[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2011 ء > تعلق بالقرآن کے تقاضے
ماہنامہ منہاج القرآن : اگست 2011 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2011 ء > تعلق بالقرآن کے تقاضے

تعلق بالقرآن کے تقاضے

حافظ فرحان ثنائی

فرانس کے معروف بادشاہ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا :

I hope the time is not far off when I shall be able to unite all the wise and educated men of all the countries and establish a uniform regime based on the principles of Qur'an which alone are true and which alone can lead men to happiness.(1)

’’مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میں پوری دنیا کے دانش وَروں اور تعلیم یافتہ انسانوں کو متحد کرنے اور اُس یکساں نظام کو نافذ کرنے کے قابل ہو جاؤں گا جو قرآنی اصولوں پر قائم ہو گا وہی سچے اصول ہیں اور صرف وہی انسانوں کو خوشی اور راحت فراہم کر سکتے ہیں۔‘‘

جے ایم روڈ ویل (j m Rodwell, 1808-1900) نے ایک جگہ لکھا ہے کہ

’’یقینا اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ قرآن اپنے ربانی فطری نظریات کا حامل ہونے کی وجہ سے لائق صد احترام ہے۔ سیاسی استحکام، فروغ علم، عالمگیر خیر خواہی کے درس اور اتحاد جیسی صفات کا پروان چڑھنا قرآن پر ایمان اور خدائے ارض و سماء پر گہرے اور پختہ توکل ہی کی وجہ سے ممکن ہوا۔۔۔قرآن گہری سنجیدگی اور متانت کو عملی روپ بخشتا، الہامی فکر کو معنی خیز بناتا اور ثابت کرتا ہے کہ اس میں کچھ ایسے لوازمات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر نہ صرف طاقت وَر اور فاتح اَقوام بلکہ پائیدار سلطنتوں کی تعمیر بھی ممکن ہے۔‘‘ (2)

قرآن ایک زندہ کتاب ہے جس کا ہر جملہ مردہ روحوں کے لئے حیات بخش ہے۔ جس جہت سے بھی قرآن سے رہنمائی درکار ہو، قرآن بے بہا خزانے عطا کرتا اور کائنات کے سربستہ رازوں کو آشکار کرتا ہے۔ صدقِ دل اور اخلاص و للہیت کے جذبات سے معمور ہو کر اس سے کسب فیض کے لئے جو اپنے دامن کو پھیلائے گا، قرآن اس کے ذوق اور ظرف کے مطابق اسے نوازتا چلا جائے گا۔

مسلمانوں نے جب تک اپنا تعلق قرآن سے استوار رکھا، انہیں عروج حاصل رہا لیکن جب قرآن سے رشتہ توڑ لیا اور اپنی توجہات کے مراکز دیگر چیزوں کو بنا لیا، تو عروج، زوال میں بدلا اور انتہائے زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔ آج اس اَمر کی اشد ضرورت ہے کہ اُس عظمتِ رفتہ کو پانے کے لئے ہم نئے سرے سے اپنے احوال کا جائزہ لیں اور اپنا تعلق قرآن سے جوڑیں۔

تحریکِ منہاج القرآن کی دعوت کے سات اہداف میں سے تیسرا ہدف ’’رجوع الی القرآن‘‘ ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدّظلہ العالی لکھتے ہیں :

’’تحریکِ منہاج القرآن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے امت کے ہر مرض کے اسباب کی تشخیص کر کے اس کا مناسب علاج تجویز کیا ہے۔ قرآن مجید کی زندہ ہدایت سے انحراف ایسا مرض ہے جس نے امت کی علمی، فکری، نظریاتی، سیاسی، معاشرتی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی و تہذیبی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ اس کے تشخص اور وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس المیہ کے پیشِ نظر تحریکِ منہاج القرآن نے رجوع الی القرآن کے پانچ تقاضے متعین کیے ہیں۔‘‘

(تحريک منهاج القرآن. افکار و هدايات : 16)

رجوع الی القرآن یا تعلق بالقرآن کے پانچ بنیادی تقاضے ہیں :

(1) قرآن پر کامل ایمان

(2) قرآن کی تلاوت

(3) قرآن میں تدبر و تفکر کی دعوت

(4) قرآن پر عمل

(5) تعلیمات قرآن کی ترویج و اشاعت

پہلا تقاضا قرآن پر کامل اِیمان

سب سے پہلے مسلمانوں سے ایمان لانے کا تقاضا کیا گیا ہے۔ چونکہ ایمان دینِ اسلام کا بنیادی رکن ہے لہٰذا اس میں اﷲ عزوجل، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، قرآن اور ما قبل نازل کردہ کتبِ سماوی شامل ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ....

’’اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ‘‘۔۔۔

(النساء، 4 : 136)

جس شخص نے پانی پیا ہو، اسے کہا جائے کہ پانی پیو! جس شخص نے کھانا کھایا ہو، اسے کہا جائے کہ کھانا کھاؤ! جو شخص لباس پہنے ہوئے ہو، اسے کہا جائے کہ لباس پہنو! تو یہ بڑی حیرانگی کی بات ہوتی ہے۔ بلا تشبیہ و بلا مثال اس آیتِ مبارکہ میں ایمان والوں سے اﷲ، اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن و دیگر مبادیاتِ دین پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے حالانکہ ’’ایمان والے‘‘ تو وہی ہوتے ہیں جو اﷲ پر، رسول پر اور کتابِ الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں، پھر ایمان والوں کو دوبارہ ایمان لانے کا کیوں کہا گیا؟

دراصل اس ایمان لانے سے مراد ایمانِ کامل لانا ہے۔ ایسا ایمان جس میں شک و شبہ اور کسی قسم کا التباس نہ ہو۔

کامل ایمان دو چیزوں سے عبارت ہے : اقرار باللسان وتصدیق بالقلب (زبان سے اقرار کرنا اور دل سے تصدیق کرنا)۔ آج ہم زبان سے ایمان کے دعوے کرتے ہیں مگر ہمارے دل اس ایمان کی تصدیق کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ صرف زبانی جمع خرچ ہے۔ انسانی فطرت اس پر گواہ ہے کہ جس چیز پر ہمارا یقین ہو، ہمارا عمل اس کے خلاف نہیں ہوتا۔ آگ جلاتی ہے لہٰذا کوئی اس کے نزدیک نہیں جاتا۔ اس معاملے میں ہم معاشرے میں بے شمار مثالیں دیکھ سکتے ہیں کہ جہاں دل تصدیق کرتا ہو اور وہاں نفع ہو تو انسان اس کی طرف لپکے گا اور اگر نقصان ہو تو جان چھڑائے گا۔

اگر ہم حقیقی مسلمان ہوتے تو قرآن کی حقانیت اور صداقت کو بلا چون و چرا تسلیم کرتے۔ قرآن کی کہی ہوئی بات پر سرِ تسلیم خم کرتے اور ہمارا عمل قرآن کے مخالف نہ ہوتا۔ کامل حقیقی مومنوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ بلا چون و چرا ایمان رکھتے ہیں مگر چونکہ یہ ایمان قلب کی تصدیق تک نہیں پہنچا لہذا اس کے ہوتے ہوئے بھی ہم اس کی تاثیر اور اثرات سے محروم ہیں۔ ارشاد فرمایا :

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا.

(الحجرات، 49 : 15)

’’ایمان والے تو صرف وہ لوگ ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے‘‘۔

مؤمن کامل سے مؤمن صادق تک کے سفر کے لئے شک و شبہ سے پاک ایمان لازمی امر ہے۔ منزلِ مقصود تک پہنچنے کیلئے ’’قرآن پر کامل ایمان‘‘ اس سفر کا پہلا قدم ہے۔

دوسرا تقاضا۔۔۔قرآن کی تلاوت

اس دنیاوی زندگی میں تلاوتِ قرآن کا فیضان سمجھنے کے لئے انسانی وجود پر غور کرتے ہیں۔ انسانی وجود دو چیزوں کا مرکب ہے :

(1) خاکی/ مادی جسم

(2) روح

یہ ایک فطری اصول ہے کہ جو چیز جس سے بنی ہوتی ہے اس کی بقاء بھی اسی کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ مثلاً انسانی جسم مٹی سے بنا ہے تو اِس کو زندہ، تر و تازہ اور توانا رکھنے کے لئے مٹی سے بنی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے انسانی غذائیں مٹی سے ہیں اور انسان کے مادی وجود کی نشو و نما اور پروان میں ممد و معاون ہوتی ہیں، لیکن روح کو ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ روح مٹی سے نہیں بنی بلکہ روح کا تعلق امرِ ربی کے ساتھ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :

وَيَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ.

(الاسراء، 17 : 85)

’’اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجیے : روح میرے رب کے امر سے ہے۔‘‘

تخلیقِ آدم ں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَo

(الحجر، 15 : 29)

’’(اے فرشتو!) پس جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکر (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑناo‘‘

معلوم ہوا کہ روح کا تعلق اِس مادی، جہاں سے نہیں بلکہ مالائے اعلیٰ کے ساتھ ہے لہٰذا اس کی غذا بھی وہیں سے ہو گی جس جہاں سے یہ آئی ہے۔ روح کی غذا، اِس دنیا کی کھانے پینے کی چیزیں نہیں، بلکہ اس کا کھانا ذکرِ الٰہی ہے، اس کا پانی خشیتِ الٰہی ہے، اس کی غذائی اجناس کے نام درود و سلام، عبادتِ الٰہی، معرفتِ الٰہی، قربتِ الٰہی، قیام، رکوع، سجود اور خشوع و خضوع ہیں اور اعلیٰ و اَرفع خوراک اﷲ کے کلام قرآن کی تلاوت ہے۔ روح امرِ رب ہے اور قرآن کلامِ رب ہے، اس کی تلاوت روح کو زندہ، شاداب اور تر و تازہ رکھنے کے لئے نہایت ضروری غذا ہے۔ یہ کلام زبان کے راستے جب مَن میں اترتا ہے تو تاریکیاں چھٹنے لگتی، غلاظتیں دھلنے لگتی ہیں اور میل کچیل و زَنگ اترنے لگتا ہے۔ شاعرِ مشرق نے اس راز کو اِن الفاظ میں کھولا ہے :

فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست، چیزے دیگر است

چوں بجان در رفت جان دیگر شوَد
جان چوں دیگر شد، جہان دیگر شوَد

’’میں دل میں پوشیدہ راز فاش کر دیتا ہوں۔ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ جب یہ جان میں اترتی ہے تو جان بدل جاتی ہے اور جب جان بدلتی ہے تو جہان بھی اور ہو جاتا ہے۔‘‘

اﷲ رب العزت نے قرآن میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے چار مقاصد بیان کیے ہیں :

لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ.

(آل عمران، 3 : 164)

’’بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘

بعثتِ نبوی کے چار مقاصد ہیں :

  1. تلاوتِ آیات
  2. تزکیہ نفس
  3. تعلیمِ کتاب
  4. تعلیمِ حکمت

بعثتِ نبوی کے یہ چار مقاصد قرآن کے دیگر تین مقامات (البقرۃ، 2 : 129، 151، اور الجمعۃ، 62 : 2) بھی بیان ہوئے ہیں۔ ان چاروں مقاصد میں تلاوتِ آیات کو سب سے مقدم رکھا، کیوں؟ اس لئے کہ یہ روح کی غذا ہے۔ یاد رہے کہ کسی برتن میں دودھ، پانی اور سالن وغیرہ تب ہی ڈالا جاتا ہے جب وہ پاک صاف ہو، گندے غلیظ برتن میں کھانے پینے کی کوئی شے کبھی نہیں رکھی جاتی۔ بلا تشبیہ و بلا مثال ہمارے دلوں کے برتن تلاوتِ قرآن کی برکت سے پاک صاف ہوتے ہیں، اُن کا تزکیہ ہوتا ہے اور بعد ازاں وہ تعلیمِ کتاب اور تعلیمِ حکمت کے حصول کے قابل ہوتے ہیں۔ کفر، ظلمت اور ضلالت سے نجات پانے کا اہم ذریعہ کتاب اﷲ ہے۔ ارشادِ ربانی ہے :

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ

(آل عمران، 3 : 101)

’’اور تم (اب) کس طرح کفر کرو گے حالاں کہ تم وہ (خوش نصیب) ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور تم میں (خود) اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) موجود ہیں‘‘۔

اس آیت میں کفر سے نجات کا نسخہ دو چیزوں کو قرار دیا گیا :

(1) تلاوتِ آیات

(2) حضور علیہ الصلاہ والسلام کی امت میں موجودگی

اس آیت میں میں قرآن اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تلاوتِ قرآن اور قرآنی تعلیمات کسی کے لئے اُسی وقت ثمر آور اور ہدایت کا باعث بنیں گی جب وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ اور وسیلہ سے قرآن کے ساتھ تعلق قائم کرے گا۔

تیسرا تقاضا۔۔۔قرآن میں تدبر و تفکر کی دعوت

تعلق بالقرآن کا تیسرا تقاضا قرآن میں غور و فکر کرنا ہے۔ قرآن کی محض آیات پڑھ لینے یا سن لینے سے کیف اور حظ تو نصیب ہوتا ہے مگر مالک کی منشاء و مراد اور احکام معلوم نہیں ہوتے کہ مالک بندوں سے کیا چاہتا ہے؟ جیسے کسی صنعت کا مالک (Owner) عربی میں اپنے ملازم کو خط لکھے اور وہ صرف اُسے چومتا رہے یا پڑھنے پر اکتفا کرے اور مالک کے حکم کو نہ سمجھے تو اسے خط بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ قرآن کے معاملے میں ہمارا حال اس خادم سے بھی بد تر ہو چکا ہے، ہم نے قرآن کو محض چومنے اور حلف اٹھانے کے لئے رکھ لیا ہے، باقی رہا اس کی آیات اور احکام میں غور و فکر اور تدبر و تفکر، اس سے ہم کنارہ کش ہو چکے ہیں (اِِلاّ ما شاء اﷲ)۔ اپنے اس رویے سے ہم مالک کی وفا کا حق صحیح طور پر ادا نہیں کرسکتے۔

قرآن سے ہدایت، تقویٰ، اِصلاح اور خیر و فلاح پانے کے لئے اسے سمجھ کر پڑھنا، اس باب میں خِشتِ اوّل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اﷲ رب العزت نے قرآن پاک میں جابجا ہماری توجہ اسی جانب مبذول کرائی ہے، ارشاد فرمایا :

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِo

(ص، 38 : 29)

’’یہ کتاب برکت والی ہے۔ جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانشمند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریںo‘‘

دوسرے مقام پر فرمایا :

اَفَـلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَاo

(محمد، 47 : 24)

’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا اُن کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیںo‘‘

مذکورہ آیتِ مبارکہ کی وضاحت کے لیے اگر اس کا مفہومِ مخالف سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اُن لوگوں کے دلوں پر تالے لگتے ہیں جو قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جو کمرہ یا جگہ مقفل (Locked) ہو وہاں سے کوئی شے اندر یا باہر آ جا نہیں سکتی۔ یہی حال قرآن سے غافل لوگوں کا ہے کہ وہ گمراہی اور تاریکی میں پڑے رہتے ہیں اور ہدایتِ الٰہیہ ان کے دلوں میں ڈیرہ نہیں ڈالتی۔

اِس محرومی اور بدقسمتی سے نجات پانے کا واحد راستہ قرآن کے معانی و مطالب، اسرار و رموز، احکام و مسائل، حقوق و آداب اور حِکَم و معارف میں غور و خوض کرنا ہے۔ قرآن بے شمار علوم و فنون کا مجموعہ ہے۔ یہ

وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلاَّ فِيْ کِتٰبٍ مُّبِيْنٍ

 (اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں ہے۔ ) [الانعام، 6 : 59]، شان کا حامل ہے۔ قرآن میں زندگی کے ہر مسئلہ پر بنیادی رہنمائی موجود ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس ص کا معروف قول ہے :

لَوْ ضَاعَ لِيْ عِقَالُ بَعِيْرٍ لَوَجَدْتُهُ فِي کِتَابِ اﷲِ تَعَالٰی.

(سيوطی، الإتقان فی علوم القرآن، 4 : 332)

’’اگر میرے اونٹ کی نکیل گم ہو جائے تو میں اُسے بھی اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں تلاش کر لوں گا۔‘‘

حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدّظلہ العالی قرآنی تعلیمات کی وسعت و جامعیت کے متعلق لکھتے ہیں :

’’قرآن اپنی تعلیمات کے اعتبار سے انسان کی نجی زندگی کی فکری و عملی ضروریات سے لے کر عالمی زندگی کے جملہ معاملات پر حاوی ہے۔ حیاتِ انسانی کا مذہبی و روحانی پہلو ہو یا مادی و جسمانی، عائلی و خاندانی پہلو ہو یا سماجی و معاشرتی، سیاسی و معاشی پہلو ہو یا تعلیمی و ثقافتی، حکومت و سلطنت کی تاسیس ہو یا ادارت کی تشکیل، مختلف طبقاتِ انسانی کے نزاعات و معاہدات ہوں یا اقوامِ عالم کے باہمی تعلقات، الغرض قرآنی احکام و تعلیمات اس قدر جامع ہیں کہ ہر مسئلے میں اصولی رہنمائی قرآن ہی سے میسر آتی ہے۔‘‘

(مناهج العرفان فی لفظ القرآن : 14)

تدبر و تفکرِ قرآن میں مشغول ہونے والوں کو بارگاہِ الوہیت سے کئی طرح کے انعامات سے نوازا جاتا ہے اور قرآن میں غور و فکر کا یہ عمل اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نفلی عبادات بجا لانے سے بھی برتر ہے۔

چوتھا تقاضا۔۔۔قرآن پر عمل

قرآن کو سمجھ کر پڑھنا تب مفید ہو گا جب اس پر عمل بھی ہو۔ جیسے بیٹا اپنے باپ کا بھیجا ہوا پیغام سمجھ جائے مگر آگے عمل نہ کرے تو اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آئے گا حتیٰ کے بسا اوقات کسی حساس معاملے میں باپ کی ہدایت پر عمل نہ کرنے سے شدید ترین نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ بلا تشبیہ و بلا مثال قرآن ہمارے پاس اﷲ رب العزت کی طرف سے اس کے احکام و نواہی، آرڈرز اور مواعظ و نصائح کا مجموعہ ہے جس میں ہمارے لئے ہدایت اور کامیابی کا سامان ہے۔ جب اس ذات نے ہماری طرف اپنے پیغام کو بھیجا تو ساتھ ہی اس کی اتباع اور پیروی کا آرڈر بھی دیدیا۔ ارشا فرمایا :

وَهٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰـهُ مُبٰـرَکٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ.

(الانعام، 6 : 155)

’’اور یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے سو (اب) تم اس کی پیروی کیا کرو اور (اﷲ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

آیتِ مبارکہ میں دو باتیں غور طلب ہیں :

(1) قرآن کی اتباع

(2) تقویٰ

ان کا آپس میں معنوی ربط ہے کہ قرآن تمہارے لیے مقتدا کی حیثیت سے اترا ہے لہٰذا دل و جان سے اس کی پیروی کرو اور احکامِ الٰہی بجا لاؤ اور پھر اس کے متصل ہی ڈرا دیا کہ اس کے کنارہ کشی اور گریز پالیسی اختیار کرنے کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔

جس طرح کسی کام کو اس کی متعین مدت میں احسن انداز میں تکمیل کرنے سے اچھے نتائج کی توقع ہوتی ہے اور نہ کرنے کی صورت میں خسارہ کا خدشہ رہتا ہے، اسی طرح کا نتیجہ قرآ ن کے احکام پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ اس کے لیے بھی خاص مدت اور دورانیہ متعین ہوتا ہے اس کے گزرنے پر رب تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا :

وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ العَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ.

’’اور اس بہترین (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری جانب اتاری گئی ہے قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہوo‘‘

(الزمر، 39 : 55)

اﷲ کی طرف سے گرفت مختلف شکلوں میں ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے انفرادی بھی اور اجتماعی بھی۔ بحر و بر کے یہ فساد انسانوں کے اپنے شامتِ اعمال کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں اور ان کے پس پردہ انسانوں کی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَيْدِی النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَo

(الروم، 30 : 41)

’’بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اﷲ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کیے ہیں، تاکہ وہ باز آ جائیںo‘‘

عذابِ الٰہی یا اﷲ کی طرف سے سیلاب، زلزلہ، طوفان، وبائی امراض کے علاوہ گرفت کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں جو مجموعی طور پر کسی بھی نافرمان، ظالم اور کرپٹ قوم اور ملّت کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں، چاہے وہ عارضی ہوں یا مستقل لیکن قوموں کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اﷲ کی طرف سے یہ گرفت غیروں کی محتاجی، افرادِ معاشرہ پر بے حسی و بے حمیتی کی یلغار، بددیانتی، لوٹ مار، کرپشن، ظلم و جبر، ناانصافی، عدمِ مساوات، لالچ، مفاد پرستی اور مطلق العنان آمر اور لٹیرے حکمرانوں کی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں قومِ نوح، قومِ شعیب، قومِ فرعون اور دیگر اقوام اس کی واضح مثالیں ہیں، وہ اجتماعی عذاب کا شکار ہونے سے پہلے زوال کی ان اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی تھیں، جس کا بالآخر انجام ان کی مکمل تباہی و بربادی کی صورت میں سامنے آیا۔

ہم خوش قسمت ہیں ہمارے پاس زندگی کے ہر گوشہ میں رہنمائی کے لیے قرآن و سنت کی جامع، پختہ اور صحیح ترین تعلیمات ہیں۔ حضور ں کی تعلیم بھی اس حوالے سے ہمارے لیے رہنما ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دس آیات کا معنی اور مفہوم جاننے کے بعد اس پر عمل پیرا ہوتے پھر آگے چلتے۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

کَانَ الرَّجُلُ مِنَّا إِذَا تَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ لَمْ يَتَجَاوَزْهُنَّ حَتّٰی يَعْلَمَ مَعَانِيَهُنَّ وَالْعَمَلَ بِهِنَّ.

(زرکشی، البرهان فی علوم القرآن، 2 : 157)

’’ہم میں سے جب کوئی دس آیات سیکھ لیتا تو ان سے اس وقت تک آگے نہ بڑھتا جب تک کہ ان کے معانی و مطالب نہ جان لیتا اور اُن پر عمل نہ کر لیتا۔‘‘

دورِ حاضر میں من حیث المجموع مسلمانوں کے ہر جہت سے ذلیل و رُسوا ہونے کا بنیادی سبب قرآن اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسِ پشت ڈالنا اور اِن سے انحراف ہے۔ بدقسمتی سے عصرِ حاضر میں قرآن محض روزی کمانے کا ذریعہ ہے یا ترنم و نغمگی سے کیف لینے کا واسطہ یا صرف برکت حاصل کی جانے والی کتاب۔

ابھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم قرآن کے دامن کو تھام لیں وگرنہ روزِ محشر سوائے شرمندگی کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ ارشاد فرمایا :

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا.

(الفرقان، 25 : 30)

’’اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) عرض کریں گے : اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا۔‘‘

پانچواں تقاضا۔۔۔تعلیماتِ قرآن کی ترویج

قرآن کا ہم پر آخری حق اس اَبدی اُلوہی پیغام کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ اگر ہماری اصلاح ہو گئی اور آئندہ نسل کی تربیت قرآنی نہج پر نہ ہو سکی تو ہم اﷲ کے حضور جواب دہ ہوں گے۔ یہ ذمہ داری اس لیے ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے کہ ہم آخری امت ہیں اور ہمارے نبی سلسلہ انبیاء میں آخری نبی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغامِ الٰہی کو آگے منتقل کرنے کی ذمہ داری امت کے کندھوں پر ڈال دی۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً.

(بخاری، الصحيح، کتاب أحاديث الأنبياء، باب ما ذکر عن بنی إسرائيل، 3 : 1275، رقم : 3274)

’’تم مجھ سے (قرآن سیکھ کر) دوسروں کو پہنچاؤ خواہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘

پیغامِ قرآن کی ترویج و اشاعت اور اس پر عمل سے ہی تاریک سینے روشن ہوں گے، بے چین دل و دماغ کو تازگی اور فرحت میسر آئے گی۔ انفرادی سطح پر اصلاحِ احوال کے ساتھ اجتماعی سطح پر علمی، فکری، نظریاتی، سیاسی، معاشرتی، معاشی، تعلیمی اور تہذیبی و ثقافتی ہمہ گیر تبدیلیوں سے عالم گیر سطح پر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور ملّتِ اسلامیہ کے احیاء و اتحاد کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ یہی ہمہ گیر اور ہمہ جہت انقلاب بالخصوص تحریکِ منہاج القرآن کے قیام کا مقصدِ وحید ہے اور عموماً ہر صاحبِ درد مسلمان کی خواہش ہے۔

مگر اس کے لیے ہمیں بنیاد رکھنا ہو گی ۔۔۔پختہ بنیاد۔۔۔ ایسی بنیاد جو قرآن کے ساتھ مضبوط تعلق پر استوار ہو۔

اس کے لیے جان توڑ عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ انفرادی لحاظ سے خود قرآن کے ساتھ نہ ٹوٹنے والا تعلق قائم کریں اور اجتماعی طور پر اس کی دعوت عام کریں۔ منہاج القرآن کے زیرِ اہتمام ہونے والے دروس ہائے عرفان القرآن، عرفان القرآن کورسز اور بالخصوص شیخ الاسلام کے خطابات و دروس اس ٹوٹے ہوئے تعلق کو بحال کرنے میں نہایت ممد و معاون ہیں۔ ان میں جوق در جوق شرکت کریں، اِنہیں سمجھیں اور پھر آگے یہ فیضان منتقل کریں۔

مزید برآں ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ بھی میسر آ رہا ہے۔ جس مہینہ میں قرآن اتارا گیا، اس کی بہت سی حکمتوں میں سے ایک بالکل واضح ہے کہ اس مہینہ میں ایسا ایمان اَفروز اور روحانیت بخش ماحول دستیاب ہوتا ہے جس سے تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور طہارتِ روح نہایت آسان اور مؤثر ترین طریقے سے ہوتی ہے۔ اس ماہِ مقدس میں خیر کا ہر دروازہ کھلا اور شر کا ہر باب بند ہوتا ہے۔ شیاطین کو جکڑ دیا جاتا اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اس مہینہ میں حقوق القرآن کی ادائیگی میں کسی قسم کی کمی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے تاکہ اس ماہ کی کامل پریکٹس ہمارے اندر باقی گیارہ مہینوں میں محنت کرنے کے اثرات بھی چھوڑ دے۔ یہ عملی جدوجہد امتِ مسلمہ کو ہر جہت سے بلندی اور سرفرازی کی طرف لے کر جائے گی۔ وگرنہ بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ زمانہ کو برا بھلا کہنے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا :

خوار از مہجوری قرآں شدی
شکوہ سنج گردشِ دوراں شدی

’’اے مسلمان! زمانہ کے بدلنے کا شکوہ نہ کر بلکہ قرآن سے راہِ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے ذلّت تیرا مقدر بنی ہے۔‘‘

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau