سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | تلاش کریں | رابطہ
ماہنامہ منہاج القرآن > مارچ 2021 ء > دورہ علوم الحدیث (نشست 2، حصہ 3): فضائل و رقائق میں حدیث ضعیف کے جواز پر دلائل


ماہنامہ منہاج القرآن : مارچ 2021 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > مارچ 2021 ء > دورہ علوم الحدیث (نشست 2، حصہ 3): فضائل و رقائق میں حدیث ضعیف کے جواز پر دلائل

دورہ علوم الحدیث (نشست 2، حصہ 3): فضائل و رقائق میں حدیث ضعیف کے جواز پر دلائل

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین

تیسرا احتمال: کراہت یا استحباب

حدیثِ ضعیف کی قبولیت کے حوالے سے تیسرا احتمال اور امکان یہ ہوسکتا ہے کہ اگر حدیث ضعیف میں بیان کردہ حکم یا عمل کراہت اور استحباب کے درمیان گھومتا ہو تو اب اس حدیث کا درجہ کیا ہوگا؟ یعنی اس میں احتمالِ کراہت ہے یا احتمالِ استحباب ہے۔ اِس کے کرنے سے مکروہ فعل میں داخل ہونے کا بھی خطرہ ہے اور نہ کرنے میں ایک مستحب فعل (جس سے ثواب ملنا تھا) کے ترک ہوجانے اور ثواب و فضیلت سے محروم رہ جانے کا بھی خطرہ ہے۔ اگر یہ صورت حال ہو تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حدیث کا درجہ کیا ہوگا؟

یاد رکھیں! اس صورت میں اِس میں تحقیق کرنی ہوگی۔ جب تحقیق کریں گے تو اس کے تین امکانات بنیں گے:

(1) شدید احتمالِ کراہت پر ترکِ عمل

حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے سے امکانِ کراہت شدید ہے یا خفیف ہے؟ (اس کو احناف کے ہاں مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی کہتے ہیں مگر شوافع کے ہاں تحریمی اور تنزیہی کا فرق نہیں ہوتا۔) اگر کراہت شدید اور تحریمی نوعیت کی ہے اور استحباب (مستحب ہونے) کا احتمال ضعیف ہے تو پھر وہ فعل کراہت کے شدید احتمال کے پیشِ نظر ترک کردیا جائے گا۔

یہ امر ذہن نشین رہے کہ کسی فعل کا بذاتِ خود شدید مکروہ (مکروهِ تحریمی) ہونا ایک الگ چیز ہے جبکہ کسی فعل کے مکروہ ہونے کے احتمال کا شدید ہونا ایک الگ چیز ہے۔ یہاں ہم مکروہ ہونے کے احتمال کے شدید ہونے کی بات کررہے ہیں۔

(2) قوی احتمالِ استحباب پر وقوعِ عمل

حدیث ضعیف میں بیان کردہ فعل پر عمل کرنے سے اگر کراہت اور استحباب دونوں کا احتمال ہو تو اس کا دوسرا امکان یہ ہے کہ کراہت کا احتمال بڑا ہی ضعیف ہو گا یعنی وہ ایسا ایک فعل ہے کہ اُس کے مکروہ ہونے کا احتمال اور امکان بڑا کم ہے، مکروہ ہونے کی دلیل اور ظن میں کمزوری ہے مگر اُس کے برعکس اُس میں استحباب کا احتمال زیادہ قوی ہے یعنی اُس میں دلیل، فہم اور ظن کی قوت زیادہ ہے تو قوی احتمالِ استحباب کے سبب حدیثِ ضعیف پر عمل کیا جائے گا۔ اس لیے کہ اُس عمل سے روکنے والی دلیل (احتمال) کمزور ہے۔

(3) احتمالِ کراہت و استحباب برابر ہونے پر حسنِ ظن

حدیث ضعیف میں بیان کردہ امر پر استحباب اور کراہت دونوں کے احتمال پائے جانے کا تیسرا امکان یہ ہے کہ مستحب اور مکروہ ہونے کے احتمال میں دونوں کی دلیل کی قوت برابر ہے۔ اس صورت میں حسنِ ظن سے کام لیاجائے گا۔

اس صورت میں حسنِ ظن کے غالب آنے کی صورت یہ ہوگی کہ اگر کوئی فعل مباح ہو، یعنی بنیادی طور پر وہ کوئی قابلِ ثواب عمل نہ بھی ہو لیکن نیت اگر نیکی کی کر لیں تو وہ عمل بھی عبادت بن جاتا ہے۔ مثلاً: ہم جس بھی رنگ کا لباس پہن لیں تو اس کا تعلق ثواب کے ساتھ نہیں ہے لیکن اگر سفید لباس پہنتے ہوئے نیت یہ کر لیں کہ آقا علیہ السلام کو سفید لباس پسند تھا تو اب اس نیت کے ساتھ سفید لباس پہننا قابلِ ثواب ہوجائے گا۔۔۔ اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کے انداز اور طرز کی نیت سے اُٹھنا بیٹھنا قابلِ ثواب ہوجائے گا۔۔۔ ہم جو چاہیں کھائیں، سبزی کھائیں، گوشت کھائیں مگر دستی کا گوشت کھاتے ہوئے نیت کر لیں کہ آقا علیہ السلام کو دستی کاگوشت پسند تھا تو یہ نیت کرنے سے دستی کے گوشت کاسالن کھانا عبادت بن جائے گا۔۔۔ مسجد میں نماز کے لیے داخل ہونا ایک عمل ہے مگر نیت اعتکاف کی کرلی جائے تو داخل ہونے سے خارج ہونے تک کا تمام عرصہ اور اس دوران اٹھنا بیٹھنا یہ تمام عمل اضافی ثواب بن جائے گا۔ ۔۔ گلی میں پتھر پڑا ہے، ہم نے وہ پتھر بغیر کچھ سوچے اٹھا کر راستے سے ہٹادیا تو اس عمل کا کوئی ثواب نہیں لیکن اگر یہ سوچ کر اُس پتھر کو راستے سے ہٹا دیا کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگ جائے تو اپنے دوسرے بھائی کو تکلیف سے بچانے کی نیت کی وجہ سے یہ فعل عبادت بن جائے گا۔

بتانا یہ مقصود ہے کہ فعلِ مباح میں ثواب کا کوئی معاملہ نہیں لیکن اگر اس عمل کو آقا علیہ السلام کی طرف منسوب کر لیں تو وہ فعل مباح اب مستحب عمل بن جائے گا، نیت کرنے سے فعلِ مباح عبادت میں بدل جاتا ہے۔ اِسی لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ.

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔

بخاری، ا لصحیح، کتاب بدء الوحی، باب: کیف بدء الوحی، 1: 3، رقم: 1

لہٰذا کسی عمل اور فعل کے اندر اگر از خود عبادت بننے کی کوئی تاثیر اور خوبی نہ بھی ہو مگر نیتِ خیر اُس کے ساتھ متعلق کر دیں تو فعلِ مباح بھی عبادت بن جاتا ہے۔ یعنی نیت ایک عام فعل کو عبادت سے بھی بڑھ کر ایمان کے درجے میں منتقل کر دیتی ہے۔

مذکورہ بحث سے یہ واضح ہوگیا کہ حدیث ضعیف پر عمل کے کیا اصول ہیں اور کراہت اور استحباب کے احتمالات کی بناء پر کس صورت پر عمل کیا جائے گا۔

خلاصۂ کلام

گزشتہ تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کے جواز پر شرعاً و اصولاً اعتراض بنتا ہی نہیں۔ جو آدمی اس حوالے سے یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے تو جائز کی حد تک تو کوئی اعتراض اور جھگڑا نہیں ہے۔

لیکن اگر حدیث ضعیف سے کوئی چیز ثابت ہوئی اور ہم نے کہا کہ اِس پر عمل کرنا جائز ہے جبکہ کسی دوسرے نے کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اِس پر عمل کرنا جائز نہیں تو اب اُسے یہ کہا جائے گا کہ اس مسئلہ میں حدیث کے ضعیف ہونے کے معاملے کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف کردیں اور یہ خیال کریں کہ یہ حدیث ضعیف وارد ہی نہیں ہوئی۔ اب صرف یہ بتائیں کہ اس حدیث سے جو عمل یا فعل ثابت ہورہا ہے کیا اِس پر کوئی منع وارد ہے۔۔۔؟ یہ فعل جو ہم کرنے لگے ہیں کیا اِس کی منع پر کوئی دلیلِ شرعی ہے۔۔۔؟ کیا قرآن کی نص نے اِس کو منع کیا ہے۔۔۔؟ کیا حدیث نبوی نے منع کیا ہے۔۔۔؟ کیا آثارِ صحابہ، اجماع صحابہ نے منع کیا ہے۔۔۔؟ کیا کوئی دلیلِ شرعی ہے جو اِسے حرام یا مکروہ کہے۔۔۔؟ لامحالہ وہ کہے گا کہ اس پر منع کی کوئی دلیل نہیں ہے۔۔۔ اس پر ہم کہیں گے کہ جس فعل پر منع کی دلیل نہ ہو، اُس کو شرعاً کیا کہتے ہیں۔۔۔؟ وہ کہے گا کہ اسے مباح کہتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ اگر کسی خاص مسئلہ میں حدیث ضعیف نہ بھی ہو تو پھر بھی اس فعل یا عمل کو کرنا جائز ہے،جب تک کہ اس کی حرمت پر کوئی شرعی دلیل وارد نہ ہو جائے لیکن جب اس خاص مسئلہ میں حدیث بھی آجائے خواہ وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو تو اب یہ حدیث ضعیف سونے پر سہاگہ کا کام کررہی ہے۔ پہلے بھی وہ عمل جائز تھا کیونکہ اِس پر درجہ حرمت یا درجہ کراہت تک لے جانے والی دلیل ہی نہ تھی۔ جب نہ کراہت ثابت ہے، نہ حرمت ثابت ہے تو فعل فی نفسہٖ مباح اور حلال ہوا۔

یعنی حدیث ضعیف نہ بھی ہوتی تب بھی وہ امر منع ثابت نہ ہونے کے سبب حلال تھا اور اب حدیث ضعیف نے سونے پر سہاگہ کر دیا اور اس پر نور کا رنگ چڑھا دیا۔ فرق صرف اِتنا تھا کہ بغیر حدیث ضعیف کے وہ عمل محض جائز و مباح تھا، گناہ اور ثواب نہ تھا، جبکہ حدیث ضعیف نے اُس میں امکانِ ثواب، احتمالِ اجر اور احتیاط کا اضافہ کر دیا۔ احتیاط کرنا itself مستحب ہے۔ احتیاط تقویٰ ہے۔ یہ احتیاط کرنا کہ کوئی فضیلت ترک نہ ہوجائے، بذاتِ خود ثواب کا عمل ہے۔

حرمت کا اثبات صرف قرآن و حدیث سے ہے

وہ اعمال و افعال یا اشیاء جن کی حرمت کا ذکر قرآن و سنت میں صریحاً موجود نہیں یا وہ عمل شریعت کے کسی حکم سے متصادم نہیں تو وہ عمل بذاتِ خود ایک مباح فعل ہے اور ایسے امور کا بجا لانا حرام یا منع نہیں ہے، اس لیے کہ حرمت صرف قرآن مجید اور حدیث نبوی ﷺ کے ذریعے ہی ثابت ہوتی ہے۔ اس بات پر درج ذیل دلائل ملاحظہ ہوں:

(1) پہلی دلیل

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ النسآء کی آیت نمبر24 میں اُن تمام رشتوں کا ذکر کردیا جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ ان رشتوں میں ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ وغیرہ شامل ہیں۔ جب تمام فہرست مکمل کر دی تو آخرمیں فرمایا:

وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ.

’’اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ ‘‘

(النساء، 4: 24)

یعنی جو رشتے فہرست میں ذکر نہیں کیے، اُن کا حکم وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ کے ذریعے بیان کردیا۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ہاں جو چیزمنع ہوتی ہے، صرف اُسی کا نام فہرست میں آتا ہے اور جو اشیاء جائز ہوتی ہیں، ان کی کثرت اور طویل فہرست ہونے کی وجہ سے اُن کے ناموں کو الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا۔

مثلاً: شراب پینا حرام ہے تو اُس کا ذکر آئے گا اور باقی مشروبات کا پوچھا جائے کہ وہ حلال ہیں یا حرام؟ مثلاً لسّی، شربت، روح افزاء، باداموں کی سردائی، مختلف پھلوں کے جوس وغیرہ تو کہا جائے گا کہ جو حرام ہیں وہ چیزیں بتا دیں۔ جن کا ذکر نہیں کیا، وہ حلال ہیں۔۔۔ اسی طرح وہ جانور اور پرندے جن کا کھانا حرام تھا، ان کی فہرست بتادی اور جن کا نام فہرست میں شامل نہیں، وہ حلال قرار پائے۔ اسی امر کی طرف اشارہ حضور ﷺ کے اس فرمان میں موجود ہے:

إِنَّ الدِّینَ یُسْرٌ.

’’بے شک دین آسان ہے‘‘۔

(صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب الدین یسر)

لہٰذا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو جو چیز منع ہوتی ہے اُس کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔ اچھی اور جائز چیزوں کی لسٹ نہیں دی جاتی، اس لیے کہ جائز چیزوں کا شمار ہی نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی میں ہزار ہا مباح امور ہیں، اگر اُن کو گننا شروع کر دیں اور اُن کے احکام کی کھوج میں لگ جائیں تو زندگی میں سختیاں پیدا ہو جائیں اور زندگی دین کے مطابق گزارنا مشکل ہو جائے۔ لہٰذا جو جو نہیں کرنا، وہ بتا دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے، جائز ہے۔

(2) دوسری دلیل

حضرت سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا:

حَرُمَ مِنْ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنْ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ {حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهٰتُکُمْ} (النساء، 4: 23)

’’حرمتِ نسب اور حرمتِ مصاہرت میں سات سات رشتے ہیں۔ پھر انہوں نے سورۃ النساء کی آیت 23 کی تلاوت کی۔‘‘

اس روایت کے بعد وہ بیان فرماتے ہیں:

وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ بَیْنَ ابْنَتَیْ عَمٍّ فِي لَیْلَةٍ.

’’حسن بن حسن بن علی (جو ائمہ میں سے تھے) کی زوجیت میں ان کے چچا کی دو بیٹیاں تھیں۔‘‘

یعنی وہ دو خواتین آپس میں سگی بہنیں نہیں تھیں بلکہ کزنز تھیں۔ مثلاً: ہوسکتا ہے کہ آپ کے دو چچا ہوں اور دونوں چچا کی بیٹیاں ان کی ازواج ہوں یا ان کی دو خالائیں ہوں اور دونوں خالہ کی بیٹیاں ان کی ازواج ہوں۔ گویا ان کی دونوں ازواج آپس میں کزنز تھیں۔ جابر بن زید نے ان کے اس عمل کو ناپسند کیا، انہیں مسئلہ کا علم نہیں تھا۔ ان کے اعتراض پر آپ نے انہیں جواب دیا:

وَلَیْسَ فِیهِ تَحْرِیمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالٰی {وَأُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَائَ ذَلِکُمْ} (النساء، 4: 23-24)

’’اِس کے اندر تحریم نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ ‘‘

(بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب مایحل من النساء وما یحرم، 5: 1963، رقم: 4816)

مذکورہ آیت میں دوسگی بہنوں کا ایک عقد میں جمع کرنا منع فرمایا گیا جبکہ پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کا ایک عقد میں جمع کرنا آقا علیہ السلام نے شارع کی حیثیت سے منع فرمایا۔ اس کے علاوہ کسی دو رشتوں کو جمع کرنے میں حرمت نہیں ہے۔ اس لیے کہ منع کے لیے قرآن یا حدیث نبوی ﷺ سے دلیل درکار ہوتی ہے۔

(3) تیسری دلیل

سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ.

’’حالانکہ اس نے تمہارے لیے ان (تمام) چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے۔ جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔‘‘

(الانعام، 6: 119)

پورے قرآن مجید اور حدیث نبوی ﷺ کے ذخیرہ میں کسی جگہ تمام حلال اشیاء کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے کہ جائز کی تفصیل نہیں دی جاتی بلکہ جو منع اور حرام ہوں ان کے متعلق بیان کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اشیاء ہوں، وہ حلال اور مباح ہوتی ہیں۔

(4) چوتھی دلیل: جرح و تعدیل کے قاعدہ سے وضاحت

جرح و تعدیل میں فرق کی مثال سے بھی اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ علم الحدیث میں جرح سے مراد یہ ہے کہ محدثین راویوں کے اندر موجود نقص، تہمت، کمزوری اور کسی برائی کا ذکر کرتے ہیں اور فیصلہ دیتے ہیں کہ ان نقائص کی بناء پر اِس سے روایت نہیں لینی۔ مثلاً: یہ بُرا شخص ہے یا اِس کی روایت ترک کر دی گئی ہے، یہ متروک ہے، اس کو لوگوں نے چھوڑ دیا یا میں اِس کی روایت نہیں لیتا وغیرہ وغیرہ۔

جبکہ تعدیل یہ ہے کہ راوی کا تقویٰ، عدالت، دیانت، حفظ، اتقان اور اُس کی بھلائیوں کو بیان کیا جاتا ہے اور فیصلہ دیا جاتا ہے کہ اِس کی روایت لے لیں۔ مثلاً: یہ اچھا آدمی ہے یا اِس میں اچھائیاں ہیں۔

گویا مجرح (تجریح کرنے والا) کہتا ہے کہ اِس کی روایت نہ لیں، اِس میں یہ یہ خرابیاں ہیں اور معدل (تعدیل کرنے والا) کہتا ہے کہ اس کی روایت لے لیں، اس میں یہ یہ اچھائیاں ہیں۔

جمہور محدثین کا مذہب ہے کہ کسی ایک راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل دونوں ہوں یعنی اُس کے خلاف ایسا بھی لکھا گیا ہو جو اُس سے روایت لینے سے منع کرتا ہو اور اُس کے حق میں بھی لکھا گیا ہو یعنی توثیق و تعدیل بھی ہو، گویا روایت لینے میں اجازت کا پہلو بھی ہو اور روایت لینے میں منع کا پہلو بھی ہو تو اب اس راوی کے بارے میں معدل سے تعدیلِ مفسّر نہیں مانگی جائے گی کہ اس راوی کی اچھائیاں بیان کرو، معدل اچھائیاں بتانے کا پابند نہیں ہوگا، مگر جرح کرنے والے سے اس راوی کی جرح مبہم و مجمل نہیں بلکہ جرح مفسّر کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جرح دو طرح کی ہوتی ہے:

  1. جرح مبہم
  2. جرح مفسّر

جرحِ مبہم یہ ہے کہ محدث کسی راوی کے بارے میں صرف یہ کہہ دے کہ اِس سے روایت نہیں لینی، یہ اچھا آدمی نہیں ہے۔ یعنی تفصیل بیان نہ کرے، وضاحت نہ دے کہ اس سے روایت کیوں نہیں لینی؟ اس میں کیا خرابی ہے؟ اس کو جرح مجمل اور جرحِ غیر مفسّر بھی کہتے ہیں۔

جرح مفسّر یہ ہے کہ راوی سے روایت نہ لینے کے حوالے سے جارح مکمل تفصیل اور وضاحت بیان کرے کہ کن دلائل اور وجوہات کی بناء پر اس کی روایت کو قبول نہیں کیا جارہا۔

قاعدہ یہ ہے کہ جرح میں چونکہ روایت لینے سے منع کا بیان ہے، اس لیے جب تک وہ غیر مفسّر ہو اور اُس کی تفصیل نہ ہو تو اس جرح کو قبول نہ کیا جائے گا جبکہ تعدیل اگر غیر مفسّر بھی ہو تو قبول کی جائے گی۔ جرح میں تفصیل بیان کرنے کا مطالبہ اس لیے کیا جائے گا کہ راوی کی ذات پر تہمت لگ رہی ہے، خرابی کا اعلان ہو رہا ہے اور روایت لینے سے منع کیا جا رہا ہے۔ لہذا جہاں منع کا حکم ہے، اُس کی تفصیل پوچھی جائے گی، وضاحت طلب کی جائے گی کہ کیا خرابی ہے، اِس سے روایت کیوں نہ لی جائے؟ جبکہ تعدیل میں تفسیر (وضاحت اور تفصیل) نہیں لی جائے گی، بلکہ غیر مفسر اور مجمل تعدیل بھی کافی ہوگی۔

جرح و تعدیل کے حوالے سے ہمارا رویہ

جرح وتعدیل میں بڑے نازک اور دقیق مسائل آتے ہیں۔ عام لوگ جو اس میدان کے شاہسوار نہیں ہیں، جن کی زندگی علمِ حدیث کے سمندروں کی غوطہ زنی میں نہیں گزری، جو علوم الحدیث کے سمندر کے تیراک نہیں ہیں، ایسے ہی سنی سنائی چار باتوں پر سمجھتے ہیں کہ بہت کچھ پڑھ لیا اور وہ اس فن کی باریکیوں سے آگاہ نہیں ہوتے، ایسے لوگ جب کسی کتاب میں صرف یہ لکھا دیکھ لیتے ہیں کہ ’’فلاں راوی سے روایت نہیں لینی‘‘ تو وہ اپنے اساتذہ سے اس کی وجہ نہیں پوچھتے، بس اس سنی سنائی کو آگے بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ محض یہ بیان جرح مبہم ہے، جرح مفسر نہیں ہے، اس لیے کہ اِس کا سبب تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا۔

آج اس وجہ کو جاننے کے لیے سیکڑوں کتابوں میں غوطہ زنی کرنا پڑے گی، کتب کے سمندر میں غوطہ زن ہوں گے تو پتہ چلے گا کہ ابہام کیا تھا اور تفسیر کیا ہے؟ جرح کے اقوال بھی دیکھیں گے اور تعدیل بھی دیکھیں گے اور پھر موازنہ کریں گے کہ تعدیل کی طرف جائیں یا جرح کی طرف جائیں؟

آج ہمارا حال تو یہ ہے کہ اگر ایک شیخ نے بیان کر دیا کہ فلاں سے روایت نہیں لینی تو بات ختم۔ اب یہی چیز آگے چل پڑی کہ فلاں شیخ نے کہا ہے کہ ’’فلاں کی روایت نہیں لینی۔‘‘ جب یہ بات آگے بیان ہوئی تو بیان کرنے والے نے اس میں اپنی طرف سے ایک اور جملہ کا اضافہ کردیا اور کہا: ’’وہ بُرا آدمی ہے، اُس سے روایت نہیں لینی۔‘‘ تیسرے نے ’’نہیں لینی‘‘ کے الفاظ میں مزید اضافہ کردیا کہ ’’بالکل لینی ہی نہیں ہے، مر جاؤ اُس سے نہ لینا‘‘ اور اِس طرح بات بڑھتی چلی جاتی ہے۔ (جاری ہے)




^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>










© 1980 - 2021 Minhaj-ul-Quran International.