[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > جون 2013 ء > القرآن: معراج اور شان عبدیت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ماہنامہ منہاج القرآن : جون 2013 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > جون 2013 ء > القرآن: معراج اور شان عبدیت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

القرآن: معراج اور شان عبدیت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا خصوصی خطاب

ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین معاون: محمد طاہر معین

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِه لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰـرَکْنَا حَوْلَه لِنُرِيَه مِنْ اٰيٰـتِنَا اِنَّه هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ.

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے‘‘۔

(بنی اسرائيل:1)

معجزہ قرآن کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جتنے معجزے عطا کئے گئے ان میں سب سے عظیم معجزہ ’’معراج‘‘ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ہر نبی کو اللہ تعالیٰ اس کی امت کے حساب سے معجزات عطا کرتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری و مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی کل تعداد صرف آج کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد تک ہی محدود نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے لے کر آج تک پچھلی پندرہ صدیوں میں جتنی امت ہوئی، اس ساری تعداد کو جمع کرلیں، پھر قیامت تک چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو بڑھتے رہنا ہے اور قیامت تک سارے زمانوں کا ادراک نہیں کیا جاسکتا کہ قیامت کو کتنے زمانے رہ گئے ہیں اور ان زمانوں میں امتِ مسلمہ کی کتنی تعداد ہوگی؟ یہ بھی ہمارے حساب و کتاب کے احاطہ میں نہیں آسکتا۔ لہذا کل عدد امت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیامت تک مکمل ہوگا۔ کثرتِ امت کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اﷲ عنھما نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُوْنَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُوْنَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الْامَّةِ، وَارْبَعُوْنَ مِنْ سَائِرِ الْامَمِ.

’’جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اسی (80) صفیں میری اُمت کی ہوں گی اور باقی تمام امتوں کی صرف چالیس (40) صفیں ہوں گی۔‘‘

(جامع ترمذی، کتاب صفة الجنة، ج4، ص683، رقم 2546)

یہ صفوں کا تعین مسجدوں والی صفوں کا نہیں ہے بلکہ یہ جنت کی صفیں ہیں اور جنت کی تعریف کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ.

(آل عمران:133)

’’جس کی وسعت میں سب آسمان اور زمین آجاتے ہیں‘‘۔

ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد وجود میں آنے والی امت کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ سب انبیاء اور ان کی امتیں بھی امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شامل ہیں۔

مقام معجزہ معراج

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ معراج کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس معجزہ کے بیان کو قرآن مجید کا حصہ بنایا۔ افسوس! کہ ہمارے ہاں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سمجھنے کا رواج موجود نہیں۔ اگر قرآن مجید سمجھا ہوتا تو آج ہر مسجد میں معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے محافل کا انعقاد ہوتا۔ ہر قوم اپنے مقدس ایام کو مناتی ہے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارا دامن اس حوالے سے شکوک و شبہات اور بحث و مباحثہ سے اٹا پڑا ہے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے رب سے ملاقات کی ایسی رات آئے جس سے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کا سب سے منفرد اور عظیم اظہار ہو، آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے بڑھ کر خوشی اور مسرت میسر آئے لیکن امت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کو نہ منائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس دین کا پرچار کرتے ہیں۔۔۔؟ وہ اسلامک سنٹر، مسجدیں اورعلماء جن کو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کے ساتھ خوشی نہیں، ان کی عظمت کا سن کر ان کے دل خوش نہیں، کس دین کے علمبردار بنتے ہیں۔۔۔؟ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی عظمت کا ذکر قرآن مجید بھی بیان کررہا ہے۔

افسوس! ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل اس مقام کی عظمت کو بھول گئے اور یہ سمجھتے ہیں کہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانا، محافل کے انعقاد کا تعلق ایمان سے نہیں ہے اور یہ صرف برصغیر میں پیدا ہونے والی بدعت ہے حالانکہ معجزہ معراج قرآن و حدیث سے ثابت، ائمہ سے تواتر کے ساتھ مذکور اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سارے معجزات میں قرآن کے بعد سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کیا حضور کی امت کے علماء، ائمہ، خطباء، سکالرز پر یہ فرض نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جس معجزہ کو اللہ بیان کررہا ہے، ماہ رجب آئے تو اپنی مسجدوں میں بھی اس کو محبت کے ساتھ بیان کریں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ معراج کا سارا مہینہ گذر جائے اور ہم معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان نہ کرسکیں جبکہ اللہ ا س کو قرآن کا حصہ بنارہا ہے۔

اسلام کی باتیں کرنے والے اس کا ذکر ہی نہیں کرتے اور نئی نسلوں کو خبر ہی نہیں کہ معراج کیا ہے۔ اسلام کی ایسی دعوت جو محبت و عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خمیر سے نہ اٹھے، اللہ رب العزت ہر گز قبول نہیں فرماتا۔ یاد رکھیں! دنیا کے جدید سے جدید علوم کا حصول بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا نہیں، فقط ’’ایمان‘‘ ہی اللہ تعالیٰ کی شدید گرفت سے ہمیں بچاسکتا ہے اور ایمان درحقیقت تعلق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے۔

آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ میری امت کے آخری زمانے میں وہ وقت آئے گا کہ مسجدیں لوگوں سے بھری ہوئی ہوں گی مگر مومن ایک بھی نہیں ہوگا‘‘۔

(شرح عقائد اهل السنة)

اس حدیث مبارکہ میں آج کے زمانے کی بات ہورہی ہے کہ وہ مسجد میں آنے کے باوجود مومن کیوں نہیں ہوں گے حالانکہ وہ مسجد میں تفریح کرنے تو نہیں آئے، ان میں کوئی مسجد میں آکر نماز پڑھ رہا ہے، وعظ و تبلیغ ہورہی ہے، خطاب ہورہا ہے۔ یہ سب کچھ ہورہا ہے مگر چونکہ خدا کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات نہیں ہورہی، اس لئے فرمادیا کہ مسجدیں بھری ہوں گی مگر وہ مومن نہ ہوں گے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت، رفعت اور مقام و مرتبہ کا ذکر آئے تو بدعت و شرک کے فتوے لگاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و مقام و مرتبہ کو قرآن مجید میں جابجا بیان فرمارہا ہے۔ انہی تذکرہ ہائے عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک تذکرہ معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا۔

نفی تعجب و اعجاب

سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِه لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰـرَکْنَا حَوْلَه لِنُرِيَه مِنْ اٰيٰـتِنَا اِنَّه هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ.

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے‘‘۔

(بنی اسرائيل:1)

اس آیت کریمہ کا آغاز اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’سبحان‘‘ سے دو وجوہات کی بناء پر کیا:

1۔ نفی تعجب

2۔ نفی اعجاب

1۔ نفی تعجب کفار و مشرکین، منکرین، شک کرنے والے اور عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ناواقف لوگوں کے لئے ہے۔ اس لئے کہ معراج کا سن کر اس وقت کئی لوگ مرتد ہوگئے۔ وہ لوگ جنہیں معلوم نہ تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کتنی بلند ہے، انہوں نے اسلام تو قبول کرلیا تھا لیکن شان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا تصور ان کے ذہنوں میں نہ تھا۔ معجزہ معراج پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو اس سفر پر تعجب نہ کرو کہ اتنے کم وقت میں کوئی اتنے مراحل کیسے طے کرسکتا ہے، کیونکہ یہ دعویٰ میں نے کیا کہ میں اپنے محبوب کو لے گیا، اب جو انکار کرتا ہے کہ عالم بیداری میں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج پر نہیں گئے، یہ ممکن نہیں، گویا وہ اپنے ایمان کو برباد کررہا ہے اس لئے کہ وہ ناممکن قولِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں کہہ رہا بلکہ وہ اعلان خدا کو ناممکن کہہ رہا ہے اور وہ خدا کی قدرت کو چیلنج کررہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’سبحان‘‘ کے ذریعے سفر معراج کے انکار کی وجہ کی جڑ کاٹ دی کہ کوئی میرے محبوب کے معجزہ معراج کا انکار نہ کرے۔ کوئی میرے محبوب کی عظمت پر شک نہ کرے چونکہ یہ دعویٰ ان کا نہیں بلکہ میرا ہے لہذا تعجب کی ضرورت نہیں۔ پس سبحان سے واقعہ معراج کا بیان آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے دفاع اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے تحفظ کے لئے ہے۔

