پاکستان میں تعلیمی کارکردگی

عین الحق بغدادی

پاکستان عوامی تحریک کا حقائق پر مبنی وائٹ پیپر جاری

اس امر میں کوئی دوسری رائے اور تجزیہ نہیں ہے کہ جن قوموں نے ترقی کے زینے طے کیے انہوں نے تعلیم کے فروغ کو اپنا مرکز و محور بنایا اور تعلیم کو فروغ دے کر دنیا کی ممتاز اقوام ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ہر کلمہ گو مسلمان بڑے فخر سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ کی طرف سے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل کی گئی وہ ’’اقراء‘‘ یعنی ’’پڑھو‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ لاتعداد مواقع پر اللہ رب العزت اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کی فضیلت،ضرورت ،اہمیت اور ناگزیریت کو اجاگر کیا۔ مختلف غزوات کے موقع پر جنگی قیدی بننے والے دشمنوں کو ناخواندہ مسلم افراد کو تعلیم دینے کے عوض رہا کیا گیا۔اسلام کی تعلیمات مساوات پر مبنی ہے، کسی کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے مگر قرآنی تعلیمات کے مطابق جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہیں۔عالم اور جاہل کا مقام ایک نہیں ہے۔ یہ علم کی فضیلت ہے جس کا برملا اعتراف قرآن و سنت اور قرون اولیٰ کی مسلم اسلامی تاریخ کے اوراق پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ عبارتیں بھی ہم کثرت سے پڑھتے ہیں کہ مسلمان جب تک علم اور تحقیق سے وابستہ تھے حاکم تھے اور جب انہوں نے علم اور تحقیق کے راستے کو ترک کیا تو وہ غربت ،جہالت ،خوف اور بے بسی کے تاریک غاروں میں مقید ہوکر رہ گئے۔مختصر یہ کہ مسلم ممالک نے اپنی قومی دولت تعیشات کے حصول کے منصوبوں پر خرچ کی اور عصر حاضر کی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے حصول کو نظر انداز کیا۔

اس تناظر میں پاکستانی حکومتوں کی کارکردگی بھی مایوس کن ہی نہیں بلکہ قابل مذمت رہی ہے۔ آج 21 ویں صدی کے اندر بھی کوئی ایک ایسا منصوبہ نہیں ہے جسے فخر کے ساتھ تعلیم کی ترقی کے فروغ کے حوالے سے پیش کیا جا سکے۔اس وقت 46 ارب ڈالر کے سی پیک منصوبوں میں تعلیمی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔موٹرویز، اورنج ٹرین اور میٹرو بسوں کے منصوبے جاری مگر تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ لاہور اورنج ٹرین کا ایک منصوبہ 265ارب روپے کے لگ بھگ بتایا جارہا ہے جبکہ اسی شہر لاہور کے اندر2 لاکھ90 ہزار بچے سکول ہی نہیں جاتے۔

پنجاب کا وزیراعلیٰ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سرکاری سکولوں کو نجی شعبہ کے اندر سکول چلانے والے گروپس اور مالکان کو دے رہا ہے۔تعلیم کے اندر لیپ ٹاپس، سولرلیمپس جیسے سیاسی کاسمیٹک منصوبے متعارف کروائے جاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد اخبارات میں بڑی بڑی سرخیاں لگوانا اور آئندہ انتخابی مہم کا میٹریل جمع کرنا ہوتا ہے۔ان منصوبوں کا شرح خواندگی میں حقیقی اضافہ، اساتذہ کے تعلیمی معیار اور ٹریننگ کو بہتر کرنا ہر گز نہیں ہوتا۔آج بھی چاروں صوبوں میں اگر دور دراز کے دیہاتی ایریاز کا سفر کیا جائے تو ہمیں بھینسیں اور بچے ایک ہی سکول میں اکٹھے نظر آئیں گے۔ بارہا تعلیمی پالیسیاں بھی آئیں،تعلیمی منصوبے بھی بنے مگر معیاری تعلیم اور شرح خواندگی کا گراف بہتر نہ ہو سکا۔

اقوام متحدہ کے تعلیم سے متعلق ادارے یونیسکو کی رپورٹ ریکارڈ پر ہے ۔45 سے 54 سال کی عمر تک کے افراد میں شرح خواندگی صرف 46فیصد ہے اور مختلف شعبہ جات میں روزگار کمانے والے اور مختلف اداروں میں کام کرنے والے 54 فیصد افراد ناخواندہ ہیں۔جس ملک کی 54 فیصدProductive پاپولیشن ناخواندہ ہو وہاں پر ترقی ،امن اور خوشحالی کا عمل کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟

اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی اور معیار تعلیم خطے میں سب سے کم ہے۔اگر ہم اعلیٰ تعلیم کے حصول کے اعداد و شمار جمع کریں تو کینیڈا کے 44 فیصد نوجوان کالج ایجوکیشن حاصل کرتے ہیں۔امریکا میں یہ شرح 38فیصد، ڈنمارک میں 32 فیصد،آسٹریلیا میں 31 فیصد، برطانیہ میں 28 فیصد، یونان میں 18 فیصد، پولینڈ میں 14 فیصد، اٹلی میں 11 فیصد اور ترکی میں 10 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بمشکل ایک فیصد لوگ گریجویشن کرتے ہیں۔

جب ہم تعلیمی شعبہ کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں بہت سارے فیکٹر کارفرما ہیں۔سب سے بڑا فیکٹر ایک ملک کے اندر درجنوں نظام تعلیم اور طریقہ تدریس سرفہرست ہے۔کہیں انگلش میڈیم ہے، کہیں اردو میڈیم ہے، کہیں پنجابی میڈیم ،علیٰ ھذاالقیاس علاقائی سطح پر علاقائی طریقہ تدریس کے تحت تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تفریق نے ہمیں ایک قوم نہیں بننے دیا۔

اس کے علاوہ ایک اور علمی انسٹیٹیوشن ہے جسے مدرسہ کہا جاتا ہے ۔ان مدرسوں کے اندر بچوں کو کیا پڑھایاجاتا ہے اور یہاں کے پڑھے ہوئے بچے عملی زندگی میں کس انداز کے ساتھ سوسائٹی کے سامنے آتے ہیں، اس پر یہاں بحث مقصود نہیں۔تاہم آج ہم جس اخلاقی ،سیاسی، معاشی اور امن و امان کے حوالے سے مسائل سے دو چار ہیں اس میں ان رنگ برنگے تعلیمی اداروں اور نصاب کا مرکزی کردار ہے۔

حقائق کیا ہیں؟

پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے 10 اکتوبر کو تعلیمی شعبہ کی کارکردگی کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے۔ وائٹ پیپر کو قومی انگریزی اخبار ڈان، ایکسپریس ٹربیون، نیشن، ڈیلی ٹائمز، پاکستان ٹو ڈے، نوائے وقت ،ایکسپریس،دنیا، پاکستان، جناح، آواز سمیت قومی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ اس وائٹ پیپر کے مطابق:

  • ملکی و غیر ملکی اداروں کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں معیاری تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے۔ تعلیم کے نام پر 541 ملین ڈالر کی عالمی امداد خوردبرد ہوئی۔یونیسکو کے گلوبل ایجوکیشن ڈائجسٹ 2010 کے مطابق پاکستان کو چین اور بھارت کے بعد541 ملین ڈالر کی سب سے بڑی عالمی تعلیمی امداد ملی مگر اس کے باوجود تعلیمی ترقی اور شرح خواندگی کے اشاریے بہتر نہ ہوسکے۔
  • صوبہ میں 9 سو سرکاری سکول، کالج مستقل سربراہوں سے محروم ہیں۔ 5 سو سے زائد سکولوں پر قبضے ہیں۔
  • صوبے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز 2015 ء کا ایک بھی ہدف حاصل نہ کر سکے۔ ان اہداف میں سکول جانے کی عمر کے بچوں کی 100 فیصد انرولمنٹ، اول تاپنجم جماعت کے طلبہ کی سو فیصد حاضری اور شرح خواندگی کا ہدف 88فیصد تک بڑھانا شامل تھا۔
  • جنوبی ایشیاء میں پاکستان تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے ۔ بھوٹان جی ڈی پی کا 4.9 فیصد، بھارت 3.9 فیصد، ایران 4.7 فیصد، مالدیپ 8فیصد، ترکی 6فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان جی ڈی پی کا 2فیصد خرچ کرتا ہے۔
  • یونیسکو کی ایجوکیشن فار آل گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ 2015ء کے مطابق 49 ملین بالغ افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ دنیا کے 6.30 فیصد ناخواندہ بچوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔
  • پرائمری سکولوں میں داخل ہونے والے 33فیصد بچے 5ویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے سکول چھوڑ جاتے ہیں۔
  • تعلیم و تربیت کے معیار (سٹینڈرڈ آف ایجوکیشن) کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا میں 123 ویں نمبر پر ہے۔
  • اقوام متحدہ کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2016 ء کے مطابق پاکستان کا سکینڈری ایجوکیشن سسٹم 60سال پرانا ہے۔
  • دیہات میں لڑکوں میں شرح خواندگی 64فیصد جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 14فیصد ہے۔
  • بعض ملکی و غیر ملکی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد 25 ملین ہے۔ تاہم مردم شماری نہ ہونے کے باعث ریاست کے پاس اپنے آؤٹ آف سکول بچوں کی حقیقی تعداد دستیاب نہیں۔
  • عالمی رینکنگ کے حوالے سے پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی دنیا کی بہترین 500 یونیورسٹیوں میں شامل نہیں جبکہ اس میں چین کی 24 اور ترکی کی 5 یونیورسٹیاں شامل ہیں۔
  • اگر ہمارے حکمران چین سے اورنج لائن، ترکی سے میٹرو منصوبے لانے کے ساتھ ساتھ ان دوست ممالک کے کامیاب تعلیمی ماڈل کو بھی فالو کریں تو تعلیمی معیار بڑھ سکتا ہے مگر چونکہ اس میں ان حکمرانوں کا کوئی مالی فائدہ نہیں لہذا اس طرف ان کی کوئی توجہ مبذول نہیں ہوتی۔
  • ادارہ شماریات پنجاب کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں صوبہ میں 75فیصد مسجد مکتب سکول بند ہوئے مگر آبادی میں اضافہ کے باوجود مزید نئے سکول قائم نہیں کیے گئے۔
  • وائٹ پیپر میں پنجاب میں سرکاری سکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کے پروگرام پر بھی کڑی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ اب تک 5 ہزار سرکاری سکولوں کی عملاً ’’نجکاری ‘‘ ہوچکی ہے۔

تجاویز

وائٹ پیپر میں تعلیمی شعبہ میں بہتری لانے کیلئے درج ذیل 14 تجاویز کو بھی وائٹ پیپر کاحصہ بنایا ہے:

  1. اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ تمام صوبے آئین کے آرٹیکل 25- صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کریں۔
  2. پرائیویٹ سکولوں کو ریگولیٹ کیا جائے، اساتذہ کی تربیت اور نصابی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔
  3. آؤٹ آف سکول بچوں کے حوالے سے مردم شماری کروائی جائے۔
  4. تعلیمی بجٹ GDP کے کم از کم 4فیصد تک لایا جائے۔
  5. سکولوں پر قبضے ختم اور تعلیمی اداروں میں مستقل سربراہ مقرر کیے جائیں۔
  6. تعلیم کے ترقیاتی بجٹ کے 100فیصد استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
  7. تمام سرکاری سکولوں کو بنیادی سہولتوں کی 100فیصد فراہمی یقینی بنائی جائے۔
  8. اساتذہ کے مطالبات پورے کیے جائیں تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ درس و تدریس کے فریضہ کو جاری رکھ سکیں۔
  9. مستقل وزرائے تعلیم کے تقرر کو یقینی بنایا جائے۔
  10. اساتذہ سے درس و تدریس کے علاوہ ہر قسم کی ڈیوٹی کو بذریعہ قانون ختم کیا جائے۔
  11. میلینیم ڈویلپمنٹ گولز کے حصول کو مقررہ مدت کے اندر یقینی بنانے کیلئے سپیشل ٹاسک فورس بنائی جائے۔
  12. ملک بھر میں سائنس ٹیچرز کی اسامیاں پر کی جائیں اور عالمی معیار کے مطابق ٹیچنگ میتھڈ اختیار کیا جائے۔ نصاب کو عصری تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔
  13. 5سال کیلئے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔
  14. تعلیم کے شعبہ کو کرپشن فری بنانے کیلئے زیروٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے علم کی اہمیت اور اس ضمن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن کی بنیاد علم اور تحقیق پر رکھی۔خود بھی دینی اور دنیاوی جدید علوم کے حصول میں زندگی وقف کی اور تحریک منہاج القرآن سے وابستہ ہونے والے رفقا سمیت ہر سطح کے ذمہ داران کو علم اور تحقیق کے راستے پر ڈالا۔ الحمدللہ شیخ الاسلام نے امت مسلمہ بالخصوص اسلامیان پاکستان کیلئے دینی و دنیاوی علوم کے جدید اداروں کی بنیاد رکھی جو نئی نسل کو جدید علم اور تربیت کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں۔ان میں ملک بھر میں پھیلے ہوئے منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے 600 سے زائد سکولز، کالجز اور ایک چارٹرڈ یونیورسٹی شامل ہے۔ پاکستان کے اندر اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والی کوئی ایک بھی ایسی تحریک نہیں ہے جس نے علم کے فروغ کیلئے اتنا کام کیا ہو۔تحریک منہاج القرآن کے تحت کام کرنے والے تعلیمی ادارے علم کے فروغ اور شرح خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اخلاقی و علمی اعتبار سے تربیت یافتہ نسل کو پروان چڑوانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