[ ماہنامہ دختران اسلام ] [ سہ ماہي العلماء ]      

   سرورق
   ہمارے بارے
   تازہ شمارہ
   سابقہ شمارے
   مجلس ادارت
   تازہ ترین سرگرمیاں
   خریداری
   تبصرہ و تجاويز
   ہمارا رابطہ



Google
ماہنامہ منہاج القرآن > ستمبر 2007 ء > مقام محمود : عشق و محبت رسول (ص) سے معمور قرآنی معارف (آخری حصہ)
ماہنامہ منہاج القرآن : ستمبر 2007 ء
> ماہنامہ منہاج القرآن > ستمبر 2007 ء > مقام محمود : عشق و محبت رسول (ص) سے معمور قرآنی معارف (آخری حصہ)

مقام محمود : عشق و محبت رسول (ص) سے معمور قرآنی معارف (آخری حصہ)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ترتیب وتدوین : اجمل علی مجددی

گذشتہ اقساط کا خلاصہ : ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًاO

(بنی اسرائيل، 17 : 79)

’’اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی) قرآن کے ساتھ (شب خیزی کرتے ہوئے) نمازِ تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمیٰ جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)o‘‘

مقامِ محمود سے مراد وہ خاص مقام، منصب، درجہ، مرتبہ اور منزلت ہے جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت فائز کیا جائے گا۔ مقام محمود کی تمام روایات اور احادیث جو مقامِ محمود کو بیان کرتی ہیں انہیں جمع کیا جائے تو یہی معنی ان کی مراد کو سموتا ہے۔ امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ مقامِ محمود کا معنی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : ’’اے محبوب! آپ یہ عمل (نماز تہجد) ادا کیجئے جس کا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے تاکہ روزِ قیامت آپ کو اس مقام پر فائز کیا جائے جس پر تمام مخلوقات اور خود خالقِ کائنات بھی آپ کی حمد و ثناء بیان فرمائے گا‘‘۔۔۔۔یہی وہ مقام ہے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعتِ کبریٰ فرمائیں گے، ہر شخص عام و خاص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو پکار رہا ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ محمود پر فائز ہو کر اوّلین و آخرین کو فیضیاب فرما رہے ہوں گے۔۔۔امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے مقام محمود بارے چار اقوال بیان کئے ہیں۔

  1. مقام شفاعت ہی مقام محمود ہے
  2. روزِ قیامت لواء حمد کا عطا کیا جانا
  3. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھانا
  4. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیوں کو دوزخ سے نکالنا

قاضی عیاض نے مقام محمود دس معانی بیان کئے۔

  1. مقام محمود، مقام شفاعت کبریٰ،
  2. شفاعت سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سبز پوشاک کا عطا کیا جانا،
  3. عرش کے دائیں طرف قیام،
  4. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خصوصی قیام،
  5. ندائے خصوصی کا عطا کیا جانا،
  6. دوزخ سے اہل ایمان کے آخری گروہ کو نکالنا،
  7. جمیع امم کیلئے شفاعت عظمیٰ کا اختیار،
  8. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار بھرا سوال،
  9. اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خصوصی نشست کا عطا کیا جانا

قاضی عیاض مقام محمود کا دسواں معنی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ روزِ قیامت اﷲ رب العزت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر اپنے ساتھ خصوصی نشست پر بٹھائے گا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزِ قیامت مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مقام و مرتبہ مقامِ محمود ہو گا :

1. عن بن عباس أنّه قال في قول اﷲ عزوجل : (عَسٰی اَنْ يبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) قال : يجلسه بينه وبين جبريل عليه السلام، ويشفع لأمّته. فذلک المقام المحمود.

(طبراني، المعجم الکبير، 12 : 61، رقم : 12474)

’’حضرت عبد اﷲ عباس رضي اﷲ عنھما اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا) کے بارے میں فرماتے ہیں : اﷲ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اور حضرت جبریل علیہ السلام کے درمیان بٹھائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اُمت کی شفاعت فرمائیں گے۔ یہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقامِ محمود ہو گا۔‘‘

2. عن ابن عمر قال : قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : (عَسٰي اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) قال : يجلسني معه علي السرير.

(سيوطي، الدر المنثور، 5 : 287)

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضي اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ رب العزت مجھے اپنے ساتھ پلنگ (خصوصی نشست) پر بٹھائے گا۔‘‘

3. عن مجاهد في قوله : (عَسٰی اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) قال : يجلسه معه علي عرشه.

(طبري، جامع البيان عن تأويل أي القرآن، 15 : 145)

’’حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا) اﷲ رب العزت آپ کو اپنے ساتھ عرش پر بٹھائے گا۔‘‘

4. عن ابن عمر أنّ النّبي صلی الله عليه وآله وسلم قرأ : (عَسٰي اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) قال : يجلسه علي السرير.

(سيوطي، الدر المنثور، 5 : 286)

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضي اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ آپ کو خصوصی نشست پر فائز فرمائے گا۔‘‘

ائمہ تفسیراور محدثین کی کثیر تعداد نے اس قول کو بیان کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت اپنے ساتھ عرش پر بٹھائے گا اور بعض روایات میں ہے کہ آپ کو کرسی پر بٹھایا جائے گا۔ اس حوالے سے چند ائمہ کے اقوال و روایات ملاحظہ ہوں :

امام بغوی رحمة الله عليه (م 516ه)

امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ پانچویں صدی ہجری کے عظیم محدث اور مفسر ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو ’’محي السنۃ‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ کا دور اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا دور ایک ہی ہے۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ حضور غوث الاعظم اور حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے پہلے کے محدث اور مفسر ہیں۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ ایک طرف تو ’’معالم التنزیل‘‘ جیسی تفسیر کے مصنف ہیں اور دوسری طرف حدیث میں ’’شرح السنۃ‘‘ اور ’’مصابیح السنۃ‘‘ جیسی عظیم کتب کے مصنف ہیں۔ یہ بیان کرنا اس لئے ضروری ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ بات کوئی ضعیف قول یا کسی آج کے دور کے عالم کی رائے یا اختراع ہے، بلکہ اس کا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ یہ قول صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین کا ہے جس کو اجل ائمہ تفسیر و حدیث نے اُن سے روایت کیا ہے۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مقامِ محمود کے دو معنی ہیں۔

1۔ ایک معنی شفاعت ہے اور شفاعت میں بھی شفاعت کا وہ درجہ جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی شفاعت سے دوزخ سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔ شفاعت کے اس درجہ کا نام مقامِ محمود ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت فرمانے اور شفاعت قبول کیے جانے والوں میں اولین حیثیت کے حامل ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شفاعت فرمانا احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا انکار کرنے والا پہلا شخص عمرو بن عبید (خارجی) تھا اور وہ اہلِ سنت کے ہاں بالاتفاق پہلا بدعتی تھا۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت یزید بن صھیب تابعی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ روایت بیان کی ہے جو انہوں نے حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ سے مدینہ شریف میں دورانِ حج سنی تھی اور وہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے شفاعت کا انکار کرنے والے خارجی تھے۔ (روایت پہلے گزر چکی ہے۔) یہ روایت ہر اس مفسر اور محدث نے شفاعت کے باب میں بیان کی ہے جس نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ ہر ایک نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ سب سے پہلے شفاعت کا انکار کرنے والے خارجی تھے۔

2۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مجاہد التابعی اور حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مقامِ محمود کا دوسرا معنی روایت کیا ہے کہ وہ ’’کرسی‘‘ ہو گی جسے ’’مقام محمود‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر بٹھایا جائے گا۔ حضرت مجاہد کا قول ہے :

یجلسہ علی العرش ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھایا جائے گا۔‘‘

جبکہ حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

یقعدہ علی الکرسيّ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرسی پر بٹھایا جائے گا۔ (بغوی، معالم التنزیل، 3 : 132)

روزِ محشر ہر کوئی اپنے اپنے مقام پر ہو گا، کوئی زمین پر بیٹھا ہو گا، کوئی کھڑا ہو گا، کوئی نور کے ٹیلوں پر ہو گا، کوئی منبر پر ہو گا جبکہ عرشِ معلی پر دو کرسیاں رکھی ہوں گی، ایک کرسی پر اﷲ رب العزت اپنی شانِ اُلوہیت کے مطابق نزولِ اجلال فرمائے گا اور دوسری کرسی پر اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بٹھائے گا۔

امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس معنی کو بیان کر کے مذکورہ آیتِ مقامِ محمود کی تفسیر ختم کر دی ہے اور اس پر بحث نہیں کی اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ہاں یہ دونوں معنی مقبول ہیں۔ اسی طرح متعدد ائمہ تفسیر و حدیث نے بھی اس معنی کو بیان کیا ہے اور اس پر طعن نہیں کی اور نہ ہی اس معنی کو ردّ کیا ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ یہ قول ان کے ہاں مقبول ہے۔

امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ (508۔ 597ھ)

امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر ’’زاد المسیر في علم التفسیر‘‘ میں مقام محمود کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں دو قول ہیں :

1۔ ایک یہ کہ اس سے مراد روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لوگوں کی شفاعت فرمانا ہے۔ اس قول کی تصریح ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اقوال سے ہوتی ہے : حضرت عبد اﷲ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن الیمان، حضرت عبد اﷲ بن عمر، حضرت سلمان فارسی، حضرت جابر بن عبد اﷲ اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنھم۔

2۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت عرش پر بٹھائے گا : حضرت ابو وائل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔ یہی الفاظ حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضي اﷲ عنھما سے اور حضرت لیث رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مجاہد التابعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیے ہیں۔ (ابن الجوزی، زاد المسیر في علم التفسیر، 5 : 76)

امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس قول کو دو صحابہ کرام رضي اﷲ عنھما سے بیان کر کے اس پر کسی قسم کی کوئی بحث اور تنقید نہیں کی جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول ثقہ اور قابلِ قبول ہے۔

امام خازن رحمۃ اللہ علیہ (م 725ھ)

امام خازن رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر ’’لباب التاویل في معاني التنزیل‘‘ میں مقام محمود کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں :

پہلا قول:

والمقام المحمود هو مقام الشّفاعة لأنّه يحمده فيه الأوّلون والآخرون.

’’اور مقام محمود ہی مقام شفاعت ہے کیونکہ اس مقام پر اوّلین و آخرین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کریں گے۔‘‘

(خازن، لباب التأويل في معاني التنزيل، 3 : 142)

انہوں نے بھی امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح یہ بیان کیا کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا انکار کرنے والا سب سے پہلا شخص عمرو بن عبید خارجی تھا اور وہ تمام اہلِ سنت کے ہاں بالاتفاق بدعتی تھا۔ گویا جو شفاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرے، توسلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرے اور شانِ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کی عظمتوں کا انکار کرے اس کو پہلے زمانوں میں ائمہ تفسیر بدعتی کہتے تھے۔

دوسرا قول : مقام محمود سے مراد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر یا کرسی پر بٹھائے گا۔

روي أبو وائل عن ابن مسعود أنّه قال : إنّ اﷲ اتّخذ إبراهيم خليلا وإنّ صاحبکم خليل اﷲ وأکرم الخلق عليه. ثم قرأ : (عَسٰي اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) قال : يقعده علي العرش. وعن مجاهد مثله وعن عبد اﷲ بن سلام رضي الله عنه قال : يقعد علي الکرسي.

(خازن، لباب التأويل في معاني التنزيل، 3 : 143)

’’حضرت ابو وائل حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : بے شک اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا ہے جبکہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے دوست بھی ہیں اور تمام مخلوق سے بڑھ کر کرم فرمانے والے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا) اور فرمایا : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔ حضرت مجاہد التابعی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل روایت ہے اور حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اﷲ رب العزت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرسی پر بٹھائے گا۔‘‘

امام خازن رحمۃ اللہ علیہ نے عرش پر بٹھائے جانے کی روایت حضرت عبد بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ تین جلیل القدر صحابہ سے عرش پر بٹھائے جانے کی روایات منقول ہیں۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس، حضرت عبد اﷲ بن سلام اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنھم نے یہ روایت بیان کی اور پھر اس پر حضرت مجاہد التابعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ ان روایات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلسۂ قیامت کا منظر نامہ یہ ہو گا کہ عرش جلسۂ قیامت کا سٹیج ہو گا، اﷲ تعالیٰ صدرِ مجلس ہو گا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ عرش پر دو کرسیاں رکھی ہوں گی، ایک پر اﷲ تعالیٰ اپنی شان کے لائق نزولِ اجلال فرمائے گا اور دوسری پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوں گے۔

امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (773۔ 852ھ)

امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح الباری بشرح صحیح البخاری‘‘ میں اس آیت (عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) کی شرح میں یہ روایت بیان کرتے ہیں :

روي ابن أبي حاتم من طريق سعيد بن أبي هلال أنّه بلغه أنّ المقام المحمود الّذي ذکره اﷲ أنّ النّبيّ صلی الله عليه وآله وسلم يکون يوم القيامة بين الجبار وبين جبريل فيغبطه بمقامه ذلک أهل الجمع.

’’ابن ابی حاتم نے حضرت سعید بن ابو ہلال کے طریق سے روایت کیا ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ مقامِ محمود جس کا اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ رب العزت اور حضرت جبریل علیہ السلام کے درمیان جلوہ افروز ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مقام و مرتبہ کو دیکھ کر جمیع مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رشک کرے گی۔‘‘

اس کے بعد امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مقامِ محمود کے بارے میں مختلف اقوال درج کیے ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش پر تشریف فرما ہونے کا قول بھی نقل کیا ہے :

أنّ المراد بالمقام المحمود أخذه بحلقة باب الجنّة.

’’مقامِ محمود سے مراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنت کے دروازے کی زنجیر کو پکڑنا ہے‘‘

قيل إعطاؤه لواء الحمد.

’’یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لواء حمد کا عطا کیا جانا مقامِ محمود ہے۔‘‘

وقيل جلوسه علي العرش.

’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرش پر تشریف فرما ہونا مقامِ محمود ہے۔‘‘

یہ قول حضرت عبد بن حمید رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے۔

(عسقلانی، فتح الباري بشرح صحیح البخاري، 8 : 465)

اس کے بعد امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں احادیثِ شفاعت کی تشریح و تفصیل بیان کی ہے اور شفاعت کے موضوع پر دیگر روایات بھی بیان کی ہیں۔ ان میں وہ حضرت یزید الفقیر کی روایت بھی بیان کرتے ہیں جس میں انہوں نے خوارج کے انکارِ شفاعت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا اور اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ شفاعت اور مقامِ محمود کی تفصیل انہیں سمجھائی تھی۔ یہ روایت بیان کر کے امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ خوارج ایک مشہور بدعتی گروہ تھا جو کہ شفاعت کا انکار کیا کرتا تھا جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اُن کے اس انکار کی احادیث کی روشنی میں بیخ کنی کیا کرتے تھے۔

پھر امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطاب فرمایا اور کہا : اس اُمت میں ایک گروہ ایسا ہو گا جو رجم کا انکار کرے گا، دجال کا انکار کرے گا، عذابِ قبر کا انکار کرے گا، شفاعت کا انکار کرے گا اور روزِ قیامت دوزخ سے لوگوں کے نکالے جانے کا انکار کرے گا۔

اس کے بعد امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ مقامِ محمود کے بارے میں مختلف اقوال بیان کرتے ہیں :

  1. امام طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مقامِ محمود کے بارے میں اکثر علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ یہ وہ مقام ہو گا جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرما ہوں گے تاکہ اپنے اُمتیوں قیامت کی سختیوں سے نجات عطا فرمائیں۔ پھر انہوں نے متعدد روایات بیان کی ہیں جن میں بعض اس قول کی تصریح کرتی ہیں اور بعض میں ہے کہ اس سے مراد مطلق شفاعت ہے۔
  2. پھر امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی اُمت کے حق میں شفاعت قبول فرمائے گا پس یہی مقامِ محمود ہے۔
  3. اس کے بعد امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سبز پوشاک پہنائے جانے کی روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سبز پوشاک کا پہنایا جانا مقامِ محمود ہے۔
  4. پھر امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش کے دائیں جانب قیام کی روایت بیان کرتے ہیں کہ جس مقام پر تمام اولین و آخرین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد بیان کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرش کے دائیں طرف قیام کرنا مقامِ محمود ہے۔

یہ تمام اقوال بالتفصیل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔

  1. اس کے بعد امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت لیث رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے حضرت مجاہد التابعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان (مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) کے بارے میں فرمایا : ’’یجلسہ معہ علی عرشہ‘‘ اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا یہ مقامِ محمود ہے۔

امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ یہ تمام اقوال بیان کر کے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مقامِ محمود کے بارے میں پہلا قول کہ اس سے مراد شفاعت ہے اولی و افضل ہے۔ مگر یہ قول کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت عرش پر بٹھائے گا اسے کسی نقلی یا عقلی دلیل کے ذریعے ردّ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ نقاش نے امام ابو داود رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا : جو عرش پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بٹھائے جانے کے قول کا انکار کرے وہ ’’متھم‘‘ ہے، تہمت زدہ ہے۔ وہ ثقہ نہیں ہے، اس کا قول معتبر نہیں ہے۔ یہ امام ابو داود (صاحب السنن) کا فتویٰ ہے۔

اس کے بعد امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس قول کا تم کیسے انکار کر سکتے ہو کہ اس قول کو حضرت عبد اﷲ بن مسعود، حضرت عبد اﷲ بن عباس، حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنھم اور حضرت مجاہد التابعی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔ یہ بیان کر کے وہ فرماتے ہیں کہ :

إنّ محمدا يوم القيامة علي کرسيّ الرّب بين يدي الرّب. أخرجه الطبري.

’’روزِ قیامت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ رب العزت کے سامنے باری تعالیٰ کی طرف سے رکھوائی گئی کرسی پر تشریف فرما ہوں گے۔‘‘

امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’کرسی الرّب‘‘ میں اضافتِ تشریفی ہے۔

اﷲ تعالیٰ اکراماً، تعظیماً، اجلالاً جو کرسی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بچھائے گا اُسے اپنی کرسی سے تعبیر کیا جس طرح خانہ کعبہ کو بیت اﷲ کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ امام ماوردی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں مقامِ محمود کے بارے میں تین اقوال بیان کیے ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ اس سے مراد شفاعت ہے، دوسرا قول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرش پر بٹھایا جانا ہے اور تیسرا قول روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لواء حمد کا عطا کیا جانا ہے۔

اس کے بعد امام عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ اقوال پہلے قول سے متضاد نہیں ہیں بلکہ مقامِ محمود کے بارے میں چوتھا قول بھی مذکور ہے جسے ابن ابی حاتم نے سندِ صحیح کے ساتھ حضرت سعید بن ھلال رحمۃ اللہ علیہ، جو کہ صغار تابعین میں سے ہیں، کے طریق سے روایت کیا ہے کہ انہیں مقامِ محمود کے حوالے سے یہ خبر پہنچی ہے :

أنّ رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يکون يوم القيامة بين الجبّار عزوجل وبين جبريل عليه السلام فيغبطه بمقامه ذلک أهل الجمع.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزِ قیامت اﷲ رب العزت اور جبریل امین علیہ السلام کے درمیان تشریف فرما ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مقام و مرتبہ کو دیکھ کر تمام اہلِ محشر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رشک کریں گے۔‘‘

یہ تمام اقوال اور روایات بیان کرنے کے بعد امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی رائے بیان کرتے ہیں : ان تمام اقوال کو شفاعتِ عامہ پر منطبق کیا جا سکتا ہے مگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوائے حمد کا عطا کیا جانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنا اور اپنے رب کی بارگاہ میں کلام کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کرسی پر تشریف فرما ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام سے بھی زیادہ اﷲ تعالیٰ کے قریب قیام فرما ہونا، یہ تمام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ محمود کی صفات ہیں۔ جس پر فائز ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔

(عسقلانی، فتح الباري بشرح صحیح البخاري، 11 : 479۔481)
امام قسطلانی (م923ھ)

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ دوسرے شارحِ بخاری ہیں جنہوں نے مقامِ محمود پر تفصیلی بحث کی ہے اور انہوں نے بھی امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی بحث کو من و عن نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقامِ محمود کے بارے میں چار اقوال نقل کیے ہیں اور چوتھے قول میں وہ فرماتے ہیں :

قيل هو أجلاسه صلی الله عليه وآله وسلم علي العرش، وقيل علي الکرسي، روي عن ابن مسعود أنّه قال : يقعد اﷲ تعالٰي محمدا صلي الله عليه وآله وسلم علي العرش، وعن مجاهد أنّه قال : يجلسه معه علي العرش.

(قسطلاني، المواهب اللدنية، 3 : 448)

’’کہا گیا کہ اس سے مراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرش پر بٹھایا جانا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ اس مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کرسی پر بٹھایا جانا ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا کہ انہوں نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا جبکہ حضرت مجاہد التابعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ساتھ عرش پر بٹھائے گا۔‘‘

یہ بیان کر کے امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اس قول کا کسی جلیل القدر امام اور عالم نے انکار نہیں کیا سوائے ایک عالم علامہ واحدی رحمۃ اللہ علیہ کے۔ لیکن انہوں نے جتنی بھی بحث کی اُس میں کہیں بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کرسی پر بٹھائے جانے کا انکار نہیں کیا۔ انہوں نے ساری بحث میں اﷲ تعالیٰ کے کرسی پر تشریف فرما ہونے کا انکار کیا ہے کہ کرسی کا بیٹھنا مخلوق کی صفت ہے۔ اﷲ تعالیٰ تو کرسی پر بیٹھنے سے پاک ہے، اگر اﷲ کے لئے کرسی پر بیٹھنا ثابت کیا جائے تو باری تعالیٰ کی مخلوق سے تشبیہ ہو جائے گی۔ انہوں نے لفظی اور کلامی بحث کی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کرسی پر تشریف فرما ہونے کا انکار انہوں نے بھی نہیں کیا۔

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ واحدی رحمۃ اللہ علیہ کا اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کا عرش پر تشریف فرما ہونا عام کیفیت کی طرح نہیں ہو گا بلکہ وہ اپنی اس شان کے مطابق تشریف فرما ہو گا جسے ہم نہیں جانتے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرش پر تشریف فرما ہونا آپ کے لئے صفتِ ربوبیت کو ثابت کرنے کے لئے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفتِ عبدیت سے خارج کرنے کے لئے ہے بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و تکریم کو دیگر مخلوق سے بلند تر کرنے کے لئے ہے۔ رہا حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کا (معہ) فرمانا کہ اﷲ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ساتھ بٹھائے گا تو وہ اﷲ تعالیٰ کے ان فرامین کے بمعنی ہے : (اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ) الاعراف، 7 : 206، (بیشک جو (ملائکہ مقربین) تمہارے رب کے حضور میں ہیں) (رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ) التحریم، 66 : 11، (اے میرے رب! تو میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے۔)۔ پس یہ تمام مثالیں رتبہ، منزلت اور درجات کی بلندی کی طرف اشارہ کرتی ہیں نہ کہ کسی خاص جگہ اور مقام کی طرف۔

(قسطلاني، المواهب اللدنية، 3 : 450)
قاضي ثناء اﷲ پاني پتي رحمة الله عليه (1143 - 1225ه)

قاضی ثناء اﷲ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ خطہ برصغیر کے عظیم مفسر ہیں۔ قاضی ثناء اﷲ، شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں۔ وہ اپنی تفسیر ’’تفسیر المظہری‘‘ میں مقامِ محمود کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :

وہ فرماتے ہیں کہ مقامِ محمود کے بارے میں دو قول ہیں۔

پہلا قول وہ بیان کرتے ہیں کہ مقامِ محمود سے مراد شفاعت ہے۔

دوسرا قول انہوں نے بیان کیا کہ اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔ دلیل کے طور پر انہوں نے جو حدیثِ مبارکہ بیان کی اس کو امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعا روایت کیا ہے۔

قال البغوي : عن أبي وائل عن عبد اﷲ عن النّبيّ قال : إنّ اﷲ اتّخذ إبراهيم خليلا وإنّ صاحبکم خليل اﷲ وأکرم الخلق علي اﷲ. ثم قرأ : (عَسٰي اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) قال : يجلسه علي العرش. وعن عبد اﷲ بن سلام رضي الله عنه قال : يقعده علي الکرسي.

’’حضرت ابو وائل حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا ہے جبکہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے دوست بھی ہیں اور تمام مخلوق سے افضل بھی ہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا) اور فرمایا : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔ حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اﷲ رب العزت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرسی پر بٹھائے گا۔‘‘

ہر چند کہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی ترجیح پہلے قول کی طرف ہے مگر دوسرا قول بیان کر کے انہوں نے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول بھی ان کے ہاں مقبول ہے۔

(قاضي ثناء اﷲ، تفسیر المظھری، 5 : 317)
علامہ جمال الدین قاسمی رحمۃ اللہ علیہ (م 1332ھ/ 1914ء)

علامہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول پر کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھایا جائے گا، بڑی خوبصورت بحث کی ہے۔ علامہ جمال الدین قاسمی رحمۃ اللہ علیہ دمشق کے پچھلی صدی کے بہت بڑے محدث اور مفسر ہیں۔ ان کو عام طور پر سلفی مکتبِ فکر کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہ صریحاً غلط ہے۔ مصر اور شام کے پچھلی صدی کے علماء مثلاً علامہ رشید رضا رحمۃ اللہ علیہ، حسن البناء رحمۃ اللہ علیہ، علامہ جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ، مفتی محمد عبدہ رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ جوہری الطنطاوی رحمۃ اللہ علیہ یہ تمام علامہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور تلامذہ میں شامل ہیں۔ بعض لوگ بغیر پڑھے کسی کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں حالانکہ ان کی رائے صریحاً غلط ہوتی ہے، علامہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی لوگوں کی رائے کا یہی حال ہے ان کو لوگ سلفی عقائد کا حامل شمار کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر پڑھے رائے قائم کر لیتے ہیں، شاہ ولی اﷲ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں غلط رائے قائم کر لی گئی ہے۔ حتی کہ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی یہی رائے ہے کہ وہ سلفی مکتبِ فکر کے حامل ہیں حالانکہ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی ’’تفسیر‘‘ عقائدِ اہلسنت کی سب سے بڑی مؤید تفسیر ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں عقائدِ اہلسنت کے ایسے قوی دلائل بیان کیے ہیں جو کسی اور تفسیر میں نہیں ملتے۔ سوائے امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’الدر المنثور‘‘ کے، مگر وہ صرف روایت بیان کرتے ہیں جبکہ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کثرت سے روایات بیان کرتے ہیں اور پھر ان پر جرح بھی کرتے ہیں اور سند کے ساتھ احادیث بیان کرتے ہیں۔

علامہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ محمود کے بارے میں وہی دو مشہور اقوال نقل کیے ہیں : ایک یہ کہ اس سے مراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقامِ شفاعتِ عظمیٰ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت عطا کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ اﷲ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا اس پر وہ امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :

’’علماء کے ایک گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مقامِ محمود جس کا اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اس پر فائز فرمائے گا، اس کا معنی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا۔ اس قول کو حضرت لیث رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے۔‘‘

ائمہ و علماء کے اقوال و تصریحات

علامہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش پر تشریف فرما ہونے کی تائید میں مختلف ائمہ، مفسرین اور علماء کے اقوال نقل کیے ہیں :

حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (673۔ 748ھ) نے اپنی کتاب ’’العلوّ للّٰہ العظیم‘‘ میں امام دارقطنی کے حالاتِ زندگی کے ذیل میں یہ اشعار درج کیے ہیں :

حديث الشفاعة في أحمد
إلي أحمد المصطفٰي نسنده

وأما حديث بإقعاده
علي العرش أيضا فلا نجحده

أمِرُّو الحديث علي وجهه
ولا تدخلوا فيه ما يُفسده

’’ہم حدیثِ شفاعت کو احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہی منسوب کرتے ہیں، اور رہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھانے کی روایت تو ہم اس کا بھی انکار نہیں کرتے۔ پس حدیث کو اس کے اصل معنی پر قائم رکھو اور اس میں ایسی چیزیں داخل نہ کرو کہ اُس کا اصل معنی فاسد ہو جائے۔‘‘

امام مروذی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبد اﷲ الخفاف رحمۃ اللہ علیہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مصعب رحمۃ اللہ علیہ (شیخ بغداد) سے سنا : انہوں نے اس آیت (عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) کی تلاوت کی اور فرمایا : ہاں اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ بغداد محمد بن مصعب رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نے اُن سے احادیث نقل کی ہیں (یعنی وہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ میں سے ہیں)

امام مروذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش پر تشریف فرما ہونے کو ثابت کرنے کے لئے تگ و دو کی ہے اور انہوں نے اس پر ایک کتاب مرتب کی جس میں حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش پر بٹھائے جانے) کو روایت کے مختلف طرق سے بیان کیا ہے۔ لیث بن ابی سلیم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے، عطاء بن السائب رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے، ابو یحیی القتات رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے اور جابر بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے اور اُن ائمہ کے طریق سے جنہوں نے اُس زمانے میں فتویٰ دیا کہ یہ قولِ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ تسلیم کیا گیا ہے اور اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امام ابو داود رحمۃ اللہ علیہ سجستانی صاحب السنن، ابراہیم حربی رحمۃ اللہ علیہ اور علماء کے ایک بہت بڑے گروہ کے طریق سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

’’جس شخص نے اس حدیث کا انکار کیا میں اُس کا منکر ہوں اور ایسا شخص میرے نزدیک تہمت زدہ اور ناپسندیدہ ہے۔ میں نے اس روایت کو محدثین کی ایک جماعت سے سنا ہے اور میں نے کسی محدّث کو اس کا منکر نہیں پایا۔ ہمارے ہاں اس کا انکار صرف جہمیہ (خوارج) کرتے ہیں۔ پس ہمیں حدیث بیان کی ہارون بن معروف رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت لیث سے اور انہوں نے روایت کیا حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان : (عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) کی تفسیر میں فرمایا : اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔ پس میں نے یہ حدیث اپنے والدِ گرامی (امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ) سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا : میری قسمت میں نہ تھا کہ میں یہ حدیث ابن فضیل رحمۃ اللہ علیہ سے سن سکوں۔

جبکہ امام مروذی رحمۃ اللہ علیہ، ابراہیم بن عرفہ رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمیر رحمۃ اللہ علیہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اس قول (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش پر تشریف فرما ہونے) کو علماء کے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہے۔

امام مروذی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام ابو داود سجستانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

’’ہمیں حدیث بیان کی ابن ابی صفوان الثقفی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی یحیی بن ابی کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی سلیم بن جعفر رحمۃ اللہ علیہ نے، اور یہ ثقہ ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی الجریری رحمۃ اللہ علیہ نے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیف الدوسی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ انہوں نے فرمایا : روزِ قیامت تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لایا جائے گا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ عزوجل کے سامنے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رکھوائی گئی کرسی پر جلوہ افروز ہوں گے۔‘‘

الغرض حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے اور اسی طرح نقاش نے اسے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، اسی طرح شیخ الشافعیہ ابن سریج رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول کے منکر کو ردّ کیا ہے۔

اس قول کی تائید میں امام ابو بکر الخلال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’السنۃ‘‘ میں ایک خواب بیان کیا ہے :

’’مجھے حسن بن صالح العطار رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت محمد بن علی السراج رحمۃ اللہ علیہ سے خبر دی وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) فلاں ترمذ کا رہنے والا شخص کہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو عرش پر نہیں بٹھائے گا جبکہ ہم کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو بٹھائے گا۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پُر جلال چہرے کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ہاں، اﷲ کی قسم!، ہاں، اﷲ کی قسم! اﷲ تعالیٰ مجھے عرش پر بٹھائے گا۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔

قاضی ابویعلی الفراء رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا کہ محدث و فقیہ ابوبکر احمد بن سلیمان النجاد رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس بات پر حلف اٹھائے : ’’اگر یہ بات غلط ہو کہ اﷲ تعالیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا تو میری بیوی کو تین طلاقیں‘‘ پھر وہ مجھ سے فتویٰ لینے آئے تو میں کہوں گا : ہاں تو نے حق اور سچ بات کہی۔

(القاسمی، محاسن التاویل، 6 : 491۔495)

المختصر ان تمام اقوال و تصریحات سے ثابت ہوا کہ روزِ قیامت اﷲ رب العزت اپنے محبوب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا۔ جو لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ معاذ اﷲ اس سے اﷲ تعالیٰ کا مخلوق میں شامل ہونا لازم آتا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے معاذ اﷲ مرتبۂ اُلوہیت ثابت ہوتا ہے اُن کی خدمت میں عرض ہے : یہ کس نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا کرسی پر جلوہ افروز ہونا عام مخلوق کی طرح ہو گا۔ نہ اُس کی کرسی عام مخلوق کی کرسی کی طرح ہو گی اور نہ اُس کا کرسی پر تشریف فرما ہونا عام مخلوق کی طرح ہو گا۔ وہ اپنی شان کے لائق اپنی شایانِ شان کرسی پر استواء اور نزول فرمائے گا۔ لہٰذا یہ اعتراض بنتا ہی نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے لئے کرسی کا ثبوت اُسے مخلوق میں شامل کرنے کا موجب ہے۔ جس طرح اﷲ تعالیٰ کرسی پر اپنی شان کے لائق استواء و نزول فرما کر اﷲ ہی رہتا ہے اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزِ قیامت عرش پر بیٹھ کر بھی عبد ہی رہیں گے وہ معبود اور خالق نہیں بنیں گے۔ کیونکہ اﷲ کا بیٹھنا اس کی شانِ اُلوہیت کے مطابق ہو گا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹھنا اُن کی شانِ محبوبیت اور شانِ مخلوقیت کے مطابق ہو گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرش پر بٹھائے جانے اور قیام فرما رہنے کی روایات میں تطبیق

چند احادیث سے یہ امر بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرش پر نہیں بیٹھیں گے بلکہ قیام فرما رہیں گے۔ جیسے ایک روایت میں ہے :

قال النّبي صلی الله عليه وآله وسلم : إذا کان يوم القيامة يوضع للأنبياء منابر، ولي منبرًا، ومنبري أقرب إلي العرش من منابرهم، فتجلس الأنبياء صلوات اﷲ عليهم علي منابرهم، ولا أجلس علي منبري لشغلي بأمّتي، فيقال : أين النّبي القرشي الأبطحي التهامي، صاحب التاج والباقة، صاحب الحوض والشفاعة، قم فتکلّم في أمر أمّتک حتّي أعطيک ما وعدتک، قال النّبي صلی الله عليه وآله وسلم : فأسجد عند عرش الرحمٰن، فأقول : يا رب أمّتي، هب لي. . . إلي آخر الحديث. (ابن خزيمة، التوحيد : 245)

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزِ قیامت تمام انبیاء کے لئے منبر بچھائے جائیں گے اور میرے لئے بھی منبر بچھایا جائے گا اور میرا منبر دیگر تمام انبیاء کے منابر کے مقابلہ میں عرش کے زیادہ قریب ہو گا۔ تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے منبروں پر تشریف فرما ہو جائیں گے اور میں اپنی اُمت کے لئے منبر پر نہیں بیٹھوں گا۔ کہا جائے گا : قرشی ابطحی، تہامی نبی کہاں ہیں جو تاج و تخت کے مالک ہیں جو صاحب حوض کوثر و شفاعت ہیں۔ کھڑے ہو جائیے اور اپنی اُمت کے معاملہ میں بولیے (شفاعت کیجئے)۔ یہاں تک کہ میں آپ کو وہ عطا کر دوں جس کا آپ سے وعدہ کیا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس میں اﷲ عزوجل کے عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور عرض کروں گا : اے میرے رب! میری اُمت کو بخش دے۔‘‘

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضي اﷲ عنہما سے مروی ایک روایت میں ہے۔

عن ابن عباس قال : قال النّبي صلی الله عليه وآله وسلم : يوضع للأنبياء منابر من ذهب، يجلسون عليها، ويبقي منبري لا أجلس عليه قائم بين يدي ربّي منتصبا لأمّتي مخافة أن يبعث بي إلي الجنّة وتبقي أمّتي بعدي.....

( حاکم، المستدرک، 1 : 135، رقم : 220)

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضي اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قیامت کے دن) تمام انبیاء علیہم السلام کے لئے سونے کے منبر بچھائے جائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گے اور میرا منبر خالی رہے گا میں اس پر نہ بیٹھوں گا بلکہ اپنے رب کریم کے حضور کھڑا رہوں گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جنت میں بھیج دیا جائے اور میری اُمت، میرے بعد بے یارو مددگار رہ جائے۔

دونوں روایات حق ہیں اور دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو الگ الگ شانیں ہیں۔ ان دو روایات میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ پہلی روایت جس میں یہ بیان ہوا کہ اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرش پر بٹھائے گا۔ جب میدانِ حشر میں عدالت لگے گی تو اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور عظمت دکھانے کے لئے فرمائے گا کہ محبوب! اس کرسی پر بیٹھ جائیں، اولاً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کرسی پر تشریف فرما ہوں گے، تاکہ اﷲ کے حکم کی تعمیل ہو جائے۔ یہاں تک پہلی روایت کا معنی مکمل ہو گیا۔ اس کے بعد مذکورہ روایات کے مطابق فوراً ہی اٹھ کھڑے ہوں گے اور اِس کا سبب اولًا ادبِ بارگاہ الٰہی ہو گا اور ثانیًا اُمت کی بخشش و مغفرت کے لئے اضطراب ہو گا۔ اﷲ تعالیٰ کا کرسی پر بٹھانا اپنے محبوب کی شانِ محبوبیت دکھانے کے لئے ہو گا تاکہ پورا عالمِ محشر اُس کی بارگاہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ محبوبیت کو دیکھ لے، کرسی پر بٹھایا جانا محبوبیت کے اظہار کے لئے ہو گا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھڑے ہو جانا اور کھڑے رہنا یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بارگاہِ الٰہی کے ادب اور اپنی شانِ عبدیت کا اظہار ہو گا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین کی روایات، احادیث اور اقوال سے یہ ثابت ہوا کہ مقامِ محمود، شفاعت کا ایک خاص مقام ہے۔ اس سے مراد عرش پر کرسی الٰہی کے پاس کرسی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکھا جانا ہے تاکہ دنیا دیکھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہے؟ اس دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے زندگیاں گزار لیں لیکن وہ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت سے آشنا نہ ہو سکے۔ اُن کی پوری زندگی اسی گرداب، اسی شک اور ارتعاب، اسی وہم اور گمان اور اسی بحث اور تکرار میں رہی کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہے؟ وہ مقام تولتے رہے، وہ منزلت تولتے رہے، وہ مکانت تولتے رہے، وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی رفعت تولتے رہے۔ کوئی ہمسری کا کہتا رہا کوئی اپنے جیسا سمجھتا رہا، کوئی تھوڑا سا اُوپر سمجھتا رہا، کوئی رسول کا معنی یہ لیتا رہا کہ اُن کی طرف وحی کی گئی، کوئی کہتا رہا کہ بس ہمیں پیغام پہنچانے کے لئے نبی بنایا۔ روزِ حشر اﷲ تعالیٰ فرمائے گا : محبوب دنیا میں تو یہ لوگ میرے دیدار سے محروم تھے، میں ان کو اپنا جلوہ کراتا نہ تھا، ان کی آنکھوں پر پردے تھے جس کی سمجھ میں جو کچھ آیا وہ کہتا رہا۔ محبوب! آج پردے اٹھا دیئے آج انہیں تیرا مقام دیکھاتا ہوں۔ روزِ محشر حکم ہو گا : عرش پر میری کرسی کے ساتھ دائیں جانب میرے مصطفیٰ کی کرسی رکھی جائے تاکہ لوگ دیکھیں کہ یہ رب ہے اور اُس کے ساتھ اُس کا محبوب مصطفیٰ ہے۔ یہ کرسی صدارت ہے جس پر رب کائنات اپنی شان کے مطابق نزولِ اجلال فرمائے ہوئے ہے اور ساتھ دائیں جانب کرسی مہمانِ خصوصی ہے، جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ سارا جہاں جب عرش کی طرف رب کو دیکھے تو ہر ایک کی نگاہ ایک طرف رب پر پڑئے اور دوسری طرف مصطفیٰ پر پڑئے اور معلوم ہو جائے یہ مقامِ محمود ہے تاکہ زبانیں بند ہو جائیں، گمان ختم ہو جائیں، وہم و ارتعاب ختم ہو جائیں اور جس کو دنیا میں سمجھ نہیں آئی تھی وہ بھی سمجھ لے کہ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مقامِ محمود کیا ہے۔

یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقامِ محمود ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فائز کیے جانے کے بعد تمام اوّلین و آخرین، انبیاء و رسل، جن و انس اور پھر ان سب کا خالق، تمام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد کر رہے ہوں گے۔ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و شفقت اور محبوبیت کا یہ اظہار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد ہو گا اور ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کا عمل جو ابتدائے کائنات سے شروع کیا گیا تھا وہ انتہائے یومِ قیامت حتی کہ بعد از قیامت، جنت میں بھی جاری رہے گا۔ جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ محمود کے توسل سے لوگوں کے درجے بدلتے رہیں گے اور اُن کی اعلیٰ درجات میں ترقی ہوتی رہے گی۔ گویا اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ابتدائے قیامت سے لے کر دورانِ قیام جنت تک اگلی ساری زندگی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ محمود کے تابع کر دی ہے۔ لہٰذا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی بلند ہوتا رہے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بھی بلند ہوتی رہے گی۔

(تمت بالخیر)

^^ اوپر چليں ^^

^^ فہرست ^^

 << پچھلا صفحہ <<

>> اگلا صفحہ >>


This page was published on Sep 1, 2007



کاپی رائٹ © 1980 - 2017 ، منہاج انٹرنیٹ بیورو، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau