[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > مئی 2016 ء > فضیلتِ ماہِ شعبان و شبِ برات
ماہنامہ منہاج القرآن : مئی 2016 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > مئی 2016 ء > فضیلتِ ماہِ شعبان و شبِ برات

فضیلتِ ماہِ شعبان و شبِ برات

حافظ ظہیر احمد الاسنادی

اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضائوںمیں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے۔

ان خاص لمحوں، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماهِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب، شعبان، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا۔ لهٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں۔‘‘

شعبان کے الفاظ میں پوشیدہ حکمت

الشیخ عبدالقادر جیلانی رَحِمہ اﷲ ’غنیۃ الطالبین‘ میں بیان فرماتے ہیں: لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے: {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے۔اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔‘‘

آیت درود و سلام کا شانِ نزول

امام قسطلانی نے ’المواہب اللدنیہ‘ میں ایک لطیف بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں:

إِنَّ شَهْرَ شَعْبَان شَهْرُ الصَّلَاةِ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، لِاَنَّ آيَةَ الصَّلَاةِ يَعْنِي: اِنَّ اﷲَ وَمَلٰئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ. (الأحزاب، 33/ 56) نَزَلَتْ فِيْهِ.

’’بے شک شعبان رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی۔‘‘

(قسطلانی، المواهب اللدنية، 2/ 650)

یہ آیت ماهِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے لهٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے۔

ماهِ شعبان میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ.

’’ماهِ رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اور ماهِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے۔‘‘

(هندی، کنزالعمال، 8/ 217، رقم: 23685)

  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماهِ رجب کی آمد پر حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرمایا کرتے:

اَللّٰهُمَّ، بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.

’’اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما۔‘‘

(طبرانی، المعجم الاوسط، رقم 3939)

  • اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماهِ شعبان میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکثرت سے روزے رکھتے۔

کَانَ اَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم اَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَانَ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

’’رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔‘‘

(احمد بن حنبل، المسند، 6/ 188، رقم: 25589)

  • آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

صَوْمُ شَعْبَانَ تَعْظِيْمًا لِرَمَضَانَ.

’’شعبان کے روزے رمضان کی تعظیم و قدر کیلیے ہیں۔‘‘

(بيهقی، السنن الکبری، 4/ 305، رقم: 8300)

اَعمال کا بارگاهِ الٰہی میں پیش کیا جانا

ماهِ شعبان کی اہمیت و فضیلت کا اس امر سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مہینے میں بندوں کے اَعمال اﷲتعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔

حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں۔ (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ذٰلِکَ شَهْرٌ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِيْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں۔ لهٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔‘‘

(نسائی، السنن، کتاب الصيام، 4/ 201، رقم: 2357)

اس حدیث مبارکہ میں خود حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ماہ کی فضیلت کا ایک راز یہ بتا دیا کہ شعبان میں ہمارے اَعمال اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ جو شخص اس مہینے میں جتنے زیادہ اعمال صالحہ بجا لاتا ہے، زیادہ عبادات کرتا ہے، روزے رکھتا ہے، صدقات و خیرات کرتا ہے۔ اسے اتنی ہی اﷲ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت نصیب ہوتی ہے اور اسی قدر بارگاهِ الٰہی سے قرب اور مقبولیت نصیب ہوتی ہے۔

ماهِ شعبان میں شبِ برات کا پایا جانا

سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان تو ایسا مہینہ تھا جس کے روزے فرض تھے، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا کا پورا مہینہ روزے رکھتے لیکن بقیہ گیارہ مہینوں میں سب سے زیادہ روزوں کا اہتمام آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں فرماتے تھے۔ آخر کار کوئی سبب اور وجہ تو ہوگی اور کوئی تو خیر اور برکت کا پہلو ایسا ہوگا جو ماهِ شعبان کو ایسی فضیلت و بزرگی عطا کی گئی۔

اس مہینے کی فضیلت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسی ماهِ مبارک میں وہ مبارک رات بھی آتی ہے جسے ’’شب برات‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ امام بیہقی ’شعب الایمان‘ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَتَانِي جِبْرِيْلُ فَقَالَ: هٰذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَ ِﷲِ فِيْهَا عُتَقَائُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُوْرِ غَنَمِ کَلْبٍ

’’جبریل  علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا: (یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم!) یہ رات، پندرھویں شعبان کی رات ہے اور اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے۔‘‘

(بيهقی، شعب الايمان، رقم: 3837)

فضیلتِ شبِ برات

اللہ رب العزت نے بعض دنوں کو بعض پرفضیلت دی ہے، یوم جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر، ماہ رمضان کو تمام مہینوںپر، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر اور شب برات کو دیگر راتوں پر۔ اَحادیث مبارکہ سے اس بابرکت رات کی فضیلت و خصوصیت ثابت ہے جس سے مسلمانوں کے اندر اتباع و اطاعت اور کثرت عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

شبِ برات کی وجہ تسمیہ

اس فضیلت و بزرگی والی رات کے کئی نام ہیں:

  1. لیلۃ المبارکۃ: برکتوں والی رات
  2. لیلۃ البراء ۃ: دوزخ سے آزادی ملنے کی رات
  3. لیلۃ الصَّک: دستاویز والی رات
  4. لیلۃ الرحمۃ: رحمت خاصہ کے نزول کی رات

(زمخشری، الکشاف، 4/ 272)

عرفِ عام میں اسے شبِ برات یعنی دوزخ سے نجات اور آزادی کی رات بھی کہتے ہیں۔ لفظ ’’شبِ برات‘‘ اَحادیث مبارکہ کے الفاظ عتقاء من النار کا بامحاورہ اُردو ترجمہ ہے۔ اس رات کو یہ نام خود رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا کیوں کہ اس رات رحمتِ خداوندی کے طفیل لاتعداد انسان دوزخ سے نجات پاتے ہیں۔

ابن جریر طبری (م 310ھ) ’جامع البیان‘ میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کے فرمان: فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِيْمٍ ’’اس شب میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔‘‘(الدخان) کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

قَالَ: فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُبْرَمُ فِيْهِ أَمْرُ السَّنَةِ وَتُنْسَخُ الأَحْيَاءُ مِنَ الأَمْوَاتِ وَيُکْتَبُ الْحَاجُّ فَـلَا يُزَادُ فِيْهِمْ أَحَدٌ وَلاَ يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ.

’’فرمایا: یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے، اس میں ایک سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے۔ اور زندوں کا نام مردوں میں بدل دیا جاتا ہے اور حج کرنے والوں کا نام لکھ دیا جاتا ہے پھر (سال بھر) اس میں کمی ہوتی ہے نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے۔‘‘

(ابن جرير طبری، جامع البيان، 25/ 109)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’ایک آدمی لوگوں کے درمیان چل رہا ہوتا ہے، حالانکہ وہ مردوں میں درج کیا ہوا ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی:

اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَo فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمo

’بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتاہے۔‘

(الدخان: 3، 4)

پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے۔‘‘

(طبری، جامع البيان، 25/ 109)

اللہ تعالیٰ کا دنیا پر نزولِ اجلال

شب برات رحمتِ خداوندی کے طفیل لا تعداد انسان دوزخ سے نجات پاتے ہیں۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ’’ایک رات میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خواب گاہ میں) نہ پایا تو میں (آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں) نکلی۔ میں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت البقیع میں مسلمان مردوں، عورتوں اور شہداء کے لئے استغفار کرتے پایا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ نا انصافی کریں گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اﷲَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ.

’’اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات کو (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔‘‘

(احمد بن حنبل، المسند، 6/ 238، رقم: 26060)

دوسری روایت میں ہے کہ:

’’بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں پہ نگاہِ التفات فرماتا ہے تو بخشش طلب کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، اور بغض و کینہ رکھنے والوں کو ویسا ہی رہنے دیتا ہے (ان کی حالت کو نہیں بدلتا)۔‘‘

شبِ برات۔۔۔ فیصلوں کی رات

اس مبارک مہینہ میں پائی جانے والی اس بابرکت رات کی فضیلت اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا:

هَلْ تَدْرِيْنَ مَا فِي هٰذِهِ اللَّيْلَةِ؟ قَالَتْ: مَا فِيْهَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ فَقَالَ: فِيْهَا أَنْ يُکْتَبَ کُلُّ مَوْلُوْدٍ مِنْ مَوْلُوْدِ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا أَنْ يُکْتَبَ کُلُّ هَالِکٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ، وَفِيْهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ.

’’اے عائشہ! تمھیں معلوم ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) اس رات میں کیا ہوتا ہے؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رات سال میں جتنے بھی لوگ پیدا ہونے والے ہیں سب کے نام لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ فوت ہونے والے ہیں ان سب کے نام بھی لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے (سارے سال کے) اَعمال اٹھالیے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی روزی مقرر کی جاتی ہے۔‘‘

(بيهقی، الدعوات الکبير، 2/ 145)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں:

يَفْتَحُ اﷲُ الْخَيْرَ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ: لَيْلَة الْأَضْحٰی، وَالْفِطْرِ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يُنْسَخُ فِيْهَا الْآجَالُ وَالأَرْزَاقُ وَيُکْتَبُ فِيْهَا الْحَاجُّ وَفِي لَيْلَةِ عَرَفَةَ إِلَی الْأَذَانِ.

’’اﷲ تعالیٰ چار راتوں میں (خصوصی طور پر) بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 1۔ عید الاضحیٰ کی رات، 2۔ عید الفطر کی رات، 3۔ شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ 4۔ عرَفہ (نو ذو الحجہ) کی رات اذانِ فجر تک۔‘‘

(سيوطی، الدرالمنثور، 7/ 402)

شبِ برات میں محروم رہ جانے والے لوگ

اَحادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں کہ جن سے توبہ نہ کرنے والوں کی اس رات بھی بخشش و مغفرت نہیں ہوتی، حالانکہ اس رات اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دریا اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے اور اس کی جود و عطا بہت عام ہوتی ہے اور غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک اس کی رحمت کی برسات ہوتی رہتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں اس رات بھی درج ذیل طبقات کو مغفرت سے محروم قرار دیا گیا:

  1. شرک کرنے والا
  2. بغض و کینہ اور حسد رکھنے والا
  3. ناحق قتل کرنے والا
  4. شراب نوشی کرنے والا
  5. والدین کا نافرمان
  6. عادی زانی
  7. قطع رحمی والا

توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے!

مذکورہ اَعمالِ سیئہ کے ارتکاب کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بندہ اِن ہی ظلمات میں بڑھتا رہے اور اپنے رب سے مایوس ہو جائے بلکہ وہ سچے دل سے اﷲ تعالیٰ کی بارگاهِ بے کس پناہ میں حاضر ہو اور توبہ کا خواست گار ہو۔ تو اس کی رحمت اور مغفرت کے دروازے ہر دَم کھلے ہیں:

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo

’’پھر بے شک آپ کا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے نادانی سے غلطیاں کیں پھر اس کے بعد تائب ہوگئے اور (اپنی) حالت درست کر لی تو بے شک آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘

(النحل، 16: 19)

رحمۃً للعالمین، روف و رحیم نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہاں تک سچے دل سے توبہ کرنے والے بندے کو امید دلائی کہ فرمایا:

التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ.

’’(سچے دل سے) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔‘‘

(ابن ماجه، السنن، کتاب الزهد، رقم: 4250)

لہٰذا شبِ برات میں گناہ گاروں اور سیاہ کاروں کو بھی رَب کی رحمت، کرم اور بخشش کے خزانوں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ وہ عجز و نیاز سے اپنے خالق و مالک اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے رب کی بارگاہ میں سچے دل سے تائب ہوں تو وہ بھی ان خزانوں سے اپنی جھولیاں بھر سکتے ہیں۔

شبِ برات پر کیا کیا جائے؟

  • حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا کَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اﷲَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلٰی سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُوْلُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَه،  أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَه، أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَه، أَلَا کَذَا أَلَا کَذَا حَتّٰی يَطْلُعَ الْفَجْرُ.

’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس رات کو قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات سورج غروب ہوتے ہی (اپنی شان کے لائق) آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور فرماتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کیا کوئی مجھ سے رزق طلب کرنے والا نہیں کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مبتلائے مصیبت نہیں کہ میں اُسے عافیت عطا کر دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں؟ کوئی ایسا نہیں؟ (اسی طرح ارشاد ہوتا رہتا ہے) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔‘‘

(بيهقی، شعب الايمان، رقم: 3822)

  • برات کے معنی ہیں: نجات، شبِ برات کا معنی ہے: ’’گناہوں سے نجات کی رات‘‘ اور گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ سو اس رات میں اللہ تعالیٰ، سے بہت زیادہ توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر بھی توبہ کریں اور اپنے والدین اساتذہ و رشتہ داروں کے لیے بھی اِستغفار کریں۔

شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں وارد ہونے والی اَحادیث مبارکہ کے مطالعہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس مقدس رات قبرستان جانا، کثرت سے اِستغفار کرنا، شب بیداری اور کثرت سے نوافل ادا کرنا اور اس دن روزہ رکھنا رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ مبارکہ میں سے تھا۔

پیغامم

جب انسان گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو برے اعمال کے باعث اس کے دل کے اندر نیک اعمال و عبادات سے عدم دل چسپی جنم لیتی ہے۔ اگر بندہ اپنی اصلاح نہ کرے تو عبادات سے یہ محرومی بڑھتے بڑھتے توفیق کے سلب کیے جانے پر منتج ہوتی ہے۔ اس مقام پر اس کا قلب گناہوں کے اصرار کے باعث حلاوت ایمان سے محروم ہو کر تاریک و سیاہ ہو جاتا ہے جو دائمی بدبختی کی علامت ہے۔

اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے نار جہنم کا ایندھن بنیں۔ چنانچہ ذاتِ حق تعالیٰ نے انہیں اس انجام بد سے بچانے کے لیے اپنی مغفرت و بخشش کو عام کرتے ہوئے دروازہ توبہ کھولنے کا اعلان کیا کہ جو کوئی توبہ کی راہ کو اختیار کرے گا تو وہ اسے ایسے معاف کرے گا گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیںبلکہ اس کو درجہ محبوبیت میں رکھے گا۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ لَزِمَ الْاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اﷲُ لَہٗ مِنْ ضِيْقٍ مَخْرَجًا وَمِنْ کُلِّ ھَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَہٗ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ

’’جو شخص پابندی کے ساتھ استغفار کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کے وہم و خیال میں بھی نہ ہو۔‘‘‘

(ابودائود، السنن، کتاب الصلاۃ، باب فی الاستغفار، 2/85، رقم 1518)

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَا اَصْبَحْتُ غَدَاةً قَطُّ إِلَّا اسْتَغْفَرْتُ اﷲَ فِيْهَا مِائَةَ مَرَّةٍ.

’’کوئی صبح طلوع نہیں ہوتی مگر میں اس میں سو مرتبہ اِستغفار کرتا ہوں۔‘‘

(ابن ابی شيبة، المصنف، 7/ 172، رقم: 35075)

جب سرورِ کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہونے کے باوجود اپنے ربّ کے حضور اس قدر عجز و نیاز اور گریہ و زاری فرمائیں، تو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ اور جب رحمت الٰہی کا سمندر طغیانی پہ ہو تو ہمیں بھی خلوص دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے کیوں کہ اس وقت رحمت الٰہی پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہے: کوئی ہے بخشش مانگنے والا کہ اسے بخش دوں، کوئی ہے رزق کا طلب گار کہ میں اس کا دامن مراد بھردوں۔

امام ابن ماجہ ’’السنن‘‘ میں حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہترین دعا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا يَا غَفُوْرُ.

’’اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ پس اے بخشنے والے! ہمیں بھی بخش دے۔‘‘

یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ شبِ برات کی اس قدر فضیلت و اہمیت اور برکت وسعادت کے باوجود ہم یہ مقدس رات بھی توہمات اور فضول ہندوانہ رسومات کی نذر کر دیتے ہیں اور اس رات میں بھی افراط و تفریط کا شکار ہو کر اسے کھیل کود اور آتش بازی میں گزار دیتے ہیں۔ من حیث القوم آج ہم جس ذلت و رسوائی، بے حسی، بدامنی، خوف و دہشت گردی اور بے برکتی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے چھٹکارے اور نجات کی فقط ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ کہ ساری قوم اجتماعی طور پر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرے اور اس رات کو شبِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائے۔

آئیے اس غفار، رحمن اور رحیم ربّ کی بارگاہ میں ندامت کے آنسو بہائیں اور خلوصِ دل سے توبہ کریں، حسب توفیق تلاوت کلام پاک کریں، رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمکی بارگاہ اقدس میں ہدیہ درود و سلام پیش کریں، نوافل ادا کریں خصوصاً صلاۃ التوبہ پڑھیں، اِستغفار اور دیگر مسنون اَذکار کے ساتھ دلوں کی زمین میں بوئی جانے والی فصل تیار کریں اور پھر اسے آنسوئوں کی نہروں سے سیراب کریں تاکہ رمضان المبارک میں معرفت و محبت الٰہی کی کھیتی اچھی طرح نشوونما پاکر تیار ہوسکے۔

قیام اللیل اور روزوں کی کثرت ہی ہمارے دل کی زمین پر اُگی خود رَو جھاڑیوں کو جو پورا سال دنیاوی معاملات میں غرق رہنے کی وجہ سے حسد، بغض، لالچ، نفرت، تکبر، خودغرضی، ناشکری اور بے صبری کی شکل میں موجود رہتی ہیں - اُکھاڑ سکے گی اور ہمارے دل کے اندر ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں کو سمیٹنے کے لیے قبولیت اور انجذاب کا مادہ پیدا ہو گا۔

لهٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماہ شعبان المعظم، عظیم ماہ رمضان المبارک کا ابتدائیہ اور مقدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ مبارک کے اندر محنت و مجاہدہ اور ریاضت کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اَلصَّوْمُ لِي وَاَنَا اَجْزِي بِهِِ کے فیض سے صحیح معنوں میں اپنے قلوب و اَرواح کو منور کر سکیں اور اِن مقدس اور سعید راتوں کی برکت سے اﷲ تعالیٰ ہمیں دنیوی و اُخروی فوز و فلاح سے مستفید فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>




کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau