الحدیث : اسلام میں روزہ کا تصور اور اس کے مقاصد

ڈاکٹر علی اکبر الازہری

الحدیث کا سلسلہ تحریر گذشتہ تقریباً 25 سال سے استاذ الاساتذہ حضرت علامہ محمد معراج الاسلام (شیخ الحدیث منہاج یونیورسٹی) کے علم و تدبر کے فیوضات سے مربوط رہا۔ قارئین کرام کے لئے بالعموم اور طبقہ علماء کے لئے بالخصوص ان کے رشحاتِ قلم کی خصوصی اہمیت رہی ہے۔ بلاشبہ ان کی علم دوست اور ادب پرور شخصیت کا حسن و وقار ان کے زبان و بیاں کے بانکپن سے جھلکتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ قبلہ شیخ الحدیث صاحب کی ضعیف العمری اور جسمانی کمزوری کے سبب یہ سلسلہءِ تحریر ان کی طرف سے مزید جاری نہیں رکھا جاسکتا۔ البتہ ان کے مضامین اور مقالات سے حسب موقع قارئین مستفیض ہوتے رہیں گے۔

الحدیث کے اس محبوب سلسلہءِ تحریر کو ماہنامہ منہاج القرآن کی مجلس مشاورت نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد معراج الاسلام کے تلمیذ رشید محترم ڈاکٹر علی اکبر قادری الازہری کے سپرد کردیا ہے۔ امید ہے اہل علم و ذوق قارئین کرام کوان کی ادارتی تحریروں کی طرح یہ سلسلہ تحریر بھی پسند آئے گا۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے شیخ الاسلام کے شہرہءِ آفاق مجموعہءِ احادیث ’’المنہاج السوی‘‘ میں شامل منتخب احادیث کی تشریح و توضیح کا فیصلہ کیا ہے۔ زیر نظر تحریر اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اہل علم و فکر احباب کی رائے اور Feed Back سے ہمارے معیار میں مزید بہتری کا سامان پیدا ہوسکے گا۔۔۔۔ (ادارہ)

حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعاليٰ نے فرمایا:

کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَانَا اجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا کَانَ يَوْمُ صَوْمِ احَدِکُمْ فلَاَ يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ احَدٌ اوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَاءِمٌ. وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَخُلُوفُ فَمِ الصَاءِمِ اطْيَبُ عِنْدَ اﷲِ مِنْ رِيْحِ الْمِسْکِ. لِلصَّاءِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا افْطَرَ فَرِحَ، وَإِذا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.

(بخاری فی الصحیح، کتاب: الصوم، ۲/۶۷۳، حدیث: ۱۸۰۵)

’’بنی آدم کا ہر عمل اسی کے لئے ہے سوائے روزہ کے۔ روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجردیتا ہوں۔ روزہ (گناہوں سے بچنے کے لئے) ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو نہ فحش کلامی کرے اور نہ لڑائی جھگڑے میں پڑے اور اگر اسے کوئی گالی دے یا لڑے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہل کو مشک سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جن سے اسے فرحت ہوتی ہے: ایک (فرحتِ افطار) جب وہ روزہ افطار کرتا ہے، اور دوسری (فرحتِ دیدار کہ) جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے باعث خوش ہو گا۔‘‘

مطالب و معانی

صوم: عربی لغت میں روزے کو صوم کہا جاتا ہے جس کا معنی ارادی فعل سے باز رہنا اور رک جانا ہے۔

ابن منظور لسان العرب میں ’’صوم‘‘ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کسی چیز سے رکنا اور چھوڑ دینا صوم ہے۔ روزے دار کو صائم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ کھانے، پینے اور عمل تزویج سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے‘‘۔

(لسان العرب ۱۲/۳۰۱)

قرآن حکیم نے بات چیت چھوڑ دینے کے لئے بھی لفظ صوم استعمال کیا ہے ارشاد باری تعاليٰ ہے:

اِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا.

