افکار و اقدار کے باہمی اثرات ونتائج

ڈاکٹر نعیم انور نعمانی

آج کی جدید دنیا کی بنیادیں پندرھویں اور سولہویں صدی میں رکھی گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب موجودہ زمانے کی سائنس و ٹیکنالوجی کی غالب قوت یعنی یورپ میں بیداری کی نئی لہر شروع ہوئی۔ اہل یورپ نے دوسرے خطے کے لوگوں کے ساتھ روابط قائم کیے اور اپنی تجارت کو خوب فروغ دیا۔ جس سے ان کی سیاست نے بھی بتدریج ترقی کی اور لوگوں میں تخلیقی رجحانات پروان چڑھے اور یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قرون وسطی میں یورپ میں تاریکی چھائی ہوئی تھی۔

چھٹی صدی عیسوی میں اسلام کے ذریعے ظاہر ہونے والی روشنی نے ان کی عقل کو خرافات سے آزاد کیا۔ یورپ نے مسلمانوں سے علم سیکھا اور مسلمانوں سے سائنسی علوم قرطبہ اور اندلس کے ذریعے حاصل کیے اور اس کے ساتھ وہ مسلمان جو تجارت کے لیے مغرب کی سمت گئے، انہوں نے بھی اپنے کردار کے ذریعے مغربی معاشرے پر اپنے تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی اثرات قائم کیے۔ یورپ اپنے Darkness زمانے سے اسلام کی روشن تعلیمات کے ذریعے نکلا اور بیداری کی لہر کے ذریعے ایک New Civilization کی طرف بڑھا۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے انسانی و مغربی تہذیب کو اندھیروں سے نکالا اور ایک نئی مثالی تہذیب تشکیل دی ہے جس میں انسانی عظمت اور وحدت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ مسلمان ایک free اور ایک Open society کی حیثیت سے دنیا بھر میں سفر کرتے رہے ہیں اور مختلف خطوں اور ملکوں کو اپنی جائے سکونت بناتے رہے ہیں۔ یوں وہ ایک ایسی تہذیب تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے ہیں جس میں اسلام کی اعلیٰ اقدار اور ارفع اصول پائے جاتے تھے اورجس میں انصاف اور احساس ذمہ داری اور اعلیٰ انسانی اخلاقی برتری کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

مغربی دانشوروں نے بھی اعتراف کیا ہے اسلام نے مغرب میں اپنے قدم جمائے ہیں۔ اب مغرب اور اسلام کو ایک دوسرے کی اقدار اور افکار کا تبادلہ کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور باہمی وسعت قلبی اور رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اس حقیقت کو برطانوی شہزادہ چارلس نے بھی محسوس کیا۔ آکسفورڈ اسلامک سنٹر میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہماری مغربی تہذیب پر اسلامی دنیا کے جو احسانات ہیں، ہم ان سے بڑی حد تک ناواقف ہیں اور یہ تہذیب وسط ایشیا سے بحر اوقیانوس کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسلامی دنیا ایک وقت میں ساری دنیا کے لیے علم و دانش کا گہوارہ تھی مگر ہم اسلام کو ایک دشمن مذہب اور ایک اجنبی تہذیب قرار دیتے رہے، اپنے اندر اس کے اثرات کو نظر انداز کرنے میں لگے رہے اور اس کے ثمرات کو مٹانے میں کمر بستہ رہے۔ ہم نے سپین میں مسلمانوں کی آٹھ سو سال کی روشن تہذیب کو محسوس نہیں کیا اور مغربی تہذیب کے احیاء میں مسلم اسپین کے کردار کو نظر انداز کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مغرب دو صدیوں تک مسلم سپین کی تہذیب سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے اور اسلام نے جدید یورپ کی تعمیر میں ایک بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

اس دنیا میں مل جل کر رہنے کے لیے اسلام کے دامن میں وہ کچھ ہے جو ساری انسانی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ دنیا کے بارے میں احساس مسئولیت کا جو تصور اسلام نے دیا ہے ہم مغرب والے اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے تجربات میں شریک ہونا چاہیے اور باہم تبادلہ خیال کرنا چاہیے اور تہذیبی اور ثقافتی ورثہ میں جو کچھ مشترک ہے اس کو اپنانا چاہیے۔ ہمیں تدبر کی اہمیت کو محسوس کرنا ہوگا تاکہ ذہنوں میں کشادگی اور دلوں میں وسعت آئے۔ اسلام اور مغرب دونوں مل کر عالم انسانیت کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔(عیسی منصوری، مغرب اور عالم اسلام کی فکری و تہذیبی کشمکش اور مسلم اہل دانش کی ذمہ داری، ص:۸۷۔ ۸۹)

1۔ مغرب پر اسلامی تہذیب کے اثرات

انسانی زندگی میں اسلام نے بہت زیادہ انقلاب بپا کیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی بنا پر ہی انسانی زندگی مہذب ہوئی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جہاں آفتابِ اسلام کی کرنیں نہ پہنچی ہوں قافلہ انسانیت اسلام سے قبل ایک بھیانک اور تباہ کن رخ کی جانب محو سفر تھا ساری دنیا کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور علمی حالت ابتر تھی۔ اسلام نے انسانی زندگی کی پستی کو بلندی کی طرف بدلا ہے۔ اسے ایک حیات بخش اور امن پرور منزل کی طرف رواں دواں کیا ہے۔

از منہ وسطی میں پائے جانے والے علوم و فنون اور ادب پر اسلام کا گہرا اثر تھا۔ اس دورکے مسلمانوں کو ایک سند مانا جاتا تھا۔ رازی، ابن سینا، غزالی اور ابن رشد یورپ میں اسی طرح مشہور تھے جس طرح آج مسلمانوں میں بعض مغربی مفکرین ہیں۔

یورپ میں جدیدیت کا آغاز 1453 عیسوی میں ہوا جب مسلمانوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ اس کے اثرات بھی یورپ پر مرتب ہوئے۔ کئی صدیوں تک یورپ پر اسلام اور مسلمانوں کے اثرات غالب رہے۔

عصر حاضر میں میدان سیاست و عسکریت میں مغربی تہذیب غلبہ پائے ہوئے ہے جبکہ دوسرا میدان فکر ونظریہ کا ہے۔ اسلام نے اپنے مضبوط اور مستحکم افکار و اقدارکے ذریعے مغرب کو بلاواسطہ اور بالواسطہ متاثر کیا ہے۔ اس کا سبب ایک مشہور انگریز ادیب جارج برنارڈشاہ بیان کرتا ہے:

محمدﷺ کے پیش کردہ دین کو ادیانِ عالم میں بہت بڑا اور بلند مرتبہ حاصل ہے دیگر ادیان کے برعکس اس دین میں دائماً زندہ رہنے کی حیرت انگیز قوت موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اپنے اندر مختلف مذاہب، طریقوں اور لوگوں کو سمونے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی بنا پر اسے جہاں بھر میں روز بروز مقبولیت عامہ حاصل ہورہی ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ آج بھی محمدﷺ کی سیرت کے حامل کسی قیادت و شخصیت کی خدمات دنیا کو میسر آجائیں تو بنی نوع انسان کی ساری مشکلات دور ہوسکتی ہیں۔ پوری دنیا میں امن و آشتی کا دور دورہ شروع ہوسکتا ہے اور آج کے زمانے کو ایسی ہی شخصیت و قیادت کی شدید حاجت و ضرورت ہے۔

ڈاکٹر حمیداللہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات میں ایسی جاذبیت اور عقلی تفہیم ہے کہ اس کی زندہ اور روشن تعلیمات کا از خود مطالعہ کرکے بے شمار لوگ اسلام قبول کرچکے ہیں اور اپنی زندگیاں اسلام کے ساتھ وابستہ کرچکے ہیں۔ مزید برآں وہ واضح کرتے ہیں کہ مغرب کے حواس پر فقط کوئی فخرالدین رازی کے اوصاف رکھنے والا نہیں چھا سکتا بلکہ وہ ایسا ہو جو محی الدین ابن عربی کے اوصاف و کمالات رکھنے والا بھی ہو۔ اس لیے کہ فخرالدین رازی صرف عقل کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ ابن عربی عقل کےساتھ ساتھ عشق و دل کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔

شیخ ابن عربی کا کمال یہ ہے انہوں نے روحانی علوم کو فلسفیانہ انداز میں پیش کیا ہے۔آج مغرب کی لرزتی اور ڈگمگاتی ہوئی مادیت کو اسلام کی دائمی اور مضبوط روحانیت کی ضرورت ہے۔ یورپ کی مادیت کو اسلام کی روحانیت کا سہارا ہی ڈوبنے سے بچاسکتا ہے۔ یورپ والوں نے بھی اپنی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ابن عربی کے تصورات و نظریات پر بہت زیادہ تحقیق اپنی یونیورسٹیوں میں کی ہے اور کررہے ہیں۔

(عیسی منصوری، مغرب اور عالم اسلام، ص 67، 68)

یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی معاشرہ صرف اور صرف مادیت پر قائم نہیں رہ سکتا جب بھی مادیت کے مقابل روحانیت کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتیجے میں معاشرتی نظام تباہ و برباد ہوا، تہذیبی و اخلاقی اقدار ختم ہوئیں، خاندانی استحکام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور نئی نسل منشیات کا شکار ہوئی۔ مادیت کی وجہ سے عقیدے میں تزلزل آیا۔ فیملی سسٹم کی وحدت متاثر ہوئی اور سماجی انتشار و خلفشار میں اضافہ ہوا۔

2۔ اسلامی تہذیب پر مغربی تہذیب کے اثرات

اب ہم تصویر کے دوسرے رخ کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ مغربی تہذیب کے بھی اسلامی تہذیب پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مغرب کی مادر پدر آزادی کی لہر نے عالم اسلام کو بھی متاثر کیا ہےا ور اس یورپی لہر کو روشن خیالی جانا گیا۔ مغرب کے لبرل ازم کو مقامی روایات سے ہٹ کر اپنانے کی کوشش کی گئی۔مغربی مفکرین نے عیسائیت کی مسخ شدہ تصویر سے بیزار ہوکر آزاد خیالی کا راستہ اختیار کیا اورمذہب بیزاری کو ایک تحریک کے طور پر بپا کیا۔ یورپ نے مذہب پرستی کو قدامت پسندی جانا اور اپنے مذہب کو اپنی اجتماعی زندگی کے معاملات سے بے دخل کردیا۔ان کے ہاں مذہب پر عمل کو نجی زندگی کا مقصد ٹھہرایا گیا۔ یعنی مذہب اور نجی زندگی کو باہم جوڑ دیا گیا اور اجتماعی زندگی سے اسے بالکل الگ کردیا گیا۔

یہی کام کبھی بنیاد پرستی کے نام پر، کبھی انتہا پسندی کے نام پر اور کبھی دہشت گردی کے نام پر اسلام کےساتھ مغرب نے کرنے کی کوشش کی اور اسلام کو بھی عیسائیت کی طرح نجی و ذاتی زندگی تک محدود کرنے کی ہر سعی اور ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ اسلام اپنی زندہ تعلیمات، متوازن افکار، اعلیٰ اقدار اور ارفع روایات کی بنا پر مغرب کے اس حملے سے بھی محفوظ رہا اور اس کی حفاظت بصورت قرآن اللہ کے ذمہ کرم پر ہے۔

مغرب کے بعض دانشور اہلِ مغرب کی مذہب سے بیزاری اور دوری اور نئی نسل کی بے راہ روی پر ملول اور رنجیدہ ہیں۔ یہ قلیل طبقہ اس صورت حال کا تدارک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اسلام سمیت دیگر مذاہب کی طرف دستِ تعاون بڑھانا چاہتا ہے مگر قدامت پسند طبقہ ان کے عزائم اور ان کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے اور اصلاح کے لیے اٹھی ہوئی آواز حالاتِ زمانہ کے تحت دب جاتی ہے۔(عیسی منصوری، مغرب اور عالم اسلام، ص 65، 66)

(1) سرمایہ دارانہ مغربی تہذیب

مغربی ثقافت نے اسلامی تہذیب پر اپنے اثرات مختلف شعبوں میں مرتب کیے ہیں۔ ان میں ایک سرمایہ دارانہ تہذیب بھی ہے۔ مغرب کی اس تہذیبی یلغار نے مسلم معاشرے اور تہذیب کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں آج غیر مشروط اور مادر پدر آزاد لبرل ازم کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔آج ہماری زیست کا معیار بھی یہ بنتا جارہا ہے جو مغرب کے ہاں موجود ہے، اسے فوراً اپنالیا جائے۔