2۔ معجزہ معراج کے بیان کا ’’سبحان‘‘ سے آغاز کا دوسرا مقصد ’’نفی اعجاب‘‘ ہے۔ عجب، تکبر کو کہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ معراج کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو تعلیم دی گئی کہ کوئی جتنا بڑے سے بڑا رتبہ پائے وہ یہ نہ کہے کہ مجھے یہ مقام حاصل ہوا، بلکہ کہے کہ اللہ نے عطا فرمایا۔ امت کو تعلیم دی کہ اتنا بڑا کرم ہوجائے، خدا کی بارگاہ کی حاضری ہوجائے۔۔۔ مکہ سے القدس جائیں۔۔۔ یکے بعد دیگرے ساتوں آسمانوں کے دروازے کھلیں۔۔۔ سدرۃ المنتہاء سے عرش معلی تک پہنچے۔۔۔ پھر رف رف پہ بیٹھ کر مقام ثم دنی فتدلی۔ کے قرب سے ہمکنار ہوئے۔۔۔ پھر ماذاغ البصر وماطغیٰ۔ کا مقام حاصل ہوا۔۔۔ آمنا سامنا ہوا، پردے اٹھادیئے گئے۔۔۔ محبوب کا دیدار کرکے واپس پلٹ آئے۔۔۔ واپس پلٹے تو وقت کی اکائی وہیں کھڑی تھی جہاں چھوڑ کر گئے۔۔۔ الغرض خدا کی بارگاہ سے اتنا عظیم کرم بھی ہوجائے تب بھی بندے کی شان یہ ہے کہ وہ یہ نہ کہے میں نے دیکھا۔۔۔ میں وہاں گیا۔۔۔ اور میں پلٹ کر آیا۔۔۔ نہیں، بلکہ اپنی ذات کی نفی کردے اور محبوب کی ذات میں اپنی ذات کو فنا کردے۔ بندہ وہ ہے جس پر اللہ کا بہت بڑا کرم بھی ہوجائے تو یہی کہے کہ میرا رب لے گیا، میں تو اس قابل نہ تھا۔

پہلا نقطہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت کے دفاع کے لئے تھا اور دوسرا نقطہ امت کی تعلیم و تربیت کے لئے تھا کہ اتنا بڑا اعزاز ملا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعویٰ نہیں کیا کہ میں گیا جبکہ دوسری طرف ہماری حالت یہ ہے کہ اگر ہم پر اللہ کا کوئی خاص کرم ہوجائے تو ہم یہ دعوے کرنے لگتے ہیں کہ یہ سب کچھ میں نے کیا۔۔۔ یہ میری اپنی محنت ہے۔۔۔ مجھے یہ موقع مل گیا۔ اگر نسبت اپنی طرف رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اندر سے ’’میں‘‘ ختم نہیں ہوئی۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑی عظمت والا کون ہے جو ثم دنی فتدلی کے مقام پر گئے اور اتنی بڑی عظمت پاکر بھی فرمایا کہ رب لے گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے امت کو تعلیم دی کہ بڑے سے بڑا فضل ہوجائے، سارے پردے بھی اٹھ جائیں تو اللہ والوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ چپ رہتے ہیں اور اس کرم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ نفی اعجاب ہے کہ بندہ یہ سمجھے کہ میرا کچھ نہیں۔ وہی مالک ہے جس کو چاہے لے جائے، میرا کوئی کمال نہیں، ہر نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرے، ہر فضل کو اللہ کی طرف منسوب کرے، یہ کمال بندگی ہے۔

مقامِ عبدیت

اس آیت کریمہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت کا ذکر بھی موجود ہے۔ آیت کریمہ میں یہ نہیں فرمایا کہ اسریٰ بنبی وہ ذات اپنے نبی کو لے گئی۔۔۔ اسریٰ برسولہ وہ ذات اپنے رسول کو لے گئی۔۔۔ اسریٰ بمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ذات اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے گئی۔۔۔ بلکہ فرمایا اسریٰ بعبدہ وہ ذات اپنے محبوب و مقرب بندے کو لے گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لفظ ’’عبد‘‘ کا انتخاب کیا۔ جب سفر کی ابتداء ہوئی اور مکہ معظمہ سے چلے تو ابتداء ہی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ’’عبدہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ فرمایا۔ جب سفر کی انتہاء ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانیں، عظمتیں، رفعتیں، مقامات اس آخری نقطہ کمال تک جاپہنچے تو وہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ابتداء میں اختیار کئے گئے لفظ ’’عبد‘‘ کو ہی اختیار فرمایا۔ ارشاد فرمایا:

فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِه مَآ اَوْحٰی.

(النجم:10)

’’پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی‘‘۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے تب بھی ’’عبد‘‘ تھے اور قرب الہٰی میں فکان قاب قوسین کے مقام پر تشریف فرما ہوئے تب بھی ’’عبد‘‘ ہی رہے۔ جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچ کر بھی عبدیت سے باہر نہیں گئے تو اس سے امت کو یہ تعلیم دینا مقصود تھا کہ بندے کا جتنا بھی کمال ہوجائے وہ اللہ کا بندہ کہلائے۔ اللہ کا بندہ ہونا، اس سے بڑا کوئی کمال نہیں۔

اظہارِ عبدیت۔۔ قربِ الہٰی کا باعث

امام فخرالدین رازی ’’تفسیر الکبیر‘‘ اور علامہ آلوسی نے ’’روح المعانی‘‘ میں فرماتے ہیں:

حضرت بایزید بسطامی نے ایک روز اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا:

ماوجدت شيئا يتقرب به

’’کوئی ایسی چیز مجھے (حال/صفت) بتا جس کو اپناؤں تو تیرا بہت زیادہ قرب نصیب ہوجائے‘‘۔

(آلوسی، روح المعانی ج15، ص50)

باری تعالیٰ! میں نے ہر ہر صفت اپنانے کی کوشش کی مگر جس صفت کو میں نے اپنایا تجھے اس میں کمال پر دیکھا۔ میں نے کوشش کی کہ سخی ہوجاؤں، سخی ہوگیا مگر تجھے سخاوت میں کمال پر دیکھا۔۔۔ عالمِ ہوا تو میں نے تجھے علم میں کمال پر دیکھا۔۔۔ معافی و درگزر کو اپنایا تو تجھ سے بڑا معاف کرنے والا کوئی نہ دیکھا۔۔۔ ہادی بنا تو تجھے ہادی دیکھا۔۔۔ شفیق بنا تو تجھے شفقت فرمانے والا دیکھا۔۔۔ لوگوں کو عطا کیا تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا تجھے دیکھا۔۔۔

الغرض ہر ہر صفت اپنانے کی کوشش کی مگر ہر ایک کے اندر تیری اولیت کی شان دیکھی۔ اے میرے مولا! میں کس صفت کے ذریعے تیرا قرب حاصل کروں؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا:

تقرب اِلّی بما ليس لی.

’’اے بایزید! وہ صفت اپنا جو مجھ میں نہیں۔ میں تمہیں قریب کرلوں گا‘‘۔

عرض کرتے ہیں:

يارب ماالذی ليس لک.

’’اے میرے رب وہ کونسی نعمت ہے جو تیرے خزانے میں نہیں‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے جواب دیا:

العبديت والذلت والافتقار.

میرے پاس بندگی نہیں، اس لئے کہ بندگی نام ہے جھک جانے کا اور میں جھکنے والا نہیں ہوں۔۔۔ بندگی نام ہے کمزوری و تواضع کا اور میں کمزوری اور تواضع سے پاک ہوں۔۔۔ بندگی نام ہے انکساری کا، میں انکساری سے پاک ہوں۔۔۔ بندگی نام ہے مانگنے کا جبکہ میں تو دینے والا ہوں۔۔۔ پس ایسی صفت کے ذریعے میرے پاس آ جو میرے پاس نہیں اور وہ صفت صرف بندگی ہے۔ بندگی کا لباس پہن کر میرے پاس آؤ۔ تمہیں اپنے قریب کرلوں گا۔۔۔ کمال تواضع، کمال انکساری، کمال خشوع، کمال خضوع اور سراپا بندگی بن کر میرے پاس آ۔۔۔ تو میرا بن کر آ، تجھے قریب کرلوں گا۔۔۔ یہ قرب کی عظمت ہے۔ قرب کا کمال عبدیت و بندگی میں ہے۔ انسان کا کمال کسی صفت میں نہیں جتنا کمال بندگی و عبدیت میں ہے جو عاجز ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو کمال عطا کرتا ہے۔

اگر کوئی شخص اللہ کی خاص شانیں اپنانا چاہے تو اللہ پاک اس کو رد کردیتا ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا:

کَذٰلِکَ يَطْبَعُ اﷲُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ.

’’اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) سر کش کے دل پرمُہر لگا دیتا ہے‘‘۔

(المومن: 35)

غفار والی شان میں کوئی حصہ لینا چاہے تو رب خوش ہوتا ہے لیکن کبریائی اللہ کی شان ہے۔ جس نے اس کو چھیننے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ اسے عبرتناک انجام دے دوچار کرتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا فرمان ہے:

’’کبریائی میری چادر ہے‘‘۔

عبدیتِ مطلقہ

معراج چونکہ عظیم ترین معجزہ کا بیان ہے، اس لئے اس بیان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ’’عبد‘‘ کے عنوان سے وہ لقب چنا جس سے بڑا لقب خدا کے ہاں کوئی نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام نہ لیا بلکہ فرمایا: سُبْحٰنَ الَّذِيْ، پاک ہے وہ ذات۔ اسی طرح اس آیت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بھی نہ لیا بلکہ فرمایا: ’’عبدہ‘‘ (اپنا بندہ)۔ ساری بات راز میں کی، نام نہ لینا اور ’’عبدہ‘‘ کہنا یہ ’’عبدیت مطلقہ‘‘ ہے۔ اس کا مطلب ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبدیت میں اتنے بلند ہوئے کہ اللہ کی بندگی میں فنا ہوگئے۔ جب خدا کی ذات میں بندہ فنا ہوجاتا ہے اور اس کا کچھ بھی نہیں رہتا تو پھر ’’عبد‘‘ نہیں رہتا بلکہ وہ ’’عبدہ‘‘ ہوجاتا ہے اور اسے عبدیت مطلقہ نصیب ہوجاتی ہے۔

الحمد سے والناس تک پورے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نمایاں نظر آتی ہے کہ جتنے انبیاء و رسل کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے علاوہ کسی ایک پیغمبر کو بھی نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ کہہ کر نہیں پکارا۔ سارے قرآن میں بغیر نام اور عنوان کے فقط عبدہ کہہ کر پکارنا اور نام نہ لینا یہ عبدیت مطلقہ کا منصب اعلیٰ صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیا۔

نام بیان ہوا نہ کوئی اور عنوان بیان ہوا فقط عبد مطلق کی یہ شان کسی اور کو پیغمبر نہیں عطا کی گئی۔ آیئے! اس تناظر میں آیات قرآنی کا مطالعہ کرتے ہیں:

حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاودَ ذَا الْاَيْدِ اِنَّـه اَوَّابٌ.

’’اور ہمارے بندے داؤد (ں) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے‘‘۔

(ص:17)

اس آیت میں حضرت داؤد علیہ السلام کا نام لے کر انہیں بندہ کہا، عبدیت مطلقہ کا ذکر نہیں کیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَاذْکُرْ عَبْدَنَآ اَيُوبَ اِذْ نَادٰی رَبَّه اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ.

(ص:41)

’’اور ہمارے بندے ایّوب (ں) کا ذکر کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے بڑی اذیّت اور تکلیف پہنچائی ہے‘‘۔

جب بھی اللہ نے کسی پیغمبر کو اپنا بندہ کہا تو خالی اپنا بندہ نہیں کہا بلکہ نام لیا۔ نام و عنوان کے ساتھ شان عبدیت دی۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَه زَکَرِيًّا.

(مریم:2)

’’یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے (جو اس نے) اپنے (برگزیدہ) بندے زکریا (ں) پر (فرمائی تھی)‘‘۔

یہاں بھی نام کے ساتھ عبد کا عنوان دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

کَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَکَذَّبُوْا عَبْدَنَا.

’’اِن سے پہلے قومِ نوح نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ سو انہوں نے ہمارے بندہ (مُرسَل نُوح ں) کی تکذیب کی ‘‘۔

(القمر:9)

شان عبدیت کے ذکر کے ساتھ ان کا نام و عنوان قائم رکھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرمایا:

وَوَهَبْنَا لِدَاووْدَ سُلَيْمٰنَ نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّـه اَوَّابٌ.

’’اور ہم نے داؤد (ں) کو (فرزند) سلیمان (ں) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے‘‘۔

(ص:30)

حضرت سلیمان کا ذکر ’’نعم العبد‘‘ سے کیا مگر نام بھی ساتھ بیان فرمایا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

لَنْ يَسْتَنْکِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَکُوْنَ عَبْداً ِّﷲِ وَلاَ الْمَلٰئِکَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ.

(النساء:172)

’’مسیح (ں) اس (بات) سے ہرگز عار نہیں رکھتا کہ وہ اﷲ کا بندہ ہو اور نہ ہی مقرب فرشتوں کو (اس سے کوئی عار ہے) ‘‘۔

الغرض جس بھی پیغمبر کی اللہ نے ’’میرا بندہ‘‘ یا ’’ہمارا بندہ‘‘ کہہ کر شان عبدیت کا ذکر کیا اس کا نام ساتھ ضرور لیا۔ جبکہ قرآن مجید میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت کا ذکر دیگر انبیاء سے قطعی مختلف ہے۔ ارشاد فرمایا:

سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِه لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا.

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی‘‘۔

(بنی اسرائيل: 1)

یہاں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نہیں لیا بلکہ سب کچھ ان کی عبدیت میں فنا کردیا۔ فنائے تام کا مقام حاصل ہوگیا، عبدیت صرف کامل نہ رہی بلکہ کامل ہوکر عبدیت مطلقہ ہوگئی۔

دوسرے مقام پر فرمایا:

فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِه مَآ اَوْحٰی.

’’پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی‘‘۔

(النجم:10)

نام نہیں لیاصرف ’’عبدہ‘‘ کہہ کر پکارا۔

قرآن کی حقانیت بارے کفار کو چیلنج کیا تو فرمایا:

وَاِنْ کُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه.

(البقرة:23)

’’اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ‘‘۔

اس میں بھی نام نہیں لیا بلکہ سب کچھ عبدیت مطلقہ میں فنا کردیا۔ ایک اور مقام پر عبدیت مطلقہ کو یوں بیان فرمایا:

اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاﷲِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ.

(الانفال: 41)

’’اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی ‘‘۔

پھر ارشاد فرمایا:

اَلَيْسَ اﷲُ بِکَافٍ عَبْدَه

(الزمر:36)

’’کیا اللہ اپنے بندہ (مقرّب نبیِّ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو کافی نہیں ہے؟ ‘‘۔

یہاں بھی نہ عنوان کا ذکر کیا اور نہ نام لیا فقط عبدیت مطلقہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔

المختصر قرآن مجید کے متعدد مقامات (الکہف:1، الفرقان:1، الحدید:9) پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت مطلقہ کا اظہار فرمایا۔ ایک مقام بھی ایسا نہیں جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت کا ذکر نام کے ساتھ کیا ہو اور نہ کوئی آیت ایسی ہے جہاں کسی ایک پیغمبر کی عبدیت کا ذکر اس کے نام کے بغیر ذکر کیا ہو۔

تعلقِ عبدیت میں اضافہ کیسے؟

تعلقِ بندگی میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے؟

اس کی مثال چراغ کے سامنے کھڑے انسان اور اس کے سایہ کی ہے۔ جس طرح سایہ انسان کے ساتھ رہتا ہے، بندگی بھی انسان کے ساتھ رہتی ہے۔ انسان اگر چراغ کے سامنے کھڑا ہو تو وہ اپنا سایہ دیکھ سکتا ہے۔ وہ چراغ سے جتنا دور ہوتا جائے گا اس کا سایہ اتنا چھوٹا ہوتا جائے گا اور چراغ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا۔ اس کا سایہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا۔ اس طرح اللہ کے نور کا چراغ بھی ہے۔ ارشاد فرمایا:

اَﷲُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ.

(النور:35)

’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘۔

بندہ اللہ کے نور سے جتنا دور ہوتا جائے گا تو مثلِ سایہ اس کی بندگی بھی چھوٹی اور کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگر شوق ہو کہ اس کی بندگی کو کمال ملے تو وہ جتنا اللہ کے قریب ہوتا چلا جائے گا تو مثلِ سایہ بندگی میں باکمال ہوجائے گا۔ بندگی کا بڑھنا اور کم ہونا اللہ کے ساتھ قرب اور بُعد کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔

آق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عبدیت مطلقہ عطا فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اتنے قریب کیا جیسے چراغ کے بہت قریب ہوجائیں تو سایہ بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، یہ اس وقت تک بڑھتا ہے جب تک قرب کے اندر ایک بُعد رہے۔ اگر آپ چراغ سے جڑ جائیں اور فاصلہ نہ رہے تو سایہ ختم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا قریب کیا کہ اپنے اور محبوب کے درمیان عبد و معبود کے علاوہ تمام فرق مٹا ڈالے اور فاصلے ختم کردیئے اور فکان قاب قوسین او ادنی کے مقام پر کھڑا کیا تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ رہا۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چراغ و نور حق کے اتنے قریب گئے تھے کہ سایہ ہونے کے لئے جتنے فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ فاصلہ نہ رہا تھا۔ سایہ ہونے کے لئے قرب چاہئے اور قرب میں بھی کچھ فاصلہ چاہئے کہ سایہ بن سکے۔

یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ جب روشنی نکلتی ہے تو روشنی کو آگے بڑھنے کے لئے جگہ درکار ہوتی ہے لیکن سامنے اگر کوئی وجود آجائے تو اس وجود سے روشنی گزر نہیں سکتی۔ نتیجتاً اردگرد سایہ بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا قریب کرلیا کہ سائے کے لئے جتنا فاصلہ چاہئے تھا وہ فاصلہ بھی نہ رہا۔ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو Transparent (شفاف) بنادیا کہ جسم اقدس میں کثافت نہ رہی۔ جس طرح نور باہر سے گزر رہا تھا اسی طرح مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی گزر رہا تھا۔

بلب کی روشنی کے ذریعے کمرے میں پڑی ہوئی ہر شے کا سایہ بنتا ہے مگر بلب کا اپنا سایہ نہیں بنتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ نور کو آگے پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ جسم مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب کائنات نے اپنے نور کا بلب بنادیا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو قرب کا وہ مقام عطا کردیا کہ فاصلہ نہ رکھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت اس مقام پر پہنچی کہ بے سایہ ہوگئی۔ بے سایہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نام و عنوان فنا ہوگئے۔ جب عبدیت مطلقہ ہوئی تو نام و عنوان، اس ذات مطلق میں فنا ہوگئے اور عبدیت محمدی، عبدیت مطلقہ کے مقام پر فائز ہوئی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فعل بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اللہ کی محبت ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب اللہ کا ادب ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اللہ کی اطاعت۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے۔۔۔ جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوگئے وہ لوگ حقیقت میں اللہ کے ہوگئے۔۔۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت مطلق اس مقام پر ہے جہاں نام و عنوان فنا ہوجاتے ہیں اور جب حالت عبدیت مطلقہ ہو تو پھر عبد و معبود کے علاوہ تمام فرق مٹ جاتے ہیں۔

معراجِ موسوی و محمدی میں فرق

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ نے کوہ طور پر معراج سے نوازا۔ نہیں جب معراج پر بلایا تو فرمایا:

وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰی لِمِيْقَاتِنَا.

(الاعراف:143)

’’اور جب موسیٰ (ں) ہمارے (مقرر کردہ) وقت پر حاضر ہوا ‘‘

حضرت موسیٰ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ باتیں کرنے کا وقت مقرر فرمایا۔ آپ علیہ السلام مقررہ وقت پر حاضر ہوتے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی معراج تھی لیکن جب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری آئی تو فرمایا:

سبحان الذی اسریٰ بعبدہ وہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے لئے کہا وہ آگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ لے گیا۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے لئے سواری بھی نہ بھیجی اور نہ بلایا بلکہ وہ خود مقررہ جگہ پر مقررہ وقت پر حاضر ہوتے رہے۔ یہ عبدیت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عبدیت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان فرق ہے۔ نہ سواری بھیجی، نہ کسی کو لانے کا کہا اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جبرائیل کو کہا جاؤ اور سواری کے لئے براق ساتھ لے جاؤ۔

معراج اور مصاحبتِ الہی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اسریٰ بعبدہ وہ ذات اپنے بندے کو لے گئی۔ یاد رکھیں کہ اسریٰ کے لفظ کے ساتھ ’’ب‘‘ لگانا ضروری نہیں۔ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ سبحان الذی اسریٰ عبدہ اپنے بندہ کو سیر کرائی۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

يُسَيِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ.

(يونس:22)

’’جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے (کی توفیق) دیتا ہے‘‘۔

یہاں یہ فرمایا کہ میں سیر کراتا ہوں مگر یہ نہیں فرمایا یسیر بکم، ’’ب‘‘ کا حرف نہیں لگایا۔ جب عام بندوں کی بات کی تو ساتھ ’’ب‘‘ نہیں لگایا مگر جب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کی تو اسری بعبدہ فرماکر اسری کے ساتھ ’’ب‘‘ لگائی۔ ’’ب‘‘ مصاحبت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

بتانا یہ مقصود تھا کہ معراج کی رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بظاہر جبرئیل و براق بھیجا مگر حقیقت میں، خود خدا لینے آیا تھا۔ اس سفرِ معراج میں خدا خود ساتھ تھا اس لئے کہ کسی مرحلے پر محبوب کو تکلیف نہ ہو۔ وہ ہر وقت ساتھ رہا کہ جب اجنبیت محسوس ہونے لگے تو محبوب دیدار کرلے تاکہ اجنبیت اور محبوب کو پردیس محسوس نہ ہو۔

بعض لوگوں کے ذہنوں میں سوال آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ساتھ کیسے ہوگیا۔۔۔؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح ساتھ تھا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کو یہ دعا سکھائی کہ

اللهم انت صاحب فی السفر.

’’اے اللہ تو سفر میں ہمارے ساتھ ہے‘‘۔

(صحيح مسلم، کتاب الحج، ج، ص978، رقم 1342)

جب عام مسلمان سفر میں ہو تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے تو معراج کی رات اللہ تعالیٰ، مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیوں نہیں ہوسکتا۔ پس وہ اپنی شان کے لائق، اپنی مدد و نصرت، لطف و عنایت اور ہدایت کے ساتھ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے۔ اس کا ساتھ ہونا اس کی شان کے لائق ہے، اس کا ساتھ ہونا انسانوں کے باہم ساتھ ہونے جیسا نہیں ہے۔ قرآن مجید نے اس کی وضاحت یوں فرمائی:

وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ.

(ق:16)

’’اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں‘‘۔

وہ شہ رگ کے قریب ہے اور کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمہ وقت ہمارے ساتھ ہے مگر نظر نہیں آتا۔ اسی طرح جب ہمارے ساتھ ہو تو نظر نہیں آتا مگر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ساتھ لے گیا تو انہیں ہر لمحہ نظر آتا تھا تاکہ اجنبیت محسوس نہ کریں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ابتداء سفر سے لے کر انتہاء سفر تک اللہ نے اپنی مصاحبت دی۔ ابتداء میں بھی فرما اسریٰ بعبدہ میں ساتھ ہوں اور جب سفر مکمل ہوگیا، انتہاء ہوگئی اور مقام ثم دنی فتدلی تک پہنچے وہاں بھی خدا نے بڑھ کر استقبال کیا۔

حضرت موسیٰ کو چلتے ہوئے ساتھ لینے کوئی آیا نہ کوہ طور پر استقبال کے لئے کوئی آیا مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچنے پر فرمایا ثم دنیٰ محبوب یہاں تک آپ آئے ہیں، اب رک جائیں اس سے آگے لینے کے لئے میں آتا ہوں۔۔۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ

دنی الجبار رب العزت فتدلی.

’’اللہ رب العزت قریب ہوا اور پھر مزید قریب ہوا‘‘۔

(صحيح بخاری، کتاب التوحيد، ج6، ص2731، رقم7079)

فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی.

(النجم:9)

’’پھر (جلو حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںصِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا) ‘‘۔

اللہ تعالیٰ ابتداء اور انتہاء دونوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے۔ یہی دیگر پیغمبروں کی بندگی اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بندگی میں فرق ہے۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau