عصرِ حاضر کا غمزدہ انسان، انسانِ کامل کے حضور

ڈاکٹر نعیم انور نعمانی

ارشاد باری تعالی ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ ﷲِ.

(النساء، 4: 64)

’’ اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا ہے مگر خدا کے حکم سے اس کی پیروی کی جائے۔ ‘‘

اس آیہ کریمہ نے نبوت ورسالت کے مقصد و منتہا کو بیان کردیا ہے۔ باری تعالیٰ نے ہر نبی و رسول کو اپنے اپنےزمانے میں اس لیے بھیجا تاکہ ان کی اطاعت کے ذریعے لوگوں کو رشد ہدایت میسر آئے۔ ان کی فرمانبرداری کے ذریعے لوگوں کو اللہ کی بندگی کی نعمت ملے، ان کی سیرت کی پیروی کے ذریعے لوگوں کو دنیوی اور اخروی حیات کی فوزو فلاح اور کامیابی و نجات ملے اطاعت انبیاء و رسل برائے حصول ہدایت ہے اور اخذ ہدایت برائے نجات حیات ہے۔ تقاضا اطاعت کسی بھی انسان سے اس وقت کیا جاتا ہے۔ جب وہ کسی برگزیدہ ہستی پر ایمان لے آتا ہے اور اس ہستی میں علامات و صفات نبوت کا مشاہدہ کرلیتا ہے، اس کا دل اس عظیم ہستی کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتا ہے اور زبان، اقرار کا اعلان کرتی ہے۔

اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ.

ایمان کا مقصد اطاعت ہے

ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت کے اس اعلان کے ساتھ ہی اس بندہ مومن کے لیے یہ حکم نازل ہوتا ہے اور یہ آیت اس بندہ مومن سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللهَ وَرَسُوْلَـہٗ.

(الانفال،8: 20)

’’ اے اہل ایمان! تم اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرو۔ ‘‘

ہر ایک قوم ہر ایک قبیلے کے لیے ایک وقت میں ایک ہی شخص ہدایت کے لیے ان کو پابند کیا گیا جبکہ جملہ قوموں، قبیلوں اور خاندانوں اور دنیا بھر کے تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لیے ایک ہی نبوت ورسالت کا انتخاب کیا گیا ہے جس کے لیے کائنات نبوت و رسالت میں سے جس ذات کا انتخاب کیا گیا وہ ذات محمد مصطفی ﷺ کی ہے۔ جن کو سیدالمرسلین، خاتم النبین اور امام الانبیاء بنایا گیا۔

رسالت محمدی ﷺ کی عمومیت و آفاقیت

جنہوں نے تمام زمانوں اور تمام انسانوں کے لیے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان یوں کیا:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ ﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا.

(الاعراف،7: 158)

’’ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول (بن کر آیا) ہوں۔ ‘‘

اسی مضمون کو سورہ سبا میں باری تعالیٰ نے آپ کی رسالت کو رسالت الی کافۃ الناس قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّـلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْراً.

(سبا، 34: 28)

’’ اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لیے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں۔ ‘‘

حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی بعثت کو ہر زمان و مکان کے لیے اور تمام خلق خدا کے لیے قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

کان کل نبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی کل احمر واسود.

(صحیح مسلم، کتاب المساجد، 1: 199)

’’ہر نبی اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا اور میں ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ ‘‘

اور صحیح مسلم میں ہی دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

وراسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون.

(صحیح مسلم، کتاب المساجد، 1: 199)

’’اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیاء کا سلسلہ آمد ختم ہوگیا ہے۔ ‘‘

آپ کی نبوت و رالت کو باری تعالیٰ نے تمام انبیاء رسل کی نبوت و رسالت سے اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے ممتاز اور منفرد بنایا ہے اور اسے کسی خاص قوم، قبیلے اور زمانے تک محدود نہیں رہنے دیا۔ کل اقوام، کل قبائل اور کل زمانوں کے لیے آپ کی نبوت و رسالت کو دوام بخشا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز بھی عطا کیا ہے۔ اس رسالت کو تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت بھی قرار دیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ.

(الانبیاء، 21: 107)

’’ اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔ ‘‘

اب باری تعالیٰ نے آپ کی ذات پر ایمان لانے والوں کو بطور خاص اور تمام انسانوں کو بالعموم پکارا اور مخاطب کیا کہ اگر تم آپ کی ذات اقدس سے ہدایت کی نعمت پانا چاہتے ہو اور آپ کی شان رحمۃ للعالمینی کا فیض چاہتے ہو اور اللہ کی رحمت کے مستحق بننا چاہتے ہو تو آپ کی اطاعت و اتباع کو اختیار کرلو۔

اطاعت و اتباع سے ہدایت اور رحمت ملتی ہے

ارشاد فرمایا:

وَ اَطِیْعُوا اللهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ.

(آل عمران، 3: 132)

’’ اور اللہ کی اور رسول ( ﷺ ) کی فرمانبرداری کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘

اطاعت کا لازمی نتیجہ ہدایت ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا خاصہ ہدایت الہٰیہ سے مستنیر ہونا ہے۔ اس لیے باری تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا صلہ اور اجر دینے کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا.

(النور، 24: 54)

اس طرح رسول کی اتباع و پیروی کرنے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے اور ہر روز دعائے ہدایت اھدنا الصراط المستقیم کرنے والوں کو اتباع رسول ﷺ کا یوں حکم دیا:

وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ.

(الاعراف، 7: 158)

’’اور اس رسول کی اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔ ‘‘

قرآن نے اطاعت رسول ﷺ اور اتباع رسول ﷺ اسوہ رسول اور سیرت رسول ﷺ اور سنن و فرائض رسول اور احکام و فرمودات رسول اور رشد و ہدایت رسول ﷺ کی شرعی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ.

(النساء، 4: 80)

’’ جس نے رسول ( ﷺ ) کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے قرآن کو احسن الحدیث اور احسن الکلام قرار دیاہے اور اپنی حدیث و سنت اور اسوہ و سیرت کو احسن الھدی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

فان احسن الحدیث کتاب اللہ واحسن الھدی ھدی محمد ﷺ

(صحیح بخار، کتاب الاعتصام، 2: 1080)

’’بے شک سب سے بہتر کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر راستہ محمد ﷺ کا راستہ ہے۔ ‘‘

عصر حاضر کے انسان کے مسائل

ان تمام حقائق و تعلیمات اسلام کو جاننے کے بعد عصر حاضر کا ایک افسردہ انسان ایک پریشان حال انسان، ایک دکھی و غمزدہ انسان، انسانیت و شرافت و صداقت و عدالت، مساوات و برداشت کا طالب انسان، در رسول پر سوالی بن کر حاضر ہوتا ہے اور مجسم پیکر دعا بن کر اپنے منظوم کلمات بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں یوں پیش کرتا ہے:

فسادات کا آج محور ہے انسان
تضادات کا سخت پتھر ہے انسان

روایات کا زرد منظر ہے انسان
ضمیر آدمیت کا ہے پارہ پارہ

(ریاض حسین چودھری، سلام علیک، نوریہ رضویہ پبلی کیشنز، ص 81)

آج کے انسان کے لیے شرف علوت کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ آج کا انسان خود کو کس طرح فسادات و تضادات سے بچاسکتا ہے۔ آج کا انسان کیسے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ سکتا ہے اور آج کا انسان کیسے اسلام کی عظمت رفتہ کی روایات اور اسلام کی عطا کردہ اعلیٰ انسانی روایات اور معیارات کو کس طرح بحال کرسکتا ہے۔ آج کا انسان بھی اپنے ایمان بالرسالت کا اقراری ہے اور آج کا انسان بھی اپنے مومن ہونے کا دعویدار ہے۔ اس لیے پریشان حال ہے۔

کیا ایمان ایک رسمی اعلان ہے

اور سوچتا ہے کیا ایمان رسمی اعلان کا نام ہے۔ کیا آج کا ایمان ایک مسلمان کو بدل نہیں سکتا۔ کیا آج کا ایمان ایک مسلمان کے کردار کو اقوام عالم کے لیے ایک مثال اور ایک نمونہ نہیں بناسکتا۔ اگر معاذ اللہ ایمان میں یہ تاثیر نہیں تو میرا آج ایمان لانا کیا حیثیت رکھتا ہے۔ کیا آج میرے ایمان کی حقیقت ایک رسمی، ایمان اور اعلان کی ہے۔ اگر آج میرا ایمان حقیقی ہے تو ایمان کے لانے کے نتائج و ثمرات اور تغیرات و اثرات کہاں ہیں اور کردار مسلم کی رفعت اور بلندی کہاں ہے، اس کردار مسلم کو اپنے اسلاف اور اپنے اباء کے کردار سے نسبت و تعلق کیوں نہیں۔ آج اس ایمان میں حرارت و بلندی کیوں نہیں۔ آج کا ایمان اپنے حاصل اور عامل کو صاحب کردار کیوں نہیں بنارہا۔

رسول اللہ ﷺ اپنی بارگاہ میں یہ سوال لے کر حاضر ہونے والے اور امت مسلمہ کے احوال شکستہ کا شکوہ کرنے والے کو اپنی بارگاہ سے آج بھی یہ جواب عنایت کررہے ہیں کہ جب تک تمہارا ایمان ہر دور میں اور بالخصوص تمہارے آ ج کے دور میں بھی دو صفات سے آراستہ نہ ہوجائے تو اس وقت تک یہ ایمان اپنے ثمرات اور اثرات نہیں دے سکتا۔ جب تک اس ایمان کو میری ذات کی محبت و مودت سے اور میری لائی ہوئی شریعت کی محبت و اطاعت اور اتباع و پیروی سے آراستہ نہ کردو تو تب تک تمہارا ایمان موثر حیات اور موثر کردار نہیں ہوسکتا۔

ایمان کی موثریت کے لیے ضابطے

اس لیے ارشاد فرمایا:

لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین.

(صحیح بخاری، کتاب الایمان)

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک صاحب ایمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک میری ذات اس کے نزدیک اس کے والدین اس کی اولاد اور دنیا کے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔ ‘‘

اس حدیث مبارکہ میں من ولدہ، من والدہ اور من الناس اجمعین کا ذکر کیا ہے اور دوسری حدیث مبارکہ میں من نفسہ کا بھی ذکرکیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے:

لن یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من نفسہ.

(صحیح بخاری، کتاب الایمان)

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ہرگز صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک میری ذات اس کے نزدیک اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔ ‘‘

اب ان دونوں احادیث مبارکہ میں یہ الفاظ قابل توجہ ہیں۔ لا یومن احدکم اور لن یومن احدکم۔ ارشاد فرمارہے ہیں۔ تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہوسکتا۔ تم میں سے کوئی بھی ہرگز مومن نہیں ہوسکتا۔ آگے دونوں احادیث میں یہ الفاظ آئے ہیں۔

حتی اکون احب الیہ، حتی اکون احب الیہ.

یہاں تک کہ میں اس کا محبوب نہ ہوجاؤں، میں اس کی سب سے زیادہ پسندیدہ ذات اور شخصیت نہ بن جاؤں۔ میری ذات کی محبت اس کی ہر محبت سے فائق ہوجائے، میری محبت اس کے دل میں اس کے والدین کی محبت، اس کی اولاد کی محبت، حتی کہ تمام دوستوں اور تمام لوگوں کی محبت سے زیادہ ہوجائے۔

ایمان بالرسالت، رسول اللہ ﷺ کو محبوب بنانے کا نام ہے

اب ایک محبت رہ گئی تھی خدشہ تھاکہ انسان شاید اس محبت کو رسول اللہ ﷺ کی محبت پر قربان نہ کرے۔ اس لیے حضرت عمر فاروقؓ نے کہا۔ میرے ایمان کی حالت یہ ہے کہ آپ کی محبت کو اپنے والدین، اپنی اولاد اور تمام دوستوں اور تمام لوگوں کی محبت سے زیادہ جانتا ہوں اور اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں مگر جب اپنی جان کی محبت کا معاملہ آتا ہے تو اس کو آپ کی محبت سے زیادہ چاہتا ہوں۔ فرمایا اے عمر تمہارا ایمان ابھی مکمل نہیں ہے، کمال ایمان یہ ہے کہ میری ذات کی محبت تیری اپنی جان کی محبت سے بھی زیادہ ہوجائے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا: ادھر حضرت عمر فاروقؓ کی حالت قلب بدلی اور اعلان کرنے لگے۔

یارسول اللہ ﷺ اب حالت قلب یہ ہے کہ آپ کی محبت اپنی جان کی محبت سے بھی زیادہ عزیز ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: الان یاعمر اے عمر اب تمہارا ایمان مکمل ہوا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کی محبت، اپنے والدین، اپنی اولاد اور تمام لوگوں کی محبت، خود انسان کی اپنی جان سے زیادہ محبت کا ایمان قرار دیا ہے اور اپنی محبت کی محبت کو ہر چیز اورہر رشتے سے زیادہ کرنے کا مقصود یہ تھاکہ آپ کی ذات کی محبت انسان کو آپ کے لائے ہوئے دین کی محبت اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی محبت اور آپ کو عطا کی گئی بے مثال سیرت کی طرف منتقل کردے اور آپ کی ذات کی محبت، آپکی شریعت کی محبت میں ڈھل جائے اور آپ کی ذات کی محبت آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کا ذریعہ اور سبب بن جائے۔ اس لیے انسانی نفسیات ہر دور میں یہی شہادت و گواہی دیتی ہیں جس کی ذات سے محبت ہوتی ہے۔ اس کی سیرت کو اختیار کیا جاتا ہے جس کی شخصیت پسندیدہ ہوتی ہے۔ اسی کے خلق کو اپنی شخصیت کا خلق بنایاجاتا ہے۔ ہر اطاعت و اتباع اور پیروی و تابعداری اس کی ہی کی جاتی ہے جو جان و دل میں بستا ہو۔

ایمان خواہشات نفس کو تابع شریعت کرنا ہے

اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا یومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ.

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی تمام خواہشات کو میری تعلیم کے تابع نہ کردے۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

انسان کامل کے حضور جب آج کا افسردہ انسان اپنے زمانے کے مسائل لے کر حاضر ہوتا ہے تو اسے سب سے بڑا سبق حیات، سب سے بڑی نصیحت اور سب سے بڑی رشد و ہدایت یہ دی جاتی ہے، اپنی ہوائے نفس کو شریعت اسلامی اور دین اسلام کی تعلیمات کے موافق اور مطابق بنالے۔ اس کی زندگی کے تمام مسائل کا حل اطاعت و اتباع رسول میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت آج بھی موجود ہے۔ مگر انسان کا عمل ان تعلیمات رسول اور اس ہدایت رسول سے دور ہی دور اور بعید ہی بعید ہے۔ یہی آج کے دور کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ایک طرف مسئلہ ہوائے نفس کا ہے اور دوسری طرف مسئلہ اطاعت و اتباع رسول اور سیرت و اسوہ رسول ﷺ کا ہے۔ نفس صرف اور صرف دنیا چاہتا ہے، سیرت و اطاعت دنیا اور آخرت دونوں کو چاہتی ہے، ہوائے نفس کی کامل پیروی میں سیرت و اطاعت رسول رکاوٹ ہے۔ نفس اپنی خواہش پر دین داری کا رنگ چڑھاتا ہے۔ نفس اپنی خواہش کو اسلامی خواہش کا ادب دیتا ہے۔

انسان کے برے اعمال خوشنما بنا دیئے جانا

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ.

(آل عمران، 3: 14)

’’لوگوں کے لیے ان کی خواہشات کی محبت خوب آراستہ کردی گئی ہے۔ ‘‘

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ.

(التوبۃ، 9: 37)

’’ان کے لیے ان کے برے اعمال خوشنما بنادیئے ہیں۔ ‘‘

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَـہٗ سُوْٓ ءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا.

(فاطر، 35: 8)

’’بھلا جِس شخص کے لیے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا ہو اور وہ اسے (حقیقتاً) اچھا سمجھنے لگے (کیا وہ مومنِ صالح جیسا ہو سکتا ہے)۔ ‘‘

اس کا نتیجہ قرآن بیان کرتا ہے:

وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ.

(الرعد، 13: 33)

’’اور وہ سیدھی راہ سے روک دیئے گئے۔ ‘‘

وَصُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ.

(غافر، 40: 37)

’’اور وہ اللہ کی راہ سے روک دیا گیا۔ ‘‘

آج کے افسردہ انسان کے سامنے تمام خلاف اسلام اور مخالف دین اور شریعت اسلامی کے منافی تمام کام اور تمام اعمال شیطان اور شیطانی قوتوں نے ہمارے ذہن و دل میں اچھے اور عمدہ کرکے پیش کردیئے ہیں۔ ساری دنیا ان کو خلاف اسلام سمجھتی ہے مگر اعمال سئیہ کا ارتکاب کرنے والا ان کو اعمال حسنہ جانتا ہے۔ وہ اپنے کسی عمل کو کبھی کوئی عنوان اسلام دیتا ہے، کبھی اپنے عمل کو کوئی اور نام اسلام دیتا ہے، کبھی اپنے برے اعمال کو عین شریعت سمجھتا ہے اور کبھی اپنے عمل سوء کو عین اسلام گردانتا ہے، وہ ساری امت کے خلاف اور اجماع امت کے مخالف اپنی ہی ہوائے نفس کے فتویٰ کو حجت سمجھتا ہے۔

ہوائے نفس اور نسل پرستی

اس لیے آج کے افسردہ انسان کی ہوائے نفس کہتی ہے نسل پرستی، لسانی شناخت، علاقائی برتری، رنگ و قبیلہ کی فضیلت کو اپنے سیاسی مفادات کے تحت ترجیح دو۔ اس کا خود ساختہ شرعی جواز اپنے ذہن میں قائم کرلیتا ہے مگر دوسری طرف شریعت اسلامی اور سیرت محمدی ﷺ کے ان احکامات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ.

(الحجرات، 49: 13)

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو۔ ‘‘

اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے اس سبق کو بھی بھول جاتا ہے:

الناس سواسیۃ کاسنان المشط الواحد لافضل لعربی علی عجمی الاالتقویٰ.

(السیوطی، جلال الدین، امام مناہل الصفا، 11) (الدولابی، الاسماء الکنی، 1: 168)

’’لوگ ایک کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر ہیں کسی عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل نہیں۔ ہاں صرف اور صرف تقویٰ کی بدولت‘‘۔

اور اسی نسل پرستی اور لسانی و علاقائی شناخت اور جاہلیت پرستی کے بتوں کو اس ارشاد کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد بھی پاش پاش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ارشاد فرمایا:

ان اللہ قد اذہب عنکم عبیۃ الجاہلیۃ وتعاظمھا بابائھا.

(ترمذی، محمد بن عیسیٰ، الجامع ترمذی، کتاب تفسیر، حدیث 3270)

’’اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخرو غرور دور کردیا ہے۔ ‘‘

ہوائے نفس اور دولت پرستی

ہوائے نفس کہتی ہے کہ وہ دولت کو اپنے دامن میں سمیٹتا چلا جائے۔ اپنے بنک و بیلنس میں اضافہ کرتا جائے۔ قوم و ملک کو جی بھر کے ٹیکنیکل انداز و طریقے سے لوٹ لے، کرپشن و بدعنوانی جی بھر کر کرے مگر اس کا ایک بھی نشان نہ چھوڑے۔ اس کی کرپشن کو پکڑنے والے خود پکڑے جائیں مگر اس کی کرپشن نہ پکڑ سکیں مگر وہ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی شریعت اور سیرت کو بھول جاتا ہے کہ دولت کو معاشرے کے ہر فرد تک زندہ رہنے کے لیے پہنچاؤ اور ہرکسی کو روزگار دو اور دولت کی گردش صرف امیروں تک محدود نہ رہنے دو۔ ارشاد فرمایا:

کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْ.

(الحشر، 59: 7)

’’تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں سب مال ان ہی میں نہ پھرتا رہے کہ انہیں کے تصرف میں رہ جائے اور غریب محروم رہ جائیں۔ ‘‘

ہوائے نفس اور ہوس پرستی

آج کے افسردہ انسان کی ہوائے نفس کہتی ہے اپنی بھوک مٹاؤ، اپنی بھوک مٹانے کے لیے ہر جائز و ناجائز عمل کرو جو ضرورت سے زائد ہے وہ بھی روک رکھو۔ خرچ نہ کرو اپنے لیے مال زیادہ سے زیادہ جمع کرو۔ ذخیرہ اندوزی کرو، غریبوں اور محتاجوں کو نہ دو، بھوکوں کو کھانا نہ کھلاؤ، یتیموں، مساکینوں اور فقیروں کا مال بھی ہڑپ کرجاؤ جبکہ دوسری طرف شریعت اسلامی اور سیرت محمدی ﷺ یہ کہتی ہے:

وَّاٰتُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ ﷲِ الَّذِیْ اٰتٰـکُمْ.

(النور،24: 33)

’’اور جو مال اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے تم ان کو دے دو۔ ‘‘

اطعموا الجائع.

(صحیح بخاری، کتاب الاطعمۃ، حدیث 5058)

’بھوکے (بھوکوں) کو کھانا کھلاؤ،‘‘

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

من کان عندہ فضل ظہر فلیعد بہ علی من لاظہر لہ ومن کان عندہ فضل زاد فلیعد بہ علی من لا زاد لہ.

(سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ باب حقوق المال)

’’جس کے پاس کوئی زائد سواری ہے تو وہ اسے دے جس کے پاس واری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہے وہ اسے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔ ‘‘

ھوائے نفس اور نفس پرستی

آج کے افسردہ انسان کی ہوائے نفس کہتی ہے اپنے ہی سارے حقوق پورے کیے جائیں، دوسروں کو حقوق کا شعور بھی نہ دیا جائے۔ آج تمام سہولیات کا مرکز و محور اپنی ذات کو بنایا جائے۔ آج کی تمام بنیادی ضروریات کو اپنی دہلیز پر لایا جائے۔ دوسرے کو کیا ملتا ہے اورکیا نہیں ملتا اس کی پرواہ نہ کی جائے۔ مگر دوسری طرف یہی ظالم انسان رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو بھول جاتا ہے۔ جس میں آپ نے فرمایا:

لیس لابن ادم حق فی سوی ہذہ الخصال بیت یسکنہ وثوب یواری عورتہ وحلف الخبز والماء.

(جامع ترمذی، کتاب الزہد، باب الزہاد فی الدنیا، حدیث 2341)

’’انسان کے لیے ان اشیاء کے سواء کوئی حق نہیں رہنے کے لیے مکان، ستر (عورت) پوشی جسم کے لیے کپڑا کھانے کے لیے روٹی اور پینے کے لیے پانی۔ ‘‘

خلاصہ کلام

آج کا افسردہ انسان، پریشان حال اس لیے ہے کہ اس کے لیے ایک طرف ہوائے نفسانی ہے اور دوسری طرف الوہی ہدایت ہے۔ جسم و نفس ہوائے نفسانی کی پیروی کی تاکید کرتا ہے دل و قلب الوہی و نبوی ہدایت کی پیروی کی نصیحت کرتا ہے۔ دنیا طلبی ہوائے نفس میں ہے۔ آخرت طلبی الوہی ہدایت میں ہے۔ قرآنی ہدایت اور نبوی سیرت ﷺ کہتی ہے۔ اسلامی معاشرے میں عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کی حیثیت میں عزت دو، شوہر اپنی عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اختیار کریں اور سب سے بہترین سلوک ان سے کریں۔ ان کو عزت دیں ان کو بے عزت نہ کریں، بیٹیوں کو اچھی تعلیم و تربیت دیں۔ والدین کا یہی عمل ان کے لیے جنت کا باعث ہوگا اور ماں کی خدمت جنت کا سبب ہے اور نیک عورت اس دنیا کی سب سے بڑی متاع ہے مگر ہمارا نفس ان تعلیمات کے خلاف کرتا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی سیرت کہتی ہے نوجوانو! بے راہ روی سے بچو صاحب استعداد ہو تو میری سنت کی پیروی کرو اور جب عمر نکاح کو پہنچو تو صرف اور صرف نکاح کرو زنا نہ کرو مگر ہماری ہوائے نفس ہمیں گمراہ کرتی رہتی ہے۔ ہم سے حلال کی بجائے حرام کا ارتکاب کراتی ہے۔

رسول کی سیرت کہتی ہے شراب اور ہر نشہ آور چیز سے کنارہ کش ہوجاؤ، شراب اور خمر کا ایک قطرہ بھی حرام ہے۔ اس لیے ارتکاب حرام نہ کرو۔ حرام کی قربت انسان کو حرام کا دلدادہ اور مرتکب بنادیتی ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام.

(سنن ابن ماجہ، کتاب الاشربہ)

’’جس کا کثیر حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کہتی ہے ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں، ہر طرح کے گند اور غلاظت سے جان چھڑائیں۔

الطھور شطر الایمان.

(ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث 3519)

’’صفائی و طہارت نصف ایمان ہے۔ ‘‘

اپنے معاشرے کو بیماریوں سے محفوظ کریں، ماحولیاتی صحت کو قائم کریں، ماحول کو صحت مند بنانے کے لیے اس کو سموگ اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں۔ اپنے شہروں اور قصبوں میں شجر کاری کریں مگر ہم اپنی ہوائے نفس کے تحت ان تعلیمات کے خلاف عمل پیرا رہیں۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی شریعت سیرت اور اسوہ حسنہ یہ راہنمائی دیتے ہیں کہ ہم کسی انسان کو ناحق قتل نہ کریں، کسی انسان کا خون بلاوجہ نہ بہائیں، کسی سے اپنی عداوت کا انتقام از خود نہ لیں۔ عدل و انصاف کا خون نہ کریں، انسانی خون کی بے توقیری نہ کریں۔ اس لیے قرآن کا صریح حکم ہے۔

مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا.

(المائدۃ، 5: 32)

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔ ‘‘

اور رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر امت کو قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد اور سفاکی و خونریزی سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا:

الا لا ترجعوا بعدی ضلالاً لایضرب بعضکم رقاب بعض.

(خطبۃ حجۃ الوداع)

’’خبردار تم میرے بعد پلٹ کر پھر گمراہ نہ ہوجانا۔ یوں ایک دوسرے کی گردنیں نہ کاٹنے لگ جانا یہ سب سے بڑی گمراہی ہوگی۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور تعلیمات اسلام تو یہ کہتی ہیں آج دنیا میں جاری دہشت گردی اور قتل و غارت گری میں کسی مسلمان کا کوئی تعلق نہ ہوتا آپ کا کوئی امتی اور کلمہ گو دنیا داروں کی نظر میں دہشت گرد نہ ہوتا مگر آج ہمارا نفس اور ہماری ہوائے نفس وہ کام ہم سے کرارہی ہے جس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ اللہ کے دین سے ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہے۔ سیرت رسول ﷺ کا مقصد تو یہ تھا اور ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنے کردار میں خورشید جہاں کی مانند ہیں میں اپنی بات اور اپنا موضوع اقبال کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں۔

اٹھ کہ خورشید کا سامان سفر تازہ کریں
نفس سوختہ شام و سحر تازہ کریں (اقبال)