹ لے۔ آدھے اوقات جسم اور بدن کی ضرورتوں کے لئے، جسم، جان اور معاش کی ضرورتوں کے لئے چھوڑ دے اور آدھا وقت روح کے لئے خاص کر لے، سير الی اﷲ کے لئے اور رجوع الی اﷲ کے لئے وقف کرلے۔

مبتدیوں کے لئے پیمانہ ہے : الا قليلا ۔ جسم اور جان کی حاجتوں اور ضرورتوں میں سے تھوڑا سا وقت نکال، رات دن جسم اور مادی جسمانی زندگی کے تقاضے پورے کرنے میں صرف نہ کر۔ رات دن دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدہوش نہ رہ اور جسم اور جان کو راحت پہنچانے میں ہی نہ کھوکر رہ جا الا قليلا : اس میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر روح کو دے دے، اس میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر سير الی اﷲ کے لئے وقف کر دے، رجوع الی اﷲ کے لئے وقف کر دے۔ بقیہ سارا وقت جسم، مال و جان، بیوی بچوں گھر بار دنیاوی فرائض میں وقف کر اور تھوڑا وقت ان میں سے نکال کر اﷲ کی طرف چل پڑ۔

پھر دوسرے درجے کے لئے فرمایا : اس سے آگے جب پیاس بڑھ جائے تو رات دن کے اوقات دو حصوں میں تقسیم کر لے، آدھا وقت جسم اور جان، دنیا اور معاش کی ضرورتوں کے لئے چھوڑ دے اور آدھا وقت سير الی اﷲ کے لئے وقف کر دے، آدھا وقت قیام کر، غفلت سے نکلنے پر وقف کر، عبادت پر صرف کر، مراقبہ پر صرف کر، رجوع الی اﷲ پر صرف کر، اطاعت الٰہی پر صرف کر، سجدوں پر صرف کر، تزکیہ نفس پر خرچ کر، معرفت الٰہی کی طرف صرف کر، محبت الٰہی میں صرف کر اور آدھا وقت جسم و جان کی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے خرچ کر۔ اس کے بعدجیسے جیسے لوگوں کی طبیعتوں جسموں اور جانوں کی حاجتیں اور جیسی ان کی روحانی کیفیتیں ہوں اس کے مطابق سارے احکام دے دیئے۔

اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلاً

اب تیسرے طبقے کے لئے فرمایا : او انقص منه قليلا ۔ اور بعض ایسا کر لیں کہ جو رات کا اٹھنا ہے، یعنی مجاہدۂ نفس ہے، روحانی ریاضت، عبادت، اطاعت روح کی ریاضت اور مشقت ہے۔ اور سير الی اﷲ کی مشقت ہے رات دن کے اوقات آدھا کرنے کی بجائے کچھ اس میں سے کم کر لیں، ایک تہائی کر لیں۔ دو تہائی چھوڑ دیں، ایک تہائی سير الی اﷲ، اﷲ کی طرف سیر کے لئے لے لیں۔ دو تہائیوں میں سے ایک تہائی جسم اور جان کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے رکھ لیں اور ایک تہائی دنیا اور معاش کے فرائض کی ادائیگی کے لئے رکھ لیں اور ایک تہائی اﷲ کے لئے چھوڑ دیں۔

اَوْزِدْ عَلَيْه

پھر اگر ایک تہائی تمہارے لئے کافی نہیں، روح اور زیادہ مانگتی ہے تو اسے تھوڑا سا زیادہ کر لیں، وقت کی ایک نئی تقسیم کر لیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اس آیت کریمہ نے اہل اﷲ کے لئے تقسیم اوقات کے مختلف مرتبے بیان کر دیئے۔ اﷲ والوں کے لئے تقسیم اوقات کے مختلف پیمانے، مرتبے، مرحلے اور درجے بیان کر دیئے۔ مختلف stages اور جہات بیان کر دیں۔ یعنی جیسی ضرورتیں اور مصروفیات ہوں، مشاغل اور فرائض ہوں، دنیاوی اور روحانی ذمہ داریاں ہوں اس کے مطابق تقسیم اوقات کا پیمانہ adjust کر لیں۔

وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلاً

اب فرمایا : وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلاً ۔ اور قرآن مجید کو ترتیل سے پڑھ۔ اس طرح ٹھہر ٹھہر کے پڑھ کہ یہ قرآن تیرے باطن میں اتر جائے، تیری روح کی وادیوں میں اتر جائے اور اس کے انوار سے تیرے باطن میں معرفت کا سویرا طلوع ہو جائے۔ اس کے معانی تیرے باطن میں جھلملانے لگیں۔ اس طرح ٹھہر ٹھہر کے پڑھ کہ قرآن مجید کے فیوضات، برکات اور انوار و معانی تیری جبلت میں رچ بس جائیں، تیری فطرت میں رچ بس جائیں۔ قرآن کو اس طرح ٹھہر ٹھہر کے پڑھ اور اپنے اندر اتارکہ یہ تیری روح میں جذب ہو جائے۔ تیری فطرت کے ساتھ جڑ جائے، تیری جبلت میں چلا جائے۔ پھر اگلا حصہ پڑھ، اپنی جبلت میں اتار، پھر اگلا حصہ پڑھ اس کو جبلت میں اتار۔ قرآن کو اس انداز کے ساتھ پڑھ کہ اِدھر تو قرآن مجید پڑھتا چلا جائے اُدھر یہ تیرے باطن میں اترتا چلا جائے۔۔۔ اِدھر قرآن کی تلاوت ہوتی جائے، اُدھر تیری خصلت بنتی جائے۔۔۔ اِدھر قرآن کی تلاوت ہوتی جائے اُدھر تیری فطرت ثانیہ بنتی چلی جائے۔۔۔ ادھر قرآن کی تلاوت ہوتی چلی جائے ادھر تیری فطرت کے اخلاق بنتے چلے جائیں۔۔۔ زبان قرآن کی تلاوت کر رہی ہو اور تیرا قلب و باطن اس کے معارف و انوار کے پانی سے سیراب ہوتے چلے جا رہے ہوں۔ ایسا نہیں کہ تیز رفتاری کے ساتھ قرآن پڑھتا چلا جائے اورقرآن کو فرصت ہی نہ ملے کہ لبوں کی حرکت کے ساتھ تیرے قلب کی طرف سفر کرے اور تیرے دل میں اتر ہی نہ سکے اور تجھے منزل بھی نہ ملے۔ جو پڑھا ہے اس میں غور کر، پھر اس میں ڈوب جا، پھر اس کو من میں اتار تاکہ قرآن کے معانی، مفہوم بن کر تیرے دل پر اترتے چلے جائیں۔ قرآن کے مطالب تیری جبلت میں اتر جائیں، قرآن کے معارف اور انوار تیری خصلت میں اتر جائیں۔ ورتل القرآن ترتیلا اے بندے اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، درد و سوز کے ساتھ، زبان اور دل کو ملا کر اس طرح قرآن پڑھ کہ یہ تیرے قلب و باطن میں جاگزیں ہو جائے۔ قرآن تیری روح میں متمکن ہو جائے اور وہ جو تیرے باطن کے سوتے ہیں ان سے قرآن کے معانی پھوٹ پڑیں، قرآن کے انوار پھوٹ پڑیں اور اس طرح قرآن پڑھ کہ پھر قرآن تیرے قلب و باطن کے ساتھ ہو جائے، تیرا باطن کلام الٰہی سے کلام کرے اور تیرے باطن سے قرآن کلام کرے، پھر قرآن کے معارف کا، قرآنی معرفت کا چشمہ تیرے دل سے اور تیری زبان سے پھوٹنے لگے، تیرے ظاہر میں بھی قرآن آ جائے اور تیرے باطن میں بھی قرآن آ جائے۔ یہ قرآن مجید کی تلاوت کے آداب ہیں۔ اس طرح قرآن کو پڑھنا باطنی استعداد کو بڑھا دیتا ہے۔ ہماری فطرت اور جبلت میں جو روحانی استعدادیں خوابیدہ ہیں اور روحانی ملکات، روحانی قوتیں، روحانی صلاحیتیں، استعدادیں (Spiritual capabilities andspiritual potential) جو ہمارے اندر پوشیدہ ہیں جب قرآن دل پر اترتا ہے تو یہ زندہ ہو جاتی ہیں، جاگ جاتی ہیں اور اعمال میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید اس طرح پڑھ کہ تیرے دل کی تہوں میں اتر جائے۔ اپنے اندر معانی و مطالب کو جذب کر لے۔ قرآن کے نور کو جذب کر لے۔ جب تیرا باطن قرآن کے نور کو اپنے اندر جذب کر لے گا تو سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہو جائیں گی۔ بندے ! تیری جبلت اور فطرت میں بڑی طاقت ہے، بڑے ملکات ہیں، بڑی صلاحیتیں ہیں، بڑی طاقتیں ہیں، بڑی استعدادیں ہیں، بڑی forces ہیں مگر وہ inactive ہیں، سوئی ہوئی ہیں، خوابیدہ ہیں۔ مگر یہ قوتیں قرآن مجید کی ترتیل سے بیدار ہو کر رو بہ عمل ہو جاتی ہیں اور انسان کے باطن میں خود نگری، خود گری اور خود گیری کی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں جو ایک طرف اسے معرفت حق سے آشنا کرتی ہیں تو دوسری طرف اسے کائناتی قوتوں پر تصرف سے بہرہ مند کرتی ہیں۔ پھر انسان کا باطن قرآن مجید کے انوار کے ساتھ مل جاتا ہے اور قرآن مجید کے انوار بندے کو ملاء اعلیٰ کے ساتھ ملا دیتے ہیں، عالم ملکوت کے ساتھ ملا دیتے ہیں، عالم جبروت کے ساتھ ملا دیتے ہیں جو کہ عالم انوار کے ساتھ اتصال کا ایک درجہ بن جاتا ہے۔ (جاری ہے)

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau