سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | تلاش کریں | رابطہ
ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2015 ء > تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام 24 واں سالانہ شہرِ اعتکاف2015ء


ماہنامہ منہاج القرآن : اگست 2015 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2015 ء > تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام 24 واں سالانہ شہرِ اعتکاف2015ء

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام 24 واں سالانہ شہرِ اعتکاف2015ء

رپورٹ: محمد یوسف منہاجین/ محمد شعیب بزمی

اِعتکاف کا مقصد تعلق باللہ، ربطِ رسالت، رجوع الی القرآن اور باہمی اتحاد و بھائی چارے کا نظام برپا کرنا ہے۔ یہ اعلیٰ مقصد آج کے دور میں تنہا اعتکاف کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا، کیونکہ تنہائی، گوشہ نشینی اِلا ماشاء اللہ عام شخص کو اِنتشار خیالی اور غفلت کا شکار بھی کر دیتی ہے۔ اسی بات کے پیش نظر تحریکِ منہاج القرآن نے اجتماعی اعتکاف کی سنت کو زندہ کر کے عالم اسلام میں ایمانی زندگی کی تحریک پیدا کر دی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مرکز حرمین شریفین کے بعد اسلام کی سب سے بڑی اعتکاف گاہ بن گیا۔ تحریکِ منہاج القرآن کے زیر اہتمام اجتماعی اعتکاف میں ایک شیڈول کے مطابق پرکیف تلاوت، ذکر و اذکار، نعت خوانی، درس وتدریس کے حلقہ جات، نوافل اور وظائف کے ذریعے عبادات کے کئی روحانی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ اجتماعی اِعتکاف ایک ایسا سنہری موقع ہے، جس میں شریک احباب کی فکری و نظریاتی، اخلاقی و روحانی اور تنظیمی و اِنتظامی تربیت کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں دین اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں۔br> ماہ رمضان المبارک کی پرنور ساعتوں میں احیائے اسلام کی عالمی تحریک، تحریکِ منہاج القرآن کی اعتکاف گاہ جامع المنہاج (بغداد ٹاؤن) میں تشریف لانے والوں کو شہزادہ غوث الوریٰ حضرت سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض وبرکات اور عالم اسلام کی مقتدر علمی و روحانی شخصیت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ کی ایمان افروز اور مردم خیز صحبت نصیب ہوتی ہے۔ اس نورانی ماحول میں ہر شخص اللہ تعالیٰ کی بندگی اور محبوب کبریا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے ۔ قرآن، حدیث، فقہ و تصوف اور تجدید واحیائے دین کی تعلیمات اس اعتکاف کا طرہ امتیاز ہیں۔

امسال بھی جامع المنہاج ٹاؤن شپ میں حرمین شریفین کے بعد دنیا کے سب سے بڑے شہر اعتکاف کو بسایا گیا۔ یہ 24 واں سالانہ اجتماعی اعتکاف تھا۔ جس میں شدید گرمی، حبس اور لگاتار بارشوں کے باوجود موسم کی سختیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اندرون و بیرون ملک سے ہزاروں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ اعتکاف کے جملہ معاملات کی سرپرستی محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری فرمارہے تھے تاکہ معتکفین و معتکفات کو کسی بھی حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شہر اعتکاف کے انتظامات و انصرامات کے لئے محترم شیخ زاہد فیاض کی سربراہی، محترم خرم نواز گنڈا پور اور محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی کی نگرانی اور محترم جواد حامد (سیکرٹری اعتکاف) کے زیر انتظام 52 انتظامی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ امیر تحریک محترم صاحبزادہ فیض الرحمن درانی کی زیر قیادت تحریک کے جملہ ناظمین، نظامتیں اور فورمز اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف عمل تھے۔ منہاج القرآن یوتھ لیگ اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے نوجوانوں نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیئے۔ معتکفین کے سحرو افطار، وضو اور طہارت کیلئے وسیع انتظامات کیے گئے۔ ہزاروں معتکفین کیلئے 30 ڈاکٹرز اور 10 ایمبولینسز ہمہ وقت شہر اعتکاف میں موجود تھیں۔

سندھ، بلوچستان، شمالی علاقہ جات اور جنوبی پنجاب سے معتکفین کی آمد کا سلسلہ ایک روز پہلے سے شروع ہو گیا تھا۔ خواتین کیلئے الگ جگہ پر اعتکاف گاہ بنائی گئی تھی جہاں شیخ الاسلام کے خطابات بڑی LED سکرینز کے ذریعے براہ راست سنانے کا اہتمام تھا۔ شیخ الاسلام کے خطابات اور شہر اعتکاف کی تمام سرگرمیاں www.minhaj.tv کے ذریعے پوری دنیا میں براہ راست نشر کی گئیں۔ منہاج TV کے ذریعے دنیا بھر میں موجود تحریک منہاج القرآن کے مراکز پر تنظیمات و کارکنان نے شہر اعتکاف میں خصوصی شرکت کی۔ حتی کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کچھ (انڈیا) کے زیر اہتمام انڈیا کے 256 مقامات پر شہر اعتکاف کی مکمل کاروائی منہاج TV کے ذریعے اجتماعی طور پر دکھانے کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا۔

شہر اعتکاف میں انفرادی معمولات و عبادات کے علاوہ دن بھر درج ذیل اجتماعی سرگرمیوں کے باقاعدہ اہتمام کے ذریعے معتکفین کی علمی، فکری، روحانی تربیت کا اہتمام کیا جاتا رہا:

  1. نظامت دعوت و تربیت اعتکاف کے دوران شرکاء اعتکاف کی علمی و فکری آبیاری کے لئے مصروف عمل رہی۔ ہر روز صبح 11:30 بجے سے نماز ظہر تک باقاعدہ تربیتی حلقہ جات منعقد کئے گئے جن میں ناظمین دعوت اور دیگر سکالرز نے نظامت تربیت کے زیر اہتمام شیخ الاسلام کی کتب سے مرتب کی گئی کتاب ’’آداب زندگی‘‘ سے لیکچرز دیئے۔ ان تربیتی حلقہ جات میں شرکاء اعتکاف کو بیک وقت عقائد، عبادات، معاملات، آداب معاشرت، خدمت دین کے تقاضے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
  2. شہر اعتکاف میں مفتی اعظم تحریک حضرت علامہ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی کی فقہی نشستیں شرکاء اعتکاف کے لئے نہایت دلچسپی کی حامل تھیں۔ ان نشستوں میں محترم مفتی صاحب نے روزمرہ پیش آمدہ فقہی مسائل، احکامات، جدید مسائل کے حوالے سے شرکاء اعتکاف کے سوالات کے تفصیلی جوابات مرحمت فرمائے۔
  3. مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ نے اعتکاف کے دوران ہر روز ظہر تا عصر اعتکاف میں شریک ملک بھر کی یونیورسٹیز اور کالجز سے آنے والے طلبہ کی علمی، فکری، روحانی اور تنظیمی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا۔ سینئر مرکزی قائدین اور MSM کی قیادت نے ان طلبہ کو مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے۔ اس ورکشاپ نے ان طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
  4. منہاج القرآن یوتھ لیگ کے زیر اہتمام شہر اعتکاف میں شہداء ماڈل ٹائون اور شہدائے انقلاب مارچ کے لئے تاثراتی کیمپ، ریسکیو کیمپ، رفاقت سازی کے لئے ممبر شپ کیمپ، تنظیمی و تحریکی تربیتی ورکشاپس اور نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے متعدد پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔ جن میں سینکڑوں نوجوانوں نے شرکت کی۔
  5. شہر اعتکاف میں تحریک منہاج القرآن اور اس کے جملہ فورمز یوتھ لیگ، ویمن لیگ، MSM، علماء کونسل، پاکستان عوامی تحریک اور عوامی لائرز ونگ کے احباب نے اعتکاف میں شریک اپنے اپنے فورمز سے متعلقہ افراد سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور مصطفوی مشن کے فروغ اور آئندہ لائحہ عمل کے حوالے متعدد امور زیر بحث آئے۔
  6. شہر اعتکاف میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے صوبائی اور زونل تنظیمات شمالی پنجاب، جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب، سندھ KPK، بلوچستان، آزاد کشمیر کے عہدیداران سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
  7. شہر اعتکاف کے دوران ہر روز محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے معتکفین کی رہائش گاہوں میں جاکر حلقہ وائز ان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ معتکفین نے اپنے ان قائدین کا والہانہ استقبال کیا۔

ذیل میں شہر اعتکاف کی پرکیف اور روحانی راتوں کی بالتفصیل رپورٹ نذرِ قارئین ہے:

  1. 20 رمضان المبارک1436ھ/ 8 جولائی 2015ء (بدھ)

نماز مغرب سے قبل 15 ہزار سے زائد معتکفین و معتکفات تحریک منہاج القرآن کے زیر انتظام قائم کردہ ’’فہم دین، توبہ اور آنسوئوں کی بستی‘‘ شہر اعتکاف میں صوبہ/ ڈویژن/ضلع وائز اعتکاف گاہ کی تقسیم کے مطابق اپنے حجروں/ بلاکس میں مقیم ہوچکے تھے۔ 52 سے زائد شہر اعتکاف کی انتظامی کمیٹیوں کے سینکڑوں احباب اپنی اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں مستعد نظر آرہے تھے۔ پہلی افطاری اور کھانا کے انتظامات بھی معتکفین/ معتکفات کے لئے بروقت مکمل کرلئے گئے تھے۔ سربراہ شہر اعتکاف محترم شیخ زاہد فیاض کی طرف سے جملہ معتکفین کو خوش آمدید کہا گیا اور شہر اعتکاف کے معمولات اور شیڈول سے آگاہ کیا گیا۔ آج نماز مغرب کی امامت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فرمائی۔ ہزاروں افراد نے عاجزی، انکساری اور محبت و عقیدت کے جذبات کے ساتھ نماز مغرب کی ادائیگی کے ساتھ ہی شہر اعتکاف کی صورت میں اپنے اعمال اور روحانی احوال کی اصلاح کی طرف ایک سفر کا آغاز کیا۔ نماز مغرب کے بعد شیخ الاسلام نے جملہ معتکفین و معتکفات کو شہر اعتکاف میں شمولیت کی سعادت پر مبارکباد دی اور خوش آمدید کے الفاظ کے ساتھ انہیں دعائوں سے نوازا۔

نماز عشاء کے بعد معتکفین نے نماز تراویح ادا کی۔ شہر اعتکاف میں معتکفین کی پہلی تراویح کا آغاز سورۃ الرحمن کی تلاوت سے ہوا۔ معزز قراء نے خوبصورت لحن میں تراویح میں تلاوت قرآن سنانے کی سعادت حاصل کی۔ نماز تراویح کی آخری دو رکعت کی امامت کی سعادت شیخ الاسلام کے بڑے پوتے محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے حاصل کی اور پھر یہ سلسلہ پورے دس دن جاری رہا اور محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے ہر روزنماز تراویح کی پہلی دو رکعت کی امامت میں اپنی خوبصورت آواز سے تلاوت قرآن کے ذریعے معتکفین کے قلوب و ارواح کو تازگی بخشی۔

افتتاحی کلمات شیخ الاسلام

نماز تراویح کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس شہر اعتکاف کا باقاعدہ آغاز قدوۃ الاولیاء حضور پیر سیدنا طاہر علائوالدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کے درجات کی بلندی اور انہیں ایصال ثواب کے لئے فاتحہ سے کیا۔ اس موقع پر حضور پیر صاحب کے والدین کریمین، آپ کے بھائی محترم السید احمد ظفر الگیلانی، شہداء انقلاب اور امت مسلمہ کے جملہ مرحومین کے لئے بھی خصوصی دعا کی گئی۔ معتکفین و معتکفات کو باقاعدہ و باضابطہ خوش آمدید کہتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا:

’’اعتکاف کے لئے آنے والے یا تحریک کی کسی دعوت پر آنے والوں کی بھاری اکثریت معاشی طور پر کمزور ہے۔ اس کے باوجود مالی مشکلات برداشت کرتے ہوئے آپ کا یہاں تشریف لانا، آپ کے درجات میں اضافہ کا باعث ہے۔ اس لئے کہ آپ یہاں اللہ اور اسکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کے حصول اور ان کی بارگاہ تک رسائی کے لئے قرآن و حدیث سے طریقے سیکھنے کے لئے آئے ہیں اور میں بھی آپ کو یہی بتانے کے لئے ہر سال یہاں بلاتا ہوں۔

حدیث قدسی ہے کہ جب بندے اللہ کے ذکر کے لئے مجلس میں بیٹھتے ہیں تو فرشتے بھی ان کے ہم نشین ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ حدیث مبارکہ کے مطابق اللہ خود ان کا ہم نشین ہوجاتا ہے۔ لہذا اللہ کی مجلس، صحبت میں ان دس دنوں میں اپنے دلوں کو کاسہ بنالیں، یہ کاسہ ہر وقت پھیلارہے، نہ جانے کب وہ بھردے۔ اس اعتکاف کے دوران اپنی دعائوں میں چھوٹی چیزوں کا تعین نہ کریں، چھوٹی چیزیں نہ مانگیں بلکہ اس سے اسی کو مانگیں۔ جب بندہ اپنی سمجھ سے مانگتا ہے تو اللہ اس بندے کی طلب کے حساب سے عطا کرتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ سے اپنی سمجھ کے حساب سے نہیں مانگتے بلکہ اس سے اس کو مانگ کر اس پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی بارگاہ صمدیت کی شان کے لائق عطا فرمادے۔

ان دس راتوں کے لئے ہمارا موضوع ’’ایمان، یقین اور استقامت‘‘ ہوگا۔ یہ یقین بھی رکھیں کہ تحریک منہاج القرآن احیائے اسلام، تجدید دین اور عوام کے بنیادی و آئینی حقوق کی بحالی کے لئے اپنے جس مصطفوی مشن پر گامزن ہے وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور انقلاب آئے گا۔ ایمان و یقین کی قوت سے انقلاب آئے گا۔ میری صحت کی خرابی بھی میرے یقین کو متزلزل نہیں کرسکی۔ میری صحت کو میرے حوصلہ کا ساتھ دینا ہوگا۔ اس لئے کہ اس کا فرمان ہے کہ لاتقنطوا من رحمۃ اللہ۔ مومن کبھی رحمت الہٰیہ سے مایوس نہیں ہوتا۔ کیا کبھی کوئی ایسی رات آئی ہے جس کا سویرا طلوع نہ ہوا ہو۔۔۔؟ اگر نہیں تو ظلم و ستم اور ریاستی جبرو بربریت کی یہ رات کیسے رہ سکتی ہے۔ لہذا حق و انقلاب کا سویرا ایمان کے یقین اور استقامت کی قوت کے ساتھ ضرور طلوع ہوگا‘‘۔

٭ ان افتتاحی کلمات کے بعد شیخ الاسلام نے شرکاء کو دوران اعتکاف درج ذیل وظائف کی تلقین کی:

  1. لا الہ الا اللہ
  2. درود و سلام
  3. استغفار
  4. لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین
  5. ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
  6. اسماء الہٰیہ میں سے ’’یارؤف یارحیم‘‘

خطاب شیخ الاسلام (موضوع: ایمان اور صبر)

ان افتتاحی کلمات اور اعتکاف کے آداب و تقاضوں سے آگاہ کرنے کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سورہ البقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت 153 سے افتتاحی درس قرآن دیتے ہوئے فرمایا:

’’دنیا میں ہم سب کی بقاء اور عافیت قرآن میں ہے۔ شک اور تردد میں پڑنے کی بجائے قرآن اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر جم جانے میں ہی ہماری سلامتی ہے۔ دنیا کے ہر شخص کی بات میں کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن قرآن کی بات میں کوئی شک نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن اور اللہ کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی اندازے اور تجزیئے سے بات نہیں کرتے بلکہ اُن کا کلام سراسر وحی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو مان لیتے ہیں تو پھر اللہ ان کو ہدایت دیتا ہے۔ متقین وہ لوگ ہیں، جو بن دیکھے اللہ کی بات مان لیتے ہیں۔ جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ اللہ کے قرآن کو مان لیا تو پھر اس کے لیے ہدایت ہے۔ اس کے بعد وہ ہمیں نماز کا حکم دیتا ہوں لیکن اگر ہم میں یقین ہی نہیں تو نماز کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ یقین بن دیکھے پیدا ہوتا ہے اور اس سے ایمان بنتا ہے۔ جب شک کی جڑ کٹ جائیں اور یقین سامنے کھڑا ہو تو یہی کامل ایمان ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ’’اگر دل کو یقین کا حال نصیب ہو جائے تو پھر صاحب یقین کی رات بھر کی نیند شک والے انسان کی ساری رات کی نفلی عبادت سے بہتر ہے‘‘۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے سورۃ البقرہ کی آیت 153 میں ایمان والوں کو صبر کرنے کا سبق سب سے پہلے دیا۔ ایمان والا ہونا اور صبر کرنا ان دونوں میں تعلق یہ ہے کہ اللہ اپنے محبت کرنے والوں، دوستوں اور اپنے پیاروں کو ہی آزماتا ہے۔ کافروں، نفرت کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کو نہیں آزمایا جاتا۔ جب ایمان آئے گا تو پھر وہاں مشکلات بھی آئیں گی، حتی کہ جتنا ایمان مضبوط اور قوی ہوگا، اتنی زیادہ مشکلات آئیں گی۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آزمایا تو اپنے ہی بندے کو آگ میں ڈالا۔ اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دے کر بھی حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے صبر کا امتحان لیا۔ اس لیے لوگو اگر بندہ مومن ہو کر مشکلات کی آگ میں جل رہا ہے تو سجدہ شکر کرو کہ مولا نے اس کی محبت کو قبول کر لیا ہے۔ صبر کا یہ مقام ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ نمازیوں کے ساتھ ہے بلکہ فرمایا کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ معلوم ہوا کہ صبر کیا جائے تو انسان انقلابی اوصاف کا حامل ٹھہرتا ہے اور محض نمازی بننے میں ثواب تو ملتا ہے مگر روح نماز سے محروم رہتا ہے۔

حضرت سیدنا علی المرتضی مولا علی شیر خدا کا ایک دن بھی سکون سے نہیں گزرا۔ آپ نے خلافت سنبھالی ہی تھی کہ سیدنا عثمان غنی کو شہید کرنے والوں نے فتنے کی آگ جلا دی اور جنگ جمل ہوئی دونوں طرف صحابہ کرام ہیں، اس وقت دس ہزار صحابہ و تابعین شہید ہوئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ چھوڑ کر کوفہ منتقل ہونا پڑا۔ اسلام کی بقاء اور حق کی خاطر جنگ صفین میں ستر ہزار صحابہ و تابعین شہید ہوئے۔ بعد ازاں حرورہ کے مقام پر خارجیوں نے مولا علی رضی اللہ عنہ کیخلاف جنگیں لڑیں۔ بارہ ہزار خارجیوں نے مسلح ہو کر آپ کے خلاف بغاوت کی اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تین سال تک خوارج کیخلاف برسرِ پیکار رہے۔

اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل مقام محبوبیت کو بھی ذہن میں رکھیں لیکن سب سے زیادہ امتحان بھی ان کا لیا گیا لیکن وہ صبر کیساتھ حق پر قائم رہے۔ جو لوگ یقین پر قائم رہتے ہیں تو یہ ان کی فتح یابی ہے۔ اس لیے آپ بھی اپنے اندر ایمان کے ساتھ یقین پیدا کریں اور ان صحابہ کرام، اہل بیت اطہار اور ائمہ اسلاف کے نقشِ قدم پر چلیں، کامیابی اور انقلاب ان شاء اللہ اہل حق کا مقدر ہے۔

  1. 21 رمضان المبارک 1436ھ/ 9 جولائی 2015ء (جمعرات)

شہر اعتکاف میں یوں تو پورا دن رحمتوں اور برکتوں کے سائے میں گزرتا ہے، شرکاء اعتکاف انتظامیہ کی طرف سے دیئے گئے شیڈول کے مطابق نفلی عبادات، وظائف، تلاوت قرآن، اجتماعی حلقہ جات، علمی و فکری نشستوں میں مصروف عمل رہتے ہیں مگر شہر اعتکاف کی راتیں اپنی مثال آپ ہیں۔

نماز تراویح کی ادائیگی کے بعد محترم شیخ زاہد فیاض نے معتکفین کو آگاہ کیا کہ گذشتہ سال جون 2014ء تا اکتوبر2014ء تحریک کی انقلابی جدوجہد کے دوران ریاستی دہشت گردی اور مظالم کا شکار ہونے والے پاکستان بھر کے کارکنان تحریک کو ان کی قربانیوں کے اعتراف میں شیخ الاسلام کے احکامات و ہدایات کے مطابق اعتکاف کے دوران ہر روز بعد از نماز تراویح ’’تمغہ سیدنا بلال  رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ سے نوزا جائے گا۔ لہذا آج سرگودھا ڈویژن کے اضلاع بھکر، خوشاب، سرگودھا اور میانوالی سے تعلق رکھنے والے وہ کارکنان جو اس انقلابی جدوجہد کے دوران قید ہوئے یا حکومتی مظالم کا نشانہ بنتے ہوئے زخمی ہوئے انہیں ’’تمغہ سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ دیا جائے گا۔ چنانچہ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی العربی، محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے قید اور زخمی ہونے والے کارکنان کو میڈلز پہنائے اور ہر ایک جانثار کارکن سے شیخ الاسلام نے مصافحہ کرتے ہوئے دعائوں سے نوازا اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ شیخ الاسلام نے بذات خود اس تقریب کے لئے مہمانانِ خصوصی کا چنائو کیا اور سینئر ترین رفقاء تحریک کو سٹیج پر اپنے ساتھ بٹھایا۔ اس موقع پر آپ نے ہدایات جاری کیں کہ ہر روز میڈلز تقسیم کی تقاریب میں شرکاء میں سے پرانے اور سینئر رفقاء کو سٹیج کی زینت بنایا جائے۔ چنانچہ آئندہ تمام تقاریب میں شرکاء میں سے 3 سینئر ترین رفقاء کو ہر روز سٹیج کی زینت بنایا جاتا رہا۔

اس تقریب کے دوران پاکستانی میڈیا کے احباب بھی شہر اعتکاف کی کوریج کے لئے تشریف لائے۔ اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے انہیں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فرمایا:

’’سانحہ ماڈل ٹاون سے لے کر انقلاب مارچ تک کارکنان نے ثابت قدمی اور قربانیوں کی لازوال مثال قائم کرکے جدوجہدِ انقلاب کا حق ادا کر دیا۔ دنیا کی کوئی جماعت ایسے عظیم کارکنان کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ جس کارکن کے اندر حیاء کا خون ہے وہ مرسکتا ہے، بک نہیں سکتا۔ میری تحریک میں غریب، مزدور، محروم اور کمزور ضرور ہیں لیکن بے غیرت کوئی نہیں ہے جو بک جائے۔ میں مرتے دم تک قربانیاں دینے والے کارکنان سے پیار کرتا رہوں گا۔ دنیا سن لے کہ آج بھی بڑے سے بڑے قارون کا سرمایہ انقلاب کے راستہ کی رکاوٹ نہیں بن سکا۔ وقت کے بڑے بڑے یزید، قارون، فرعون اپنے جبر سے انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہمارا شہیدوں کے خون سے یہ وعدہ ہے کہ انقلاب کی جدوجہد جاری رہے گی۔ بالاخر دشمن ایک نہ ایک دن سرنگوں ہوگا‘‘۔

خطاب شیخ الاسلام (موضوع: ایمان، آزمائش اور شہادت)

اس میڈیا بریفنگ کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 214 سے درس قرآن دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا:

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنّة وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْهمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰی نَصْرُ اﷲِ ط اَلَآ اِنَّ نَصْرَﷲِ قَرِیْبٌ

’’کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم (یونہی بلا آزمائش) جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالاں کہ تم پر تو ابھی ان لوگوں جیسی حالت (ہی) نہیں بیتی جو تم سے پہلے گزر چکے، انہیں توطرح طرح کی سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور انہیں (اس طرح) ہلا ڈالا گیا کہ (خود) پیغمبر اور ان کے ایمان والے ساتھی (بھی) پکار اٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ بے شک اﷲ کی مدد قریب ہے‘‘۔

البقره: 214

اس خطاب کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم تھے اور پھر ان کے وساطت سے یہ خطاب قیامت تک تمام مومنین کے لئے ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسے ایمان و یقین کا حامل اور کون ہوسکتا ہے؟ مگر اس کے باوجود یہ آیات اتریں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان آیات کے ذریعے ان کے ایمان و یقین میں مزید اضافہ کیا جاتا، ان کے درجات کو بلند کیا جاتا۔ درجہ جتنا بلند ہوتا جاتا ہے اتنا ہی ایمان و یقین بھی بڑھتا چلا جاتاہے ۔ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی 100 مرتبہ دن میں استغفار کرتے، کیوں؟ اس لئے کہ اس استغفار و توبہ سے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزید درجات بلند ہوتے اور ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ الغرض ان آیات کے ذریعے گھبرانے والوں کو حوصلہ دینا اور یقین والوں کے یقین میں اضافہ کرنا مقصود ہوتا اور اسی طرح ہر ایک کے حسب حال یہ آیات ان کو فیض دیتیں۔

تمام کارکنان تین الفاظ ’’کیوں؟ کب؟ اور کیسے؟‘‘ کو دل و دماغ اور زندگی سے نکال دیں کیونکہ یہ تینوں الفاظ شک پیدا کرتے ہیں۔ ہماری جدوجہد آئین، قانون، قرآن و سنت کی تعلیمات کے تابع ہے۔ قرآن مجید نے ہمیں بتایا ہے کہ حق کی جدوجہد کرنے والے ہمت ہارتے ہیں اور نہ مشکلات پر افسردہ ہوتے ہیں۔ ہمت ہار جانے سے مایوسی جنم لیتی ہے جبکہ مایوسی کفر ہے۔ ایمان، یقین والے مایوس نہیں ہوتے، حق کے غلبہ اور ہر طرح کے ظلم اور استحصال کے خاتمہ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ تھوڑے لوگ حق پر ہوتے ہیں اور یہی تھوڑے بالآخر فتح یاب ہوتے ہیں۔ کیوں، کب اور کیسے ان سب سے تعلق ختم کر کے یقین کا دامن تھام لیا جائے تو فتح مقدر ہو جاتی ہے۔

یہ شہداء کا اعتکاف ہے کیونکہ حق اور سچ کی جدوجہد میں آپ میں سے کوئی بھی موت کے ڈر سے بھاگا نہیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق کچھ شہداء ایسے بھی ہوں گے جو شہادت کی آرزو رکھتے ہوں گے لیکن ان کو بستر پر موت آئے گی لیکن وہ شہیدوں کے درجے میں شامل ہوں گے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کی نیت حق و سچ کی خاطر جان کی قربانی دے دینا تھی۔ ابتلاء اور آزمائش ایک بھٹی ہے جس سے انسان کندن بن کر نکلتا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء کی جدوجہد میں ان کے ساتھ معاشرے کے غریب، محروم اور کمزور طبقات کھڑے ہوئے۔ ان پر ایسے مصائب بھی آئے کہ وہ کہہ اٹھے "متی نصر اللہ؟" اے اللہ کے نبی! اللہ کی مدد کب آئے گی؟

اللہ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ شہادت کا مرتبہ اپنوں کو دینا ہے اور راہِ حق کے وفاداروں کو دینا ہے۔ شہادت یزید، نمرود اور فرعون کو نہیں ملی، یہ مرتبہ امام حسین کو اور راہِ حسین پر چلنے والوں کو ملتا ہے۔ شہادت وفاداری جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔ اگر آزمائشیں نہ ہوں تو پھر وفادار اور غدار کا پتہ کیسے چل سکتا ہے؟ آزمائشوں پر صبر بتاتا ہے کہ کون ثواب لینے والا ہے اور کون جان دینے والا ہے۔ بزدلی شکست اور جوانمردی فتح و کامرانی ہے۔ الغرض ابتلاء و آزمائش ایمان کا تقاضا ہے، اس سے ایمان مضبوط ہوتا اور یقین پکتا ہے۔ یہی ایمان اور یقین کا مضمون اللہ رب العزت نے سورۃ آل عمران 138 تا 154 میں بھی بیان فرمایا۔ اس مضمون کا پس منظر غزوہ احد ہے۔ قرآن مجید ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون (تم کبھی ہمت نہ ہارنا نہ کبھی غم کرو) کے ذریعے قیامت تک کے اہل حق کو مخاطب کررہا ہے کہ قسمت ہارو گے، غم کرو گے تو مایوسی آئے گی، اس سے یقین ختم ہوگا، نتیجتاً اللہ کی مددنہ آئے گی۔ انتم الاعلون یقین رکھو کہ فتح تمہاری ہے، یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ شرط ایمان پر قائم رہنا ہے جو متزلزل ہوجائے، اس کا مطلب ہے کہ اس میں ایمان کامل نہیں رہا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وتلک الایام نداولہا بین الناس کے تحت گردش ایام کی حکمت بھی سمجھائی۔ انسان کے ذہن نارسا میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کہ اہل حق کو اللہ تعالیٰ کامیاب کرکے منزل تک پہنچادے۔ فرمایا: ایسا نہیں ہوتا، آزمائشوں، مصائب، تکالیف سے اس لئے گزارتا ہوں کہ

  1. مومنوں کی پہچان کرادوں کہ یہ وفادار ہیں اور استقامت والے ہیں کہ اتنی مشکلات کے باوجود بھی قائم رہے۔
  2. شہادت تک پہنچانا ہوتا ہے، اگر ایسے واقعات نہ ہوں تو یہ شہادت تک کیسے پہنچیں گے۔
  3. اللہ ایمان والوں کو ان آزمائشوں سے مزید نکھار عطا کرنا چاہتا ہے۔
  4. ان واقعات سے کافروں کو مٹادینا مقصود ہے۔
  5. دنیا والوں کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ثابت قدمی سے جہاد کرنے والے کون ہیں؟
  6. یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ مشکلات میں صبر کرنے والے کون ہیں؟

لہذا گردش ایام کے پیچھے یہ چھ نکات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ یہ ذہن نشین رہے کہ وہ ثواب کے طلبگاروں کو نہیں پرکھتا بلکہ انقلاب کے طلبگاروں کوپرکھتا ہے۔ جس طرح لوہے کو بھٹی سے نہیں گزارا جاتا بلکہ سونے کو بھٹی سے گزارا جاتا ہے، جب اونچا درجہ دینا ہو تو لازم ہے کہ پرکھا جائے کہ کیا اس کے قابل بھی ہے۔ جنت میں ایسے ہی نہ جائو گے بلکہ اللہ پرکھتا ہے کہ ان میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ صبر کرنے والا کون ہے؟ استقامت والا کون ہے؟

آل عمران کی آیت 146 اس حقیقت کو واضح کررہی ہے کہ صرف انبیاء ہی نہیں بلکہ ان کے اولیاء بھی ان کے ہمراہ لڑتے تھے مگر ان مصیبتوں کے باعث نہ ہمت ہاری نہ کمزور ہوئے اور نہ تھکے۔ شکوہ ان کی بولی نہ تھی۔ کیوں، کب اور کیسے؟ ان کی بولی نہ تھی۔ ان کی بولی تھی تو صرف یہ کہ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا ۔ (آل عمران:147) ’’اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے ‘‘۔

غزوہ احد کے موقع پر جب ایک مرتبہ مسلمان ظاہری طور پر شکست کھاگئے۔ منتشر ہوگئے، ان کے پائوں اکھڑ گئے تو آقا علیہ السلام کے پاس بھی صرف چند صحابہ رہ گئے۔ حتی کہ ایک وقت اس موقع پر ایسا آیا کہ آقا پوچھتے اب کون آئے گا؟ صحابی آگے بڑھتے اور کفار سے لڑتے لڑتے شہید ہوجاتے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم منتشر ہونے والے صحابہ کو اکٹھے کررہے تھے۔ اللہ نے آپ کو غم پر غم دیا، یکے بعد دیگرے خبریں آتی کہ کبار صحابہ شہید ہوئے۔ حتی کہ 70 صحابہ شہید ہوگئے۔اللہ رب العزت نے بعد ازاں جب کامیابی سے ہمکنار فرمایا تو ارشاد فرمایا:

کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا، اس پر غم نہ کرو اور جو مصیبت آئے اس پر بھی نہ غم کرو، یہ سوچنے کا وقت نہیں جو گزر گیا، اس کو نہ سوچو بلکہ یقین، توکل سے آگے بڑھو۔ غموں میں سے تمہیں اس لئے گزارا تاکہ غموں کے خوگر ہوجائو۔

  1. 22 رمضان المبارک 1436ھ/ 10 جولائی 2015ء (جمعہ)

آج شہر اعتکاف میں معتکفین انفرادی نوافل و اذکار کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے تیاری میں مصروف رہے۔ لہذا تربیتی حلقہ جات اور دیگر علمی و فکری مجالس منعقد نہ ہوئیں۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے جامع المنہاج شہراعتکاف میں جمعتہ المبارک کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ

’’روزہ وہ عبادت ہے، جس کے اجر کا وعدہ خود اللہ تعالی نے کیا ہے۔ روزہ صبر کا درس دیتا ہے، ایسا صبر جو انسان کو اس کی معراج عطاء کرتا ہے۔ اگر روزہ دار کے روزہ اور عبادت میں اخلاص ہو تو اللہ تعالی اس شخص کو اپنا قرب عطاء کرتا ہے اور دنیا میں رشک ملائک بنا دیتا ہے۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندے کا حساب کرے گا، اس وقت اگر بندے کے پاس روزہ کے علاوہ کچھ باقی نہ بچا تو اللہ تعالی روزہ کے صدقہ بندے کو جنت عطاء کر دے گا۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کے بارے میں فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ یہ وہ خاص بندہ ہے جو تیرے نیک بندوں کی صحبت میں جا کر روزے رکھتا تھا، اعتکاف بیٹھتا تھا، ان کو تکتا رہتا تھا۔ اس پر اللہ تعالی اس بندے کو خصوصی انعامات سے نوازیں گے۔ رمضان میں گرمی کی شدت، بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنا یہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ اس لیے ہمیں روزہ کی ان مشکلات کو سنت سمجھ کر ہی جھیلنا چاہیے۔ پھر یہ روزہ اعلیٰ بن جائے گا۔

ایک عام لوگوں کا روزہ ہے۔ ایک عاشقین اور محبین کا روزہ ہے۔ ایک عرفاء کا روزہ اور ایک اولیاء کا روزہ ہے۔ اللہ رب العزت اپنے اولیاء کو فرمائیں گے کہ جب بھی میں نے تمہیں دنیا میں روزہ سے دیکھا تو تمہاری ہونٹوں کو پیاس سے خشک دیکھا۔ تمہارے بدن کو بھوک و پیاس سے سکڑے ہوئے دیکھا۔ آج قیامت کے دن میری قربت میں آ جاؤ، آج ساری نعمتیں تمہارے لیے ہیں، ان نعمتوں میں سے جو چاہو کھاؤ پیو۔ حضرت انس بن مالک سے مروی حدیث ہے کہ قیامت کے دن روزہ دار جب جنت میں داخل ہو رہے ہوں گے تو ان کے منہ اور ان کی سانسوں میں مشک اور عنبر کی خوشبو منتقل کی جائے گی۔ قیامت کے دن اللہ رب العزت کا ایک خاص دستر خوان ہوگا جسے آج تک کسی آنکھ نے دیکھا نہ ہوگا، نہ کسی کان نے سنا ہوگا، نہ کسی کے وہم و گمان سے گزرا ہوگا۔ اس دستر خوان پر صرف روزہ دار کو ہی بٹھایا جائے گا۔ پھر حوران جنت خاص پکوان روزہ داروں کو پیش کریں گے۔ جب عام لوگ محشر میں اپنا حساب و کتاب دے رہے ہوں گے تو روزہ دار دستر خوان پر کھانے کھا رہے ہوں گے۔ وہ لوگ کہیں کہ مولا ہم سے حساب لیا جارہا ہے جبکہ لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہیں۔ اللہ رب العزت فرمائیں گے کہ دنیا میں جب تم کھا پی رہے ہوتے تھے تو میرے یہ خاص بندے روزہ سے بھوک پیاس برداشت کر رہے ہوتے تھے‘‘۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد معتکفین اپنے روزانہ کے معمولات میں مصروف عمل ہوگئے اور نماز، ذکر، تلاوت قرآن کے ذریعے اپنی پیاس بجھانے لگے۔

آج نماز تروایح کے فوری بعد گوجرانوالہ A ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن کے کارکنان کو میڈلز دینے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں انقلاب مارچ کے دوران ریاستی جبر و تشدد سے زخمی اور جیلوں میں قید کاٹنے والے کارکنان کو 'تمغہ بلال' دیا گیا۔ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی اور محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے کارکنان کو میڈل پہنائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

شہر اعتکاف میں آج دوسری طاق رات تھی۔ اس مناسبت سے سالانہ محفل قرآت منعقد ہوئی، جس میں ایران سے آئے ہوئے مہمان قرآء کرام اور قاری نور احمد چشتی نے شرکت کی۔ قاری نور احمد چشتی نے تلاوت قرآن مجید سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز اور آواز سے اللہ کے کلام کو پڑھا۔ صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے اپنی ننھی منھی آواز میں قصیدہ بردہ شریف پیش کیا۔ ایرانی قراء کی ٹیم کو محترم سہیل احمد رضا (ڈائریکٹر انٹرفیتھ ریلیشنز) نے باقاعدہ خوش آمدید کہا۔ مہمان قراء نے اپنے خاص انداز میں قرآن مجید کی تلاوت، نعت رسول مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اجتماعی طور پر اسماء حسنی پیش کیے۔ پروگرام کا اختتام شب ایک بجے محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی خصوصی دعا سے ہوا۔ شیخ الاسلام علالتِ طبع کے باعث آج رات خصوصی خطاب نہ فرماسکے۔ تمام معتکفین نے آپ کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔

  1. 23 رمضان المبارک 1436ھ/ 11 جولائی 2015ء (ہفتہ)

آخری عشرہ کی ہر رات معتکفین بیدار رہنے، اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر رکھنے، اپنی سماعتوں کو منور کرنے اور انتظامیہ کی طرف سے دیئے گئے شیدول کی پابندی کے باوجود ہشاش بشاش اور پہلے سے کئی گنا بڑھ کر ان مبارک لمحات کو گزار رہے تھے۔ حلقات درود، محترم مفتی صاحب کی فقہی مسائل کی نشست، علمی و فکری دیگر مجالس سے معتکفین خوب اپنا نصیب سمیٹ رہے تھے۔

آج بعد نماز عصر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری منہاج گرلز کالج میں قائم خواتین کی اعتکاف گاہ میں تشریف لے گئے۔ جہاں آپ نے خواتین معتکفات سے ملاقات کی اور انہیں خصوصی دعائوں سے نوازا۔ آپ نے گذشتہ سال تحریک کی انقلابی جدوجہد کے دوران قربانیاں پیش کرنے والی خواتین کی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں ایوارڈز اور اسناد سے نوازا۔اس موقع پر آپ نے اصلاح اعمال و احوال کے حوالے سے خصوصی گفتگو فرمائی۔

بعد از نماز تراویح راولپنڈی ڈویژن، DG خان ڈویژن، ہزارہ، پشاور اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ان جانثار کارکنان کو تمغہ سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نوازا گیا جن کی قربانیوں اور مشن کے ساتھ استقامت نے اس تحریک اور اس کے کارکنان کو عظیم تحریک اور عظیم کارکنان کے عنوان کا حقدار ٹھہرایا۔ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی اور محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے ان کارکنان کو میڈلز پہنائے جبکہ شیخ الاسلام نے ان سے مصافحہ فرماتے ہوئے ڈھیروں دعائوں سے نوازا۔ شہر اعتکاف میں ہونے والی میڈلز تقسیم کی ان جملہ تقاریب میں نقابت کے فرائض محترم شیخ زاہد فیاض، محترم ساجد محمود بھٹی، محترم غلام مرتضیٰ علوی اور محترم بشیر خان لودھی نے انجام دیئے اور خوبصورت الفاظ اور جذبات کے ذریعے ان کارکنان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ الاسلام کے خصوصی خطاب سے قبل آپ کے چھوٹے پوتے محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے قصیدہ بردہ شریف اور محترم صاحبزادہ حماد مصطفی العربی نے ’’یانورالعین‘‘ کی صورت میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔

خطاب شیخ الاسلام (موضوع: مشکلات و مصائب میں ثابت قدمی)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے آج معتکفین کو سورۃ آل عمران کی آیت 155 تا 185 کے مفاہیم و معانی پر مشتمل درس قرآن دیتے ہوئے کہا کہ مقامِ صبر، یقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ راہ انقلاب میں ایسا مقام صبر چاہیئے کہ فولاد بھی ٹکرا جائے تو لرزش نہ آئے۔ تاریخ انسانی میں ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوئے ہیں۔ ایک وہ جو صبر و استقامت کے ساتھ منزل کی طرف سفر کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو مشکلات میں جدوجہد سے کنارا کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں بھی غزوہ احد کے موقع پر 300 لوگ منافق عبداللہ بن ابی کے ساتھ چلے گئے تھے۔ قرآن مجید نے کہا ہے کہ شیطان نے ان کے ذہن میں وسوسہ ڈال دیا، جس کی وجہ سے وہ بھاگ گئے۔ جو صحابہ محاذ جنگ پر ڈٹ گئے، انہیں ان کے یقین نے حوصلہ دیا بالآخر پھر اللہ تعالی کی مدد سے کامیابی ان کا مقدر ٹھہری۔

آج خواتین غلبہ اسلام کی جدوجہد میں حصہ لیتی ہیں تو یہ صحابیات کی سنت ہے۔ یہ حسینی سنت ہے۔ اگر ایسا غلط ہوتا تو قافلہ حسین میں خواتین کو شامل نہ کیا جاتا۔ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کی خادمہ تھیں، وہ میدان احد میں موجود تھیں اور کفار کے حملے سے بھاگ جانے والے مسلمانوں کو پتھر مار کر انہیں میدان جنگ میں آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں استقامت سے ڈٹ جانے کی طرف راغب کرتی تھیں۔ حتی کہ اس غزوہ احد میں حضرت ام ایمن نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیکیورٹی کے فرائض بھی ایک موقع پر انجام دیئے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سْلیم رضی اللہ عنہا نے بھی میدان جنگ میں جا کر حصہ لیا۔ حضرت سعد بن وقاص کی والدہ حضرت ام سعد رضی اللہ عنہا دفاعی دستے کی سربراہ تھیں۔ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا اپنے جسم کے ساتھ لوہے کی دو زرہیں پہن کر جنگ لڑتی تھیں، ان کے جسم پر تیرہ زخم لگے۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا باقاعدہ مسلح ہو کر میدان جنگ میں جاتیں۔ آج تجدید دین، احیائے اسلام اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ کے لئے منہاج القرآن ویمن لیگ کی خواتین انہی بنات اطہار اور صحابیات کی پیروکار ہیں۔

قرآن مجید میں ’’ایمان، استقامت اور صبر‘‘ کا مضمون لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر پلٹ پلٹ کر دہرایا جارہا ہے تاکہ اس سے تقویت ایمانی نصیب ہوجائے۔ اس کو بار بار اس لئے بیان کیا جاتا ہے کہ انسانی خصلت ایک ہی ہے، خواہ 1200 سال پہلے کا انسان تھا یا آج کا انسان ہے یا آج کے بعد ہے، مصائب و مشکلات میں بعض اوقات انسان ہمت ہار بیٹھتا ہے لہذا قرآن مجید اسے حوصلے، جرات اور ہمت کا درست دیتے ہوئے بالآخر فتح و کامرانی اس کا مقدر ہونے کی نوید سناتا ہے۔

قرآن مجید نے مومنین کو ایمان و یقین اور استقامت کے ساتھ حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور حق کی جنگ لڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، اس طرف توجہ کرنا مومن کا کام نہیں بلکہ مومن، مثلِ مالی ہے کہ

مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نہ لاوے

لہذا مومن کو چاہئے کہ وہ مالی بنے، خدا نہ بنے۔ اس لئے کہ مالی شکوہ نہیں کرتا بلکہ فلیتوکل المومنون۔ مومن صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں، وہ بے صبر نہیں ہوتا۔یاد رکھیں کہ بے صبری بندے کا حوصلہ کمزور کرتی ہے اور اس میں استقامت پیدا نہیں ہونے دیتی۔ ایمان شک کی جڑیں کاٹتا ہے، جس سے یقین پیدا ہوتا ہے۔ یقین سے توکل جنم لیتا ہے، جبکہ شک بے صبری اور وسوسے لاتا ہے۔ شک سے حوصلہ اور ہمت ختم ہوجاتی ہے۔ مومن کا کام توکل پر قائم رہنا اور یقین کا دامن تھامے رکھنا ہے۔ میری جدوجہد میں مایوسی نہیں، آپ بھی مایوسی کو زندگی سے ختم کر دیں۔ آپ کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی اور انقلاب آ کر ہی رہے گا‘‘۔

شیخ الاسلام کے خطاب کے دوران ہی بارش شروع ہوچکی تھی مگر معتکفین اس بارش میں بھی صبح سحری تک بیٹھے آپ کے خطاب کو سماعت کرتے رہے، اور اس برستی بارش کے ساتھ ساتھ انوار و تجلیات الہٰیہ کی بارش کو بھی اپنے قلوب و ارواح میں سموتے رہے۔

  1. 24 رمضان المبارک 1436ھ/12 جولائی 2015ء (اتوار)

رات گئے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ سحری اور نماز فجر کے بعد بھی جاری رہا۔ تمام معتکفین نے اشراق کے نوافل کے بعد چاشت تک آرام کیا اور اس کے بعد پھر ایک مرتبہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے ان مبارک لمحات سے اپنے حصہ کی خیرات اور بھلائی کے حصول کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ کوئی تلاوت قرآن میں کھویا ہے۔۔۔ اور کوئی نوافل کے ذریعے قرب خداوندی کا طالب ہے۔۔۔ کوئی علمی و فکری مجالس ے اپنی علمی پیاس بجھارہا ہے۔۔۔ اور کوئی کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف عمل ہے۔ انتظامیہ کے سینکڑوں احباب اپنی اپنی ذمہ داریاں پہلے دن ہی کی طرح مستعدی سے سرانجام دے رہے ہیں۔ مرکزی قائدین معتکفین کی رہائش گاہوں کے دورہ جات کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کررہے ہیں۔

آج محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے شہر اعتکاف میں شریک طلبہ کی علمی، فکری اور روحانی تربیت کے لئے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیر انتظام منعقدہ تربیتی ورکشاپ میں خصوصی شرکت کی اور اظہار خیال فرمایا۔

آج نماز تروایح کے بعد اسیران انقلاب اور زخمی ہونے والوں کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں اندرون سندھ، آزاد کشمیر، گوجرانوالہB اور لاہورB کے کارکنان کو محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے میڈلز اور اعزازی اسناد سے نوازا ۔

خطاب شیخ الاسلام (موضوع: حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمہ جہت وکامل تعلق اور نعتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)

آج شہراعتکاف میں تیسری طاق رات کی مناسبت سے محفلِ نعت منعقد ہوئی جس میں معروف نعت خوانوں نے شرکت کی۔ نعت خوانی سے قبل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خوبصورت روحانی و علمی خطاب میں محمد رسول اللہ والذین معہ کو عنوان بناتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ ہر مسلمان کا تعلق ذہنی و فکری، عملی اور قلبی و روحانی ہونا چاہئے۔ یہ تینوں تعلق از حد ضروری، لازمی اور ناگزیر ہیں۔ کسی کی تعلیمات کو جب قبول کرتے ہیں تو افکار و تعلیمات کی صحت نصیب ہوتی ہے اور یہاں سے عقیدہ تشکیل پاتا ہے، جب طرز عمل کو عملاً اپناتے ہیں تو اطاعت و اتباع کے تعلق سے اطاعت کا فریضہ پورا ہوتا ہے اور جب کسی کی ذات سے شدید محبت کرتے ہیں تو اس سے قلبی و روحانی تعلق استوار ہوتا ہے۔ تعلق کی کلیت، ہمہ جہتی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے ذہن و افکار و نظریات آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جڑے ہوں اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابع ہوں۔ اعمال، اخلاق، احوال اور طور طریقے بھی آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابع ہوں اور ہمارے قلبی جذبات بھی حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جڑے ہوں۔ اس لئے دین کے تین درجات بیان ہوئے ہیں:

  • ایمان
  • اسلام
  • احسان

ایمان سے عقیدہ، اسلام سے عمل، احسان سے روحانی تعلق درست ہوتا ہے۔ فکر کا محل/جگہ دماغ و ذہن ہے، عمل کا محل / جگہ جسم ہے اور محبت کا محل قلب ہے۔ اگر تینوں چیزوں کو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں جوڑیں گے تو ایمان کامل نہ ہوگا، اسلام فائدہ نہ دے گا اور احسان پختہ نہ ہوگا۔ نعت خوانی ان ذرائع میں سے اہم ترین ذریعہ ہے جس سے آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسلمان کا قلبی، عشقی، حبی اور جذباتی مضبوط تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہ مجرب ترین ذریعہ ہے۔ اس لئے کہ ثناء خوانی رسول کی اصل اللہ کی سنت ہے۔ اس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہی ’’محمد‘‘ رکھا ہے‘‘۔ محمد اس ذات کو کہتے ہیں جس کی ہر وقت نعت کی جائے۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں اپنا تعارف سورۃ فاتحہ میں ’’الحمدللہ‘‘ سے کرایا۔ حمد، کسی کی تعریف، حسن و جمال، کمال و قدرت، تصرف و اختیار کی تعریف کرنا ہے۔جب ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں تو چاہئے یہ تھا کہ اللہ کا نام ’’محمد‘‘ ہو کیونکہ لفظِ ’’محمد‘‘ میں لفظِ ’’محمود‘‘ کے مقابلے میں حمد کا مبالغہ ہے۔ مگر اس نے کہا کہ میرا نام ’’محمود‘‘ ہے۔ ’’محمود‘‘ کا معنی ہے جس کی تعریف کی جائے جبکہ محمد کا معنی ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ سوال ہے کہ باری تعالیٰ ’’محمد‘‘ تجھے ہونا چاہئے تھا، جبکہ تو نے اپنے برگزیدہ بندہ کا نام ’’محمد‘‘ رکھا۔ ایسا کیوں؟ فرمایا: اس لئے کہ میری حمد مخلوق کرتی ہے، اس لئے میں ’’محمود‘‘ ہوا اور ’’محمد‘‘ کی حمد و تعریف میں کرتا ہوں اس لئے ان کا نام ’’محمد‘‘ رکھا۔ جن کی تعریف تم کرو وہ ’’محمد‘‘ ہوگا یا جس کی تعریف میں کروں تو وہ ’’محمد‘‘ ہوگا۔ لازمی بات ہے کہ جس کی تعریف میں کروں وہ ’’محمد‘‘ ہوگا۔ اس لئے کہ مجھ سے بڑھ کر ذاتِ محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ میں تو تمہاری حمد سے بے نیاز ہوں۔ مجھے تمہاری حمد کی حاجت نہیں۔ میرا نام محمود ہوتا یا کوئی اور، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر میں اپنے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف اور ان کا ذکر ورفعنالک ذکرک کے تحت کرتا ہی رہوں گا ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراپا مبارک، آپ کے شمائل، آپ کے فضائل اور آپ کے اوصافِ حمیدہ کا بیان؛ خواہ نثر میں ہو یا نظم میں یہ سب نعت رسول کے زمرہ میں داخل ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد اور نعت خوانی ہمارے جذبات کو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جوڑتے ہیں۔ بندہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوتا اور پھر اسی تناظر میں اعمال کی طرف بھی راغب ہوتا ہے۔ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح سرائی، تعریف و توصیف اور صحبت نے صحابی کو ایسی فضیلت دی کہ چالیس چالیس سالوں تک روزے رکھنے والے اور نوافل پڑھنے والے اولیاء بھی کسی ادنیٰ صحابی کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔ صحابی بننے کیلئے علم، نوافل و عبادات اور فضائل کی کوئی شرط نہیں، بس ایک شرط ہے کہ حالت ایمان میں ایک لمحہ کی صحبتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میسر آجائے۔نعت خوانی کرنے اور سننے سے صحابیت کا فیض ملتا ہے اور یہ عمل گناہوں کی مغفرت کا باعث ہے‘‘۔

شیخ الاسلام کے اس خصوصی خطاب کے بعد محفل نعت کا آغاز ہوا۔ محترم صاحبزادہ تسلیم احمد صابری نے اپنے مخصوص انداز میں نقابت کے فرائض ادا کئے۔ محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے قصیدہ بردہ شریف اور ’’یانورالعین‘‘ کی صورت میں آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح سرائی کی سعادت حاصل کی۔ دھیمے اور مخصوص لہجے کے مالک محترم سید زبیب مسعود نے مختلف کلام پیش کیے جنہیں شہراعتکاف کے مکینوں نے بے حد پسند کیا۔ معروف نعت گو شاعر محترم احمد علی حاکم اور محترم سرور حسین نقشبندی کے کلام بھی حاضرین کے دلوں کو عشق مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکے نور سے منور کرتے رہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خوان محترم شہباز قمر فریدی کی نعت نے رنگ و نور کی محفل پر وجدانی کیفیت طاری کر دی۔ عشاقانِ مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے باوجود محفل میں جم کر بیٹھے رہے۔ یہ محفل نعت Q.TV اور دیگر TV چینلز کے ذریعے براہ راست نشر کی گئی۔

شیخ الاسلام کے خطاب اور محفل نعت کے دوران بارش کی ہلکی پھوار کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ یہ سلسلہ بارش شرکاء کے جذباتِ محبت کم نہ کرسکا بلکہ عشاق و محبین ان خوبصورت کلاموں پر دیوانہ وار جھومتے اور مکین گنبد خضراء کے تصورات میں کھوئے رہے۔ پروگرام کے اختتام پر شیخ الاسلام نے ARY، QTV کی انتظامیہ، حاجی صاحبان اور انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ

’’وہ عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم مشن کی خدمت کررہے ہیں اور اطاعت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروغ دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بے حساب اجر عطا فرمائے۔ محترم صاحبزادہ تسلیم احمد صابری ایک پورا قافلہ ثناء خوانان لے کر آئے اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت کی شمع جلائی، اللہ ان تمام کو جزائے خیر دے۔ بارش کی یہ رم جھم، رحمت کی یہ خوبصورت پھوار محفل کی قبولیت کی علامت ہے‘‘۔

شیخ الاسلام نے اس موقع پر منہاج القرآن یوتھ لیگ لاہور کے دیرینہ کارکن محترم شہزاد احمد قادری کو بالخصوص مبارکباد دی کہ جنہوں نے اس خوبصورت محفل کے اہتمام میں اہم کردار ادا کیا۔

  1. 25 رمضان المبارک 1436ھ /13 جولائی 2015ء (سوموار)

رات گئے بارش کا شروع ہونے والا سلسلہ سحری کے بعد دن کے مختلف اوقات میں بھی جاری و ساری رہا۔ معتکفین چند گھنٹے آرام کے بعد ایک مرتبہ پھر رضائے الہٰی کے حصول اور محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیرات کو سمیٹنے کے لئے کمر بستہ ہوچکے تھے۔ شہر اعتکاف میں کسی جگہ سے تلاوت قرآن پاک کی صدا آرہی ہے تو کوئی ذکر جلی و خفی میں کھویا ہے، کہیں مناجات کا سلسلہ جاری ہے اور کوئی علمی و فکری حلقات کے ذریعے اپنے ذہن کو سیراب کررہا ہے۔

آج پاکستان عوامی تحریک اور دیگر فورمز کے زیر انتظام خصوصی تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا جس میں سینئر قائدین نے بریفنگز دیں۔ علاوہ ازیں مختلف نظامتوں اور فورمز نے بھی اپنے معتکفین کے ساتھ علمی و فکری مجالس کے ساتھ ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

بعد از نماز تراویح فیصل آباد ڈویژن، ساہیوال ڈویژن، ملتان ڈویژن اور کراچی کے ان کارکنان و جانثاران انقلاب کو میڈلز پہنائے گئے جنہوں نے گذشتہ سال حکومتی و ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہوئے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور زخمی ہوئے۔ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی اور محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے کارکنان کو میڈلز پہنائے جبکہ شیخ الاسلام نے ان کارکنان سے مصافحہ فرماتے ہوئے ڈھیروں دعائوں سے نوازا۔

خصوصی گفتگو شیخ الاسلام

اس تقریب کے بعد شیخ الاسلام نے معمول کے خطاب سے قبل شرکاء اعتکاف سے مختلف حوالوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

’’امسال 40 فیصد احباب پہلی اس شہر مرتبہ اعتکاف میں تشریف لائے ہیں۔ ان کی اس مشن مصطفوی کے ساتھ وابستگی اللہ رب العزت کا ان پر خاص کرم ہے۔ اس لئے کہ تحریک منہاج القرآن کی رفاقت سے حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ارادت بھی میسر آتی ہے۔ میری درخواست پر حضور غوث الاعظم نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ ’’جو منہاج القرآن کا رفیق ہوگا وہ میرا مرید ہوگا‘‘۔ ان شاء اللہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضور غوث الاعظم کی نوکری و غلامی میں جہاں میں ہوں گا وہاں میرا ہر رفیق و کارکن میرے ساتھ ہوگا۔ بشرطیکہ جو رفیق ہوگا اور مرتے دم تک رفاقت رکھے گا اور احیائے اسلام، تجدید دین اور غریب و مظلوم عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے اس مصطفوی مشن کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے وہ حضور غوث الاعظم کی مریدی میں ہوگا۔

لہذا یہ امر ذہن نشین رہے کہ جس طرح پہلے بھی کوئی ڈر اور خوف ہمارے دامن گیر نہیں ہوا آئندہ بھی نہ ہو اور اس طرح ہمت، حوصلہ اور استقامت کے ساتھ حق کے راستے پر گامزن رہو۔ دعوت، دروس قرآن، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فروغ اور روحانی دعوت کا سلسلہ نہ پہلے کبھی رکا تھا، نہ رکا ہے اور نہ آئندہ کبھی رکے گا۔ تمام رفقائ، کارکنان، اس مصطفوی مشن کی دعوت کا فریضہ اسی طرح حسب روایت و معمول سرانجام دیں۔ مردوں کے ساتھ ساتھ پہلے کی طرح خواتین بھی اپنے کردار کو مزید ہمت و حوصلہ سے ادا کریں۔

یاد رکھیں کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک انقلاب بھی ایسا نہیں جس میں قوم نے حق ادا نہ کیا ہو اور ایک جماعت انقلاب لے آئے۔ ہم نے اپنی حالیہ انقلابی جدوجہد میں اپنا حق اد اکردیا، شہادتیں دیں، زخمی ہوئے، لٹ پٹ گئے، لہذا ہم سے کسی کا شکوہ نہیں بنتا۔ جس نے اس قدر استقامت دکھائی وہ شکست خوردہ نہیں بلکہ فتح یاب ہے۔ جو انہیں شکست خوردہ کہے وہ خود بے ایمان و بے حمیت ہے۔ شکست خوردہ ہم نہیں بلکہ یزیدی کردار والے بزدل ریاستی دہشت گرد و ظالم حکمران ہیں۔ ہم فتح یاب ہیں، تھے اور رہیں گے۔ اپنا حق ادا کردینا فتح کہلاتا ہے۔ اس جدوجہد کے دوران جو نہ نکلے، انہوں نے حق ادا نہ کیا لہذا وہ منافق و بزدل ہیں۔ یاد رکھیں کہ دھرنا انقلاب کی جدوجہد کا ایک باب تھا، اگر قوم باہر نکل آتی تو آخری مرحلہ آجاتا اور Story اس باب پر مکمل ہوجاتی۔ اب کتاب کے اور باب بھی ہیں۔ میرے دست و بازو میں وہی طاقت ہے جو پہلے تھی، حکمران سن لیں کہ میری بیماری میرے منزل کے آڑے نہیں آئے گی اور ان شاء اللہ اس دھرتی پر انقلاب کا سویرا طلوع ہوگا۔

انقلاب ایک جدوجہد ہے، Assesment کے مطابق حکمت عملیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ یہ سفر کا حصہ ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگیوں میں بھی اس طرح ہوتا رہا ہے۔ آخری مرحلہ نہیں آیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخری مرحلہ ختم ہوگیا۔ ہمارا آخری مرحلہ آنا باقی ہے اور ان شاء اللہ آئے گا۔ ہماری جدوجہد حق کی جدوجہد ہے، اس نے فتح یاب ہونا ہے لیکن اس انقلاب کے راستے کی شرائط بھی یاد رکھ لیں کہ ایمان، یقین اور استقامت سے ہی انقلاب آئے گا۔ یہ آفاقی، قرآنی اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاعدہ ہے۔ تمام رفقاء و کارکنان اور تحریک منہاج القرآن سے وابستہ ہر شخص اپنی روحانیت کو مزید طاقتور کرے، ایمان، یقین، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، توکل، استقامت، صدق اخلاص روحانیت ہماری طاقت کا سرچشمہ ہی سے ہماری طاقت کا سرچشمہ پھوٹتا ہے۔

آئندہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں۔ سیاسی و انتخابی جدوجہد کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ انقلاب کا انحصار کسی ایک چیز پر نہیں ہے بلکہ انقلاب و انتخابات ساتھ ساتھ چلیں گے۔ہمارے انتخابات میں حصہ لینے کے عمل میں بھی ہمارا اپنا منفرد کردار سامنے آئے۔ روحانیت، ایمان، یقین، استقامت، توکل، اخلاص، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، طہارت، تقویٰ کے حوالے سے کبھی بھی قدم متزلزل نہ ہوں۔ یہ تحریک رابطہ عوام اور استحکام ایمان کی بھی تحریک ہے‘‘۔

اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شرکاء اعتکاف کو آگاہ فرمایا کہ

’’محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی (مرکزی صدر PAT) اور محترم شیخ زاہد فیاض (ناظم اعلیٰ تنظیمات) نے اپنی نجی مصروفیات اور گھریلو مجبوریوں کی بناء پر مرکز پر آئندہ کچھ عرصہ کے لئے مزید خدمات سرانجام دینے سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے رخصت کی درخواست دی ہے۔ میں نے ان کی مجبوریوں کے پیش نظر ان کی اس درخواست کو قبول کرلیا ہے۔ جونہی ان کی گھریلو مجبوریاں اور نجی مصروفیات ختم ہوں گی یہ ایک مرتبہ پھر ہمیں کل وقتی خدمات کے لئے میسر ہوں گے۔ اس دوران وہ مشن اور تحریک کے امور میں اپنی ذاتی استطاعت کے مطابق سرگرم عمل رہیں گے۔ مجھے اپنے ان دونوں بیٹوں پر نہایت فخر ہے۔ 33 سال کی تاریخ میں ان جیسا صلاحیتوں و استقامت والا کارکن میں نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے 12 سال مرکز پر خدمات سرانجام دیں۔ میں پہلے بھی ان سے خوش تھا، اب بھی خوش ہوں اور آئندہ بھی مشن کے ساتھ Commitment کی وجہ سے یہ ان شاء اللہ میرے لئے خوشی و مسرت کا باعث ہوں گے‘‘۔

اس موقع پر محترم شاکر مزاری نے تمام شرکاء اعتکاف اور کارکنان تحریک کی نمائندگی کرتے ہوئے ان دونوں احباب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

خطاب شیخ الاسلام (موضوع: فتح حق کا مقدر ہے)

کارکنان تحریک کے ساتھ مختلف امور پر اس اظہار خیال کے بعد شیخ الاسلام نے سورۃ الاحزاب کی آیت 10 تا 18 تک کا درسِ قرآن دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

’’غزوہ خندق/ احزاب کا ذکر ان آیات میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سیرت مصطفی کا ذکر ہورہا ہے۔ قرآن مجید سے بہتر سیرت کی کوئی کتاب نہیں مگر اس کا انداز جدا ہے۔قرآن مجید، صحابہ کرام کو فتح کے راستے میں آنے والی مشکلات کا ذکر کررہا ہے کہ تمہاری آنکھیں پھر گئی تھیں، دل دہشت سے باہر نکل آئے تھے۔ ان حالات میں مومنوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں سخت جھٹکے دیئے گئے۔ اس وقت دو طبقے تھے۔ 1۔ منافق، 2۔ جن کے دلوں میں شک و شبہ کی بیماری تھی، عقیدہ کمزور تھا۔

قرآن نے والذین فی قلوبہم مرض کہہ کر دوسرے طبقہ کو منافقین سے علیحدہ کردیا ہے یعنی باتیں منافقوں والی کرتے تھے مگر ان کے دل میں شک و شبہ تھا۔ معلوم ہوا کہ ان لوگوں میں یقین کی کمی تھی، گویا تمام افراد ایمان و یقین کی ایک سطح پر نہیں ہوتے۔ گذشتہ دروس میں بیان کردہ سورۃ آل عمران کی آیات اور مذکورہ سورۃ الاحزاب کی آیت ایمان، عقیدہ اور نظریہ کو مضبوط کرنے کا ایک مکمل پیکج ہیں۔ یہ آیات ایک مومن کو حوصلہ دیتیں، اس میں سے شک و شبہ کو ختم کرتیں اور اسے استقامت پر گامزن کرتی ہیں۔اسی طرح اگر ہم ’’سورۃ محمد‘‘ کی آیات 31 اور 35 کا مطالعہ کریں تو وہاں بھی یہی ایمان، یقین اور استقامت کا مضمون موجود ہے۔ جس میں واضح فرمادیا کہ ہمت اور حوصلہ نہ ہارنا، ڈٹے رہنا انتم الاعلون کی نوید تمہارے لئے ہی ہے۔ اسی طرح ’’سورۃ الفتح‘‘ کا پس منظر صلح حدیبیہ اور پیش منظر فتح مکہ، اس کی آیات بھی اسی بات کا اظہار ہیں کہ اہل حق کے لئے آزمائشوں اور امتحانات کا زمانہ آتا ہے مگر بالآخر فتح انہی کا مقدر بنتی ہے۔

مشکلات و آزمائشوں کے باوجود انبیاء کرام، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی سنت کے مطابق ہم حسینیوں کی جنگ یزیدیوں کے خلاف جاری رہے گی۔ کبھی مراحل کو آخری مرحلہ نہ سمجھیں۔ Ups & Down جدوجہد کا حصہ ہیں۔ انقلاب شرمندہ تعبیر ہوگا، دنیا کی کوئی طاقت آپ سے آپ کی منزل نہیں چھین سکتی۔ ایمان، توکل، یقین، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری طاقت ہے، اللہ پر یقین کو کامل رکھیں، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دھوم مچادیں، بالآخر فتح تمہارا ہی مقدر ہوگی‘‘۔

  1. 26 رمضان المبارک 1436ھ/14 جولائی 2015ء (منگل)

شہر اعتکاف کو آباد ہوئے آج چھٹا دن ہے۔ معتکفین نے ساری رات شیخ الاسلام کا خطاب سماعت کیا۔ سحری کے بعد 4 گھنٹے آرام کے بعد تمام معتکفین نے انفرادی معمولات ادا کئے۔ حلقہ جات میں ذکر و فکر کی مجالس منعقد ہوئیں۔ منہاج القرآن یوتھ لیگ سے منسلک سینکڑوں نوجوان بھی اس شہر اعتکاف میں شریک تھے۔ آج بعد نماز عصر محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ان نوجوانوں سے خصوصی ملاقات کی اور اظہار خیال فرمایا۔بعد ازاں شہر اعتکاف میں شریک طلبہ کے لئے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ نے آج افطار ڈنر کا اہتمام کررکھا تھا۔ اس تقریب میں محترم ڈاکٹر حسین محی الدین نے خصوصی شرکت کی اور طلبہ سے اظہار خیال فرمایا۔

عالمی روحانی اجتماع۔ لیلۃ القدر

تحریک منہاج القرآن کے شہر اعتکاف میں 27 رمضان المبارک کی شب عالمی روحانی اجتماع (لیلۃ القدر) منعقد ہوا۔ جس کے مہمان خصوصی جگر گوشہ قدوۃ الاولیاء حضرت پیر السید محمود محی الدین القادری الگیلانی مدظلہ تھے۔ سٹیج پر محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی، محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی، محترم مسکین فیض الرحمن درانی، محترم خرم نواز گنڈا پور، محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، محترم شیخ زاہد فیاض، محترم سید الطاف حسین گیلانی، محترم پیر مخدوم ندیم ہاشمی اور متعدد علماء و مشائخ بھی تشریف فرما تھے۔

روحانی اجتماع میں شہر اعتکاف کے ہزاروں معتکفین و معتکفات کے علاوہ لاکھوں عشاقان مصطفیٰ مرد و خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کی تمام کارروائی www.Minhaj.tv اور دیگر نجی ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست نشر کی گئی۔ عالمی روحانی اجتماع میں دنیا بھر کے علاوہ انڈیا کے 200 سے زائد مقامات پر لوگوں نے اجتماعات کی صورت میں www.Minhaj.tv کے ذریعے شرکت کی۔

عالمی روحانی اجتماع کا آغاز محترم قاری نور احمد چشتی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ محترم محمد افضل نوشاہی، منہاج نعت کونسل، محترم امجد بلالی برادران، محترم خرم شہزاد، حیدری برادران اور دیگر ثنا خوانان مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نعت رسول مقبول کی سعادت حاصل کی۔ نقابت کے فرائض محترم علامہ محمد اعجاز ملک نے انجام دیئے۔

شیخ الاسلام کی نئی تصانیف

اس موقع پر محترم علامہ ارشاد حسین سعیدی نے اعتکاف کے موقع پر شیخ الاسلام کی نئی آنے والی درج ذیل کتب کا تفصیلی تعارف پیش کیا:

  1. معارج السنن (المجلد الخامس)(920 صفحات)
  2. الجہاد الاکبر(148 صفحات)
  3. اِسلام میں محبت اور عدمِ تشدّد(288 صفحات)
  4. توبہ و اِستغفار(568 صفحات)
  5. اَلاَحْکَامُ الشَّرْعِیَّۃ فِي کَوْنِ الْاِسْلَامِ دِیْنًا لِخِدْمَۃِ الْاِنْسَانِیَّۃ (اِسلام اور خدمتِ اِنسانیت)(552 صفحات)
  6. السعادۃ فِي الْمَحَبَّۃِ وَالْعِبَادَۃ {محبت و عبادتِ اِلٰہی}(184 صفحات)
  7. حُقُوْقُ الْعِبَاد عَلٰی خَالِقِ الْعِبَاد {اﷲ تعالیٰ پر بندوں کے حقوق}(136 صفحات)
  8. اَلْکَرَامَۃ فِي حُسْنِ النِّیَّۃِ وَالْاِسْتِقَامَۃ {حسنِ نیت اور اِستقامت}(136 صفحات)
  9. خَیْرُ الْعَوْدَۃ فِي الْخَشْیَۃِ وَالتَّوْبَۃ {خشیتِ اِلٰہی اور توبہ و اِستغفار}(136 صفحات)
  10. اَلتَّبَتُّل مَعَ التَّقْوٰی وَالطَّاعَۃِ وَالتَّوَکُّل {تقویٰ و طاعتِ اِلٰہی اور توکل}(144 صفحات)
  11. فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب: ریاستی سکیورٹی اِداروں کے افسروں اور جوانوں کے لیے
  12. فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب: اَئمہ، خطباء اور علماء کرام کے لیے(248 صفحات)
  13. فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب: اَساتذہ، وکلاء اور دیگر دانشور طبقات کے لیے(280 صفحات)
  14. فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب: طلبہ و طالبات کے لیے(260 صفحات)
  15. فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب: سول سوسائٹی کے جملہ طبقات کے لیے(288 صفحات)
  16. المنہج الاسلامی لتعزیز السلام ومکافحۃ الارہاب: للائمۃ والعلماء والاساتذۃ الکرام(394 صفحات)
  17. المنہج الاسلامی لتعزیز السلام ومکافحۃ الارہاب: للشباب والطلبۃ(304 صفحات)
  18. سلسلہ تعلیماتِ اِسلام 9: نکاح اور طلاق(472 صفحات)
  19. Muhammad a: The Peacemaker(450 Pages)
  20. Relations of Muslims and non-Muslims(252 Pages)
  21. Islam on Serving Humanity(456 Pages)
  22. Islam on Love & non-Violence(228 Pages)
  23. The Supreme Jihad(132 Pages)
  24. Islamic Spirituality & Modern Science (The Scientific Bases of Sufism)(144 Pages)
  25. Peace, Integration and Human Rights(140 Pages)
  26. Islamic Curriculum on Peace & Counter-Terrorism: For Clerics, Imams and Teachers(256 Pages)
  27. Islamic Curriculum on Peace & Counter-Terrorism: For Young People and Students(222 Pages)
  28. Islamic Curriculum on Peace & Counter-Terrorism: Further Essential Readings(452 Pages)
  29. FATWA contro il TERRORISMO e ATTENTATI SUICIDI—Italian Translation of Fatwa Summary booklet(52 Pages)

اس موقع پر محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے شہداء انقلاب اور ہمت، جرات اور حوصلہ سے ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کا سامنا کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں اور زخمی ہونے والے کارکنان کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کو دھرایا کہ ہم دھرتی کے مظلوم و مقہور عوام کے آئینی و بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے اپنی کاوشیں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اس دھرتی پر مصطفوی انقلاب کا سویرا طلوع نہیں ہوجاتا۔ ہم نے ان شہداء اور قربانیاں دینے والے کارکنان کو نہ پہلے فراموش کیا اور نہ آئندہ کریں گے۔ ان شہداء کے قاتلوں کی پھانسی تک نہ چین سے بیٹھیں گے اور نہ ان کے خون سے غداری کریں گے۔

بعد ازاں درج ذیل شہداء انقلاب (سانحہ ماڈل ٹائون، یوم شہداء 10 اگست، شہداء انقلاب مارچ اسلام آباد) کے لواحقین اور ورثاء کو جگر گوشہ قدوۃ الاولیاء حضرت پیر السید محمود محی الدین القادری الگیلانی مدظلہ کے دست اقدس سے ’’نشان سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ (مردوں کیلئے) اور ’’نشان سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا (خواتین کیلئے) سے نوازا گیا:

  1. تنزیلہ امجد (لاہور)
  2. شازیہ مرتضیٰ (لاہور)
  3. شکیلہ بی بی (گوجرانوالہ)
  4. محمد عمر صدیق (لاہور)
  5. محمد اقبال (لاہور)
  6. عاصم حسین (لاہور)
  7. غلام رسول (لاہور)
  8. حکیم صفدر حسین (شیخوپورہ)
  9. محمد شہباز (مریدکے)
  10. محمد رضوان (چکوال)
  11. خاور نوید (کوٹ مومن)
  12. محمد آصف (کوٹ مومن)
  13. رفیع اللہ نیازی (فیصل آباد)
  14. ڈاکٹر محمد الیاس (خانپور)
  15. عبدالمجید (بھکر)
  16. سیف اللہ چٹھہ (گوجرانوالہ)
  17. محمد یونس (دیپالپور)
  18. ظہور احمد (سوہاوہ)
  19. رفیع اللہ (بھکر)
  20. گلفام (پسرور)
  21. محمد عزیز (مٹھی)
  22. نوید رزاق (راولپنڈی)
  23. حمیرا امانت (گوجرانوالہ)

عالمی روحانی اجتماع کے دوسرے سیشن کے آغاز میں محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے نعت رسول مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہداء انقلاب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا:

’’یہ شہداء انقلاب کی بنیاد رکھنے والے ہیں، ان کے خون کو قاتلوں کے قارونی خزانے بھی نہیں خرید سکتے۔ وارثانِ شہدائے انقلاب کی غربت اور غیرت کو سلام، انہوں نے قاتل حکمرانوں کی کروڑوں کی آفریں ٹھکرا کر میرا سر فخر سے بلند کردیا۔ یہ تحریک ایسی نہیں جس سے شہداء کے خون کی ڈیل ہوسکے، ڈیل کی تہمتیں لگانے والوں اور قاتلوں کے خزانوں پر بھی لعنت ہو۔ قاتل حکمران آج کے یزید اور قارون ہیں۔ ہم وہ غیرت مند ہیں جو خدا کے نام پر بک چکے ہیں، دنیا کا کوئی قارون ہمیں خرید نہیں سکتا۔ ان شاء اللہ وہ وقت آئے گا جب مردانِ حق کی ٹھوکر سے قاتل اڑ جائیں گے اور ان کا غبار بھی کہیں نظر نہیں آئے گا۔ قاتل حکمران اس وقت سے ڈریں جب ہر غریب اور مظلوم شخص کے خون کا حساب دینا ہوگا۔

تاریخ عالم کا سب سے بڑا پیغامِ انقلاب قرآن پاک کی صورت میں نازل ہوا جس کا ہر حرف قیامت تک کیلئے ذریعہ نجات اور چشمہ ہدایت و رہنمائی ہے۔ پاکستان کی عظیم اسلامی سلطنت بھی آج کی مقدس رات کا تحفہ ہے۔ آئیے سب ملکر آج اپنے اس عہد کو دہرائیں کہ پاکستان کو دہشتگردی، مذہبی و سیاسی انتہاپسندی سے پاک کر تے ہوئے مدینہ کی فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھالیں گے اور اسے دہشتگردوں، انتہا پسندوں، اسلام اور اللہ کے دشمنوں سے پاک کر کے آئندہ نسلوں کیلئے علم اور امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ ایسا پاکستان جس میں ہر شہری کو بلارنگ و نسل معاشی، سماجی تحفظ حاصل ہو اور پوری دنیا اس ماڈل اسلامی ریاست پر رشک کرے‘‘۔

خصوصی خطاب شیخ الاسلام (محبتِ الہٰی اور اس کا اجر)

شہداء انقلاب اور کارکنان تحریک کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد آپ نے علمی و روحانی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’جنتی جنت میں گم ہوں گے کہ اچانک ان کے اوپر ایک نور چھا جائے گا۔ وہ حیران ہوکر اوپر دیکھیں گے، ان پر اللہ کا حسن جلوہ فرما ہوگا۔ آواز آئے گی السلام علیکم یااہل الجنۃ۔ اے اہل جنت تم پر سلامتی ہو۔ یہ بیان کرکے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ یسٰںمیں مذکورسَلٰمٌ قولا من رب الرحیم سے یہی مراد ہے۔

اللہ تعالیٰ جنت میں جنتیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا:

یا اهل الجنة هل رضیتم؟

’’اے اہل جنت کیا تم راضی/ خوش ہو؟‘‘

یہاں تو ہم عمر بھر عرض کرتے رہتے ہیں کہ کیا اللہ ہم سے راضی ہے؟ منزل پر پہنچ کر اللہ فرمائے گا کیا تم مجھ سے راضی ہو؟ جنتی کہیں گے مولیٰ ہم تجھ سے راضی کیوں نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ دے دیا ہے جو مخلوق میں کسی اور کونہیں دیا۔ اللہ فرمائے گا کیا تمہیں اس سے مزید بہتر عطا نہ کروں۔ بندے عرض کریں گے: مولیٰ! کیا اس سے بڑھ کر بھی ہے؟ اللہ فرمائے گا کہ میں تم سے ایسا راضی ہوا ہوںکہ کبھی تم سے ناراض نہ ہوگا اور پھر فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اور ان جنتیوں کے درمیان سے حجاب ہٹادو۔ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ ان کے لئے اصل انعام و اجر دیدار الہٰی ہے۔

اللہ پاک ان بندوں کو اپنی شان کے لائق تکنے لگ جائے گا اور بندے اس کو تکنے لگیں گے۔ جنت کی نعمتیں اس موقع پر جنتی بھول جائیں گے اور اس کے حسن کو تکنے میں گم ہوجائیں گے۔ حجاب دوبارہ آجائے گا اور یہ اللہ کا نور لے کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔

حضرت سعید بن مسیب سے روایت کہ میری ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی، ملاقات کے بعد اٹھنے لگے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: اچھا سعید! اب جنت کے بازار میں ملاقات ہوگی۔ میں نے پوچھا: حضرت کیا جنت میں بھی بازار ہوں گے؟ فرمایا: ہاں جب جنتیوں کو ان کے اعمال کے مطابق منازل مل جائیں گی پھر اُن میں سے کئی کو ہر جمعہ کو دیدار الہٰی کرایا جائے گا، کئی کو ہر روز کروایا جائے گا اور کئی لوگوں کو دن میں دو مرتبہ دیدار الہٰی عطا کیا جائے گا اور جنت میں ہر روز اللہ تعالیٰ اہل جنت سے کلام کرے گا ۔ یہاں تک اللہ ہر ایک بندہ کا نام لے کر اس کا حال پوچھے گا۔ دیدار الہی اور اپنے کلام سے مشرف فرمانے کے بعد اللہ فرمائے گا کہ اب جنت کے بازار میں جاؤ اور جو چاہو وہاں سے لے لو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سعید سے کہا کہ اس کے بعد ہم جنت کے بازاروں میں جائیں گے اور جو چاہیں گے وہاں سے لے لیں گے۔

لوگو! تقویٰ، پرہیزگاری، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، اطاعت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، اولیاء و صلحاء کی سنگت سے استقامت سے قائم ہوجائو، طہارت اختیار کرو، اولیاء کے رنگ اپنالو تاکہ جنت کے تمام دروازے تمہارے لئے کھول دیئے جائیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل تھا جس کے سبب آپ خلیل ہوگئے؟ فرمایا: میں اس کی محبت میں ہر طرف سے کٹ گیا، پس اس سے محبت نے مجھے خلیل بنادیا۔

حضرت شعیب علیہ السلام کی بینائی اللہ کی محبت میں تین دفعہ گئی اور تین دفعہ واپس آئی۔ اللہ رب العزت نے پوچھا کہ کیا تو جنت کے لئے روتا ہے؟ تو وہ تو تیرے لئے واجب ہوگئی۔ کیا دوزخ کے ڈر سے روتا ہے؟ وہ تو تجھ سے دورکردی گئی ہے۔ عرض کیا کہ مجھے تیرے دیدار کا شوق رلاتا ہے کہ وہ دن کب آئے گا جب تیرے دیدار اور رؤیت کو حاصل کروں گا۔عاشق نہ دنیا کا طلبگار ہوتا ہے نہ جنت کا بلکہ اللہ کے دیدار کا طالب ہوتا ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کیا مولیٰ! تیرے بندوں میں تیری محبت کیسے ڈالوں؟ فرمایا میرے بندوں کو میری محبت کی باتیں سنایا کر، میرے دیدار کی لذت سنایا کر،جوں جوں وہ سنیں گے میرے عاشق ہوجائیں گے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جسے اللہ کی محبت کا خالص حصہ مل گیا وہ دنیا سے بیگانہ ہوگیا۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی

حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جنت میں رہتے ہوئے ایک لمحہ کے لئے بھی اگر دیدار الہٰی ان سے چھپ جائے تو وہ جنت سے اس طرح پناہ مانگیں گے جس طرح دوزخ سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ وہ کہیں گے ہم تو یہاں آئے ہی تیرے دیدار کے لئے ہیں۔ ہم تو مولیٰ سے مولیٰ کے دیدار کے طالب ہیں۔

حضرت بایزید بسطامی کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ تم مجھ سے مانگتے ہو جب کہ بایزید مجھ سے نہیں بلکہ مجھے مانگتا ہے، لہذا ایسے لوگوںسے میرا معاملہ الگ ہوتا ہے۔

لوگو! عشق الہٰی و عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری اصل قوت ہے۔ اس سے جدا نہ ہونا۔ اس کے علاوہ کوئی صلہ نہیں، اس جیسا کوئی پھل نہیں۔ پوری عمر دیدار حق کی تمنا میں کاٹو اور ایمان و یقین کی قوت سے جتنی اذیتوں پر صبر کرو گے باری تعالیٰ اتنا تمہیں نوازے گا، دنیا میں بھی کامیابی تمہارا مقدر ہوگی اور آخرت میں بھی دیدار الہٰی نصیب ہوگا‘‘۔

عالمی روحانی اجتماع کے اختتام پر حضرت پیر السید محمود محی الدین القادری الگیلانی مدظلہ اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی دعائیں فرمائیں۔

  1. 27 رمضان المبارک 1436ھ/15 جولائی 2015ء (بدھ)

رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی جوں جوں اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا، معتکفین کے قلوب و ارواح میں پہلے سے بھی بڑھ کر اعمال صالحہ کی ادائیگی میں عقیدت، وارفتگی، محبت کے جذبات پیدا ہورہے تھے۔ حلقہ جات میں ناظمین دعوت و تربیت اور دیگر سکالرز معتکفین کی علمی و فکری اصلاح میں مصروف عمل تھے۔ ہر نظامت اور فورم معتکفین کی خدمت کے لئے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کررہا تھا۔

آج بعد نماز عشاء اور قبل از نماز تراویح دو رکعت نماز نفل کی امامت شیخ الاسلام کے چھوٹے پوتے محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے کی۔ شرکاء اعتکاف نے اتنی چھوٹی سی عمر میں تجوید و قرات کے اصولوں کے مطابق خوبصورت لحن میں تلاوت کرنے پر محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی کو ڈھیروں دعائوں سے نوازتے ہوئے نہایت مسرت کا اظہار کیا۔

نماز تراویح کی آخری چار رکعت کی امامت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فرمائی۔ نماز تراویح کی ادائیگی کے بعد شیخ الاسلام نے معمول کے خطاب سے قبل بچوں کی روحانی و دینی تربیت کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ

’’جس طرح آج میرے پوتے صاحبزادہ احمد مصطفی العربی نے نفل نماز کی امامت کی ہے، یہ امر بچوں کی اخلاقی، روحانی اور دینی تربیت میں انتہائی موثر ہوتا ہے۔ اس سے بچوں میں رغبت و شوق پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے گھر میں یہ معمول ہے کہ ہم نفل نمازوں کی امامت صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی اور صاحبزادہ احمد مصطفی العربی سے کرواتے ہیں حتی کہ ہمارے گھر میں قائم حلقہ درود کے وظائف بھی اجتماعی طور پر ہمیں یہ دونوں پڑھاتے ہیں۔ بعد ازاں ہم ان کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں مختلف انعامات اور تحائف دیتے ہیں۔ اس معمول کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ میں سے بھی ہر شخص اپنے گھر کے اندر اسی طرح کا ماحول اور معمول شروع کرے تاکہ ہماری نسلیں بھی دین اور روحانیت کے ساتھ اپنا تعلق اپنے بچپن ہی سے پیدا کرلیں۔

اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت مریم علیہا السلام کے بچپن کے دنوں میں ان میں عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کے لئے خصوصی اہتمام فرمایا۔ حضرت زکریا علیہ السلام کے حجرے کے اندر انہیں بے موسمی پھل کا عطا ہوجانا ان کی تربیت اور عبادت میں ان کے ذوق و شوق کو پروان چڑھانے کے لئے بھی تھا وگرنہ موسمی پھل بھی بھیجے جاسکتے تھے، حضرت زکریا علیہ السلام بھی پھل لاسکتے تھے مگر ایسا نہ کیا بلکہ جب وہ حجرہ زکریا میں مصروفِ عبادت ہوتیں تو اچانک ان کو بے موسمی پھل میسر آجاتے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ آپ بھی اپنے بچوں کے اندر عبادت کا ذوق اور عادت پیدا کرنے کے لئے ان کے لئے ان کی پسندیدہ چیزوں کے تحائف اور انعامات کا اہتمام کیا کریں اور انہیں بچپن ہی سے دین اسلام کی خوبصورت تعلیمات کی طرف ذوق و شوق دلائیں تاکہ ہماری نسلوں کاایمان محفوظ رہ سکے‘‘۔

بچوں کی تربیت کے حوالے سے اس خوبصورت گفتگو کے بعد شیخ الاسلام خواتین کی اعتکاف گاہ میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے خواتین کے حقوق و فرائض اور معاشرے کی اصلاح میں ان کے کردار پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر آپ نے گذشتہ سال تحریک کی انقلابی جدوجہد میں قربانیاں اور خدمات پیش کرنے والی خواتین میں میڈلز اور اسناد بھی تقسیم فرمائیں۔

شیخ الاسلام کے خواتین اعتکاف گاہ میں روانگی کے بعد مرکزی اعتکاف گاہ میں شرکاء کو عالمی سطح پر تحریک منہاج القرآن کی احیائے اسلام، تجدید دین کے لئے کی جانے والی کاوشوں کے تناظر میں جون 2015ء میں فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے لئے شیخ الاسلام کے مرتب کردی امن نصاب کی افتتاحی تقریب کی ڈاکو منٹری دکھائی گئی۔ یاد رہے کہ یہ امن نصاب انسانیت اور ہماری آنے والی آئندہ نسلوں کو دہشت گردانہ و انتہاء پسندانہ افکار و خیالات سے محفوظ کرنے کا ایک تاریخی اقدام ہے۔ شرکاء اعتکاف نے شیخ الاسلام کی اس کاوش پر انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

ڈاکومنٹری کے بعد محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے اس تقریب اور امن نصاب کے حوالے سے شرکاء اعتکاف کو مزید تفصیلات اور افتتاحی تقریب کے مہمانان گرامی کے تحریک و شیخ الاسلام کے اس تاریخی اقدام پر تحسینی کلمات سے آگاہ کیا۔

آج انقلابی جدوجہد کے دوران اسیر اور زخمی ہونے والے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے میڈلز پہنائے۔ بعد ازاں خوبصورت محفل نعت منعقد ہوئی جس کی صدارت محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کی۔ محترم امجد بلالی، منہاج نعت کونسل، محترم خرم شہزاد اور محترم ارشاد اعظم چشتی نے خوبصورت انداز میں آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔

آج کی اس علمی و روحانی مجلس میں محترم علامہ مفتی عبدالقوی (ملتان) نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے شیخ الاسلام کی احیائے اسلام، تجدید دین کے لئے کی جانے والی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام کی عالمی سطح پر کی جانے والی ہمہ جہتی خدمات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ آپ ہی اس رواں صدی کے مجدد ہیں اور احادیث مبارکہ میں بیان کردہ اوصاف مجدد آپ کی شخصیت میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے دست و بازو بننے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔ آپ کا شمار بلاشبہ ان لوگوں میں ہے جن کی حکومت دلوں پر قائم ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو آپ کے لئے مسخر فرمادیا ہے۔

خطاب شیخ الاسلام (موضوع: ایمان و یقین کی حقیقت)

اعتکاف کی اس آٹھویں رات شیخ الاسلام نے سورہ الحجرات کی آیت 60 سے درس قرآن دیتے ہوئے فرمایا:

’’ایمان ایک ایسی عظیم حقیقت ہے کہ اللہ نے اسے محبوب بنایا اور اسے محبوب و مزین دیکھنا چاہتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’ایمان ایک درخت کا نام ہے، اس کی اصل یقین ہے اور اس کی شاخ تقویٰ ہے‘‘۔

محبت الہٰی و محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پانی اس درخت کو ملتا ہے تب جاکر یقین کا تنا مضبوط ہوتا ہے۔ اب اس تقویٰ کی شاخ پر اعمال صالحہ سے ایمان کا درخت ہرا بھرا ہوتا ہے، اگر اعمال صالحہ نہ ہوں تو ایمان تو ہوگا مگر بے ثمر ہوگا، ہریالی نہ ہوگی۔ دل کی زمین میں ایمان کا درخت اگائو۔ ہریالی کے بعد اس ایمان کے درخت پر معرفت کا پھل لگتا ہے۔ ایمان کے درخت کی جڑ یقین کو مضبوط کرنے کے لئے ہمہ وقت رب کائنات کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہوگا۔ حسن تسلیم یہ ہے کہ بندہ پھر درجات و ثواب نہیں دیکھتا۔ وہ مال کو نہیں دیکھتا بلکہ مآل (آخرت) کو دیکھتا ہے۔

منہاج القرآن سال میں دو بازار لگاتا ہے۔ ایک بازار شہر اعتکاف کی شکل میں 10 دن عشق الہٰی کا لگتا ہے اور دوسرا ربیع الاول میں 12 دن عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بازار لگتا ہے۔ اسی عشق و محبت کے پانی سے یقین کی جڑ مضبوط ہوگی۔ اعلان نبوت سے قبل آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار حرا میں راتیں بسر کرنا شروع کردیں تو اہل مکہ نے کہنا شروع کردیا ان محمدا قد عشق ربہ اس سے پہلے کوئی یہ نہ کہتا تھا۔ بقیہ اوصاف کا ذکر کرتے مگر عشق کا ذکر غار حرا میں جانے کے بعد کیا۔ عشق حسن تسلیم سکھاتا ہے اور حسنِ تسلیم میں بندہ اجر کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کی رضا کو دیکھتا ہے۔ عشق ہی ہے جو انسان کو جان کی بازی لگانے کی طرف راغب کرتا ہے۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو لب تماشائے بام ابھی

امام محمد باقر نے فرمایا: 3 خوبیاں پیدا کئے بغیر ایمان کی حقیقت نہیں ملتی:

  1. موت، زندگی سے زیادہ محبوب ہوجائے۔
  2. بھوک، فقر اور افلاس کو غناء و خوشحالی سے زیادہ عزیز ہو جائے
  3. بیماری، صحت پر محبوب ہوجائے

موت و حیات کا تصور صوفیاء کے ہاں الگ الگ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں موت و حیات کا ذکر اکٹھا آیا وہاں موت کو پہلے ذکر کیا۔ حالانکہ انسان نے عمل زندگی میں کرنا ہے مگر موت کو پہلے ذکر کیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ موت وصال کا نام ہے اور زندگی فراق کا نام ہے۔ جب مومن کی روح نکلے گی تو اسے سب سے پہلے فرشتوں کے جھرمٹ میں اللہ کی بارگاہ میں لے جایا جاتا ہے۔ اس حاضری کے بعد قبر میں جسد میں لوٹایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ماکنت تقول فی حق ہذا الرجل کی صورت میں آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کروایا جائے گا۔ موت سے بندہ فنا نہیں ہوتا جس طرح پیدائش سے انسان شروع نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ پیدائش انسان کی ابتداء نہیں ہے۔ فرمایا: ہل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شئیا مذکورا۔ انسان موجود تو تھا مگر شے مذکور نہ تھا۔ اسی طرح موت سے انسان کی انتہاء نہیں ہوجاتی۔ پیدائش بھی ایک جہاں سے دوسرے جہاں میں آنے کا ایک دروازہ ہے۔ موت بھی اس جہاں سے دوسرے جہاں میں جانے کا ایک دروازہ ہے۔

پھر فرمایا: ایمان کی حقیقت اسے ملتی ہے جو بھوک، فقر اور افلاس کو غناء و خوشحالی سے زیادہ عزیز جانے۔

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الفقر فخری۔ غناء سے فقر اس لئے عزیز کہ اگر غناء ہے تو مال موجود ہوگا۔ اگر مال حرام کا ہے تو عذاب کا باعث اور اگر حلال کا ہے تو حساب دینا ہوگا جبکہ فقر میں عذاب و حساب کا ڈر نہیں۔

تیسری چیز جس سے ایمان کی حقیقت نصیب ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بیماری کو صحت پر محبوب جانے۔

اس لئے کہ جب بندہ بیمار ہو تو ’’وہ‘‘ حال پوچھتا ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بیمار ہوئے، جب صحت آئی تو غمزدہ ہوگئے کہ بیماری میں ’’وہ‘‘ پوچھتا تھا کہ ایوب کیا حال ہے؟ اسی آواز کی مٹھاس اور اپنائیت کے سبب تکلیف کا احساس نہ ہوتا تھا۔ اگر ہم بھی اپنے ایمان و یقین کو اس حقیقت سے روشناس کروائیں تو ہمارا مقدر بھی بدل سکتا ہے۔

  1. 28 رمضان المبارک 1436ھ/ 16 جولائی 2015ء (جمعرات)

منہاج القرآن کے آفاقی اور عالمگیر پیغام کی مقبولیت اور عوام الناس میں ہر آئے روز اس کی پذیرائی کا اندازہ اس شہر اعتکاف کے شرکاء سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ امسال 40 فیصد وہ احباب تھے جو پہلی مرتبہ شہر اعتکاف میں شریک ہوئے اور ان میں اکثریت نے یہاں کے علمی، فکری اور روحانی ماحول کی وجہ سے شیخ الاسلام کی قیادت اور ان کی تعلیمات پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے تحریک کی ممبر شپ اختیار کی۔ آج ان نئے رفقاء کے ساتھ محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خصوصی نشست کی اور مصطفوی مشن کا عظیم پیغام ان تک پہنچایا۔

آج بعد از نماز تراویح تحریک میں نمایاں خدمات اور قربانیاں دینے والے احباب کی حوصلہ افزائی کیلئے درج ذیل تقریب منعقد ہوئی:

  • ڈیرہ اسماعیل خان، سرگودھا شرقی، طلبہ کالج آف شریعہ اور مرکزی قائدین میں سے انقلابی جدوجہد کے دوران قید اور زخمی ہونے والے افراد کو محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی اور محترم صاحبزادہ احمد مصطفی نے میڈلز پہنائے اور اسناد تقسیم کیں۔
  • مفتی اعظم تحریک محترم حضرت علامہ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مدظلہ کو شہر اعتکاف میں گذشتہ 20 سال سے علمی و فکری خدمات سرانجام دینے پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا۔
  • علاوہ ازیں آج کی تقریب میں جامع المنہاج بغداد ٹائون اور جامع مسجد منہاج القرآن ماڈل ٹائون میں نماز تراویح، پنجگانہ نماز، جمعہ کے خطابات، اذان اور مسجد کی خدمت کرنے والے علمائ، خطبائ، حفاظ و قراء کی خدمت میں تحائف پیش کئے گئے۔
  • اس موقع پر اعتکاف کے دوران گوشہ درود میں گوشہ نشین ہونے والے احباب کو بھی اسناد دی گئیں۔ گوشہ درود اور حلقات درود میں ماہ رمضان میں 1 ارب 1 کروڑ 15 لاکھ 32ہزار مرتبہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکی بارگاہ میں درود و سلام پیش کیا۔ اب تک 1کھرب 4 ارب 33 کروڑ 32 لاکھ 55 ہزار مرتبہ درود و سلام آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا جاچکا ہے۔
  • محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے اعتکاف کی 52 سے زائد انتظامی کمیٹیوں کے ناموں کا اعلان کیا۔ شیخ الاسلام نے سربراہ اعتکاف محترم شیخ زاہد فیاض، نگران اعتکاف محترم خرم نواز گنڈا پور اور سیکرٹری اعتکاف محترم جواد حامد اور اعتکاف کی کمیٹیوں کے جملہ ممبران کو اعلیٰ انتظامات پر مبارکباد دی اور خصوصی دعائوں سے نوازا۔
  • آج کی تقریب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی کی تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے لئے مرکز پر گذشتہ 12 سال سے اعلیٰ خدمات کی بناء پر انہیں آئندہ کے لئے پاکستان عوامی تحریک کے معاملات میں ایڈوائزر ٹو چیئرمین PAT مقرر کیا اور ان کے لئے تحریک کے سب سے بڑے ایوارڈ ’’نشان منہاج‘‘ کا اعلان فرمایا۔ اسی طرح محترم شیخ زاہد فیاض کی مرکز پر 12 سال سے تحریک کے لئے شاندار خدمات پر شیخ الاسلام نے انہیں تحریک منہاج القرآن کے معاملات بارے اپنا ایڈوائزر مقرر فرمایا۔ ان دونوں مرکزی قائدین کی خدمات پر شیخ الاسلام اور شرکاء نے انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
  • شیخ الاسلام نے اعتکاف کی اس آخری رات میں تمام شرکاء اعتکاف اور کارکنان تحریک کو مبارکباد دی کہ جن کی قربانیوں اور خدمات کی بدولت تحریک اپنے مصطفوی مشن کے حصول کے لئے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے منہاج القرآن انٹرنیشنل آسٹریلیا کے احباب کو بھی اس موقع پر مبارکباد دی جنہوں نے حال ہی میں میلبورن میں 35 ایکڑ زمین خریدی ہے جہاں عظیم الشان اسلامک سنٹر قائم کیا جائے گا۔
  • شیخ الاسلام نے شرکاء اعتکاف اور منہاج TV کے ذریعے اس شہر اعتکاف میں شریک تمام کارکنان اور تنظیمات کو منہاج القرآن کے زیر اہتمام مرکزی تعلیمی ادارہ جات، منہاج یونیورسٹی، شریعہ کالج اور منہاج گرلز کالج میں اپنے بچوں اور اپنے متعلقین کے بچوں کے داخلے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ادارہ جات آپ کا اثاثہ ہیں اور نہایت معیاری تعلیمی و تربیتی درسگاہیں ہیں۔ یہاں تعلیم حاصل کرنا ان شاء اللہ آپ کے بچوں کے لئے دنیاوی و اخروی حوالے سے فائدے کا باعث ہوگا۔
  • اس موقع پر شیخ الاسلام نے منہاج ایجوکیشن سٹی کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا کہ اس عظیم الشان منصوبہ کے حوالے سے منصوبہ بندی جاری و ساری ہے۔ گذشتہ سال دھرنے اور انقلابی جدوجہد میں بے حد مصروفیت کی وجہ سے اس جانب مکمل توجہ مرکوز نہ رہ سکی۔ ان شاء اللہ العزیز عالم اسلام کا یہ عظیم الشان مرکز وجود میں آئے گا اور ایک عالم اس سے فیض یاب ہوگا۔

بعد ازاں آخری طاق رات کی مناسبت سے خصوصی محفل نعت بھی ہوئی جس کے اختتام پر شیخ الاسلام نے خصوصی دعا فرمائی۔ رات 12:30 بجے بارش کا سلسلہ ایک مرتبہ شروع ہوگیا تھا اور یہ تمام تقریب بارش کے دوران بھی جاری و ساری رہی۔

  1. 29 رمضان المبارک 1436ھ/17 جولائی 2015ء (جمعۃ المبارک)

آج اعتکاف کا آخری دن ہے۔ شرکاء اعتکاف دن بھر اپنے انفرادی معمولات میں حسب معمول مصروف عمل رہے۔ محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے جمعۃ الوداع کے موقع پر خصوصی خطاب فرمایا۔

خصوصی خطاب شیخ الاسلام (تجلیاتِ یقین)

نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد شیخ الاسلام نے اس شہر اعتکاف سے آخری خطاب میں سورۃ القصص کی ابتدائی آیات کا درس قرآن دیتے ہوئے فرمایا کہ

’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا اپنے نومولود بچے کو فرعون کے ظلم و ستم سے بچانے کی خاطر اپنے ہاتھوں سے صندوق میں ڈال کر دریا کے سپرد کردینا، اُن کا اللہ رب العزت کی ذات پر یقین کا اظہار ہے۔ فرعون کے سپاہیوں سے اپنے بچے کو وہ بچارہی ہیں مگر دوسری طرف اپنے ہاتھوں سے دریا میں بھی پھینک رہی ہیں۔ کیا یہ ظاہری اعتبار سے قتل کرنے سے الگ چیز ہے؟ کیا زندہ رہنے کا کوئی امکان ہے؟ اس صورت حال میں پھر اللہ رب العزت انہیں یہ حکم بھی دے رہا ہے کہ وَلاَ تَخَافِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ اس سے خوفزدہ بھی نہ ہونا اور غمزدہ بھی نہ ہونا۔

اللہ تعالیٰ اس مقام پر اہل ایمان کو یقین کی قوت عطا کرنا چاہتا ہے کہ بچہ اپنے ہاتھ سے دریا میں پھنکوا رہا ہے اور فرمارہا ہے کہ غمزدہ و خوفزدہ نہ ہونا۔ ایمان کا یقین کہہ رہا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ مومن کو کیسے، کیوں اور کب سے کوئی غرض نہیں ہوتی، یہ تینوں تو شک کے ابواب ہیں وہ تو صرف اللہ کے حکم کو اور اس کی رضا کو دیکھتا ہے۔

ہمارا کام، ایمان، یقین، تقویٰ، صبر اور عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنا ہے۔ منزل کیسے نصیب ہوگی؟ یہ اس کا کام ہے۔ ہمارا کام مالی بن کر کام کرنا ہے، مالک بننا نہیں۔ مالک وہ ہے، اس کا کام ہے کہ کیسے اور کب کرنا ہے۔

بندے اور مالک کے درمیان کام کی تقسیم ہے۔ بندے کا کام ہے یقین کرنا، یقین پر رہنا، جمنا، چلنا، لڑنا۔ مشکوں کی گنتی کرنا مالی کا کام نہیں۔ دریا میں ڈالنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے اللہ نے کیسے حفاظت کا اہتمام کیا اور کس طرح انہیں اپنی والدہ کو لوٹادیا، قرآن مجید کی یہ آیات بندہ مومن کو اللہ کی ذات پر اسی طرح کا یقین رکھنے کی طرف متوجہ کررہی ہیں۔ یقین اتنی سستی چیز نہیں کہ اللہ ہر ایک کو بانٹ دے۔ جن کو یقین کی خیرات دی، وہ تو اس کے ولیوں / دوستوں میں سے ہوگیا اور اس کی دوستی بھی ہر ایک کو نہیں دی جاتی، وہ مال و دولت تو ہر ایک کو دے دیتا ہے۔ اس لئے کہ اس کے نزدیک مال و دولت کی کوئی اہمیت نہیں۔ فرمایا:

’’اگر مال و دولت کی اہمیت میرے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو میں اسے اپنے دشمنوں کو نہ دیتا‘‘۔ مگر یقین اپنے دوستوں کو ہی عطا کرتا ہے اور دوستی بھی انہی کو عطا کرتا ہے جو صبرو استقامت کے ساتھ مصائب و آزمائشوں کو برداشت کرتے ہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’یقین کو اس طرح سیکھا کرو جس طرح قرآن سیکھتے ہو‘‘۔

حلیة الاولیاء، امام ابوالنعیم

امام غزالی تعلموا الیقین کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’یقین والوں کی مجلس میں بیٹھا کرو، یقین کا علم سنا کرو اور جو وہ سمجھائیں اس پر عمل کرو۔ اس سے تمہارا یقین طاقتور ہو گا‘‘۔ حضور نے فرمایا:

’’اللہ یقین دینے کے لئے اپنے مومن بندوں کو چنتا ہے، ان کو آزمائش کی خوراک دیتا ہے۔ جس طرح ماں اپنے بچے کو دودھ پلا پلا کر طاقت دیتی ہے۔ اسی طرح اللہ اپنے محبوب بندوں کو آزمائش دے دے کر طاقتور بناتا ہے تاکہ وہ اس کے لئے قربانی دے سکیں‘‘۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے عاشق لوگوں میں موجود یقین کی کیفیات کو بیان کرتے ہوئے متعدد واقعات بھی بیان فرمائے۔ جمعۃ الوداع کے اس خصوصی خطاب میں شیخ الاسلام نے ’’مرید کیسے بنتا ہے؟‘‘ کے موضوع پر بھی خوبصورت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

’’مرید/ارادت کا تعلق انسان کے ارادہ کے ساتھ ہے۔ مرید ہونے کے لئے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہرگز ہرگز واجب نہیں ہے۔ اصل مرید وہ ہے جو دل سے کسی کا ارادہ کرلے۔ حضور غوث الاعظم نے فرمایا:

’’مرید وہ ہے جو صدق دل سے اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کرلے‘‘۔

وہ احباب جو آج تک کسی کے مرید نہیں ہوئے اور تحریک منہاج القرآن کے رفیق ہیں اور مصطفوی مشن کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ اس رفاقت کو اختیار کرلینے کے بعد اب انہیں کسی کا مرید بننے کی ضرورت نہیں۔ یہ مشن ہی ان کا شیخ اور مرشد ہے اور وہ براہ راست حضور غوث الاعظم کے مرید ہیں۔ اور وہ لوگ جو پہلے سے کسی کے مرید ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی نسبتوں کو قائم رکھے۔ وہ اپنے سلسلہ کے ساتھ قائم رہیں اور منہاج القرآن کے مشن میں بھی مصروف عمل رہیں انہیں دو طرفہ فیض ملتا رہے گا‘‘۔

اسی آخری خصوصی خطاب کے بعد شیخ الاسلام نے شرکاء اعتکاف کو عام معمولات زندگی میں برکت و رحمت کے حصول کے لئے خصوصی وظائف دیتے ہوئے دعوت دین کے لئے خصوصی احکامات ارشاد فرمائے۔

اس وعظ و نصیحت کے بعد آپ نے خصوصی دعا فرمائی اور اس طرح فہمِ دین اور اصلاحِ احوال کی غرض سے قائم کیا گیا یہ 24 واں سالانہ شہر اعتکاف اپنے اختتام کو پہنچا۔

غزوہ حنین میں ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور پوچھا کہ آج رات ہمارے قافلے کی سیکیورٹی کون کرے گا؟ اتنے میں ایک مسافر انس ابن مرصد الغنوی گھوڑے پر چلتا ہوا آیا اور کہا کہ آج رات میں آپ کے قافلے کی حفاظت کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس پہاڑ پر چلے جاؤ اور ساری رات پہرہ دو۔ اس شخص نے ساری رات پہرہ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی اور پوچھا کہ وہ مسافر کہاں ہے؟ تھوڑی دیر میں وہ پہاڑ سے نیچے اتر آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مبارک ہو، وہ سلامت ہے اور آ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم رات کو پہاڑ سے اتر کر غفلت تو نہیں کی؟ اس نے کہا کہ نہیں کی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہو کہ جس نے جنتی دیکھنا ہو، اس کو دیکھ لو۔

آئمہ اطہار اہل بیت میں سے ایک امام کو شہید کیا اور 5/6 ماہ تک ان کے جسد کو لٹکائے رکھا۔ ان امام کا نام ’’امام زید بن علی زین العابدین‘‘ یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور امام حسن کے پوتے سیدنا امام باقر کا بھائی، امام جعفر کے چچا 122ھ میں آپ کی شہادت ہوئی (اکال ابن اثیر، ظہیری) یہ زمانہ ہشام بن عبدالملک مروان کا تھا۔

محبت الہٰی و محبت رسول ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ہیرے/ موتی میں مختلف رنگ جھلکتے ہیں۔ اسی طرح قوس قزح میں مختلف رنگ جھلکتے ہیں۔ قطرہ خود بے رنگ ہے مگر اس سے جب سورج کی شعاعیں گزرتی ہیں تو کئی رنگ بکھرتے ہیں۔

ہمیشہ باوضو رہیں میری زندگی کے کم و بیش 53 سال ہمیشہ جاگتے ہوئے وضو سے ہیں اور ہمیشہ باوضو جو لوگ دائمی وضو سے رہتے ہیں یا جو غسل کے مرحلہ سے گزرتے ہیں تو طیعت میں ہلکا پن آتا ہے۔ پانی تو باہر لگا، اندر تو داخل نہیں ہوا۔ مگر وضو/غسل نے اندر بھی طہارت و نور پیدا کیا۔ حضور نے فرمایا کہ قیامت والے دن اپنے امتی کو جسم کے ان اعضاء سے پہچان لوں گا جو وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں۔ وضو سے نور پیدا ہوتا ہے، وضو سے من کے اندر نور اترتا ہے، یکسوئی و یکجہتی آتی ہے، ہلکا پن آتا ہے۔

طہارت سے ایسی کیفیت آتی ہے جو کسی اور عمل سے نہیں ملتی۔ کئی کو تلاوت، کوئی کو نماز، کئی کو نعت سننے کسی کو ذکر، کسی کو صدقات کے ذریعے ایسی کیفیت ملتی ہے جو کسی اور عمل سے نہیں ملتی۔ یہ ساری روحانی شعاعیں ہیں ایک ہی قطرہ کے رنگ ہیں۔ باہر کا کوئی عمل اور اندر کا مزاج مل جائے تو بندے کو اللہ کے ساتھ نسبت مل جاتی ہے اللہ کے ساتھ روحانی تعلق پیدا ہونے کی استعداد کہلاتی ہے۔ یہ تمام محبتیں ایک ہیں۔ اس کے رنگ جدا جدا ہیں، جس طرح اللہ نے طبیعتیں جدا رکھی ہیں اسی طرح مختلف قسم کے عمل کی کیفیات رکھی ہیں۔ اگر طبیعت خشک ہے تو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ پیوست کا علاج ظاہری عمل میں نہیں محبت میں ہے۔ اس خشکی کا دور کرنا محبت و عشق الہٰی و مصطفی کے پانی سے ممکن ہے۔ محبت و عشق کے پانی کے بغیر ایمان کا پودا نہیں اگتا۔

فرمایا: شاخ، تقویٰ ہے۔

یقین والوں اور عاشقوں کا حال

عتبہ بن اسیدابوبصیر نامی ایک صحابہ مکہ والوں کے ظلم و ستم سے فرار حاصل کرکے مدینہ آگئے۔ صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق انہیں مکہ والوں نے واپس مانگ لیا۔ حضورنے فرمایا: آپ کو معلوم ہے کہ ہم اس قوم سے ایک معاہدہ کرچکے ہیں ہمارے لئے جائز نہیں کہ اس وعدہ کی خلاف ورزی کریں۔ لہذا آپ نے واپس کردیا۔ دعا دی اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اور آپ جیسے لوگوں کے لئے راستہ نکال دے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مشرکوں کی طرف واپس کررہے ہیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری دعا کہ چلے جائو اللہ آپ کے لئے راستہ کھول دے گا۔

شہر مدینہ سے باہر نکلے اور ابوبصیر نے اپنے لئے آنے والوں کی تلوار لے کر ان کی گردن اڑادی۔ حضور نے فرمایا کتنا بہادر شخص ہے کاش اس کے ساتھ اور بہادر مرد بھی ہوتے۔ العیس بلاد بنو سلیم کے مقام پر سمندر کا کنارہ تھا۔ ابو البصیر نے وہاں بسیرا بنالیا۔ یہ نہ مکہ والوں کے تحت تھا نہ مدینہ والوں کے تحت تھا یہ علاقہ دیگر مظلوم قیدی بھی بھاگ کر العیس میں جمع ہوگئے ابوجندل بھی پہنچ گئے یہاں تک کہ 70 صحابہ ہوگئے۔ انہوں نے مکہ کے قافلوں پر حملہ کرنا شروع کردیا اور لوٹ مار کرکے ان کا سامان لے لیتے۔

العیس وادی ذی المروہ میں تھا۔ یہ تعداد 300 تک جاپہنچی۔ ابوجندل 70 قیدیوں کے ہمراہ العیس پہنچے تھے۔ بالآخر قریش نے خود حضور کو درخواست دی کہ حدیبیہ کے معاہدہ کی یہ شق منسوخ کردیں کہ اگر کوئی مکہ سے مدینہ آئے گا تو اسے واپس کردیا جائے گا جو بھی آئے ان کو اپنے پاس رکھیں۔ العیس سے بھی ان کو واپس بلالیں۔ ابوسفیان یہ درخواست لے کر گئے تھے کہ ابوبصیر اور ابوجندل اور ان کے ساتھیوں کے نام خط لکھا۔ جب یہ خط ان تک پہنچا تو وہ حالت نزع میں تھا ابو جندل نے انہیں ابوبصیر کو خط تھمادیا۔ وہ خط پڑھتے پڑھتے حضور کا خط ہاتھ میں تھامے تھامے وفات پاگئے۔ اس خط سمیت ابوبلصیر کو العیس میں ہی دفن کردیا گیا۔ صحابہ کرام نے ان کی قبر کے ساتھ مسجد بنائی یہ مسجد ابی بصیر بنی۔

صحیح بخاری، طبقات ابن سعد، مستدرک حاکم

حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ

بنو عباس کے دور میں خلق قرآن کا فتنہ پیدا ہوا۔ کچھ لوگوں نے فتویٰ دیا کہ قرآن مخلوق ہے آپ نے فتویٰ دیا کہ قرآن نہ خالق ہے نہ مخلوق۔ المعتصم باللہ خلیفہ بنو عباس کا دور تھا۔ انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قید کردیا۔ بیڑیاں پہنادی گئیں ایک ہاتھ سے باندھ کر معلق کرکے کوڑے لگوائے گئے۔ بڑے بڑے جلاد منگوائے گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی بات کا ڈر نہیں تھا۔ ایک بات کا ڈر تھا کہ کہیں کوڑے کھاتے کھاتے صبر میں کمی نہ آجائے اور آواز/چیخ نہ بلند ہوجائے۔ 57 سال کی عمر تھی۔ 25 رمضان کا دن تھا ۔ کوڑے لگتے، آپ بے ہوش ہوجاتے۔ ہوش میں آتے پھر کوڑے لگتے۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادہ عبداللہ بن احمد حنبل روایت کرتے ہیں کہ والد محترم اکثر دعا کرتے اللہ ابوالہیشم کو معاف فرما، اس کو بخش دے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیوں ہے جس کو آپ اپنی یادوں میں گم اس کے لئے دعا کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ مجھے کوڑے لگانے والا تھا جلاد تھا پوچھا اس کی بخشش کی دعا کیوں؟ فرمایا جس دن مجھے کوڑے لگانے کے لئے جیل سے نکالا گیا ابوالہیشم میرے قریب آیا اور کہا میں بہت بڑا ڈاکو ہوں، مجھے 18 ہزار کوڑے سزا کے طور پر لگے ہیں۔ میں نے طاعت شیطان میں یہ کوڑے کھائے۔ آپ صبر رکھنا آپ رحمن کی خاطر کوڑے کھارہے ہیں۔ اس نے مجھے نصیحت کی پس میں نے یہ کوڑے رحمن کی خاطر کھائے۔ اس لئے مجھے یاد آتا ہے تو میں اس کی بخشش کی دعا کرتا ہوں۔




^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>










© 1980 - 2022 Minhaj-ul-Quran International.