[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > فروری 2016 ء > امن و سلامتی اور اعتدال و توازن کے فروغ میں شیخ الاسلام کی علمی و فکری خدمات پر ایک نظر
ماہنامہ منہاج القرآن : فروری 2016 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > فروری 2016 ء > امن و سلامتی اور اعتدال و توازن کے فروغ میں شیخ الاسلام کی علمی و فکری خدمات پر ایک نظر

امن و سلامتی اور اعتدال و توازن کے فروغ میں شیخ الاسلام کی علمی و فکری خدمات پر ایک نظر

اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ، مصطفوی انقلاب کے حصول اور امن و سلامتی کے دیپ جلانے کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی زندگی کا ہر لمحہ ایک اضطراب اور بیقراری کے عالم میں گزرتا ہے۔ اس اعلیٰ منزل کے حصول کے لئے دن ہو یا رات ہر وقت ذمہ داری نبھانے کی دھن آپ پر سوار رہتی ہے اور اس کے لئے آپ اپنے آرام کو بھی تج کرتے ہوئے امت مسلمہ کی بہتری و بھلائی کے لئے خدمات سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر آنے والا دن، مہینہ اور سال علمی و فکری زریں کارنامے مرتب کرتا نظر آتا ہے۔ سال گذشتہ 2015ء بھی آپ کی صلاحیتوں اور قیادت کا ایک ایسا عملی اظہار تھا جس نے تاریخ کے سینے پر اپنے انمٹ نقوش ثبت کئے۔ ذیل کی سطور میں 2015ء میں کی گئی آپ کی علمی و فکری خدمات اور سرگرمیوں پر مبنی رپورٹس نذرِ قارئین ہیں:

 رحمۃ للعالمین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس (برمنگھم، برطانیہ)

مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز کے زیراہتمام مرکزی جامع مسجد گھمکول شریف میں 9 جنوری 2016ء کو 36 ویں سالانہ عالمی تاجدار ختم نبوت سنی کانفرنس کے موقع پر میلاد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت اور یورپ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے نمٹنے کے لئے رحمۃ للعالمین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی شرکت کی۔

اس عظیم الشان کانفرنس میں برطانیہ بھر سے خواتین سمیت ہزاروں عاشقان رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، منہاج القرآن انٹرنیشنل، مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز، کنفیڈریشن آف سنی مساجد سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی۔ مرکزی جامع مسجد میں تمام ہال شرکا سے بھر گئے جبکہ مسجد کی بالائی منزلوں میں خواتین اور بچوں کے لئے خصوصی طور پر انتظام کیا گیا تھا۔ محترم راجہ سلیم اختر (چیئرمین گھمکول شریف مسجد) نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو برمنگھم اور خصوصاً مسجد آمد پرخوش آمدید کہا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش سمیت تمام دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے پوری امت کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی جہالت اور کم علمی کی پیدائش ہیں۔ علم کا اجالا اور شعور کی دولت عام کرنے سے دہشت گردی کاخاتمہ اور انسانی معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پورے جہان اور کائنات کے لئے ہے۔ آج کی ترقی، جدید سائنس اور ماڈرن ٹیکنالوجی نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرہون منت ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدیوں سے پوشیدہ جدید سائنس کے دروازے کھول کر اس عالم کائنات پر احسان عظیم کیا ہے۔ آج بھی امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کے حل اور باوقار مقام حاصل کرنے کے لئے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکی تعلیمات کے مطابق جدید سائنسی اور تحقیقی علوم پر دسترس حاصل کرنا ہوگی۔

تاجدار کائنات محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدیوں قبل جہالت اور پستی میں مبتلا انسانیت کے لئے عقل و فہم اور جدید سائنس کے دروازے کھول کر انسان پر کائنات کی حقیقت عیاں کرکے رحمۃ للعالمین ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امن و محبت کے پیغمبر بن کر ساری انسانیت کی بھلائی اور اصلاح کے لئے اس جہاں میں آئے۔ ان کی تعلیمات سارے جہانوں اور عالم کی ساری مخلوق کے لئے ہیں۔ ان کی سیرت اور کردار کو اپناتے ہوئے نوجوان نسل جدید اسلامی علوم کے ذریعے دنیا پر اپنا سکہ جمائے۔ ظہور اسلام سے قبل مکہ کی دس لاکھ آبادی میں صرف دس سے پندرہ انسان صرف اپنا نام لکھ سکتے تھے لیکن آج بنی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انسانیت پر احسان و کرم ہے کہ دنیا جدید سائنس اور کائنات کے رازوں سے واقف ہو چکی ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظام تعلیم، فن تحریر، علم و شعور، سائنس، ریاستی و معاشرتی اصول اور ضابطے متعارف کرائے۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے غلاموں نے پوری دنیا میں انسانیت کی بھلائی، تربیت، اصلاح کے علم و ہنر کے ذریعے علمی میدان میں ایسے کارنامے سر انجام دیئے کہ آج عالم ان سے منور ہے۔

آج جہاں پر مغربی اور جدید سائنس پہنچی ہے وہ ہمارے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 14 سو سال قبل بتا دیئے تھے، پرندوں کے اڑنے سے لیکر موٹر کی ایجاد تک کے اصول 14 سوسال قبل بتا دیئے گئے ہیں۔ امت مسلمہ کو علم کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنا ہوگا کیونکہ اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک نے سقوط اندلس کے بعد مسلمانوں کی تحریر کردہ ہزاروں کتب کا ترجمہ کرکے علم و فن حاصل کیا۔ آج مغرب کے پاس نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیرات کے صدقے جدید سائنس، علم، ہنر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل مغرب اور عالم میں اسلام کی نمائندگی اور اسلام کا اصلی اور حقیقی مفہوم پیش کیا جائے تاکہ ہر کوئی اسلام کی حقیقت اور اس کے ظہور کا مقصد سمجھ سکے۔ آج برطانیہ سمیت پوری دنیا میں امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے ایسی رحمۃ للعالمین کانفرنس کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز نے برطانیہ و یورپ میں امت مسلمہ کی رہنمائی اور اسلام کی تشریح اور اشاعت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کے ثمرات سے آنے والی نسلیں مستفید ہوں گی۔ برطانیہ میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے علماء، مشائخ اور سکالرز کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ اگر ہم آج بھی سیرت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنائیں تو عالم مغلوب ہو کر اسلام کا غلبہ تسلیم کرسکتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل اور بالخصوص خواتین کی تعلیم پر زور دینا ہوگا۔ کسی بھی معاشرے کے لئے خواتین بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

عالمی کانفرنس سے مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز کے قائدین محترم پیر سید زاہد شاہ رضوی، محترم علامہ احمد نثار بیگ قادری، محترم علامہ قاضی عبدالطیف قادری، محترم مفتی حافظ فضل احمدقادری، محترم مولانا حافظ محمد ظہیر احمد نقشبندی، محترم مفتی علامہ اختر قادری اور دیگر علماء ومشائخ عظام شریک ہوئے۔ مہمان گرامی میں سے محترم ڈاکٹر رحیق عباسی، محترم علامہ سید علی عباس بخاری، محترم مولانا بوستان القادری، محترم صوفی جاوید اختر قادری، محترم راجہ محمد سلیم اختر، محترم منصور آفاق، محترم علامہ مفتی عبدالرسول منصور الازہری، محترم پیر سید لخت حسنین، مفتی فیض رسول نقشبندی، محترم علامہ نثار احمد رضا، محترم علامہ عبد السعید (نیلسن)، محترم علامہ محمد بشیر خان (ایکرنگٹن)، محترم حافظ غلام مسعود (گریٹ ہاروڈ)، محترم علامہ محمد شاہد بابر (گلاسگو)، محترم علامہ محمد امتیار علی (گلاسگو)، محترم صاحبزادہ حسنین شاہ (لندن)، محترم صاحبزادہ مفتی عبد المصطفی (مانچسٹر)، محترم صاحبزادہ قاضی نوید قادری، محترم حافظ غلام صدیق اکبر، محترم پروفیسر محمد یسین مدنی، محترم حافظ عبد الرحمن سلطانی، محترم علامہ سہیل احمد صدیقی، محترم قاری عبد الرؤف (راچڈیل)، محترم علامہ مجیب قریشی (رچڈیل)، محترم علامہ محمد مسعود الرحمان (رچڈیل)، محترم علامہ علی اکبر (والسال)، محترم علامہ جنید عالم (لندن)، محترم مولانا محمد احمد نقشبندی (ووسٹر)، محترم مولانا ایاز الرحمن (بریڈفورڈ)، محترم مفتی اشفاق عالم، محترم علامہ افضل سعیدی (بریڈفورڈ)، محترم علامہ زاہد خان، محترم علامہ ابو آدم احمد شیرازی، محترم صاحبزادہ شاہد قادری، محترم قاری محمد زمان قادری (والسال)، محترم حافظ سجاد حسین قادری، محترم علامہ محمد صادق قریشی، محترم صاحبزادہ تیمور قیصرقادری، محترم علامہ ریاض محمودقادری، محترم علامہ حفیظ الرحمن غزالی، محترم مولانا سید اشتیاق شاہ گیلانی، محترم مولانا ذوالکفیل صابر (ڈربی)، محترم مولانا حافظ منیر احمد صابر (ووسٹر)، محترم علامہ نیاز احمد صدیقی، محترم ملک زبیر حسین قادری سمیت مختلف مقررین نے بھی خطاب کیا۔

محترم علامہ احمد نثار بیگ قادری نے کہا کہ ہم نے وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرتے ہوئے آج کی عظیم الشان عالمی نوعیت کی کانفرنس کا انعقاد کرایا ہے۔ عہد حاضر میں برطانوی مسلمانوں کو دہشت گردی سے لیکر مختلف معاشرتی و خانگی مسائل درپیش ہیں۔ نوجوان نسل سیرت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے داعش اور مختلف انتہا پسند گروہوں کو جوائن کررہی ہے ایسے میں علماء، مشائخ اور کمیونٹی کے ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار اداکرے۔

محترم حافظ مفتی فضل احمد قادری نے کہا کہ آج شیخ الاسلام کے تاریخ ساز اور سائنٹیفک خطاب سے برطانوی مسلمانوںبالخصوص نوجوان نسل کے لئے علم و ہنر اور شعور کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔ ہمیں سیرت اور کردار مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کاربند ہو کر اسلام کی تبلیغ کرنا ہوگی۔

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کی قومی طلبہ کانفرنس

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیراہتمام ایوان اقبال لاہور میں 3 جنوری 2016ء کو قومی طلبہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کیا۔ کانفرنس میں محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم خرم نواز گنڈا پور، محترم میجر (ر) محمد سعید، محترم احمد نواز انجم نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں انجمن طلبہ اسلام، ایم ایس ایف کیو، آئی ایس ایف کے رہنماؤں اور چاروں صوبوں کے MSM کے رہنماؤں نے خصوصی شرکت کی۔

کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام مجید اور نعت رسول مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ طلبہ کانفرنس www.Minhaj.TV اور دیگر نجی ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست نشر کی گئی۔ کانفرنس میں ایم ایس ایم کے مرکزی نائب صدر رانا تجمل حسین نے خطبہ استقبالیہ دیا، جبکہ ایم ایس ایم کے مرکزی صدر چودھری عرفان یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کے نوجوان انقلاب اور ظلم کے نظام سے نجات چاہتے ہیں۔ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ اور دہشتگردی کے خاتمے کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ کنونشن سے مظہر علوی، رانا تجمل حسین، سعید عالم، گلشن ارشاد، گلگت بلتستان سے عبید انقلابی، سندھ سے طاہر خان، خیبر پختونخواہ سے مصباح نور، کشمیر سے عنصر بشیر لون، بلوچستان سے اصغر علی شاہ، شمالی پنجاب سے ضیاء الرحمان، جنوبی پنجاب سے عتیق انقلابی، عاصم انقلابی نے خطاب کیا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے قومی طلبہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ انسانیت میں طلبہ اور نوجوان ہی ہر تحریک اور انقلاب کا سرمایہ رہے ہیں۔ تحریک پاکستان میں بھی طلبہ نے اہم کردار کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ان نوجوانوں اور طلبہ ہی کو قوم کے مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔ افسوس آج وہی معمار خود کش بمبار بن گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو تعمیر کے بجائے تخریب کی راہ پر کس نے ڈالا؟وہ کون سی خرابیاں، کوتاہیاں، خطائیں اور غلطیاں ہیں جس نے انہیں انتہا پسندی، دہشت گردی، اور جرائم کی طرف دھکیل دیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار پر قابض لوگوں نے قائد اعظم کے ویژن کو قوم میں فروغ نہیں دیا، طلبہ اور نوجوانوں کی سرپرستی نہیں کی اور انہیں غلط نظریات اور غلط راستوں پر لگایا گیا جس بناء پر ان کے مقاصد تبدیل ہوگئے۔ جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

اگر نوجوانوں کی فکری، ذہنی، علمی، سیرتی ضروریات کو پورا کیا جائے گا، انہیں معمار بننے کے قابل بنانے کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گاتو یہ معمار بنیں گے بصورت دیگر انہیں مجموعی طور پر جو بھی ماحول میسر آئے گا اسی رنگ میں رنگے جائیں گے۔ اگر نوجوانوں کے سامنے کوئی اسوہ، ماڈل ہو تو وہ قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہیں اور اگر کوئی رول ماڈل ان کے سامنے نہ ہو، وہ دن رات حکمرانوں کو دہشت گردی کرتے، کرپشن کرتے دیکھیں گے تو ان نوجوانوں کی تعمیری صلاحیتیں بھی تخریب کاری پر لگ جاتی ہیں۔

نوجوانوں کو مقصد آشنا کرنے اور ضرب عضب کو کامیاب بنانے کے لئے ہم ضرب علم اور ضرب امن کا آغاز کررہے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم پاکستان میں بسنے والوں کے ذہنوں سے دہشت گردی کا خاتمہ اور شعور پیدا کریں گے۔ نوجوان طلبہ و طالبات کرپشن، دہشتگردی اور جہالت کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کریں۔ ضرب عضب کو کامیاب کرنے کیلئے ضرب علم و امن ناگزیر ہے۔ طلبہ و طالبات کو یہ پیغام ہے کہ وہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں۔

ہمارے حکمران دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں اور شعوری طور پر ضرب عضب کو ناکام بنانے کی مذموم کاوشیں کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے اقدامات انتہا پسندی و دہشت گردی کے فروغ کا باعث ہیں۔ حکمران دہشت گردی کی سرپرستی کس طرح کر رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دہشت گردی صرف مسلح ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے کچھ عوامل ہوتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں مسلح دہشت گردی معرض وجود میں آتی ہے۔ ا دہشت گردی کی پا نچ اقسام ہیں:

  1. سیاسی دہشت گردی
  2. معاشی دہشت گردی
  3. قانونی دہشت گردی
  4. نظریاتی دہشت گردی
  5. مسلح دہشت گردی

مسلح دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب جاری ہے۔ جس کی کامیابی کے لئے پاک فوج کے لئے دعا گو ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن یہ مسلح دہشت گردی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک پہلی چار قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا جائے۔ اس لیے کہ پہلی چار قسم کی دہشت گردی مسلح دہشت گردی کے لئے بیج کا کام دیتی ہیں۔ اگر بیج بوئے جاتے رہیں تو پھر پودے اگتے رہیں گے اور تناور درخت بنتے رہیں گے۔ ہم عمر بھر درخت کاٹتے رہیں مگر یہ ختم نہ ہو پائیں گے اس لئے کہ سیاسی، معاشی، قانونی اور نظریاتی دہشت گردی کی صورت میں مسلح دہشت گردی کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے مذکورہ چاروں قسم کی دہشت گردی شروع کر رکھی ہے لہذا یہ مسلح دہشت گردی کے سرپرست اور اس کو فروغ دینے کے ذمہ دار ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن مذکورہ چار قسم کی دہشت گردی کی واضح مثال ہے۔

سوال یہ ہے کہ کب تک اس ملک کے مقدر اور مستقبل کو تاریک کرنے کے لئے ان لٹیرے حکمرانوں کو کھلی چھوٹ دی جاتی رہے گی؟ نوجوان نسل مایوس ہوتی چلی جا رہی ہے۔ خدا را اس قوم اور ملک کو بچانے کے لئے نوجوان نسل کو بچایا جائے۔ یہ قائد اعظم کا سرمایہ اور اس ملک کا مستقبل ہیں۔ اس ملک میں جب تک عدل و انصاف کا راج نہیں ہو گا، قانون کی حکمرنی نہیں ہو گی، حقوق میسر نہ ہوں گے، کرپشن کا خاتمہ نہ ہوگا، اس وقت تک کوئی بھی جدوجہد کا میاب نہیں ہو سکتی۔

  • کانفرنس میں فروغ امن نصاب کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے، مفت اور لازمی تعلیم کے قانون پر عمل درآمد اور قومی زبان اردو کو نافذ کرنے کی قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ کانفرنس میں نمایاں تعلیمی کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں قائد انقلاب اور دیگر مہمانان گرامی نے شیلڈز بھی تقسیم کیں۔

منہاج القرآن ویمن لیگ کے زیراہتمام ’پیس گالا‘ تقریب

منہاج القرآن ویمن لیگ کے زیراہتمام پی سی ہوٹل لاہور میں 2 جنوری 2016ء کو ’’پیس گالا‘‘ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری تھے۔ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور محترم خرم نواز گنڈاپور نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں ممتاز اداکارہ محترمہ بہار بیگم، محترمہ نیشو بیگم، محترمہ آمنہ بخاری، محترمہ ماہ رخ جنید، محترمہ ثوبیہ جنید، محترمہ اقراء عثمان، محترمہ قدسیہ، محترمہ ثمن اشفاق، محترمہ قدسیہ بشارت، محترمہ مہوش شاہد، محترمہ ام فروا، محترمہ حمیرا حیدر، محترمہ انعم فوزیہ، محترمہ پروفیسر رفعت مظہر، محترمہ ڈاکٹر سیمی بخاری، محترمہ عطیہ زیب، محترمہ ڈاکٹر صبائ، محترمہ شازیہ انوری، محترمہ ثوبیہ بخاری، محترمہ توشبیہ سرور، محترمہ آسیہ فاطمہ، فخر النساء، محترمہ نیشو اقبال، محترمہ فرحت اقبال، محترمہ آمنہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام مجید اور نعت رسول مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ منہاج القرآن ویمن لیگ کی مرکزی صدر محترمہ فرح ناز نے خطبہ استقبالیہ دیا اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض محترمہ طاہرہ خان اورمحترمہ سدرہ خرم نے انجام دیئے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ’’پیس گالا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرزمین پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے او ر امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اس لئے کہ یہ ذمہ داری صرف پاک فوج کی نہیں ہے بلکہ پوری قوم کو اس ضمن میں آگے بڑھنا ہو گا۔ یہ محبت کرنے والوں کی سرزمین ہے مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے اسے دہشت و خوف کی آماجگاہ بنا دیا۔ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے خواتین بھی ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں اور شریعت انہیں اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ وہ قوم کو اس ناسور سے نجات دلانے کے لئے عملی کردار ادا کریں۔

اسلام میں عورت کی ایک اہم اور ذمہ دارانہ حیثیت ہے۔ اگر ہم سابقہ انبیاء کے دور میں بھی خواتین کے کردار اور عملی شرکت کی جانب نظر دوڑائیں تو ہمیں اس حوالے سے بھی عورت کے مقام و مرتبہ سے آگہی نصیب ہوتی ہے۔ کرہ ارضی پر انسانی کائنات کی آبادی کا آغاز بھی ایک عورت کے مرہون منت ہے یعنی حضرت حواء علیھا السلام۔ اسی طرح جب حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی تو اس میں 80 افراد کو بٹھایا جن میں سے 40 مرد تھے اور40 عورتیں تھیں۔ ان کا یہ عمل بھی عورتوں کو برابری دینے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ارکان حج کی تشکیل بھی ایک عورت کے مرہون منت ہے۔ حضرت ہاجرہ علیھا السلام کے عمل کے بغیر حج کے ارکان ہی پورے نہیں ہوتے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر دراصل امت مسلمہ میں خواتین کی حیثیت اور مقام کی جانب متوجہ کرنا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں دیکھا جائے تو ہمیں ان کے ہاں بھی خواتین کا ایک نمایاں کردار نظر آتا ہے۔ قرآن میں سب سے پہلے ان کی والدہ کا ذکر ہے، پھر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کا ذکر ہے اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا ذکر ہے۔ اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام کی دو بیٹیوں کا ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم علیھا السلام کا ذکر ہے۔ مزید یہ کہ قرآن مجید کی 114سورتوں میں سے 2 سورتوں (سورۃ النساء، سورۃ مریم) کا نام بھی عورتوں کے نام پر ہے۔ کسی مرد کے نام پر کوئی سورت موجود نہیں۔

الغرض ہمیں قرآن مجید میں ان اعلی کردار کی حامل خواتین کا تذکرہ جا بجا ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن نازل ہو رہاتھا اس معاشرہ میں عورتوں کے حقوق کی پامالی ہر سطح پر جاری تھی۔ لہذا ایک طرف ان خواتین کا ذکر کیا گیا اور دوسری طرف عورتوں کے حقوق کو بھی قرآن مجید میں واضح کیا گیا تاکہ عورت کے بارے میں مروجہ سوچ اور ذہن میں تبدیلی پیدا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس معاشرہ میں ایسا ماحول پیدا کریں کہ اللہ رب العزت نے جو تخلیقی خوبیاں عورت کو عطا کر رکھی ہیں، ان سے فائدہ اٹھائیں اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے اسے کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ افسوس ہم نے عورت کو صرف کھانے بنانے، برتن دھونے، اور گھریلو کام کاج تک محدود کر دیا ہے جب کہ قرآن و سنت کے مطابق یہ امور عورت کے فرائض و واجبات میں نہیںہے۔ یہ عورت کی شرعی ذمہ داری نہیں بلکہ عورت کا مرد پر احسان ہے۔

تاریخ اسلام میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کا کردار اور اسلام کے فروغ کے لئے ان کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ اسی طرح اسلام کی پہلی شہید خاتون حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا ہیں۔ علاوہ ازیں خواتین سفرو حضر اور جہاد میں مردوں کے ساتھ شریک ہوتیں۔ صحابیات مسجد نبوی میں باقاعدہ حاضر ہوا کرتیں۔ حضرت عائشہ، حضرت سودہ، حضرت حفصہ، حضرت جویریہ رضی اللہ عنھن سمیت 700سے زائد نامور صحابیات نے باقاعدہ اپنے علمی حلقے قائم فرمائے جہاں وہ قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم دیتی تھیں۔ الغرض اسلام کی 1400سال کی تاریخ میں نامور خواتین کاتذکرہ موجود ہے جنہوں نے معاشرہ کی ہر قسم کی اصلاح کے لئے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

ہماری آرزو ہے کہ آج اسلام اور پاکستان کو درپیش چیلنج کے ماحول میں خواتین اپنا تاریخی کردار ادا کریں اور اس معاشرہ میں امن و سلامتی کے فروغ اور انسانیت کو دہشت گردی و انتہا پسندی سے بچانے کے لئے اپنی نسلوں کی بہترین تربیت کریں تاکہ وہ اسلام اور پاکستان کے لئے قابل فخر کردار ادا کریں۔

  • پیس گالا کے اختتام پر ویمن لیگ کی رہنماؤں محترمہ عائشہ مبشر، محترمہ زینب نے مہمان خواتین کا آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کامیاب پیس گالا کے انعقاد پر منہاج القرآن ویمن لیگ کو مبارکباد دی۔

کانووکیشن جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن 2015ء

(رپورٹ: محمد شعیب بزمی) جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کا پانچواں کانووکیشن 27 دسمبر 2015ء کو ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فرمائی۔ کانووکیشن میں جامعہ الازھر مصر کے کالج آف شریعہ و قانون کے ڈین محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالستار الجبالی، جامعہ الازھر کے کالج آف اصول الدین کے پرنسپل اور پروفیسر آف اسلامک فلاسفی محترم ڈاکٹر عبدالرحیم البیومی، چیئرمین سپریم کونسل تحریک منہاج القرآن محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، بورڈ آف گورنر منہاج یونیورسٹی لاہور کے وائس چیئرمین محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی العربی المدنی، سابق نگران وزیراعلیٰ بلوچستان محترم نواب غوث بخش باروزئی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب محترم افضل حیات، سابق وزیر تعلیم پنجاب محترم میاں عمران مسعود، سینئر تجزیہ نگار محترم سلمان عابد، محترم خرم نواز گنڈا پور (ناظم اعلیٰ TMQ)، محترم ڈاکٹر محمد اسلم غوری (وائس چانسلر MUL)، پرنسپل ایف سی کالج محترم ڈاکٹر چارلس ایم ریمزے، محترم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی (پرنسپل جامعہ نعیمیہ)، علامہ مفتی ارشدالقادری (شارح ترمذی)، محترمہ ڈاکٹر ثمر فاطمہ (پرنسپل گرلز کالج)، ڈاکٹر MK خان (پرنسپل شریعہ کالج)، محترم علامہ غلام مہر علی، محترم احسان الحق، محترم نصراللہ خان، محترم حاجی امین الدین، محترم غلام محی الدین، محترم مرزا حنیف مغل نے خصوصی شرکت کی۔

اس کانووکیشن میں 2005ء تا 2015ء تک کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو الشہادۃ العالمیہ کی ڈگریاں دی گئیں۔ پروگرام میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض محترم عبدالقدوس درانی نے اردو زبان میں جبکہ محترم عین الحق بغدادی نے عربی زبان میں سرانجام دیئے۔ تلاوت کلام مجید، نعت رسول مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قومی ترانہ کے ساتھ اس کانووکیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

رئیس الجامعہ محترم ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی نے معزز مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہتے ہوئے جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کا تعارف، قیام کے مقاصد، تعلیمی کارکردگی اور نمایاں کامیابیوں کا تذکرہ کیا کہ اب تک جامعہ کے 20 سے زائد طلبہ Ph.D کی ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں۔ یہاں طلبہ کی اخلاقی و روحانی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز تہجد، ایام بیض کے روزے اور سالانہ دس روزہ اعتکاف بھی کروایا جاتا ہے۔ یہ امر قابل تحسین ہے کہ عملی زندگی میں ہمارے طلباء کی صلاحیت کسی سے کم نہیں ہے۔ ہمارے طلبہ پبلک سروسز کمیشن کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے گورنمنٹ کالجز اور نامور یونیورسٹیز میں تدریسی ذمہ داریاں نبھانے کے علاوہ کئی قومی اور پرائیویٹ اداروں میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جن کی براہ راست توجہ اور رہنمائی ہمیں میسر رہتی ہے جس بناء پر ہمارا سفر کامیابی سے جاری و ساری ہے۔

چیئرمین سپریم کونسل محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے عربی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جدید تعلیم کا فقدان ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اس جامعہ کے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ تحقیقی کام کروایا جاتا ہے۔ یہاں کے طلبہ دینی و عصری تعلیم حاصل کرکے عالم اسلام کی بڑی بڑی یونیورسٹیز جامعہ بغداد اور الازہر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ اس جامعہ میں طلبہ کو نہ صرف نصابی کتب پڑھائی جاتی ہیں بلکہ عملی طور پر اخلاقی و روحانی کردار کا حامل بھی بنایا جاتا ہے۔ طلبہ میں مطالعہ و تحقیق کے رحجان کو پروان چڑھانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔

کانووکیشن میں 2005ء تا 2015ء کے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنز حاصل کرنے والوں میں طلباء و طالبات میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی محترم محمد اسلم غوری اور الازہر مصر سے تشریف لائے ہوئے مہمانان گرامی نے میڈلز اور اسناد تقسیم کیں۔ بہترین کارکردگی کے حامل طلبہ ڈاکٹر شفاقت علی بغدادی، حامد الازہری، سید مبشر حسین قادری، سید حیدر علی بخاری اور ڈاکٹر غلام محمد قمر کو فرید ملت ایوارڈ سے نوازا گیا۔ علاوہ ازیں کانووکیشن میں 360 طلبہ و طالبات کو ڈگریاں دی گئیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو اعزازی شیلڈ دی گئی جو محترم صاحبزادہ حماد مصطفی العربی المدنی نے وصول کی۔ محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، شیخ الحدیث محترم محمد معراج الاسلام، محترم شیخ اللغہ و الادب پروفیسر محمد نواز ظفر، محترم مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی محترم ڈاکٹر اسلم غوری، محترم خرم نواز گنڈاپور، محترم ڈاکٹر فیض اللہ بغدادی، ریسرچ سکالر محترم محمد فاروق رانا، محترم ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی، پرنسپل شریعہ کالج محترم ڈاکٹر خان محمد ملک، پرنسپل منہاج کالج برائے خواتین محترمہ ڈاکٹر ثمر فاطمہ، اسسٹنٹ پروفیسر محترم محمد افضل کانجو، اسسٹنٹ پروفیسر محترم غلام احمد کو اعلیٰ تعلیمی خدمات پر خصوصی شیلڈز دی گئیں۔ علاوہ ازیں جامعہ الازھر مصر سے تشریف لائے ہوئے مہمانان گرامی اور دیگر مہمانوں کو بھی شیلڈز سے نوازا گیا۔

محترم عبدالرحیم البیومی اور محترم عبدالستار جبالی نے کانووکیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے علم کی اہمیت بیان کی اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی خدمات کو سراہا۔

کانووکیشن کے اختتام پر رئیس الجامعہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن، جامعۃ الازہر مصر سے الحاق شدہ ہے۔ ان دونوں جامعات کی بنیاد اعتدال پر مبنی فکر اور عقیدہ صحیحہ پر ہے۔ دونوں کی سمت، مزاج اور اسلوب ایک ہے۔ دونوں فطری مناسبت و موافقت کی وجہ سے جڑی ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کانووکیشن میں جامعۃ الازہر کے نامور اساتذہ شریک ہیں۔

اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی پہلی اور ایک ہی فضیلت کو چنا اور وہ فضیلت علم تھی۔ فرمایا: وعلم آدم الاسماء کلہا۔ اس آیت کریمہ میں کلھا علم کی شان بیان کر رہا ہے کہ علم اس وقت کامل ہوگا جب وہ بہت سی ضروری چیزوں کا احاطہ کرے اور اس میں کلیت پائی جاتی ہو۔ ہمارے ہاں مذہبی و دنیاوی، دینی و سائنسی تعلیم کی تقسیم ہے۔ اس آیت کی رو سے یہ تقسیم ناقص ہے۔ کسی بھی مسئلے پر اعلیٰ فیصلہ کرنے کے لئے اس کا مکمل احاطہ ضروری ہے۔ یہ تب ہوگا جب آپ اس مسئلہ کو سمجھتے ہوں گے اور اس مسئلہ کے بارے میں وسعت اور ہمہ گیریت ہوگی۔ اگر اس کے صرف ایک جزو کا علم ہوگا تو کسی کے بارے میں قائم کی گئی رائے میں نقص ہوگا۔ علم کی اسی کلی تصور پر جامعہ کی بنیاد رکھ کر ہم نے مذہب و دنیا کو جمع کیا ہے۔ ہم اس کے خالق نہیں بلکہ ہم نے آج کے اس ماحول میں رائج علم کو صحیح سمت عطا کی ہے۔ وہ علم جو قرآن سے عطا ہوا اس میں کلیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعلمک مالم تعلم فرماکر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر ایک چیز کا علم دیا خواہ اس کا تعلق کائنات کے کسی شعبہ سے ہو۔ پس علم کامل وہ ہے جس میں ہر چیز نظر آئے اور کلی ہو۔ امت جب تک اس علم کلی کے حصول پر گامزن رہی، کامیاب رہی اور جب سے اس راستے کو چھوڑ دیا، ناکام ہوگئی۔

پہلے دور میں اہل علم کو ہر ایک پر ترجیح دی جاتی تھی مگر آج زمانہ الٹ ہوگیا ہے۔ آج اہل علم پارلیمنٹ میں نہیں جاسکتا۔ آج علم، شرافت امانت و دیانت اور رزق حلال نااہلیت ہے جس میں یہ اہلیت ہو ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتا۔ علم کے حصول اور عمل میں مشقتیں ہیں۔ علم کا حصول مشقتوں کے بغیر نہیں ہوتا، فاقوں اور مجاہدہ و ریاضت سے ہوتا ہے۔ ہماری پہچان مال و دولت نہیں ہے، ہماری پہچان دین، عمل صالح، علم نافع اور کردار کے ساتھ ہے۔ اگر اس میں بھی مار کھاگئے تو دنیا و آخرت میں ناکام ہوگئے۔ علم کے ساتھ ادب اور تقویٰ کو اختیار کرنا ہوگا۔ اگر عبادات میں کمزوری دکھائی تو علم نور پیدا نہ کرے گا۔ آداب و اخلاق، اچھے معاملات سے مزین اور حرص و لالچ سے پاک ہوکر علم حاصل ہو، تب نور بن جاتا ہے اور من روشن ہوجاتا ہے، عرش الہٰی سے انوار اترتے ہیں اور پھر عرش بریں اور آسمان سے باتیں وارد ہوتیں ہیں۔ مالائے اعلیٰ کے علوم منکشف ہوتے ہیں۔

حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ اگر سچا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو علماء سے جڑجاؤ اور ان سے جاہل بن کر ملو۔ اگر ولی سے ملو تو خدمتگار بن کر ملو۔ اگر عارف سے ملو تو زبان کو تالا لگالو۔

ادب سے علم صحیح کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ علم کو توجہ سے سنیں اور یکسو ہوکر پڑھیں۔ علم کا شغف بھوک اور پیاس مٹادیتا ہے۔ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہوتے ہیں گویا اس کے ذریعے صاحب کتاب کی صحبت میں ہوتے ہیں۔ جہالت ہو تو علم حاصل کریں، علم محفوظ کرنا ہو تو دوسروں تک پہنچائیں۔ اگر چاہتے ہیں کہ علم اثر کرے تو زبان کو پاک رکھیں زبان جتنا اللہ کے ذکر سے تر ہوگی اتنا ہی نور پیدا ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خود دعا فرمارہے ہیں کہ اے اللہ میرے تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جس میں نفع نہیں، اس دل سے جس میں خشوع و خضوع نہیں ہے، اس نفس سے جو سیراب نہیں ہوتا اور ایسی دعا سے پناہ مانگتا ہوں جو رد کردی جائے۔

میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے تعلیم کا مرحلہ مکمل کیا، علم کا مرحلہ آج سے شروع ہوا ہے جو عمر بھر جاری رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو علمِ صحیح کا طالب رکھے۔

32 ویں عالمی میلاد کانفرنس 2015ء

(رپورٹ: محمد یوسف منہاجین) تحریک منہاج القرآن کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ گزشتہ32 سالوں سے جشن آمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاشرتی ثقافت کا اہم حصہ بنادیا ہے۔ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ولادت کی مقصدیت و اہمیت کے تصور کو بھی اجاگر کیا کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور آمد کامقصد معاشرے میں امن، محبت، رحمت، مساوات، عدل، اخوت، بھائی چارہ، اعتدال پسندی، اتحاد و یگانگت کے رویوں کو معاشرے میں فروغ دینا تھا۔ تحریک منہاج القرآن آج دہشت گردی اور جبرو بربریت کے اس دور میں سیرت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیاء پاشیوں سے روشنی لیتے ہوئے آمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پر مسرت ساعتوں کو منانے کے ساتھ ساتھ اتحاد ویکجہتی، محبت و رواداری، امن و آشتی اور قوت و برداشت کی تعلیمات کو پوری دنیا میں عام کررہی ہے۔

امسال بھی حسب روایت ماہ ربیع الاول کے چاند کے طلوع ہوتے ہی تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ، اندرون و بیرون ملک قائم سینٹرز اور تنظیمات کے زیر اہتمام حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں میلاد ریلیاں نکالی گئیں۔ جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مرکزی سیکرٹریٹ کو ایک طرف برقی قمقموں اور روشنیوں سے سجایا گیا تو دوسری طرف یکم ربیع الاول سے بارہ ربیع الاول تک ہر روز تلاوت کلام پاک، ذکر و نعت اور درود و سلام کے ذریعے عشاقان مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلوب و اذہان کو منور کرنے اور ایمان کو جلا بخشنے کے لئے محافل سجائی گئیں۔ آمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں مرکزی سیکرٹریٹ پر یکم ربیع الاول سے بارہ ربیع الاول تک ضیافت میلاد کا اہتمام بھی الحمدللہ اس سال بھی جاری و ساری رہا۔

محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، امیر تحریک، ناظم اعلیٰ، نائب ناظمین اعلیٰ، جملہ ناظمین، مرکزی قائدین، سربراہان شعبہ جات، سٹاف ممبران، اساتذہ شریعہ کالج، طلبہ و طالبات، علماء کرام، مشائخ عظام، وکلاء اور ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات بھی ان محافل میں شریک ہوئیں۔ ان محافل ضیافت میلاد میں تحریک منہاج القرآن کی مختلف نظامتوں نظامت دعوت، نظامت تربیت، منہاج القرآن علماء کونسل، منہاج القرآن ویمن لیگ، منہاج القرآن یوتھ لیگ، مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ اور پاکستان عوامی تحریک نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔

ان تمام محافل کا عروج و کمال اپنے اندر فیوض و برکات سموئے ہوئے 11 ربیع الاول کی درمیانی شب مینار پاکستان کی عالمی میلاد کانفرنس کے موقع پر جلوہ گر ہوا جہاں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے خصوصی خطاب فرمایا۔

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام 32 ویں سالانہ عالمی میلاد کانفرنس 23 دسمبر 2015ء کی شب مینار پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس تمام TV چینلز اورwww.Minhaj.TV پر براہ راست نشر کی گئی۔

امسال 32 ویں عالمی میلاد کانفرنس کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ اس کانفرنس کی صدارت جگر گوشہ حضور قدوۃ الاولیاء حضرت پیر السید محمود محی الدین الگیلانی القادری فرمارہے تھے جبکہ جامعہ الازھر مصر کے کالج آف شریعہ و قانون کے ڈین محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالستار الجبالی اور جامعہ الازھر کے کالج آف اصول الدین کے پرنسپل اور پروفیسر آف اسلامک فلاسفی محترم ڈاکٹر عبدالرحیم نے عالمی میلاد کانفرنس میں خصوصی شرکت کی۔

میلاد کانفرنس میں منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفیٰ المدنی، سابق نگران وزیراعلی بلوچستان محترم نواب غوث بخش باروزئی، محترم مفتی عبدالقیوم خان ہزاری، محترم مفتی عبدالقوی، مجلس وحدۃ المسلمین کے رہنما محترم ناصر شیرازی، مسیحی رہنما محترم ڈاکٹر فادر جینز چنن، رہنما منہاج القرآن انڈیا محترم سید ناد علیٰ، رہنما منہاج القرآن انڈیا کان پور محترم عبدالحمید چاند، امیر تحریک محترم صاحبزادہ فیض الرحمٰن درانی، ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن محترم خرم نوازگنڈاپور، محتر احمد نواز انجم، محترم علامہ امداد اللہ قادری، محترم صاحبزادہ تسلیم احمد صابری سمیت تحریک کی جملہ مرکزی قیادت اور علماء و مشائخ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ کانفرنس میں پاکستان اور دیگر ممالک امریکہ، ڈنمارک، سپین، اٹلی، سعودی عرب، کویت، بحرین، آسٹریا، فرانس، یوکے، افغانستان، کینیڈا، مصر اور انڈیا سے عوامی، سیاسی، سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

عالمی میلاد کانفرنس میں محترم صاحبزادہ حماد مصطفی العربی المدنی نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت حاصل کی۔ محترم قاری نور احمد چشتی نے بھی تلاوت قرآن مجید سے حاضرین کے دلوں کو منور فرمایا۔ کانفرنس میں آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں محترم محمد افضل نوشاہی، محترم میاں سرور صدیق، محترم نور سلطان صدیقی، محترم قاری امجد علی برادران، محترم خرم شہزاد برادران، محترم شکیل احمد طاہر، مرکزی منہاج نعت کونسل محترم ظہیر احمد بلالی اور محترم الحاج شہباز قمر فریدی نے ہدیہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ نقابت کے فرائض محترم وقاص علی قادری، محترم علامہ ارشاد حسین سعیدی اور محترم علامہ فرحت حسین شاہ نے سرانجام دیئے۔

اس عالمی میلاد کانفرنس میں چونکہ ملک بھر سے مختلف جماعتوں کے نمائندگان، علماء کرام، مشائخ عظام اور ہر طبقہ فکر کی نمائندہ شخصیات بطور خاص شریک تھیں، ان میں سے چند احباب نے اظہار خیال بھی کیا۔

  • محترم ناصر شیرازی (رہنما مجلس وحدت المسلمین) نے اس عالمی میلاد کانفرنس کے انعقاد پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور تحریک منہاج القرآن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مینار پاکستان کے اس عظیم میدان میں لاکھوں شمع رسالت کے پروانوں کا جمع ہونا، تحریک منہاج القرآن کا اس اجتماع کو منظم کرنا اور سردی کے سخت موسم میں عاشقان مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکٹھا ہونا اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ ان شاءاللہ پاکستان کی تقدیر کو بدلنے کے لئے بھی ہم تمام اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ شیخ الاسلام اور منہاج القرآن کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے لبیک یارسول اللہ اور لبیک یاحسین کو ایک شعار قرار دینے کی بنیاد رکھی۔ اسلام کی جن پرامن تعلیمات کے فروغ کا بیڑا شیخ الاسلام نے اٹھایا ہے ہماری اصل تعلیمات یہی ہیں۔ ہمارا دین وہ ہے جو پیغمبر اسلام اور اہل بیت نے دیا۔ ہم داعش اور تکفیریوں کے دین اسلام کے تصور کو نہیں مانتے۔ ہمارا دین اسلام وہ ہے جس کی تعلیمات کا ایک نقشہ شیخ الاسلام نے 70 دن کے دھرنے کے دوران دنیا کو دکھایا۔ شیخ الاسلام کی تعلیمات داعش اور تکفیریوں کے خلاف سد راہ ہیں، ہمیں ان تکفیریوں اور دہشت گردوں کا راستہ روکنا ہے۔ شیخ الاسلام کی قیادت نفرت کو ختم کرنے اور محبت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔
  • محترمہ افنان بابر (ناظمہ ویمن لیگ) نے کہا کہ منہاج القرآن ویمن لیگ کی جملہ تنظیمات اور عالمی میلاد کانفرنس میں شریک ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں جو اس سخت سردی کے موسم میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے دیپ جلائے اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی خیرات لینے آئی ہیں، خصوصی مبارکباد کی مستحق ہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں جھومتا ہوا یہ خوبصورت منظر ہمیں یقینا آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہات اور فیوضات عطا کرنے کا سبب بنے گا۔ آج ظلم و جبر ایک مرتبہ پھر اپنی حدیں عبور کررہا ہے۔ اس کا مقابلہ محبت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سے کرنا ہوگا اور زبان سے محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس محبت کو وفا تک پہنچانے کے لئے تحریک منہاج القرآن کے شانہ بشانہ جدوجہد کرنا ہوگی۔
  • اس عالمی میلاد کانفرنس میں خیبر پختونخواہ سے بھی کبار علماء و مشائخ نے خصوصی شرکت کی۔ ان تمام احباب کو پشتو زبان میں محترم علامہ الحاج امداداللہ خان قادری نعیمی (صدر منہاج القرآن علماء کونسل) نے خوش آمدید کہا۔
  • کانفرنس میں شریک کثیر علماء کی کی نمائندگی کرتے ہوئے محترم مفتی محمد عبدالقوی (چیئرمین مدارس اہل سنت جنیدیہ) نے کہا کہ یہ عظیم الشان عالمی میلاد کانفرنس شیخ الاسلام کے اخلاص، للہیت کی برکت سے انعقاد پذیر ہے جس میں لاکھوں لوگ اس سردی کے موسم میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا تذکرہ سن رہے ہیں۔ یہ اجتماع اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جب شیخ الاسلام نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے حوالے سے صدا دی تو لاکھوں لوگوں نے نہ صرف لبیک کہا بلکہ عملی طور پر بھی شریک ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ میں وہ روح پیدا فرمائی کہ جس سے قوموں میں حیاتِ نو پیدا ہوتی ہے۔ شیخ الاسلام نے عشاقان مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عشق و محبت، ذوق و شوق، لذت و سرور اور عقیدت کے حقیقی مقام تک پہنچایا۔
  • کانفرنس میں QTV کے معروف میزبان محترم صاحبزادہ تسلیم احمد صابری بھی اپنے منفرد انداز سے آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت کچھ ان الفاظ میں پیش کیا:

اندھیروں کے مقابل آفتاب آیا ہی کرتا ہے
بشر بے چین ہوتو انقلاب آیا ہی کرتا ہے

پرانے ساغروں میں جب کھنک باقی نہیں رہتی
تو گردش میں نیا جام شراب آیا ہی کرتا ہے

آثار بہاراں ہے نہ گھبراؤ چمن والو
گلوں کے داغ دھونے کو سحاب آیا ہی کرتا ہے

نئے جب ولولے پیدا ہوجاتے ہیں سینوں میں
پرانی آرزوؤں پر شباب آیا ہی کرتا ہے

  • محترم ڈاکٹر فادر جیمز چنن (ڈائریکٹر پیس سنٹر کیتھولک چرچ آف پاکستان) نے عالمی میلاد کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور تمام قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مجھے 32 ویں عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کا اعزاز بخشا۔ میرے لئے سعادت ہے کہ میں اس میلاد کانفرنس میں آیا ہوں۔ میری طرف سے تمام مسلمان بھائیوں، بہنوں کو پیغمبر اسلام کا یوم ولادت مبارک ہو۔ میں لاہور کے بشپ کی طرف سے بھی آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں طاہرالقادری صاحب کو بہت سالوں سے جانتا ہوں۔ جب انہوں نے 1998ء میں مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم کا آغاز کیا تھا، میں بھی اس کا ایک ممبر تھا۔ آج منتظمین نے تاریخ رقم کردی ہے کہ آج عیسائیت کے ماننے والوں اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا ہے۔ کیوں نہ ہم عملی زندگی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر امن و محبت کو فروغ دیں اور دہشت گردی کو ختم کریں۔
  • سابق وزیراعلیٰ بلوچستان محترم نواب غلام بخش باروزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن میرے لئے ایک خاص مقام رکھتا ہے، نہ صرف یہ کہ جشن عید میلاد النبی ہے بلکہ میں پہلی بار اس عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کررہا ہوں۔ میں محترم ڈاکٹر طاہرالقادری کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے اس پروگرام میں شرکت کی سعادت بخشی۔ میں نے یہاں سے بہت کچھ حاصل کیا۔ دنیا کو امن دینے والا مذہب اسلام ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو ہر مذہب والے اپنے اپنے انداز سے اپنائے ہوئے ہیں مگر ہم مسلمان آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو بھلائے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک کے حالات کافی تکلیف دہ ہیں۔ ایسے میں بہت سی شخصیات کام کررہی ہیں مگر شیخ الاسلام جو کام کررہے ہیں وہ بہت بڑا ہے۔ سیاسی محاذ پر بھی انہوں نے پاکستان کو بہت کچھ دیا۔ ان کی باتوں اور افکار سے بہت سی جہتیں نکلتی ہیں۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس سے مستفید ہوں اور اس ملک کو سیدھا راستہ پر لے جانے کی کوشش کریں۔ ہم آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ پر چل کر کامیابی کی طرف جاسکتے ہیں کیونکہ یہی ہمارا راستہ ہے۔ میں اتنا بڑا مجمع دیکھ کر اورآپ لوگوں کی آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت و ذوق و شوق دیکھ کر پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے مایوس نہیں ہوں۔
  • محترم سعید رضا بغدادی نے عربی زبان میں الازہر مصرسے آنے والے مہمانان گرامی کو 32 ویں عالمی میلاد کانفرنس میں خوش آمدید کہا اور خطاب کی دعوت دی۔
  • محترم شیخ الدکتور محمد عبدالستار الجبال العمران نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں تعظیم و توقیر مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوبصورت انداز سے بیان کیا اور شیخ الاسلام کو اس خوبصورت کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
  • محترم شیخ الدکتور محمد عبدالرحیم البیومی نے شفاعت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، میلاد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیمات مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر روشنی ڈالتے ہوئے میلاد مصطفی کے مقصد کی طرف سامعین کی توجہ مبذول کروائی۔ انھوں نے عشق مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ میں تحریک کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

خصوصی خطاب شیخ الاسلام

32 ویں سالانہ عالمی میلاد کانفرنس میں تلاوت، نعت اور خطابات کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب سے قبل مرکزی قائدین، منتظمین اور سٹیج انتظامیہ کو مبارکباد دی کہ جنہوں نے احسن انداز میں پروگرام کو کنڈکٹ کیا۔ اس موقع پر آپ نے مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن پر قائم گوشہ درود کے10 سال مکمل ہونے پراس پروگرام کو گوشہ درود کا 10 سالہ جشن بھی قرار دیا اورگوشہ درود کی انتظامیہ اور تمام ہدیہ درود بھیجنے والوں کو مبارکباد دی۔ گوشہ درود کے تحت اب تک 1 کھرب 10 ارب 88 کروڑ سے زائد مرتبہ درود و سلام پڑھا گیا۔

میلاد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکی مناسبت سے کئے گئے آپ کے خصوصی خطاب کی تلخیص درج ذیل ہے:

محبت انسانی اعمال کا نام نہیں ہے۔ محبت ایک جذبہ و ولولہ ہے۔ یہ ایک نفسی، قلبی، وجدانی روحانی کیفیت و حالت ہے جو دل میں جنم لیتی ہے، دل میں پلتی ہے اور دل میں فروغ پاتی ہے۔ جو کچھ اعمال و افعال کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتا ہے وہ اس جذبہ محبت کے مظاہر و لوازمات اور علامات و ثبوت ہیں۔ مظاہر کو اصل حقیقت نہیں کہتے۔ اصل حقیقت وہ ہے جو ہمارے دل میں اللہ نے پیدا کی ہے۔ وہ جذبہ ہمارے اندر ایک حدت و تپش پیدا کررہا ہے جس کی بدولت اس یخ بستہ رات میں کھلے آسمان تلے آپ پوری رات بیٹھے رہے۔ اگر وہ جذبہ محبت نہ ہو تو اس طرح کوئی نہ بیٹھ سکے۔ پیسے دے کر کوئی تپتی دھوپ میں کسی کو 72 دن نہیں بٹھاسکتا۔ نہ پیسے دے کر کوئی کسی کو سخت سردی میں بٹھا سکتا ہے۔ نہ پیسے دے کر کوئی شخص گولیاں کھاسکتا ہے اور نہ کوئی پیسے لے کر کوئی شخص اپنا سب کچھ تج کرسکتا ہے۔ یہ جذبہ محبت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ یہ سودے وہ ہیں جنہیں کوئی بڑا مالدار خرید ہی نہیں سکتا۔ یہ سودے وہ ہیں جن کو اللہ نے بندے کے ساتھ طے کیا ہے۔ مولیٰ خریدار و سوداگر ہے اور بندے کی محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو بندے کو مولیٰ اور صاحب گنبد خضریٰ کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔ محبت انسان کا طرز فکر، طرز عمل اور سیرت و کردار متعین کرتی ہے۔ یہ محبت اس شخص کی شخصیت کا نقشہ پیدا کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنی محبت کو جانچنے کے لئے امتحان لیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی محبت کا بھی امتحان لیا گیا۔ فرمایا:

وَاِذِا بْتَلٰٓی اِبْراهمَ رَبُّهٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ۔

(البقرۃ:124)

’’اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا‘‘۔

آپ کو نار نمرود میں پھینکا گیا مگر آپ ثابت قدم رہے۔ فرشتہ نے آگ بجھانے کی پیشکش کی مگر آپ نے انکار فرمادیا۔ جب محبت جیت گئی اور جل جانا بھی ڈرا نہ سکا، محبت انکار پر قائم و دائم رہی تو حکم آگیا:

یٰـنَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰـمًا عَلٰٓی اِبْرٰهیْمَ۔

(الانبیاء: 69)

’’اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا‘‘۔

یعنی میں ابراہیم کو جلانا نہیں بلکہ اس کی محبت کو آزمانا چاہتا تھا، وہ ثابت قدم رہا لہذا اے آگ تو باغ و بہار بن جا۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے مزید امتحانات لئے۔ اولاد کی قربانی کا مرحلہ آیا یا بیوی بچوں کی محبت کی قربانی، آپ نے سب کچھ اللہ کے لئے قربان کردیا اور تمام امتحانات میں کامیاب ہوگئے۔ مقصود بیٹے کو ذبح کرانا نہ تھا بلکہ بیٹے کی محبت کو ذبح کرانا تھا کہ اس کی محبت جیتتی ہے یا اللہ کی محبت جیتتی ہے۔ باپ بیٹے کی محبت کو اللہ کی محبت پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے، بیٹے نے اپنی جان کی محبت کو اللہ کی محبت پر قربان کردیا۔ ایسی کامیابی ملی کہ آج تک عیدالاضحی اس محبت کی کامیابی کی علامت بن گیا۔

جامع ترمذی میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم میں آپ سے بڑی محبت کرتاہوں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انظر ماذا تقول (سوچو کیا کہہ رہے ہو؟) اس نے پھر قسم کھائی کہ مجھے آپ سے محبت ہے آپ نے پھر فرمایا انظر ماذا تقول (سوچو کیا کہہ رہے ہو؟) اس نے پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کو بیان کیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اِنْ کُنْتَ تُحِبُّنِیْ فَاَعِدْ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا۔

اگر مجھ سے محبت ہے تو پھر فقرو فاقہ کے لئے تیار ہوجا۔ زندگی کی مشکلات، دکھوں، پریشانیوں کے لئے تیار ہوجاؤ۔ اس لئے کہ

فَاِنَّ الْفَقْرَ اَسْرَعُ اِلٰی مَنْ یُّحِبُّنِیْ مِنَ السَّیْلِ اِلَی مُنْتَہَاہٗ۔

جب کوئی مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقرو فاقہ، غربت و پریشانی، بھوک و پیاس اتنی تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھتے ہیں جتنی تیزی سے سیلاب اپنی منزل کی جانب بڑھتا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب کے آخر میں تحریک منہاج القرآن کی طرف سے آغاز کردہ ’’ضرب امن‘‘ مہم کو بھی کامیاب بنانے کے لئے تمام فورمز اور نظامتوں کو تاکید کی کہ ضرب امن کے ساتھ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت کے پیغام کو اور معاشرے میں امن و سلامتی کے پیغام کو عام کرنے کے لئے مستعد ہوجائیں۔ تحریک منہاج القرآن عوام الناس میں جس ضربِ امن کا آغاز کر رہی ہے وہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں امن کے فروغ کی کاوش ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں حصہ لینے والے اسلام اور پاکستان کے سچے سپاہی اور قوم کے ہیرو ہیں، ہم ان کی حفاظت اور کامیابیوں کیلئے دعا گو ہیں۔ دنیا قیام امن کیلئے صاحب گنبد خضریٰ سے رہنمائی لے۔ اسلامی معاشرہ عدل و انصاف، برداشت اور انسانی حقوق کے احترام کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ کرپشن، معاشی استحصال، قتل و غارت گری، ناانصافی اور انتہا پسندی کافرانہ نظام کی پہچان ہیں۔ نبی آخرالزماں صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت کیلئے امن اور رحمت کا پیغام بن کر آئے اور انہوں نے ہمیشہ مظلوم، غریب اور یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔ ان کا سچا امتی سوسائٹی کے کمزور طبقات پر ظلم نہیں کر سکتا۔ ضرب امن سے جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدلا جائے۔ دین محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تنگ نظروں، انتہا پسندوں، علم کے دشمنوں، خودکش بمباروں اور مذہبی سوداگروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

عالمی میلاد کانفرنس کا یہ عظیم الشان اور پروقار پروگرام حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے نغموں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ خوشی اور جشن کے اظہار کے طور پر آتش بازی کا خوبصورت سلسلہ بھی جاری تھا اور فضا میں یہ نغمے بھی گونج رہے تھے:

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام۔۔۔ شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند۔۔۔ اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

رحمتوں کے تاج والے دو جہاں کے راج والے عرش کی معراج والے عاصیوں کی لاج والے

یانبی سلام علیک یارسول سلام علیک یا حبیب سلام علیک یارسول اللہ صلوۃ اللہ علیک

میلاد کانفرنس کے اختتام پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی دعا فرمائی۔

مجالس العلم کا آغاز

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 17 اکتوبر 2015ء سے ’’مجالس العلم‘‘ کے نام سے تدریس کا ہفتہ وار ایک نیا سلسلہ شروع فرمایا۔ اب تک اس سلسلہ کی 29مجالس ہو چکی ہیں۔ ہر مجلس تقریباً 2گھنٹے کی گفتگو پر محیط ہے۔ ان مجالس میں آپ نے اب تک ’’مجالس علم کی اہمیت و ضرورت‘‘، ’’علم کی ضرورت و اہمیت‘‘ اور ’’ضرورت مذہب اور وجود باری تعالیٰ (فلسفہ اور سائنس کی روشنی میں)‘‘ کے موضوعات کو بیان فرمایا۔ مجالس العلم کے اس سلسلہ کے آغاز میں آپ نے اس کی ضرورت و اہمیت اور اسلوب و طریقہ تدریس کی وضاحت میں فرمایا:

’’مجالس العلم کی صورت میں طویل عرصہ کے بعد سلسلہ تعلیم و تدریس اور تربیت کے لئے میری ایک خواہش کے پورا ہونے کے اسباب اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے۔ میں نے تقریباً چار پانچ سال قبل جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن (کالج آف شریعہ) لاہور کے طلبہ اور پھر ملک بھر کی دیگر دینی جامعات، دارالعلوم، مدارس اورتعلیمی اداروں کے طلباء، علماء، اساتذہ، معلمین، متعلمین اور مستفیدین تمام کی علمی رہنمائی کو ذہن میں رکھ کر ارادہ کیا تھا کہ چار پانچ بنیادی ضروری علوم پر عربی میں کچھ کتب تحریر کی جائیں جنہیں متن کے طور پر پڑھایا جائے۔ ان کتب کو تا حال مرتب کر رہا ہوں مگر ملکی و بین الاقوامی مصروفیات کے باعث ان کتب کی تکمیل ممکن نہ ہو سکی۔ میں نے چاہا کہ ان کتب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کے موضوعات پر سلسلہ وار دروس کا آغاز کردیا جائے۔

’’مجالس العلم‘‘ کے آغاز کا دوسرا سبب یہ ہے کہ میں جامعہ کے طلباء، اساتذہ، علماء اور جمیع طالبانِ علم کے لیے ہفتہ وار ایک درس کا آغاز کرنا چاہ رہا تھا، جس کا اسلوب خطابیہ کی بجائے تدریسی ہو اور ان پر مغز مجالس سے کثیر حلقات مستفید ہو سکیں۔ اس سے قبل برطانیہ اور یورپ میں بہت عرصہ قبل تقریباً آٹھ/ دس سال تک ’’الہدایۃ‘‘ کے عنوان سے بھی میں نے تین تین روزہ کیمپ منعقد کئے تھے۔ علاوہ ازیں برمنگھم میں دورہِ صحیح بخاری و مسلم، دورئہ صحیحین، بھارت کے دورہ فروری، مارچ 2012ء میں حیدرآباد دکن میں بھی اصول الحدیث اور حدیث کے موضوع پر تین روزہ دروس ہوئے۔ مگر یہ سلسلہ میری دیگر علمی و فکری اور تنظیمی مصروفیات کی بنا پر منقطع ہو چکا تھا۔ ان تمام خِطوں کے افراد اور ان کی علمی ضروریات کے پیش نظر میں نے ہفتہ وار دروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ’’مجالس العلم‘‘ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے توفیق مرحمت فرمائی۔

مجالس العلم کی ان نشستوں کا مقصد علم کی فضیلت اور اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں میں، مشرق ہو یا مغرب ہر طرف، مادیت کے غلبہ کے باعث علم کا کلچر رخصت ہو رہا ہے۔ دینی و دنیوی علم سے شغف رکھنے والے لوگ ہوں یا ماڈرن ٹیکنالوجی سے محبت رکھنے والے، ہر ایک کے اندر سے علم کی رغبت و محبت اورمطالعہ کا ذوق تقریباً ختم ہورہا ہے۔ جدیدٹیکنالوجی کے آنے کے بعد ہر مطلوبہ علمی مواد انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے online میسر ہے۔ جس کو جیسا مواد ملے وہ اسی پر اکتفاء کرتا ہے اور خود تحقیق نہیں کرتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محض انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اکتفاء کرنے پر ہم نہ صرف صحیح (پختہ) علم سے محروم ہوتے جارہے ہیں بلکہ تحقیق اور ریسرچ سے بھی دور چلے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر مختلف عنوانات سے آرٹیکلز اور مختلف موضوعات پر اپنی ذاتی رائے بغیر تحقیق کےup load کردی جاتی ہے، جس میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔ تصدیق کا کوئی ذریعہ اور بنیادی کتب تک رسائی نہ ہونے کے سبب یہ غلط تصورات فروغ پا جاتے ہیں۔ یہ مضامین علمی ثقاہت و صداقت سے خالی ہوتے ہیں۔ چونکہ اسی غیر مصدقہ مواد کا بڑا حصہ cut past ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک نے لکھا دوسرے نے copy کر کے آگے لکھ دیا، تیسرے نے copy کر کے آگے لکھ دیا۔ آرٹیکلز پہ آرٹیکلز copy کئے جا رہے ہیں مگر اصل مصدر اور منبع تک آرٹیکل لکھنے والے اور copy کرنے والے کسی ایک کی بھی الا ماشاء اللہ رسائی نہیں ہوتی۔ لہذا غیر تحقیقی مضامین کی صورت میں بہت سی اغلاط اور غلط تصورات، مسلسل آگے پھیل جاتے ہیں۔

جدید ذرائع کے باوجود علم کی طلب رکھنے والوں کی کتب، متون، حواشی، شروح، امہات الکتب، علم کے اصل مصادر، ماخذ اور منابع تک رسائی نہیں ہے کیونکہ محنت کا کلچر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اصل ماخذ سے مطالعہ کرنے کا ذوق ختم ہو چکاہے، بس کمپیوٹر ON کیا اور علم کی تلاش شروع کر دی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کتابوں کی خریداری اور ان کو پڑھنا باقی نہیں رہا۔ ماضی میں ہمارے اکابر اور بزرگوں کا کلچر بنیادی کتب کا مطالعہ کرنا، اصل مصادر کو دیکھنا، ایک ایک مسئلے کے لیے سینکڑوں کتب کو کھنگالنا تھا۔ افسوس اب یہ کلچر ختم ہو چکا ہے جس کے ذریعے ہمیں نسل در نسل علم منتقل ہوا۔

ہمارے اسلاف ساری ساری رات مطالعہ کرتے، علم کے حصول کے لئے سفر کرتے، تصنیف و تالیف کرتے اور پڑھاتے تھے۔ علم کے حصول کے لئے محنت کے اس کلچر کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ عالم اسلام اور مغربی دنیا میں رہنے والے طلباء و طالبات، علماء، اساتذہ، متعلقین، تشنگانِ علم اور طالبانِ علم کو جھنجھوڑا جائے اوران میں علم کے کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کا احساس پیدا کیا جائے تاکہ ہم اپنی بنیاد سے اپنے تعلق کو مضبوط و مستحکم کرتے ہوئے دنیا کی امامت و قیادت کے فریضہ کو نبھانے کے قابل ہوسکیں۔

’’مجالس العلم‘‘ کے عنوان سے آغاز کردہ اس سلسلہ میں تعارفی موضوعات کے علاوہ اصول العقیدہ، اصول التفسیر، اصول الحدیث، اصول الفقہ، اصول الادب وتربیہ، الفقہ الحنفی (الادلۃ الشرعیہ) اور دیگر کئی موضوعات کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اکابرین کی سنت کی اتباع میں مجالس العلم میں عام و خاص ہر دو طبقہ کے علمی و فکری استفادہ کے لیے موضوعات بیان کئے جائیں گے‘‘۔

شیخ الاسلام کے مرتب کردہ فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے امن نصاب کی لندن میں تقریب رونمائی

دہشت گردی، انتہا پسندی کے خاتمے، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مرتب کیے گئے امن نصاب کی تقریب رونمائی 23 جون کو ویسٹ منسٹر ہال لندن میں ہوئی۔ تقریب میں برطانیہ کے پارلیمنٹرینز، سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماء، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پالیسی ساز اداروں، کالجوں اور یونیورسٹی کے نمائندگان، انٹرفیتھ ریلیشنز کے راہنماؤں، عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کی یورپی تنظیموں کے عہدیداران اور پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک عالمی برائی ہے، اسے صرف بندوق کے زور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اس کیلئے نوجوان نسل کی فکری اصلاح اورہر سطح پر پڑھائے جانیوالے نصاب کی ایک ایک سطر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے پرعزم، درد مند اور محب وطن قیادت کی ضرورت ہے۔ پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن انٹرنیشنل دہشت گردی کے خاتمے اور عالمی امن کے پائیدار قیام کیلئے ہر سطح پر جدوجہد کر رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل فتویٰ کے بعد امن نصاب کی تیاری اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔

فروغ امن اور انسانیت کو قتل و غارت گری سے بچانے کے لیے میں نے چند سال قبل چھ سو صفحات پر مشتمل جامع تحریری فتویٰ جاری کیا تھا، مگر اس کے بعد عالمی برادری سمیت تمام اسلامی ممالک نے کبھی کوشش نہیں کی کہ نوجوانوں کو ایسا جامع نصاب مہیا کیا جائے جس کے ذریعے وہ نام نہاد جہادیوں کے فکری حملوں سے محفوظ ہو سکیں۔ نصاب مدرسہ کا ہو یا سکول کا۔۔۔ کالج کا یا یونیورسٹی کا۔۔۔ افسوس کسی سطح کے نصاب میں امن نام کا کوئی باب شامل نہیں ہے۔ جہاد کیا ہے اور فساد کیا ہے؟ اس پر بھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔۔۔ انسانیت سے محبت، عدم تشدد، اور برداشت پر کوئی باب نہیں ہے۔۔۔ جھگڑے اختلافات ہوں تو پر امن طریقے سے حل کیسے کریں؟ اس پر کوئی باب نہیں ہے۔۔۔ اسی طرح غیر مسلموں کے حقوق پر کوئی باب نہیں ہے۔۔۔ قتل و غارت گری اور دہشتگردی کی مذمت پر کوئی باب نہیں ہے۔

لہذا اسی ضرورت کے پیش نظر میں نے 25 کتابوں پر مشتمل درج ذیل امن نصاب کو انگلش، اردو اور عربی زبانوں میں تشکیل دیا ہے۔ یہ نصاب اس قدر جامع اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے کہ دنیا بھر کی علمی درسگاہوں میں اس نصاب کو نافذ کر کے نوجوان نسل کو نام نہاد جہادیوں کے حملوں کے خلاف علمی اسلحہ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب

( ریاستی سکیورٹی اِداروں کے افسروں اور جوانوں، اَئمہ، خطباء اور علماء کرام، اَساتذہ، وکلاء اور دیگر دانشور طبقات، طلبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے جملہ طبقات کے لیے 6 کتب پر مشتمل یہ Text Books اردو، انگریزی اور عربی زبان میں ہیں۔ )

درج بالا نصاب جن کتب سے پڑھایا جائے گا، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:

دہشت گردی اور فتنہ خوارج (مبسوط تاریخی فتویٰ)

الجہاد الاکبر

اِسلام میں محبت اور عدمِ تشدّد

اسلام اور اہل کتاب (تعلیمات قرآن و سنت اور تصریحات ائمہ دین)

کتاب الجہاد

اَلأَحْکَامُ الشَّرْعِیَّة فِي کَوْنِ الْإِسْلَامِ دِیْنًا لِخِدْمَةِ الْإِنْسَانِیَّة (اِسلام اور خدمتِ اِنسانیت)

البیان فی رحمۃ المنان (رحمت الہٰی پر ایمان افروز احادیث مبارکہ کا مجموعہ)

.5 الوفا فی رحمۃ النبی المصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم(جمیع خلق پر حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت)

.6 العطاء العمیم فی رحمۃ النبی العظیم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم (رحمت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)

7. Fatwa on Terrorism and Suicide Bombings

8. Relations of Muslims and non-Muslims

9. Islam on Serving Humanity 19. Islam on Love & non-Violence

10. The Supreme Jihad 21. Peace, Integration and Human Rights

11. Islamic Spirituality & Modern Science (The Scientific Bases of Sufism)

12. Islam on Mercy and Compassion 24.Muhammad صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم : The Merciful

13. Muhammad صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمThe Peacemaker

یہ کتب امن عالم کے لئے قرآن و حدیث سے مزین کی گئی ہیں۔ ان میں اسلام میں انسانیت کے تصور کو بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں اداروں میں ان Subjects پر نہیں پڑھایا جاتا۔ انسانیت بطور مضمون نہیں پڑھائی جاتی۔ غیر مسلموں کے حقوق، جہاد کا حقیقی تصور بطور Subject نصاب میں شامل نہیں ہے۔

دہشتگرد تنظیمیں ان ممالک اور معاشروں میں آسانی سے پروان چڑھتے ہیں جہاں سیاسی و معاشی عدم استحکام ہو، ناانصافی اور استحصال ہو۔ جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور اور تقسیم کررہے ہیں۔ اپنے نفس کے خلاف لڑنے اور حیوانی خواہشات پر غلبہ پانے کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔ جہاد کیلئے یا دفاع کیلئے ہتھیار اٹھانے کی اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اور استحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا نامعلوم تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ یہ تعلیم قرآن اور پیغمبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے اور دین اسلام میں ان سے بڑی اتھارٹیز اور کوئی نہیں۔

انٹرنیٹ پر اور برطانوی اور دیگر معاشروں میں نوجوانوں کے انتہا پسند بننے کا مسئلہ شدت کے ساتھ موجود ہے، اس مسئلے کو اسلام کی درست تعلیمات کے فروغ ہی سے شکست دی جاسکتی ہے۔ داعش جیسے گروپوں کی ریکروٹنگ کو جوابی امن مہم سے روکنا ہوگا۔ داعش یا کسی دوسرے دہشت گرد انتہا پسند گروپ کی سرگرمیاں خواہ خدا کے نام پر ہوتی ہوں یا مذہب کے نام پر یا تشدد سے کسی بھی قسم کی اسلامی ریاست کے قیام کے ذریعے، دہشت گردی کی یہ تمام سرگرمیاں قرآن اور اسلام کی تعلیمات کے صریحاً خلاف ہیں۔ یہ لوگ اپنے ایجنڈے کے مطابق اسلامی تعلیمات کو مسخ کررہے ہیں، اس لئے انہیں ہر حال میں شکست دینا ہوگی۔ ان گمراہ لوگوں میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے نوجوان اپنے عیش و آرام کی زندگی کو اس لئے چھوڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کے سامنے اسلام کی حقیقی تعلیمات پیش نہیں کی گئیں‘‘۔

اس تقریب رونمائی سے سعیدہ وارثی، خالد محمود (MP)، ڈاکٹر کرامت چیمہ، علامہ نثار بیگ قادری، بریگیڈئیر پال ہارکنز، بیرسٹر فیض الاقطاب، شیخ محمد سعید، قاری محمد عاصم MBE، ڈاکٹر اقتدار چیمہ، عاصم رشید اور ڈاکٹر زاہد اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس امن نصاب کو سراہا اور اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔

٭ بریگیڈیئر پال ہارکنز: دہشت گردی اور خودکش حملوں پر جاری کئے گئے فتوی اور اسلام کے تصور رحم و سلامتی اور رواداری پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خصوصی تحریر کو وصول کرنا اپنے لئے بڑی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔ ان کی آمد ہم میں سے ان لوگوں کے لئے حیرت کی بات نہیں جو ڈاکٹر طاہرالقادری کے امن اور دہشت گردی کے خلاف کی گئی شبانہ روز جدوجہد اور اس سلسلے میں نصاب امن کے مرتب کرنے اور اس پر پوری توجہ مرکوز کرنے سے پہلے سے آگاہ ہیں۔ یہ ایک ایسا انتہائی متاثر کن تخلیقی کام ہے جس کی رہنمائی عالم اسلام کے ایسے نامور سکالر نے سرانجام دی ہے جو اسلامی لاء پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔

میں یہاں اپنی موجودگی کو باعث فخر سمجھتا ہوں میں اس موقع پر ڈاکٹر طاہرالقادری کے خودکش حملوں اور دہشت گردی پر لکھے گئے فتویٰ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کتاب کا بیانیہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی وہ عالمانہ اور استدلالی گرفت ہے جو ایک خود کش حملہ آور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کے جواز میں پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے تفصیل کے ساتھ اس سارے ظالمانہ عمل کی تحقیق کرکے اس امر کو روز روشن کی طرح عیاں کردیا ہے کہ سفاکانہ قتل و غارت گری اور بے گناہ لوگوں کو رنج و الم سے دوچار کرنا کبھی بھی حق کی آواز کو ختم نہیں کرسکتا اور ڈاکٹر صاحب کا یہ نصابی کام ہر صورت ہمیں کامیابی کی منزل سے ہمکنار کرے گا۔

٭ خالد محمود (MP UK): آج کا دن میرے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اس لئے اہم ہے کہ کسی نے تو غیر معمولی جرات و دلیری سے اپنے غیر معمولی خصوصی علم و دانش کی بنیاد پر جس پر خود ان کا غیر متزلزل ایمان ہے دنیا میں حق کی خاطر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی یہ دلیرانہ سوچ ہی مسلم سوسائٹی کے لئے پیروی کرنے کا صحیح رول ماڈل ہے۔ غیر یقینی کی فضا میں ایک ٹھوس حقیقت آپ کے سامنے موجود ہے جو چاہے اس پر عمل کرنے کے لئے ایک کشادہ راہ موجود ہے۔ جس کے لئے آپ لوگوں کو آمادہ عمل کرسکتے ہیں۔ اپنے بچوں کو سمجھانے کے لئے ہمیں خود ڈاکٹر قادری کے لائحہ عمل پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ میں ڈاکٹر طاہرالقادری کا شکر گزار ہوں کیونکہ یہی وہ حقیقی دینی راہ ہے جس پر ہماری نوجوان نسل کو چلنے کی ضرورت ہے۔

٭ شیخ زینل آفتاب صدیقی (پرنسپل سیوطی انسٹی ٹیوٹ آف لرنگ): شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا یہ سلیبس اگر عملی طو رپر نافذ کردیا جائے تو نچلی سطح سے لے کر لیڈرشپ کی سطح تک دونوں کے لئے بیک وقت مامونیت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس سلیبس کے مندرجات نے ہمیں ایک طرح کے تعمیر نو اور غور و خوض کرنے کے عمل سے متعلق کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم ایک تازہ ہوا کے جھونکے میں سانس لینے کے قابل ہوئے ہیں اور یقینا منہاج القرآن کی وساطت سے بطور ایک آزاد ادارے کے ہم اپنی لیڈرشپ میں اس سلیبس کو متعارف کروائیں گے۔ اس موقع پر میں منہاج القرآن کو مبارکباد دیتا ہوں اور بلاشبہ ان ساری کوششوں کا سہرا حضرت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سر سجتا ہے۔

٭ علامہ نثار بیگ قادری (سینئر لیڈر جماعت اہل سنت UK): ہم اس ملک میں گذشتہ 50 سال سے مقیم ہیں۔ یہاں ہماری بہت سے مساجد اور اسلامی سنٹر ہیں لیکن بدقسمتی سے مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ ان پچاس سالوں میں ہم اپنی ان مساجد اور اسلامی سینٹر میں اپنے اساتذہ اور بچوں تک کو بھی ایک جدید تقاضوں کا حامل متوازن سلیبس اور کورس متعارف نہیں کرواسکے۔ ہم تو اپنی ان مساجد اور اسلامی سینٹرز میں وہی پرانا کورس پڑھا رہے ہیں جو پچاس سال قبل یہاں آتے ہوئے اپنے ساتھ لائے تھے مثلاً قرآن کی قرات سکھانے یا اسلام کے متعلق بنیادی تعلیم اور معلومات۔ میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے نہ صرف ایسے سلیبس کے بارے میں سوچا اور ارادہ کیا بلکہ ایسا کرکے بھی دکھادیا۔ میں اور یہ تمام ائمہ مساجد اور مسلم سکالرز آپ پر فخر کرتے ہیں کہ آپ نے یہ سب کچھ ہمارے لئے سرانجام دیا اور اعلان کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ رمضان المبارک کے بعد تمام مساجد اور اسلامی سینٹر میں یہ سلیبس رائج کردیا جائے گا۔

٭ شیخ محمد سعید (لیکچرار اسلامک سٹڈیز لندن): ہم میں سے ہر ایک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اس مجاہدانہ، دلیرانہ اور متاثر کن کام کرنے پر نہ صرف تعریف کرتا ہے بلکہ سپاس گزار بھی ہے۔ آج کے ان مشکل ترین حالات میں ایسے ہی مرد کامل اسلامی اسکالرکی ضرورت تھی۔ نوجوان نسل کی دینی تربیت اور ان عام لوگوں کے لئے جو اسلام کی مبادیات سے ناواقف ہیں بلاشبہ یہ سلیبس ایک عظیم کاوش ہے۔

٭ ڈاکٹر اقتدار چیمہ (ماہر تعلیم و تجزیہ کار): آپ ہمارے لئے مینارہ نور ہیں۔ آپ نے اپنی شبانہ روز محققانہ مجددانہ جدوجہد سے اسلام کو مستقبل میں درپیش مسائل سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مرتب کردہ اس امن نصاب کو برطانیہ بھر میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ بی بی سی، CNN سمیت تمام عالمی میڈیا نے اسے ایک اہم تقریب کے طور پر نشر کیا اور فروغ امن کے لئے اسے اہم ترین قدم قرار دیا۔ اس امن نصاب کی برطانیہ کے سینکڑوں امام مساجد اور مسلم تنظیمیں توثیق کرچکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی علماء اور والدین اپنی ذمے داری کا احساس کریں اور اپنے بچوں کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جوابی دلائل سے روشناس کرائیں، جس کی تفصیل اس امن نصاب میں شامل ہے تاکہ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کے آلہ کار بننے کے عمل کو روکا جاسکے۔

فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے اسلامی نصاب کی اسلام آباد میں تقریب رونمائی

معاشرے سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ اور معاشرہ کو امن و سلامتی، تحمل و برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنانے کی غرض سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اسلامی نصاب برائے فروغ امن و انسداد دہشت گردی کی تقریب رونمائی لندن کے بعد پاکستان میں میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں 29 جولائی 2015ء کو منعقد ہوئی۔ جس میں ماہرین تعلیم، سیاست دان، سول سوسائٹی کے ممبران، کالجوں، یونیورسٹی کے نمائندگان، انٹرفیتھ ریلیشنز کے راہنماؤں اور جملہ طبقات زندگی کے نمایاں افراد نے شرکت کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے خلاف امن نصاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’آج ہم دہشت گردوں کے قلع قمع کی بات تو کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کو دہشت گرد بنایا کیسے گیا؟ دہشت گردی تن آور درخت کی شکل کیسے اختیار کرگئی؟ اس موضوع کو Discuss ہی نہیں کیا جاتا حالانکہ اصل ذمہ دار وہ ہیں جو بیج بوکر درخت تیار کرتے ہیں، ان کے خاتمے کے لئے بھی جنگ کرنی ہوگی۔ یہ جنگ بھی پاک فوج لڑے گی، اس لئے کہ اس ملک کی نام نہاد قیادت کو صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے دہشت گردی کے بیج بونے والوں کے خلاف کبھی ایکشن لے ہی نہیں سکتے۔ یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ذریعے ہم کسی اور کی نہیں بلکہ اپنی بقاء کی جنگ لڑر رہے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اور فروغ امن کے حوالے سے تعلیمی ادارں اور مدرسوں کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔ میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے نصاب میں شروع سے لے کر آخر تک امن کے موضوع پر پڑھایا ہی نہیں جاتا اور نہ دہشت گردی کے خلاف پڑھایا جاتا ہے۔ اس نصاب کو ترتیب دینے کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ تعلیمی اداروں کے نصاب میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے نصاب میں معاشرتی و سماجی انصاف کو بھی بطور مضمون پڑھانا ہوگا۔

یہاں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا مگر افسوس اس کو ابھی تک اسمبلی سے منظور کرواکر قانونی حیثیت نہیں دی گئی۔ ان 20 نکات میں سے اسمبلی میں صرف فوجی عدالتوں کو منظور کیا گیا۔ بقیہ 19 نکات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ غیر ملکی فنڈنگ ابھی تک ہورہی ہے اور تمام کالعدم تنظیمات ابھی تک قائم ہیں۔ ہمیں دہشت گردوں کے وسائل کو روکنا ہوگا اور غیر ملکی فنڈنگ کا سدباب کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کی جنگ اور قومی ایکشن پلان کے حوالے حکومتی غیر سنجیدگی افسوس ناک ہے، حکومت اپنے رویے سے ظاہر کر رہی ہے کہ جیسے یہ جنگ صرف فوج کی ہے۔ فوجی آپریشن دہشت گردی کے خاتمے کا محض ایک پہلو ہے جب تک سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر انصاف نہیں ہو گا، یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔

اس ملک میں ایک ضرب عضب اور بھی چاہئے جو معاشی و سیاسی انصاف دے سکے۔ جب تک سکولوں، کالجوں، مدرسوں کا ماحول امن دوست نہیں ہو گا، معاشی، سیاسی سماجی نا انصافی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ تعلیم، صحت، روزگار کی بنیادی سہولتیں نہیں ملیں گی، سوشل اور لیگل جسٹس نہیں ملے گا تو ردعمل میں انتہا پسندی اور دہشت گردی فروغ پائے گی۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے اس اسلامی نصاب کی جزئیات تک کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ میری تمام مقتدر اداروں سے گزارش ہے کہ اس اسلامی نصاب کو کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھایا جائے۔ اس کے لئے کورسز بنائے جائیں یہاں تک کہ اگر اس نصاب کو پڑھانے کے لئے ان کتب سے میرا نام بھی مٹانا چاہیں تو مٹادیں، اس پر اپنا نام لکھ دیں، اپنے مدرسے کا نام لکھ دیں مگر وقت کی ضرورت کے پیش نظر اسے نصاب کا حصہ بہر طور بنائیں۔ یہ 25کتب ہیں ان میں سے جو مرضی لے لیں مگر خدارا بالعموم مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کے نظریات و عقائد میں سے انتہا پسندی کو نکالا جائے۔ ہم اپنے من گھڑت مذہب سے تائب ہوں اور اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو اپنائیں۔ خد اکے لئے علماء کرام اسلام اور ملک کی بہتری کے لئے یہ آواز بلند کریں اور اس نصاب کو پڑھائیں۔ ان شاءاللہ علم اور حق کی فتح ہوگی، ظلم اور جبر کی شکست ہوگی‘‘۔

شیخ الاسلام کے اس خصوصی خطاب کے بعد مہمان گرامی میں سے چند احباب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا:

  • محترم ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس نصاب کو فروغ امن کی ترویج کے لئے تیار کیا۔ یہ کام جو حکومت پاکستان کو کرنا چاہئے تھا وہ ڈاکٹر صاحب نے کردیا۔ حکومت یہ کام صرف باتوں کی حد تک کرتی ہے جبکہ ڈاکٹر صاحب نے پریکٹیکل طور پر کرکے دکھادیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسلام کی اصل تعلیمات سے ہمیں روشناس کرایا اور عملاً اسلام کا پرچار اس نصاب کے ذریعے کیا۔ قرآن و حدیث سے مزین ان کتب کو نصاب میں شامل کرنا چاہئے۔ یہ کسی ایک شخص، معاشرے یا ملک کا نہیں بلکہ دنیا کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کے حل کے لئے نکلے ہیں، یہ بڑا جہاد ہے۔ اس نصاب کے ذریعے ہمارا دنیا میں نام بلند ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آگے بڑھنے کے لئے اس نصاب سے عملی رہنمائی لیں۔ فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے لئے عملی طور پر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب جو خدمات دے رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔
  • محترم رحمن ملک (سینیٹر پاکستان پیپلز پارٹی) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت کے دشمن ہیں۔ میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو انسداد دہشت گردی کے نصاب کو پیش کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ واحد پاکستانی ہیں جنہوں نے ملک کو اس حوالے سے Educate کیا۔ آپ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف نصاب دیا۔ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا گو ہوں اور بطور سینیٹر حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر اپنے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شائع ہوسکتی ہے تو ماڈل ٹاؤن کے شہداء کی رپورٹ کو بھی شائع کریں۔ میں سینٹ میں اس رپورٹ کو شائع کروانے کے لئے اور اس امن نصاب کو سرکاری سطح پر نافذ کرنے کے حوالے سے بھی سینٹ میں آواز اٹھاؤں گا۔
  • محترم جہانگیر اشرف قاضی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کی کتب پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہونا چاہئے۔ یہ ایک عظیم اقدام ہے۔ آپ نے اس سے ملک کی خدمت کی ہے۔ آج آپ کی باتوں سے ہمیں بہت سبق ملا۔ ہم نے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے تو پہلے دہشت گردوں کو جاننا ہوگا کہ وہ کون ہیں اور ان کی معاونت کرنے والے کون ہیں؟ آپ ایک صاحب علم شخصیت ہیں۔ امن نصاب ان کی بہت بڑی اسلامی و قومی خدمت ہے۔ میں ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے کہوں گا کہ وہ دہشت گردی کی ایسی تعریف کا ڈرافٹ تیار کریں جو اقوام متحدہ کیلئے بھی قابل قبول اور قابل عمل ہو، پوری دنیا دہشت گردی کے مسئلے سے دوچار ہے مگر اس کی کوئی ایک متفقہ تعریف نہیں ہے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کو یہ عظیم کام کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
  • محترم مفتی عبدالقوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے لئے نصاب پیش کیا۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس فریضے کو سرانجام دیا ہے جس کی ذمہ داری علماء کرام پر دینی، علمی اور قرآن و سنت کے حوالے سے فرض تھی۔ میرے زیر اختیار 500 مدارس ہیں۔ ان مدارس میں اس نصاب کو پڑھایا جائے گا۔ شیخ الاسلام آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، ہمارے ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ آج میں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خوارج کے خلاف جنگ میں آپ ہمارے مولا ہیں۔
  • محترم صاحبزادہ قمر سلطان احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کاوش پر شیخ الاسلام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ صرف پاکستان نہیں پوری امت کا فریضہ تھا جو انہوں نے سرانجام دیا۔ ائمہ اور واعظوں کے لئے جس طرح حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت مجدد الف ثانی نے خدمات پیش کیں اس طرح ڈاکٹر صاحب نے نصاب کے ذریعے خدمات پیش کیں۔
  • کرسچن سٹڈی سینٹر کی راہنما مسز جینفر نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے جو نصاب پیش کیا اس میں امن اور انسانیت کے لئے درس دیا گیا ہے۔ نصاب کے ذریعے لوگوں کے نظریات کو بدلا اور اس سے سوسائٹی کے اندر تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ غیر مسلموں کے بارے میں اسلام کے صحیح نظریات کو پیش کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس سے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
  • محترم علامہ راجہ ناصر عباس (سربراہ مجلس وحدت المسلمین) نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب آئینی اور شرعی ہے۔ امن کے دشمنوں اور ناانصافی کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ ان کا مقابلہ نہ صرف جنگ کرکے بلکہ نظریاتی طور پر بھی کرنا ہوگا۔ ان کی فکری بنیادوں کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اسلامی نصاب کی صورت میں عظیم کام کیا۔ یہ نصاب فتح الباب ہے، یہ آواز الحق ہے۔ اسے سننا بھی چاہئے اور عمل بھی کرنا چاہئے۔ ہمارا تعلیمی نصاب ایسا ہو جو محبت اور امن لے کر آئے۔ شیخ الاسلام کو اس نصاب کو پیش کرنے پر بہت بہت مبارک ہو۔ آئیڈیالوجی کے محاذ پر امن نصاب دے کر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے جہاد کیا ہے۔
  • معروف تجزیہ نگار محترم فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کو دو فتنوں سے خطرہ ہے ایک خطرہ اسلام کے اندر ہے اور ایک خطرہ اسلام کو باہر سے ہے۔ شیخ الاسلام کا یہ نصاب اسلام کے اندر فتنے کرنے والوں کے خاتمے کی بات کرتا ہے۔ ہمارے فوجی نوجوان شہید ہوتے ہیں، ادھر سے اللہ اکبر اور ادھر سے بھی وہی نعرہ لگ رہا ہے۔ حقیقت میں شہید کون ہے؟ اس کی نشاندہی میں یہ نصاب بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اقبال نے فرمایا تھا:

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کیلئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

ان اشعار میں جو فلسفہ اقبال نے پیش کیا ڈاکٹر صاحب نے وہی فلسفہ اس اسلامی نصاب کے ذریعے بیان کیا ہے۔ یہ نصاب بنیادی طور پر ان اشعار کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس کی بہت ضرورت تھی۔ 30 لاکھ بچے یہاں مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں جب تک ان بچوں کو صحیح اسلام نہیں سکھایا جاتا اس وقت تک دہشتگردی کے عناصر پیدا ہوتے رہیں گے، اس کے لئے دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ اگر عالم اسلام میں کسی نے اس بنیادی بات کی طرف متوجہ کیا ہے تو وہ ڈاکٹر صاحب ہی کی شخصیت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حق، علم اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی ہوگی۔

مہمانان گرامی کے اظہار خیال کے بعد شیخ الاسلام نے جملہ مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ان کے نیک جذبات کو سراہتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔

منہاج القرآن علماء کونسل اور منہاجینز کے زیر اہتمام نصاب امن علماء کنونشن

منہاج القرآن علماء کونسل اور منہاجینز کے زیر اہتمام شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مرتب کردہ فروغ امن اور انسداد دہشت گردی کے اسلامی نصاب کے سلسلہ میں مورخہ 30 جولائی بروز جمعرات عظیم الشان نصاب امن علماء کنونشن منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان کے نامور و جید علماء کرام سمیت ایک ہزار سے زائد علماء کرام اور منہاجینز نے شرکت کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس کنونشن کو اسلامی نصاب کے حوالے سے تربیتی ورکشاپ قرار دیا۔ آپ نے انسداد دہشتگردی اور فروغ امن کے نصاب کے حوالے سے خصوصی لیکچر دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے آپریشن ضرب عضب کی طرح ہم نے ’’ضرب علم‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ انتہاء پسندی کے خاتمہ، امن اور رواداری کے فروغ کے حوالے سے علمائے کرام کا کردار مرکزی ہے۔ فوجی آپریشن کی 100 فیصد کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب علمی، سیاسی، سماجی سطح پر عوامی شعور اجاگر ہوگا۔ دہشتگرد ان علاقوں اور ممالک میں قوت پکڑتے ہیں جہاں ناانصافی، سیاسی، سماجی استحصال اور قرآن و سنت، آئین و قانون کی غلط تشریح ہوتی ہے اور اس علمی بد یانتی پر کوئی رد عمل دینے والا نہیں ہوتا یا مصلحتاً خاموشی اختیا ر کی جاتی ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے تاریخ عالم میں پہلی بار فروغ امن کیلئے نصاب تیار کیا ہے۔ اس نصاب میں شاملکتب ہر طبقہ کے افراد کے مطالعہ کیلئے مفید ہیں۔ امن کے فروغ کے نصاب کا مسلک اور مسلکی اختلاف سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ عالم اسلام کے ہر فرد اور پوری انسانیت کے مفاد میں مرتب کیا گیا ہے۔ علمی و تحقیقی سطح پر جو خلاء تھا ہم نے اسے پر کرنے کی پرخلوص کوشش کی ہے۔

نسلوں کو انتہا پسندی اور فتنہ خوارج سے بچانا علماء کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے۔ دہشت گرد اور انکے گروپس نام بدل بدل کر کرہ ارض پر فساد پھیلارہے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کو واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ ایسے عناصر خود واجب القتل ہیں۔ مدرسوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبائ، اساتذہ انسداد دہشتگردی کے نصاب کو اپنے مطالعہ کا حصہ بنائیں۔ بالخصوص علماء آئندہ نسلوں کو اس فتنہ سے بچانے اور پاکستان کی بقاء کیلئے اپنا کردار ادا کریں‘‘۔

علماء کرام اور منہاجینز کی اس تربیتی ورکشاپ میں شیخ الاسلام نے اسلامی نصاب کے تعارف اور اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ شیخ الاسلام کے اظہار خیال کے بعد درج ذیل جید علماء کرام نے تمام شرکاء کی نمائندگی کرتے ہوئے اس عظیم کاوش پر شیخ الاسلام کو خراج تحسین پیش کیا:

  • محترم علامہ شہزاد احمد مجددی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس نصاب کی افادیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔ اس کا اطلاق اس سے بھی زیادہ ضروری و اہم ہے۔ یہ تجدیدی و تاریخی اور عظیم کام ہے۔ ہمیشہ مردانِ خدا ایسے کام کرتے رہے ہیں۔ ہر دور میں تصوف ہی خارجیت کا رد رہا ہے۔ صوفیاء کرام خارجیت کے عملی رد کے لئے میدان میں آئے تھے۔ جوں جوں یہ میخانے بند ہوتے گئے تو نئے نئے ادارے کھل گئے اور انہوں نے ہماری سمت بدلنے کی کوشش کی۔ ہمیں اپنے نظام تصوف کے احیاء کے لئے عملاً کام کرنا ہوگا۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام مسجد سے نہیں بلکہ خانقاہ سے پھیلا تھا۔ اس نصاب کو صرف مسجد تک نہیں بلکہ خانقاہ تک بھی پھیلایا جائے۔ اس لئے کہ یہ اسلاف کی روایت ہے۔ یہ اعزاز ہمیں اللہ نے عطا کیا کہ ہم نے اس دور کے سب سے بڑے مرض کی تشخیص کی۔ اس نصاب پر آپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس مرض کی تشخیص کرلی ہے، ابھی عملی علاج باقی ہے۔ ان شاء اللہ اپنی منزل مقصود کو پائیں گے۔
  • محترم علامہ سعید احمد فاروقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دور حاضر میں جو مرض بڑھتا جارہا ہے اس کی روک تھام کے لئے بیس کروڑ عوام کو ایک عظیم نصاب دیا۔ نصاب لکھنا مشکل کام ہے۔ آپ نے بڑی مشکل کو آسان بنادیا۔ یہ بشری طاقت نہیں، اس لئے کہ ایک صفحہ لکھا جائے تو ہماری صلاحیتیں جواب دے جاتی ہیں جبکہ آپ سینکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ بے شک آپ پر گنبد خضریٰ کا فیضان ہے۔ ہم علماء و مشائخ کو چاہئے کہ مدارس، مساجد، خانقاہوں میں اس نصاب کا اجراء کریں۔ اس نصاب کو ہر طبقہ میں فروغ دینے کے لئے کانفرنسز کا انعقاد کریں۔ اس نصاب کو عام کرنا ہمارا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسے تمام عوام تک پہنچانے کے لئے اخلاص عطا کرے۔
  • محترم مفتی عبدالقوی (دارالعلوم عبیدیہ ملتان) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہ ہمارے لئے شیخ الاسلام فخر ہیں۔ دوسروں کے ہاں ہمیں کوئی ان جیسا نظر نہیں آتا۔ جتنی تصنیفات شیخ الاسلام نے دی ہیں دیگر تمام لوگ مل کر بھی یہ کام نہ کرسکے۔ اس صدی کے تمام علماء اپنے علم و تصنیفات، تلامذہ کے ساتھ ایک پلڑے میں ہیں تو دوسرے میں اکیلے شیخ الاسلام ہی کافی ہیں۔ جس نے توحید پر لکھا وہ نورِ عظمت رسالت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محروم ہوگیا۔ جس نے ادب رسالت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لکھا وہ توحید سے دور ہوگیا لیکن شیخ الاسلام نے متوازن و معتدل لکھا۔ اس کو شانِ مجددیت کہتے ہیں۔ تصوف کی تعلیمات کا درس دیتا ہوا آج اگر کوئی نظر آرہا ہے تو وہ شیخ الاسلام ہیں۔ نہ ان کی تحریر پر اور نہ ان کے عمل وکردار پر انگلی اٹھائی جاسکے۔ شیخ الاسلام کی کتب میں ہمارے لئے شہد ہے۔ ہمارے 500 دینی مدارس ہیں، ان شاء اللہ ان تمام دینی مدارس میں اس نصاب کو سبقاً پڑھایا جائے گا۔
  • محترم پروفیسر عون محمد سعیدی (بہاولپور) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نصاب کے ذریعے آپ نے عظیم کام سرانجام دیا صرف یہ نہیں بلکہ ان کا ہر کام عظیم ہے۔ اللہ نے آپ کو پیدا ہی عظیم کاموں کے لئے ہے۔ اگر کسی عام شخص کو 100 زندگیاں بھی عطا کردی جائیں تو وہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہ تحریکِ علم ہے اگر ہم اس نصاب کو فروغ دیں تو اس کے نتیجے میں وحدت پیدا ہوگی۔ اس وحدت سے حرکت ہوگی اور پھر مصطفوی انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ اللہ ہمیں ان کی قیادت میں منزل سے ہمکنار فرمائے۔ وہ لوگ جو اپنے ہوکر اپنوں کی مخالفت کرتے ہیں، عداوت کرتے ہیں ان کے لئے بھی امن کا نصاب بنایا جائے تاکہ اللہ انہیں بھی عقل و فہم اور ہدایت دے۔

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسایوں کے آنگن میں بھی سایہ جائے

  • علماء کرام کے اظہار خیال کے بعد شیخ الاسلام نے مختلف امور پر شرکاء کے سوالات کے تفصیلی جوابات مرحمت فرمائے۔ اسی تربیتی ورکشاپ کو علماء کرام نے بے حد سراہا اور آئندہ بھی اس طرح کی ورکشاپس کے انعقاد کو وقت کا تقاضا قرار دیا۔ اس عظیم کنونشن اور تربیتی ورکشاپ کا اختتام شیخ الاسلام کی خصوصی دعا سے ہوا۔

منہاج یونیورسٹی لاہور۔۔۔۔ کانووکیشن 2015ء

یکم اگست 2015ء کو منہاج یونیورسٹی کا عظیم الشان کانووکیشن منعقد ہوا۔ چیئرمین بورڈ آف گورنرز کی حیثیت سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس تقریب کی صدارت فرمائی۔ شیخ الاسلام کے ہمراہ بورڈ آف گورنرز کے وائس چیئرمین محترم ڈاکٹر حسین محی الدین القادری، وائس چانسلر محترم ڈاکٹر محمد اسلم غوری، محترم خرم نواز گنڈا پور اور یونیورسٹی کے دیگر پروفیسرز تشریف فرما تھے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، رجسٹرار یونیورسٹی محترم کرنل(ر) محمد احمد، کنٹرولر امتحانات محترم ڈاکٹر شجاعت محمود خالد، محترم جاوید اقبال قادری، یونیورسٹی کی تمام فیکلٹیز کے سربراہان، ڈاکٹرز، پروفیسرز، اساتذہ کرام اور دیگر مہمانان گرامی بھی بطور خاص پروگرام میں شریک تھے۔ اس موقع پر منہاج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل 770 گریجویٹس طلبہ اور طالبات کو ڈگریاں دی گئیں۔ 22 طلبہ کو گولڈمیڈل دئیے گئے۔ 200 طلبہ و طالبات کو رول آف آنر، 88 طلبہ وطالبات کو میرٹ سرٹیفکیٹس اور 2کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور دیگر مہمانان گرامی نے پی ایچ ڈی، ایم فل اور ماسٹرز کرنے والے طلبہ و طالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں اور انہیں مبارکباد دی۔

منہاج یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ ’’علم کو مذہب اور سیکولر ازم کے خانے میں بانٹ کر معاشرے کو تضادات اور فکری انتشار کے حوالے کر دیا گیا، ایسے نظام اور باطل فکر کو دفن کر دینگے جس نے ہمارے بچوں کے ہاتھ میں قلم کی بجائے بندوق دی اور دلوں میں محبت کی جگہ نفرت پیدا کی۔ آنے والا دورعلم، سچ کی بالادستی اور انتہائی رویوں کی شکست فاش کا دور ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے دینی و جدید دنیاوی علوم کو یکجا کر کے انتہا پسندی سے پاک اور اعتدال پسند اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی بنیاد رکھ دی۔ جدید عصری علوم سے آراستہ یونیورسٹی کا قیام میرا خواب تھا جو اللہ نے پورا کر دیا۔

سرسید احمد خان نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھ کر مسلم رہنماؤں کی ایک اعلی تعلیم یافتہ کھیپ تیار کی اور خوابیدہ اسلامیان برصغیر میں زندگی کی نئی لہر دوڑا دی اور پھر علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء نے فکری قیادت کا خلا پر کرتے ہوئے برصغیر کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا اور پاکستان کے قیام کے خواب کو عملی تعبیر دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعمیر پاکستان کے اس اہم مرحلہ پر بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کی باگ ڈورسنبھالیں اور جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے ختم کر دیں۔ میں اس کانووکیشن میں شریک قابل اور باصلاحیت طلبہ اور طالبات سے کہوں گا کہ بامقصد علم اور بامقصد زندگی کی طرف آئیں۔ ایسے علم کا کیا فائدہ جسے پڑھ کر انتہا پسندی، نفرت اور دنیا داری جمع کرنے کی سوچ غالب آ جائے۔ منہاج القرآن نے بامقصد تعلیم اور نوجوانوں کی کردار سازی پر ساری توانائیاں صرف کی ہیں۔ میں نے فروغ امن اور انسداد دہشتگردی کے لئے حال ہی میں تفصیلی نصاب دیا ہے۔ نئی نسل کو انتہا پسندی اور فکری تنگ نظری کے اندھیروں سے نکالنا میری جدوجہد کا مرکزی نکتہ ہے‘‘۔

اس موقع پر وائس چیئرمین محترم ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا مشن تعلیم برائے ترقی، تعلیم برائے شعور وآگہی اور تعلیم برائے خدمت ہے۔ ہم نے تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیا اور جدید اور بامقصد تعلیم کی فراہمی کیلئے جملہ وسائل اور صلاحتیں صرف کیں۔ ہم سوسائٹی کے ہر فرد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ منہاج القرآن کے زیراہتمام چلنے والے ادارے بالخصوص یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کا دورہ کریں۔ ہمیں یقین ہے اس دورہ کے بعد وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا تعلیمی مستقبل ہمارے ہاتھوں میں محفوظ تصور کرینگے‘‘۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا دورہ یورپ امن نصاب کی تعارفی تقریبات اور ورکرز کنونشنز میں خصوصی شرکت

پاکستان میں دہشت گردی و انتہاء پسندی کے سدباب کے لئے امن نصاب کی تقریب رونمائی کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ماہ اگست میں یورپ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔ اس دوران آپ نے درج ذیل ممالک کا دورہ کیا اور وہاں امن نصاب کی تعارفی تقریبات اور دیگر پروگرامز میں خصوصی شرکت کی۔ ان ممالک کے دورہ کی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:

اٹلی

منہاج القرآن انٹرنیشنل اٹلی کے زیر اہتمام 6 اگست 2015ء کو عظیم الشان ورکرز کنونشن منعقد ہوا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی شرکت کی۔ کنونشن میں اٹلی سے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رفقا، کارکنان اور وابستگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل یورپ کے صدر محترم اعجاز احمد وڑائچ اور ناظم محترم محمد بلال اپل بھی شیخ الاسلام کے ہمراہ موجود تھے۔ تلاوتِ قرآنِ مجید اور نعتِ رسولِ مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد منہاج القرآن اٹلی کے صدر محترم محمد اقبال چودھری نے معزز مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ کلمات پیش کیے، اور محترم محمد افضال سیال نے منہاج القرآن انٹرنیشنل اٹلی کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ورکرز کنونشن کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فروغِ امن اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے مرتب کردہ نصاب کا تعارف کرایا اور پوری دنیا میں خارجیت کے تعاقب کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ دہشت گردی عالم اسلام ہی نہیں پوری انسانیت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ دہشت گردوں نے طاقت کے حصول اور مالی مفادات کی خاطر اسلام کو بدنام کیا۔ ہم اسلام کے دامن سے دہشت گردی کا دھبہ صاف کر کے اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ امتِ مسلمہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

  • منہاج القرآن انٹرنیشنل نارتھ اٹلی بریشیاء کے زیراہتمام 8 اگست2015ء کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اٹلی کے ورکرز سے ملاقات کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر نے والے کارکنان میں اعزازی اسناد تقسیم کیں۔ یہ تقریب بریشیاء کے ایک ہوٹل کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی۔ جس میں منہاج القرآن انٹرنیشنل بریشیاء کے جملہ فورم جبکہ گردونواح سے رفقاء اور وابستگان کی کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔

شیخ الاسلام نے اپنی خصوصی گفتگو میں امن کے فروغ اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے منہاج القرآن کی خدمات کا ذکر کیا اور نصاب امن کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالم اسلام ہی نہیں پوری انسانیت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، دہشت گرد گروپوں نے طاقت کے حصول اور مالی مفادات کی خاطر اسلام کو بدنام کیا، دہشت گردوں کو قتل و غارت گری اور فساد برپا کرنے کیلئے اربوں روپے کے فنڈز دئیے جاتے ہیں جو بد قسمتی سے ابھی تک جاری ہیں۔ ذمہ داری سے کہتا ہوں دس یا بارہ سالہ مدرسے کی دینی تعلیم میں امن کے فروغ اور دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی ایک باب بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ جب تک سکولوں، کالجوں، مدرسوں کا ماحول امن دوست نہیں ہو گا، معاشی، سیاسی سماجی نا انصافی کا خاتمہ نہیں ہو گا، تعلیم، صحت، روزگار کی بنیادی سہولتیں نہیں ملیں گی، سوشل اور لیگل جسٹس نہیں ملے گا، ردعمل میں انتہا پسندی اور دہشت گردی فروغ پائے گی۔

اس موقع پر منہاج القرآن بریشیاء کے وہ اراکین جنہوں نے استقبال قائد سے لے کر انقلاب مارچ تک کی جدوجہد میں حصہ لیا، ان کو نشان منہاج اور اسناد سے نوازا گیا۔

فرانس

اٹلی کے کامیاب دورہ کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری فرانس پہنچے۔ پاکستان عوامی تحریک فرانس کے زیراہتمام 20 اگست کو ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں شیخ الاسلام نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ پیرس کے مضافاتی علاقے درانسی کے خوبصورت ہال میں منعقدہ کنونشن پاکستان عوامی تحریک فرانس کے مرکزی، علاقائی عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستان عوامی تحریک فرانس کے سیکرٹری جنرل محترم محمد نعیم چودھری نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے شیخ الاسلام کو خوش آمدید کہا اور فرانس آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کلچرل ایسوسی ایشن کے عہدیداران، فرنچ انتظامیہ اور مقامی میڈیا سمیت پاکستان عوامی تحریک فرانس کارکنان کا بھی شکریہ ادا کیا۔

پاکستان عوامی تحریک یورپ اور فرانس کے صدر محترم حاجی محمد اسلم چودھری نے چیئرمین پاکستان عوامی تحریک کو حالیہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے PAT میں شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے شرکاء کا پارٹی چیئرمین سے تعارف کروایا۔

PAT کی علاقائی تنطیمات کرائی، سارسل، کلیشی، گونساویل اور ویل لابل کے عہدیداران اور کارکنان کو شاندار خدمات پر اعزازی شیلڈز اور اسناد پیش کی گئیں۔ لاڑکانہ سے بھٹو خاندان کی محترمہ صوفیہ بھٹو نے پاکستان عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے شیخ الاسلام کو اپنا فارم پیش کیا۔

شیخِ فرانس شیخ حسن شال گومی نے ورکرکنونشن میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری بلاشبہ عرب و عجم کے شیخ الاسلام ہیں۔ موجودہ پرفتن دور میں اہلِ اسلام کی درست سمت میں راہنمائی، امن کی تعلیمات اور اس مقصد کے لیے سینکڑوں کتب کی تصانیف انہیں شیخ الاسلام بناتی ہے۔

شیخ الاسلام نے ورکرکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فروغ امن اور انسداد دہشتگردی کے لئے مرتب کردہ 25 کتابوں پر مشتمل نصاب دہشتگردی اور انتہا پسندوں کی جہاد کے حوالے سے خود ساختہ اور گمراہ کن تعریف کو رد کرتا ہے۔ دہشت گردوں کی انسانیت سوز کاروائیاں کسی طور بھی جہاد نہیں ہیں۔ اسلام ایک پر امن مذہب ہے، جس میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی حرام ہے۔ نئی نسل کو انتہا پسندی اور فکری تنگ نظری کے اندھیروں سے نکالنا میری جدوجہد کا مرکزی نکتہ ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو بھی میرا یہی پیغام ہے کہ وہ اسلام کے سائے میں امن کو فروغ دیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے دورہ فرانس کے دوران پیرس میں 24 اگست کو مجلس شوریٰ منہاج القرآن یورپ، ممبر نیشنل ایگزیکٹو کونسل، پاکستان عوامی تحریک فرانس اور منہاج القرآن فرانس کی علاقائی تنظیمات کے سربراہان نے ان سے ملاقات کی۔ جس کا مقصد پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن فرانس کی کوآرڈینیشن کو بہتر بنانا اور ان کی تنظیم نو کرنا تھا۔ اس موقع پر شیخ الاسلام کا کہنا تھا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی مثال درخت کی سی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک، منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، منہاج پیس اینڈ اینٹی گریشن اور دیگر ذیلی ادارے اس درخت کی شاخیں ہیں۔ ہماری اولین ذمہ داری درخت کی آبیاری ہے۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل اسلام کا پرامن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔

نیدرلینڈز

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دورہ یورپ کے دوران 24 اگست کو فرانس سے نیدرلینڈز پہنچے جہاں منہاج القرآن انٹرنیشنل اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل نیدرلینڈز کے منعقدہ ورکر کنونشن میں کارکنان کی بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے کہا ہے کہ حکمران طبقہ آئین پاکستان کو صرف موم کی ناک سمجھتا ہے۔ اگر آئین بالادست ہوتا تو غیر آئینی الیکشن کمیشن قوم پر مسلط ہوتا اور نہ سات سال تک بلدیاتی اداروں کو تالے لگتے۔ پاکستان عوامی تحریک ملک چلانے والے اوورسیز پاکستانیوں کو اس کا جائز مقام دلوائے گی اور بیرون ملک مقیم پڑھے لکھے، محب وطن اور تجربہ کار پاکستانیوں کے تعاون سے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرے گی۔

2013ء کے الیکشن سے قبل خلاف آئین تشکیل پانے والے الیکشن کمیشن اور اس کے صوبائی ممبرز کی تقرریوں کو سب سے پہلے ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے سیاسی عزائم اور تعصب کے باعث ہماری آئینی پٹیشن کو سننے سے انکار کر دیا۔ آج ساری جماعتیں الیکشن کمیشن کے صوبائی ممبرز سے مستعفی ہونے کا کہہ رہی ہیں۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل جب ہم نے اس حوالے سے آواز اٹھائی یہاں تک کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا تو اس وقت سیاسی رہنماؤں نے مصلحتوں سے کام لیا اور اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے تحریری معاہدہ کے باوجود آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ میں نے لانگ مارچ کے موقع پر انتخابی، جمہوری نظام کو لا حق جس کینسر کا ذکر کیا تھا بعدازاں اس نے پورے سسٹم کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ابھی تک تماشا جاری ہے۔ کریڈیبلٹی اور آئینی کور سے محروم الیکشن کمیشن نے پوری قوم کو ہیجان میں مبتلا کررکھا ہے اور سٹیٹس کو کی حامی جماعتیں اس ریموٹ کنٹرول الیکشن کمیشن کو اپنے پسندیدہ نتائج کے حصول کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ اب بھی ان کی یہ خواہش ہے کہ بلدیاتی انتخابات بھی ریموٹ کنٹرول الیکشن کمیشن کے صوبائی ممبرز کی نگرانی میں ہوں۔ ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات غیر آئینی الیکشن کمیشن نے کروائے اس لیے یہ سارے کا سارا نظام ہی بوگس اور جعلی ہے۔ جب تک الیکشن کمیشن آئین کے مطابق تشکیل نہیں پاتا اور انتخابی اصلاحات نہیں ہوتیں اس وقت تک نہ تو عوام کی حقیقی نمائندہ اسمبلیاں وجود میں آئینگی اور نہ ہی یہ جمہوری گند صاف ہوگا۔

سپین

اٹلی کے کامیاب دورہ کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری 28 اگست کو سپین پہنچے۔ بارسلونا میں آپ نے منہاج القرآن انٹرنیشنل اور پاکستان عوامی تحریک سپین کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں کرپٹ اور فرسودہ سیاسی نظام کے خلاف دھرنا دیا۔ عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے ہمارے کارکنان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دھرنے کے اثرات ان شاءاللہ ہر صورت ظاہر ہوں گے اور سٹیٹس کو کی قوتوں کو شکست کا سامنا ہوگا۔ نام نہاد حکمران جنہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ان کو چھپنے کی کوئی جگہ نہ ملے گی۔ عوام کو ان کرپٹ لیڈروں کے خلاف اٹھنا ہوگا اور ’’کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹ مار نہیں ہونے دیں گے‘‘ کا نعرہ بلند کرنا ہوگا۔ ضربِ عضب کے بعد ان معاشی دہشت گردوں کے خلاف بھی قومی اداروں کو بھرپور ایکشن لینا ہوگا۔ کرپشن اور دہشت گردی اصل میں ایک ہی ہیں۔

جب تک قوم باہر نہیں نکلتی یہ ظالم حکمران ظلم و ستم کا بازار گرم کئے رکھیں گے۔ موجودہ کرپٹ و فرسودہ سیاسی نظام پاکستان میں لوٹ مار، دہشت گردی اور ناانصافی کو رواج دینے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ شخصیات کے بجائے ادارے مضبوط و مستحکم ہوں تو اقوام اور ممالک ترقی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ وزراء اپنی مرضی کے فیصلوں کے حصول کے لئے ججز کو دھمکیاں دیتے ہیں اور مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر اُن کی کردار کشی کرتے ہیں۔ کیا یہ طرز عمل جمہوری سیاست اور شرافت کی عکاسی کرتا ہے؟ اسی بناء پر ہم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر حکومتی تشکیل کردہ نام نہاد JIT کو تسلیم نہیں کیا جو کہ پنجاب پولیس افسران پر مشتمل تھی۔ ہم قومی اداروں سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے خون سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔

معاشی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر تمام چور، ڈاکوؤں نے سازشیں شروع کردی ہیں اور مختلف بیانات کے ذریعے خود ساختہ تضادات کو ابھار رہے ہیں۔ فوج کے خلاف حکومتی وزراء کا بیانات اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے دینے سے قوم میں موجود خوف کی فضا ختم ہوگئی اور عوام میں اپنے حقوق کے حصول کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے کا ڈھنگ اور سلیقہ آگیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کسان، اساتذہ، تاجر، کلرک، نابینا و معذور افراد حتی کہ گوالے بھی اپنے حقوق کے حصول کے لئے پنجاب اسمبلی کے باہر ہر آئے روز دھرنے دیتے اور احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور محلات میں رہنے والے حکمران ان سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہ سب ہمارے دھرنے ہی کے اثرات ہیں جس نے عام آدمی کو بھی اپنے حقوق کے حصول کے لئے آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کیا۔

24 واں سالانہ شہرِ اعتکاف2015ء

امسال جولائی 2015ء میں جامع المنہاج ٹاؤن شپ میں حرمین شریفین کے بعد دنیا کے سب سے بڑے شہر اعتکاف کو بسایا گیا۔ یہ 24 واں سالانہ اجتماعی اعتکاف تھا۔ جس میں شدید گرمی، حبس اور لگاتار بارشوں کے باوجود موسم کی سختیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اندرون و بیرون ملک سے ہزاروں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ اعتکاف کے جملہ معاملات کی سرپرستی محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری فرمارہے تھے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطابات اور شہر اعتکاف کی تمام سرگرمیاں www.minhaj.tv کے ذریعے پوری دنیا میں براہ راست نشر کی گئیں۔ منہاج TV کے ذریعے دنیا بھر میں موجود تحریک منہاج القرآن کے مراکز پر تنظیمات و کارکنان نے شہر اعتکاف میں خصوصی شرکت کی۔ حتی کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کچھ (انڈیا) کے زیر اہتمام انڈیا کے 256 مقامات پر شہر اعتکاف کی مکمل کاروائی منہاج TV کے ذریعے اجتماعی طور پر دکھانے کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا۔

  • شہر اعتکاف میں شیخ الاسلام نے صوبائی اور زونل تنظیمات شمالی پنجاب، جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب، سندھ KPK، بلوچستان، آزاد کشمیر کے عہدیداران سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ شہر اعتکاف کے دوران ہر روز محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی نے معتکفین کی رہائش گاہوں میں جاکر حلقہ وائز ان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ معتکفین نے اپنے ان قائدین کا والہانہ استقبال کیا۔
  • شہر اعتکاف میں شیخ الاسلام نے شرکاء اعتکاف کو عام معمولات زندگی میں برکت و رحمت کے حصول کے لئے خصوصی وظائف دیتے ہوئے دعوت دین کے لئے خصوصی احکامات بھی ارشاد فرمائے۔
  • شیخ الاسلام نے شہر اعتکاف میں ہر روز نماز تراویح کی ادائیگی کے بعد گذشتہ سال جون 2014ء تا اکتوبر2014ء تحریک کی انقلابی جدوجہد کے دوران ریاستی دہشت گردی اور مظالم کا شکار ہونے والے پاکستان بھر کے کارکنان تحریک کو ان کی قربانیوں کے اعتراف میں ’’تمغہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ‘‘ اور دیگر اعزازات سے نوزا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہداء انقلاب اور ریاستی جبر کا مقابلہ کرنے والے عظیم کارکنان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا:

’’سانحہ ماڈل ٹاؤن سے لے کر انقلاب مارچ تک کارکنان نے ثابت قدمی اور قربانیوں کی لازوال مثال قائم کرکے جدوجہدِ انقلاب کا حق ادا کر دیا۔ دنیا کی کوئی جماعت ایسے عظیم کارکنان کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ جس کارکن کے اندر حیاء کا خون ہے وہ مرسکتا ہے، بک نہیں سکتا۔ میری تحریک میں غریب، مزدور، محروم اور کمزور ضرور ہیں لیکن بے غیرت کوئی نہیں ہے جو بک جائے۔ میں مرتے دم تک قربانیاں دینے والے کارکنان سے پیار کرتا رہوں گا۔ دنیا سن لے کہ آج بھی بڑے سے بڑے قارون کا سرمایہ انقلاب کے راستہ کی رکاوٹ نہیں بن سکا۔ وقت کے بڑے بڑے یزید، قارون، فرعون اپنے جبر سے انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہمارا شہیدوں کے خون سے یہ وعدہ ہے کہ انقلاب کی جدوجہد جاری رہے گی۔ بالاخر دشمن ایک نہ ایک دن سرنگوں ہوگا‘‘۔

  • شہر اعتکاف میں مختلف اوقات میں نمازوں اور متعدد مرتبہ نماز تراویح کی امامت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فرمائی۔ ہزاروں افراد نے عاجزی، انکساری اور محبت و عقیدت کے جذبات کے ساتھ آپ کی اقتداء میں ان نمازوں کی ادائیگی کی اور شہر اعتکاف کی صورت میں اپنے اعمال اور روحانی احوال کی اصلاح کی طرف سفرجاری رکھا۔

افتتاحی کلمات شیخ الاسلام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس شہر اعتکاف کا باقاعدہ آغاز قدوۃ الاولیاء حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کے درجات کی بلندی اور انہیں ایصال ثواب کے لئے فاتحہ سے کیا۔ اس موقع پر حضور پیر صاحب کے والدین کریمین، آپ کے بھائی محترم السید احمد ظفر الگیلانی، شہداء انقلاب اور امت مسلمہ کے جملہ مرحومین کے لئے بھی خصوصی دعا کی گئی۔ معتکفین و معتکفات کو باقاعدہ و باضابطہ خوش آمدید کہتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا:

’’اعتکاف کے لئے آنے والے یا تحریک کی کسی دعوت پر آنے والوں کی بھاری اکثریت معاشی طور پر کمزور ہے۔ اس کے باوجود مالی مشکلات برداشت کرتے ہوئے آپ کا یہاں تشریف لانا، آپ کے درجات میں اضافہ کا باعث ہے۔ اس لئے کہ آپ یہاں اللہ اور اسکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کے حصول اور ان کی بارگاہ تک رسائی کے لئے قرآن و حدیث سے طریقے سیکھنے کے لئے آئے ہیں اور میں بھی آپ کو یہی بتانے کے لئے ہر سال یہاں بلاتا ہوں۔

حدیث قدسی ہے کہ جب بندے اللہ کے ذکر کے لئے مجلس میں بیٹھتے ہیں تو فرشتے بھی ان کے ہم نشین ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ حدیث مبارکہ کے مطابق اللہ خود ان کا ہم نشین ہوجاتا ہے۔ لہذا اللہ کی مجلس، صحبت میں ان دس دنوں میں اپنے دلوں کو کاسہ بنالیں، یہ کاسہ ہر وقت پھیلارہے، نہ جانے کب وہ بھردے۔ اس اعتکاف کے دوران اپنی دعاؤں میں چھوٹی چیزوں کا تعین نہ کریں، چھوٹی چیزیں نہ مانگیں بلکہ اس سے اسی کو مانگیں۔ جب بندہ اپنی سمجھ سے مانگتا ہے تو اللہ اس بندے کی طلب کے حساب سے عطا کرتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ سے اپنی سمجھ کے حساب سے نہیں مانگتے بلکہ اس سے اس کو مانگ کر اس پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی بارگاہ صمدیت کی شان کے لائق عطا فرمادے۔

ان دس راتوں کے لئے ہمارا موضوع ’’ایمان، یقین اور استقامت‘‘ ہوگا۔ یہ یقین بھی رکھیں کہ تحریک منہاج القرآن احیائے اسلام، تجدید دین اور عوام کے بنیادی و آئینی حقوق کی بحالی کے لئے اپنے جس مصطفوی مشن پر گامزن ہے وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور انقلاب آئے گا۔ ایمان و یقین کی قوت سے انقلاب آئے گا۔ میری صحت کی خرابی بھی میرے یقین کو متزلزل نہیں کرسکی۔ میری صحت کو میرے حوصلہ کا ساتھ دینا ہوگا۔ اس لئے کہ اس کا فرمان ہے کہ لاتقنطوا من رحمۃ اللہ۔ مومن کبھی رحمت الہٰیہ سے مایوس نہیں ہوتا۔ کیا کبھی کوئی ایسی رات آئی ہے جس کا سویرا طلوع نہ ہوا ہو۔۔۔ ؟ اگر نہیں تو ظلم و ستم اور ریاستی جبرو بربریت کی یہ رات کیسے رہ سکتی ہے۔ لہذا حق و انقلاب کا سویرا ایمان کے یقین اور استقامت کی قوت کے ساتھ ضرور طلوع ہوگا‘‘۔

’’امسال 40 فیصد احباب پہلی اس شہر مرتبہ اعتکاف میں تشریف لائے ہیں۔ ان کی اس مشن مصطفوی کے ساتھ وابستگی اللہ رب العزت کا ان پر خاص کرم ہے۔ اس لئے کہ تحریک منہاج القرآن کی رفاقت سے حضور غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ارادت بھی میسر آتی ہے۔ میری درخواست پر حضور غوث الاعظم نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ ’’جو منہاج القرآن کا رفیق ہوگا وہ میرا مرید ہوگا‘‘۔ ان شاءاللہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضور غوث الاعظم کی نوکری و غلامی میں جہاں میں ہوں گا وہاں میرا ہر رفیق و کارکن میرے ساتھ ہوگا۔ بشرطیکہ جو رفیق ہوگا اور مرتے دم تک رفاقت رکھے گا اور احیائے اسلام، تجدید دین اور غریب و مظلوم عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے اس مصطفوی مشن کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے وہ حضور غوث الاعظم کی مریدی میں ہوگا۔

لہذا یہ امر ذہن نشین رہے کہ جس طرح پہلے بھی کوئی ڈر اور خوف ہمارے دامن گیر نہیں ہوا آئندہ بھی نہ ہو اور اس طرح ہمت، حوصلہ اور استقامت کے ساتھ حق کے راستے پر گامزن رہو۔ دعوت، دروس قرآن، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فروغ اور روحانی دعوت کا سلسلہ نہ پہلے کبھی رکا تھا، نہ رکا ہے اور نہ آئندہ کبھی رکے گا۔ تمام رفقاء، کارکنان، اس مصطفوی مشن کی دعوت کا فریضہ اسی طرح حسب روایت و معمول سرانجام دیں۔ ہر شخص اپنی روحانیت کو مزید طاقتور کرے، ایمان، یقین، عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، توکل، استقامت، صدق اخلاص روحانیت ہماری طاقت کا سرچشمہ ہی سے ہماری طاقت کا سرچشمہ پھوٹتا ہے۔‘‘

شہر اعتکاف میں شیخ الاسلام نے ’’ایمان، یقین اور استقامت‘‘ کے ذیل میں درج ذیل موضوعات پراظہار خیال فرمایا:

  1. ایمان اور صبر
  2. ایمان، آزمائش اور شہادت
  3. مشکلات و مصائب میں ثابت قدمی
  4. حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمہ جہت وکامل تعلق اور نعتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم
  5. فتح حق کا مقدر ہے
  6. محبتِ الہٰی اور اس کا اجر
  7. ایمان و یقین کی حقیقت
  8. تجلیاتِ یقین

عالمی روحانی اجتماع۔ لیلۃ القدر

تحریک منہاج القرآن کے شہر اعتکاف میں 27 رمضان المبارک کی شب عالمی روحانی اجتماع (لیلۃ القدر) منعقد ہوا۔ جس کے مہمان خصوصی جگر گوشہ قدوۃ الاولیاء حضرت پیر السید محمود محی الدین القادری الگیلانی مدظلہ تھے۔ سٹیج پر محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم صاحبزادہ حماد مصطفی المدنی، محترم صاحبزادہ احمد مصطفی العربی، جملہ مرکزی قائدین اور علماء و مشائخ بھی تشریف فرما تھے۔

روحانی اجتماع میں شہر اعتکاف کے ہزاروں معتکفین و معتکفات کے علاوہ لاکھوں عشاقان مصطفیٰ مرد و خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کی تمام کارروائی www.Minhaj.tv اور دیگر نجی ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست نشر کی گئی۔ عالمی روحانی اجتماع میں دنیا بھر کے علاوہ انڈیا کے 200 سے زائد مقامات پر لوگوں نے اجتماعات کی صورت میں www.Minhaj.tv کے ذریعے شرکت کی۔

اس موقع پر شہداء انقلاب (سانحہ ماڈل ٹاؤن، یوم شہداء 10 اگست، شہداء انقلاب مارچ اسلام آباد) کے لواحقین اور ورثاء کو جگر گوشہ قدوۃ الاولیاء حضرت پیر السید محمود محی الدین القادری الگیلانی مدظلہ کے دست اقدس سے ’’نشان سیدنا امام حسین‘‘ (مردوں کیلئے) اور ’’نشان سیدہ فاطمۃ الزہراء (خواتین کیلئے) سے نوازا گیا۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے اپنے خصوصی خطاب میں شہداء انقلاب اور کارکنان تحریک کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور بعد ازاں’’ محبتِ الہٰی اور اس کا اجر‘‘ کے موضوع پر علمی و روحانی خطاب فرمایا۔

عالمی روحانی اجتماع کے اختتام پر حضرت پیر السید محمود محی الدین القادری الگیلانی مدظلہ اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی دعائیں فرمائیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن: شہداء کی برسی کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد

16 جون 2015ء کو مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے منہاج القرآن گراؤنڈ میں پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام شہداء ماڈل ٹاؤن (17 جون)، شہداء 10 اگست (یوم شہداء) اور شہداء انقلاب مارچ اسلام آباد (30، 31 اگست) کی قربانیوں کو خراج عقیدت اور زخمیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پروقار تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ جس میں لاہور ڈویژن سے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی جبکہ منہاج TV کے ذریعے پوری دنیا میں موجود کارکنان و تنظیمات اس تعزیتی ریفرنس میں شریک تھے۔ اس تقریب میں لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

جملہ شہداء کے ورثائ، لواحقین اور فیملیز کو بطور مہمان خصوصی پنڈال میں خوش آمدید کہا گیا اور شرکاء تقریب نے کھڑے ہوکر ان کا والہانہ استقبال کیا۔ بعد ازاں شہداء کے ان ورثاء کو مرکزی سٹیج ہی کی طرح کے الگ خوبصورت و باوقار سٹیج کی زینت بنایا گیا۔

مرکزی سٹیج پر محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، محترم شاہ محمود قریشی (PTI)، محترم راجہ ناصر عباس (مجلس وحدت المسلمین)، محترم امین شہیدی (MWM)، محترم میاں منظور احمد وٹو (PPP)، محترم لیاقت بلوچ (جماعت اسلامی)، محترم شیخ رشید احمد (عوامی مسلم لیگ)، محترم چوہدری محمد سرور (سابق گورنر پنجاب)، علامہ معصوم حسین (JUP) اور مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قائدین و جملہ طبقہ ہائے زندگی کی نمایاں و سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔

قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی دختر محترمہ قرۃ العین فاطمہ، مسز حسین محی الدین محترمہ فضہ حسین قادری اور قائد انقلاب کی دو ہمشیرہ محترمہ نصرت جبین قادری اور محترمہ مسرت جبین قادری بھی اپنی فیملیز کے ہمراہ شہداء کے ورثاء اور لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہر قدم پر ان کے ساتھ ہونے کا عہد لے کر شہداء کی فیملیز کے ہمراہ تشریف فرما تھیں۔

اس پروقار تقریب میں ورثاء و لواحقین شہداء اور مہمان گرامی نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن (17جون)، یوم شہداء (10 اگست) اور انقلاب مارچ اسلام آباد (30، 31اگست) کے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اس ملک کو بہتر بنانے کے لئے نکلے اور اپنے خون سے نئی تاریخ رقم کی۔ تمام لواحقین کو یقین دلاتا ہوں کہ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ عام خون نہیں ہے بلکہ شہادت کا خون ہے جو منزل مقصود تک پہنچ کر رہتا ہے۔ 17 جون 2014ء کو شہیدوں کے قاتلوں اور ان کے معاونین کو بتادینا چاہتا ہوں کہ آپ میں اور ہم میں فرق ہے۔ آپ ان لوگوں کے پیروکار ہیں جنہوں نے شہدائے کربلا کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور ہم ان کے پیروکار ہیں جن کے سر کٹ کر خنجر پر بھی تلاوت کرتے رہے۔ ہمیں اپنی منزل پر یقین اور اپنے کام پر فخر ہے۔ شکست اُسے ہوا ہوتی ہے جسے کامیابی کا یقین نہ ہو۔ جس کا یقین متزلزل ہو وہ تخت کے لئے سودا کرتے ہیں اور جن کا دین، غیرت، حمیت، یقین اور کردار نہیں بکتا ان کے جسم کے ٹکڑے بھی ہوجائیں تو پھر بھی وہ فتح یاب ہوتے ہیں۔ ان حکمرانوں نے ظلم کی اندھیری رات میں پاکستان کو دھکیل رکھا ہے۔ یاد رکھو! کوئی رات ایسی نہیں آتی جس کو صبح نہ آئی ہو۔ ہماری جدوجہد سے صبح ضرور طلوع ہوگی۔ ہم فجر کے اجالے کے دوست ہیں اور حکمران اندھیرے کے دوست ہیں۔ ہم انصاف کے لئے ظلم کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔ ہم ظلم کے سامنے نہ جھکے، نہ جھکیں گے اور نہ جھک سکتے ہیں۔ ہمارے کارکنوں کے پاس ایمان، آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق، صحابہ و اہل بیت کے کردار کی پیروی کی دولت، اخلاص، جرات، شجاعت اور درد دل کی دولت ہے، یہ تمہارے جیسے کروڑوں سے بھی زیادہ غنی ہیں۔

تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کا مشترکہ اجلاس مرکزی مجلسِ شوریٰ

تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کی مجلس شوریٰ کا مشترکہ اجلاس 3 مئی 2015ء بروز اتوار مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان بھر سے 600 سے زائد ممبران مجلس شوریٰ (مرکزی عہدیداران/ صوبائی امرائ/صوبائی صدور/ضلعی امرائ/ ضلعی صدور/ تحصیلی صدور/تحصیلی ناظمین) نے شرکت کی۔ جملہ مرکزی ناظمین و قائدین نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔

اس اجلاس کے آخر پر قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کینیڈا سے بذریعہ ویڈیو لنک خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے تحریک سے ایک طرف تجدید و احیاء دین کی خدمت لے رہا ہے اور دوسری طرف انقلابی و سیاسی جدوجہد کے ذریعے غریب عوام کے حقوق کی بحالی کی ذمہ داری بھی ہم بتوفیق الہٰی سرانجام دے رہے ہیں۔ تجدید و احیائے اسلام کے سلسلہ میں دہشت گردی کے خلاف ہمارا فتویٰ اور امن کے فروغ کے لئے نصاب مرتب کرنا، یہ اعزاز بھی الحمدللہ منہاج القرآن کو ہی میسر آیا۔ ان دونوں حوالوں سے نہ صرف عالم اسلام کی سطح پر بلکہ عالم اقوام کی سطح پر بھی کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تھا۔ یہ کلیتاً ہمارا ہی اعزاز ہے کہ ہم نے دہشت و خوف کی فضا میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا۔

ہماری انقلابی جدوجہد کا سفر بھی جاری و ساری ہے۔ گزشتہ تمام تر جدوجہد ہماری اس انقلابی جدوجہد کا ایک باب تھا، ابھی کتاب مکمل نہیں ہوئی۔ ہم پیغمبرانہ جدوجہد بالخصوص حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے روشنی لیتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔ یاد رکھیں کہ نظر ہمیشہ منزل پر رہے، راستہ میں آنے والے رکاوٹیں، مشکلات اور Ups & Downs سفر کے ختم کردینے کے لئے نہیں بلکہ مزید جرات و استقامت سے آگے بڑھنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ فتح انہی کا مقدر بنتی ہے جو گرم و سرد حالات کی وجہ سے سفر نہیں چھوڑتے، قربانیاں دیتے رہتے ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ان شاء اللہ انہی حالات میں سے ہی منزل تک پہنچنے کا راستہ میسر آئے گا اور ہم اپنی منزل مصطفوی انقلاب کو حاصل کریں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام عالمگیر ورکرز کنونشن

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام 7 اپریل 2015ء کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود کارکنان کا عظیم الشان عالمگیر ورکرز کنونشن منعقد ہوا۔ جس میں قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بذریعہ منہاج ٹی وی خصوصی خطاب کیا۔ پاکستان میں یونین کونسل لیول تک 757 سے زائد مقامات اور دنیا بھر میں سینکڑوں مقامات پر کارکنان ویڈیو لنک کے ذریعے اس کنونشن میں شریک تھے۔ مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن میں محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی زیر صدارت پروگرام منعقد ہوا، جس میں لاہور کی تنظیم کے کارکنان و عہدیداران نے شرکت کی۔ قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے منہاج ٹی وی کے ذریعے اس عالمگیر ورکرز کنونشن میں شریک کارکنوں سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’17جون سے لے کر 21 اکتوبر دھرنے کے اختتام تک کارکنوں نے سفر انقلاب میں لازوال قربانیاں دیں، ہمیں ان قربانیوں پر فخر ہے۔ انہی قربانیوں کی بدولت ہی تحریک اس اعلیٰ مقام پر فائز ہے۔ قربانیاں دینے والے کارکنوں کی اکثریت کا تعلق گراس روٹ لیول سے ہے۔ تمام کارکن ہماری تحریک کا سرمایہ ہیں۔ آج کے دور میں پاک و ہند میں کسی جماعت کے پاس ایسے کارکن نہیں۔ کارکنان کی ان قربانیوں کے پیش نظر ہی میں نے مرکزی قیادت کے انتخاب کے لئے یونین کونسل لیول تک کے کارکنان کو اختیارات دینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ تحریک کے آئین و دستور میں اس لائحہ عمل کو اختیار کرنے کا ذکر تک نہیں۔ یہ فیصلہ صرف ان کارکنان کی عزت افزائی اور تسکین کے لئے کیا کہ صرف تحصیلی و ضلعی عہدیداران کو نہیں بلکہ عام کارکن کو بھی یہ حق دیا کہ وہ مرکزی قیادت کے لئے نام نامزد کریں، یہ کارکنان کا حق ہے۔ صرف اس لئے کہ انہوں نے شہادتیں دیں، مالی قربانیاں دیں، گھر بار لٹایا، دھرنے میں 70 دن موجود رہے۔ ایسا کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت نے آج تک نہیں کیا۔ ہمارا نظام بقیہ سیاسی و مذہبی جماعتوں سے مختلف ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ منہاج القرآن صرف ایک جماعت ہے، نہیں بلکہ یہ ایک مشن اور ایک تحریک ہے۔ مشن کے لئے وقت اور نجی معاملات کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ میں اور میری نسلیں تک مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کے لئے وقف ہیں، ہمارا اس مصطفوی مشن کے ساتھ ایک پائی کا بھی معاشی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ آقا علیہ السلام کی نوکری ہے جو ہم بجا لارہے ہیں۔ یہی جذبہ مرکز اور ذیلی سطح تک خدمات سرانجام دینے والے احباب اپنے پیش نظر رکھیں۔

ہم اپنے مشن پر قائم ہیں اور 17 جون کے شہداء کا بدلہ لینے اور مصطفوی انقلاب کے حصول تک ڈٹے رہیں گے۔ ہم انتخابی و انقلابی طریق پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں گے۔ ہم کرسی کے لئے نہیں بلکہ 18 کروڑ مسائل کا شکار عوام کو ان کے آئینی حقوق دلوانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ آخری سانس اور فتح تک میں اور میرے کارکن ظالمانہ نظام سے لڑیں گے۔ استحصالی نظام کو بدلنے کے لئے اور انقلاب برپا کرنے کے لئے ہم اپنے موقف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی کوئی طاقت ہمیں ہٹاسکتی ہے۔

اس موقع پر تحریک کے مستقبل کے پیش نظرشیخ الاسلام نے چند فیصلہ جات کا اعلان فرمایا۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau