[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > جولائی 2013 ء > القرآن: تعلیمات تصوف اور اصلاح احوال
ماہنامہ منہاج القرآن : جولائی 2013 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > جولائی 2013 ء > القرآن: تعلیمات تصوف اور اصلاح احوال

القرآن: تعلیمات تصوف اور اصلاح احوال

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا خصوصی خطاب

ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین معاون: محمد طاہر معین

اللہ تعاليٰ نے ارشاد فرمایا:

اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اﷲِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ.

(يونس:۶۲)

’’خبردار! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے‘‘۔

تمام آئمہ سلوک و تصوف صاحبان کشف ہونے کے ساتھ ساتھ محدث اعظم، فقیہہ اعظم اور شریعت کے امام بھی تھے۔ ان کی فقیری، زہد و ورع، عاجزی اور انکساری کو دیکھ کر ان کی تعلیمات کو رد کرنا درست نہیں۔ان اولیاء میں ایک نمایاں مقام حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو روحانیت کے اعليٰ مرتبے پر فائز تھے۔

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کا علمی مقام و مرتبہ

آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور روحانی شاگرد تھے۔ آپ صوفیاء اور عرفاء کے امام تصور ہوتے تھے اور اہل معرفت و سلوک آپ کو امام البغدادیین کہتے تھے۔ آپ کا شمار تیسری صدی کے اکابر اولیاء اللہ میں ہوتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت شقیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ جیسے کبار اولیاء موجود تھے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت سری سقطی کو کن اعليٰ مقام و مرتبے کے حامل بزرگوں کی صحبت و مجلس حاصل رہی۔ آپ پہلے شخص تھے جنہوں نے توحید کے موضوع پر کلام کیا۔ فن حدیث، اسماء الرجال اور جرح تعدیل کے تمام ائمہ کرام بھی انہیں اپنا امام مانتے تھے مگر ان کا یہ مقام ان کے غلبہ حال کی بناء پر مشہور نہ ہوسکا حالانکہ ان کی اپنی سند حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل ہے جو اس طرح ہے:

حضرت امام سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں امام محمد بن معن الغفاری (جو کتبِ حدیث میں ابو یونس امازنی کے نام سے مشہور ہیں) سے۔۔۔ وہ روایت کرتے ہیں امام خالد بن سعید سے۔۔۔ وہ روایت کرتے ہیں امام ابو زینب موليٰ حازم رحمۃ اللہ علیہ سے۔۔۔ اور وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حازم حرملۃ الغفاری سے روایت کرتے ہیں۔

اس طرح حضرت حازم رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان صرف تین واسطے ہیں اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بھی شامل کرلیں تو ان کی روایت رباعیات کے درجہ میں ہے۔

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے نامور اور ثقہ ائمہ حدیث سے روایت کیا اور کئی نامور محدثین نے ان سے روایت کیا۔ آپ نے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت ھشیم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت علی بن غراب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت یزید بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ سے احادیث کو روایت کیا اور یہ سب صحیح بخاری و مسلم کے رواۃ میں سے ہیں۔ دوسری طرف آپ سے حدیث کی روایت لینے والوں میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت عباس بن مسروق رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت ابراہیم المخزومی رحمۃ اللہ علیہ (حضور غوث الاعظم کے شیوخ میں شامل) ہیں۔آپ کا ذکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ بغداد میں۔۔۔ امام سلمی رحمۃ اللہ علیہ نے الطبقا ت الصوفیاء میں۔۔۔ امام ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃالائو لیا ء میں۔۔۔ امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے الرسالہ القشیریہ میں۔۔۔ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے صفوۃ الصفوہ میں۔۔۔ امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے السیر اعلام النبلاء میں۔۔۔ اور امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے لسان المیزان میں کیا۔ طبقات المحدثین اور طبقات الصوفیا ء کی کتابیں بتانے کا مقصود آپ کا فنِ حدیث اور ولایت میں مقام و مرتبہ کو ظاہر کرتا ہے۔

امام ابو عبدالرحمن السلمی نے الطبقات الصوفیاء میں آپ کی تعلیمات کو بیان کیا ہے۔ آئیے ان کی تعلیمات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے اپنے احوال کی اصلاح کا سامان کرتے ہیں :

سلامتی دین اور سکونِ قلبی کا راز

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے:

من اراده ان يسلم دينه ويستريح قلبه وبدنه ويقل غمه فليعتزل الناس. لان هذه زمان عزلة و وحدة

’’جو شخص یہ چاہے کہ اس کا دین سلامت رہے اس کے دل کو راحت ملے اور اس کے غم کم ہوجائیں تو اس کے لئے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس لئے کہ یہ عزلت و تنہائی کا زمانہ ہے‘‘۔

یعنی جتنا زیادہ ملنا جلنا لوگو ں کے ساتھ ہو گا اتنی زیادہ ایمانی حالت خراب ہوگی۔ آج ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمیں اپنے دین کی سلامتی کا احساس ہی نہیں رہا اور حد سے زیادہ بلامقصد میل جول نے ہم سے قلبی سکون چھین لیا ہے۔ اگر ہم سلامتی دین و راحتِ قلب چاہتے ہیں تو اس کے لئے ’’خلوت و تنہائی‘‘ ہی کار آمد نسخہ ہے۔ یہ بات نہایت ہی قابل غور و فکر ہے کہ اگر وہ زمانہ جس میں کبار اولیاء و عارفین موجود تھے وہ اس دور میں میل جول کو ایمان کیلئے نقص کا باعث سمجھتے تھے اور اکابر اولیاء خلوت اختیار کرنے کا کہتے تھے تو آج صدیوں بعد ہمارے اعمال و احوال کے زوال کی وجہ سے ہمیں کس قدر خلوت اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حالانکہ آج ہزار گنا برائیاں معاشروں میں عام ہوچکی ہیں۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ ہمیں آج کے دور میں صحبتِ صلحاء کی ضرورت آج سے ہزار سال کے مقابلے میں زیادہ لازمی اور لابدی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کی مجلس میں بیٹھیں؟ اس کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری راہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