تجدد کے اس رجحان کا نتیجہ یہ ہے جو چیز مغرب کے معیار پر پوری اترتی ہے ہم اسے من و عن اپنانے اور اختیار کرنے کے لیے فوری آمادہ ہوجاتے ہیں۔ہم اس چیز کو نہ صرف درست قرار دیتے ہیں بلکہ قابلِ فخر بھی ٹھہراتے ہیں اور جو اس معیار پر پوری نہ اترے ہم اس کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ہمارا تجدد پسند طبقہ ہماری زندگی کے تمام مظاہر کو مغربی رنگ میں رنگنا چاہتا ہے۔ صرف عقائد و عبادات کو ہی مستثنیٰ رکھنا چاہتا ہے حتی کہ یہ اپنی سرگرمیوں کو بڑھاتے ہوئے خود مذہب کی من پسند تجدید چاہتے ہیں۔ یوں انہوں نے تمام شعبہ ہائے حیات میں مغرب کی تقلید کو اپنا شعارِ حیات بنالیا ہے۔

مغربی تہذیب کا ایک بڑا اثر اسلامی تہذیب پر یہ مرتب ہوا کہ اس کی مادہ پرستی نے اسلامی تہذیب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہر شخص مادیت کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگا۔ حالات کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے مادی مستقبل کو سنوارنے کی فکر کرنے لگا۔ سوسائٹی میں اپنا نام اور اپنا بھرم رکھنے کے لیے ہر طرح سے دولت سمیٹنے لگا۔ غربت اور افلاس کے طعنوں سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل کو جمع کرنے لگا تاکہ کوئی حقارت آمیز نگاہوں سے نہ دیکھ سکے۔

یوں مادیت پسندی انسانی زندگی کے لیے ایک ناگزیر مقصدیت بن کر رہ گئی اور لوگ بے اختیار مادی ترقی کی راہیں ڈھونڈنے لگے اور یوں ہر کام کے پیچھے مادی منفعت کا جذبہ کارفرما نظر آنے لگا۔ اس طرح مادی منفعت اور اس سے پیدا ہونے والی تہذیبی ترقی نے تمام اخلاقی قدروں اور انسانی عظمت کے تمام پیمانوں کو مات دے دی۔ جن معاشروں نے اس مادی تہذیب کو اپنایا ان کے ہاں سب سے پہلے اخلاقی زوال آیا۔ انسانی تعلقات میں مادی منفعتوں کو ترجیح دی جانے لگی اور ایک کامیاب زندگی کا تصور مطلق العنان آزادی کو قرار دیا گیا۔

مادہ پرستی نے مذہبی بیزاری کو جنم دیا۔ ذاتی و نجی زندگی کے نام پر انسانی زندگی کی شرافت اور رفعت کا جنازہ اٹھایا گیا اور یوں مختلف جرائم کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ انسانی خون ارزاں ہوا، انسان کی عزت و آبرو کو بھی داؤ پر لگادیا گیا، مفاد پرستی کی راہیں ہموار ہوئیں، قریبی رشتوں کو کاٹا گیا، انسان کو مکمل بندۂ نفس بنادیا گیا۔انسانی رشتوں کو بھی مادیت کے تناظر میں جانچا اور پرکھا جانے لگا۔ تولدی نسبتوں، خاندانی رشتوں اور خونی قرابتوں کو مادیت نے بعض جگہوں پر کمزور کردیا اور بعض صورتوں میں حرفِ غلط کی طرح مٹادیا۔

حتی کہ معتبر ترین مادی منفعتوں کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی و عداوت کی روشوں کو فروغ دیا جانے لگا اور ایک دوسرے کو قتل کرنا، بے آبرو کرنا اور ذلیل و رسوا کرنا، روزمرہ کا معمول بننے لگا۔ یہ ساراکچھ اس مادی تہذیب کی کرشمہ سازیاں اور تباہ کاریاں تھیں جس نے اسلامی تعلیمات کا بھی مذاق اڑایا، اسلام کے واضح احکامات کی صریح خلاف ورزی کی، اسلامی تہذیب کو اخلاقی زوال کی آخری حدوں تک پہنچایا، مسلم معاشرے میں احساس کمتری کو بڑھایا، قتل و غارت گری کو عام کیا، انتہا پسندی کو فروغ دیا،دہشت گردی کو مادیت کی قوت سے مسلم معاشرے میں ہر سو پھیلایا اور زبردست مادی قوت اور کثیر زر دولت سے بھڑکایا ہے۔(سعید الرحمن اعظمی، اسلام اور مغرب، ص:43، 44)

(2) مغربی جمہوریت

مغربی تہذیب کا اسلامی تہذیب پر ایک اثر جمہوریت کی صورت میں بھی ظاہر ہوا ہے۔ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جو لوگوں کی اکثریت کی مرضی سے وضع کیا جاتاہے۔ لوگوں کی اکثریت خود اپنے بھلے اور برے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جب مغربی استعمار نے اپنا یہ تصورِ جمہوریت اپنے نوآبادیاتی نظام میں نافذ کیا تو اس سے ایک زبردست فکری کشمکش نے جنم لیا۔ جس کے نتیجے میں مسلم معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہوگیا: ایک مقتدر طبقہ اور دوسرا محکوم طبقہ۔

مسلم معاشرے میں ایک تجدد پسند طبقہ مغرب کی ہر روش کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے لیے کمر بستہ رہا۔انھوں نے مغربی جمہوریت کو اسلامی جمہوریت کا عنوان دے دیا۔ جمہوریت کو عصرِ حاضر میں اسلامی تصور خلافت کا متبادل قرار دیا گیا۔ جمہوریت کی فکری بنیادوں کو اسلامی تعلیمات کے دلائل سے مضبوط و مستحکم کیا گیا۔ نظری جمہوریت میں ہم کامیاب ہوگئے مگر عملی اور واقعی اور ملکی جمہوریت میں ایک طرفہ تماشا ساری دنیا کے سامنے بنے ہوئے ہیں۔ ہماری جمہوریت حقیقت میں مقتدر طبقے کی بادشاہت ہے مگر اس بادشاہت کی عصرِ حاضر میں قبولیت بعنوان جمہوریت ہے۔ ہمارے ہاں رائج تصور جمہوریت پر مفکر پاکستان علامہ اقبال کو بھی شدید تحفظات تھے۔ وہ کہتے ہیں اس موجودہ تصور جمہوریت میں افراد کو گنا جاتا ہے، ان کو تولا نہیں جاتا۔

یہ رائج جمہوری نظام معیار Quality پر نہیں بلکہ مقدار Quantity پر استوار ہے۔ یہ تمام انسانوں کو برابر کھڑا کردیتا ہے اور ان کی تعلیم، قابلیت اور صلاحیت کے لحاظ سے کوئی فرق قائم نہیں کرتا۔ حکومت کرنا معاشرے کے ذہین ترین اور قابل ترین افراد کا حق ہے جبکہ موجودہ جمہوری نظام ووٹ کی کثرت کی بنا پر ناقابل کو بھی قابل بنادیتا ہے۔ اس لیے وہ اس جمہوری نظام پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

مغربی تہذیب کے دیے ہوئے اس جمہوری نظام کا تعارف اقبال یوں کرواتے ہیں:

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کاجمہوری نظام

چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست

باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک

الا ماشاء اللہ اس جمہوری نظام میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ کچھ قائداعظم کی راہ پر چلنے والے اور اقبال کے افکار کی عملی تصویر بن کر اسلامی تہذیب کے ہیرو بھی ہیں۔ ان کی جمہوریت پسندی اور ان کا طرز سیاست یہ ہے:

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو

وہ ہر نقش کہن کو مٹاتے ہیں۔ اسلام کی ہر اعلیٰ قدر کو معاشرے میں زندہ کرتے ہیں، وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو اقوام میں سربلند کرتے ہیں۔ وہ اپنے طرزِحکمرانی کو اسلامی طرز حکمرانی،نبوی اور خلفائی طرز حکمرانی کے ماتحت کرکے آنے والے حکمرانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ بنتے ہیں۔

خلاصۂ کلام

ایک انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم سے، ایک معاشرہ دوسرے معاشرے سے، ایک ریاست دوسری ریاست سے، ایک ملت دوسری ملت سے اور ایک تہذیب دوسری تہذیب سے بہت کچھ اکتساب کرتی ہے۔ ایک دوسرے سے باہم سیکھنا معیوب نہیں بلکہ اسلام کی نظر میں مستحسن ہے۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے امت کو سیکھنے سکھانے، خود کو بننے اور اوروں کو بنانے کے لیے، قوم کے سنورنے اور سنوارنے کے لیے ملک کو ہر شعبے میں مضبوط اور محکم کرنے اور دنیا بھر میں اپنی خوبی کو تسلیم کرانے کے لیے یہ ضابطہ تعلیم و تعلم دے دیا:

الحکمۃ ضالۃ المومن۔

حکمت اور دانائی کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ یہ جہاں ہے اور جس جگہ بھی ہے، اسے لے لو اور تم ہی اس کے سب سے زیادہ وارث بنائے گئے ہو۔

اس ضابطہ کے تحت اسلامی تہذیب نے مغربی تہذیب کو بہت کچھ دیا ہے اور مغربی تہذیب نے بھی اسلامی تہذیب کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ ہر تہذیب کے اپنے مصادر اور مآخذ ہیں اور ہر ایک کے اپنے منابع اور سرچشمے ہیں۔ ایک کی بنیادیں سراسر الہامی ہیں تو دوسری کی مکمل انسانی ہیں۔ ہر ایک کا مقصد بھی اپنا اپنا اور جدا جدا ہے، ایک انسان کو اللہ کی ذات کے قریب لاتی ہے اور دوسری انسان کو اس دنیا کے قریب کرتی ہے۔ ایک میں روحانیت کا غلبہ ہے اور دوسری میں مادیت کا غلبہ ہے۔ ان میں موازنہ ہو نہیں سکتا۔ اس لیے کہ اللہ اور انسان میں کوئی مقابلہ نہیں، اللہ خالق ہے اور انسان مخلوق ہے۔ اللہ انسان کی جملہ ضرورتوں کو خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی ہوں، سب کو پورا کرنے والا ہے جبکہ انسان کی نظر صرف اور صرف دنیا پر رک جاتی ہے۔ اس لیے فیصلہ کن قاعدہ اور ضابطہ یہ ہے: الفضل ماشہد الاعداء۔

کسی بھی چیز کی فضیلت اور برتری وہ ہے جس کا اعتراف دشمن بھی کرے۔

اسلامی تہذیب نے اپنی برتری کا اعتراف غیر مسلموں سے بھی کرایا ہے۔ مغربی مفکرین کہتے ہیں یورپ کی نشاۃ ثانیہ اسلام کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مغربی تہذیب اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، اسلامی تہذیب نے اپنی روشنی سے اسے منور کیا ہے۔ ایک مغربی مفکر کہتا ہے:اگر اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو جدید مغربی تہذیب جنم نہ لیتی۔

قرون وسطی میں ساری سائنسی ترقی اسلامی تہذیب کی وجہ سے ہوئی ہے۔اس زمانے میں مغربی تہذیب پر جہالت چھائی ہوئی تھی اور ان کا علمی مشاغل سے دور دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اسلامی تہذیب کے علوم یورپی و مغربی تہذیب پر ایک بارش بن کر برسے، جس کے نتیجے میں مغربی تہذیب میں مختلف شعبہ ہائے علم نے انگڑائی لی۔

اگرمغربی تہذیب کو اسلامی تہذیب سے لاتعلق کیا جائے تو اس کی نشاۃ ثانیہ ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ہے۔ مسلمانوں کے سارے علوم کو مغربی تہذیب میں پھیلایا گیا اور ان علوم کو پڑھایا گیا۔ یورپی تہذیب میں ایک وقت میں ابن رشد فلسفہ میں، ابن بیطار علم نباتات میں، ابوالقاسم، علم جراحی میں، ابن العوام علم زراعت میں، ابن الخطیب علم تاریخ میں، علی بن موسی الرازی، ابوالقاسم، الزہراوی، ابن سینا، الکندی،علم طب میں۔ اسی طرح رازی، ابن سینا، جابر بن حیان علم کیمیا میں، ابن الہیثم علم البصریات میں، الخوارزمی عمر خیام علم الریاضی میں۔ اسی طرح دیگر علوم میں مغربی تہذیب کے حاملین کے ہیروز اسلامی تہذیب کی یہ نامور شخصیات تھیں۔

عصر حاضر میں ہماری مغلوبیت اورمرعوبیت کی وجہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے اعتقادی بے یقینی اور نظری غلامی ہے۔ جب اور جس وقت یہ ملت اس بے یقینی کی فضاؤں اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوجائے گی تو ترقی اس کا مقدر ہوگی۔ اس جانب اقبال نے یوں ہماری راہنمائی کی ہے:

سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار

غلامی سے بدتر ہے بے یقینی