سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | تلاش کریں | رابطہ
ماہنامہ منہاج القرآن > اپریل 2017 ء > الفقہ: آپ کے فقہی مسائل


ماہنامہ منہاج القرآن : اپریل 2017 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اپریل 2017 ء > الفقہ: آپ کے فقہی مسائل

الفقہ: آپ کے فقہی مسائل

مفتی عبدالقیوم خاں ہزاروی

سوال: عاق کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

انسان کے مرنے کے بعد اس کی جائیداد کو تقسیم کرنے کا طریقۂ کار اللہ تعالیٰ کا وضع کردہ ہے، اس میں کسی کمی و بیشی یا ترمیم و اضافے کا حق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ ضابطۂ وراثت کے مطابق ہر وارث کا حصہ مقرر ہے جس سے اسے کوئی محروم نہیں کرسکتا:

لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا.

مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے۔

النساء، 4: 7

آئمہ و علمائے کرام نے حقِ وراثت سے محرومی کی درج ذیل وجوہات ذکر کی ہیں:

  1. قتل
  2. اختلاف دین
  3. غلامی

سوال مسؤلہ میں یہ تینوں صورتیں نہیں پائی جا رہیں۔ یہ وراثت سے محروم کرنے کی باپ کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

اپنے سوال میں آپ نے بتایا کہ بڑے بیٹوں کا دعویٰ ہے کہ والد صاحب نے چھوٹے بیٹے کو گھر سے نکالنے اور جائیداد سے محروم کرنے کا کہا تھا، اگر دونوں بیٹوں کو کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد چھوٹے بیٹے کو گھر سے نکال دینا تو یہ کارِ خیر وہ اپنی زندگی میں خود کرتے۔ تینوں بیٹے مسلمان ہیں، ان میں سے کوئی باپ کا قاتل نہیں ہے اور باپ کے مرتے وقت زندہ تھے، اس لیے تینوں باپ کے کل قابل تقسیم ترکہ میں برابر کے حصہ دار ہیں۔

اگر کوئی باپ اپنی زندگی میں کسی وجہ سے بیٹے یا کسی وارث کو اپنی جائیداد سے عاق بھی کر دے تو اس کا مطلب ہے بیٹا اس کی زندگی میں‘ اس کی جائیداد میں کوئی تصرف نہیں رکھتا۔ جونہی عاق کرنے والا فوت ہوگیا‘ عاق نامہ ختم ہو جائے گا۔ اگر بیٹا نافرمان ہے تو وہ اس نافرمانی کی سزا اللہ کے ہاں پائے گا، لیکن والد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسے اپنی جائیداد سے محروم کرے۔

سوال: مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟

جواب: نماز جنازہ ادا کرتے وقت میت کی چارپائی رکھنے کے لئے مسجد سے باہر جگہ بنالی جائے اور باقی نمازی اگر مسجد میں بھی کھڑے ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ میت کو مسجد سے باہر اس لئے رکھتے ہیں کہ مسجد میں تلویث نہ ہو۔ اگر تلویثِ مسجد کا خطرہ نہیں اور میت صحیح حالت میں ہے تو مسجد کے اندر میت رکھ کر نماز جنازہ ادا کرنا بھی جائز ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ اگر ایک عبادت گاہ سے دیگر دینی کام بھی کسی شرعی خرابی کے بغیر لینا ممکن ہوں تو ضرور لیے جائیں۔ شرعاً پوری گنجائش ہے۔

  • ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

ادخلوا به المسجد حتی اصلی عليه.

’’ انہیں مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی ان پر نمازِ جنازہ پڑھ سکوں‘‘۔

اس پر صحابہ کرام نے انکار کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

واللّٰه لقد صلی رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم علی ابنی بيضاء في المسجد سهيل واخيه.

’’خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور ان کے بھائی پر مسجد میں نمازِ جنازء پڑھی ہے‘‘۔

(مسلم: 973، ابوداؤد:3189، ترمذی: 1033، نسائی: 1968)

  • دوسری روایت میں ہے کہ تمام ازواج مطہرات کے مطالبہ پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں ادا کیا گیا۔ ان عصمت مآبوں کو جب خبر پہنچی کہ لوگوں نے اسے برا جانا ہے اور کہا ہے کہ جنازے مسجدوں میں داخل نہیں کیے جاتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

ما اسرع الناس الی ان يعيبوا ما لا علم لهم به. عابوا علينا ان يمر بجنازة في المسجد وما صلی رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم علی سهيل بن بيضاء الا في جوف المسجد.

(مسلم، 1: 33)

’’لوگ جس بات کو جانتے نہیں کتنی جلدی اس پر عیب لگا دیتے ہیں۔ ہم پر عیب لگا کہ مسجد میں جنازہ لایا گیا ہے حالانکہ سہیل بن بیضاء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں ہی تو نماز جنازہ ادا فرمایا تھا۔‘‘

علامہ نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس حدیث میں امام شافعی اور اکثر ائمہ کی دلیل ہے جو مسجد میں نمازِ جنازہ جائز قرار دیتے ہیں۔

  • جب میت مسجد سے باہر ہو اور لوگ مسجد کے اندر، تو نماز مکروہ نہیں۔ اگر ممانعت کی علت یعنی تلویثِ مسجد کا خوف ہو تو پھر میت مسجد سے باہر ہو اور جنازہ پڑھنے والے افراد اگر مسجد کے اندر بھی ہوں تو یہ صورت مکروہ نہ ہوگی۔

’’کتاب المبسوط اور البحرالمحیط میں اسی طرف میلان ظاہر کیا گیا ہے، اس پر عمل ہے اور یہی مذہب مختار ہے۔‘‘

بلکہ غایۃ البیان اور العنایۃ میں ہے کہ (مسجد میں نمازِ جنازہ) بالاتفاق مکروہ نہیں۔

  • علامہ شامی تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس میں کوئی شک نہیںکہ میت پر نماز پڑھنا دعا اور ذکر ہے اور یہ دونوں باتیں مسجد بنانے کے اسباب میں سے ہیں۔ ورنہ لازم آئے کہ مسجد میں دعائے استسقاء اور کسوف وغیرہ بھی منع ہوں۔

ان تمام دلائل و حوالہ جات کو دیکھتے ہوئے یہی بات حق ہے کہ اگر میت کی حالت غیر ہو مثلاً جسم سے خون، پیپ، پانی وغیرہ نکل رہا ہے یا کسی اور طرح سے تلویثِ مسجد کا ڈر ہو جائے تو مسجد سے باہر رکھ کر جنازہ ادا کیا جائے خواہ نمازی باہر ہوں یا اندر۔ اگر میت کی حالت نارمل ہے اور تلویثِ مسجد کا کوئی امکان نہیں تو نماز جنازہ بلا کراہت مسجد کے اندر بھی جائز ہے۔

مسلمان زندہ ہو یا مُردہ قابلِ احترام ہے، ہر دو صورتوں میں اگر اُس کا جسم پاک نہ ہو تو مسجد میں نہیں آسکتا یا نہیں لایا جاسکتا جیسے جُنبی شخص مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا اور ایسی میت جس کے جسم سے کچھ نکلتا ہو یا بدبو آتی ہو، کو بھی مسجد میں نہیں لایا جاسکتا۔

سوال: حقِ شفعہ کے بارے میں تفصیلی شرعی احکام کیا ہیں؟

جواب:شریعت اسلامیہ کا قانون ہے کہ جب کوئی شخص زمین، مکان، دکان یا کوئی بھی غیرمنقولہ جائیداد بیچنا چاہے تو پہلے اپنے پڑوسی کو آگاہ کرے۔ اگر وہ خریدنا چاہے تو مارکیٹ ریٹ پر اس کے ہاتھ فروخت کرے کیونکہ اخلاقاً اور قانوناً دوسروں کی نسبت وہ زیادہ حقدار ہے۔ اگر پڑوسی خریدنے کے لیے تیار نہ ہو تو جہاں چاہے بیچ سکتا ہے، شرعاً آزاد ہے۔

اگر زمین بیچنے والے نے ہمسائے کو بتائے بغیر اپنی زمین کسی تیسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر دی ہے تو ہمسایہ اپنا حقِ شفعہ استعمال کر کے بذریعہ پنچائت یا عدالت قانوناً یہ سودا منسوخ کروا کر خود اسی قیمت پر خرید سکتا ہے جو مارکیٹ ریٹ سے بنتی ہے تاکہ کسی فریق پر زیادتی بھی نہ ہو اور حقدار کو اس کا حق بھی مل جائے۔

  • حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

قضی النبی صلی الله عليه وآله وسلم بالشفعة فی کل ما لم يقسم. فاذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة.

(صحيح بخاری، 2: 770،رقم: 2138)

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر غیر منقولہ غیر منقسم جائیداد میں حقِ شفعہ دیا۔ جب حد بندی ہو جائے اور راستے بدل جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں‘‘۔

  • اسی روایت کو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے:

قضی رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم بالشفعة فی کل شرکة لم تقسم ربعة أو حائط، لا يحل له ان يبيع حتی يؤذن شريکه، فان شآء أخذ و ان شاء ترک، فاذا باع و لم يؤذنه فهو أحق به.

(الصحيح لمسلم، 3: 1229، رقم:1608)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر شریک چیز میں حقِ شفعہ مقرر فرمایا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، گھر ہو یا باغ۔ کسی کو جائز نہیں کہ اپنے پڑوسی کو (جس کی حد اس جائیداد سے ملتی ہے) بتائے بغیر بیچ دے۔ پڑوسی چاہے تو لے، چاہے تو چھوڑ دے۔ جب مالک نے پڑوسی کو بتائے بغیر وہ (جائیداد) بیچ دی تو پڑوسی بہ نسبت کسی تیسرے شخص کے زیادہ حقدار ہے‘‘۔

  • حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

الجار أحق بسقبه.

’’پڑوسی اپنی قربت کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے‘‘۔

  • حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

الجار أحق بشفعته، ينتظر به وان کان غائبا.

(احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجه، دارمی)

’’پڑوسی شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر موجود نہیں تو اس کا انتظار کیا جائے گا‘‘۔

(یہ تمام روایات مشکوۃ شریف میں باب الشفعہ صفحہ 257-256 پر موجود ہیں۔)

جس شخص کو شفعہ کا حق حاصل ہے، اس کے لئے لازم ہے کہ جب اسے مکان یا جائیداد کے فروخت کیے جانے کی خبر پہنچے تو فوراً بغیر کسی تاخیر کے یہ اعلان کرے کہ: ’فلاں مکان فروخت ہوا ہے اور مجھے اس پر حقِ شفعہ حاصل ہے، میں اس حق کو استعمال کروں گا‘ اور اپنے اس اعلان کے گواہ بھی بنائے۔

  • فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ:

اذا علم الشفيع بالبيع، ينبغی أن يطلب الشفعة علی الفور ساعتئذ.

(فتاوی عالمگيری، 5: 172)

’’جب شفعہ کرنے والے کو سودے کا پتہ چلے اسے فوراً اسی وقت شفعہ کا مطالبہ کر دینا چاہئے‘‘۔

اگر کسی انتہائی مجبوری کی وجہ سے وہ شفعہ کا اعلان یا مطالبہ نہیں کرسکا تو اس کا حقِ شفعہ ساقط نہیں ہوتا۔

ولو ترک الخصومة ان کا بعذر نحو مرض أو حبس أو غيره، و لم يمکنه التوکيل، لم تبطل شفعته.

(فتاویٰ عالمگيری، 5: 173)

’’اگر شفعہ کرنے والے نے کسی بیماری یا قید یا کسی اور عذر کی بنا پر معاملہ نہیں اٹھایا اور نہ کسی کو وکیل بنانا ممکن تھا تو اس کا حقِ شفعہ باطل نہیں ہوگا‘‘۔

صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:

لا تسقط الشفعة بتأخير هذا الطلب.

’’طلب شفعہ میں تاخیر ہو جائے تو حق شفعہ باطل نہیں ہو جاتا‘‘۔

(هداية،4: 394)

یہی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور امام ابو یوسف کا مذہب ہے۔

  • اگر قیمت کے تعین میں صاحبِ شفع اور دوسرے خریدار کے مابین اختلاف ہو جائے تو دوسرے خریدار کی بات مانی جائے گی۔

ان اختلف الشفيع و المشتري في الثمن فالقول قول المشتري، لأن الشفيع يدعي استحقاق الدار عليه عند نقد الأقل وھو ينکر، و القول قول المنکر مع يمينه و لا يتحالفان.

’’اگر شفعہ کرنے والا اور دوسرا خریدار قیمت میں اختلاف کریں تو بات خریدنے والے کی مانی جائے گی کیونکہ شفعہ کرنے والا مکان کا حقدار ہونے کا دعویدار ہے کم قیمت پر۔ اور خریدنے والا انکار کرتا ہے اور بات انکار کرنے والے کی مانی جاتی ہے قسم کے ساتھ۔ دونوں کو قسم نہیں دی جائے گی‘‘۔ (ھدایہ، 4: 397)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

اذا اختلف الشفيع و المشتري في الثمن، فالقول قول المشتري، و لا يتحالفان و لوأقا ما البينة فا لبينة بينة الشفيع عند أبي حنيفة و محمد.

(فتاویٰ عالمگيری، 5: 185)

’’اگر حقِ شفعہ رکھنے والا اور بیچنے والا قیمت میں اختلاف کریں تو بات دوسرے خریدار کی مانی جائے گی۔ دونوں کو قسم نہیں دی جا سکتی۔ اگر دونوں نے گواہی پیش کر دی تو شفعہ کرنے والے کی گواہی مانی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور امام محمد رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے‘‘۔

  • اگر خرید و فروخت میں زمین کے بدلے زمین لی گئی ہے تو حق شفعہ والا ان دونوں میں سے کسی ایک زمین کی قیمت ادا کر کے زمین لے سکتا ہے۔

وان باع عقارا بعقار، أخذ الشفيع کل واحد منهما بقيمة الآخر لأنه بدله و هو من ذوات القيم فيأخذه بقيمته. (هدايه،4: 399)

’’اگر کسی نے غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین، زمین کے بدلے بیچی تو حق شفعہ والا ان دونوں میں سے ہر ایک دوسری کی قیمت سے لے سکتا ہے کیونکہ ہر زمین دوسرے کا بدل ہے اور قیمتی چیز ہے۔ پس ایک کو دوسری کی قیمت پر لے سکتا ہے‘‘۔




^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>










© 1980 - 2022 Minhaj-ul-Quran International.