خِيَارُکُمُ الَّذِيْنَ إِذَا رُؤُوْا، ذُکِرَ اﷲُ له

(البخاری، الأدب المفرد، ۱/۱۱۹، الرقم: ۳۲۳)

’’تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اﷲتعاليٰ یاد آجائے۔‘‘

جن کے چہروںکو دیکھو تو اللہ یاد آئے۔۔۔ جن کی باتوں کو سنو تو دین کی حکمت نصیب ہو۔۔۔ جن کے اعمال کو دیکھو تو آخرت یاد آئے۔۔۔ مجلس میں بیٹھنا ہو تو ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھو اور جس مجلس سے یہ چیزیں نصیب نہ ہوں ان کی صحبت میں نہ بیٹھو۔

ابدال کی علامات

آپ سے کسی نے پوچھا کہ ابدالوں کی علامات کیا ہیں؟

آپ نے فرمایا: ابدالوں کی چار علامات ہیں:

  • ورع و تقويٰ:ان کے ہر عمل میں ورع اور تقويٰ ہوتا ہے۔ وہ ممنوعہ اشیاء جن کو کھانا، پینا، پہننا اور استعمال کرنا حرام ہو ان سے کلیتاً اجتناب کرتے ہیں۔ اگر جسم ان ممنوعہ چیزوں سے بچ گیا تو یہ تقوی ہے۔ جس کادیکھنا گناہ ہو، آنکھیں اس کو نہ دیکھیں تو یہ آنکھوں کا تقويٰ ہے۔ زبان نے وہ کچھ نہ کہا جس کا کہنا گناہ ہے مثلاً جھوٹ نہ بولا، غیبت نہ کی، شکوہ نہ کیا، گالی نہ دی تو یہ زبان کا تقويٰ ہے۔ ہاتھ برائی سے بچ گئے تو یہ ہاتھ کا تقويٰ ہے۔ یعنی حواس خمسہ اگر ان گناہوں سے محفو ظ رہا تو یہ تقويٰ ہے۔

ورع یہ ہے کہ نفس میں خود پسندی اور رعونت نہ آئے، نفس کے اندر بری خواہش پیدا نہ ہو۔ ہر وہ شے جس سے نفس میں خود سری پیدا ہو اگر نفس ان برائیوں سے بچ گیا تو یہ ورع ہے۔

کتنے لوگ ہیںجو ظاہر میں تو متقی نظر آتے ہیں لیکن نفس اندر سے گناہو ںسے بھرا ہوتا ہے۔ ہماری نگاہ نفس پہ نہیں پڑتی ہم تو صرف ظاہر ہی دیکھتے ہیں۔ کتنے ہیں جنہوں نے ظاہر تو گناہ سے بچا لیا مگر نفس گناہوں میں لت پت رہا۔ اگر جسم گناہوں سے محفوظ رہا تو یہ تقويٰ ہے اور نفس یعنی باطن گناہ کی چاہت سے محفوظ رہا تو یہ ورع ہے۔ دل دنیا کی رغبت سے خالی ہو گیا، ماسواللہ سے دل خالی ہو گیا تو اس کو زہد کہتے ہیں۔ ظاہر گناہ سے پاک ہوا تو تقويٰ ہوا۔۔۔ باطن کے گناہ سے پاک ہوئے تو ورع ملی۔۔۔ اور اگر اللہ کے ہر غیر سے دل خالی ہو گیا تو یہ زہد ہے۔ جب بندہ زہد کے مقام تک پہنچتا ہے تو تب اللہ سے آشنائی ہوتی ہے۔

  • نیت لوجہ اللہ:ابدالوں کی دوسری علامت یہ ہے کہ ان کا ہر ارادہ اور کام صرف اللہ کی رضا کی خاطر ہوتا ہے۔ یہ اشارہ نیت کی طرف ہے۔ یہ اللہ کی رضا کے علاوہ کسی شے کی طلب نہیں کرتے۔ گویا وہ گناہ سے محفوظ ہوں گے اور ارادہ خالصتاً لوجہ اللہ ہوگا۔
  • سلامۃ صدرللخلق: ’’ان کے سینے مخلوق کے لئے سلامت ہونگے‘‘۔ ان کے سینے دوسروں کیلئے حسد، بغض، کینہ، غصے وغیرہ سے پاک ہونگے۔ اللہ کی مخلوق کے ساتھ عداوت رکھنا، انتقام رکھنا ان کے دلو ں میں داخل ہی نہیں ہوگا بلکہ ان کے سینے پاک ہو نگے۔
  • والنصیحۃ لھم: ’’امت کو ہر وقت ہدایت کی نصیحت کرتے ہونگے‘‘۔ ہر وقت امت کی رشد و ھدایت کے لئے کوشاں ہوں گے۔

بلندی درجات کا حصول

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ روایت کر تے ہیں کہ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اربع خصال ترفع العبد.

’’چار خوبیا ں بندے کو بلندکر دیتی ہیں‘‘۔

  • العلم
  • الادب
  • الامانۃ
  • العفۃ

علم

اس علم سے مراد علم نافع ہے۔ صوفیاء غیر نافع علم کو علم نہیں بلکہ ہلاکت مانتے ہیں۔ علم وہ ہے جو عمل صالح کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ حضورداتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’میں نے اپنی زندگی میں غور کیا تو میں نے سب سے مشکل عمل اس سے بڑھ کوئی نہیں دیکھا کہ بندے کو جتنا علم ہو وہ اس پر عمل کرے‘‘۔

جس کے پاس تھوڑا علم ہے اس پر عمل کی ذمہ داری اسی قدر ہے اور جس کا علم جتنا بڑھتا جائے گا، اسی قدر اس پر عمل کی ذمہ داری میںبھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ شریعت، طریقت، سلو ک و تصوف، اللہ کے اوامر و نواہی اور اللہ کی رضا و ناراضگی کا علم زیادہ ہو مگر اس پر عمل نہیں تو گرفت ہو گی اور جس کو علم نہیں وہ بے علمی میں غلطی کر بیٹھے تو شاید معاف کر دیا جائے۔ جیسے روزے کی حالت میں بھول کر کھایا تو معاف ہو گیا۔ جس کو علم ہے اس نے کھا یا تو اس کے لئے گرفت ہے۔ جس نے جان بوجھ کر کھایا وہ اس پر کفارہ ادا کرے گا اور جس نے بھول کر کھا لیا، اسکا روزہ ہی نہیں ٹوٹا۔ کام دونوں ایک ہی کیا یعنی کوئی چیز کھا یا پی لی مگر فرق یہ ہے کہ جس نے بھول کر بے علمی میں کھایا اس کا روزہ سلامت رہا اور جس نے جان بوجھ کر کھا یا، اس کا نہ صرف روزہ ٹوٹا بلکہ کفارہ بھی ادا کرے گا۔

کفارہ کی صورت میں یہ سزا علم کی وجہ سے ملی۔ علم ایک بڑی آزمائش ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نعمت بھی ہے۔ حضور غوث الاعظم نے فرمایا:

درست العلم حتيٰ صرت قطبا.

’’میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطب کے مقام پر فائز ہوگیا‘‘۔

یہ علم ہی ہے جو عمل میں ڈھل کر انسان کو قطب اور غوث بناتا ہے۔ اسی علم کی تلاش میں حضرت موسيٰ علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں اور علم لدنی کے حصول کے لئے انہیں تلاش کرتے ہیں۔۔۔ اس علم نے حضرت آدمؑ کو مسجود ملائکہ بنایا ہے۔ دوسری طرف یہ علم آزمائش بھی ہے کہ اگر علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو یہ ہلا کت کی وادیوں میں گرا دیتا ہے اور تباہ و برباد کرتا ہے۔ کامیابی کے لئے درکار محنت ’’علم نافع‘‘ ہے۔

علماء جن کی ساری زندگی علم میں گزرتی ہے، ان سے زیادہ خوش نصیبی والی زندگی کس کی ہو سکتی ہے۔ جن کی زندگی صبح سے رات تک دین کی خدمت میں گزرتی ہو جو نماز، اذان، دعا، قرآن و حدیث، تعلیم وتعلم، تبلیغ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پھیلانے اور سنت انبیا ء میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان سے بڑا ولی کون ہوسکتا ہے مگر اس علم کے ساتھ ساتھ ولایت کے لئے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ ہمارے شیخ حضور قدوہ الاولیاء پیر سیدنا طاہر علائوالدین البغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگران علماء کے اند ر دو چیزیں پیدا ہوجائیں تو علماء، ولی اللہ بن جائیں:

  • ان کے دلوں سے حرص و حسد ختم ہو جائے۔
  • ان کی زندگی میں علم کے مطابق عملِ صا لح آجائے۔

جتنا علم انہوں نے اپنی زندگی میں حاصل کیا، اس پر عمل کریں تو سارے علماء، ولی اللہ بن جائیں۔ افسوس کہ جن کی زندگی سب سے بڑ ے کام میں بسر ہو رہی ہے مگر جب وہ حسد کرتے ہیں تو اس سے ان کی نیکیوں کے پہاڑ جل کے راکھ ہو جاتے ہیں۔ اولیا ء اللہ فرماتے ہیں کہ اگر علم کے دس حصے ہوں اور نو حصے عمل کے ہوں تب علم نور بنتا ہے۔

ادب

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بندے کو بلند کرنے والی دوسری خصلت ادب ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ ، امام مالک کے تلامذہ میں سے ہیں انہوں نے حسرت کہ ساتھ یہ بات بیان کی کہ میں نے 20 سال امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی ساتھ مدینہ پاک میں گزارے، اٹھارہ سال تک وہ مجھے ادب سکھاتے رہے پڑھایا نہیں اور صرف دو سال پڑھایا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ کاش باقی دو سال بھی ادب سیکھنے میں ہی گزار دیتا۔

ادب سے مراد ہر صاحب حق، اللہ تعاليٰ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، انبیاء کرام، صحابہ کرام، اولیاء کرام، والدین، بیوی بچے، دوست، رشتہ دار، پڑوسی، جانوروں، کافر، دوست و دشمن الغرض ہر مخلوق کا جو حق بنتا ہے اسکو اچھے طریق سے بجا لانا ادب کہلاتا ہے۔ اگر حق کی ادئیگی میں اچھا طریقہ اختیار کیا جائے، تو یہ حسنِ ادب ہے، اس کو تصوف کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سارا حسن، ادبِ دین ہے اور بے ادبی کفر ہے۔ ادب میں سعادت ہے اور بے ادبی میں بدبختی ہے۔ دین میں سے ادب کو نکال دیں تو دین کی روح ختم ہوجاتی ہے۔ آج بعض لوگ نمازیں ننگے سر کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں، تکبر و عجب کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ میری نظر سے آج تک ایک حدیث بھی ایسی نہیں گزری کہ صحابہ کرام رحمۃ اللہ علیہ اپنی ٹانگیں پھیلا کر ننگے سر مسجد میں کھڑے ہوتے تھے۔ اگر کسی عالم نے پڑھی ہو تومجھے بتا دے، یہ نماز کا ادب نہیں۔ یہ بے ادبی کا طر یقہ ہے، یہ غرور و تکبر کی علامت ہے۔ میں تنقید نہیں کررہا بلکہ نصیحت کررہا ہوں کہ اللہ کے حضور پیش ہونے کا ادب ننگے سر حاضر ہونا اور اکڑ کر آنا نہیں ہے۔ اللہ کے حضور پیش ہونے کا ادب یہ ہے کہ آپ نہایت ہی کمزور دکھائی دیں، گریہ و زاری طاری ہو۔ یہ نہ ہو کہ جب موليٰ کی بارگاہ میں جائیں جو شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے جہاں تمام بادشاہ سر جھکاتے ہیں، تو غرور تکبر سے کھڑے ہوں اور جب کسی ملک کے حکمران یا علاقے کے کسی جاگیردار و وڈیرے کے پاس اپنے مفاد کی خاطر جائیں تو ادب سے کھڑے ہوں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ادبنی ربی

(عجلونی ‘کشف الخفاء‘ج:۱‘ص۷۲ رقم ۱۶۴)

’’مجھے میرے رب نے ادب سکھایا‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: علمنی ربی ’’میرے اللہ نے مجھے علم دیا‘‘ بلکہ یہ بات اللہ نے فرمائی:

و َعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ.

’’اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘۔

(النساء :۱۱۳)

علم دینے کی بات اللہ نے بتائی، یہ اللہ کی شان ہے کہ اس نے فرمایا سب کچھ ہم نے دیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرے رب نے ادب سکھایا، یہ کما لِ بندگی ہے۔ ادب میں ہر شے ہے، علم میں ہر شے نہیں۔ ادب آگیا تو سارا دین آگیا۔ اسی لئے اگر ائمہ تصوف و محدثین کرام کو پڑھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے علم کی بنیاد ہی ادب پر رکھی۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جب کوئی سوال پو چھنے آتا تو خادمہ کو ہدایات دے رکھی تھیں کہ سائل سے پوچھو کہ کوئی فقہ کا مسئلہ پوچھنے آیا ہے یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ اگر وہ کہتا کہ فقہ کا مسئلہ پوچھنے آیا ہوں تو آپ تازہ وضو فرماتے اور فقہی مسئلہ بتادیتے۔ اگر وہ کہتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سننے آیا ہوں تو وضو و غسل کرتے، خوشبو لگاتے، نئے کپڑے پہنتے اور پھرمسند پر بیٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث اس کو سناتے۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب اسی طرح ہے جس طرح خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب ہے۔ امام احمد بن حنبل کے پاس جب کوئی علم حاصل کرنے کے لئے آتا تو فرماتے آج رات آرام کرو۔ وضو کے لئے پانی بھر کر اس کے پاس رکھ دیتے اور اسے کچھ نہ کہتے۔صبح فجر کی نماز سے پہلے تہجد کے وقت اٹھتے، اگر پانی اسی طرح موجود ہوتا تو اس سے کہتے تم جاسکتے ہو جس کو اللہ کے لئے اٹھنے کی تو فیق نہیں اسے علم کی کیا ضرورت ہے۔ لہذا آپ اسے نہ پڑھاتے۔

امانت

بلندی درجات کے لئے تیسری اہم چیز حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے امانت کو قرار دیا۔ اللہ تعاليٰ نے امانت داری کے بارے میں ارشاد فرمایا:

اِنَّ اﷲَ يَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰـنٰـتِ اِلٰی اَهْلِهَا.

’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں‘‘۔

(النساء:۵۸)

اللہ نے جو آپکو امانت سونپی ہے اس میں رتی برابر بھی خیانت نہ کرنا امانت داری ہے۔ اگر عزت کی حفاظت کی امانت ہے تو اس کو نبھائے۔۔۔ اگر کسی کی برائی اور عیب معلوم ہو اور اس کو چھپالیا جائے تو یہ امانت ہے۔ مر جانا تو قبول ہو مگر اس کے عیب کو ننگا کرناقبول نہ ہو، یہ امانت ہے۔ ہر صاحب حق کاحق ادا کرنا امانت ہے۔۔۔ حسن اخلاق سے پیش آنا امانت ہے۔۔۔ حتيٰ کہ مسلمان بھائی سے ملنا امانت ہے۔۔۔ ماںباپ کا ادب کرنا امانت ہے۔۔۔ غریب کی مدد کرنا امانت ہے۔۔۔ یہ اللہ کی عبادت امانت ہے۔۔۔ دین کی پاسداری امانت ہے۔۔۔ حلال کھانا اور حرام سے بچناامانت ہے۔۔۔

عفت

جسم کے جملہ اعضاء، آنکھوں، کانوں، زبان، ہاتھ کی پاکی و طہارت کا خیال رکھنا، تقويٰ و پرہیزگاری پر کاربند رہنا عفت کہلاتا ہے۔ پوری زندگی ظاہر و باطن کی پاکیزگی اور حیاء کا خیال رکھنا عفت ہے۔

یہ چار چیزیں جسے نصیب ہو جائیں تو وہ بندہ ولی بن جاتا ہے اور اس کے درجے بلند ہو جاتے ہیں۔

اجرِ ادب

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

من عجز عن ادب نفسه کان عن ادب غيره اعجز.

’’جو شخص اپنی زندگی میں ادب کا لحاظ نہیں کر سکا، وہ دوسروں کا کیا ادب کرے گا‘‘۔

وہ شخص جس کو اللہ نے بلندی دی ہے خواہ عمر میں یا علم و عمل میں کسی بھی لحاظ سے وہ فوقیت رکھتا ہے۔ جو شخص اسکی اطاعت کرے گا، اسکا حیاء کرے گا، کائنات کی ہر چیز اسکا ادب کرے گی کیونکہ کوئی کسی بڑے کا ادب کرے گا تو جو آپ سے چھوٹے ہیں وہ آپ کا ادب کریں گے۔ جو اپنے ما ں باپ کا ادب کریں گے تب ان کی اولاد جوان ہو کر ان کا ادب کرے گی۔ آج جو لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ اولاد ادب نہیں کرتی، وہ اپنے گربیا ن میں جھانک کردیکھیں کہ کیا انہوں نے اپنے ماں باپ کا ادب کیا تھا؟ جس نے اپنے ماں باپ کا ادب نہیں کیا تو اس کی اولاد اسکا ادب نہیں کرے گی۔ جس نے حسنِ ادب کا حق ادا نہیں کیا تو مخلوق اسکا ادب نہیں کرے گی۔ اگر ساری مخلوق کسی کا ادب کرتی ہے تو جان لینا چاہئے اس نے بڑوں کا ادب کیا ہوگا۔ اس نے کسی ایسے کا ادب کیا ہو گا اور کرتا ہوگا جس نے سب چھوٹوں کو اس کے ادب پر لگادیا۔ اگر مخلوق کسی سے محبت کرتی ہے تو حسد نہ کرو کیونکہ اس نے بھی کسی سے محبت کی ہو گی جس نے باقی ساری مخلوق کے دل میں اسکی محبت ڈال دی۔

خشیتِ الہی کے اثرات

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

من خاف الله خافه کل شئی.

’’جس کے دل میں اللہ کا سچا خوف آگیا ہر شے اس سے ڈرنے لگتی ہے‘‘۔

اے بندے تو اللہ سے نڈر ہو گیا تو مخلوق تجھ سے کیا ڈرے گی۔ ایک شخص کسی ولی کامل سے ملنے گیا، اس نے دیکھا کے وہ کھانا کھا رہے اور جنگل کا ایک بھیڑیا ان کی بکریوں کی رکھوالی کر رہا ہے۔ وہ شخص جو زیارت کے لئے آیا تھا وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا کہ بھیڑیوں کی بکر یوں سے یاری کب سے ہوگئی؟ بھیڑیا تو بکریوں کو چیڑ پھاڑ دیتا ہے۔ انہوںنے کہا: جب سے ہماری یاری اللہ سے ہوگئی تب سے اس کی مخلوق میں سے ہر چیز تابع ہوگئی۔ جب کسی بندے کی دوستی اللہ سے ہوجاتی ہے تو ہر چیزا سکی اطاعت کرتی ہے۔

حقیقی تعلیماتِ تصوف

اگر کسی کے پاس اخلاق، اطاعت الہی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت نہیں تو وہ صوفی نہیں بلکہ تاجر ہے، دنیا دار و مکار ہے۔ صوفیوں کا نام بدنام کرتا ہے۔ حضور داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

میں اپنے شیخ کے ساتھ ماورالنہر وسطی ایشیاء کی طرف گیا۔ ہم ایک علاقے میں گئے وہاں فصل پکی ہوئی تھی۔ میں نے ایک صوفی کو دیکھا جس نے صوفیوںوالا جبا پہنا ہوا تھا اور زمین دار اسکی جھولی بھر رہا تھا اور ساتھ پیسے بھی دے رہا تھا۔ میں نے اپنے شیخ سے پوچھا کہ اسکا لباس صوفیوں والا ہے پھر اس پر اتنی ذلت کیوںآئی؟ کہ اس نے مخلوق کے سامنے اپنی جھولی پھیلادی۔ اس کو توصرف اللہ کی بارگاہ میں اپنی جھولی پھیلانی چاہئے تھی۔ آپ نے جواب دیا: بیٹے جس کا پیر، مریدوں کا طالب ہوجائے تو اس کے مرید بھی دنیا کے طالب بن جاتے ہیں۔ تصوف تویہ تھا صرف اللہ کاطلبگار رہتا دل کو دنیا اور اس کی رغبت سے مستغنی کرلیتا۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ اگر کسی ایک جگہ بیعت ہیں اور کسی دوسرے کے پاس چلے جائیں تو پیر صاحب پر قیامت آجاتی ہے۔ پیر صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی کمی دیکھی ہے جو دوسرے کے پاس چلے گئے؟ یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ یہ الفاظ 13سو سال میں صوفیاء میں سے کسی نے کبھی نہیں بولے تھے۔ وہ تو کہتے: ہاں کمی ہمارے پاس ہی ہے۔ یاد رکھیں! تصوف سارا نفی ذات کا نام ہے۔ تواضع، عاجزی و انکساری کا نام ہے۔ تکبر کے بت کو پاش پاش کرے کا نام تصوف ہے۔

تحریک منہاج القرآن جہاں تجدید و احیاء دین کی تحریک ہے وہاں علم و احیاء تصوف کی بھی تحریک ہے۔ جو تصوف صوفیاء کرام کا تھا آج یہ تحریک اسی کو دوبارہ زندہ کررہی ہے تاکہ لوگ علم دین کے ساتھ ساتھ تصوف کی حقیقی روح سے شناسائی حاصل کرسکیں۔

زبان و دل کا مقام

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرما یا:

لسانک ترجمان قلبک و وجهک مرءة قلبک. يتبين علی الوجه ما تضمرالقلوب.

