[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > فروری 2014 ء > ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
ماہنامہ منہاج القرآن : فروری 2014 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > فروری 2014 ء > ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان

2013ء عالمی سطح پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی، فکری، سیاسی جدوجہد پر ایک نظر

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زندگی کا ایک ایک لمحہ شروع دن سے آج تک تجدید و احیاء دین کے عظیم مصطفوی مشن کی تکمیل کے لئے وقف ہے۔ عالمی سطح پر حقیقی اسلامی تعلیمات اور امن و محبت کے فروغ کے لئے کی گئی محنت اور جہد مسلسل کے تناظر میں شیخ الاسلام کی زندگی کا ہر آنے والا دن، مہینہ اور سال نئے ریکارڈز مرتب کرتا اور اہلِ علم و عرفاں کی آنکھوں کو خیرہ کرتا نظر آتا ہے۔ 2013ء بھی ایک ایسا ہی سال تھا جس نے شیخ الاسلام کو حاصل خداداد صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت فراہم کیا۔ ذیل میں ہم 2013ء میں شیخ الاسلام کی عالمی سطح پر کی گئی علمی، فکری، سماجی و سیاسی کاوشوں کو نذرِ قارئین کررہے ہیں:

1۔ عالمی میلاد کانفرنس 2014ء

بنگلور (انڈیا) اور پاکستان کے 250 شہروں میں عظیم الشان اجتماعات

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام 30ویں عالمی میلاد کانفرنس امسال گزشتہ کانفرنسز سے منفرد اور تاریخی حیثیت کی حامل تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  سے والہانہ عشق کا اظہار تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام امسال ملک پاکستان کے 250 شہروں میں ہونے والی میلاد کانفرنسز کے ذریعے کیا گیا جن میں ہر جگہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ انڈیا کے شہر بنگلور میں منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں منہاج القرآن اسلامک سنٹرز میں منعقدہ میلاد کانفرنسز میں بھی لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس طرح مجموعی طور پر لاکھوں افراد نے تحریک منہاج القرآن کے تحت ہونے والی میلاد کانفرنسز میں شرکت کی۔ Q.Tv, ARY Zauq اور منہاج ٹی وی کے ذریعے بالواسطہ طور پر پوری دنیا سے کروڑوں عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے اس عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کر کے حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

حسب سابق مینار پاکستان پر بھی 13 جنوری 2014ء کو عالمی میلاد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ شدید سردی کے باوجود کھلے آسمان تلے مینار پاکستان کے سبزہ زار میں صرف لاہور شہرسے لاکھوں عشاق مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے عالم اسلام کی سب سے بڑی میلاد کانفرنس میں شرکت کی۔

مینار پاکستان پر منعقدہ عالمی میلاد کانفرنس کی صدارت تحریک منہاج القرآن کے صدر محترم ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے کی۔ اس کانفرنس میں سیکرٹری جنرل مجلس وحدت المسلمین محترم علامہ امین شہیدی، محترم علامہ سید مختار احمد شاہ نعیمی (ہوسٹن، امریکہ)، محترم امیر افضل سلطان (سجادہ نشین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ )، حضرت امام بدیع الزمان نورسی رحمۃ اللہ علیہ  (ترکی) کے ارادت مند اور حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ  کے پوتے محترم ولید اقبال نے خصوصی شرکت کی۔ صدر پاکستان عوامی تحریک محترم شیخ زاہد فیاض، ناظم اعلیٰ محترم خرم نواز گنڈا پور اور جملہ مرکزی قائدین بھی مصر، عرب ممالک اور وطن عزیز کے نامو ر قرائ، نعت خوانان، پاکستان بھر سے جید علماء و مشائخ عظام، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین، سماجی رہنما، تاجر برادری وکلا برادری، طلباء تنظیموں کے قائدین اور مسیحی، سکھ، ہندو اور دیگر غیر مسلم رہنماؤں کے ہمراہ اس عالمی میلاد کانفرنس کے وسیع سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ اس عالمی میلاد کانفرنس میں محترم قاری نور احمد چشتی نے تلاوت اور محترم محمدا فضل نوشاہی، محترم محمد شہزاد حنیف مدنی، محترم شہباز قمر فریدی اور منہاج نعت کونسل نے حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت کی سعادت حاصل کی۔ نقابت کے فرائض محترم علامہ فرحت حسین شاہ، محترم علامہ غلام مرتضیٰ علوی، محترم وقاص قادری اور محترم محمد مدثر اعوان نے سرانجام دیئے۔ اس عالمی کانفرنس میں مہمانان گرامی نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

٭ محترم علامہ امین شہیدی (سیکرٹری جنرل مجلس وحدت المسلمین) نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی شب اس ہستی کی آمد کی شب ہے جو ہستی باعث تخلیق کائنات ہے وہ ہستی جو اگر نہ ہو تو کائنات کچھ نہیں ہے۔ وہ ہستی جو خود معشوق رب بھی ہے اور عاشق رب بھی۔ وہ ہستی جس کی آمد کے بعد زمین میں تاریکیاں ختم ہوئیں اور ظلمتوں کو نورانیت ملی اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی نورانیت سے چمکنے لگا۔ وہ ہستی جس کی محبت ایمان ہے اور جس سے محرومی کفر ہے۔ مینار پاکستان کا یہ نورانی اور باعظمت اجتماع کا سہرا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سر ہے، ان کے رفقاء نے آج کی اس بابرکت محفل کو سجایا، اس پر یہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

٭ محترم سردار بشن سنگھ (چیئرمین بابا گورونانک جی ویلفیئر ٹرسٹ) نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سٹیج پر بیٹھے ہوئے معزز مہمانان اور پنڈال میں بیٹھے ہوئے احباب کو محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ولادت پر لاکھوں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ہمارے مسلمان بھائی نبی کی ولادت کا دن منارہے ہیں اور ہم بھی ان کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں۔ 10,8 سال سے انٹرفیتھ اور بین المذاہب کے حوالے سے ہم جو دن بھی مناتے ہیں ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی پوری ٹیم ادھر پہنچ جاتی ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو مزید ہمت ملے کہ ان کی کاوشوں سے سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان بھی محبت قائم ہورہی ہے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوا جارہا ہے۔

٭ محترم بشپ اکرم گل (عیسائی رہنما) نے عالمی میلاد کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، ان کے صاحبزادے اور منہاج القرآن کے سہیل رضا صاحب کا شکر گزار ہوں کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو سب سے پہلے منہاج القرآن کا کیمپ دیکھنے کو ملتا ہے۔ میڈیکل اور خوراک کے لئے جو کیمپ سب سے پہلے لگائے جاتے ہیں، منہاج القرآن ان میں سر فہرست ہے۔ آج آپ حضور محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ولادت کا دن منارہے ہیں تو میں اپنی طرف سے اور تمام مسیحیوں کی جانب سے آپ کو اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں، اسی طرح محبت و امن کا پیغام جو منہاج القرآن سے ملتا ہے وہ چلتا رہے۔ ہم ان سے ہمیشہ خیر کی توقع رکھتے ہیں۔ جس طرح آج ہم ولادت محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  پر اکٹھے ہیں اس طرح ہم سب مل کر اس پاکستان میں امن و سلامتی کے لئے اکٹھے ہیں تاکہ یہ بھائی چارہ اور یگانگت قائم رہے۔

٭ محترم پنڈت بھگت لال (ہندو رہنما) نے کہا کہ میں اپنی برادری کی طرف سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ولادت پر آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب ہم سب کے حقوق، مساوات اور امن کی بات کرتے ہیں۔ ہم طاہرالقادری صاحب کی اس لئے عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی تعلیمات کی روشنی میں پوری دنیا میں امن و محبت کا پیغام پہنچارہے ہیں۔ آج انہوں نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ولادت کے موقع پر کل مذاہب کو اکٹھا کردیا ہے اور ہر مذہب کا بندہ اور بہن بھائی یہاں تشریف فرما ہیں۔

محمد جس کے نہیں اس کا خدا ہوتا نہیں
پیشیاں پڑتی ہیں لیکن فیصلہ ہوتا نہیں

بھگت یہ ایمان ہے میرا حادثہ ہوتا نہیں

ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے بھی منہاج القرآن کے تعاون سے 2012ء میں لاہور میں اپنے مندر میں میلاد کی محفل کروائی۔

عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  پر اجارہ تو نہیں

٭ ہوسٹن، امریکہ سے تشریف لائے ہوئے محترم سید مختار احمد شاہ نعیمی اشرفی (خلیفہ مجاز کچھوچھہ شریف)نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نبی آتے تھے اب نبی نہیں آتے، اب ولی آتے ہیں اور ولی جب آتے ہیں تو سب کو ملاتے ہیں۔ کچھ اولیاء ایسے ہوتے ہیں جنہیں سو سال کے بعد مخلوق کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ اس ولی کو اصطلاح میں مجدد کہتے ہیں۔ پہلی صدی کے مجدد امام اعظم، دوسری صدی کے مجدد امام شافعی، تیسری صدی کے مجدد امام مالک، چوتھی صدی کے مجدد امام بیہقی، پانچویں صدی کے مجدد الشیخ عبدالقادر جیلانی، چھٹی صدی کے مجدد خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، ساتویں صدی کے مجدد تاج الدین سبکی، آٹھویں صدی کے مجدد علامہ ابن حجر عسقلانی، نویں صدی کے مجدد علامہ جلال الدین سیوطی، دسویں صدی کے مجدد علامہ قسطلانی، گیارہویں صدی کے مجدد الف ثانی، بارہویں صدی کے مجدد اورنگ زیب و ملا جیون، تیرہویں صدی کے شاہ عبدالعزیز اور چودہویں صدی کے حضرت شاہ احمد رضاخان بریلوی رحمہم اللہ تعالیٰ ہیں۔ پندرہویں صدی میں کوئی کسی مجدد کا نام نہیں لے رہا۔ میں نے پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہا ہوں کہ پندرہویں صدی کے مجدد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے لندن میں شیخ الاسلام کی گفتگو سننے کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریر سن کر مجھے فخر ہے کہ میں ایک مسلمان عورت ہوں۔ دنیا بھر کے زعماء و اکابرین شیخ الاسلام کی خدمات کے معترف ہیں۔ اہل پاکستان سن لو! کہیں ہاتھ ملتے نہ رہ جانا ترستے نہ رہ جانا، آج وہ ہستی ہمارے اندر موجود ہے۔ سب ان کے ساتھ مل جاؤ۔ اس جگہ پر کبھی قائداعظم بھی بیٹھے تھے اور انہوں نے پاکستان کے قیام کا اعلان کیا تھا، ان کی قیادت میں سب لوگ اکٹھے تھے۔ ان کے بعد اگر ساری اقوام کو ملانے والے، سارے مذاہب کو ملانے والے اور سارے فرقوں کو ملانے والا اگر کوئی نظر آیا ہے تو وہ طاہرالقادری صاحب ہیں۔ اے اللہ اس ہستی کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم فرما۔

٭ شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ  کے پوتے محترم ولید اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں تحریک منہاج القرآن کا بے حد ممنون ہوں کہ مجھے اس تاریخی مقام پر آپ سے مخاطب ہونے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے جو نعرہ ایک سال پہلے بلند کیا تھا کہ ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ وہ نعرہ بالکل سچ اور حقیقت پر مبنی ہے ہم اس ریاست کو اس صورت میں بچا سکتے ہیں کہ اگر ہم اپنے آپ کو اخوت، محبت، رواداری اور باہمی برداشت کی ان اقدار سے آراستہ کریں جن کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی قائم کردہ ریاست مدینہ میں پائی جاتی تھی۔ پاکستان وہی خواب ہے جن کو علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا اور قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ  نے شرمندہ تعبیر کیا۔

٭ ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن محترم خرم نواز گنڈا پور نے مہمانان گرامی و شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں تحریک کی جانب سے تمام احباب، مہمانان گرامی قدر، درجنوں ممالک سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمانان گرامی قدر اور 250 شہروں میں ویڈیو لنک کے ساتھ اس میلاد کانفرنس میں شریک تمام سامعین کا شکر گزار ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ولادت کی خوشی میں 30ویں عالمی میلاد کانفرنس میں حاضر ہیں۔ یہ فخر، یہ اعزاز صرف منہاج القرآن کو حاصل ہے کہ یہ محفل دنیا کے کئی ممالک میں سجائی جارہی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  سے محبت کرنے والوں کو موقع دیا کہ وہ سب اکٹھے ہوکر سرکار کی خدمت میں اپنی محبت کا ثبوت دیں۔ اس حسین رات جس محبت، نظم و ضبط سے آپ شریک ہیں ان شاء اللہ اسی طرح ہم مل کر شیخ الاسلام کے خواب ’’کرپشن، دہشت گردی سے پاک پرامن پاکستان‘‘ کی تعبیر بھی حاصل کریں گے۔ ان شاء اللہ وہ صبح ہم ضرور دیکھیں گے۔

٭ صدر پاکستان عوامی تحریک اور عالمی میلاد کانفرنس کے انعقاد کی مرکزی کمیٹی کے سربراہ محترم شیخ زاہد فیاض نے ملک پاکستان کے 250 مقامات اور بنگلور (انڈیا) میں ہونے والی عالمی میلاد کانفرنس کی تفصیلات سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن یوتھ لیگ، مصطفوی سٹوڈنٹ موومنٹ، پاکستان عوامی تحریک، منہاج القرآن علماء کونسل اور منہاج القرآن ویمن لیگ کی کارکنان اور لاکھوں عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کو خصوصی مبارکباد پیش کی۔

خطاب محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

عالمی میلاد کانفرنس سے صدر تحریک منہاج القرآن محترم صاحبزادہ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.

(الاحزاب:21)

’’فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اﷲ ( صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہِ (حیات) ہے ‘‘۔

اللہ رب العزت ایک پوشیدہ خزانہ تھا، اس نے اپنے آپ کی پہچان کروانا چاہی اور پوشیدہ خزانے کو ظاہر کرنے کے لئے انسان کو تخلیق فرمایا تاکہ وہ پوشیدہ خزانہ ہر شخص پر عیاں ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو خزانہ کہا وہ درحقیقت اس کی صفات تھیں جو کبھی پوشیدہ تھیں۔ خدا نے چاہا کہ اپنی صفات کو ظاہر کردے۔ لہذا اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور اپنی صفات کو ان میں تقسیم کردیا۔

اس نے اپنی صفت رزاقیت کے فیض کو مخلوق میں تقسیم فرمایا تو طبقہ کسان وجود میں آیا۔۔۔ صفت شفاء کے فیض کو تقسیم فرمایا تو ڈاکٹرز اور حکماء سامنے آئے۔۔۔ صفت عدل و انصاف کے فیض کو تقسیم فرمایا تو وکلاء اور جج ظاہر ہوئے۔۔۔ اپنے علم و حکمت اور عرفان کے صفت کے فیض کو تقسیم فرمایا تو علمائ، مربیین اور اولیاء سامنے آئے۔۔۔ الغرض وہ مخلوق کے ایک ایک طبقے پر اپنی صفت ظاہر کرتا چلا گیا اور وہ پوشیدہ خزانہ لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتا چلا گیا۔ نتیجتاً دنیا میں مختلف پروفیشنز وجود میں آتے چلے گئے۔

اللہ رب العزت کی متعدد صفات کے اظہار کو لئے جب یہ طبقات سامنے آئے تو ان میں کمزوری اور عجز تھا۔ اللہ رب العزت کو معلوم تھا کہ میری صفات کا کامل مظہر بننا ان کی طاقت سے باہر ہے۔ لہذا اس نے اپنی مخلوق میں سے ایسی ذات کو کھڑا کردیا جو جنس میں تو ان لوگوں جیسی تھی لیکن وہ ایک ایسی ذات تھی جس کو اپنی کامل صفات کا مظہر بنایا تاکہ جنس میں لوگوں جیسی ہو مگر جب لوگ اس کو دیکھیں تو جان جائیں کہ خدا کا محبت کرنا کیسا ہوتا ہے۔۔۔ خدا کا حسین ہونا کیسا ہوتا ہے۔۔۔ خدا کا علم دینا کیسا ہوتا ہے۔۔۔ خدا کا انصاف کرنا کیسا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت تاجدار کائنات کی صفات کو اپنی صفات سے بدلتا چلا گیا اور ان کی ہر ہر صفت کو خدا اپنی صفت میں رنگتا چلا گیا پھر اعلان فرمادیا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ اب اے بندے یہ تمام صفات تیرے سامنے ہیں۔ اے مخلوق اب اسوہ کاملہ کا عظیم نمونہ میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی شکل میں ہے۔ ان کی پیروی کر، نجات تیرا مقدر بن جائے گی۔

آج کی رات جو تاجدار کائنات کا میلاد منارہے ہیں دراصل وہ ارادہ الہٰی کے ظہور میں آنے کا جشن منارہے ہیں اور اس سے حسین بات کیا ہوسکتی ہے کہ خدا ارادہ کرے اور ہم اس ارادے کی تکمیل پر خوشیاں منائیں۔ خدا نے اس تکمیل پر خوشیاں منانے کے لئے آپ کو چن رکھا ہے، جو خوشیاں نہیں منارہے انہیں خدا نے اپنے ارادے کی تکمیل کی خوشی کے لئے چنا ہی نہیں۔ میں اس عظیم الشان عالمی میلاد کانفرنس کے انعقاد پر تحریک منہاج القرآن کے تمام فورمز اور پورے پاکستان میں اس کانفرنس میں شریک احباب اور انتظامیہ کو مبارکباد دیتا ہوں۔

محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے خطاب کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بنگلور (انڈیا)، مینار پاکستان (لاہور) اور پاکستان کے 250 شہروں میں منعقدہ اس عالمی میلاد کانفرنس سے بذریعہ ویڈیو لنک براہ راست خطاب فرمایا:

خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خطاب سے قبل انڈیا اور پاکستان کی عوام کو اپنا پیغام امن و محبت دیتے ہوئے فرمایا کہ

وقت آگیا ہے کہ بھارت اور پاکستان تعاون اور امن پر مبنی ہمسائیگی کے تعلقات کا نیا باب کھولیں، فوجی تناؤ اورجنگیں، تنازعات اور مسائل کا حل نہیں ڈائیلاگ کے ذریعے آگے بڑھنا ہوگا۔ بھارت اور پاکستان ہرگز ایک دوسرے کے دشمن نہیں، ان کے مشترکہ دشمن غربت، جہالت، کرپشن اور بے روزگاری جیسے مسائل ہیں۔ معصوم شہریوں کا قتل انڈیا میں ہو یا پاکستان میں انسانیت کے خلاف بڑا جرم ہے۔ ترقی کی راہیں محبت اور امن کے جذبے سے نکالنا ہوں گی۔ مہاتما گاندھی اور قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ  نے عدم تشدد اور امن ومحبت کا فلسفہ قرآن کے عظیم پیغام سے اخذ کیا تھا۔ پاکستان اور بھارت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ  اور گاندھی کی تعلیمات سے رہنمائی لے کر امن اور ترقی کے سفر کا آغاز کریں۔ دونوں ملک اگلی نسلوں کو خوشحال مستقبل دینے کے لئے اچھے بااعتماد ہمسائے بن جائیں تو اس کے نہایت ہی مثبت اثرات جنوبی ایشیاء کے دیگر ملکوں پر ہوں گے اور سارک ملکوں کا ویژن ابھر کر دنیا کے سامنے آجائے گا۔ بھارت اور پاکستان خصوصاً اور سارک کے دوسرے ملک ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں جہاں ان کے آپس کے تعلقات اعتدال پر آجانے چاہئیں اور ان تعلقات کی بنیاد ، اعتماد اور باہمی تعاون پر ہونی چاہئے۔

پاکستان اور انڈیا کی اقوام کا اس بات پر پختہ یقین ہونا چاہئے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ان کے مشترکہ دشمن غربت، جہالت، بیروزگاری، کرپشن، انڈر ڈویلپمنٹ اور لاء اینڈ آرڈر کی بدتر صورتحال ہے۔ پاکستان اور بھارت کو غربت کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا اور مشکلات کے مارے عوام کا سوچنا ہوگا۔ دونوں اقوام نفرت اور مخالفانہ طرز عمل ختم کرکے آگے بڑھیں اور دھائیوں سے موجود خلیج کو معتدل رویوں سے دور کرنے کا عزم کریں۔

دو طرفہ اعتماد کی کمی نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر کرکے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ صوفیاء اور اولیاء کرام نے امن، محبت، برداشت اور اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ ہندو، بدھ مت، کرسچن، یہودی، سکھ اور پارسی مذاہب کے رہنماؤں نے بھی محبت اور امن کا درس دیا ہے۔ 1924ء میں مہاتما گاندھی نے ینگ انڈیا رسالے میں لکھا کہ ’’اسلام کی تعلیمات سادگی، اخلاص، ایفائے عہد، انسانیت کے ساتھ وفاداری، نفع بخشی، رحمت، مہربانی، اللہ پر کامل یقین و توکل اور نفسانیت اور خود غرضی کی نفی پر قائم ہیں‘‘۔ قرآن مجید کے حوالے سے مہاتما گاندھی نے 13 جولائی 1940ء میں کہا تھا کہ ’’میں نے متعدد مرتبہ قرآن پاک کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ قرآن کی تعلیمات امن و محبت اور عدم تشدد پر قائم ہیں‘‘۔ اسی طرح قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ  کی فکر کا خمیر قرآن مجید سے اٹھا ہے اور ان کی تعلیمات امن و اعتدال اور محبت کے فروغ پر قائم ہیں۔

آج دہشت گردی بھی دو قسموں کی ہے ایک دہشتگردی وہ جو مذہب کے نام پر کی جاتی ہے اور معصوم لوگوں کی جان لے لی جاتی ہے اور ایک دہشت گردی وہ ہے جو سیاست کے نام پر کی جاتی ہے جس میں غریب معاشرے کے حقوق اور روٹی کا لقمہ تک چھین لئے جاتے ہیں۔ مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشتگردی تو ہے ہی لائق مذمت اور لائق لعنت مگر اس سے بڑی دہشت گردی وہ ہے جو سیاست کے نام پر حکمران کرتے ہیں۔ غریبوں کے حقوق پر ڈاکے ڈال کر ساری دنیا میں بزنس ایمپائرز بنالیتے ہیں مگر غریب روٹی کے نوالے، پانی، بجلی، گیس اور بنیادی انسانی حقوق اور عزت کو ترس رہے ہیں۔

تاجدار کائنات نے معاشرے کی تعمیر و ترقی اور وسائل کی مساویانہ تقسیم کا سبق سکھایا، عدل و انصاف کو رواج دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے وہ نظام دیا جس میں کوئی بھوکا نہ رہے۔ پاکستان اور بھارت میں رہنے والے خواہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں انسانی قدروں کی تعلیم جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے دی اس کی روشنی میں سوچیں۔ کوئی مذہب گوارہ نہیں کرتا کہ معاشرے میں لوگ بھوکے مریں۔ جس معاشرے کا خواب آج دنیا دیکھ رہی ہے حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے اس کی بنیاد 1500 سو سال قبل رکھ دی تھی۔ اگر ہم معاشرے کی فلاح چاہتے ہیں تو ظاہرو باطن میں ہمیں غلامی رسول کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں سیرت طیبہ کی روشنی میں کرپشن کے خاتمہ اور غریبوں کے حقوق کی بحالی کے لئے اٹھنا ہوگا، وڈیروں اور لٹیروں سے اپنے حقوق چھین لو، جب قوم دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف اٹھے گے تو اللہ کی مدد بھی عطا ہوگی۔

انڈو پاک کی عوام کو پیغام امن و محبت دینے کے بعد شیخ الاسلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی میلاد کی مناسبت سے ’’نبی اور نبوت کے معانی و مفہوم‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

نبی کے متعدد معانی ہیں:

  1. غیب کی خبریں دینے والا
  2. بلند، ارفع
  3. جدا ہونے والا

آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  ایسے بشری پیکر تھے، جو انسان ہو کر بھی بشری خصائل سے الگ اور جدا تھے۔ یہ شان جدائی آپ کی ذات کے اندر موجود تھی۔ جیسے بشر ہوتے ہوئے بھی آپ کا سایہ نہ تھا، آپ کے پسینہ مبارک سے خوشبو آتی، مکھی آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے جسم اقدس پر نہ بیٹھتی، آپ کے بول و براز سے بھی خوشبو آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی آنکھیں جیسے سامنے دیکھتیں ویسے ہی پیچھے بھی دیکھتیں۔

نبی بمعنی جدا ہونے والا، اس اعتبار سے بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے اس سارے ماحول سے جدائی اختیار کی جس ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  معاشرے کی روش اور طریقہ سے جدا ہو گئے۔ اس معاشرے کی خصلتوں سے جدا ہو گئے۔ جس معاشرے میں آپ مبعوث ہوئے اس معاشرے میں قتل و غارت گری تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  اس معاشرے میں پیکر امن بن گئے۔ آپ نے جس معاشرے میں جنم لیا، اس معاشرے کو آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کا استاد نہیں بنایا بلکہ اس سے جدا ہو کر آپ اسی معاشرے کے استاد، معلم، مرشد اور مربی بن گئے۔

ہجرت حبشہ کے وقت مسلمان، حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں پہنچے۔ کفار مکہ نے وہاں سے مسلمانوں کو بیدخل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا موقف پیش کرتے ہوئے فرمایا: اے بادشاہ ہم ایک غیر مہذب قوم تھے، دور جہالت میں ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے، ہر قسم کی بے حیائی کا ارتکاب کرتے تھے، خونی رشتہ داروں کو کاٹتے تھے۔ ہمارے معاشرے کا طریقہ تھا کہ قوی ضعیف پر حملہ آور ہوتا، طاقت ور اپنے جبر سے کمزوروں پر قبضہ کر لیتا۔ اس حال میں اللہ نے ہم میں اپنا رسول محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  بھیجا، جس نے ہمیں عبادت اور اللہ کی توحید کا درس دیا۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی روش اور راستہ پرانے طریقہ سے جدا تھا۔ اس نبی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے ہمیں ایک نیا راستہ دکھایا، سچ بولنے، امانتوں کی ادائیگی، ایمانداری، صلہ رحمی اور امن کا درس دیتے ہوئے یتیم کا مال کھانے سے روکا، جس کی وجہ سے یہ لوگ ہمارے خلاف ہو گئے۔

حضرت جعفر بن ابی طالب کا یہ خطاب ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے اس جاہلانہ معاشرہ سے جدا اور علیحدہ ہونے کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ آقا علیہ السلام نے معاشرے میں سچ، خیر بھلائی اور قیام امن کا درس دیا۔ امن کا ایسا درس کہ جنگ کے قوانین مقرر کر دیئے، بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو قتل نہیں کر سکتے۔ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کو ناحق قتل نہیں کر سکتے۔ دوسرے مذاہب کے سفارتکاروں اور حتی کہ غیر مسلم پر امن شہری کو قتل نہیں کر سکتے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے فرمایا کہ جس نے پرامن غیر مسلم کو قتل کیا، اس پر جنت حرام کر دی گئی۔

اس تصور امن کو چودہ صدیاں قبل کے تناظر میں دیکھیں، جب ہر طرف دہشت گردی کا راج تھا، جب انسانیت کی عصمت دری و بربریت کا دور دورہ تھا۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کا عطا کردہ ایک ایک تصور جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے معاشرے کو ہر سطح پر اس کا حقیقی وقار عطا کیا۔ معاشی سطح پر غربت، بھوک اور معاشرے میں کرپشن کے خاتمے کی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے فرمایا کہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ کھانے کو ہے تو وہ اس کے حقدار کو لوٹا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے فرمایا کہ وہ شخص مومن اور مسلمان نہیں، جو خود پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ آج ہندوستان، پاکستان میں لاکھوں لوگ بھوکے سوتے ہیں۔ کیا ہمارا ایمان، اسلام اور دین دھرم باقی رہ جاتا ہے؟

لفظ ’’نبی‘‘ کا دوسرا معنی ’’بلند ہونے والا‘‘ ہے۔ اللہ کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  تمام عوالم میں بلند ہیں اور ہر شے حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے تابع ہے۔ نہ صرف جن و انس بلکہ جمادات و نباتات اور حیوانات بھی آپ کے ماتحت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُحد پہاڑ بھی اپنے اوپر آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی موجودگی کے احساس میں خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور وجد میں آجاتا ہے اور آقا صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے حکم پر رُک جاتا ہے۔۔۔ حضرت عکاشہ کی تلوار ٹوٹنے پر حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  انہیں درخت کی ٹہنی دیتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے اختیار و تصرف سے تیز دھار تلوار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔۔۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی جدائی میں کھجور کا خشک تنا بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے لمس مبارک کو محسوس کرتے ہوئے خاموش ہوجاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  اپنے اختیار کو استعمال فرماتے ہوئے اس کی خواہش پر اسے جنت میں لگنے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے تصرف، اختیار اور قدرت سے چند صحابہ کرام کے لئے موجود کھانا و پانی ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کی ضرورت کو پورا کرجاتا اور یہ تکثیر الطعام والماء نہیں بلکہ تخلیق الطعام والمآء ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے اپنے تصرف و اختیار سے کھانے اور پانی کو تخلیق فرمایا۔

آؤ! آج شب میلاد ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی غلامی میں بسر کریں گے۔ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی سیرت کو اپنا لیں گے تو پھر ہر شخص محبت کا پیکر بن جائے گا جس سے یہ دنیا امن کا گہوارا بن جائے گی۔

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن ممبئی اور منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا کے زیر اہتمام 9 جنوری 2014ء کو ’’YB چاوان سنٹر‘‘ میں امن کانفرنس بعنوانPEOPLE's SAARC Prayer for Peace and an interfaith منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا مقصد جنوبی ایشیاء میں جملہ مذاہب اور عوام کے مابین امن، استحکام اور ہم آہنگی کا فروغ تھا۔ اس کانفرنس میں سارک ممالک سے تعلق رکھنے والے جملہ مذاہب کے درج ذیل نمائندگان اور دانشور حضرات نے خصوصی شرکت کی:

Oswald Cardinal Gracias (آرک بشپ بمبئی، صدر کیتھولک بشپس کانفرنس انڈیا)، Pujya Swami Chidanand Saraswatiji (صدر انڈیا ہیرٹیج ریسرچ فاؤنڈیشن)، Dr. Satyapal Singh (ممبئی پولیس کمشنر، سنسکرت سکالر) ، Sardar Tarlochan Singh (سابق ممبر پارلیمنٹ)، Dr. Bhadant Anand Mahathero (رہنما بدھ مت۔ سری لنکا)، Dr. Meenal Karnitkar (سکالر جین مت)، Shri Ved Pratap Vaidik (سیاسی تجزیہ نگار و کالم نگار)

اس کانفرنس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بذریعہ ویڈیو لنک خصوصی شرکت کی اور شرکاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہر طرح کی دہشت گردی کی سخت مذمت کی۔ آپ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کے خوبصورت تصور جہاد کو غلط رنگ دیتے ہوئے اس اصطلاح کو ہائی جیک کرلیا ہے۔ اسلام دیگر تمام مذاہب کی عزت و احترام کرنے کا درس دیتا ہے، اسلام سراسر دین امن ہے۔ نہ صرف اسلام بلکہ تمام الہامی مذاہب کی تعلیمات دہشت گردی و انتہا پسندی کی مذمت کرتی ہیں۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے قرآن مجید، بائبل، وید، بھگوت گیتا، مہاتما گاندھی اور دیگر مذاہب کی کتب اور ان کی مذہبی شخصیات کے حوالے سے امن، استحکام اور بین المذاہب رواداری کی تعلیمات کو شرکاء کے سامنے بیان فرمایا کہ اچھائی کی ترویج اور برائی کا خاتمہ ہر مذہب کا مقصد ہے۔ محبت، سچائی، بھائی چارہ، رحم اور آزادی افکار ہر مذہب کی مشترک اقدار ہیں۔ جنوبی ایشیاء کی عوام کو نفرت، دہشت گردی اور امن مخالف قوتوں کے خلاف اکٹھا ہونا ہوگا۔ ایشیاء کو یہ اعزا زحاصل ہے کہ یہ دنیا کے متعدد مذاہب کے بانیان کی جائے پیدائش ہے لہذا یہ علاقہ انسانیت کو غربت، جہالت اور دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔

شیخ الاسلام نے کانفرنس میں انڈیا اور پاکستان کے مابین پرامن تعلقات کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک کے اصل دشمن غربت، کرپشن، بیماریاں اور عدم ترقی ہے۔ ہمیں غربت، کرپشن سے پاک معاشرہ کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں ہر ایک کے لئے برابر وسائل و ذرائع میسر ہوں، جہاں انسانیت کی عزت و توقیر کی جائے اور تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال سے عوام کو خوشحال بنایا جائے۔

کانفرنس کے اختتام پر شیخ الاسلام کی کتب ’’دہشت گردی کے خلاف فتویٰ‘‘ اور جہاد کے معانی و تشریحات کے ضمن میں The Supreme Jihad بھی شرکائِ کانفرنس کو پیش کی گئیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام 29 دسمبر 2013ء کو مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری اور دہشت گردی کے خلاف ناصر باغ تا اسمبلی ہال ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں مردو خواتین نے بڑی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس ریلی سے مرکزی قائدین صدر تحریک منہاج القرآن محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، صدر پاکستان عوامی تحریک محترم شیخ زاہد فیاض، سیکرٹری جنرل محترم خرم نواز گنڈا پور نے بھی خطاب کیا۔

محترم ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی ریلی حکمرانوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے۔ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پسے ہوئے عوام کو ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شکل میں حقیقی لیڈر مل چکا ہے اب آمریت زدہ حکمرانوں کیلئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ سرزمین لاہور کے غیور عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ اس دھرتی کے بیٹے، بیٹیاں انقلاب کی صبح تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ لاہور کی ریلی نوید انقلاب ہے۔ بجلی، گیس، چینی، آٹا چوروں اور ڈالر خوروں کے خلاف یہ پاکستانی قوم کا نمائندہ اجتماع ہے۔ آج چشم فلک نے دیکھ لیا ہے کہ انقلاب کی منزل دور نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے پاکستان آنے سے قبل چور، لٹیرے بوریا بستر باندھ کر بھاگ جائیں گے۔ آج کے اجتماع میں مزدور، کسان، اساتذہ، وکلائ، طلباء اور لاکھوں کی تعداد میں مائیں بہنیں اور بیٹیاں شریک ہیں۔ وقت آنے والا ہے جب غریبوں پر کئے گئے مظالم کا حساب لیا جائے گا اور مظلوموں کو اقتدار منتقل کر دیا جائے گا۔ غریبوں کا استحصال کرنے والوں کو اب سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی، انتخابی اور اشرافیہ کی آمریت مسلط ہے، جمہوریت کا وجود نہیں البتہ مجبوریت کا نظام مسلط ہے جو عوام سے جینے کا حق بھی چھین رہاہے۔ آئین کے آرٹیکل 38 کا انقلاب لائیں گے جسکے بعد عوام کی حکومت عوام میں سے عوام کیلئے بنے گی۔ 65 سال سے مثبت تبدیلی کا راستہ روکنے والے اب عوامی سیلاب میں بہنے والے ہیں۔ لاہور کے غیور عوام نے کرپشن اور مہنگائی کی آگ میں جلانے والے مقتدر طبقے کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ لاکھوں افراد کا ٹھاٹیں مارتا عوامی سمندر پاکستان عوامی تحریک کی آواز انقلاب پر اعتماد کا مظہر ہے۔ اب ڈاکوؤں اور لٹیروں کو اقتدار کے ایوانوں سے جیل میں پھینکنے کا وقت قریب آ رہا ہے۔ ہم ملک میں کسی طرح کی آمریت، انتہا پسندی اور ملائیت نہیں چاہتے۔ آج سیاسی عیاشیاں عروج پر ہیں۔ مقتدر خاندان کے چھوکرے عوام کے پیسوں پر ہیلی کاپٹرپر سفر کرتے ہیں۔ طاہر القادری کا انقلاب پر امن ہو گا ایک قطرہ خون نہیں بہے گا۔ عوام کو اپنا حق لینے کیلئے گھروں سے نکلنا پڑے گا۔

4۔ پاکستان لیگ آف امریکہ کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد

لیگ کی طرف سے شیخ الاسلام کیلئے ’’قائداعظم ایوارڈ‘‘

15 دسمبر 2013ء بروز اتوار ساؤنڈ ویو اسٹوڈیو کے بینکویٹ ہال میں پاکستان لیگ آف امریکہ کی سالانہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری تھے۔ پاکستان لیگ آف امریکہ کے جنرل سیکرٹری طاہر خان نے نقابت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ پاکستان لیگ آف امریکہ نیو یارک میں پاکستانی کمیونٹی کی پہلی تنظیم ہے جو پچھلے 46 سالوں سے پاکستانی کمیونٹی کے لئے مختلف موضوعات پر پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے۔

پاکستان لیگ آف امریکہ کے صدر عین الحق نے شیخ الاسلام کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ کی آمد سے آج لیگ کے وقار اور آج کے پروگرام کی رونق دوبالا ہوگئی۔

چیئرمین ڈاکٹر تجمل گیلانی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی عظمت ، ان کی دور اندیشی اور دیانت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام کی تعلیمات کو پڑھنے، سننے اور سمجھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں عظیم رہنما ان کی شکل میں دیا ہے۔ ہم سب کوان کے مشن میں شامل ہونا ہے۔ ان کی کامیابی پاکستان کو لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ کے نام پر چلانے کی ضامن بن سکتی ہے۔

لیگ آف امریکہ کے چیئرمین ڈاکٹر نور زمان خان نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ہر شاخ پر الو بیٹھے ہیں ہمیں ان سارے الوؤں کو بھگانا ہوگا اور ان کی جگہ اللہ کے شاہینوں کو بٹھانا ہوگا۔ آج پاکستان کے موجودہ حالات چور بازاری، ظلم و زیادتی دیکھ کر مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ دیا کیسے جل رہا ہے۔ اس دیئے کو اللہ نے جلا رکھا ہے۔ اگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی تو یہ دیا بجھ بھی سکتا ہے۔ ہمیں شیخ الاسلام کی شکل میں اللہ نے ایک ایسا رہنما دیا ہے جس کی عقل و دانش سے فائدہ اٹھا کر ہم پاکستان کے مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔

پروگرام میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جب خطاب کے لئے آئے تو لوگوں نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔ آپ نے لیگ آف امریکہ کے ذمہ داروں ، اراکین، معاونین اور محفل کے تمام شرکاء کو مبارکباد دی کہ آپ لوگ وطن سے دور بیٹھ کر پاکستان کے نام پر ایک جگہ جمع ہوئے ہیں۔ آپ پاکستان کے لئے فکر مند ہیں۔ اسلام کے نام کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خدشات کے غبار سے نکال کر توانائی اور ہمت دے اور روشن خیالی سے نوازے تاکہ آپ پاکستان اور اسلام کے لئے صحیح کام کرسکیں۔ پاکستان کو موجودہ سنگین صورت حال سے باہر نکلنے کے لئے یہ امر ذہن نشین رہے کہ ملا ازم اور ٹیرر ازم دونوں ہی قائداعظم کے ویژن کے خلاف ہیں۔ ان کا خاتمہ ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہے۔ حکومت آئین کی دفعات کے تحت عوام سے کئے گئے وعدے اور ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ لہذا پاکستان میں انقلاب کی ضرورت ہے جو آئین کے مکمل اطلاق کو یقینی بنائے۔ پاکستان کی کسی حکومت نے کبھی آئین پاکستان کی ان شقوں پر عمل نہیں کیا جن میں ریاست نے عوام سے وعدے کئے ہیں کہ وہ عوام کی رضا و آزادی، ریاست کے تابع بنانے کے عوض جان و مال، عزت آبرو کی ضمانت کے ساتھ روٹی، مکان، صحت اور تعلیم فراہم کرنے کی ضمانت دے گی۔ پاکستان میں ہمیشہ سے آئین کی 40 سے اوپر کی شقوں پر گفتگو ہوتی ہے جن میں صرف حکومت چلانے، صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ کے اختیارات کا ذکر ہے۔ ریاست نے عوام سے کئے گئے وعدے اور ضمانتوں کا بھرم نہیں رکھا۔ اس کی ذمہ داری ریاست پر نہیں بلکہ حکومتوں پر ہے، یہ ریاست کی نہیں حکومت کی ناکامی ہے۔

موجودہ پارلیمنٹ فخرو بھائی کی مرہون منت ہے۔ ان کی موجودگی میں انقلاب نہیں آسکتا۔ انقلاب لانے کے لئے نظام کو بدلنا ہوگا۔ ہم عوام کی مدد سے جدوجہد کریں گے، ہماری جدوجہد بالکل غیر مسلح ہوگی۔ میر ا ایک کروڑ نمازیوں کا اجتماع ایک پرامن جدوجہد ہوگا اور عوام کے حقوق کے حصول اور فتح کا سورج طلوع ہونے تک جاری رہے گا۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ ہماری جدوجہد میں ایک رتی برابر بھی بدامنی نہیں ہوگی۔ ہمیں ویژنری لیڈر کی ضرورت ہے، ایسے لیڈر کی نہیں جو صدر اوبامہ کے سامنے بیٹھ کر صفحے پلٹنا شروع کردے۔ ہم نے ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے۔ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ کلچر اور اقدار کا نام ہے۔ پاکستان کا موجودہ جمہوری میکنزم فراڈ ہے، جمہوریت کا مطلب گڈ گورننس ہے۔ تمام قومی اداروں میں شفافیت ہونی چاہئے۔ 11 مئی کے الیکشن میں دھجیاں اڑادی گئیں جن لوگوں کو نااہل قرار دینا چاہئے تھا، جمہوریت کے نام پر انہیں موقع دے کر الیکشن لڑنے دیا گیا۔ موجودہ اسمبلیاں خاندان غلاماں ہیں، مفادات نے جتھے کو جکڑ رکھا ہے، کسی کو حکمرانوں کے آگے بولنے کی اجازت نہیں۔ پاکستان کی 18 کروڑ عوام کے لئے زیادہ صوبے اس لئے نہیں بنائے جارہے تاکہ وسائل صرف چند خاندانوں تک محدود رہیں۔ ہمیں ایسا پاکستان چاہئے جو قومی مفاد میں کسی کو بھی No کہہ سکے۔ ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جو ہم امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک میں دیکھتے ہیں۔ ایسی جمہوریت جو انسانی قدروں کی ضمانت دیتی ہو۔ جس میں احتساب کا کلچر ہو، جو عوام کے آئینی حقوق کا تحفظ کرسکے۔

اس پروقار عشائیہ میں پاکستان لیگ آف امریکہ کے صدر عین الحق، چیئرمین ڈاکٹر نور زمان خان، سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر شفیع بیزار، جنرل سیکرٹری طاہر خان، چیئرمین ڈاکٹر تجمل گیلانی، وائس چیئرمین انیس صدیقی سمیت لیگ کے ڈائریکٹرز اور ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پاکستان لیگ کی جانب سے حسب روایت اس سال بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے پر مختلف احباب کو ایوارڈز دیئے گئے۔ اس موقع پر لیگ کے چیئرمین، صدر اور سرپرست اعلیٰ سمیت دیگر عہدیداروں نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو قائداعظم ایوارڈ پیش کیا۔

5۔ ورکرز کنونشن

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام 19 دسمبر 2013ء کو مرکزی سیکرٹریٹ تحریک پر ’’ورکرز کنونشن‘‘ منعقد کیا گیا جس میں مردو خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کنونشن سے ملکی حالات و واقعات کے تناظر میں صدر پاکستان عوامی تحریک محترم شیخ زاہد فیاض، ناظم اعلیٰ محترم خرم نواز گنڈا پور، امیر لاہور محترم ارشاد احمد طاہر نے بھی خطابات کئے۔

اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران 6 ماہ میں مہنگائی کو کنٹرول نہیں کر سکے، بدامنی قتل و غارت عروج پر ہے۔ 50 ارب تک کی سرمایہ کاری کی اجازت دینا کالے دھن کو سفید کرنا ہے جس پر پارلیمنٹ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ پہلے بھی مک مکا کی اپوزیشن تھی اور اب بھی مک مکا کی اپوزیشن ہے۔ عوام کی خیر پرامن انقلاب میں ہے پہلے انتخابی اصلاحات کے لئے دھرنا دیا تھا اب انقلاب کے لئے نکلیں گے۔ پہلے بے نظیر انکم سپورٹ سکیم کے ذریعے عوام کو بھکاری بنایا گیا اور اب قرضے کے نام پر نوجوانوں کو مقروض بنایا جا رہا ہے۔ کیا پورے پاکستان میں انہیں کوئی بھی ایسا ٹیکنکل آدمی میسر نہیں تھا جو اس قرضہ سکیم کو چلاسکتا، افسوس اس کی ذمہ داری بھی ان حکمرانوں نے اپنے ہی خاندان کو تفویض کردی۔

23 دسمبر 2012 سے 11 مئی کے الیکشن تک تسلسل سے یہ بات کی کہ انتخابی عمل کرپٹ اور پرانے لوگوں کو تحفظ دینے کے لئے ہے۔ کرپٹ حکمران اقتدار میں آ کر آئین کو ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ 1973 کے آئین میں اب تک 20 ترامیم کی جا چکی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ترمیم عوام کے فائدے کے لئے نہیں ہے۔ ان حکمرانوں کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے۔ قرضہ سکیم کا حال بھی ییلو کیپ سکیم کی طرح ہوگا، بنک دیوالیہ ہو جائیں گے کیونکہ قرضہ دینے سے قبل نوجوانوں کی کوئی تربیت نہیں کی گئی۔ 15 قومی ادارے فروخت کرنے سے قبل ہی 110 ارب روپے کی کک بیکس وصول کر لی گئیں ہیں۔ بیچنے والے بھی وہی ہیں اور خریدنے والے بھی وہی ہیں۔ امریکہ میں سب کو پتہ ہے کس نے کیا خریدنا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے پاکستان میں نام اور ہیں سری لنکا، نیوزی لینڈ، امریکہ، یوکے، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ میں کئے گئے کاروبار کے نام اور ہیں۔ 1994ء میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے مجھے خود بتایا کہ آپ کے وزیر اعظم کے 50فیصد شیئر نیوزی لینڈ کی مارکیٹ میں ہیں جبکہ آسڑیلیا کے سابق وزیر اعظم نے بتایا تھا کہ جب وہ پاکستان کے دورے پر سرمایہ کاری کے لئے گئے تو ان سے 30 فیصد کمیشن مانگی گئی۔

18ویں ترمیم اس ملک کے آئین کے منہ پر سب سے بڑا طمانچہ ہے۔ جو لوگ مڈٹرم الیکشن کی بات کرتے ہیں کیا وہ بھول گئے ہیں کہ پچھلا الیکشن بھی اسی الیکشن کمیشن نے کروایا تھا۔ ایک سیاست دان جو کسی اور ادارے میں تھا اور جس سے اب عوام کو نجات مل چکی ہے اس کی زیر نگرانی سارا کام کیا گیا تھا۔ مڈ ٹرم الیکشن میں بھی قوم کے ساتھ وہی ہوگا جو 11مئی کے الیکشن میں ہوا تھا۔ ماضی میں دھرنا انتخابی اصلاحات کے لیے دیا گیا تھا لیکن اب جب ایک کروڑ نمازی نکلیں گے تو پھر پرامن انقلاب آئے گا اور عوام کو اقتدار منتقل کئے بغیر ہم واپس نہیں آئیں گے۔ یہ فائنل راونڈ ہو گا جس میں سب کو ناک آوٹ کر دیں گے۔

6۔ گلوبل پیس اینڈ یونٹی کانفرنس (لندن)

24 نومبر 2013ء لندن میں عظیم الشان ’’دی گلوبل پیس اینڈ یونیٹی کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ جس میں دنیا بھر سے امت مسلمہ کے نمائندہ، سکالرز، پروفیشنلز، سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ذمہ داران، علاقائی کمیونٹی رہنما اور مختلف علوم و فنون کے ماہرین نے مغربی دنیا میں آباد مختلف قومیتوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزار ہا مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں خصوصی خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کیا ان کی سٹیج پر آمد کے وقت شرکاء نے کھڑے ہو کر پرتپاک استقبال کیا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کانفرنس میں عالمی دنیا کو وار اینڈ ٹیرر میں اندھا دھند گولہ باری جاری رکھنے کی بجائے دہشت گردی کی تعریف کے لئے مسلمانوں کو آن بورڈ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک اصول اپنائے اور پھر اس کے مطابق ہر جگہ اور ہر ملک میں دہشت گردوں کو کسی ایک مذہب، قومی تملک اور شناخت کے بغیر انسانیت کا مجرم قرار دیتے ہوئے ایک اصول کلیے اور قاعدے سے نمٹے اور پھر کوئی گروپ یا تنظیم کسی شخص کا انفرادی عمل ہو یا ریاستی جبر اس میں تفریق روا رکھے بغیر امریکہ سے لے کر اسرائیل اور پاکستان سے لے کر وسطی عرب ریاستوں تک ظالموں کو کیفر کردار اور دہشت گردوں کو آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے۔ امت مسلمہ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے آگے ہے۔ اس کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ مسلمانوں ہی کی جانب سے آیا جنہیں آج سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسلام سراسر اخلاقیات کا دین ہے اور ہم کسی بھی دہشت گردی کی پشت پناہی کی اجازت دیتے ہیں اور نہ وار اینڈ ٹیرر میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والوں کو آشیر باد دیں گے۔ مسلمان امن پسند قوم ہے مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ان کے جائز خدشات پر بھی عالمی دنیا نے ابھی تک کوئی دھیان نہیں دیا جس کا فائدہ ایسے عناصر اٹھاتے ہیں جو معاشرے میں اپنی غلط تعلیمات اور تشریحات کرکے مذہب کے نام پر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے مجرموں کے جرائم کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر دیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں اسلام کی تعلیمات ان تمام اقدامات کی نفی کرتی ہیں جنہیں بنیاد بنا کر شر پسند عناصر اپنے جرائم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  محض مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کائنات کے تمام طبقات کے لیے رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  بن کر آئے تھے، جنہوں نے ہمیشہ انسانیت سے محبت اور احترام کی تعلیم دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی اکثریت انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ ان اقدامات کو اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف سمجھتی ہے۔

آج امت مسلمہ کی نوجوان نسل اپنی شناخت، ثقافت، نظریات و میراث کھو چکی ہے جس کو پانے کے لیے اسلام کی ان حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں، جن کے مطابق اسلام امن و محبت اور برداشت کا مذہب ہے جس کا انتہا پسندی اور دہشت گردی سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ امت مسلمہ کی اکثریت انسانیت کا احترام اور محبت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی آباد ہیں وہ اپنے کردار سے پرامن معاشرے کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

مغربی دنیا متنبہ ہوجائے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کے نام پر بے گناہوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے جبکہ اسلام کے نام پر اگر کوئی گروپ یا تنظیم دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی یا انتہا پسندی کی ذمہ دار ہے تو ان کا یہ فعل نہ صرف خلاف اسلام ہے بلکہ انسانیت کی تذلیل بھی ہے ان جرائم کے ذمہ دار پیشہ ور مجرموں کو سزا ملنی چاہیے لیکن ان مجرموں کے غیر اسلامی فعل کی بنیاد پر بے گناہوں پر مظالم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کو ان انتہا پسندوں اور دینی تعلیم کے باغیوں سے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر تحفظ فراہم کرے۔

پروگرام میں ٹاور ہملیٹ کے میئر لطف الرحمن، لندن بورو کونسل میشلو ڈسمنڈ، صفیان اسماعیل، پروفیسر ڈاکٹر زین الدین (ملائیشیا)، اسسٹنٹ کمشنر لنڈن Wayne chane، لنڈن سٹی کمشنر Adrian Leppord، برطانیہ کے سینئر جج خورشید داربو، شام سے شیخ محمد الیعقوبی بشپ Rt Rev Riah Abu El Assal یروشلم اور Rabbi Yisroel Dovid Weiss نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شرکاء نے محمد علی چیئرمین گلوبل پیس اینڈ یونٹی کا اس خوبصورت پلیٹ فارم مہیا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

7۔ مصطفوی ورکرز کنونشن

پاکستان عوامی تحریک لاہور کے زیر اہتمام 4 نومبر 2013ء کو مصطفوی ورکرز کنونشن مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ جس میں چیئرمین سپریم کونسل محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، ناظم اعلیٰ محترم خرم نواز گنڈا پور، صدر پاکستان عوامی تحریک محترم شیخ زاہد فیاض، محترم آغاز مرتضیٰ پویا، امیر لاہور محترم ارشاد احمد طاہر اور دیگر مرکزی و ضلعی قائدین نے شرکت کی۔ لاہور تنظیم کی جملہ ذیلی تنظیمات، عہدیداران، مرد و خواتین اور کارکنان نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مصطفوی ورکرز کنونشن سے امیر لاہور ارشاد احمد طاہر اور دیگر مرکزی و ضلعی قائدین نے خطابات کئے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مصطفوی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

مملکت خداداد پاکستان اور اس کے کروڑوں عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور ایک فیصلہ کن جدوجہد کے لئے تیار ہوجائیں۔ پاکستان کا قیام طویل جدوجہد اور لاتعداد قربانیوں سے ممکن ہوا۔ قربانیاں دینے کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو باعزت زندگی مہیا کرنے والا ملک نصیب ہوگا۔ جہاں لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے تحت عدل و انصاف ملے گا، جہاں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ کم سے کم ہوگا مگر ہماری بدقسمتی کے 66 برس سے مخصوص اور کرپٹ مافیا اس ملک پر قابض ہے جنہوں نے ملک کے لئے قربانیاں دینے والوں کی قربانیاں ضائع کردیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ عوام کو خبر نہیں کہ لاکھوں قربانیوں کے نتیجہ میں معرض وجود میں آنے والا ملک عالمی طاقتوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا ہے۔ اگر قوم اپنے ملک کو آزاد ملک دیکھنا چاہتی ہے تو قیادت کو بدلنا ہوگا۔ اس ملک کو ایسی باغیرت قیادت چاہئے جو کسی کی آنکھ میں آنکھ ملاکر No کہہ سکے۔ وہ قیادت چاہئے جس کی نظر میں اسلام، پاکستان اور غریب عوام کا تقدس موجود ہو۔ ہمارے ساتھ جن ملکوں نے آزادی پائی انڈیا، چائنہ، ساؤتھ کوریا، ملائیشیا تمام کے تمام ترقی یافتہ ملکوں میں بدل چکے ہیں جبکہ ہماری صورت حال افریقہ کے انتہائی آخری درجے کے ملکوں کے برابر ہے۔ یورپ اور مغربی دنیا کی ساری ترقی تاجدار کائنات سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے قدموں کے خیرات ہے۔ مگر اُسی رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کو ماننے والوں کا ملک اپنوں ہی کے ہاتھوں ذلت و زوال کا شکار ہے۔

مصطفوی کارکنان! ایسے نظام کو نافذ کرنے کے لئے اس موجودہ نظام سے بغاوت کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ آئین پاکستان کی قدروں کو اگر عملی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں توپرامن انقلاب کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اس کے لئے اپنی تیاریاں مزید تیز کردو۔ پُرامن انقلاب و سبز انقلاب ہماری منزل ہے۔ میں پرامن انقلاب پر زور اس لئے دیتا ہوں کہ ہم نے دنیا کو مثال دینی ہے کہ لانگ مارچ کے وقت ایک قطرہ خون کا نہیں بہا، پتا بھی نہیں ٹوٹا، ان شاء اللہ اب کی بار بھی ایک Record قائم کریں گے۔ جب ایک کروڑ نمازی اٹھیں گے تو ملک بھر میں پُرامن انقلاب مارچ ہوں گے۔ ہمارے انقلابی نمازیوں کے ہاتھوں کسی کی جان تلف نہیں ہوگی، کسی ایک چیز کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ دنیا دنگ رہ جائے گی کہ سرزمین پاکستان پر اتنا پرامن انقلاب آیا ہے کہ کسی کو ایک معمولی سا زخم بھی نہیں دیا۔

کارکنان تنظیمی سطح پر مضبوطی و استحکام پیدا کریں، یونٹس، یونین کونسلز اور گلی و محلہ تک کی سطح تک تنظیم سازی کریں۔ دس دس افراد کے گروپ بنائیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نے اپنی سوسائٹی کو دس دس کے Unitsمیں تقسیم فرمایا تھا اور دس دس افراد پر ایک انچارج بنایا تھا۔ جب آپ انقلاب کے لئے نکلیں تو ہر ایک شخص دس آدمیوں کا انچارج ہو جو ان کو ملنے والی جملہ ہدایات کے مطابق منظم کرے۔ ایک منظم پرامن فوج کی تیاری کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائیں۔ ایک ایسا نظم پیدا کریں کہ دنیا پچھلے لانگ مارچ کا نظم بھی بھول جائے۔ میں پوری اقوام عالم کو یہ پرامن نظم کا نظارہ دکھانا چاہتا ہوں۔ تحریک کے کارکنان کا ہتھیار امن، نظم، اتحاد اور قربانی ہے۔ یہ قربانی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم ، وطن، اگلی نسلوں، عالم اسلام کو عظیم قیادت کی فراہمی، اس ملک کو استحصالی اور سامراجی غلامی سے نجات دلانے اور ملک کو حقیقی آزادی دلانے کے لئے دینا ہوگی۔

یاد رکھیں! وقت نہایت کم ہے اچانک کال آئے گی، پوری قوم کو انقلاب کے لئے تیار کرنا ہے اور صبح انقلاب یا صبح شہادت کا عزم لے کر آنا ہے۔ ملک کے ایک ایک بچے جوان، عورتوں، بہن بھائیوں کو تیار کریں۔ پوری سوسائٹی کو لے کر نکلیں۔ اگر کروڑ افراد پہلے نکلے تو ایک کروڑ مزید افراد کا دستہ ان کے پیچھے تیار ہو۔ ہم پرامن ہیں، اول تا آخر پرامن رہیں گے۔ ہم نے معاشرے کے ہر طبقہ کو ساتھ لینا ہے۔ امیر، غریب، تاجر، علمائ، مشائخ، صنعت کار، طلبائ، وکلائ، ڈاکٹرز، انجینئرز الغرض تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اس لئے معاشرہ کے ہر طبقہ کے ہر فرد تک اس ظالمانہ و فرسودہ نظام سے بغاوت کا پیغام پہنچایا جائے اور انہیں عملی طور پر تیار کیا جائے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ کی مدد و نصرت نازل ہوگی اور پاکستان کا مستقبل روشن ہوگا۔

8۔ شہادت امام حسین (ع) کانفرنس

منہاج القرآن علماء کونسل کے زیر اہتمام ’’شہادت امام حسین علیہ السلام کانفرنس‘‘ مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئی جس میں چیئرمین سپریم کونسل تحریک منہاج القرآن محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، مرکزی امیر محترم صاحبزادہ فیض الرحمان درانی، خطیب بادشاہی مسجد محترم علامہ عبد الخبیر آزاد، ناظم اعلیٰ محترم خرم نواز گنڈا پور، محترم علامہ صادق قریشی، صدر PATمحترم شیخ زاہد فیاض، مشائخ و علماء کرام، مرکزی و ضلعی قائدین اور عوام الناس نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر خطیب بادشاہی مسجد محترم علامہ عبدالخبیر آزاد، محترم علامہ فرحت حسین شاہ نے بھی خطابات کئے۔ نقابت کے فرائض محترم علامہ محمد حسین آزاد نے ادا کئے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس سے خصوصی خطاب کیا۔ آپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

کربلا کے ریگزار سے امام حسین علیہ السلام نے امت مسلمہ کو جو شعور عطا کیا وہ قیامت تک پوری انسانیت کو دائمی امن، سلامتی، جمہوریت اور انصاف کی چھاؤں دیتا رہے گا۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے ملوکیت اور آمریت کے خلاف ایسی آواز بلند کی جس کی بازگشت 14 صدیوں بعد بھی سنائی دے رہی ہے۔ انہوں نے جو شعور دیا وہ حق کا استعارہ بن کر انسانیت کا سر فخر سے بلند رکھے گا۔ آپ علیہ السلام نے ہرگز بغاوت نہیں کی، نہ مسلح ہوئے اور نہ ہی کسی مقام پر قبضہ کیا۔ دین کی مٹتی قدروں کو بچانے کیلئے آپ علیہ السلام پرامن جدوجہد کیلئے نکلے۔ آپ علیہ السلام کا مقصد دین کی مٹتی ہوئی قدروں کو بچانا تھا۔ آپ علیہ السلام کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ دین کا نظم سب سے بڑھ کر ہے۔

آج بھی ظالم قوتیں اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کر نے کیلئے نئے نئے فتنوں کو جنم دے رہی ہیں۔ مسلکی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر مسلمانان عالم کو تقسیم کر کے تعصبات کی آگ میں جھونک رہی ہے۔ پاکستانی قوم کو آج یزیدی نظام کے خلاف اٹھنے کا عہد کرنا ہو گا، اسی سے ملکی استحکام اور خوشحالی نصیب ہوگی۔ امت مسلمہ اور پاکستانی قوم یزیدی رویوں کے خلاف جہد مسلسل سے ہی عظمت و رفعت سے ہمکنار ہو سکتی ہیں۔ انسانیت کو امن و سلامتی کا دائمی ماحول دینے کی جدوجہد کرتے رہنا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی حکمرانی انسانیت کے دلوں پر ہے جو ظلم، جبر اور آمریت کے خلاف اٹھنے کا شعور دیتی ہے۔

آج بھی امت مسلمہ فرقہ واریت اور اضطراب کا شکا رہے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہونے کے باوجود اغیار کے ہاتھوں رسوایاں سمیٹ رہی ہے۔ امت مسلمہ کو اپنا شعور اجاگر کرتے ہوئے ایسی راہ کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں گروہی و فروعی اختلافات بالائے طاق رکھ کر اتحاد امت کو فروغ دیا جا سکے۔

9۔ برمنگھم میں اوورسیز پاکستانیوں کی خوبصورت تقریب

27 اکتوبر 2013ء برمنگھم میں ہزاروں پاکستانیوں کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں دنیا بھر سے علم و فن کے ماہرین ڈاکٹرز وکلاء ممبران پارلیمنٹ ایجوکیشنسٹ سیاسی و سماجی رہنما علماء ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ دنیا بھر میں موجود منہاج القرآن کی آئیڈیالوجی اور شیخ الاسلام سے محبت کرنے والے محب وطن پاکستانیوں کا جم غفیر موجود تھا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کہا کہ آج مغربی دنیا اپنے سارے وسائل یکجا کرکے سائنسی علوم کو اتنی ترقی دے رہی ہے کہ وہ زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر زندگی کی موجودگی کے آثار تلاش کرنے میں مصروف ہے اور وہ مسلمان جنہوں نے دنیا کو جدید سائنس، طب، الجبرا، سرجری اور سوشل مینجمنٹ کے اصول سکھائے وہ خود قصہ کہانی بن گئے اور پھر مسلمانوں پر زوال کا شکار ہوگئے۔ زندگی اور جینے مرنے کے سارے تصورات خلط ملط ہوگئے مال و دولت کی حرص اتنی چھائی کہ ہم نے قوم اور ملت کے لئے سوچنا ہی چھوڑ دیا اور یوں خدا کی عطا کے مالک بن بیٹھے یہ قارون اور ہامان کا تصور زندگی تھا جس کے ذکر سے قرآن بھرا پڑا ہے۔

اس پروگرام میں لارڈ نذیر احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر امت مسلمہ دنیا میں عزت اور سر اٹھاکر جینا چاہتی ہے تو انہیں قیادت تیار کرنی ہوگی جبکہ آج مسلمانوں کے ہاں ڈھنگ کا کوئی کالج ہے نہ ایسا ادارہ جو حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم کو قیادت فراہم کرسکے۔ ان حالات میں منہاج ایجوکیشن سٹی کا منصوبہ دیکھ کر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی حب الوطنی کا ٹرائل کرنے والے خود احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہیں یا تو پتہ ہی نہیں کہ دنیا بھر سے لاکھوں پاؤنڈ پاکستان میں لانے والے محب وطن ہیں یا مفادات کے حصار نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور انہیں کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ اس پروگرام میں مرکزی جماعت اہلسنت کی نمائندگی کرتے ہوئے نامور عالم دین پیر سید زاہد حسین رضوی، علامہ احمد نثار بیگ اور دوسرے قائدین نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے منہاج ایجوکیشن سٹی کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کیا۔ اس پروگرام میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض صدر NEC علامہ محمد افضل سعیدی نے انجام دیئے۔ اس پروگرام کے اندر لندن، برمنگھم، والسال، بریڈ فورڈ، ہیلی فیکس، شیفیلڈ، گلاسگو اور دیگر تمام شہروں کے علاوہ یورپ کے مختلف ممالک سمیت امریکہ سے بھی بہت سارے افراد نے شرکت کی اور منہاج ایجوکیشن سٹی کے عظیم منصوبے کے لئے اپنی زندگی اور جان و مال دینے کا عزم مصمم کرتے ہوئے قربانی کی لازوال تاریخ رقم کردی۔ بعد ازاں شیخ الاسلام نے منہاج القرآن کے رفقاء و اراکین کو خصوصی شیلڈز دیں۔ امریکہ سے خصوصی طور پر تشریف لائے ڈاکٹر رضی نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری ایک فکر اور دنیا کا نام ہے اور ہم ایک منہاج ایجوکیشن سٹی تو کیا سینکڑوں ادارے قائم کرنا پڑیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل اٹلانٹا، امریکہ کے زیراہتمام 5 اکتوبر 2013ء کو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کانفرنس گریڈ بال روم، اٹلانٹا جارجیا میں منعقد ہوئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کانفرنس کے شرکاء سے (انگلش زبان میں) ’’ایمان کیا ہے اور ہم کس طرح سچے مومن بن سکتے ہیں؟‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمان مومن پر اللہ کا احسان ہے کہ اللہ پاک نے اسے ایمان کی دولت عطا کی اور ایمان کا مرکز و محور آقا صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ذات ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کو اپنی محبت کا مرکز و محور سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ذات اقدس کے ساتھ تعلق جس قدر مضبوط و مستحکم ہو گا اسی قدر ایمان بھی مضبوط و مستحکم ہوتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی اس درجہ تعظیم کرتے تھے کہ مخالفین بھی ان کے اس عمل پر پکار اٹھے کہ اب یہ قوم ناقابل تسخیر قوت بن گئی ہے۔

امت مسلمہ کی بقا، سلامتی اور ترقی کا راز اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کو اپنی جملہ عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز و محور سمجھے۔ ہمارے ایمان کی مضبوطی اور استحکام کا دار و مدار بھی ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے ساتھ تعلقِ عشقی مستحکم کرنے پر ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے ساتھ عشق و محبت والا تعلق مضبوط ہو جائے تو پھر ایمان بھی کامل ہو جائے گا اور اعمال و عبادات بھی بامقصد و بامراد ہوں گی۔

امت کو نعمت اسلام آقا صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے صدقے نصیب ہوئی اور پورا قرآن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے اخلاق اور سیرت پر اعلیٰ کتاب ہے۔ محبت اور ادب ایمان کی متاع ہے آج داخلی اور خارجی قیام امن کیلئے محنت کی ضرورت ہے۔ من کی دنیا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی محبت سے سیراب کرنا ہو گا۔ نفسانی خواہشات کو ختم کر کے باطن کو تقوی، طہارت، توحید الٰہی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  سے منور کر لیا جائے تو امت کا ہر فرد اپنے اپنے ملک میں امن و سلامتی بکھیرنے والا بن جائے گا۔

آج اگر امت مسلمہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت پر چلتے ہوئے ذات مصطفی  صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے ساتھ عشق و محبت اور ادب و تعظیم کا تعلق مضبوط تر کر لے تو یہ دوبارہ ایک ناقابل تسخیر قوت بن سکتی ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

11۔ مرکزی جماعت اہل سنت برطانیہ و یورپ کے زیر اہتمام

انٹرنیشنل سنی کانفرنس

یکم ستمبر2013ء جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ کے زیر اہتمام ’’عالمی تاجدار ختم نبوت و تحفظ مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم ‘‘ کے عنوان سے (برمنگھم) میں انٹرنیشنل سنی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مشائخ، علماء کرام کے علاوہ عوام الناس نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ کے سرپرست محترم پیر عبدالقادر شاہ جیلانی، محترم پیر نقیب الرحمان، محترم پیر عتیق الرحمان فیض پوری، محترم علامہ احمد نثار بیگ قادری، محترم قاضی عبدالعزیز چشتی، محترم پروفیسر احمد حسن ترمذی، محترم علامہ محمد افضل سعیدی، محترم ابو احمد الشیرازی، محترم صاحبزادہ احمد حسان نقیبی، محترم ڈاکٹر نسیم احمد، محترم پیر سید مظہر شاہ جیلانی، محترم علامہ بوستان القادری، محترم صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی، محترم علامہ عبد الطیف قادری، محترم مولانا محمد یعقوب چشتی، محترم زاہد نواز راجہ، میئر والتھم فاریسٹ کونسلر محترم ندیم علی نے شرکت کی اور خطابات کئے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ’’عقیدہ اہل سنت اور تحفظ مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ

ایمان، تصدیق کا نام ہے۔ ایمان کے لئے اصلاً اقرار مطلوب نہیں بلکہ ایمان تصدیق سے ہوجاتا ہے، اقرار تصدیق کے اظہار کے لئے ہے۔ اس بات پر سب اہل علم کا اتفاق ہے کہ علم اور معرفت سے ایمان نہیں بنتا اگر معرفت سے ایمان بنتا تو سب اہلِ کتاب مومن ہوتے۔

اگر حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ذات سے تعلق علم ونظر اور فکر و معرفت کا ہو تویہ تعلق رکھ کر کوئی مومن نہیں بنتا۔ مومن تب بنتا ہے جب دل مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  سے جڑ جائیں، تصدیق قلبی ہوجائے، مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے قدموں سے ربطِ قلبی پیدا ہوجائے۔ دل ماننے لگے تو بے شک الف بھی نہ آتا ہو مگر دل کے ماننے کی وجہ سے تعلق مضبوط ترین ہوتا ہے۔

یہی بات عقیدے کے حوالے سے بھی سمجھ لیں کہ عقیدہ، عقد سے ہے، اس کا معنی ہے توثیق الربط بالقوہ مضبوطی سے طاقت کے ساتھ گانٹھ باندھ دینا۔ عقد، کلادہ (پٹے) کو کہتے ہیں جیسے کسی جانور کے گلے میں پٹہ باندھا ہو تو کہتے ہیں کسی کا ہے۔ پٹے کے بغیر پھرتا ہو تو کہتے ہیں پتہ نہیں کس کا ہے؟ عقد کا معنی پٹا باندھنا بھی ہے اور عقیدہ تب ثابت ہوتا ہے جب کسی کا پٹہ گلے میںڈال لیا جائے۔ جب پٹہ ڈال لیتے ہیں تو محبوب کا نقص کوئی نہیں سنتا، پھر کجی کمی کوئی نہیں سنتا، جب پٹہ گلے میں آجائے تو سب کچھ جس کا پٹہ ہو اسی پہ نچھاور ہوجاتا ہے۔ عقیدہ صحیحہ کے لئے ایسا قلبی تعلق پیدا کرو کہ حضور صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے پٹے والے ہوجاؤ۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کا پٹہ جس کے گلے میں ہو تو پتہ چلے کہ یہ سگِ مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  ہے۔ اس سے عقیدہ بنتا ہے اور پھر اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی، اس لئے کہ اب گانٹھ بندھ گئی ہے۔

یہ بات بڑی قابل توجہ ہے کہ تعلیمات اسلام میں سے کسی تعلیم، نظریہ، عقیدہ کا پٹہ بنیادی حیثیت کا حامل ہے کس عقیدہ پر عقدِ قلبی ہو۔۔۔؟ کوئی کہہ سکتا ہے توحید کا، کوئی کہہ سکتا ہے ایمان بالآخرت کا، کوئی کہہ سکتا ہے رسالت عمومی کا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عقائد میں نقطہ ارتکاز کیا ہے۔۔۔؟ ایسا عقد (پٹہ) ہو جو اہل ایمان کے لئے مابہ الامتیاز عقیدہ ہو۔ وہ عقیدہ جو باقی مذاہب اور ہمارے مذہب اسلام میں مشترک ہو وہ نقطہ ارتکاز نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ اس سے مومن و یہودی کا فرق معلوم نہیں ہوسکتا۔

اگر یہودی، نصرانی اور مسلمان کی عقیدہ کے لحاظ سے پہچان کرنی ہو تو یہ دیکھنا ہوگا کہ عقیدے میں مابہ الامتیاز عنصر کیا ہے۔۔۔؟ جس سے مسلمان نکھر کے سامنے آجائے اور اس انفرادی نقطہ پر اس کے ساتھ کوئی اور مشترک نظر نہ آئے۔ سن لیں وہ مابہ الامتیاز نقطہ/ عقیدہ صرف شان و عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  ہے جو سب مذاہب سے مسلمان کو ممتاز کردیتا ہے۔

اگر ہم نے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کا نقطہ تلاش کرنا ہے تو عقیدہ مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  اور عظمت و شان مصطفی ہی وہ عقیدہ ہے جس پہ اکٹھا ہونا ہوگا۔ اس لئے کہ نہ توحید مسلمانوں کو نقطہ امتیاز دیتی ہے۔۔۔ نہ آخرت نقطہ امتیاز دیتی ہے۔۔۔ نہ رسالت عمومی کا تصور امتیاز دیتا ہے۔۔۔ اگر امتیاز ہے تو فقط عظمت و شان مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کا امتیاز ہے۔ یہود و نصاریٰ اس نقطہ امتیاز کو نہیں مانتے تھے، باقی سب چیزیں ان میں تھیں مگر صرف غلامی مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  نہ تھی، اس بناء پر سب کچھ رد کردیا۔ پس قرآن نے ثابت کردیا کہ دیگر مذاہب میں بھی اور مسلمانوں کے اپنے درمیان بھی ایمان اور عقیدے کا امتیاز مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی غلامی کے علاوہ کوئی اور شے نہیں۔

اس کانفرنس میں شیخ الاسلام نے 3 گھنٹے سے زائد خطاب فرمایا اور مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی معرفت اور عقیدہ اہل سنت پر قرآن و حدیث اور بائبل کی روشنی میں بیسیوں دلائل بیان فرمائے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری کے ہاتھ میں قرآن ، احادیث اور بائبل کے نسخے تھے۔ آپ نے انتہائی علمی انداز میں دلائل سے بھرپور خطاب فرماتے ہوئے مقامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  اور عقیدہ اہل سنت کو واضح فرمایا۔ شیخ الاسلام نے حضرت پیر سید عبدالقادر جیلانی، علامہ سید زاہد حسین شاہ، قاضی عبدالطیف قادری، علامہ احمد نثار بیگ، علامہ بوستان قادری، علامہ فضل احمد قادری اور علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی سمیت سارے علماء اہل سنت اور پیران طریقت کے جذبات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

جماعت اہلسنت برطانیہ کے مرکزی لیڈر علامہ احمد نثار بیگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ہمارے درمیان موجود ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں علم، تقویٰ اور قیادت کی تمام صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان کی آواز میں امت مسلمہ کا درد ہے اور وہ جس خوبصورتی سے قرآن و سنت اور سائنسی اندازمیں تمام عقلی و نقلی دلائل کے ذریعے عقیدہ اہل سنت والجماعت کا دفاع کررہے ہیں، ہمیں ایک سیسہ پلائی دیور بن کر ان کا دست و بازو بن جانا چاہئے۔

تحریک منہاج القرآن پر حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم کی بے پناہ نوازشات ہیں۔ حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی ان عنایات میں سے سب سے بڑی عنایت تحریک کے مرکز پر قائم گوشہء درود کا قیام ہے۔ گوشہء درود حرمین شریفین کے بعد زمین پر وہ مقام ہے جہاں سال کے 365 دن چوبیس گھنٹے ہر لمحہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے یکم دسمبر 2005ء کو اس گوشہء درود کا افتتاح فرمایا۔ اْس وقت سے تاحال اس گوشہء درود سے درود و سلام کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر سے افراد 10 دنوں کے لیے گوشہء درود میں گوشہ نشینی کے لیے حاضر ہوتے ہیں، دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور 24 گھنٹے مسلسل آقا علیہ الصلوۃ و السلام کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ جب سے گوشہء درود کا آغاز ہوا بغیر کسی تعطل کے مسلسل دور دراز سے ہزاروں افراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان بن چکے ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کے مرکز پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے دفتر میں ابتدائی طور پر گوشہء درود کا آغاز کیا گیا۔ بعد ازاں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک کے ماڈل پر گوشہء درود کی پر شکوہ عمارت (مینارۃ السلام) کی تعمیر شروع ہوئی۔ گوشہ درود کی اس عمارت "مینارۃ السلام" کے تعمیراتی کام کا سنگ بنیاد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 14 اپریل 2006ء (ربیع الاول1427ھ) میں اپنے دست مبارک سے رکھا جبکہ تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز 18 جون 2007ء کو کیا گیا۔

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام 22 اگست 2013ء کو گوشہ درود کی اس پرشکوہ عمارت کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے کثیر تعداد میں علمائ، مشائخ، سجادہ نشینان، بیرون ملک سے تشریف لائے ہوئے دیگر مہمانان گرامی اور عوام الناس نے شرکت کی۔ سٹیج پر شیخ الاسلام کے ہمراہ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی اور محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی بھی تشریف فرما تھے۔

اس محفل میں نقابت کے فرائض محترم علامہ محمد ارشاد حسین سعیدی نے سرانجام دیئے۔ محترم قاری نور احمد چشتی نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں تلاوت کلام کی سعادت حاصل کی۔ انہوں نے ’’سورۃ النجم، سورۃ الضحیٰ اور سورۃ الکوثر‘‘ کی آیات تلاوت کیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ان کی خوبصورت تلاوت اور سوزو گداز میں ڈوبی ہوئی آواز کو بہت پسند فرمایااور دوران تلاوت اپنے سر کی ٹوپی، جبہ، کوٹ اور عمرے کا ٹکٹ تحفتاًعطا فرمایا۔ دوران تلاوت شیخ الاسلام پر ایک عجب وجدانی کیفیت طاری تھی۔ زبان سے ہر آیت پر ’’سبحان اللہ، اللہ اکبر‘‘ کی صدا بلند ہورہی تھی اور پورا مجمع کیف و سرور میں ڈوبا ہوا تھا۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے سماعت قرآن کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے ائمہ اہل بیت کے ذوق و شوق سے تلاوت و سماع قرآن کے واقعات بیان کرتے ہوئے شرکاء کو قرآن سے تعلق پید اکرنے کی تلقین کرتے ہوئے پاکستان میں حسنِ استماعِ قرآن کے ذوق کو زندہ کرنے کے لئے منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ منظم کام کرنے کا بھی اعلان فرمایا کہ ان شاء اللہ جلد عالمی قراء کو پاکستان بلواکر پاکستان میں عالمی محافل قرات کا اہتمام کروائیں گے تاکہ اہل پاکستان کا قرآن مجید کی تلاوت اور استماعِ تلاوت کے حوالے سے بھی ذوق و شوق زندہ ہو۔

تلاوت قرآن مجید کے بعد محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے قصیدہ بردہ شریف، حسان منہاج محترم افضل نوشاہی اور ان کے ساتھیوں نے فارسی و اردو زبان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔

بعد ازاں محترم بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد نے گوشہ درود کی تعمیر کے متعلق درج ذیل بریفنگ دی:

٭ اس عمارت کا ڈیزائن حضرت جلال الدین رومی  رحمۃ اللہ علیہ  کے مزار کی مناسبت سے ہے۔ اس عمارت کا سنگ بنیاد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 14اپریل 2006ء کو رکھا جبکہ اس کی تعمیر کا آغاز 18جون 2007ء کو ہوا ۔ اس بلڈنگ کا ڈیزائن M/S Architects Collaborativeنے تیار کیا اور اس کی تعمیر کا کام خلیل کنسٹرکشن کمپنی کو سونپا گیا۔

٭ اس بلڈنگ کی بنیاد سطح زمین سے 12فٹ نیچے ہے اور یہ بنیاد کنکریٹ کی رافٹ فاؤنڈیشن کہلاتی ہے۔اس کی چوڑائی تقریباً12 فٹ ہے اور 2 فٹ کے بیم ڈالے گئے ہیں۔ اس پر تقریباً 6ہزار مکعب فٹ کنکریٹ لگی ہے۔ رافٹ کے اندر بیم اس بلڈنگ کو اٹھائے ہوئے ہیںجو کہ 3فٹ 9انچ موٹے ہیں۔

٭ بلڈنگ کا مرکزی ہال 55فٹ چوڑا ، 65فٹ لمبا اور 85فٹ اونچا ہے۔

٭ گوشہ درود کے اندرونی ہال کے اندر ترکی سے منگوائی گئی ٹائلز لگائی گئی ہیں جبکہ بیرل کے اندرلگائی گئی ٹائلز، بیرون سائیڈلگائی گئی ٹائلز اور لکھائی والی لگائی گئی ٹائلز گوجرانوالہ سے منگوائی گئیں۔

٭ ہال کے دروازے اور کھڑکیاںساگوان کی لکڑی سے تیار کئے گئے ہیں۔ لکڑی کو باقاعدہ ایک ماہ تک جدید پلانٹ پر Seasonکیا گیاتاکہ موسمی حالات سے ان میں کسی قسم کی خرابی نہ آئے۔

٭ اس عمارت میں درج ذیل نمایاں خصوصیات بھی اس کی انفرادیت میں مزید اضافہ کا باعث ہیں:

(i) Sprinkler arrangement for Washing (ii) Sump Moter (iii) Air conditioning

٭ اس عمارت کے ساتھ دو مزید عمارات بھی ملحق ہیں:

  1. دفتر اور رہائش گاہ گوشئہ درود
  2. صفہ ہال

٭ اس عمارت اور اس سے متعلقہ ملحقہ عمارات پر آنے والے اخراجات کی تفصیل یہ ہے:

  1. مینارۃ السلام پرمبلغ 6کروڑ 20لاکھ روپے (62ملین روپے)
  2. ملحقہ عمارات پر مبلغ 1کروڑ 80لاکھ روپے
  3. ٹوٹل اخراجات تقریباً 8کروڑ روپے

شیخ الاسلام نے محترم بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان ان کی پوری ٹیم اور خلیل کنسٹرکشن کمپنی کے مالک محترم خلیل احمد اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی اس گفتگو کے بعد محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے عربی کلام ’’یانورالعین‘‘ اور قصیدہ بردہ شریف پیش کیا۔ شرکاء مجلس کو بتایا گیا کہ گوشہ درود کے آغاز سے لے کر اب تک آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کئے جانے والے درود پاک کی تعداد 65 ارب 99 کروڑ 61 لاکھ 43 ہزار 684 ہے۔

محفل کے اختتام پر ختم پڑھا گیا اور آخر میں صلاۃ و سلام کے نذرانے ’’مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ کی صورت میں پیش کئے گئے۔ محفل کا اختتام شیخ الاسلام کی دعا سے ہوا۔ دعا کے بعد ملک بھر سے تشریف لائے ہوئے علماء و مشائخ اور مہمانان گرامی کے ساتھ شیخ الاسلام نے گوشہ درود کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔

حرمین شریفین کے بعد دنیا کے سب سے بڑے اجتماعی اعتکاف کے انعقاد کی سعادت گزشتہ 23 سالوں سے تجدید دین و احیائے اسلام کی عالمی تحریک، تحریک منہاج القرآن کو حاصل ہے۔ یہ اعتکاف حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ  کی روحانی قربت و معیت اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ کی صحبت و انداز تعلیم و تربیت کی بناء پر منفرد حیثیت کا حامل اعتکاف قرآن، حدیث، فقہ و تصوف، اصلاح احوال اور احیائے اسلام کے لئے افراد کی تیاری سے متعلق تعلیم و تربیت کا حسین امتزاج ہے۔

امسال تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام (30 جولائی تا 9 اگست 2013ء) 23 واں سالانہ شہر اعتکاف کا انعقاد کیا گیا جس میں اندرون و بیرون ملک سے ہزاروں مرد و خواتین نے خصوصی شرکت کی۔ تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام 23 واں سالانہ شہر اعتکاف2013ء اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے منفرد و ممتاز حیثیت کا حامل تھا۔ امسال شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری 4 سال کے بعد بنفسِ نفیس شہر اعتکاف میں اپنے پورے خانوادے محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری (صدر سپریم کونسل TMQ)، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (صدر فیڈرل کونسلTMQ)، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی اور محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی کے ہمراہ موجود تھے۔ اس بناء پر دنیا بھر سے عوام الناس کی کثیر تعداد اس موقع سے علمی و روحانی طور پر منور ہونے کے لئے شہر اعتکاف میں معتکف ہونے کی خواہش لئے ہوئے تھی۔ دوسری طرف شہر اعتکاف کی جگہ کی وسعت بھی ہر آئے سال تنگیِ داماں کی شکایت کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ معتکفین کی اس بڑھتی ہوئی تعدادکے پیش نظر ملک بھر میں صوبوں اور ضلعوں کے اعتبار سے معتکفین کے لئے مخصوص تعداد پر مبنی کوٹہ جاری کیا گیا۔

شہر اعتکاف میں شریک معتکفین کی علمی و روحانی تربیت اور اصلاح احوال کے لئے باقاعدہ ایک نظام کی شکل میں معمولات کو بھی منظم کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں انفرادی معمولات، تربیتی حلقہ جات، علمی، فکری، فقہی اور تنظیمی نشستوں کا انعقاد شہر اعتکاف میں شریک معتکفین کی تربیت کالازمی حصہ تھے۔

اعتکاف میں شریک تحریکی کارکنان و رفقاء کی تنظیمی و انتظامی اور علمی و فکری استعداد کو مزید اجاگر کرنے کے لئے محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم شیخ زاہد فیاض، محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، محترم احمدنواز انجم (نائب ناظم اعلیٰ)، محترم ساجد محمود بھٹی (ناظم تنظیمات) اور دیگر مرکزی قائدین نے مختلف حوالوں سے فکری، نظریاتی اور تربیتی امور پر اظہار خیال کیا۔

شہر اعتکاف کے روزانہ معمولات میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل شیخ الاسلام کے علمی و فکری خطابات تھے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے آخری عشرہ رمضان میں درج ذیل موضوعات پر معتکفین سے خطابات کئے:

  1. علم نافع
  2. دور فتن کی علامات
  3. عظیم مجموعہ حدیث معارج السنن کی تکمیل
  4. امت کوعذاب سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟
  5. امر بالمعروف ونہی عن المنکر
  6. والدین کے حقوق
  7. صدق
  8. عورتوں اور بیویوں کے حقوق
  9. شوہروں اور اولاد کے حقوق

شہر اعتکاف پر ایک نظر

٭ شہر اعتکاف کو ضلع وائز رہائشی بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا۔

٭ مرکزی کمیٹی اور 54ذیلی انتظامی کمیٹیوں کے 2500 افراد انتظامات میں مصروف عمل رہے۔

٭ شہر اعتکاف میں ہر روز نماز عشاء کے وقت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شرکاء اعتکاف کے سامنے آمد کے وقت شرکاء کے جذبات اور محبت کا منظر دیدنی ہوتا۔ ہر معتکف اشک بار آنسوؤں کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کے نعلین پاک کے تصدق سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ملنے والی اس عظیم تحریک اور اس کی قیادت کے ساتھ وابستگی کی نعمت پر اللہ کے حضور شکر ادا کررہا تھا۔ ایک طرف سیدالسادات حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی کا مزار پرانوار موجود تھا اور دوسری طرف حضور پیر صاحب کے روحانی فرزند شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شخصیت موجود تھی۔ درمیان میں ہزاروں شرکاء اعتکاف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مغفرت و بخشش، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی نظر کرم کے سوالی بنے اور ان عظیم شخصیات کے علمی، فکری اور روحانی انوارات کو سمیٹنے کے لئے اپنے دامن کو پھیلائے ہوئے تھے۔

٭ شہر اعتکاف کی پہلی رات نماز عشاء کی امامت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کروائی۔

٭ امسال بھی اعتکاف کے تمام ایام میں گذشتہ سال کی طرح نماز تراویح کی امامت کی سعادت زیادہ تر محترم حافظ محمد ابرار مدنی ہی کو حاصل رہی۔ ان کے ساتھ تحفیظ القرآن انسٹی ٹیوٹ کے محترم حافظ قاری محمد اسماعیل، محترم قاری عینی اور دیگر حفاظ بھی اس سعادت میں شامل رہے۔ سوزو گداز اور آہوں و سسکیوں کا یہ سلسلہ نماز تراویح کے دوران بھی جاری رہا اور معتکفین خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور عجزو نیاز اور بندگی کا اظہار کرتے رہے۔ ہر روز نماز تراویح میں ترویحہ کے وقت بعد از تسبیح شیخ الاسلام کے پوتے محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی کی خوبصورت آواز میں شامی اور مراکشی طرز پر قصیدہ بردہ شریف نے روحانی اور پرکیف ماحول میں مزید اضافہ کردیا۔ تمام معتکفین بھی جھوم جھوم کر محترم صاحبزادہ صاحب کے ساتھ قصیدہ بردہ شریف کی صورت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے رہے۔

٭ نماز تراویح کے بعد شیخ الاسلام کے خطاب سے پہلے روزانہ محفل نعت منعقد ہوتی رہی جس میں محترم محمد افضل نوشاہی، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی، محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی، منہاج نعت کونسل، بلالی برادران، شہزاد برادران، انصر علی قادری اور دیگر ثنا خوانان ہدیہ عقیدت کے پھول نچھاور کرتے رہے۔

٭ معتکفین ہر روز صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد شیخ الاسلام کی ہدایات پر مسبحات عشرہ کا وظیفہ کرتے رہے۔ شیخ الاسلام نے فرمایا یہ عظیم وظیفہ ائمہ کرام کے معمولات میں شامل رہا ہے۔ اس لئے تمام لوگ اس سے روحانی و قلبی طور پر منور ہونے کے لئے اسے اپنے معمولات کا حصہ بنائیں۔

٭ شہر اعتکاف میں آخری عشرہ رمضان کی طاق راتوں کی مناسبت سے خصوصی محافل منعقد ہوئیں جن میں ایرانی قراء کے علاوہ دیگر قراء اور نعت خوانوں نے ہدیہ عقیدت پیش کیا۔

٭ امسال منہاج القرآن ناروے بیرون ملک سے شریک معتکفین کی تعداد کے اعتبار سے اول نمبر پررہا۔ اس کا سہرا MYL ناروے کے سر ہے جن کی مکمل ٹیم معتکف تھی۔ ناروے کے علاوہ سعودی عرب، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، کویت، قطر، یونان، ہانگ کانگ، مصر، دوبئی، ملائشیا، شارجہ، سپین، سویڈن، USA، ساؤتھ کوریا، جاپان، لندن، برطانیہ اور دیگر ممالک سے معتکفین اس عالمی روحانی مرکز پر اعتکاف کے لئے تشریف لائے۔

٭ تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام جاری اس شہر اعتکاف میں مردوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں خواتین بھی شریک تھیں جہاں متعدد خواتین انتظامی کمیٹیاں منہاج القرآن ویمن لیگ کی عہدیداران کی زیر نگرانی شیخ الاسلام کی ہدایات کی روشنی میں مرتب کردہ شیڈول پر عملدرآمد کروانے اوراپنی ذمہ داریوں کی ادائیگیوں میں مصروف تھیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری خواتین کی اعتکاف گاہ میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے ان کی محنت و کاوش پر ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور متعدد گھریلو مشکلات کے باوجود اعتکاف میں شرکت کے لئے آنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں حضرت فاطمہ و حضرت زینب رضی اللہ عنہما کی باندیاں قرار دیا۔

٭ دن بھر عبادات اور علمی و فکری نشستوں میں شرکت کے بعد نماز تراویح میں شرکت کے لئے بھی اولین صفوں میں جگہ کا حصول ہر معتکف کی خواہش تھی۔ اس خواہش کے پیش نظر انتظامیہ نے شیخ الاسلام کی ہدایات کی روشنی میں مختلف ڈویژنز و ضلع سے تعلق رکھنے والے معتکفین کو اولین صفوں میں نماز عشاء اور نماز تراویح کا موقع بھی دے رکھا تھا۔ جہاں معتکفین اپنی باری پر شیخ الاسلام کے ساتھ نماز تراویح میں شریک ہوتے۔

٭ امسال 80فیصد وہ خواتین تھیں جو پہلی مرتبہ شہر اعتکاف میں شریک ہوئیں اور مردوں میں سے بھی 60 فیصد وہ افراد تھے جو 40 سال سے کم عمر تھے اور پہلی مرتبہ اعتکاف میں شریک ہورہے تھے۔ ان نئے افراد کا شہر اعتکاف میں آنا اس بات کی علامت ہے کہ تحریک کا پیغام ہر آئے روز پھیلتا چلا جارہا ہے اور 23 دسمبر، لانگ مارچ، 11مئی کے دھرنوں اور الیکشن کے بعد کی صورت حال کے تناظر میں شیخ الاسلام کے موقف کی سچائی اور پذیرائی کی بناء پر نئے افراد کی شمولیت کا سلسلہ پہلے سے کہیں بڑھ کر جاری ہے۔

٭ شہر اعتکاف میں نمایاں کارکردگی کے حامل مرکزی عہدیداران، تنظیمات اور کارکنان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور پاکستان بھر میں اعلیٰ کارکردگی اور نمایاں خدمات سرانجام دینے والے 1200 افراد و تنظیمات کے لئے اسناد، تمغے اور شیلڈز دینے کا اعلان کیا گیا۔

عالمی روحانی اجتماع (لیلۃ القدر)

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام عالمی روحانی اجتماع کا آغاز ہوا۔ عالمی روحانی اجتماع میں تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے صدر محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، صدر فیڈرل کونسل محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفیٰ المدنی القادری، محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی کے علاوہ ملک بھر سے نامور علماء و مشائخ کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس محفل میں نقابت کے فرائض محترم ارشاد حسین سعیدی نے سرانجام دیئے۔ محفل میں تلاوت کلام پاک کی سعادت محترم قاری محمد ابرار المدنی نے حاصل کی۔ حسان منہاج محترم افضل نوشاہی اور محترم خرم شہزاد نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وۤآلہ وسلم  پیش کی۔ محترم صاحبزادہ حماد مصطفی العربی نے قصیدہ بردہ شریف اور ’’یانورالعین‘‘ کے کلمات کے ساتھ عربی نعت و سلام پیش کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے پنڈال میں تشریف لانے کے بعد معزز مہمانان گرامی قدر، علمائ، مشائخ اور دیگر مذہبی و سیاسی و سماجی رہنماؤںکو خوش آمدید کہا۔ عالمی روحانی اجتماع کو اے آر وائی نیوز، اے آر وائی ذوق اور منہاج ٹی وی کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔ آپ نے اس اجتماع سے ’’صدق‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔

14۔ ورکرز کنونشن

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام 18 مئی 2013ء کو ملک گیر ’’ورکرز کنونشن‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں مردو خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مرکزی قائدین میں صدر پاکستان عوامی تحریک محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، ناظم اعلیٰ محترم شیخ زاہد فیاض، سیکرٹری جنرل محترم خرم نواز گنڈا پور نے بھی شرکت کی۔ یہ ورکرز کنونشن ملک بھر میں 300 مقامات اور پوری دنیا کے مختلف ممالک میں ویڈیو لنک کے ذریعے سنا گیا۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ورکرز کنونشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا :

سیاسی جماعتوں میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں مگر ورکرز کا پارٹی اور لیڈر شپ کے ساتھ ہر حالت میں اخلاص اصل سرمایہ ہوتا ہے۔ موجودہ الیکشن میں جیتنے والے 90فیصد کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہے۔ الیکشن کے بعد صرف پارٹی کاچہرہ بدلا ہے پارلیمنٹ میں وہی خاندان پہنچے ہیں۔ تبدیلی غریب عوام کی ضرورت ہے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی نہیں۔ پاکستان میں الیکشن کا فلسفہ یہ ہے کہ عوام صرف ووٹ ڈالیں اور گھوڑے جیتیں۔ اگر تبدیلی کے علمبردار لانگ مارچ کے دوران ہم سے آن ملتے تو انہیں آج دھرنوں کی ضرورت نہ ہوتی۔ اگر الیکشن کمیشن کے خلاف میری پٹیشن کی سماعت کر لی جاتی تو الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنا پڑتا جو جج نہیں چاہتے تھے۔ اگر آئین کے مطابق الیکشن کرائے جاتے تو 11 مئی کے بعد دھرنے نہ ہوتے۔ آئین کا آرٹیکل 218 تقاضا کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل آرٹیکل 213 کے مطابق ہو مگر ECP نے آئین کو پامال کرکے خود ساختہ الیکشن کرائے۔

ساری پارٹیاں دھرنے پر بیٹھی ہیں اور الیکشن کمیشن خود کو شفاف الیکشن کی مبارکبادیں دیئے جارہا ہے۔ الیکشن ٹربیونلز کا وجود بھی الیکشن کمیشن کی طرح غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس لیے یہ انصاف نہ دے پائے گا، صرف دکھاوے کے لیے چند زخموں پر مرہم رکھ دیئے جائیں گے۔ کرپٹ نظام کے تحت دیئے ہوئے مینڈیٹ کے تحت مرکز اور صوبوں میں حکومتیں تشکیل پا جائیں گی اور لوگ آہستہ آہستہ بھول جائیں گے کہ ان کے ساتھ کس بلا کی دھاندلی ہوئی تھی۔ نظام کو شکست دینے کے لیے ہم نے آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد شروع کردی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پوری قوم کرپٹ نظام کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔

اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دینے والے نظام کے تحت 50 الیکشن بھی رائی برابر تبدیلی نہ لا سکیں گے۔ ہم عوام کی طاقت سے استحصالی نظام کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ میں نے کبھی کسی پارٹی کے خلاف بات نہیں کی، میں اس کرپٹ نظام کے خلاف لڑ رہا ہوں جس کی سیاسی پارٹیاں بھی قیدی ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام 11 مئی پولنگ ڈے پر ملک بھر میں300 شہروں میں نظام انتخاب کو مسترد کرنے کیلئے پر امن دھرنوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان دھرنوں میں لاکھوں مرد و خواتین نے شرکت کر کے کرپٹ نظام کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے اصولی موقف کی تائید کی۔ ان دھرنوں میں لوگوں نے نظام انتخاب کے خلاف کتبے اٹھا رکھے تھے۔۔۔ بازؤں اور سینوں پر عوام دشمن نظام کے خلاف احتجاجی نعرے چسپاں کررکھے تھے۔۔۔ سخت گرمی کے باوجود لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ ہر ایک زبان پر عوام دشمن نظام مردہ باد۔۔۔ ظالم نظام کو مرنا ہوگا۔۔۔ کرپٹ نظام سے لڑنا ہوگا۔۔۔ نظام بدلا جائے گا سر عام بدلا جائے گا، کے نعرے تھے۔ ان دھرنوں میں صدر پاکستان عوامی تحریک محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، محترم شیخ زاہد فیاض، محترم احمد نواز انجم، محترم خرم نواز گنڈا پور، دیگر مرکزی قائدین و ناظمین اور مقامی صدور و ناظمین نے خصوصی شرکت کی اور خطابات کئے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے 300 مقامات پر ہونے والے ان دھرنوں کے شرکاء سے خطاب کیا۔ یہ خطاب دنیا بھر میں 150 سے زائد ممالک میں بھی براہ راست سنا گیا۔

شیخ الاسلام نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کامیاب دھرنوں کی شکل میں نظام انتخاب کے خلاف زور دار آواز اٹھی ہے جو ملک میں حقیقی تبدیلی تک جاری رہے گی۔ ساری سیاسی جماعتیں سٹیٹس کو کے نظام کو بچانے جبکہ پاکستان عوامی تحریک تنہا اس کرپٹ نظام کو گرانے کیلئے کھڑی ہے۔ اس کرپٹ اور اشرافیہ کے مفادات پر مبنی استحصالی نظام کو ٹھو کر سے اڑانا ہو گا اورقوم کو دھوکہ دینے والے نظام کا جنازہ اٹھانا ہو گا۔ اس نظام میں وہی چہرے اور وہی خاندان برسر اقتدار آئیں گے۔ الیکشن کمیشن کی غیر آئینی تشکیل، آئینی شقوں کی پامالی اپنا رنگ دکھارہی ہے۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے بھی مایوس ہوں گے اور قوم کو بھی مایوس کریں گے اور نتائج دیکھ کر رونا شروع کریں گے اور بعد ازاں اس نظام کی تباہ کاریوں کے باعث اپنے ہی ہاتھوں سے منتخب کئے لوگوں کی وجہ سے پوری قوم چیخے گی۔

دھن، دھونس، دھاندلی موجودہ نظام کے بنیادی جز ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک نے کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے کشمیر تک پورے ملک میں نظام انتخاب کے خلاف کلمہ حق بلند کر دیا ہے۔ کارکن محنت جاری رکھیں، تبدیلی پاکستان کا مقدر ہے اور پاکستان عوامی تحریک کے موقف کو ہی آخری فتح نصیب ہو گی۔ پاکستان عوامی تحریک نے بدعنوانی کے نظام کے خلاف سمجھوتہ نہ کرنے کی تاریخ رقم کی ہے۔ میں ایسا پاکستان چاہتا ہوں جو اپنی خوشحالی اور خود مختاری کیلئے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو No کہہ سکے۔ پاکستان کو یہ جرات اس وقت تک نہ ملے گی جب تک قیادت جرات مند نہ ہو گی اور قیادت جرات مند اس وقت ہو گی جب یہ فرسودہ و کرپٹ نظام دریا برد ہو گا۔ دھرنے میں بڑی تعداد میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ کرپٹ نظام ہار گیا۔ دھرنا عوام دشمن نظام انتخاب کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے۔ دھرنوں نے کرپٹ نظام کے بتوں کو توڑ دیا ہے۔ ہماری تحریک کو سازشوں کے ذریعے روکنے کی کاوشیں ناکام ہوچکی ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن نے قوم کو سیاسی شعور اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی جرات عطا کی ہے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال پر منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کے زیراہتمامPakistan True Democracy کے عنوان سے 4 مئی 2013ء کو The New Bingley Hall برمنگھم میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں یورپ و برطانیہ بھر سے سیاسی و سماجی شخصیات، سکالرز، پروفیسرز، تاجر، طلبائ، صحافی، ڈاکٹرز اور علماء و مشائخ، سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خصوصی خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کیا۔ پروگرام میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صدر منہاج القرآن برطانیہ علامہ افضل سعیدی نے ادا کیے جب کہ علامہ انوار المصطفی ہمدمی نے انقلابی نظم پیش کی۔ کانفرنس میں محترم احمد نثار بیگ (مرکزی جماعت اہل سنت برطانیہ)، محترم نثار ملک، محترم ظہور احمد نیازی (امیر تحریک منہاج القرآن برطانیہ)، محترم چوہدری سعید احمد (ایکس کونسلر وائس چیئرمین کشمیر فارم یوکے)، خواجہ غلام قطب الدین فریدی (صدر نیشنل مشائخ علماء پاکستان) پیر سید زاہد حسین شاہ، مفتی عبدالرسول منصور، محمد ابوبکر(ناروے) اور ڈاکٹر دانش (اینکر پرسن ARY) اور فرانس، ہالینڈ، ناروے، ڈنمارک، اٹلی، اسپین اور یوکے سے تشریف لائے مہمانان گرامی نے خصوصی شرکت کی۔

محترم ڈاکٹر دانش (دانشور ونامور صحافی) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم عدالتوں سے ایبٹ آباد کمیشن، حج اسکینڈل، ریلوے اسکینڈل، اسٹیل مل اور توقیر صادق کیس جیسے ہزاروں مقدمات کا حساب مانگتی ہے۔ یہاں انصاف کے نام پر قانون اور آئین کے ساتھ مذاق ہورہا ہے اور قوم کو بے و قوف بنایا جارہا ہے۔ دہری شہریت پر طعنے دینے والو! آؤ دیکھو کہ یہ لوگ اپنے وطن کے لیے زندگی کی جمع پونجی قربان کرکے فخر کرتے ہیں اور تم لُوٹنے والوں کو کھلی چھٹی دیتے ہو! پْراَمن لانگ مارچ کی تعریف تو سب کرتے ہیں مگر ان ہزاروں لاکھوں کارکنان کو دنیا میں جس نے فرشتہ صفت بنا دیا اس کے لیے تمہارے پاس شکریے کے دو لفظ بھی نہیں! کیا وہ اس کریڈٹ کا حق دار نہیں؟ میں نے جب پہلی مرتبہ شیخ الاسلام کا انٹرویو کیا تو اس بات کا اندازہ ہوا کہ عام سیاسی لیڈروں کی سوچ و فکر اور ان کے سوچ و فکر میں بڑا واضح فرق ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ اس اندھیر نگری اور منافقت کی منڈی میں کوئی ایک تو سچ کا سوداگر ہے۔

محترم نثار احمد بیگ (مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے خوشی ہورہی ہے کہ میں اس کانفرنس میں ایسے علماء کرام کو دیکھ رہا ہوں جو اپنی جماعتی حدود و قیود کو توڑ کر تشریف لائے۔ میں اس اجتماع میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کی بصیرت کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لئے مفاد پرست طبقات کے بارے جن خدشات کا اظہار کیا۔ چند ایام بعد ہی ان کی حقیقت واضح ہونے لگی۔میں ان علماء کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آپ کی قیادت کو تسلیم کیا۔ میں پوری امانت و دیانت داری کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہماری اہلسنت والجماعت کے لئے امید کی کرن ہیں۔ میری دعا ہوگی اور میری کوشش ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کرن کو چودھویں کا چاند بنائے۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایک شخص نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔

اس کانفرنس میں محترم خواجہ غلام قطب الدین فریدی (صدر نیشنل مشائخ و علماء کونسل)، محترم نثار ملک، محترم ظہور احمد نیازی اور محترم پیر سید زاہد حسین شاہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور آپ کی جملہ کاوشوں کی تائید کی۔

اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ تناظر میں ملکی مسائل کا واحد حل نظام کی تبدیلی ہے۔ لیکن موجودہ آئینی و جمہوری ڈھانچے میں رہتے ہوئے یہ تبدیلی نظامِ انتخابات کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں انتخابات کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ شفاف انتخابات کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ انتخابی قوانین اور آئینی تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے جو بھی انتخابات ہوئے ان کے نتیجے میں ایسی اسمبلیاں وجود میں آئیںجن میں اکثر و بیشتر جعلی ڈگریاں، ٹیکس چوری اور بیسیوں دیگر جرائم کا ارتکاب کرنے والے پارلیمان میں متمکن ہونے کے قابل ہوئے۔ ہم نے اس فرسودہ و کرپٹ نظام کے خاتمے کے لئے کاوشیں کیں۔ مگر افسوس! ہم پرنت نئے الزامات لگائے گئے۔

گھبرانا نہیں، صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ یہ کرسی صدا کسی کے پاس نہیں رہتی، سوچ بدلے گی، انقلاب آکر رہے گا اور پھر سب کو حساب دینا پڑے گا۔ ہماری جد و جدوجہد سے بیدار ہونے والا شعور رنگ لائے گا۔ ان پڑھ، جعل ساز اور جعلی ڈگری ہولڈر کرپٹ نظام اور بددیانت الیکشن کمیشن کی ساز باز اور ملی بھگت سے اسمبلیوں میں غریب عوام کا خون چوستے ہیں۔ عوام مایوس نہ ہو اور اپنی جد و جہد جاری رکھیں۔ مذہب اور فرقہ کے نام پر جاری قتل عام اور بیرون ملک سے مذہب، تعلیم اور کلچر کے فروغ کے نام پر فنڈز آتے ہیں جن سے شدت پسندی اور مذہبی جنونیت کی تربیت ہوتی ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سب معلوم ہے مگر سب ملی بھگت سے مل بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ملک تباہ کرنے والے اقدامات کو جمہوریت کا نام دینا ظلم ہے۔ جن کے اکاؤنٹ دوسرے ممالک میں، کاروبار ملک سے باہر اور تین سو کنال کے گھروں میں رہائش ہو، وہ کیا تبدیلی لائیں گے۔ بھنور میں پھنسی کشتی کو کنارے لگانے اور مسائل کی دلدل سے نکال کر ترقی کی شاہ راہوں پر چلانے کے لئے انقلابی فیصلے کرنے ہوں گے۔ پاکستان میں عوام کو اس لیے اندھیرے میں رکھا جاتا ہے تاکہ مفاد پرست سیاست دان اپنا ناجائز اقتدار برقرار رکھ سکیں۔ پاکستان میں انتخابی آمریت نے نئی اہل قیادت کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا، بلکہ یہاں جعلی جمہوریت کو جاری رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ جمہوریت اگر آزادی سے ووٹ کا حق دیتی ہے تو وہ ایسے اقدامات کا بھی تقاضا کرتی جس سے تمام افراد کو الیکشن لڑنے کے لیے کروڑوں کی رشوت نہ لگانی پڑے۔ اس ظالمانہ نظام کو برقرار رکھنے کے اس قبیح جرم کو تحفظ دینے میں سیاسی جماعتیں، بددیانت الیکشن کمیشن اور اسے تحفظ دینے والے قانونی اور آئینی ادارے برابر کے شریک ہوں گے۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے بیداری شعور اور ظلم کے نظام کے خلاف بیدار نہ ہونے کے انجام کے متعلق اسلامی تعلیمات سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔

17۔ پاکستان پروفیشنلز فورم (برطانیہ) کے زیراہتمام شیخ الاسلام کے ساتھ نشست

پاکستان پروفیشنلز فورم برطانیہ کے زیر اہتمام 3 مئی 2013ء لندن کے مقامی ہوٹل میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے برطانیہ سے آئے ہوئے اہل علم و ادب، نامور کاروباری شخصیات، بینکاروں، سرکاری و نیم سرکاری ملازمین اور دیگر اہم شخصیات سے موجودہ حالات کے تناظر میں ’’پاکستان کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔

اس نشست میں محترم رضا علی عابدی، محترم ظہور احمد نیازی، محترم ڈاکٹر جاوید شیخ، محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد، محترم محمد امین، محترم ڈاکٹر قادر بخش، محترم طارق کبیر، محترم نسیم احمد، محترم نادر چچا، محترم مسٹر نبیل، محترم نثار ملک، محترم فرحت امین، محترم شہزاد خان، محترم سلیم زبیری، محترم ظفر اقبال، محترم ڈاکٹر کاشف حفیظ، محترم پروفیسر محمد عارف، محترم داؤد مشہدی، محترم ڈاکٹر زاہد اقبال اور محترم آفتاب بیگ شریک تھے۔

اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجودہ انتخابی نظام تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ نظام اس ہسپتال کی مانند ہے جو گندگی کی وجہ سے انفیکشن کا شکار ہو چکا ہے اور جہاں صحت مند شخص جائے تو خود مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔

موجودہ نظام تبدیل کیے بغیر کسی بھی تبدیلی کی امید یا دعوی گمراہ کن ہے اس کا واحد حل متناسب نمائندگی کے ذریعے براہ راست چناؤ ہے جہاں پارٹی لیڈر کو منشور اور میڈیا میں ڈیبیٹ کے ذریعے قوم منتخب اور ووٹوں کے تناسب سے ارکان پارلیمنٹ منتخب کئے جائیں۔ ملک کے تمام ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کر کے اقتدار کو بنیادی سطح تک پہنچایا جائے۔

اب تک تمام بلدیاتی انتخابات آمرانہ ادوار میں ہوئے جبکہ آئینی اور جمہوری حکومتوں نے آج تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیئے کیونکہ وہ فنڈز اور اقتدار کی طاقت مرکز اور صوبوں میں ایم این اے اور ایم پی اے کے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ الیکٹرول ریفارمز کے ایجنڈا کا وقت گزر چکا ہے اب نظام انتخاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی لوگ دیانتدار قیادت اور گڈ گورننس دیتے ہیں تو مستقبل میں کسی آمر کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔

تقریب کے آخر میں میزبان محترم فیضان عارف (برطانیہ) اور محترم خالد حسین (برطانیہ) نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ایسی نشستوں کی اشد ضرورت ہے جہاں نہایت اہم پڑھے لکھے طبقے کے خیالات اور تجربات سے راہنماؤں کو خیالات جاننے اور حالات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے مواقع میسر آئیں۔

18۔ عوامی انقلاب مارچ (گوجرانوالہ)

پاکستان عوامی تحریک گوجرانوالہ کے زیراہتمام غریب دشمن نظام کے خلاف عوامی انقلاب مارچ و جلسہ عام گلشن اقبال گراونڈ گوجرانوالہ میں 15فروری 2013 کو منعقد ہوا۔ جس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر طاہرالقادری نے عوامی انقلاب مارچ کی قیادت کی۔ مریدکے اور کامونکی کے باسیوں نے مارچ کا عظیم الشان استقبال کیا۔ مارچ چن دا قلعہ گوجرانوالہ میں داخل ہوا تو لوگوں نے جگہ جگہ پھولوں کی پتیوں سے عظیم الشان استقبال کیا۔ جلسہ میں گوجوانوالہ کے گرد و نواح سے خواتین و حضرات کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شیخ الاسلام نے جلسہ عام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دار کبھی غریب کی بہتری کے لئے قانون سازی نہیں کریں گے۔ کیا آپ اپنی عزت کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھ بیچ دینا چاہتے ہیں؟ میں قوم کو آئین کی تعلیم دیتا رہوں گا تآنکہ لوگ امیدواروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آئین کے مطابق ان کی جانچ پرکھ کر سکیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں آج تک فوجی و سیاسی آمروں نے حکومت کی۔ پاکستان کے عوام آج تک حقیقی جمہوریت نہیں دیکھ سکے۔

میرا انقلاب چار بنیادوں پر آئے گا۔

  1. جاگیرداروں سے زمینیں چھین کر غریب بے زمین کاشتکاروں کو دی جائیں۔
  2. استحصالی سرمایہ داریت کو ختم کرکے مزدور کو فیکٹری منافع میں حصہ دار بنایا جائے۔
  3. 150 ارب کی ماہانہ کرپشن ختم کرکے وہ پیسہ غربت اور مہنگائی کے خاتمے پر لگایا جائے۔
  4. ٹیکس ریفارمز کے ذریعے غریبوں کے ٹیکس معاف کرکے امیروں کے ٹیکس میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان کے بدترین سیاسی نظام کا کوئی بڑے سے بڑا ستون یا بڑے سے بڑا لیڈر انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتا۔ آئین پاکستان کے تحت 7 اشیاء روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، علاج، روزگار کی آسان فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔

19۔ عوامی انقلاب مارچ (فیصل آباد)

پاکستان عوامی تحریک فیصل آباد کے زیراہتمام غریب دشمن نظام کے خلاف عوامی انقلاب مارچ و جلسہ عام دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں 17 فروری 2013 کو منعقد ہوا۔ جس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر طاہرالقادری نے عوامی انقلاب مارچ کی قیادت کی۔ قافلہ براستہ موٹروے فیصل آباد پہنچا تو فیصل آباد کی عوام نے اس قافلے کا پھولوں کی پتیاں سے، ڈھول کی تھاپ پر تحریکی ترانوں کی گونج، بھنگڑے سے پرتپاک استقبال کیا۔ یہ انقلاب مارچ تین گھنٹوں میں فیصل آباد شہر سے گزرا۔

عوامی انقلاب مارچ و جلسہ عام فیصل آباد سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے کہا کہ انقلاب کا آغاز ہمیشہ غریبوں سے ہوتا ہے اور سرمائے والے ہمیشہ یکجا ہو کر انقلاب کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ سٹیٹس کو والی جماعتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ ملک میں تبدیلی آئے۔ کمزور کو ظالموں کے نظام نے کبھی حفاظت نہیں دی۔ تاریخ انبیاء سے لے کر انقلاب فرانس، انقلاب روس، انقلاب چین، ہر انقلاب اس کا گواہ ہے۔ پاکستان میں میری جدوجہد عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ آج دشمن بڑا مضبوط ہے، لیکن میری جدوجہد میں سب طاقتیں پانی کی طرح بہہ جائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انقلاب جب آیا تو دولت، ہوس اور اقتدار میں فرعون، ہامان، قارون آپ کے دشمن ہوگئے۔ موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ بنی اسرائیل کی مظلوم قوم نے دیا۔ بالاخر موسیٰ علیہ السلام کامیاب ہو گئے اور فرعون غرق ہو گیا۔ وہ وقت دور نہیں، جب آج کا فرعون بھی غرق ہوگا۔ لوگو تم مایوس نہ ہونا، ان شاء اللہ روشن مستقبل طلوع ہوگا۔ یاد رکھو غریبوں کو اس کرپٹ نظام نے کبھی حفاظت نہیں دی۔ آج میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اکیلا نہیں، پاکستان کے غریب محکوم غریب عوام اور نوجوان میرے ساتھ ہیں۔ ہم ایک ساتھ جنگ لڑیں گے۔

آج اس ملک میں ہر چیز طاقتور طبقہ کے پاس ہے، اشرافیہ کے پاس ہے، جاگیرداروں کے پاس ہے، ڈاکوؤں، چوروں اور لٹیروں کے پاس ہے۔ دوسری جانب غریبوں کو اس نظام نے کیا دیا ہے۔ اس نظام نے غریبوں کو فقرو فاقہ دیا ہے، بھوک دی ہے، خود سوزی دی ہے، بیروزگاری دی ہے، اندھیرے دیئے ہیں۔ بجلی اور گیس چھین لی گئی ہے۔ فیصل آباد صنعت و تجارت کا شہر ہے، جہاں بجلی غائب کر دی گئی ہے۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس نظام کی بوسیدہ دیواروں کو گرانے کے لیے میرے ساتھ عزم کرنا ہوگا۔ ہم ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف لڑیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں، ہمارے پاس امن کی طاقت ہے، لیکن امن جب بپھر جاتا ہے تو پھر ہر طاقت خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتی ہے۔ یہ الیکشن کمیشن غیر آئینی ہے، ہم غیر آئینی الیکشن کمیشن کو نہیں مانتے۔ اس الیکشن کمیشن کے تحت ہونے والے انتخابات کس طور بھی دھن، دھونس اور دھاندلی سے خالی نہیں ہوسکتے۔

20۔ عوامی انقلاب مارچ (ملتان)

پاکستان عوامی تحریک ملتان کے زیراہتمام غریب دشمن نظام کے خلاف 22 فروری 2013 کو عوامی انقلاب مارچ اور جلسہ عام سپورٹس گراونڈ میں منعقد ہوا، جو موسلا دھار بارش میں بھی جاری رہا۔ اس سے پہلے انہوں نے عوامی انقلاب مارچ کی قیادت بھی کی۔ ان کی ملتان آمد پر عوام نے ان کا عظیم الشان استقبال کیا۔ اس جلسہ میں ہزاروں خواتین و حضرات نے بھرپور شرکت کی۔ جلسہ میں دو گھنٹے تک موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، لیکن شرکاء بھرپور نظم و ضبط کے ساتھ جم کر بیٹھے رہے۔ بارش کے دوران بھی شرکاء کا جوش و خروش دیدنی تھا، اسٹیج سے ملی و تحریکی نغمے گونجتے رہے۔ بارش میں منچلے ڈھول کی تھاپ پر اپنے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے رہے۔ تیز بارش میں خواتین بھی اپنی اپنی جگہ پر جم کر بیٹھی رہی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹرطاہرالقادری کی آمد پر شریک ہزاروں مردو خواتین نے کھڑے ہو کر بھرپور نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ نامور صحافی ارشاد احمد عارف اور فاروق حمید بھی جلسہ میں شریک ہوئے۔ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کی سرزمین پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت ان کی راہ میں کھڑی نہیں ہو سکتی۔ یہ جماعت صرف مصطفوی نظام کورائج کرنے والی جماعت ہے۔ جس جماعت نے اس دھرتی میں ظلم کے نظام کو للکارا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں جاگیرداروں، وڈیروں نے قبضہ کر لیا ہے۔ جس سے یہ ملک کھوکھلا ہو گیا۔ اب وہ وقت دور نہیں، جب اس ظالمانہ نظام کی جڑیں کٹ جائیں گی، آپ کو آگے بڑھنا ہے۔ طاقت اور سرمایہ نے سب کچھ خرید لیا ہے، طاقت نے پارلیمنٹ کو بھی خرید لیا ہے۔ سرمایہ دار سب کچھ خریدے گا، لیکن یاد رکھو کہ سرمایہ غریب کا ضمیر نہیں خرید سکتا۔ غریب کا ضمیر بک نہیں سکتا۔ ہم نے 23 دسمبر سے لے کر آج تک ایک ایک چہرے کو ننگا کر دیا ہے۔ کسی نے اپنے چہرے پر سیاست کا نقاب اوڑھ رکھا تھا، کسی نے عدالت کا نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ میں نے سب چہرے ننگے کر دیئے۔ اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ حق کدھر ہے اور باطل کدھر ہے۔

لوگو، آج میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اکیلا نہیں ہوں، پاکستان کے غریب میرے ساتھ ہیں، پاکستان کے جوان میرے ساتھ ہیں، پاکستان کی بیٹیاں میرے ساتھ ہیں، مائیں میرے ساتھ ہیں۔ میں غریبوں کی جنگ لڑ رہا ہوں، جن غریبوں سے سب کچھ چھن گیا، میری جنگ ان کے لیے ہے۔ آج دولت، جمہوریت سب کچھ اشرافیہ کے پاس ہے۔ لیکن انہوں نے آپ کو فقروفاقہ، خود کشی، خود سوزی، مایوسی اور محرومی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس نظام نے جاگیردار کو پالا ہے، کسان کو روند ڈالا ہے۔ نہری پانی کی تقسیم غیر مساویانہ ہے۔ کھاد اور بیج میسر نہیں، زرعی مارکیٹ نہیں ہے۔ غریب کاشتکار تھا مگر کچہری کے نظام میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ مزراعہ نسل در نسل مزارعہ ہی رہتا ہے۔ اس کی نسلیں اسی طرح ہیں۔

آج لوگوں میں اتنی زیادہ مایوسی پھیل چکی ہے کہ وہ اس ملک میں تبدیلی سے بھی مایوس ہوگئے ہیں۔ آج پاکستان کی ریاست کو از سرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی ریاست میں آج دہشت گردی، قتل و غارت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں اس سیاسی نظام کو بدلنا ہوگا۔ اس ملک کے نظام تعلیم کو بدلنا ہوگا۔ اس ملک میں معیشت کے نظام کو بدلنا ہوگا۔ اس ملک میں وزیراعظم اور صدر کی روزانہ کی عیاشیوں کو ختم کرنا ہے۔ ہمیں ججز کی من مانیوں کو درست کرنا ہو گا۔ اس ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

21۔ تاریخ ساز جلسہِ عام (راولپنڈی)

پاکستان عوامی تحریک راولپنڈی کے زیر اہتمام تاریخ ساز جلسہ عام 17 مارچ 2013ء کو لیاقت باغ میں منعقد ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا:

سیاست نہیں - ریاست بچاؤ۔ میں آج بھی اسی نعرے پر قائم ہوں۔ سیاست کا مطلقاً رد نہیں کرتا۔ جو سیاست پاکستان میں رائج الوقت ہے یہ سیاست نہیں، خباثت ہے، یہ سیاست نہیں غلاظت ہے، اس کو رد کرتے ہیں۔

آئین پاکستان میں کُل 280 آرٹیکلز ہیں ان میں سے پہلے 40 آرٹیکلز وہ ہیں جو عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر مشتمل ہیں۔ پہلے 40 آرٹیکلز میں پاکستانی عوام کے حقوق اور وعدے ہیں، اس کے بعد 240 آرٹیکل پھر حکومت سے متعلق ہیں۔ 65 سال گزرے اس ملک کی پانچوں اسمبلیوں نے آج کے دن تک ان 40 کے 40 آرٹیکلز میںموجود وعدوں میں سے ایک وعدہ پورا نہیں کیا اور ایک وعدے کو بھی پورا کرنے کے لیے آئین کا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ کیا ان حکومتوں کو اور اس سیاسی عمل کو اور اس نام نہاد جھوٹی جمہوریت کو آئینی جمہوریت کہا جائے؟ کیا یہ حکومتیں آئینی حکومتیں ہیں؟ اگر ان کے خلاف آپ علم بغاوت بلند کرتے ہیں تو یہ آپ کے خلاف کیوں نہیں اٹھیں گے ؟

پاکستان میں قومی وسائل ختم نہیں ہوئے، مگر ان وسائل پر ظالم قابض ہو گئے ہیں، ہمیں بڑھ کر انہیں چھیننا ہو گا۔ ہمارے حقوق لٹیرے چھین کے لے گئے، تمہیں بڑھ کے ان سے لینا ہو گا۔

لوگو! امید دلا رہا ہوں، یہ وقت ہے اٹھنے کا، اندھیری وادیوں سے اٹھو۔۔۔ ظلم اور ناانصافی کی وادیوں سے اٹھو۔۔۔ برابری، عدل و انصاف اور حقوق کی پہاڑیوں کی چٹانوں تک پہنچو۔ اللہ تمہیں سربلند کر دے گا۔۔۔ نفرتوں اور انتہاء پسندی کے ریتلے صحراؤں سے نکلو۔۔۔ محبت، رواداری، برداشت اور اعتدال کی عظمتوں تک پہنچو۔۔۔ جو سسٹم خدا نے دیا ہے اس کی بنیاد محبت ہے۔۔۔ اس کی بنیاد امید ہے۔۔۔ اس کی بنیاد برابری ہے۔۔۔ اس کی بنیاد عدل و انصاف ہے۔۔۔ اس کی بنیاد اعتدال ہے۔۔۔ اس کی بنیاد نفرت نہیں۔۔۔ لوٹ گھسوٹ نہیں۔۔۔ کرپشن نہیں۔۔۔ انتہاء پسندی نہیں۔۔۔ دہشت گردی نہیں۔۔۔ یہ دو الگ کلچر ہیں ایک کلچر خدا نے دیا ہے۔ ایک کلچر شیطان نے دیا ہے خدا والے بنو اور شیطان والوں سے جنگ کا آغاز کر دو۔

لوگو ! جو لوگ اس فرسودہ نظام کا حصہ بنیں گے وہ مایوسی کی وجہ سے بنیں گے کہ شاید اور کوئی راستہ نہیں۔ نہیں، ایک راہ بند سو راہ کھل جائیں گے۔ یاد رکھ لیں جس نظام سیاست نے، جس نظام انتخاب نے آپ کو 65 سال سے محروم رکھا ہے اور آپ کے ملک کو کمزور اور تباہ حال کر دیا ہے اور کرپشن کا راج کر دیا ہے اگر اسی نظام کو آپ دوبارہ ووٹ دے کر، انہی لٹیروں کو پھر طاقت دیں، پھر حکومت میں لائیں تو آپ مجرم ہوں گے۔ جو لوگ کرپٹ اور ظالم نظام میں ووٹ دیں گے وہ دراصل اس نظام کو قوت دیں گے، اس نظام کو سہارا دیں گے۔ اس دھن دھونس اور دھاندلی، کرپشن کے نظام کو ملک میں تبدیلی کے لیے جرات کرکے ٹھکرانا ہوگا، حصہ نہیں بننا، ٹھکرانا ہوگا، ٹھکراؤ گے تو ان شاء اللہ رب کی مدد ملے گی۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau