[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > جولائی 2012 ء > انفاق فی سبیل اللہ
ماہنامہ منہاج القرآن : جولائی 2012 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > جولائی 2012 ء > انفاق فی سبیل اللہ

انفاق فی سبیل اللہ

عظیم جمال

روح کی طاقت
معاشرتی تعلقات کی مضبوطی

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکیسویں صدی میں مخلوق خدا کی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے خرچ کرنے کی اہمیت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ زندگی بہت تیز ہو گئی ہے ہر قسم کے کام ایک شخص خود نہیں کر سکتا۔ بنیادی ضروریات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اکیسویں صدی اپنے ساتھ انسان کے لئے بہت سے چیلنج بھی لے کر آئی ہے۔ ان حالات میں ہم دوسروں کے لئے کیا کر سکتے ہیں جبکہ ہماری اپنی ضروریات بھی پوری نہیں ہو رہیں۔ ہم اس مہنگائی کے دور میں اوروں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ جبکہ ہم پر پہلے ہی بہت زیادہ بوجھ ہے ہم عطیہ کرنے کے لئے رقم اور صرف کرنے کے لئے وقت کہاں سے لائیں؟ جبکہ ہمیں تو کوئی عطیہ نہیں دیتا۔ ہم دوسروں کو عطیے وغیرہ کیوں دیں؟

یہ بات ذہن نشین رہے کہ حالات کیسے بھی ہوں لیکن ہم پھر بھی اللہ کی رضا کے لئے خرچ کر سکتے ہیں کیونکہ دوسروں کو کچھ دینے سے خود ہمیں بہت سے فوائد حاصل ہوں گے :

  • جب ہم کسی کے لئے کچھ کریں گے تو اس سے مثبت طور پر دوسروں سے ممتاز ہوں گے۔
  • جذباتی، جسمانی اور معاشی طور پر زیادہ مستحکم ہوں گے۔
  • اس سے صلاحیتیں بڑھیں گی اور زیادہ خوشیاں حاصل ہوں گی۔

معاشرتی تعلقات کی مضبوطی کا راز

ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے رشتہ انسانیت میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ جب ہمارے رشتے دوسرے لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں تو اس سے ہمارے اندر اعتماد زیادہ بڑھتا ہے۔ دوسرے لوگ ہمارے لئے ایک آئینے کی مانند ہیں جس میں ہم خود اپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس انسانی رشتے کی بنیاد پر اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی روح کو طاقتور بنا سکتے ہیں اور روح کی طاقت حاصل کرنے کے لئے دوسروں کی مدد کرنے کی مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مشق کو جس قدر زیادہ کریں گے اتنی ہی روح طاقتور ہوتی جائے گی۔ بالکل ایسے ہی جب تک ورزش نہیں کریں گے تب تک مسلز طاقتور نہ ہوں گے اس لئے مسلز کو طاقت ور بنانے والی قوت کی ضرورت ہماری روح کو بھی ہوتی ہے۔

عطیہ کرنے سے معاشرتی تعلقات زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور یہ تعلقات ہمیں ذاتی تحفظ مہیا کرتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے خوف پر قابو پا سکتے ہیں۔ اپنے خوف پر قابو پا لیں گے تو زندگی زیادہ آسان ہو جائے گی۔ جو لوگ اپنے آپ کو خطروں میں گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں نے اپنے معاشرتی تعلقات کو نظر انداز کیا ہوتا ہے جن لوگوں کے معاشرتی تعلقات مضبوط نہیں ہوتے ان کی صلاحیتیں بھی نہیں نکھرتیں۔

ہمیں اپنے خوف کا مقابلہ کرنا ہو گا اور جن وجوہات سے خوف زدہ ہیں ان کو تبدیل کرنے کے لئے کام کرنا ہو گا۔ اس طرح ہم اپنے خوف پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس معاملے میں فلاحی کاموں کے لئے خرچ کرنا بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے خوف میں کمی آتی ہے، دوسروں کے ساتھ تعلقات استوار ہوتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو زیادہ محفوظ خیال کرتے ہیں۔

انفاق کے جسمانی و روحانی فوائد

سائنسدانوں کی تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ دوسروں کی مدد کرتے ہیں وہ جسمانی اور روحانی طور پر زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔ مشی گن یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے محققین کی تحقیق پر مبنی امریکی ہیلتھ میگزین مئی 1988ء کے شمارے میں ایک آرٹیکل لکھا گیا تھا۔ اس آرٹیکل میں بتایا گیا تھا کہ جو لوگ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ان کی صحت دوسروں کی نسبت بہت زیادہ اچھی ہوتی ہے لیکن جو لوگ فلاحی کاموں میں بالکل حصہ نہیں لیتے وہ بیماریوں کا شکار ہو کر جلد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جو لوگ دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور باقاعدگی سے فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں انہیں بے شمار مادی اور روحانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کی مدد بلا کسی معاوضے کے کرتے ہیں انہیں مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

  • انسان کی قوت حیات میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • جسم میں کیسٹرول کا لیول کم رہتا ہے۔
  • دل کو طاقت ملتی ہے۔
  • چھاتی میں درد کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔
  • ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔

اگر ہم فلاحی کاموں کے لئے خرچ کی عادت اپنا لیں تو اس دنیا کو پرامن بنانے میں بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

صلاحیتوں کا درست و بروقت استعمال

مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک حکایت ہے کہ ایک شخص بازار میں جا رہا تھا جب وہ ایک فقیر کے پاس سے گزرا تو کہنے لگا اے خدا مجھے تو نے وہ کچھ کیوں نہیں دیا جو میں ان لوگوں کو دے سکوں۔ آواز آئی کہ میں نے تجھے یہ کیا کم دیا ہے کہ میں نے تجھے تخلیق کیا ہے۔

دراصل اس حکایت کے حوالے سے رومی رحمۃ اللہ علیہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم انسان ہوتے ہوئے بہت سی صلاحیتیں رکھتے ہیں اور ہم ان صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر سب کچھ کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی صلاحیتوں کا بہت کم استعمال کرتے ہیں اس طرح وہ فطرت کے تحائف کو نہیں پا سکتے۔ ایسے لوگ مدد کرنے کی حقیقی طاقت سے نا آشنا رہتے ہیں۔ اگر وہ اس حقیقت کو پا لیں تو ان کی زندگی بدل سکتی ہے جب ہم دوسروں کو کچھ دیتے ہیں یا اپنی ذات کی نشوونما کرتے ہیں تو اس سے دونوں کو بے شمار فائدے حاصل ہوتے ہیں۔

کامیابیاں اور خوشیاں۔۔۔؟

ہر کوئی کامیابی اور خوشیوں کا مطلب جاننا چاہتا ہے۔ اس دنیا کی لاکھوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ چیزیں خود نہیں بدلتی بلکہ انہیں بدلنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کامیابی اور خوشیاں حاصل کرنے کے لئے کوشش کر کے بہت کچھ بدلنا پڑتا ہے اس کی کئی مثالیں ہمیں اپنے معاشرہ میں نظر آتی ہیں کہ ان کی زندگی میں اس وقت بہت بڑی تبدیلی پیدا ہوئی جب انہوں نے مجبوراً بیمار اور مرتے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لئے جدوجہد شروع کی۔ اس سے ان کی زندگی میں بہت سی کامیابیاں اور روحانی خوشیاں در آئیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو دوسروں کے لئے وقف کر دیا۔ انہوں نے تکلیف زدہ لوگوں کی تکالیف کم کرنے میں خود بھی تکلیف اٹھائی لیکن اس تکلیف نے ان کی روحانی خوشی میں بے پناہ اضافہ کیا۔

معروف صوفی ناصرالدین ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص دریا میں گر گیا وہ لوگوں کو مدد کے لئے پکارنے لگا، لوگ اکٹھے ہو گئے اور اس سے کہنے لگے اپنا ہاتھ دو ہم آپ کو بچا لیتے ہیں لیکن اس شخص نے جبکہ وہ ڈوب رہا تھا اپنا ہاتھ نہ دیا۔ آخر ایک شخص نے کہا میرا ہاتھ لو، اس نے اس شخص کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن اس وقت پانی کا بھنور آیا اور وہ ڈوب گیا۔ ڈوبنے والے شخص نے زندگی میں کچھ دینے کی کوشش نہ کی تھی بلکہ عادت کے مطابق ہمیشہ لیتا ہی تھا۔

اگر ہم مایوس یا غم زدہ ہیں تو کوشش کریں کہ کسی کو کوئی خوشی دے سکیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے پاس دینے کے لئے کوئی رقم یا چیز نہیں ہے تو دوسروں کے لئے کام کریں پھر مایوسی اور غم دور ہو جائیں گے اور ہم حقیقی خوشی محسوس کریں گے۔

دوسروں کے لئے جو بھی کام کریں وہ جوش اور ولولے سے کریں۔ ا چھا کام کرنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم میں ایسا کام کرتے ہوئے جوش اور ولولہ نہیں ہو گا تو کام بھی اچھا نہیں ہو گا۔ اگر ہمارا کام بہترین ہو گا تو یقین کریں ہمیں خوشی بھی بہت زیادہ ہو گی۔ ورنہ ہماری توانائی ہی ضائع ہو جائے گی۔

ایک بہت ہی اچھا کاریگر تھا جو خوبصورت گھر تعمیر کیا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے کام سے ریٹائر ہو جائے گا۔ کاریگر نے اس بارے میں اپنے ٹھیکیدار کو بتایا کہ وہ اب ریٹائر ہو رہا ہے کیونکہ اب وہ اپنا وقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر ٹھیکیدار کو افسوس ہوا۔ ٹھیکیدار نے اس کاریگر سے کہا کہ آپ مہربانی فرما کر صرف ایک گھر مزید تعمیر کر دیں۔ کاریگر کا کام کرنے کو تو جی نہیں چاہتا تھا لیکن ٹھیکیدار کے کہنے پر بے دلی سے اس نے کام شروع کر دیا۔ اب جو اس نے گھر تعمیر کیا اس کی دیواریں ٹیڑھی تھیں اور تعمیر کا خام مال بھی بہت ہی گھٹیا تھا۔ جب کاریگر نے اپنا کام مکمل کر لیا تو ٹھیکیدار وہ تعمیر شدہ گھر دیکھنے کے لئے آیا۔ اس ٹھیکیدار نے نئے تعمیرشدہ گھر کی چابی اس کاریگر کے حوالے کی اور کہا یہ گھر تمہارا ہے۔ دراصل میں تمہیں ریٹائرمنٹ پر ایک گھر کا تحفہ دینا چاہتا تھا اس لئے میں نے یہ گھر تعمیر کرنے کے لئے تم سے درخواست کی تھی۔

یہ سن کر کاریگر کو بہت صدمہ ہوا کیونکہ اگر اس کو پہلے معلوم ہو جاتا کہ یہ گھر اس کو تحفے میں دے دیا جائے گا تو وہ اس گھر کو بہت ہی کاریگری اور خوبصورتی سے تعمیر کرتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو کام بے دلی سے کیا جائے وہ کام اچھے نتائج نہیں دیتا۔ ہم بھی ایک طرح کے کاریگر ہی ہیں کیونکہ ہم اپنی زندگی تعمیر کرتے ہیں، زندگی کے منصوبے کو تعمیر کرنا بہت بڑا کام ہے۔

جب ہم دوسروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو وہ بھی ہمارے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں گے اس لئے جو بھی کام کریں بہترین صلاحیتوں سے کریں اس طرح دراصل ہم اپنا ہی مستقبل تعمیر کریں گے۔

امیرانہ زندگی کا حصول

امیر بننے کے لئے بنیادی طور پر دوسروں کی خدمت کرنا ضروری ہے۔ ہمیشہ کوشش کریں کہ اس دنیا کو پہلے سے بہتر کرنا ہے اس طرح تہیہ کر کے ہر کوئی امیر بن سکتا ہے۔ اگر ہم دولت مند ہیں، علم اور ہنر بھی رکھتے ہیں لیکن اس میں سے دوسروں کو نہیں دیتے تو پھر ہم حقیقی طور پر دولت مند نہیں ہیں۔

ہاں اگر ہمارے پاس دولت نہیں ہے لیکن دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو پھر ہم حقیقت میں دولت مند ہیں۔ اس طرح ہمارے پاس خوشی اور دوسروں کی محبت ہو گی جو ہر دولت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ہمارے پاس بہت زیادہ دولت ہے لیکن یہ کسی کے کام نہیں آتی تو پھر اس دولت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک شخص کو رہنے کے لئے کتنے گھروں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ ایک شخص ایک وقت میں کتنی کاروں کو استعمال کر سکتا ہے۔۔۔ اور ایک شخص کتنا زیادہ کھانا کھا سکتا ہے۔۔۔؟ اگر یہ سب چیزیں ہمارے پاس وافر مقدار میں ہیں تو اس سے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

جب ہم اپنی ذات کو نظر انداز کر کے دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو سچی خوشی حاصل کرتے ہیں جو کہ کسی بھی دولت سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔

جب ہم کسی ضرورت مند کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں تو ہماری زندگی میں بھی مثبت تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ کچھ دینے سے پہلے ہی فائدہ حاصل کرنے کی امید لگانا بالکل بے وقوفی ہے۔ کسی کی مدد کرنے سے ایک فطری قانون حرکت میں آتا ہے یہ قانون ہے علت اور معلول کا قانون۔ اس لئے ضروری ہے کہ پہلے انگیٹھی میں لکڑیاں ڈالی جائیں پھر آگ کی گرمی حاصل کی جائے۔

ہم خوشی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

دراصل تمام قسم کی خوشیاں کچھ دے کر دوسروں کی مدد کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہیں۔ اس لئے اگر ہم خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کو خوشیاں دیں۔ ایسی کامیابی جس سے خوشی حاصل نہ ہو بدترین ناکامی کی ایک قسم ہے۔

اگر ہم بہترین صحت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کو دولت دیں۔ صرف دینے سے ہی کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ دوسروں کے لئے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا ہی ہمیں صحیح معنوں میں دولت مند بناتا ہے۔ اگر ہم محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کو محبت دیں اس طرح ہمیں کامیابی پر کامیابی ملے گی۔ ہمیں چاہئے کہ اپنا وقت، علم و ہنر، فہم ادراک دوسروں کو دیں اس سے ہم بہترین دماغی تجربے سے گزریں گے اور طاقتور اور دولت مند ہو جائیں گے۔

اہم نکات :

دنیا میں غم بہت زیادہ ہے لیکن کچھ طریقوں سے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

  • جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں تو اس سے بہت سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح ہم نئے دوست بناتے ہیں، تحفظ کا احساس ہوتا ہے، صحت بہتر ہوتی ہے، خوشیاں حاصل ہوتی ہیں اور ہمیں فخر کا احساس ہوتا ہے۔
  • دوسروں کی مدد کرنے سے تخلیقی صلاحیتیں بڑھتی ہیں۔
  • ہمیں صرف اتنے کی ضرورت ہے جس سے ہم خوش رہ سکیں۔ اپنی ضرورت سے زائد ضرورت مندوں کو دے دینا چاہئے۔
  • ہم جس قدر زیادہ دیں گے ہمارے اندر دینے کی صلاحیت بھی اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اسی قدر ہمیں بھی زیادہ ملے گا یعنی جتنا زیادہ دو گے اتنا ہی زیادہ حاصل کرو گے۔
  • دوسروں کی مدد کرنا اور انہیں کچھ فائدہ دینا ایک خوبصورت تجربہ ہے۔

ہم دوسروں کو کیا دے سکتے ہیں؟

ہمارے پاس دینے کے لئے بہت کچھ ہے، اس میں سے تھوڑا بہت دے سکتے ہیں۔ جب ہم دینے کی طاقت کو استعمال کرتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ہمیں پختہ ارادے کے ساتھ دوسروں کی قدر کو بڑھانا ہو گا پھر ہمیں اپنی توقع سے بڑھ کر ملے گا۔

ہم دوسروں کو کیا کچھ دے سکتے ہیں؟ اس کے لئے پہلے آپ سوچیں کہ آپ کے پاس کون سی صلاحیتیں، ہنر اور ذرائع ہیں۔ اس میں آپ وقت پیسہ، محبت، فہم اور توجہ کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے باغ سے اپنے پڑوسیوں کو سبزیوں کا تحفہ دیتے ہیں تو یہ ان کے لئے بہت بڑا تحفہ ہو گا۔۔۔ اپنے دور پار کے رشتے دار کی ہفتے میں ایک بار فون پر خیریت دریافت کریں گے تو اسکا بہت اچھا تاثر پیدا ہو گا اس پر کوئی زیادہ وقت نہیں صرف ہوتا اور نہ ہی زیادہ پیسہ صرف ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کہ آپ کے کئے ہوئے کام قابل قدر ہوں اور مثبت ہوں، یہ بھی آپ کا دوسروں کے لئے تحفہ ہے۔۔۔ جبکہ مہربانی اور رحم دلی کے جذبات بھی ایک بہت بڑا تحفہ ہیں۔۔۔ ایک طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے اس دنیا کو تبدیل کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ اس کے لئے اس نے بہت خوبصورت فارمولہ پیش کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو کم از کم تین لوگوں کے ساتھ ہمدردی کر کے ان کی مدد کرنی چاہئے اور وہ تین شخص مزید تین لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کریں جیسا ان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس طرح پوری دنیا میں انسانی ہمدردی اور رحم دلی سے ایک ہفتے میں 4782969 لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ ایک خوبصورت آئیڈیا ہے اس سے لوگوں کی تعلیم اور روزگار کا بندوبست بھی کیا جا سکتا ہے اس طرح دنیا میں بہت زیادہ بہتری پیدا کی جا سکتی ہے۔

محبتوں کا فروغ

جو کچھ دیا جائے حقیقی محبت سے دیا جائے۔ محبت اس دنیا کی طاقتور ترین چیز ہے۔ جب ہم دوسروں سے محبت کرتے ہیں تو ہم بنیادی انسانی فطرت کو پورا کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب دوسروں کی مدد کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ اسلام پر زور تاکید کرتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرو اور ضرورت مندوں کا خیال رکھو۔

محبت کی ہر کسی کی ضرورت ہے، اس میں رنگ، نسل، عقیدے اور ثقافت کا کوئی امتیاز نہیں۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ زندگی کے سفر میں ہر کسی کو محبت کی ضرورت ہے جیسے آپ کو محبت کی ضرورت ہے ایسے ہی تمام انسانوں کو محبت کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ بہت ہی تکلیف دہ حالات میں پرورش پاتے ہیں، اس طرح وہ جذباتی زخموں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو محبت کی محرومی ہوتی ہے اور وہ شدید محبت کے طالب ہوتے ہیں۔

ہر انسان بہت ہی پیچیدہ ہے اور اپنی کوشش سے دنیا میں اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ کبھی تو انسان دفاعی رویہ اپناتا ہے، کبھی کسی کو زخمی بھی کر دیتا ہے اور اپنے قریبی عزیزوں کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ اگر ہم ایسے انسانوں کی تکلیف کا اندازہ کریں تو معلوم ہو گا کہ تکلیف کیا ہوتی ہے۔ اس لئے محبت کا غیر مشروط ہونا ضروری ہے۔ محبت ٹوٹے دلوں اور ٹوٹے رشتوں کو جوڑ سکتی ہے۔ جب کسی انسان کو محبت ملتی ہے تو وہ محبت بانٹنا بھی سیکھتا ہے۔

غیر مشروط محبت

محبت کے لئے خوشی سے قربانی دینا پڑتی ہے جیسے والدین اپنے بچوں کی پرورش کے لئے کئی طرح کی قربانیاں دیتے ہیں۔ اگر آپ خود بھی والدین ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ بچوں کی محبت کے لئے قربانیوں کی کتنی لمبی فہرست بنائی جا سکتی ہے۔ محبت ہی ایک ایسا جذبہ ہے جس کے لئے بے شمار قربانیاں دی جا سکتی ہیں۔

محبت کرنے کے لئے کچھ چیزوں کو ترک کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اور اپنی ترجیحات کی اہمیت کو بھی بدلنا پڑتا ہے جیسا کہ بچے کی تکلیف کے لئے اپنی نیند کو ترک کر دینا، ضروری کاموں کو وقتی طور پر ملتوی کر دینا وغیرہ۔ محبت دینے کے لئے کئی بنیادی ترجیحات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ میاں بیوی کے بہترین رشتے کو استوار کرنے کے لئے اپنے ساتھی کے ساتھ غیر مشروط محبت کی جاتی ہے۔ اس وقت کسی رتبے اور مقام کی بجائے ساتھی کی پسند کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ کرنا کچھ آسان نہیں ہے لیکن جو ایسا کر سکے وہ بہت ہی عظیم اور غیر معمولی انسان ہے۔

جب تک بچے نابالغ ہوتے ہیں والدین ان سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں لیکن اس کے لئے والدین کو بہت سی مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں اور یہی غیر مشروط محبت ہوتی ہے۔ غیر مشروط محبت کے لئے بہت زیادہ وقت دینا پڑتا ہے، پرسکون رہ کر اپنے جذبات کو دبانا پڑتا ہے۔ پرسکون رہنے کا مطلب ہے کہ آپ شعوری طور پر اپنے جذبات اور خیالات کو محتاط انداز سے دبائے رکھیں۔ اگر آپ کو محبت کا جواب محبت سے نہیں ملتا تو اس کے لئے آپ کو صبر اور انتظار کی مشقت اٹھانا ہو گی۔ تمام حالات و واقعات کو قابو میں رکھنا ہو گا اور ایک خاص نتیجہ برآمد ہونے تک مسلسل کوشش کرنا ہو گی۔

محبت ذہنی دباؤ کم کرتی ہے۔ آپ کے سوچنے سمجھنے کی قوت بڑھاتی اور دوسروں کے ساتھ رشتوں کو مضبوط کرتی ہے۔ اس میں ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو سمجھا جائے تب ہی آپ ایک اچھے انسان بن سکتے ہیں۔ کسی کے ذہنی سکون کے معیار کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ غصے میں ہوتا ہے۔ غصہ اکثر انسان کے جذبات کو بھڑکا دیتا ہے اور بعد میں اپنے برے ترین نشانات، خوف، غم اور پچھتاوا چھوڑ جاتا ہے۔ اگر آپ ذہنی سکون میں ہوں گے تو آپ اپنے غصے پر قابو پا کر دوسروں سے محبت کرنا سیکھیں گے۔ کبھی اپنے غصے کا دفاع نہ کیجئے بلکہ اس پر قابو پانا سیکھئے ورنہ آپ ہمیشہ غم زدہ رہیں گے۔ ہمیشہ اچھے پہلو پر نظر رکھیں، غلطیوں، کوتاہیوں کو نظر انداز کریں۔ اس سے آپ کے تعلقات زیادہ مضبوط ہوں گے اور آپ کی ذات کی نشوونما ہو گی۔

کیا کیا محبت نہیں ہے

  • بعض دفعہ محبت کے لفظ کا غلط استعمال کیا جاتا ہے آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ
  • وہ دولت سے محبت کرتا ہے۔
  • اسے تو اپنے جوتوں سے پیار ہے۔
  • انہیں تو لڑائی کرنا پسند ہے۔

یہ لفظ محبت کی توہین ہے بلکہ یہاں لفظ محبت بہت ہی کمزور ہو جاتا ہے۔ اپنے اصل معنی اور طاقت کھو دیتا ہے۔ دولت سے محبت کرنا محبت نہیں ہے۔ دولت بنیادی ضرورت نہیں، ہوس ہے اس لئے یہ محبت نہیں ہے۔ مادی چیزوں سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی یہ تو جذبات کی تسکین اور لالچ ہے، اس لئے اس کو محبت نہیں کہا جا سکتا۔ جب انسان بستر مرگ پر ہوتا ہے تو کوئی انسان نہیں کہتا کہ مجھے تو زیادہ اچھے کپڑوں کی ضرورت ہے۔ یہاں وہ محبت کے نہ ملنے کا افسوس کرے گا یا اپنے بچوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرے گا جنہوں نے اس سے محبت نہیں کی تھی۔

فطرت سے محبت کرنا، اپنے بچوں سے محبت کرنا، اپنے کام سے محبت کرنا ان تمام کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہو گی۔ جہاں محبت کی کمی ہو گی وہاں ماحول کشیدہ ہو گا، تمام رشتوں میں غم اور افسوس حاوی ہو گا۔ اگر ہم محبت کے خلا کو پر کردیں تو وہاں سے غم دور بھاگ جائیں گے اور چہرے شادماں ہو جائیں گے۔

موجودہ زمانے میں فلم، ٹیلی ویژن اور گھٹیا ادب نے محبت کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا ہے اس میں دکھایا جاتا ہے کہ کتنی جلدی محبت ہو جاتی ہے اور محبت صرف تشدد سے حاصل کی جاتی ہے، یہ تمام تصورات محبت کو بدنام کرتے ہیں۔ محبت تو ایک لطیف جذبے کا نام ہے۔ یہ دوسروں کے دلوں اور روحوں کو روشن کر دیتا ہے اس لئے جب کسی کو محبت دی جاتی ہے تو اس کے جواب میں محبت لی بھی جاتی ہے۔

محبت کا اظہار

سچی محبت بے لوث ہوتی ہے یہ ہر پابندی سے آزاد ہوتی ہے۔ سچی محبت بہت سی شاندار مثبت تبدیلیاں پیدا کرتی اور انسانی ذات کی نشوونما کرتی ہے۔ سچی محبت وقت سے ماورا ہوتی ہے یہ مسلسل ہوتی ہے اور اس کے اثرات مرنے کے بعد بھی قائم رہتے ہیں۔ محبت کا اظہار لفظوں میں نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی محبت کی گہرائی میں جھانک کر دیکھا جا سکتا ہے۔ محبت دینے اور محبت لینے کے لئے بہت کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم بہت مصروف ہیں اس لئے دوسرے لوگوں سے محبت کے لئے وقت نکال نہیں سکتے۔ لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ محبت حوصلہ بڑھاتی ہے اور غیر مشروط محبت بہت طاقتور ہوتی ہے۔ محبت صلاحیتوں کو بڑھا دیتی ہے اور کام کو آسان کر دیتی ہے۔

محبت ایک عظیم تحفہ ہے جو آپ اپنے قریبی لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ جب ہم کسی کو ماضی کی غلطیوں کے حوالے سے معاف کر دیتے ہیں تو یہ بھی محبت کا اظہار ہے۔ معافی اور معذرت حیرت انگیز مثبت نتائج پیدا کرتے ہیں کیونکہ کوئی انسان بھی کامل نہیں ہے۔ اکثر ہم ان لوگوں کے قریب جانے سے ڈرتے ہیں جنہوں نے ماضی میں آپ کو نقصان پہنچایا ہوتا ہے جبکہ ایسے لوگ آپ کی توجہ اور محبت کے صحیح مستحق ہوتے ہیں۔ جنہیں محبت دے کر آپ مثبت انسان بنا سکتے ہیں۔ معاف کر دینا بھی محبت کا بہترین اظہار ہے اس سے آپ کا خوف بھی ختم ہو جاتا ہے۔

جب ہم دوسرے لوگوں کے سامنے کسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو اس سے نفرت بڑھتی ہے۔ اگر وہی بات ہم اسے اکیلے میں کہیں تو وہ اپنی غلطی کا احساس کر کے آپ سے متفق ہو جائے گا اور اس سے محبت بڑھے گی۔

جب ہم کسی کے دکھ میں شریک ہو کر اس کو حوصلہ دیتے ہیں، اس کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں تو یہ بھی محبت کا بہترین اظہار ہے۔ ہم کسی کی کامیابی پر اسے مبارکباد دیتے ہیں یا مبارک باد کا پیغام بھیجتے ہیں تو یہ بھی محبت کا خوبصورت اظہار ہے۔ ہمارا یہی محبت کا اظہار دوسرے کے حوصلے کو بڑھا دیتا ہے اور پھر دوسرا شخص بھی آپ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ آپ اپنے دوستوں، رشتے داروں اور خاندانوں کے افراد کے لئے جو کچھ عملی طور پر کرتے ہیں یہ بھی آپ کا ان کے لئے اظہار محبت ہے۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau