جدید دور کے چیلنجز، مسلم نوجوانوں کی فکری و نظریاتی تربیت اور دیارِ غیر میں اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی مساعی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں قائدِ تحریک منہاج القرآن، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے حال ہی میں پرتگال کا کامیاب تنظیمی دورہ مکمل کرنے کے بعد، ناروے اور سویڈن کا ایک انتہائی مصروف، تاریخ ساز اور تربیتی دورہ کیا۔ اس دورہ میں چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری اور صدر منہاج ویمن لیگ انٹرنیشنل ڈاکٹر غزالہ حسن قادری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ذیل میں اس دورے کے تمام تنظیمی، تربیتی، علمی اور دعوتی پروگراموں کی اجمالی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:
ناروے
پرتگال کے تنظیمی دورے کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کے ہمراہ اوسلو، ناروے پہنچے۔ امیرِ تحریک افضل انصاری، چوہدری مشتاق (رابطہ کمیٹی)، علامہ اقبال فانی (ڈائریکٹر MQI ناروے) کی قیادت میں منہاج القرآن انٹرنیشنل ناروے کے جملہ فورمز کے عہدیداران، کارکنان اور رفقا نے شیخ الاسلام کے دورہ ناروے کے دوران متعدد علمی و فکری سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔
1۔ منہاج القرآن ڈنمارک کے وفد کے ساتھ "Meet & Greet" سیشن:منہاج القرآن انٹرنیشنل ناروے کے مرکز (اوسلو) میں "Meet & Greet" سیشن منعقد ہوا، جس کی صدارت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے فرمائی۔ اس نشست میں ڈنمارک سے آئے ہوئے منہاج القرآن کے تقریباً 200 ارکان اور وابستگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر صاحبزادہ حسن محی الدین قادری اور شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نائب صدر حافظ سجاد احمد نے نہایت احسن انداز میں ادا کیے۔ منہاج القرآن ڈنمارک کے صدر قیصر نجیب نے تنظیم کی تفصیلی کارکردگی رپورٹ اور مستقبل کا اسٹریٹجک ویژن پیش کیا۔ اس کے بعد جنرل سیکرٹری شاہنواز اپل نے مختلف فورمز کی کارکردگی اور ترقی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ شیخ الاسلام نے ڈنمارک سے آئے ہوئے وفد کی خدمات پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور مزید ہدایات سے نوازا۔
2۔ منہاج کلچرل سینٹر "کلوفتہ" (Kløfta) کا دورہ:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے "منہاج کلچرل سینٹر کلوفتہ" کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر شیخ الاسلام نے بچوں کی اسلامی خطوط پر تربیت اور اس عمل میں والدین کے فعال کردار کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بچوں کی شخصیت، اخلاق اور نظریات کی تشکیل میں والدین کے بجائے تین مرکزی عوامل کردار ادا کر رہے ہیں: سوشل میڈیا، اسکول اور معاشرہ۔جدید مادی زندگی میں گھر اب صرف 'رات گزارنے کی جگہ' (Overnight Stay) بن کر رہ گیا ہے۔ والدین معاشی مصروفیات اور ملازمتوں کی وجہ سے اپنے بچوں کی تربیت پر وقت نہیں لگا پاتے اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے بچوں کی اخلاقی و نظریاتی تربیت کی پوری ذمہ داری ان تین بیرونی عوامل (سوشل میڈیا، اسکول، سوسائٹی) پر چھوڑ دی ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔
اس اہم فکری نشست میں منہاج القران انٹر نیشنل ناروے کی مرکزی قیادت اور منہاج کلچرل سینٹر کلوفتہ کے جملہ عہدیداران نے شرکت کی۔
3۔ منہاج ویمن لیگ ناروے اور خواتین فورمز کے ساتھ فکری نشست: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور صدر منہاج ویمن لیگ انٹرنیشنل ڈاکٹر غزالہ حسن قادری نے منہاج القرآن ناروے کی خواتین رہنماؤں اور ویمن لیگ کی عہدیداروں کے ساتھ ایک خصوصی اور تفصیلی میٹنگ کی۔ اس نشست کا بنیادی موضوع "دین کا فہم اور اس کا عملی نفاذ"۔ شیخ الاسلام نے اپنے فکر انگیز خطاب میں فرمایا :
اسلام چند عارضی یا موسمی رسومات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل لائف اسٹائل اور عمر بھر کا عمل ہے جس کا اثر انسانی زندگی کے ہر پہلو پر نظر آنا چاہیے۔آج کل بہت سے لوگ دین پر صرف مخصوص ایام یا موسموں (Seasonal) میں عمل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عقیدے اور روزمرہ کی عملی زندگی کے درمیان ایک بہت بڑا فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ دین کو روزمرہ زندگی سے الگ تھلگ کوئی چیز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ہماری سوچ، عمل اور ماحول کا قدرتی حصہ بننا چاہیے۔
خواتین کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے شیخ الاسلام نے نمایاں خدمات سرانجام دینے والی خواتین عہدیداروں میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں۔ اس نشست میں منہاج القرآن ویمن لیگ ناروے اور اس کے جملہ ذیلی فورمز کی عہدیداران اور رفقا نے خصوصی شرکت کی۔
4۔ رابطہ کمیٹی اور سینئر اراکین کے ساتھ تنظیمی اجلاس: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے منہاج القرآن اوسلو کے سینئر اراکین اور رابطہ کمیٹی کے ساتھ ایک اہم اور خصوصی میٹنگ کی، جو باہمی مکالمہ، یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ شیخ الاسلام نے اپنے قیمتی خیالات اور تنظیمی تجربات شیئر کیے اور رابطہ کمیٹی کو دعوت و تبلیغ کے میدان میں ان کی انتھک محنت پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کمیٹی کی طرف سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور مستقبل میں مزید مؤثر کام کے لیے واضح اہداف مقرر فرمائے۔ اس نشست میں رابطہ کمیٹی کے جملہ عہدیداران اور جملہ سینئرز احباب نے شرکت کی۔
5۔ سینٹرل جامع مسجد اہلِ سنت اوسلو میں خطاب:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور ڈاکٹر غزالہ حسن قادری کے ہمراہ "سینٹرل جماعتِ اہلِ سنت اوسلو" کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر آپ نے انتہائی روح پرور، فکری اور حکمت سے لبریز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین اور ایمان کو انسان کی جبلت اور فطرت (Fitrah) کا حصہ بنایا ہے۔ قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ دین فطرتِ انسانی ہے۔ لیکن اس سوئی ہوئی فطرت کو بیدار کرنے کے لیے شعوری کوششوں اور ایک پاکیزہ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایمان خود بخود تنہائی میں پروان نہیں چڑھتا، اسے بیدار کرنا پڑتا ہے، جیسے بچہ پیدا ہوتے ہی رونا سیکھ کر آتا ہے، ویسے ہی ایمان کا بیج اندر موجود ہے۔ اگر مسلم بچوں کو اسلامی ماحول نہ ملے تو وہ مغربی معاشرے میں اپنی اسلامی اور اخلاقی شناخت کھو دیتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی پیدائش سے بھی پہلے، بلکہ ماں کے پیٹ ہی سے انہیں پاکیزہ اور مثبت ماحول فراہم کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔شیخ الاسلام نے سینٹرل جماعتِ اہلِ سنت کے چیئرمین زاہد اسلم، امام سید نعمت علی شاہ اور مفتی زبیر تبسم کا مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
6۔ علمائے کرام کے عظیم الشان اجتماع سے تاریخی خطاب: اوسلو کے اسلامی مرکز منہاج القرآن انٹرنیشنل میں علمائے کرام کے اعزاز میں ایک انتہائی پروقار اور علمی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے خصوصی شرکت کی۔ اس نشست میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، مشائخ عظام اور قراء کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر شیخ الاسلام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علماء کی اصل پہچان اور ان کا وصفِ خاص 'قائم بالقسط' ہونا ہے، یعنی وہ ہستیاں جو ہر حال میں عدل و انصاف پر قائم رہیں اور کسی بھی معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ان کی گفتگو اور خطابات ہمیشہ ٹھوس تحقیق اور مضبوط شواہد پر مبنی ہونے چاہئیں۔ علماء کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے قرآن مجید سے دلیل لائیں، اس کے بعد حدیثِ نبوی ﷺ، پھر اجماع، پھر قیاس، اور سب سے آخر میں اجتہاد اور ذاتی رائے کو جگہ دیں۔ علمی معیار کے تحفظ کے لیے اس ترتیب کی پاسداری لازمی ہے۔
خطاب کے بعد شیخ الاسلام نے علمائے کرام کی طرف سے پوچھے گئے مختلف پیچیدہ، علمی اور تحقیقی سوالات کے نہایت تسلی بخش جوابات دیے۔ اس تاریخی علمی اجتماع میں ناروے بھر سے جید علماء نے شرکت کی۔
7۔ مرکزی تربیتی نشست (اوسلو): منہاج القرآن کے مرکزی ہیڈ کوارٹر اوسلو میں ایک عظیم الشان "تربیتی سیشن" کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور ڈاکٹر حمزہ انصاری نے شرکت کی۔ شیخ الاسلام نے نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت کے حوالے سے نہایت جامع اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی مراکز کو نوجوانوں کے لیے پرکشش، محفوظ، منظم اور آسان بنانا ہوگا تاکہ وہ بغیر کسی جھجک کے اپنے دین سے جڑ سکیں۔" انہوں نے سوشل پریشر، جدید ٹیکنالوجی کی مصروفیات اور دین سے دوری جیسے چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ابتدائی مراحل میں پڑھانے کے طریقے نہایت سادہ، عام فہم اور اچھے ہونے چاہئیں۔ خاص طور پر نوجوانوں کو ان کی اپنی مانوس زبان (مقامی زبان) میں دین سکھایا جائے تاکہ وہ اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔" انہوں نے بچوں کی عادات اور اخلاقی اقدار کو سنوارنے میں خاندان، بالخصوص "ماں" کے کردار کو سب سے اہم قرار دیا۔
اس سیشن کے دوران تنظیمی خدمات کے اعتراف میں مختلف احباب کو شیلڈز اور اسنادِ تحسین (Certificates) دی گئیں۔ اس نشست میں یورپ بھر سے اہم رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
8۔ Meet & Greet سیشن (اوسلو): منہاج القرآن انٹرنیشنل ناروے کے ہیڈ کوارٹر اوسلو میں ایک اور شاندار "Meet & Greet" سیشن کا انعقاد ہوا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور ڈاکٹر غزالہ حسن قادری شریک ہوئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ کوئی بھی فرد تنہا اپنے بچوں کے ایمان کی حفاظت اور اسے مضبوط نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے ایک صالح معاشرے اور جماعت (کمیونٹی) کا ہونا لازمی ہے۔ کمیونٹی سے مراد صرف منہاج القرآن نہیں، بلکہ 'خیر' اور نیکی کی بنیاد پر قائم کوئی بھی گروہ ہے۔تمام مسلمان حضورﷺ کی امت کا حصہ ہیں، لیکن ہر مومن کو 'خیرِ امت' کا حصہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خیرِ امت وہ ہے جو اچھائی کا حکم دے، برائی سے روکے، اور اللہ پر پختہ ایمان رکھے۔ ایمان ان پہلے دو اصولوں (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) پر عمل کرنے سے ہی مضبوط ہوتا ہے۔ اس تقریب میں نارویجن سوسائٹی کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی ۔
9۔ MQI ناروے کے تمام فورمز کا مشترکہ اجلاس اور علمائے کرام کو "اسنادِ حدیث" کا اجراء: اوسلو میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی صدارت میں نیشنل ایگزیکٹو کونسل (NEC)، لوکل ایگزیکٹو کونسلز (LEC) اوسلو، ڈرامن، کلوفتہ اور منہاج القرآن ناروے کے تمام ائمہ و علمائے کرام کا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ناروے بھر میں ہونے والی سرگرمیوں، ممبرشپ میں اضافے اور جاری منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ شیخ الاسلام نے گزشتہ ہفتے کے تمام پروگراموں کے شاندار اور کامیاب انعقاد پر پوری ٹیم کو مبارکباد دی اور منہاج القرآن ناروے کے لیے ایک خصوصی "تنظیمی شیلڈ" دینے کا اعلان فرمایا۔ اس سیشن کا سب سے تاریخی اور علمی لمحہ وہ تھا جب شیخ الاسلام نے منہاج القرآن ناروے کے جید علمائے کرام کو علمِ حدیث میں اپنی ذاتی "اسناد" (Chains of Transmission in Hadith) عطا فرمائیں۔ یہ اکیڈمک اور علمی لحاظ سے ایک عظیم الشان اعزاز تھا۔
سویڈن
ناروے کا کامیاب تنظیمی دورہ مکمل کرنے کے بعد، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور صدر MWL انٹرنیشنل ڈاکٹر غزالہ حسن قادری کے ہمراہ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم پہنچے۔سویڈن میں ہونے والی علمی و فکری اور تربیتی پروگرامز کی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:
1۔ Sollentuna میں نئے "اسلامک سینٹر" کا باقاعدہ افتتاح: اسٹاک ہوم کے علاقے سولینٹونا میں منہاج القرآن انٹرنیشنل سویڈن کے ایک شاندار اور نو تعمیر شدہ "نئے اسلامک سینٹر" کا افتتاح شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے دستِ مبارک سے فرمایا۔ اس باوقار تقریب میں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور ڈاکٹر غزالہ حسن قادری سمیت سویڈن بھر سے اراکین اور وابستگان کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔
افتتاح کے فوراً بعد شیخ الاسلام کی صدارت میں منہاج القرآن سویڈن، ویمن لیگ اور یوتھ لیگ کے عہدیداران کا ایک اہم تربیتی سیشن منعقد ہوا۔ منہاج القرآن سویڈن کے صدر بابر شفیع اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ذیشان عتیب نے تنظیم کی تفصیلی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ شیخ الاسلام نے تمام شعبہ جات کی کارکردگی اور محنت کو سراہا، مستقبل کے اہداف مقرر فرمائے اور شاندار کارکردگی دکھانے والے اراکین میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں۔
2۔ Meet & Greet سیشن:اسٹاک ہوم (سویڈن) میں ایک انتہائی باوقار اور وسیع پیمانے پر "Meet & Greet" سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور ڈاکٹر غزالہ حسن قادری نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں سویڈن کی مقامی، سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ منہاج القرآن کے رفقاء و اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اتحادِ امت، تنظیم، اور دیارِ غیر میں نسلِ نو کے ایمان کے تحفظ پر بصیرت افروز گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان کی حفاظت کے لیے کسی صالح 'جماعت' (Collective Body) کے ساتھ جڑنا ناگزیر ہے۔ دیارِ غیر میں مقیم والدین کو ایک انتہائی اہم نصیحت کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا: والدین اپنے بچوں کو اردو زبان ضرور سکھائیں۔ اردو زبان صرف ایک زبان نہیں ہے، بلکہ یہ مغرب میں پلے بڑھنے والے بچوں کے لیے اپنے دین کو سمجھنے، اسلامی لٹریچر سے استفادہ کرنے اور اپنے علمی و ثقافتی ورثے (Heritage) سے جڑے رہنے کا ایک مضبوط ترین ذریعہ (Bridge) ہے۔انہوں نے زندگی میں قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے، صالحین کی صحبت اختیار کرنے اور مسجد سے رشتہ مضبوط کرنے کی ہدایت فرمائی تاکہ حضور ﷺ کی روحانی وراثت سے ناطہ قائم رہے اور نسلیں گمراہی سے بچ سکیں۔ انہوں نے تمام کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو انسانیت کی خدمت اور اسلام کے پرامن پیغام کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے وقف کر دیں۔
پروگرام کے اختتام پر منہاج القرآن اسٹاک ہوم کے چیف کوآرڈینیٹر میاں یاسین اعجاز نے شیخ الاسلام، معزز مہمانوں اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ یہ دورہ سویڈن میں منہاج القرآن کے مشن کو وسعت دینے اور کارکنان کے جذبوں کو مہمیز کرنے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا یہ دورۂ ناروے و سویڈن محض ایک تنظیمی سفر نہیں تھا، بلکہ یہ یورپ کے مادی ماحول میں سسکتے ہوئے اخلاق اور خطرے میں گھری ہوئی مسلم شناخت کے لیے ایک آبِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے 'سوشل میڈیا، اسکول اور سوسائٹی' کا فکری تجزیہ، علمائے کرام کے لیے 'ترتیبِ ادلہ' کی علمی گائیڈلائن، اور سویڈن میں 'اردو زبان کی ترویج' کے ذریعے دین سے جوڑے رکھنے کا نسخہِ کیمیا،یہ وہ گرانقدر اثاثہ ہے جو اس دورے کے ذریعے یورپ کے مسلمانوں کو ملا ہے۔