(مريم:۲۶)

’’میں نے اللہ کے لئے بات نہ کرنے کی نذر مان لی ہے‘‘۔

فقہاء اور مفسرین نے روزے کا اصطلاحی معنی ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

الامساک عن المفطرات مع النیۃ بہ من طلوع الفجر الی غروب الشمس۔

(علام ة جلال الدين خوارزمی، الکفاية مع فتح القدير: ۲/۲۲۳، تفسير القرطبی،۱:۲۷۳)

’’روزے کی نیت کے ساتھ طلوع سحر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے رکے رہنے کو صوم کہا جاتا ہے‘‘۔

مضامین حدیث

اس حدیث مبارکہ میں متعدد مضامین موجود ہیں جو ہمیں روزہ، اس کے مقصد اور اجر سے آگاہ کررہے ہیں۔ آیئے پہلے ان مضامین کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں:

  • اس حدیث مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے کی فضیلت میں اللہ پاک کا فرمان بیان کیا ہے۔ اصطلاح حدیث میں ایسے کلمات جن کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعاليٰ کی طرف فرماتے ہیں وہ حدیث قدسی کہلاتی ہے۔ اسے حدیث الہی اور حدیث ربانی بھی کہا جاتا ہے۔ مرتبے میں حدیث قدسی دیگر احادیث کے مقابلے میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ حدیث قدسی کے راوی خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے ہیں۔
  • اس متفق علیہ حدیث مبارکہ کی دوسری امتیازی شان یہ ہے کہ روزہ کے موضوع پر یہ کثیرالجہات اور جامع ترین حدیث ہے کیونکہ اس میں بہت سے مضامین جن کی تفصیلات قرآن و حدیث کے دیگر مقامات پر موجود ہیں یہاں بڑی جامعیت کے ساتھ سمٹ آئے ہیں۔ گویا یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ جامع الکلم کی مظہر بھی ہے۔

قارئین کرام غور کریں تو اس میں اللہ پاک کی طرف سے روزہ دار کے لئے اجر عظیم کا غیر معمولی اعلان کیا گیا ہے جو منفرد ہے۔ یعنی اس طرح کا اعلان اللہ پاک نے کسی اور عمل کے متعلق نہیں فرمایا۔ ابن حجر، علامہ عینی اور علامہ منادی وغیرہ نے اس حدیث کی تشریح میں بڑے لطیف نکات بیان کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ کو اللہ تعاليٰ اور بندے کے درمیان ایک راز قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ باقی ساری عبادات کے برعکس روزہ ایسی عبادت ہے جس میں کوئی ریا اور کوئی دکھاوا ممکن نہیں۔ روزہ دار بھوک، پیاس اور جسمانی تکالیف کو خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے برداشت کرتا ہے۔ گویا روزہ کی صحت ایک باطنی عمل ہے جسے اللہ پاک جو علیم و خبیر ہے اس کے علاوہ کسی کو خبر نہیں ہوسکتی۔ لہذا اللہ پاک نے اس کے اجر کو بھی عددی پیمانوں سے آزاد کردیا اور فرمایا میں اپنی شان کے مطابق روزہ کا اجر عطا فرماتا ہوں۔

ثانیاً روزہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ڈھال قرار دیا۔ یعنی روزہ ایسی عبادت ہے جس سے گناہ کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں اور متقی انسان فرشتہ صفت ہوجاتا ہے۔

  • حدیث کا تیسرا مضمون روزہ دار کے لئے لازم کی گئی احتیاط کی تفصیل اور کیفیت ہے۔ اسے لڑائی جھگڑے میں برداشت، ضبط نفس اور صبر و تحمل جیسی اعليٰ صفات کے حصول کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
  • چوتھا مضمون روزہ دار کی جسمانی کمزوری، نقاہت اور شدید پیاس کے وقت کی کیفیت کو سراہا گیا ہے تاکہ اس کیفیت میں بھی روزہ دار روحانی مسرت سمیٹ سکے حالانکہ اللہ پاک سونگھنے یا چکھنے کی صفت سے پاک ہے مگر اس نے روزہ دار کے منہ کی بو کو مشک و عنبر سے بھی اعليٰ خوشبو قرار دیا۔ مقصود بندہ پروری اور ہمت افزائی ہے۔
  • اس حدیث مبارکہ کا آخری مضمون دو خوش خبریاں ہیں ان دونوں خوشیوں کو تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ روزہ دار جس طرح افطار کے وقت ٹھنڈے مشروب اور اشیائے خوردو نوش کو تناول کرتے ہوئے اشتیاق اور روحانی مسرت محسوس کرتا ہے اسی طرح اس کے لئے اس نیکی کا بڑا اجر اللہ پاک کی زیارت کی شکل میں ظاہر ہوگا جو ہر مومن کا حاصلِ ایمان اور ہر روح کا اشتیاق ہے۔ حدیث مبارکہ کے کلمات بتارہے ہیں کہ اللہ پاک کے جلوئوں کو بھی دل و نگاہ میں وہی سمیٹے گا جو روزہ جیسی مشقت برداشت کرے گا۔

شرح و تفصیل

دنیا کے کسی مذہب اور فلسفہ حیات میں کوئی خوبی ایسی نہیں جو اسلام کے دامن میں بتمام و کمال موجود نہ ہو۔ یہی جامعیت اور اکملیت اس کی حقانیت کی بین دلیل ہے۔ اس کی تعلیمات کی اثر آفرینی اور حکمت و صداقت ہی اس کی وہ حقیقی قوت ہے جو ہر دور میں انسان کے قلب و دماغ کو مسخر کرتی چلی آتی ہے۔ یہ بات اسلام اور اہل اسلام کے لئے کتنی خوش آئند ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ انسانی عقل و شعور نے جس قدر ترقی کی اور علوم و فنون جیسے جیسے کمالات کی منازل طے کرتے ہوئے اپنی معراج کو پہنچ رہے ہیں اسلام کی حقانیت صداقت اور حکمت اسی قدر نکھرتی جارہی ہے۔

زیر نظر حدیث مبارکہ کے تحت ہم تفصیلات میں گئے بغیر ماہ رمضان کی مناسبت سے اسلام میں روزہ کے تصور، اس کی افادیت اور مقاصد کے حوالے سے مختصر سی شرح کررہے ہیں۔

مذہب کا اصل مقصد

مذہب کا اصل مقصد درحقیقت تصفیہ عقائد، تزکیہ نفس و روح اور اخلاقِ حسنہ کی ترویج ہے۔ اسی لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد ہی یہ بیان فرمایا:

بعثت لاتمم مکارم الاخلاق.

کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔ گویا انسانیت کا نصب العین اخلاق حسنہ کی تعمیر و تکمیل ہے۔

تزکیہ نفس کے مختلف تصورات اور اسلام

مذاہب عالم کے مطالعہ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دنیا کا ہر مذہب کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ سے تزکیہ نفس اور روحانی طہارت کی اہمیت اجاگر کرتا رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان مذاہب کے ہاں اس کے انداز مختلف اور طریقے علیحدہ ہیں مثلاً ہندوئوں کے ہاں پوجا کا تصور ہے۔ عیسائیت کے ہاں رہبانیت کا رجحان۔ یونان کے مفکرین نے اس سلسلے میں ترک دنیا کو ضروری قرار دیا اور بدھ مت کے ہاں جملہ خواہشات کو قطعاً فنا اور ختم کردینا لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن قربان جائیں رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چوکھٹ پر جہاں سے بنی نوع انسان کو خالقِ کائنات کی طرف سے ایک ایسا سادہ اور آسان دین عطا ہوا جس نے ان تمام خرافات اور افراط و تفریط کی راہوں سے ہٹ کر تقويٰ اور تزکیہ قلب و باطن کے لئے ارکان اسلام کی صورت میں ایک ایسا پانچ نکاتی لائحہ عمل وضع کردیا جو فطرتاً انسان سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت آسان اور واضح بھی ہے۔ ان میں موثر ترین ذریعہ روزہ ہے۔

مقصدیتِ روزہ اور غیر مسلموں کا اعتراف

اس میں شک نہیں کہ روزہ کا تصور کم و بیش ہر مذہب اور ہر قوم میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے مگر اسلام میں روزے کا تصور یکسر جداگانہ منفرد اور مختلف ہے۔

اگر دوسری اقوام کے ہاں روزوں کے مقاصد سے آگاہی حاصل ہوجائے تو اسلام میں روزے کی مقصدیت کی وسعت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ اس سلسلے میں اختصار کے پیش نظر ہم صرف دو اقتباسات کا ترجمہ بطور شہادت نقل کرتے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا آف جیوز میں اس طرح لکھا ہوا ہے:

’’یہودی اور عیسائی روزہ بطور کفارہ گناہ یا توبہ کی خاطر یا پھر ان سے بھی تنگ تر مقاصد کے لئے رکھتے تھے اور ان کا روزہ محض رسمی نوعیت کا ہوتا تھا یا پھر قدیم تر ایام میں روزہ ماتم کے نشان کے طور پر رکھا جاتا تھا‘‘۔

(انسائيکلو پيديا آف جيوز، ص۱۴۷)

یعنی اس وقت روزے کی اصل مقصدیت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ان لوگوں نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے روزے کو محدود کرلیا تھا۔ مگر اسلام نے اس میدان میں بھی انسانیت کو روزے کے ذریعے ایک مستقل نظام تربیت دیا۔

مذکورہ بالا کتاب میں اس حقیقت کا اعتراف یوں کیا گیا ہے:

’’یہ اسلام ہی ہے جس نے روزے کے بارے میں اپنا زاویہ نگاہ اور دائرہ کار وسیع کردیا اور روزہ کے اغراض و مقاصد کو بلند کردیا۔ زندگی کی وہ تمنائیں اور خواہشات نفسانیہ جو عام طور پر جائز ہیں اسلامی روزہ میں ان پر بھی معین عرصہ کے لئے پابندی عائد کردی جاتی ہے اور اسلام کا ماننے والا ان پابندیوں کو اپنی دلی رغبت و مسرت کے ساتھ اپنے اوپر عائد کرلیتا ہے۔ یہ چیز جسم و روح دونوں کے لئے ایک مفید ورزش ہے‘‘۔

(انسائيکلو پيديا آف جيوز، ص۱۴۷)

علاوہ ازیں مختلف مذاہب میں روزہ رکھنے کے مکلف بھی مختلف طبقات ہیں۔ مثلاً پارسیوں کے ہاں صرف مذہبی پیشوا اور ہندوئوں میں برہمن روزہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح یونانیوں کے ہاں صرف عورتیں روزے رکھنے کی مکلف ہیں جبکہ ان کے اوقات روزہ میں بھی اختلاف اور افراط و تفریط پائی جاتی ہے لیکن اسلام کے پلیٹ فارم پر دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے عاقل، بالغ مسلمان مرد و عورت ہر ایک کے لئے ایک ہی وقت میں بلا تخصیص ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا:

فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ.

’’پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے ‘‘۔

(البقرة:۱۸۵)

مختلف موسموں میں آمدِ رمضان کی حکمت

دینِ فطرت کی فطرت شناسی پر داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے اس سلسلے میں کتنا عجیب فلسفہ و حکمت پیش نظر رکھتے ہوئے روزوں کو ماہ رمضان المبارک کے ساتھ مخصوص کردیا اور قمری مہینوں کے تغیر کے ساتھ انہیں بالترتیب سال کے ہر موسم میں بدل بدل کر لایا گیا کیونکہ موسم کی شدت بھی ہر موسم میں بدلتی رہتی ہے۔ اگر دوسرے مذاہب کی طرح اسلامی روزے بھی شمسی سال کے تابع ہوتے تو اس صورت میں رمضان کا موسم یا تو ہمیشہ گرم رہتا یا پھر ہمیشہ سرد، جس کی انسانی طبیعت کسی صورت میں بھی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ اب ہم اختصار سے اسلامی نظام تربیت میں روزے کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالتے ہیں تاکہ اس کے اہم ترین مقاصد اور اس میں کارفرما حکمتوں کا بھی سرسری تعارف ہوسکے۔

مقاصدِ صیام کا تعین

یہ بات محتاج بیان نہیں کہ روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی فرضیت، مقصدیت اور اس کے دیگر پہلوئوں کی حکمت کے باب میں بے شمار دلائل موجود ہیں، جنہیں بالترتیب یہاں درج کرنا ناممکن ہے۔ روزے کی مقصدیت کو واضح کرنے کے لئے قرآن حکیم کی یہ آیت قابل غور ہے جس میں فرمایا گیا:

یاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ.

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘۔

(البقرة:۱۸۳)

یہاں دوسری اہم باتوں کے علاوہ روزے کی مقصدیت بصراحت بیان کی گئی ہے کہ روزے کا مقصد افرادِ امت کے کردار و سیرت کو تقويٰ و پرہیزگاری کے دلنشیں اور باوقار رنگ میں رنگنا ہے۔

تقويٰ اور اس کا مفہوم

تقويٰ کو روزے کی سب سے بڑی حکمت کیوں قرار دیا۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ پہلے تقويٰ کا مفہوم سمجھ لیا جائے۔

تقويٰ عربی لفظ وقِيَ سے مشتق ہے۔ اس سے الوقایۃ مصدر کا معنی حفظ الشیء مما یوذیہ ویضرہ۔

’’کسی چیز کو مضر اور نقصان دہ چیزوں سے بچانا‘‘۔

بنا بریں تقويٰ کا مفہوم یہ ہوا کہ

جعل النفس فی وقاية مما يخاف.

’’تقويٰ سے مراد نفس کو ہر اس چیز سے بچانا ہے جس سے اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو‘‘۔

اور اصطلاح شریعت میں تقويٰ کی تعریف یوں کی جاتی ہے: حفظ النفس عما یوثم۔

’’نفس کو ہر اس چیز سے بچانا (تقوی ہے) جو گناہ کا موجب ہو‘‘۔

مگر یہ تو عوام الناس کا تقويٰ ہے۔ روزہ انسان کو بہت بلند معیار پر لے جانا چاہتا ہے۔ چنانچہ امام راغب یہاں اہل اللہ اور خواص کے ہاں تقويٰ کے معیار کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ويتم ذلک بترک بعض المباحات.

(مفردات امام راغب)

یعنی خواص کا تقويٰ تب کامل و اتم بنتا ہے جب وہ بعض مباحات سے بھی اجتناب کریں اور روزہ اسی معیار پر پہچاتا ہے۔

قابل غور نکتہ

تقويٰ کی اس سطح پر غور کریں جو عام طور پر صرف اہل اللہ کا معمول ہے تو ہمیں روزہ سے حاصل ہونے والے اس تقويٰ کے معیار کا اندازہ ہوجاتا ہے جو عام روزہ دار کو حاصل ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہ تقويٰ کے دیگر تقاضوں کو پورا کرے۔

تقويٰ کی اہمیت

تقويٰ کا حصول انسانیت کی معراج ہے اور یہی روزہ کی اصل غرض و غایت ہے، یہی دلوں کی پاکیزگی ہے۔ تقويٰ ہی دل کی ایسی نورانی کیفیت کا نام ہے جس کے بعد انسان خود بخود ہر قسم کی برائی سے بچتا اور ہر برائی سے دور رہنے لگتا ہے۔ یہی مومن کا وہ ہتھیار ہے جو اسے بری خواہشات، مہلک روحانی امراض اور جملہ شیطانی جذبات کے حملوں سے محفوظ و مامون رکھتا ہے۔ اسی سے انسان کے اندر تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن جیسے پاکیزہ جذبات پیدا ہوتے ہیں اور انسان ہر قسم کی نعمتوں سے مستفیض ہوتا ہے۔ تقويٰ کے ذریعے ہی انسان ناجائز اور غیر شرعی ممنوعات سے ہاتھ روکتا ہے۔ وہ کسی مسلمان بھائی کی دلآزاری، قتل و غارت اور دیگر معاشرتی برائیوں سے باز رہتا ہے۔

ضبطِ نفس اور اس کی حکمت

یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اگر انسان دن رات لذتوں اور راحتوں میں ہی منہمک رہے اور اسے جائز اور حلال اشیاء کے استعمال کی بے قید آزادی حاصل ہو تو انسان اس جادہ اعتدال سے ہٹ جاتا ہے جس پر اسلام اس کو دیکھنا پسند کرتا ہے۔

طبیعت کے بعض میلانات زندگی کے مقاصد کو تبدیل کردیتے ہیں۔ جولوگ شکم پروری، عیش کوشی اور لذت طلبی کو ہی اپنا مدعا حیات بناکر ان کے حصول کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیتے ہیں اور وہ انسانیت کے اعليٰ مقاصد سے بے خبر ہوجاتے ہیں، ان کا دل بے حس اور ذہن مادیت پرستانہ خیالات کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

اسلام نے انسان کو غفلت کے اس مہلک مرض سے بچائو کی خاطر رمضان المبارک کے روزوں کا اہتمام کیا تاکہ مسلمانوں کو بے حسی اور تن آسانی کی غیر دینی روش سے آگاہ ہونے کے مواقع ملتے رہیں۔

روزے کی حالت میں انسان ان طبعی مرغوب اشیاء سے بھی کنارہ کشی کرتا ہے جو اس کی طبیعت میں ازل سے راسخ ہیں۔ مثلاً کھانا پینا اور خواہشات نفسانی کی تکمیل وغیرہ لیکن دوسری جانب ان کے ترک کرنے پر رضائے الہی جیسے اعليٰ مقصد کے حصول کی قوت اسے ضبط نفس کی ترغیب دیتی ہے پھر وہ حرام تو درکنار حلال اور طیب چیزوں کے قریب بھی حالت روزہ میں نہیں پھٹکتا۔ علاوہ ازیں ہر سال ایک ماہ کے اس ضبط نفس کی لازمی تربیتی مشق (Refresher Course) کا اہتمام اس مقصد کے حصول کے لئے بھی ہے کہ انسان کے قلب و باطن میں سال کے باقی گیارہ مہینوں میں حرام و حلال کا فرق و امتیاز روا رکھنے کا جذبہ بھی پیدا ہو تاکہ اس کی باقی زندگی بھی انہی خطوط پر استوار ہوجائے اور دیگر معاملات حیات میں بھی اسے حکم خداوندی کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حرام چیزوں سے اجتناب کا داعیہ بیدار ہوجائے۔

وحدت دینی کا آفاقی مظاہرہ

ہر خطہ زمین پر بسنے والے مسلمان مرد و عورت پیرو جواں جب ایک ہی ماہ میں حکم خداوندی پر لبیک کہتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں تو ان کا یہ عمل پوری دنیا میں دینی وحدت کا بے مثال مظاہرہ ہوتا ہے۔ جس میں وہ ملی وحدت اور اسلام کی عالمگیریت کا آفاقی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ امریکہ میں رمضان المبارک ہو اور پاکستان کے کسی کونے میں بعد میں آئے۔ بلکہ پوری دنیا کے گلستان میں بیک وقت ایک ایسی روحانی بہار موجزن ہوتی ہے جس سے اسلام کے قلوب اور ان کی روحیں انوار الہی سے سرشار ہوکر بحر تقويٰ میں تیرتی نظر آتی ہیں۔ تراویح کے وقت رات کی خاموش فضائیں جب اسی ماہ مقدس میں اترنے والے قرآن کی تلاوت کی صدائوں سے معطر ہوتی ہیں تو کفر و ضلالت کی گھٹا ٹوپ تاریکیاں کافور ہوجاتی ہیں۔ اس وحدت و یگانگت سے انحراف برت کر روزہ نہ رکھنے والا اپنی قوم و ملک بلکہ گھر میں رہتے ہوئے بھی اجنبی معلوم ہوتا ہے۔