سرورق | ہمارے بارے | سابقہ شمارے | رابطہ
ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2022 ء > انسان اور جذبۂ دوستی


ماہنامہ منہاج القرآن : اگست 2022 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > اگست 2022 ء > انسان اور جذبۂ دوستی

انسان اور جذبۂ دوستی

ڈاکٹر نعیم مشتاق

زندگی میں ہمیں دوستوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔۔۔؟ اس ’’کیوں‘‘ پر بے شمار زاویوں سے گفتگو کی جاسکتی ہے مگر اس سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ دوستی کے جذبہ کی بنیاد جذبۂ محبت ہے۔ یہ سوال کہ انسان کو دوستوں کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اس میں چھپا ہوا دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کو محبت کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

ہر رشتے کی بنیاد کسی نہ کسی حوالے سے محبت پر ہوتی ہے۔ تعلقات کی نوعیت کی بنیاد پر ہم اس محبت کو مختلف عنوانات سے منسوب کرتے ہیں۔ مثلاً: کبھی یہ محبت ماں کہلاتی ہے تو کبھی باپ، کبھی بہن تو کبھی بھائی، کبھی عاشق تو کبھی معشوق، کبھی شیخ تو کبھی مرید، کبھی استاد تو کبھی طالب علم۔ الغرض محبت کے بے شمار عنوانات ہیں۔ ہر عنوان کے مطابق محبت کے جذبے کی حدود و شرائط اور حقوق و فرائض مختلف ہیں۔

محبت کے دیگر عنوانات کی طرح دوستی بھی ایک پاکیزہ عنوان ہے جس میں محبت کے جذبے کی حدود اور شرائط اپنے عنوان کے حوالے سے الگ ہیں۔ البتہ ہماری ذہنی پراگندگی اس پاکیزگی کو داغدار کر سکتی ہے وگرنہ دوستی تو زندگی میں ایک دوسرے کو زندہ رہنے میں مدد دینے کا نام ہے۔ انسان بہتر زندگی گزارنے کے لئے دوستی کے رشتے کا محتاج ہوتا ہے۔ دوستوں سے جب ہم اپنے تصورات، خواہشات اور زندگی کے اہم معاملات کی منصوبہ بندی کے متعلق امور پر مشورہ کرتے ہیں تو اس مشورہ کی صورت میں ہمارے علم و تجربہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاملات کو ایک نئے انداز سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے ذاتی تجربوں سے حاصل کیے گئے نتائج سے آگاہی کی بنیاد پر انسان بہتر فیصلے کرنے کی پوزیشن میں آتا ہے۔ ایک دوسرے کے تجربات سے بھی عملاً فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں حلقہ احباب میں جتنی وسعت ہوگی، انسان زندگی کے حقائق و معارف کے متعلق اتنے ہی مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے آگاہ ہوگا۔ یہ امر بالآخر سوچ میں وسعت اور طبیعت میں نرمی و شفقت کاباعث ہوگا۔ انسان اپنی تنگ نظری سے بھی چھٹکارا پاتا ہے بشرطیکہ زندگی کے متعلق اس کا اپنا نقطہ نظر مثبت ہو تاکہ وہ دوسروں کے افکار و نظریات سے فائدہ اٹھا سکے۔

آدابِ دوستی

آئیے! اب ان چند ایک خوبیوں کا مطالعہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے ایک انسان اچھا دوست کہلا سکتا ہے:

1۔ خوبیوں پر نظر

آدابِ دوستی میں سے پہلا ادب یہ ہے کہ اپنے دوست کی خوبیوں کو سب کے سامنے سراہیں مگر خامیوں کو صرف اور صرف علیحدگی میں بغرضِ اصلاح اس سے بیان کریں۔ حقیقی دوست وہی ہے جو اپنے دوست کی عزت کو اپنی عزت سمجھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

ایسے پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگو کہ وہ تمہاری نیکی دیکھے تو چھپادے اور اگر تمہاری برائی دیکھے تو اسے سب پر ظاہر کر دے۔

یہی وجہ ہے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ بھی نیک بندوں کے ساتھ حقِ دوستی اس طرح ادا کرے گا کہ انہیں روزِ محشر اپنے پردہ رحمت میں لے کر حساب کتاب کرے گا تاکہ میرے نیک بندے کی خامیاں کسی اور پر عیاں نہ ہوں۔ اللہ ایسا اپنے دوست کی عزتِ نفس کی حفاظت کی خاطر کرے گا۔

اچھے دوست ایک دوسرے کی کسی مخصوص عادت کو اس کا کردار نہیں سمجھتے۔ اس لئے کہ کردار تو بے شمار عادات سے مل کر بنتا ہے۔ اچھی عادات کی کثرت کے جھرمٹ میں سے کوئی ایک آدھ بری عادت کی بنیاد پر ہم کسی کو بدکردار نہیں کہہ سکتے۔ ہم سب اپنی شخصیت میں کمزوریاں رکھتے ہیں۔ دوستی نام ہی اس رشتے کا ہے کہ خامیوں سے آگاہی کے باوجود خوبیوں کی بنیاد پر محبت کی جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اچھے دوستوں کی وجہ سے کئی لوگوں نے اپنی بری عادات چھوڑ دیں، یہی اچھی دوستی کی برکت ہے۔

2۔حقوق کی ادائیگی

دوستی کے رشتے میں دوام کیلئے ضروری ہے کہ اپنے حقوق کے مطالبہ کے بجائے اپنے فرائض کی ادائیگی پردھیان رکھیں اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے غفلت مت برتیں۔ انسان کو ایک لحاظ سے ہوشیار اور ایک لحاظ سے بے آزار ہونا چاہیے۔ ہوشیار اس لیے کہ کوئی اسے بے وقوف نہ بنا سکے، اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ہوشیار ہو مگر اس ہوشیاری کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت میں رحمت و شفقت کا پہلو بھی اس قدر غالب ہو کہ دوسرے اسے بے آزار اور علامتِ امن سمجھیں۔ یعنی دوسرے لوگوں کو اس کی رفاقت اور دوستی میں اپنے حقوق کے چھن جانے کا خوف نہ ہو۔

کبھی کبھار زندگی میں ایسے بھی مواقع آتے ہیں جب ہمیں قربانی دے کر دوستی کے مقدس رشتے کو بچانا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اگر کبھی قربانی دینی ہی پڑے تو انسان کو اپنے مفادات اور حقوق اپنے دوست کے فائدے کے لیے قربان کرنا چاہییں۔ پھر دیکھیے گا کہ نیت کی پاکیزگی اور خلوصِ دل سے دونوں کی سطحی قربت گہری محبت میں کیسے بدلتی ہے۔

3۔ کردار، عزت و احترام کی بنیاد

ہر کوئی اپنی عزت کرواناچاہتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ عزت و احترام ہی کسی رشتے میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ آدابِ دوستی میں یہ امر انتہائی اہم ہے کہ ہمارے دل میں اپنے دوستوں کے لیے عزت و احترام کی بنیاد ان کے کردار پر ہو، ان کے حالات پر نہیں۔

یادرکھیے! کسی کے خراب حالات اس کے خراب کردار کی علامت نہیں ہوتے۔ وگرنہ نیک لوگوں پر مصائب و آلام کی حکمت بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ مصیبتیں تو نصابِ عشق و محبت کا حصہ ہوتی ہیں۔ انسان جتنا نیک اور متقی ہوتا ہے، اللہ اتنا ہی اسے مصائب و آلام سے گزار کر بلند سے بلند تر کرتا چلاجاتا ہے۔ اللہ اپنے چاہنے والوں کو مصیبتوں اور پریشانیوں کے پردہ میں چھپا کر رکھتا ہے تاکہ مفاد پرست اور گھٹیا لوگوں کی نظرِ بد سے بچا رہے۔ مصیبتوں اور پریشانیوں کے پردہ سے گزر کر شخصیت میں چھپی ہوئی خوبیوں کی بنیاد پر رشتۂ دوستی استوار کرنا گوہر شناسوں کا ہی کام ہے۔

خراب حالات کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ دوسروں کی بے وفائی کی وجہ سے بھی تو خراب حالات آ سکتے ہیں، یعنی کسی نیک انسان کی نیکی سے ناجائز فائدہ اٹھائے جانے پر بھی اس نیک انسان پر برے حالات آسکتے ہیں۔ ہم نے کسی سے بھلا کرنا چاہا تو اس نے اس بھلائی کا جواب برائی سے دیا، اس وجہ سے بھی تو خراب حالات آ سکتے ہیں۔ ہیرا ہمیشہ کوئلہ کی کان میں چھپا ہوتا ہے۔ صرف ہیرا پہچاننے والی آنکھ ہی پہچان سکتی ہے کہ ہیرے اور کوئلے میں کیا فرق ہے؟ اگر کسی کو خراب حالات اورخراب کردار میں فرق محسوس نہیں ہوتا تو اس میں قصور اُس شخص کا نہیں بلکہ اس کی نظر کا ہے۔ اندھے کو دن میں بھی اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔ یاد رکھیں! غریبی اور امیری کردار جانچنے کا معیار ہرگز نہیں ہے۔

4۔ باہمی نظریاتی اختلافات کو برداشت کرنا

دوسروں کے عقائد و نظریات کا ذاتی اختلاف کے باوجود احترام کرنا ہی انسانیت ہے۔ دوستی دوستوں کے احساسات و جذبات پر حاوی ہونے یا انہیں خریدنے کا نام نہیں بلکہ یہ تو رشتۂ محبت و احترام استوار کرنے کا نام ہے۔ کیا اللہ کی ذات سے بڑھ کر کوئی غیرت مند ہے؟ وہ بھی تو اپنی مخلوق کے اپنی ذات کے متعلق غلط عقائد و نظریات کے باوجود ان کی پرورش اور دعا قبول کرتا ہے۔

انسان کو اپنے رویے میں کم از کم پالتو جانوروں سے تو بہتر ہونا چاہیے جو اپنے دوست (مالک) کی ناراضگی کے باوجود اس سے رشتہ نہیں توڑتے اور ہم اپنے دوست سے نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے قطع کلامی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

5۔ دوست کی رضا مقدم رہے

آدابِ دوستی میں اس امر کو ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے کہ اگر کبھی ایسا وقت آ جائے جب ہم اپنی کسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اپنے کسی دوست کے ساتھ اس ذمہ داری کو شیئر (share) کرنا چاہیں تو ہمیشہ اس کی رضا کے مطابق فیصلہ کریں۔ جہاں محبت ہو وہاں زبردستی نہیں ہوتی۔ لہٰذا کبھی اپنے دوستوں پر ایسی ذمہ داری نہ ڈالیں جسے وہ ناپسند کریں اور اس کی ادائیگی اس کے لیے مشکل کا باعث بن جائے۔

6۔ تحائف کا تبادلہ

تحائف علاماتِ محبت میںسے ایک علامت ہے۔ تحفے سے ہماری مراد کوئی نہایت قیمتی شے نہیں بلکہ یہ پیاری سی مسکراہٹ سے لے کر کوئی خوبصورت پوسٹ کارڈ تک ہو سکتا ہے۔ تبادلۂ تحائف میں اصل قیمت تو اس جذبۂ محبت اور خیرسگالی کی ہے جس کے تحت وہ تحفہ دیا جا رہا ہے۔ تحفہ تو محض علامت ہے۔ تحائف کی قیمت کا اندازہ لگانے والے قدرشناس لوگ نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قدر شناسی نظر کی محتا ج ہوتی ہے، تحفہ کی نہیں۔

تحائف کا تبادلہ وقتاً فوقتاً کرتے رہا کریں۔ اس سے قلبی محبت بڑھتی ہے۔ چھُپی ہوئی محبتوں کااظہار اعمال سے ہی ہوتا ہے، تحفہ بھی اظہارِ محبت کا ایک عمل ہے۔

7۔ مشورہ دیں، فیصلہ نہ سنائیں

جب کبھی ایسا موقع آ جائے کہ ہمیں اپنے کسی دوست کو مشورہ دینا پڑ جائے تو مشورہ دیتے وقت مخلص رہیں وگرنہ مشورہ، مشورہ نہیں رہے گا۔ یادر کھیے! مشورہ سنت نبوی ﷺ ہے اور جو شخص حضورِ قلب اور خالص نیت سے سنت ادا نہیں کرتا، وہ ایک تو سنت پر عمل پیرا ہونے کی برکت سے محروم رہ جاتا ہے اور دوسرا گناہگار بھی ہوتا ہے۔ مشورہ لینا اور مشورہ دینا دوستی کے رشتے میں مزید محبت بڑھانے کا سبب ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ مشورہ اور فیصلہ میں فرق ہے۔ ہم سے مشورہ مانگا گیا ہے، فیصلہ نہیں۔ فیصلہ کرنے کا اختیار اپنے دوست پر چھوڑ دیں اور پھر اس بات کا اختیار بھی اپنے دوست پر چھوڑ دیں کہ وہ فیصلہ ہمارے مشورہ کی بنیاد پر کرتا ہے یا کسی اور کے مشورہ کی بنیاد پر۔ فیصلہ کرنے کی آزادی کبھی کسی دوست سے نہیں چھیننی چاہیے۔ جب آپ دوسروں کے لیے فیصلہ کی ذمہ داری نہیں لیں گے تو بے شمار الزامات اور بعد ازاں جواب دہی سے بھی محفوظ رہیں گے۔

8۔ اعتماد کرنا سیکھیں!

اچھے دوست اپنے دوستوں کی جاسوسی نہیں کرتے اور ان کے حالات معلوم کرنے کی ٹوہ میں نہیں لگے رہتے۔ ان کے لیے ان کے دوستوں کا کہنا ہی کافی ہوتا ہے۔ محض دوست کے لفظوں پر اعتماد کر لینا ہی تو محبت اور دوستی کی علامت ہے۔ انسان کو جب اپنی ذات پر اعتماد ہو تو وہ دوسروں پر بھی اعتماد کرنا پسند کرتا ہے۔ کمینی فطرت کے لوگ ہی دوسروں کی جاسوسی کرکے جھوٹے اعتماد کے قلعوں میں پناہ لیتے ہیں۔ حقیقی خوداعتمادی دوسروں پر اعتماد قائم رکھنے کا نام ہے اور ایک صحت مند ذہن کی علامت بھی۔

ہمارے بے شمار معاملاتِ زندگی میں پریشانی ہماری غلط فہمیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ اچھے دوست غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے وسوسوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے براہِ راست گفتگو کے ذریعے معاملات واضح کر لیتے ہیں تاکہ محض توقعات کے بھروسہ پرکوئی ایسا غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں جس سے رشتہ دوستی متاثر ہو۔

9۔ تکلّفات سے اجتناب

یاد رکھیں کہ بدترین ہے وہ دوست جس کی خاطر تکلّف کرنا پڑے۔ تکلّف محبت کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسی لیے اگر ضرورت سے زیادہ تکلّف کیا جائے تو اس سے اجنبیت پیدا ہو جاتی ہے اور اگر جتنا حق تھا، اس سے کم کیا تو پھر نفرت پیدا ہوتی ہے۔ تکلّف اپنی ذات میں بری شے نہیں، اس کا غلط استعمال برا ہے۔ میانہ روی زندگی کا حسن ہے۔

تکلّف سے مراد کیا ہے؟ یہ بھی سمجھ لیں۔ تکلّف سے مراد وہ کام ہے جو اس وقت سرانجام دیا جائے جب اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ضرورت پڑنے پر تکلّف سے کام لینا برا نہیں مگر رشتۂ دوستی میں تکلف بہ انداز مہمان نوازی تو ٹھیک ہے مگر اسے ہر وقت اپنائے رکھنے سے اپنائیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اچھے دوست اپنے دوستوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں، تکلف سے نہیں۔۔

ییاد رکھیں کہ دو لوگوں کے درمیان دوستی ہوتی ہی تب ہے جب دونوں میں کچھ صفات مشترک پائی جائیں۔ قرآن مجید نے اس اصول کو صدیوں پہلے پیش کر دیا تھا کہ:

الْخَبِیثَاتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُونَ لِلْخَبِیثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ.

(النور، 24: 26)

’’ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں، اور (اسی طرح) پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔‘‘

یعنی جو جیسا ہے، وہ ویسا ہی دوست پسند کرتا ہے، اسی لیے تو کہتے ہیں کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ > 10۔ دوستوں کی مدد کرنا سیکھیں

 

نیت اگر واقعی مدد کرنے کی ہوتو انسان پھر طریقوں اور راستوں کا محتاج نہیں رہتا، اللہ تعالیٰ خود بخود راستے بنا دیتا ہے۔ انسان اگر کسی کی مدد ہی نہ کر سکے تو پھر کم از کم حسنِ نیت ضرور رکھے، مگر ہمارا حال تو یہ ہے کہ مدد بھی نہیں کرنی اور دل ہی دل میں وجوہات سوچنی شروع کر کے اپنے دوست کے امیج کو اپنی نظروں میں خراب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کرتے ہوئے ہم سوچتے نہیں کہ اس میں دوست کا کچھ نہیں بگڑتا۔ وہ بے چارہ تو اپنی مشکل کسی نہ کسی طرح حل کرلے گا مگر ہم اپنی ذہنی پراگندگی کی وجہ سے ایک مخلص دوست سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ زندگی میں اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کی تمیز اس طرح بھی کرواتا ہے کہ ایک دوست کو مصیبت میں مبتلا کر کے دوسرے دوست کومدد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مدد کئی طرح سے کی جا سکتی ہے: کبھی گفتگو میں دوست کے مؤقف کی حمایت کرکے بھی مدد کی جا سکتی ہے۔۔۔ بوقتِ ضرورت قرضِ حسنہ۔۔۔ بوقتِ مشکل ساتھ چل کر حوصلہ افزائی کرنا۔ یہ مدد کی مختلف شکلیں ہیں مگر سب سے بہتر اور اعلیٰ مدد کی صورت یہ ہے کہ انسان اپنے دوست کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرے۔۔۔ اس کی لغزشوں پر پردہ ڈالے۔۔۔ باہمی معاملات میں بوجۂ تنگی اس کی مجبوری کے عذر کو قبول کرے۔۔۔ بوقتِ پریشانی حوصلہ افزاء گفتگو سے دوست کے جذبۂ خود اعتمادی کو قائم رکھنا بھی مدد کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔ اس لئے کہ حوصلے اگر قائم رہیں تو انسان ہر مصیبت و پریشانی پر آسانی سے قابو پا لیتا ہے۔ 2> بہترین دوست کون ہے؟

 

عام طور پر ہم اپنا بہترین دوست اسے خیال کرتے ہیں جو بچپن سے ہمارا دوست چلا آ رہا ہوتا ہے یا اس سے دوستی ہوئے کئی سال ہو چکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں ہم ٹائم پیریڈ کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں، کردار کے معیار پر نہیں۔ درست معیار یہ ہے کہ بہترین دوست وہ ہوتا ہے جو مصیبت یا پریشانی کے وقت ہمارے کام آئے، ہمیں اکیلا چھوڑ کر بھاگ نہ جائے۔ دیکھنے میں تو ایسا بھی آیا ہے کہ بچپن کے دوست اچانک کسی معاملہ پر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو خیرباد کہہ گئے۔

یاد رکھیے! ’’بہترین دوست‘‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہیں بنتا بلکہ قربانی سے بنتا ہے۔ جنہوں نے وقتِ آزمائش ہمارے لیے اپنا مفاد قربان کر دیا وہی ’’بہترین‘‘ ہیں، خواہ ان سے ملاقات ہوئے چند لمحے ہی ہوئے ہوں۔ کسی کو ’’جاننے‘‘ اور ’’پہچاننے‘‘ میں فرق ہوتا ہے۔ ’’جاننا‘‘ تو کوئی مشکل کام نہیں، یہ وقت کے چند لمحوں کا محتاج ہے مگر ’’پہچان‘‘ بغیر قربانی کے نہیں ہوتی۔ ’’پہچان‘‘ وقتِ آزمائش کی محتاج ہوتی ہے۔ کردار شناس لوگ جاننے اور پہچاننے میں فرق خوب سمجھتے ہیں۔h2> کیا اچھے دوست ملنا مشکل ہیں؟

 

ججی ہاں! اچھے دوست ملنا اس لیے مشکل ہے کیونکہ ہم اپنا بیشتر وقت دوسروں پر نکتہ چینی اور تنقیدی مشاہدے میں گزار دیتے ہیں۔ بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا :

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر
رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر
تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

ہم جب دوسروں کے عیب دیکھتے رہیں گے تو ہمیں ہر دوسرا برا دکھائی دے گا اور اگر ہم دوسروں کی نیکی اور اپنی بدعملی پر نظر رکھنے کا طریقہ اپنا لیں تو ہمارے لیے اچھے دوست تلاش کرنا مشکل نہیں۔

یاد رکھیے! ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر استحصال زدہ معاشرہ ہے۔ ہر شخص بالعموم ظلم و ناانصافی کی چکی میں پس رہا ہے۔چنانچہ ہمارے دن کا بیشتر حصہ ردِعمل کے سیلاب میں ضائع ہو جاتا ہے۔ وگرنہ دوسروں میں اچھائی تلاش کر کے اس کی بنیاد پر رشتۂ دوستی استوار کرنا کوئی مشکل تو نہیں، فقط تبدیلیٔ نظر کا معاملہ ہے۔ کبھی آزما کر تو دیکھیے، مشکل ضرور ہے مگر اچھے دوستوں کی صورت میں اس کا انعام بھی توموجود ہے۔




^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>










© 1980 - 2022 Minhaj-ul-Quran International.


Warning: mysqli_close() expects parameter 1 to be mysqli, string given in /home/minhajki/public_html/minhaj.info/mag/index.php on line 133