’’تمہاری زبان تمہارے دل کی تر جمان ہے اور تمہارا چہرہ تمہارے دل کا آئینہ ہے۔ جو دلوں میں چھپا ہو وہ حا ل چہروں سے اجاگر ہو جاتا ہے‘‘۔

تصوف کو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان میں احسان فرمایا: احسان تصوف ہے اور احسان کا لفظ ’’حسن‘‘ سے ہے اور حسن کا معنی ہے خوبصورتی، اچھائی۔ احسان کا معنی کسی کے ساتھ بھلائی کرنا، اچھے اخلاق سے پیش آنا ہے۔ ایمان امن سے ہے جس سے دلوں، جسموں، ذہنوں کو امن ملے وہ ایمان والا ہے او ر جس سے عزت کو سلامتی ملے وہ اسلام والا ہے۔ اگر کسی کے اعمال، زندگی، اخلاق اور باتوں میں حسن ملے، اس کی مجلس میںبیٹھ کر اخلاق کا حسن آئے، عبادت میں حسن نظر آئے، ہر چیز کا حسن ملے تو احسان والا ہے۔ تصوف سارا حسن اخلاق ہے۔ ظاہری لباس سے صوفی کی پہچان نہیں ہوتی۔ صوفی کا چہرہ نہیں دیکھتے کہ گورا ہے یا کالا ہے۔ چہرہ حسین ہو گا کیوں اسکا چہرہ اسکے دل کا آئینہ دار ہے۔ جب بولے گا اس کا کلام حسین ہو گا کیوں کہ اس کا کلا م اسکے دل کا آئینہ دار ہے۔ جب کسی کے ساتھ معاملہ کرے گا تو اس کا اخلاق حسین ہو گا۔ ساری زندگی ہر معاملہ میں اخلاق حسین ہو تو سمجھو صوفی ہے۔

حسنِ خلق

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے حسن خلق کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

حسن الخلق کف الازيٰ عن الناس.

’’مخلوق کو تکلیف پہنچانے سے ہاتھ ہٹا لینا حسن خلق ہے‘‘۔

مگر اس کی شرط ہے۔

واحتمال الازی عنهم بلا حقد ولا مکافات

’’جو تکلیف پہنچائے اس کے لئے دل میں رنج بھی نہ ہو او ر انتقام کی خواہش بھی نہ ہو‘‘۔

یہ حسن خلق ہے۔ اگر یہ دو خوبیاں جمع ہو جائیں تو حقیقی معنوں میں یہ ہی تصوف کی اصل روح ہے۔

خوبصورت اشیاء

آپ سے کسی نے پوچھا حسین چیزیں کون سی ہیں؟ فرمایا:

  • البکاء علی الذنوب

’’گناہ کر بیٹھے تو انکھوںکو رونا آ جائے‘‘۔

  • اصلاح العیوب

’’اپنے اندر کے عیب کو تلاش کرکے ان کی اصلاح کرے‘‘۔

  • طاعۃ علام الغیوب

’’غیبوں کے جاننے والے رب کے ہر امر کی اطاعت کرے‘‘۔

  • وجلاء الرین من القلوب

’’اور دلوں کے ہر زنگ کو اتارتے رہنا‘‘۔

تکبر کازنگ، گناہوں کا زنگ، حسد کا زنگ، نافرمانی کا زنگ، حرص و ہوا، شہوتوں کا زنگ جو دلوں پر چڑھ جاتا ہے وہ ذکر ‘زہد ‘تقويٰ‘پرہیزگاری ‘ گریہ و زاری سے دھل جاتا ہے۔ فرمایا: اگر یہ چار چیزیں تم میں موجودنہیں تو ہر چیز تم پر غلبہ کر لے گی اور ہر خواہش تمہارے اوپر سوار ہو جائے گی۔ ہر آرزو تمہیں گھیر لے گی۔۔۔ بندگی ختم ہو جائے گی۔ یہ تمنا بھی نہ کرے کہ میں ولی اللہ ہو جائوں اس لئے کہ یہ بھی حرص ہے۔ اولیاء کے اندر یہ چھپی ہوئی بڑی خطرناک خواہش ہے۔ دوستی ترکِ ہوس کا نام ہے اگر طلب کر لیا تو وہ آپکو عطاکر دے گا مگر دوستی نہیں دے گا۔ دوست وہ ہوتا ہے جو سوائے دوست کے کوئی ہوس نہ رکھے۔ دوست وہ ہے جو کوئی طلب نہ رکھے۔ اللہ سے دوستی کیسی ہونی چاہئے ۔ رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھتے ہیں۔

ایک دفعہ حضرت رابعہ بصری بیمار ہوگئیں، لوگ عیادت کے لئے آتے تو کسی کو کوئی وجہ بتائے اور کسی کو کوئی، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ آگئے تو پوچھا اصل بات بتائیں بخار کیوں ہوا؟ آپ نے فرمایا کہ رات قرآن کی تلاوت کر رہی تھی، تلاوت کر تے کرتے جنت الفردوس اور جنت کی نعمتوں کا ذکر آیا۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ موليٰ جنت میں وہ جگہیں مجھے بھی عطا فرما۔ جب یہ خواہش پیدا ہوئی ادھر رب کی طرف سے عتاب آیا۔فرمایا: رابعہ دوستی اور عشق کا دعويٰ ہم سے اور ہوس جنت کی۔ ایک شے سے دوستی رکھ یا طالبِ جنت بن یا طالبِ مو ليٰ بن۔ دوستی نام ہے ترکِ ہوس کا، جس میں حرص آگئی وہ طالب نہ رہا۔

ریا کاری کا نقصان

حضرت سری سقطی فرمایا کرتے تھے:

من تزين للناس بما ليس فيه سقط ان عين الله عزوجل.

’’جو شخص لوگوں کے لئے مزین ہوکر آئے اور اس چیز کا دکھلاوا کرے جو حقیقت میںاس میں نہیں ہے تو وہ اللہ کی نگاہ میں گر جاتا ہے‘‘۔

جو لوگوں کی نگاہ میں بلند ہونا چاہے وہ اللہ کی نگاہ میں گر جاتا ہے اور جو لوگوں کی نگاہ میں گر جائے اللہ اسے بلند کردیتا ہے۔

حالتِ قبض و بسط

اللہ والوں کے مقامات و درجات، زہد و ورع تقويٰ اور عبادت گزاری سے بلند ہوتے ہیں اور موليٰ کی قربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس حال میں ان پر ایک کیفیت طاری ہوتی ہے جس کو قبض و بسط کہتے ہیں۔ جب قبض کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو درجات بلند ہو تے ہیں۔ اللہ کی دوستی میں مزید اضافہ ہو تا ہے۔ جوںجوں اللہ کی قربت ملتی ہے اسکی طبیعت میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا ملتی ہے۔ اس حال میں اللہ تعاليٰ اپنے اولیا ء کو بچا نے کے لئے کہ کہیں میرے بندے ان درجات و قربتوں کو دیکھ کر عُجب میں مبتلا نہ ہوجائیں ان پر قبض کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے پردہ آجاتا ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اس طرح اللہ اُنہیں پریشانی میں ڈال دیتا ہے کہ بندہ عُجب و تکبر سے بچ جائے لیکن بندہ یہ سمجھتا ہے کہ میں اللہ کی بارگاہ میں گر گیا ہوں، اللہ سے دور ہو گیا ہوں۔ پس وہ روتا ہے، ٹرپتا ہے تو اس کے درجے اس رونے تڑپنے اور یاد الهٰی میں مزید بلند ہوتے چلے جاتے ہیں۔

بسط و قبض کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے ایک وجدانی و ذوقی بات بتا رہا ہوں کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قیامِ جنت بسط تھا اور جنت سے زمین پر اتارا جانا قبض تھا۔ اسی زمانے میں آپ جو روئے، اسی میں آپ کے درجات میں اضافہ ہوا اور خلافت الہیہ پر فائز ہوئے۔ اسی گریہ و زاری اور رونے کے لئے انہیں زمین پر اتارا تھا۔ اگر موليٰ کی بارگاہ میں رہتے تو خوش رہتے، جو درجے رونے میں بلند ہوتے ہیں وہ خوش ہونے میں بلند نہیں ہوتے۔ جب قربتیں دے کر بلند کرنا چاہا تو حالتِ بسط میں شانِ آدمیت سے بہرہ مند فرمایا اور جب مقامِ خلا فت پر پہنچانا چاہا تو اس کے لئے قبض طاری کی اور احساس دیا کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں، پھر روتے روتے خلیفۃاللہ علی الارض ہوئے۔ پس یہ حالت قبض تھی۔

اولیاء پر اپنے حال کے مطابق قبض اور بسط کی اپنی اپنی کیفیات ہوتی ہیں جس آدمی نے چکھی ہی نہیں اس کو کیا معلوم کہ یہ کس کیفیت میں ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں دھتکارا گیا۔ اس لئے وہ کبھی رُلاتا ہے۔ اللہ کے بندے دنیا کے نقصان پر نہیں روتے۔ ہم تو اس لئے روتے ہیں کہ اولاد نہیں، نقصان ہوگیا، بیمار ہوگئے، ہمارا رونا ان دھندوں کے لئے ہے جبکہ اولیاء اللہ ان چیزوں پر نہیں روتے، جب یہ سارے دھاگے کٹے تب جاکر اس سے یاری ملی۔ دنیا کے دھندوں کے لئے وہ نہیںروتے اور نہ اس پر ان کے دل خوش ہوتے ہیں۔ وہ اس وقت روتے ہیں جب ان کے دل میںیہ احساس پیدا ہوجائے کہ وہ ناراض ہوگیا، وہ اپنی ناراضگی پہ رلاتا ہے، اپنی ناراضگی کا احساس دلا کر، حجاب کا احساس دلا کر، دوری کا احساس دلا کر رلاتا ہے۔ قبض میں حجاب اور دوری نہیں ہوتی۔ آدم علیہ السلام کو احساس د لایا، اللہ پاک نے اس کی گواہی خود دی کہ

وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا .

(طه:۱۱۵)

’’اور ہم نے ان میں بالکل (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی)‘‘۔

میرے بندے نے گناہ نہیں کیا۔ میں نے اسکا دل خود دیکھ لیا، اس کے دل میں گناہ کا ارادہ نہیں پایا، خود صفائی دی۔ مگر ان کو احساس دلایا کہ گناہ ہوا ہے تاکہ وہ اس احساس کے ساتھ روئیں۔ رُلاتے کیوں ہیں؟ کسی شاعر نے اسی کیفیت کو بڑے ہی احسن انداز میں بیان فرمایا:

اپنے دیوانوں کے نالوں سے وہ خوش ہوتے ہیں
پسِ دیوار سنا کرتے ہیں شیون انکا

حالت قبض میں جب انہیں احساس ہوتا ہے کہ محبوب ناراض ہے تو پھر وہ پریشان حال پھرتے ہیں۔ حالت قبض میں کیف و سرور جاتا رہتا ہے مگر اللہ تعاليٰ کی حکمت ہے کہ میرے بندے پر عجب نہ آئے، اونچے درجے پر دھیان نہ پڑے۔ یہ ہی سمجھے کے بس رب روٹھ گیا اور وہ روتا رہے اور مالک درجے بڑھا تا رہے۔ بظاہر یہ بے کیف سی زندگی لگتی ہے۔ ہندی زبان میں کسی عاشق نے کہا تھا۔ دلیا بنا بھتواہ ۔۔ اداس موری سجنی

دال کو دلیا کہتے ہیں اور اُبلے ہوئے چاول کو بھتوہ کہتے ہیں اگر کوئی اُبلے ہوئے چاول دال کے بغیر کھائے تو بے لذت ہوتے ہیں۔ میرے محبوب میری زندگی ایسے بے لذت ہو گئی۔ اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا:

از فراقت تلخ شد ایام ما
دور شد از جانِ ما آرام ما

’’میرے محبوب جب سے تو مجھ سے دور ہو گیا ہے تب سے میرے زندگی کے دن تلخ ہو گئے ہیں اور میری روح سے آرام و سکون بھی چھن گیا‘‘۔

حضرت ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک غلام پر قبض کی کیفیت طاری ہوگئی۔ طویل سفر کرتا کرتا خرقان جا پہنچا۔ حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ وہ عظیم ولی اللہ ہیں جن کے کپڑوں کے توسل سے محمود غزنوی نے ہند کے سومنات کو فتح کیا تھا۔ سترہ حملے کر چکا تھا لیکن فتح نصیب نہ ہوئی۔ آخری منزل سومنات کی تھی فتح رُکی پڑی تھی۔ اس نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کے جبہ کے صدقے سے سومنات کو مانگ لیا اور صبح فتح ہو گئی۔ جبہ دینے کے لئے واپس آئے اور کہا کہ میں نے اس منزل کی فتح مانگی تھی۔ فرمایا: محمود غزنوی تو نے میرا جبہ سستا بیج دیا، اسکو سامنے رکھ ہی لیا تھا تو پورا ہندستا ن مانگ لیتا، اس کے وسیلے اللہ سارا ہندستان ہی عطا کردیتا۔

چنانچہ وہ شخص خرقان پہنچا اور ان کے دروازے پر دستک دے کر متعدد القابات کے ساتھ ان کا نام پکارا۔ انکی زوجہ گرم مزاج تھیں اکثر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ لڑائی جھگڑا ہو جایا کرتا تھا۔ جب آپکی زوجہ نے القاب سنے تو کہنے لگیں کہ اتنی دور سے چل کر آئے ہو، کوئی اور شیخ نہیں ملا تمہیں؟ میں اس کی بیوی ہوں، مجھ سے زیادہ اس کو کون جان سکتا ہے۔ وہ پریشان حال وہاں سے روانہ ہوا، کسی نے بتایا کہ وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہے ہوں گے۔ جب وہ جنگل میں پہنچا تو دیکھا کہ آپ ببر شیر پر سوار ہو کر آ رہے ہیں اور لکڑیوں کا گٹھا شیر پر رکھا ہوا ہے اور ہاتھ میں سانپ کو بطور چابک تھام رکھا ہے۔ شیر بھی آپ کے تابع اور سانپ بھی آپ کے تابع۔ اس مرید کو روتا دیکھ کر سمجھ گئے، پوچھا: گھر سے ہو کر آئے ہو، پریشان نہ ہو۔

یہ جو اللہ نے رتبہ بلند کیا صرف اس وجہ سے ہے کہ میں زوجہ کی باتوں پر صبر کرتا ہوں اور چالیس سال تک میں نے صبر کیا۔ اس کی ناراضگی اور تلخ کلامی پر صبر کرنے سے اللہ نے مجھے آج اس مقام پر فائز فرمایا۔

پوچھا: اللہ نے ایسی تلخ مزاج زوجہ آپ کو کیوں دی؟ مولانا روم نے اس پورے واقعہ کو مثنوی شریف میں بیان کیا ہے اور حضرت ابوالحسن کی طرف سے جواب بھی دیا ہے۔

چونکہ باشم در خلائق اے جواں
عجب در من آید از تعظیمِ شاں
پس علاجِ عجبِ ایں زن می کند
عجبُ کبر از نفس بے رومی کند

ایسی بیوی اللہ تعاليٰ نے اس لئے دی کہ میرا رب مجھ سے محبت کرتا ہے اور اس نے میری محبت ساری مخلوق کے دلوں میں ڈال دی۔ جب ساری خلق محبت کرتی ہے تو میں مقبولیت دیکھتا ہوں تو خطرہ ہو تا ہے کہ کہیں میرا نفس عُجب کا شکار نہ ہو جائے کہ اللہ نے مجھے اتنا بلند رتبہ عطاکر دیا۔ اس کو میرے ساتھ محبت ہے وہ نہیں چاہتا کہ میرا محبوب خود پسندی کی بیماری میں مبتلا ہوجائے لہذا مرے نفس کو عجب سے بچانے کے لئے مستقل علاج کے طور پر اس نے مجھے ایسی بیوی دی۔ اللہ میرا طبیب ہے۔ اس لئے جب میری بیوی مجھ سے یہ رویہ اپناتی ہے تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں ابوالحسن تیرا مقام تو یہ ہے تو کہاں کی سوچ لئے پھرتا ہے۔

اگر نفس کا علاج نہ ہو تو اگر بندہ ولی بھی ہو تو عجب، خود بینی اور کبر کی وجہ سے نمرود، ہامان اور فرعون بن جاتا ہے۔ نفس کی سرشت میں شیطنت ہے لہذا اس کا علاج مجاہدہ کے ذریعے اور نفس کی تذلیل کے ذریعے ہی کیا جانا چاہئے۔ اگر ان چند باتوں پر عمل کرلیا تو سمجھ لیں کہ آپ نے سلوک و تصوف کی ر اہ پر چلنے کا آغازکردیا۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau