سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | رابطہ
ماہنامہ منہاج القرآن > اپریل 2016 ء > الفقہ: آپ کے دینی مسائل


ماہنامہ منہاج القرآن : اپریل 2016 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اپریل 2016 ء > الفقہ: آپ کے دینی مسائل

الفقہ: آپ کے دینی مسائل

مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی
سوال: کیا ہر مقتول شہید کہلائے گا؟ زمین کے جھگڑے میں میرے انکل دشمنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ کیا ہم انہیں شہید کہہ سکتے ہیں؟ اس لڑائی کے دوران قاتل بھی ہمارے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے لیے کیا ہم اللہ تعالی کے سامنے گنہگار یا سزاوار ہیں یا نہیں؟

جواب:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

الشُْهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيْدُ فِی سَبِيلِ اللّٰهِ.

’’شہداء پانچ طرح کے ہیں: جو طاعون (یا اس جیسی دیگر مہلک بیماری مثلاً کینسر، ٹی بی، چیچک، ایکسیڈنٹ وغیرہ) سے مر گیا، پیٹ کی بیماری (حیضہ، قولنج، ہارٹ اٹیک وغیرہ) سے مر گیا، جو ڈوب کر (دریا میں، جھیل میں، سمندر میں، سیلاب میں، گلیشئرز میں، کنوئیں یا نہر یا ڈیم میں) مر گیا، جو (مکان وغیرہ کی چھت، پہاڑی تودے، گلیشئر، گاڑی کے نیچے، عمارت کے نیچے) دب کر مر گیا اور جو اللہ کی راہ میں (دشمنوں، باغیوں، ڈاکؤوں، راہزنوں سے لڑتے ہوئے) قتل ہو گیا۔‘‘

(بخاری، الصحيح، 3: 1041، الرقم: 2674)

  • حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک قریشی کو آتے ہوئے دیکھا۔ صحابہ کرام نے کہا یہ شخص کتنا زیادہ مضبوط ہے کاش اس کی مضبوطی اللہ کی راہ میں ہوتی۔ (یہ سن کر) حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَوَ ليس في سبيل للّٰه اِلا من قتل؟ ثم قال: من خرج في الاَرض يطلب حلالاً يکُفّ به اَهله فهو في سبيل اللّٰه، ومن خرج يطلب التکاثر فهو في سبيل الشيطان.

((عبد الرزاق، المصنف، رقم: 9578)

’’کیا صرف وہی شخص اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جو قتل ہو جائے؟ پھر فرمایا: جو زمین میں اپنے اہل و عیال کے لیے رزق حلال کے لیے نکلتا ہے وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا ہے (یعنی شہید ہوتا ہے)، جو زیادہ مال بنانے کے لیے نکلتا ہے وہ شیطان کی راہ میں ہے۔‘‘

  • عبد الملک بن ہارون بن عنترہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ماتعدون الشهيد فيکم قلنا يارسول اللّٰه من قتل في سبيل اللّٰه قال ان شهداء امتي اذا لقليل من قتل في سبيل اللّٰه فهو شهيد والمتردي شهيد والنفساء شهيد والغرق شهيد.

’’تم اپنے اندر کس کو شہید شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، فرمایا: اس طرح تو میری امت کے بہت کم شہید ہونگے۔ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے، جو (کہیں سے) گِر کر (یا اس کے اوپر کوئی چیز گِر کر) مر جائے وہ بھی شہید ہے، زچگی میں مر جانے والی عورت بھی شہید ہے اور ڈوب کر مر جانے والا بھی شہید ہے۔ حلوانی نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ تپ دق کے مرض اور سفر میں مرنے والا بھی شہید ہے۔‘‘

(هيثمی، مجمع الزوائد، 5: 301)

شہید کی تعریف

فقہاء کے ہاں شہید کی تعریف یہ ہے کہ:

’’جسے حربی کافر، باغی اور راہزنوں نے قتل کیا، یا میدان جنگ میں پایا گیا اور اس پر زخم تھے، یا اس کی آنکھ، کان یا پیٹ سے خون بہہ رہا تھا، یا جسم پر جلنے کا نشان تھا یا دشمن کے جانور (سواری) نے اسے روندا، یا سوار تھا یا اپنی سواری کو ہانک رہا تھا یا جانور نے کاٹا یا جانور نے روند ڈالا یا مارنے (ڈانٹنے) سے جانور بدکا، بھاگا اور اسے مار ڈالا یا کسی کو نیزہ مار کر پانی یا آگ میں پھینک کر جلا ڈالا یا جانور کو آندھی ہماری طرف لے آئی، یا لکڑی جلا کر ہماری طرف پھینک دی اور آدمی جل گیا ، یا کسی مسلمان نے ڈبو دیا ، یا ظلم سے مسلمان نے قتل کر دیا اور اس قتل سے قاتل پر دیت واجب نہ ہوئی۔ یونہی جو شخص اپنی جان، مال بچاتے ہوئے قتل ہو گیا، یا مسلمان کی یا ذمیوں (دار الاسلام میں رہنے والے غیر مسلم) حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا، کسی بھی آلہ سے لوہا ہو یا پتھر یا لکڑی، وہ شہید ہے۔‘‘

(فتاویٰ عالمگيری،1: 167)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو شخص حادثاتی موت مر گیا، موذی و مہلک بیماری سے مر گیا، دوسرے کی جان و مال و عزت یا اپنی جان و مال و عزت کو بچاتے قتل ہو یا جس طریقہ سے بھی بے گناہ قتل ہو شہید ہے۔

قاتل کا آپ کے ہاتھ سے زخمی ہونا ایسا معاملہ ہے جس میں انسان کسی کے حملے کا دفاع کرتا ہے اور دفاع کا حق دنیا کے ہر قانون میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ قاتل کو شرعاً اور قانوناً سزا دینے کی مجاز عدالت ہے۔ اگر آپ قانون ہاتھ میں لیں گے تو قانون کی نظر میں آپ بھی مجرم قرار پائیں گے۔

سوال: ایک مکتبِ فقہ کی تقلید کیوں ضروری ہے؟اہلِ سنت کے چار مکاتبِ فقہ میں سے کسی پر بھی عمل کرنا جائز ہے یا پھر کسی ایک فقہ پر عمل کیا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو ایک فقہ کی پابندی کیوں کی جائے؟

جواب: قرآن و سنت میں دوطرح کے احکام ہیں: بعض احکام محکم اور واضح ہیں جن میں اِجمال، اشتباہ، اِبہام یا تعارض نہیں۔ انھیں پڑھنے والا ہر شخص بغیر کسی اُلجھن کے اُن کا مطلب آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی فرضیت اور زنا، شراب نوشی، چوری، فساد فی الارض اور قتل وغیرہ کی حرمت ہے۔

اس کے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام ایسے بھی ہیں جن میں بادی النظر میں اِبہام پایا جاتا ہے۔ جیسے عبادات اور معاملات وغیرہ کے فروعی مسائل۔ قرآن و سنت سے ان احکام کے مستنبط اور اخذ کرنے کی دو صورتیں ہیں:

  1. ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کر کے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کر لیں اور اس پر عمل کریں۔
  2. دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں از خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے قرونِ اولیٰ کے جلیل القدر اسلاف کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں اور انہوں نے جو کچھ سمجھا ہے اس کے مطابق عمل کریں۔

چونکہ عام مسلمان قرآن و حدیث سے احکامِ شرع کے قواعد و ضوابط کو سمجھ کر مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے جمہور اہلِ سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ شرعی احکام و مسائل کے حل کے لیے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ یا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔ کیونکہ مذکورہ ائمہ اپنے تقویٰ، زہد و ورع، ثقاہت و دیانت، علم و فکر اور کردار کے حوالوں سے اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ کی حامل قرون اولیٰ کی ہستیاں ہیں۔ انہوں نے امت کی سہولت کی خاطر نہایت جانفشانی اور دیانت و لیاقت سے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا۔ شریعت اسلامی کے ایسے اصول و قواعد و ضع کئے جس سے عام مسلمانوں کو دین فہمی اور شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے میں سہولت ہوئی۔ صدیوں سے علماء کرام ان کے اقوال پر فتوی دیتے آئے ہیں۔ اللہ مجدہ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

فَسْئَلُوْٓا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ.

’’سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو‘‘۔

(النحل،16:43)

کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اْسے بذاتِ خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جا رہی ہے یا اْسے شارع (شریعت بنانے والا، قانون ساز) کا درجہ دے کر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قرآن و سنت کی مقصود ہے لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لیے بحیثیت ’شارحِ قانون‘ اْن کی بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔

آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کے طریقہ پر احکامِ شرعیہ بجا لاناتقلیدِ شخصی کہلاتاہے۔ تقلید شخصی کی شرعی حیثیت میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اَنَّ الْاُمَّةَ قَدْ اجْتَمَعَتْ عَلَی اَنْ يَعْتَمِدُوْا عَلَی السَلَفِ فِیْ مَعْرَفَةِ الشَرِيْعَةِ، فَالتَّابِعُوْنَ اعْتَمَدُوْا فِیْ ذَلِکَ عَلَی الصَحَابَةِ، وَ تَبْعُ التَابِعِيْنَ اعْتَمَدُوْا عَلَی التَّابِعِيْنَ، وَ هَکَذَا فِیْ کُلِّ طَبَقَةٍ اِعْتَمَدَ العْلَمَاءُ عَلَی مِنْ قَبْلِهِِمْ.

’’امت نے اجماع کر لیا ہے کہ شریعت کی معرفت میں سلف صالحین پر اعتماد کیا جائے۔ تابعین نے اس معاملہ میں صحابہ کرام پر اعتماد کیا اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا۔ اسی طرح ہر طبقہ میں علماء نے اپنے پہلے آنے والوں پر اعتماد کیا۔‘‘

(شاه ولی الله، عقدالجيد، 1: 31)

اسی طرح تقلید شخصی کو لازم کرنے کی ایک واضح نظیر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے قرآنِ حکیم کا ایک رسم الخط متعین کر دیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے پہلے قرآنِ حکیم کو کسی بھی رسم الخط کے مطابق لکھا جا سکتا تھا کیونکہ مختلف نسخوں میں سورتوں کی ترتیب بھی مختلف تھی اور اس ترتیب کے مطابق قرآنِ حکیم لکھنا جائز تھا۔ لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے امت کی اجتماعی مصلحت کے پیشِ نظر اس اجازت کو ختم فرما کر قرآن کریم کے ایک رسم الخط اور ایک ترتِیب کو متعین کر کے امت کو اس پر متفق و متحد کر دیا اور امت میں اسی کی اتباع پر اجماع ہوگیا۔

(بخاری، الصحيح، باب جمع القرآن، 4: 1908، رقم: 4702)

مذاہبِ اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کی تقلید کا فائدہ یہ ہے کہ عام مسلمان تفرقہ و انتشار سے بچ جاتا ہے۔ اگر تقلیدِ مطلق کی عام اجازت ہو اور ہر شخص کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ جس مسئلے میں جس فقیہ کی چاہے تقلید کر لے تو اس قسم کے اقوال کو جمع کر کے ایک ایسا مذہب تیار ہو سکتا ہے جس میں دین خواہشات کا کھلونا بن کر رہ جائے گا، جسے کسی بھی طور پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فقہاء کے نزدیک اب تقلیدِ شخصی کی پابندی ضروری ہے اور کسی ایک مجتہد (کے مکتبِ فکر) کو معین کر کے ہر مسئلے میں اسی کی پیروی کی جائے تاکہ نفسِ انسانی کو حلال و حرام کے مسائل میں شرارت کا موقع نہ مل سکے۔

فقہ، اجتہاد اور تقلید کے موضوعات کی مزید تفہیم کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطابات

  • فقہ اور فلسفہ اجتہاد و تقلید (امام اعظم کانفرنس)
  • فقہ، اجتہاد اور تقلید (پانچ نشستیں) ملاحظہ فرمائیں۔



^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>










© 1980 - 2022 Minhaj-ul-Quran International.


Warning: mysqli_close() expects parameter 1 to be mysqli, string given in /home/minhajki/public_html/minhaj.info/mag/index.php on line 133