نوجوانوں میں مطالعہ کا رجحان کم کیوں ہورہا ہے؟

سمیہ اسلام

تعارف

مطالعہ انسانی زندگی کی فکری اور ذہنی نشوونما کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں کیونکہ یہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے مطالعے کو اپنا شعار بنایا، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچیں۔ تاہم، موجودہ دور میں ایک تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں میں مطالعے کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ایک ایسی نسل سامنے آ سکتی ہے جو علم اور تحقیق سے دور ہو گی۔

جدید ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال

نوجوانوں میں مطالعے کے رجحان میں کمی کی سب سے بڑی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا بے جا استعمال ہے۔ آج کل موبائل فون، سوشل میڈیا، اور انٹرنیٹ نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسی ایپلیکیشنز نوجوانوں کا زیادہ تر وقت لے لیتی ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز فوری تفریح فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان کتاب پڑھنے کو وقت کا ضیاع سمجھنے لگتے ہیں۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا مختصر اور فوری معلومات فراہم کرتا ہے جس سے نوجوانوں کی طویل اور گہری تحریریں پڑھنے کی عادت کمزور ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً ان کی توجہ کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے اور وہ کتابوں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔

تعلیمی نظام کی خامیاں

ہمارے تعلیمی نظام میں بھی مطالعے کے رجحان میں کمی کی ایک بڑی وجہ موجود ہے۔ اکثر تعلیمی اداروں میں طلبہ کو صرف نصابی کتب تک محدود رکھا جاتا ہے۔ انہیں اضافی کتابیں پڑھنے کی ترغیب نہیں دی جاتی۔ امتحان پاس کرنا ہی اصل مقصد بن جاتا ہے، جبکہ علم حاصل کرنے کی اصل روح نظر انداز ہو جاتی ہے۔

اساتذہ بھی زیادہ تر نصاب مکمل کرنے پر توجہ دیتے ہیں اور طلبہ میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جاتے۔ اگر طلبہ کو شروع سے ہی کتابوں سے محبت سکھائی جائے تو وہ زندگی بھر مطالعے کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

والدین کی عدم توجہ

والدین کا کردار بچوں کی تربیت میں نہایت اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین خود مطالعے کا شوق رکھتے ہوں تو بچے بھی ان کی تقلید کرتے ہیں۔ لیکن آج کل زیادہ تر والدین خود بھی موبائل اور ٹی وی میں مصروف رہتے ہیں اور بچوں کو مطالعے کی طرف راغب نہیں کرتے۔

بچوں کو کتابیں خرید کر دینا، ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا، اور انہیں کہانیاں سنانا مطالعے کی عادت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کل یہ روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

لائبریریوں کی کمی اور غیر فعال ہونا

مطالعے کے فروغ کے لیے لائبریریوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں لائبریریوں کی تعداد کم ہے اور جو موجود ہیں وہ بھی اکثر غیر فعال ہیں۔ جدید سہولیات کی کمی، نئی کتابوں کی عدم دستیابی، اور مناسب ماحول نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان لائبریریوں کا رخ نہیں کرتے۔

اگر لائبریریوں کو جدید بنایا جائے اور وہاں نوجوانوں کے لیے دلچسپ اور معلوماتی کتابیں فراہم کی جائیں تو مطالعے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

تفریح کے دیگر ذرائع کی دستیابی

آج کل نوجوانوں کے پاس تفریح کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، جیسے ویڈیو گیمز، فلمیں، اور سوشل میڈیا۔ یہ تمام چیزیں فوری تفریح فراہم کرتی ہیں جبکہ مطالعہ ایک سنجیدہ اور صبر آزما عمل ہے۔ نوجوان آسان اور فوری تفریح کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مطالعہ نہ کرنے کے نقصانات

مطالعے کی عادت نہ ہونے کے کئی نقصانات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ ذہنی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔ مطالعہ انسان کی سوچنے، تجزیہ کرنے، اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ مطالعہ زبان کی مہارت کو بہتر بناتا ہے اور الفاظ کا ذخیرہ بڑھاتا ہے۔

جو نوجوان مطالعہ نہیں کرتے وہ اکثر اپنی بات مؤثر طریقے سے بیان کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مطالعہ نہ کرنے سے تخلیقی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

مطالعے کے رجحان کو بڑھانے کے طریقے

نوجوانوں میں مطالعے کے رجحان کو بڑھانے کے لیے چند اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

1۔ والدین کا کردار

والدین بچوں کی شخصیت سازی اور عادات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے عموماً اپنے والدین کی تقلید کرتے ہیں، اس لیے اگر والدین خود مطالعہ کریں گے تو بچے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ گھر کا ماحول بچوں کی ذہنی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتا ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ گھر میں مطالعے کا مثبت اور سازگار ماحول فراہم کریں۔

والدین بچوں کو مختلف موضوعات پر دلچسپ اور عمر کے مطابق کتابیں تحفے میں دیں۔ جب بچوں کو کتابیں بطور تحفہ ملتی ہیں تو ان کے دل میں کتابوں کی اہمیت بڑھتی ہے اور وہ انہیں دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر مطالعہ کریں یا انہیں کہانیاں سنائیں، اس سے بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور ان کا کتابوں سے جذباتی تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

مزید برآں، والدین کو بچوں کے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر مناسب حد تک نظر رکھنی چاہیے اور ان کے لیے روزانہ ایک مخصوص وقت مطالعے کے لیے مقرر کرنا چاہیے۔ اگر والدین بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی پڑھنے کی عادت کو سراہیں تو بچے زیادہ اعتماد کے ساتھ مطالعہ جاری رکھتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے ان کی پڑھی ہوئی کتابوں کے بارے میں بات کریں اور ان سے سوالات کریں۔ اس عمل سے نہ صرف بچوں کی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کی دلچسپی بھی برقرار رہتی ہے۔ اس طرح والدین اپنی رہنمائی اور توجہ کے ذریعے بچوں میں مطالعے کی مضبوط اور دیرپا عادت پیدا کر سکتے ہیں۔

2۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری

تعلیمی ادارے نوجوانوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ طلبہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں گزارتے ہیں۔ اساتذہ اور تعلیمی ماحول طلبہ کی سوچ اور عادات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر تعلیمی ادارے مطالعے کو صرف نصابی کتب تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک دلچسپ اور بامقصد سرگرمی کے طور پر پیش کریں تو طلبہ میں مطالعے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔

تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی لائبریریوں کو فعال اور جدید بنائیں۔ لائبریری میں مختلف موضوعات پر نئی، معلوماتی اور دلچسپ کتابیں موجود ہونی چاہئیں تاکہ طلبہ اپنی دلچسپی کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کو باقاعدگی سے لائبریری جانے کی ترغیب دی جائے اور ان کے لیے مخصوص لائبریری پیریڈ مقرر کیا جائے تاکہ وہ مطالعے کے لیے وقت نکال سکیں۔

اساتذہ کا کردار بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو نصابی کتب کے علاوہ اضافی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور انہیں مختلف کہانیوں، سوانح عمریوں، اور معلوماتی کتابوں سے متعارف کروائیں۔ اساتذہ کلاس میں کتابوں کے بارے میں گفتگو کریں اور طلبہ سے ان کی پڑھی ہوئی کتابوں پر رائے طلب کریں۔ اس عمل سے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور مطالعے کی دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔

تعلیمی ادارے مطالعے کے مقابلے، بک کلب، اور کتابوں کی نمائش جیسی سرگرمیوں کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ میں مثبت مقابلے کا رجحان پیدا کرتی ہیں اور وہ شوق سے مطالعہ کرتے ہیں۔ اگر تعلیمی ادارے مطالعے کو تعلیمی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بنا دیں تو طلبہ میں مطالعے کی عادت مضبوط ہو سکتی ہے۔

تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو یہ احساس دلائیں کہ مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح تعلیمی ادارے نوجوانوں کی ذہنی اور فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

3۔ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال

موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور نوجوان اس سے بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال نے مطالعے کے رجحان کو کم کیا ہے، لیکن اگر اسے مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ مطالعے کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی نوجوانوں کو علم تک آسان، فوری اور دلچسپ رسائی فراہم کرتی ہے، جس سے وہ مطالعے کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل کتابیں (E-books) مطالعے کو آسان اور قابلِ رسائی بناتی ہیں۔ نوجوان اپنے موبائل فون، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر کے ذریعے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ کتابوں تک رسائی بھی آسان ہو جاتی ہے۔ بہت سی ویب سائٹس اور ایپس مفت میں ہزاروں کتابیں فراہم کرتی ہیں، جو نوجوانوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی دلچسپی کے مطابق مطالعہ کریں۔

اس کے علاوہ مختلف تعلیمی ایپس نوجوانوں کو دلچسپ اور جدید انداز میں سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایپس کہانیوں، تصاویر، اور آڈیو کے ذریعے علم کو آسان اور پرکشش بناتی ہیں۔ اس طرح نوجوان بور ہونے کے بجائے دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔ آڈیو بکس بھی ایک مؤثر ذریعہ ہیں، جن کے ذریعے نوجوان سنتے ہوئے علم حاصل کر سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ نوجوانوں کو مختلف مضامین، تحقیق، اور معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اگر نوجوانوں کی درست رہنمائی کی جائے تو وہ انٹرنیٹ کو علم حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو مفید ویب سائٹس اور تعلیمی پلیٹ فارمز کے بارے میں آگاہ کریں۔

یہ کہنا درست ہو گا کہ ٹیکنالوجی بذات خود کوئی منفی چیز نہیں، بلکہ اس کا استعمال اہم ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو مثبت اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ نوجوانوں میں مطالعے کے رجحان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور انہیں علم کے قریب لا سکتی ہے۔

4۔ مطالعے کا ماحول فراہم کرنا

نوجوانوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کے لیے ایک سازگار اور مثبت ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ گھر اور اسکول وہ بنیادی جگہیں ہیں جہاں بچے اپنی عادات اور رویے سیکھتے ہیں۔ اگر ان مقامات پر مطالعے کو ایک اہم اور خوشگوار سرگرمی کے طور پر پیش کیا جائے تو بچے خود بخود اس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

گھر میں والدین کو چاہیے کہ وہ ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں کتابوں کو اہمیت دی جائے۔ بچوں کے لیے ایک مخصوص جگہ مقرر کی جائے جہاں وہ سکون سے بیٹھ کر مطالعہ کر سکیں۔ اس جگہ پر شور شرابہ نہ ہو اور تمام ضروری سہولیات موجود ہوں۔ اگر گھر میں کتابیں آسانی سے دستیاب ہوں اور والدین خود بھی مطالعہ کریں تو بچے اس سے متاثر ہوتے ہیں اور مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

اسی طرح اسکول میں بھی مطالعے کے لیے مثبت ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسکول کی لائبریری کو فعال بنایا جائے اور طلبہ کو وہاں وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو مطالعے کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں مختلف کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں۔ اگر اسکول میں مطالعے کو ایک دلچسپ اور اہم سرگرمی کے طور پر فروغ دیا جائے تو طلبہ اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

مطالعے کے حوالے سے مثبت رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کو زبردستی مطالعہ کروانے کے بجائے انہیں اس کی اہمیت اور فوائد سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنی دلچسپی سے مطالعہ کریں۔ اس طرح ایک سازگار ماحول نوجوانوں میں مطالعے کی مضبوط عادت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مطالعہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ انسان کی ذہنی، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اور اگر وہ مطالعے سے دور ہو جائیں تو نہ صرف ان کی ذاتی ترقی متاثر ہوتی ہے بلکہ پوری قوم کی ترقی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان مطالعے سے دور ہوں، وہاں علم، تحقیق اور شعور کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

نوجوانوں میں مطالعے کے رجحان میں کمی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں جدید ٹیکنالوجی کا منفی استعمال، تعلیمی نظام کی خامیاں، والدین کی عدم توجہ، اور مطالعے کے مناسب ماحول کی کمی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل نوجوانوں کو کتابوں سے دور کر رہے ہیں اور انہیں وقتی اور غیر تعمیری سرگرمیوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ والدین بچوں کی حوصلہ افزائی کریں، تعلیمی ادارے مطالعے کو فروغ دیں، اور ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر اور اسکول میں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں مطالعہ ایک مثبت، دلچسپ اور مفید سرگرمی سمجھی جائے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہو گا کہ مطالعہ کامیابی کی کنجی ہے۔ اگر نوجوان مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو وہ نہ صرف خود ایک کامیاب انسان بن سکتے ہیں بلکہ ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک باشعور قوم ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

مطالعہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اور اگر وہ مطالعے سے دور ہو جائیں تو قوم کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات، تعلیمی نظام کی خامیاں، اور والدین کی عدم توجہ اس مسئلے کی بڑی وجوہات ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ، اور معاشرہ مل کر نوجوانوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دیں۔ اگر نوجوانوں کو مطالعے کی طرف راغب کیا جائے تو وہ نہ صرف خود کامیاب ہوں گے بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ’’کتاب ایک ایسا دوست ہے جو انسان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ علم کی روشنی فراہم کرتا ہے۔ ‘‘