سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | تلاش کریں | رابطہ
ماہنامہ منہاج القرآن > فروری 2021 ء > کلی سے پھول تک خوشبو کا سفر


ماہنامہ منہاج القرآن : فروری 2021 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > فروری 2021 ء > کلی سے پھول تک خوشبو کا سفر

کلی سے پھول تک خوشبو کا سفر

محمد شفقت اللہ قادری

یہ میری زندگی کی چند شیریں اور پر کیف یادیں ہیں جو ماضی کے بند دریچے کھلنے پر باہر آگئیں۔ انہیں قرطاس و قلم کے حوالے کر رہا ہوں تاکہ حسین یادوں کے کنول میری زندگی کی جھیل میں ہمیشہ تیرتے رہیں۔

حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فریدالدین قادریؒ کی دعائے مُستجاب کا ’’ثمر‘‘ آنگنِ فرید میں ظہور پذیر ہوا۔ یہ ثمر 19 فروری 1951ء کو دامنِ مطہورِ خورشید میں گرا۔ اب آنگنِ فریدالدین قادریؒ میں بیک وقت دو خورشید پوری تابانی کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ آج فریدالدین قادریؒ مسرّت و انبساط سے پھولے نہ سما رہے تھے۔ ایک خورشید آسمانِ قسمتِ فرید پر ضوفشانی کر رہا تھا اور دوسرا خورشیدِ فرش اسمِ بامُسمیٰ یعنی کہ والدہ محترمہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری تھیں جو اپنی خوش نصیبی پر فرحاں و شاداں تھیں۔

محمد طاہر کے آنے سے گلشنِ فرید میں بہار آگئی تھی۔ ہر سمت صدقہ، خیرات اور شادمانی کا سماں تھا۔ نعمتِ عظیم پر مٹھائیاں بٹ رہی تھیں۔ فریدالدین قادریؒ اپنی دعائے قبول پر شکرانے کے نوافل ادا کر رہے تھے۔ جھنگ، بستیِ اولیاء اور مسکنِ سلطان باہوؒ کے دامنِ عطا میں خوشیوں کی بارات وجد کناں تھی اور عالمِ بے خودی میں دھمال ڈال رہی تھی! منظر دیدنی تھا۔

عمر مہد یعنی کہ ماں کی گود میں محمد طاہر کی مروّجہ روائتی اور دقیانوسی انداز سے ہٹ کر عین اسلامی طریق سے پرورش اور بود و باش ہوتی اور گھر میں ہر چھوٹا بڑا اس معصوم اور خاص بچے کی بلائیں لیتا۔

1955ء کو طفلِ مرادِ فرید محمد طاہر کو ابتدائی تعلیم کے لیے انگریزی کرسچن مشنری سکول سیکرڈہارٹ میں داخل کرا دیا گیا، اس پر بھی فرید الدین قادریؒ کی خوشی دیدنی تھی۔ 1960ء میں فرزندِ فریدالدین قادریؒ نے تعلیم کا پہلا مرحلہ یعنی کہ پرائمری پاس کر لیا تھا۔

1961ء میں فرزند عزیز محمد طاہر یعنی اقبالؒ کے شاہین نے پہلی انگڑائی لی اور بال و پر کھولے۔ ہوا کچھ یوں کہ محمد طاہر نے ۹ برس کی عمر میں سیکرڈ ہارٹ سکول کے تمام مسلمان بچوں کو اکٹھا کر کے انہیں اپنی مذہبی حدود اور شعائر سے آگاہی دی اور اپنے حقوق سے آشنا کیا کہ کرسچن Pray (اسمبلی کی دعا) مسلمان بچوں کی مذہبی آزادی پر بہت بڑی قد غن ہے اور پھر باقاعدہ مسلمان بچوں سے سکول میں ناروا سلوک پر سکول انتظامیہ کے خلاف پہلا باقاعدہ احتجاج کیا اور خود قیادت کی۔

یاد رہے کہ یہ قلبِ محمد طاہر پر نمودار ہونے والی مستقبل کے انقلاب کی پہلی چنگاری تھی۔ بالآخر سکولوں کی تاریخ میں رونما ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد احتجاج رنگ لایا اور انتظامیہ حیران و ششدر تو تھی ہی، اب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی اور مسلمان بچوں کے لیے علیحدہ Pray (دعا) کا باقاعدہ بندوبست کیا گیا، جس پر سیکڑوں بچوں کے والدین کا سکول کے گیٹ پر تانتا بندھ گیا۔ کیونکہ اگلی صبح مسلمان بچوں کے والدین کم سن لیڈر کی دید و ملاقات کے لیے باقاعدہ اکٹھے ہوئے تھے اور فریدالدین قادریؒ کو اس عجوبۂ روزگار ’’طفلِ خاص‘‘ کے حیران کن تاریخی عمل پر مبارک باد پیش کی۔ تب سے اب محمد طاہر بچوں میں ایک لیڈر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ اس قیادت اور اس واقعہ کے عینی شاہد آج بھی نہ صرف موجود ہیں بلکہ شیخ الاسلام کی اس تاریخی قیادت، سیادت جس پر سب حیران اور انگشت بدنداں تھے، آج اِطمینانِ قلب کے ساتھ گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ احباب فقط پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں اور بڑے بڑے اجتماعات اور مجالسِ علمی میں برملا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس سپوتِ جھنگ پر صرف فخر ہی نہیں بلکہ اپنی شان اور آن سمجھتے ہیں۔

1963ء میں فریدالدین قادری والدِ عظیم المرتبت ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے خواب دیکھا کہ آقائے دو جہاں نے حکم دیا کہ ہمارے محمد طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔ لہٰذا 1963ء کو ہی بغرضِ حجِ مقدس بارگاہِ محتشم میں پیش کر دیا۔ یاد رہے کہ محمد طاہر اس وقت آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے۔

فرزندِ ارجمند مُرادِ فریدالدین قادریؒ محمد طاہر نے لرزاں جسم اور سراپائے عجز و انکساری بن کر بارگاہِ بے کراں بے حد و حساب میں حاضری دی۔ محمد طاہر کی آنکھیں ادب و نیاز سے مکمل بند تھیں، ساکن جسم کے ساتھ تصویرِ ادب بنے کھڑے تھے کہ والیِ کونین ﷺ نے کمال شفقتِ کریمانہ فرماتے ہوئے قبول فرمایا اور دعائے فریدالدینؒ کو ایک دودھ کا مٹکا عطا کیا اور فرمایا: ’’طاہر! یہ میری امت میں بانٹ دو‘‘۔ معصوم و مطہور محمد طاہر تھوڑی دیر کے لیے لرز گئے اور پھر آقائے دو جہاں ﷺ نے خود ہی سنبھال لیا۔۔۔ اور پیشانیِ محمد طاہر پر پھولوں کی پنکھڑی جیسے لبوں سے بوسہ دیا۔ سبحان اللہ!

جب حاضری سے فراغت ہوئی، پیچھے ہٹے تو آپ پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور عجب کپکپی سی طاری تھی! جو معصوم محمد طاہر تو نہ سمجھ سکے مگر عاشقِ رسول منگتائے بارگاہِ مصطفیٰ کریم ﷺ فریدالدین قادریؒ سمجھ گئے اور فوری محمد طاہر پر پیار کا اظہار اپنی بانہوں میں لے کر گلے لگا کر کیا اور بوسۂ مصطفیٰ کو باوضو ہونٹوں سے چوم لیا!۔۔۔ فریدِ ملت کے چہرے پر خاص مسکراہٹ رقصاں تھی۔ آج بھی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری 57 برس گزرنے کے بعد بھی اس بوسۂ مصطفیٰ کریم ﷺ کا لمس اور خوشبو نہ صرف فقط محسوس کرتے ہیں بلکہ اپنی کامران زندگی کا راز اور سرمایۂ حیاتِ جاودانی سمجھتے ہیں۔

1964ء، جب فرزندِ ارجمند فریدالدین قادریؒنے اپنے والدِ گرامیٔ قدر کے روبرو احتجاج کیا کہ قبلہ ابا جان! میں کرسچن مشنری سکول میں مڈل پاس کر چکا ہوں، یہاں کیونکہ لڑکیوں اور لڑکوں کی مشترکہ تعلیم ہے، میں مزید تعلیم یہاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ والدگرامی جانتے تھے کہ آنے والے وقت کے تقاضے اور ہیں، لہٰذا انہوں نے کہا: بیٹا محمد طاہر! میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ میٹرک ہر صورت یہاں سے کریں۔ معصوم محمد طاہر مخاطب ہوئے: اباجان! اگر ایسا ہی ہونا تھا تو مجھے دینی تعلیم دینا، نمازِ تہجد کا خوگر بنانا اور پھر حجازِ مقدس کا سفر کیوں کر کرایا تھا۔۔۔؟ مجھے اس شعورِ دینی سے دور کیوں نہ رکھا۔۔۔؟ اتنی قومی اور ہمہ جہت استدلالی گفتگو کے بعد یہ احتجاج بھی محمد طاہر کے حق میں کارگر ثابت ہوا اور فریدالدین قادریؒ نے محمد طاہر کو جھنگ کے ایک عام سکول اسلامیہ ہائی سکول میں داخل کرادیا۔ جہاں سے محمد طاہر نے 1966ء میں ہائی فرسٹ ڈویژن کے ساتھ میٹرک پاس کیا۔ اب نماز، روزہ، تہجد اور دیگر نفلی عبادات اور اوراد و وظائف پسرِ فریدالدین ؒ یعنی محمد طاہر القادری کی روح میں مکمل سرایت کر چکے تھے۔

فریدِ ملتؒ نے محمد طاہر کو گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں پری میڈیکل میں داخل کروا دیا۔ 1969ء میں محمد طاہر نے اعلی فرسٹ ڈویژن کے ساتھ FSc کی اور فریدِ ملت ؒ نے میڈیکل میں داخلہ کی کوشش شروع کر دی لیکن محمد طاہر القادری جو روحانی اور علمی لحاظ سے مکمل طور پر آقائے دو جہاں ﷺ کی غلامی اور دسترس میں آچکے تھے، اصولی اور نظریاتی طور پر والد گرامی کے سامنے اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے اور عرض کی: ابا جان! میں دنیوی ڈاکٹر نہیں بلکہ میں آپ کی دعا اور حضور نبی اکرم ﷺ کی عطا کا مظہر بننا چاہتا ہوں۔ میری یہ دنیاوی لائن نہیں ہے۔ اتنے اعلیٰ نمبروں کے باوجود ایک نمبر سے داخلہ نہ ہوا تو فرید ملت نے ڈویژن improve کروائی۔ زیادہ نمبر تو آئے مگر داخلہ نہ ہوا کیونکہ معاملہ آقائے دو جہاں ﷺ کے محمد طاہر کا تھا۔ اب فریدِ ملت سوچوں کی وادی میں ڈوب گئے۔۔۔ اسی تفکر کے عالم میں سوئے تو رات بشارت مصطفوی ﷺ نے محمد طاہر کو فتح یاب کر دیا اور فریدِ ملت کو بھی نویدِ نصرت سنادی۔

خواب میں آقائے دو جہاں ﷺ نے بشارت دی کہ فریدالدین تم اپنے ارادے میں کامیاب و کامران ہو گئے ہو اور محمد طاہر اپنے ارادے میں محبت کی بازی جیت گیا ہے۔ ہم آپ کے محمد طاہر کو ایسا ڈاکٹر بنائیں گے۔۔۔ اور پھر گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی طرف اشارہ فرمایا۔۔۔ خواب میں فریدالدین قادریؒ کی چیخ نکلی اور حضور انور ﷺ کے قدموں میں گر گئے۔

صبح تہجد میں اٹھتے ہی محمد طاہر کے کمرے میں گئے اور آواز دی: ’’محمد طاہر صاحب‘‘ اٹھو! تم مؤقف اور ارادے میں جیت گئے ہو! ابھی ابھی آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا ہے کہ فریدالدین دونوں کی دعائیں مستجاب کرتا ہوں، آپ کا محمد طاہر ڈاکٹر بنے گا مگر میرے دین کا ڈاکٹر بنے گا جو آپ کی خواہشات کا امین اور ضامن ہو گا اور شرق تا غرب میرے دین کی بھی نگرانی کرے گا۔

اب عقدہ جان گسل کشا ہو چکا تھا۔ فریدِ ملت نے محمد طاہر کا پیشانی پر بوسہ لیا اور یہ الفاظ دہرائے: بیٹا جی! اب آگے جو کرنا ہے، خود دیکھو! میں راضی ہوں۔ اس کشمکش میں وقت گزرنے کا پتہ بھی نہ چلا اور BA کے پرائیویٹ امتحان میں تین ماہ رہ گئے۔ یہ میرا ذاتی آنکھوں دیکھا مشاہدہ ہے کہ محمد طاہر جو اب محمد طاہر القادری بن چکے تھے، انہوں نے BA کا امتحان فقط تین ماہ میں ہائی فرسٹ ڈویژن کے ساتھ پاس کیا اور scholarship کے تحت ایم اے اسلامیات میں پنجاب یونیورسٹی میں بغیر کسی پریشانی اور مشکل کے داخلہ ہو گیا۔

محمد طاہر القادری کا روزانہ کا معمول تھا کہ رات عشاء کے وضو کے ساتھ پڑھنے بیٹھتے تھے اور اسی وضو سے فجر ادا کرتے اور تھوڑی دیر آرام فرما کر دن بھر تعلیمی معمولات جاری رکھتے۔ اب نگرانی فریدالدین قادریؒ نہیں بلکہ آقائے دو جہاں ﷺ خود فرما رہے تھے۔ فرق اتنا ضرور آگیا تھا کہ شفیق والد اور بے مثل ڈاکٹر فریدالدین قادریؒ بیٹے کے سارا دن کھانے پینے اور صحت کے فکر میں لگے رہتے اور جب بھی مخاطب کرتے تو محمد طاہر صاحب کہہ کر مخاطب فرماتے مگر محمد طاہر عرض کرتے: ابا جان! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ میں شرمندہ ہوتا ہوں۔ فرماتے: بیٹا جی! آپ کا مقام جب سے میں نے دیکھا ہے! پھر ایسے کیوں نہ کروں؟ مجھے یہ سب کر کے خوشی ہوتی ہے۔

1972ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات میں Top کیا اور 28 سالہ سابقہ ریکارڈ توڑا اور 1972ء میں پنجاب یونیورسٹی کے تحت منعقدہ آل پاکستان تقریری مقابلہ جیتا اور پہلا گولڈ میڈل قائداعظم گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جب گولڈ میڈل کی تقریب ہو رہی تھی تو فریدِ ملت اپنے من موہن بیٹے کی پہلی کامرانی پر یادگار پاکستان کے گراؤنڈ میں خوشی سے آب دیدہ ہوگئے۔ بڑے بڑے نامی گرامی مشہور لوگ آپ کے گرد جمع تھے، مبارک باد دے رہے تھے اور فریدِ ملتؒ فرماتے جا رہے تھے کہ بس جی! یہ آقائے دو جہاں ﷺ کا ہی کرم ہے، وگرنہ میں کہاں ہوں۔

اب ان تمام آزمائشوں سے گزر کر سونا کندن بن چکا تھا۔ یونیورسٹی میں تعلیم اور روحانیت ہم نشین رہے۔ ہفتہ وار دو روزے اور اختیاری فاقہ کشی نے چھوٹی عمر میں ہی پردیس میں فقرِ مصطفیٰ ﷺ کی چاشنی اور لذت سے آشنا کر دیا تھا۔

1972ء میں ہی تعلیم کے دوران ’’قرآنی فلسفہ انقلاب‘‘ کی تعلیمات پر غور و خوض جاری رہا۔ 1973ء میں LLB میں داخلہ لیا اور 1974ء میں اعلیٰ فرسٹ ڈویژن کے ساتھ کامیاب ہوئے۔

اب گلشنِ فرید میں پروان چڑھنے والی اور فریدالدین ؒ کے خونِ جگر سے سینچی ہوئی یہ کلی خوش رنگ دیدہ زیب خوشبو آگیں سر مست پھول بن چکی تھی لیکن شومئی قسمت کہ 1974ء میں باغبانِ گلشنِ فرید خالقِ حقیقی سے جا ملے (انا ﷲ واِنا الیہ راجعون) یعنی کہ فریدِ ملت ڈاکٹر فریدالدین قادری وصال فرما گئے اور خالق حقیقی سے جا ملے:

بےکل کلی کو پھول بنتے گلشن میں سبھی نے دیکھا ہے شفقتؔ
اس کی خوشبو چار سُو پھیلی تو خوب مگر اُف باغباں نہ رہا!




^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>










© 1980 - 2021 Minhaj-ul-Quran International.