سانحہ ماڈل ٹائون اور قانونی جدوجہد

نعیم الدین چوہدری

سانحہ ماڈل ٹاؤن پاکستان کی تاریخ کا ایک بھیانک سانحہ ہے جس میں طے شدہ منصوبہ کے تحت نواز،شہبازحکومت نے منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر ایسی ریاستی دہشت گردی کروائی جس کی پاکستان کی سیاسی وسماجی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔اس ریاستی دہشت گردی کے ذریعہ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے معصوم ،نہتے اور بے گناہ کارکناں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔جس میں 14افراد شہید ہوئے اور 100سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے ۔ایسا المناک وقوعہ اس سے پہلے رونما نہیں ہوا جسے کئی گھنٹوں پوری قوم اور دنیا نے TVسکرینز پربراہ راست دیکھا

مورخہ 17جون 2026ءکو شہداءسانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی 12 ویں برسی ہے لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین اور شہداءکے لواحقین 12سال سے انسداددہشت گردی ،لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان تک حصول انصاف کےلئے مسلسل قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 12سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین انصاف سے محروم ہیں ۔ شفاف ٹرائل تو دور کی بات ابھی تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو غیر جانبدار تفتیش کا حق بھی نہیں ملا ۔غیر جانبدار تفتیش سے ہی انصاف کا عمل ٹریک پر آئے گا۔ کسی بھی مقدمہ کے انصاف کے لئے شفاف تفتیش کا ہونا ضروری ہے ۔شفاف ٹرائل اس وقت تک ناممکن ہے جب تک شفاف تفتیش نہ ہو

اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں بننے والی JITنے 14جنوری 2019ء سے لیکر 20مارچ 2019ء تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے تمام زخمی ،چشم دید گواہان اور شہداءکے لواحقین کے بیانا ت ریکارڈ کر لئے تھے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی طرف سے اس JITکے روبروپہلی دفعہ تمام زبانی ودستاویزی ثبوت شہادتوں کی شکلوں میں پیش کر دیے تھے ۔ اس طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کے تمام ملزمان بشمول میاں نوازشریف ،میاں شہباز شریف ،راناثناءاللہ ،ڈاکٹر توقیر شاہ PSOٹو سابق وزیراعلیٰ پنجاب ،سابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیراودیگران سے بھی اس JITنے مختلف پہلوؤں پر تفتیش مکمل کر لی ۔ چالان انسداددہشت گردی عدالت لاہور میں جمع کروانا تھالیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان نے 22مارچ 2019ء کو لاہور ہائی کورٹ نے JITکا نوٹیفکیشن معطل کرکے JITکو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مزید تفتیش کرنے سے روک دیاگیا

سات سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی لاہور ہائی کورٹ اس JITکیس کی سماعت مکمل ہونے کے باوجود آج تک فیصلہ نہ کر سکی ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے 13فروری 2020ء کو لاہور ہائی کورٹ کو ڈائریکشن دی تھی کہ نیا بینچ تشکیل دے کر ترجیحاً تین ماہ کے اندرفیصلہ کیاجائےلیکن سپریم کورٹ کی تین ماہ کی ڈائریکشن کے باوجود بھی لاہور ہائی کورٹ کا سات رکنی لارجربینچ فریقین کے دلائل عرصہ دراز سے مکمل ہو جانے کے باوجود بھی لاہور ہا ئی کورٹ اس JITکیس کا تا حال فیصلہ نہ کرسکی ہے

سانحہ ماڈل ٹاؤن ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا، اس لئے سانحہ کے فوری بعد قتل وغارت گری میں ملوث افسران واہلکاران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اگر یہ محض حادثہ ہوتا تو سانحہ کے فوری بعد قتل وغارت گری میں ملوث پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی بھی ہوتی ،انہیں بے گناہوں کی جانیں لینے پر برطرف کیاجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ سانحہ میں حصہ لینے والے تمام افسران واہلکاروں کو پرکشش عہدوں سے نوازگیا۔ انہیں آؤٹ آف ٹرن ترقیاں دی گئیں ۔انہیں پسند کی تقرریاں دی گئیں ۔یہاں تک کے وقوعہ کے فوری بعد مورخہ 17جون 2014ءکو ہی پولیس کی مدعیت میں جھوٹی ایف ۔آئی۔ آر510/14تھانہ فیصل ٹاؤن لاہور میں درج کرکے زخمی کارکنان اور مقتولین کے لواحقین کو گرفتار کرکے دنیا کی تاریخ میں ظلم وناانصافی کی نئی مثال قائم کردی

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی وقوعہ کے بعد ایف ۔آئی۔ آر درج نہ کی گئی تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین نے ایف ۔آئی۔ آرکے اندراج کے لئے جسٹس آف پیس کی عدالت سے رجوع کیا۔ جسٹس آف پیس نے مورخہ 16اگست 2014ء کو ایف ۔آئی ۔آر کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود پولیس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی ایف ۔آئی ۔آر کا اندراج نہ کیا ۔ملزمان نے جسٹس آف پیس کے حکم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ لاہور سے رجوع کیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ملزمان کی پٹیشن مورخہ 26اگست 2014ء کو خارج کردی جس پر بالآخر پولیس نے بہ دل نخواستہ مقدمہ نمبر 696/14تھانہ فیصل ٹاؤن لاہور مورخہ 28اگست 2014ء کو درج کردی مگر پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان پر 50سے زائد مختلف تھانوں میں ایف ۔آئی ۔آر درج کردی تاکہ سانحہ ماڈ ل ٹاؤن کے متاثرین ،گواہان ،مضربان شامل تفتیش نہ ہو سکیں

مقدمہ نمبر 696/14(متاثرین سانحہ ماڈل ٹاؤن) اور مقدمہ نمبر 510/14(پولیس مدعی )میں نوازشہباز حکومت نے2014میں دونوں مقدمات میں علیحدہ علیحدہ JITتشکیل دی تھی۔ پہلی والی دونوں JITنے جو بھی انوسٹی گیشن کی تھی وہ حقائق کے برعکس ،جانبدار اور یکطرفہ ہوئی تھی ۔ اصل ملزمان جنہوں نے اس سانحہ کی منصوبہ بندی کی تھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی بلکہ انسداددہشت گردی عدالت میں پاکستان عوامی تحریک کےکارکنان کا ناحق چالان کرنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان جو مقدمہ نمبر 696/14میں نامزد تھے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی ۔ پہلی والی JIT نے جتنی بھی انوسٹی گیشن کی تھی، وہ صر ف اور صرف ملزمان کو بچانے اور اصل حقائق کو چھپانے کیلئے کی تھیں تاکہ اصل حقائق منظر عام پر نہ آسکیں

12سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین انصاف سے محروم ہیں ۔ شفاف ٹرائل تو دور کی بات ابھی تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو غیر جانبدار تفتیش کا حق بھی نہیں مل

نواز ،شہباز حکومت نے ان پہلی والی JITسے ملی بھگت کے ساتھ غیر منصفانہ اور بے بنیاد رپورٹ تیارکروائی تھی تاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اصل ملزمان سابق وزیراعظم نوازشریف، موجودہ وزیراعظم میاں شہبازشریف، رانا ثناء اللہ دیگر وزراء، پولیس افسران جو بطورِ ملزمان ایف آئی آر میں نامز دتھے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی ۔ بلکہ ان تمام ملزمان کو مقدمہ سے نکال دیاگیا اور پاکستان عوامی تحریک کے 42 کارکنان جن کو مورخہ 17 جون 2014ء کو ہی مقدمہ 510/14 (پولیس مدعی) میں گرفتار کیا گیا تھا، ان PATکارکنان کو اپنے ہی مقدمہ نمبر 696/14میں ملزم قرار دے کر انسداددہشت گردی عدالت میں چالان پیش کردیاگی

سانحہ ماڈل ٹاؤن اچانک یا حادثاتی طور پر برپا نہیں ہوا تھا بلکہ نواز، شہباز حکومت کی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ بیئرز کو ہٹانا تو ایک بہانا تھا، اصل مقصد حکومت کے ماورائے آئین وقانون طرزِ حکمرانی کے خلاف شیخ الاسلام کی تحریک اور جدوجہد کو روکنا تھ

بعدازاں ان 42 کارکنان کی اپنے ہی مقدمہ نمبر 696/14میں ضمانتیں کروائی گئیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کاناحق چالان کرنے پر JIT کی مکمل بددیانتی سامنے آگئی تو استغاثہ دائر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ لہٰذا فوری طورپر انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں استغاثہ دائرکردیاگیا۔

استغاثہ کیس میں 56زخمی وچشم دید گواہان کے بیانات کے بعد مورخہ 7فروری 2017ء کو انسداددہشت گردی عدالت لاہور نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں 126ملزمان کو طلب کرلیا ۔جس میں آئی جی سمیت تمام پولیس آفیسرز بشمول اس وقت کے DCO،TMO،ACماڈل ٹاؤن ان تمام کو طلب کرلیا تھاجبکہ اُس وقت کی گورنمنٹ اور بیوروکریسی کے 12افراد جنہوں نے اس سانحہ کی منصوبہ بندی کی تھی جو اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ تھے، ان کو طلب نہ کیا تو ہم نے ان 12افراد کی حد تک لاہور ہائی کورٹ میں Criminal Revision دائر کی جوکہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے 23ستمبر 2018ء کو خارج کردی ۔لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر کردیاگیا جو کہ سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر سماعت ہے

اس طرح آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے بھی ہائی کورٹ میں اپنی طلبی کو چیلنج کیاتھا ۔مشتاق احمد سکھیرا کی بھی Criminal Revision لاہور ہائی کورٹ نے مورخہ 23ستمبر2018کو خارج کردی ۔ATCمیں نئے ملزم مشتاق احمد سکھیرا کے پیش ہونے کی وجہ سے ATCمیں ٹرائل DENOVOہوگیا۔اسی طرح نئے ملزم مشتاق احمد سکھیرا کے ATCمیں پیش ہونے کے بعد مورخہ 15اکتوبر 2018ء کو تمام ملزمان پر دوبارہ فردجرم عائد ہوئی ۔ٹرائل DENOVOہونے کے بعد کی وجہ سے مستغیث کابیان انسداددہشت گردی عدالت میں دوبارہ قلمبند ہوا ہے ملزمان کے وکلاء مستغیث پر دوبارہ جرح کررہےہیں

مورخہ 17جون 2014ء کو وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے اُسی دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا رہا ہوں، میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک یہ کمیشن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ کردے، میں چین سے نہیں بیٹھوں گا اوراس المناک واقعہ کی تحقیقات کی شکل میں جو بھی ذمہ دار ٹھہرائے گئے، ان کو قانون کے مطابق کڑی ترین سزا دی جائے گی۔ عدالتی کمیشن اس لئے بنایا گیا ہے کہ اگر مجھے اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے توایک سیکنڈ سے پہلے میں عوام کی عدالت میں حاضر ہوں گا اور جو بھی اس تحقیقاتی رپورٹ میں مجھے تجویز کیا گیا، میں اس کومن وعن قبول کروں گ

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نواز، شہبازحکومت ملوث ہے۔ جس کے زیراثر تمام پولیس افسران تھے جس کی وجہ سے اس وقت واقعہ کی شفاف تفتیش نہ ہونے دی گئی بلکہ اس سانحہ میں کسی بھی زخمی، چشم دید گواہان اور شہداء کے لواحقین کے بیانات بھی قلمبند نہیں کئے گئے

وزیراعلیٰ نے ایک خط کے ذریعہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی جس پر چیف جسٹس لاہو ر ہائی کورٹ نے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی جج لاہور ہائی کورٹ پر مشتمل یک رکنی انکوائری ٹربیونل قائم کیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے تحقیقات کے دوران انکوائری ٹربیونل آرڈیننس 1969ءکے سیکشن 11کے تحت گورنمنٹ آف پنجاب سے بذریعہ لیٹر 9/TOI مورخہ 20-06-2014کو Additional Power مانگی لیکن گورنمنٹ آف پنجاب نے بذریعہ لیٹر نمبری Jud 11-III 9-53/2014 مورخہ 27-06-2014یک رکنی انکوائری ٹربیونل کو ایڈیشنل اختیارات دینے سے انکار کر دیا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حصولِ انصاف کی جدوجہد کو 12سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی شیخ الاسلام کی ذاتی دلچسپی اور راہنمائی میں انسداد دہشت گردی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک مسلسل قانونی چارہ جوئی پوری طاقت، عزم، استقامت کے ساتھ جاری وساری ہے

جسٹس علی باقر نجفی کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو ارسال کی۔ جس میں حکومت پنجاب اور پنجاب پولیس کو اس قتل وغارت گری کا ذمہ دار قراردیا گیا۔جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو مل گئی تھی لیکن جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کے ساتھ منسلکہ دستاویزات جس میں ملزمان کے بیان حلفی ٹیلی فون ڈیٹا ریکارڈ، حساس اداروں کی رپورٹس ودیگر دستاویزات شامل ہیں، وہ تمام دستاویزات سانحہ کے متاثرین کو آج تک فراہم نہ کی گئی۔ ان تما م منسلکہ دستاویزات کےحصول کے لیے 2018ء میں لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی ہوئی ہے جو کہ ابھی تک لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے

استغاثہ کیس میں 12ملزمان جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ تھے ان کو انسداددہشت گردی عدالت نے طلب نہ کیا اور ہائی کورٹ نے بھی ہماری درخواست (فوجداری نگرانی) خارج کردی تو اس ساری صورتحال کے پیش نظر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سربراہی میں لیگل ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد نئی JITبنانے کے لئے فیصلہ کیا گیا تاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ جنہوں نے اس سانحہ کی منصوبہ بندی کی تھی، وہ بھی اس مقدمہ میں آئیں اور ان کا بھی ٹرائل ہواور کیفرکردارکو پہنچیں اور سانحہ ماڈ ل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف ملے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی غیر جابندارتفتیش کے لئے سپریم کورٹ میں بسمہ امجد کی طرف سے نئی JITکےلئے درخواست دائر کی گئی جس کی سماعت چیف جسٹس،جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے روبرومورخہ 5دسمبر2018ءکو سماعت کی اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے دلائل کی روشنی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی ازسرنو تفتیش کےلئے نئی JITبنانے کا فیصلہ ہوااور مورخہ 3جنوری 2019ءکو پنجاب حکومت نے اے ۔ڈی خواجہ کی سربراہی میں نئی JITکا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔جب JITنے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش مکمل کرلی تو ملزمان نے لاہور ہائی کورٹ سے JITکا نوٹیفکیشن کو معطل کروالی

JIT کی بحالی سانحہ ماڈل ٹاؤن کےانصاف کےلئے اشد ضروری ہے۔ غیر جانبدارتفتیش سے ہی انصاف کا عمل ٹریک پر آئے گا۔ کسی بھی مقدمہ کے انصاف کیلئے شفاف ٹرائل کا ہونا ضرور ی ہے لیکن شفاف ٹرائل اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک شفاف انوسٹی گیشن نہ ہو لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ شفاف ٹرائل تو دورکی بات، ابھی تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو غیرجانبدار تفتیش کا حق ہی نہیں ملا ہے جوکہ پوری قوم کے لئے ایک سوالیہ نشان بھی ہے

اس وقت ملک میں دو قانون موجود ہیں: اشرافیہ کے لیے الگ قانون اور عوام کے لئے الگ قانون۔ اشرافیہ میں سے کوئی جرم کرتا ہے تووہ اپنی مال ودولت اورطاقت کے بل بوتے پر ہرسطح پر معاملات کو Manage کرلیتا ہے اور ہمارے اس سسٹم میں بیٹھے ہوئے لوگ ہی ان کوتحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ عام آدمی جرم نہ بھی کرے تو اس کو جھوٹے مقدمے میں سزا ہوجاتی ہے

یہ امر ذہن نشین رہے کہ جب تک کسی مقدمہ کا فیصلہ نہ ہو جائے اس وقت تک دوبارہ تفتیش ہو سکتی ہے، اگر عدالت میں مقدمہ کا چالان اور فردِ جرم بھی عائد ہو جائے تو بھی دوبارہ تفتیش سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ کوئی بھی قانون دوبارہ تفتیش سے نہیں روکتا۔ شفاف ٹرائل کے لئے شفاف تفتیش کا ہونا ضروری ہے۔ سیکشن 19 انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت ایک سے زائد JIT بنانے میں بھی کوئی قانونی قدغن موجود نہیں ہے بلکہ گورنمنٹ کے پاس اختیار ہے کہ مقدمہ اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف تفتیش کے لئے دوسری، تیسری، چوتھی JIT بھی بنا ئی جاسکتی ہے۔ کراچی کے 12 مئی کے واقعہ کے مقدمہ میں بھی ایک لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود سند ھ ہائی کورٹ نے نئی JIT بنانے کا ازخود حکم دیا کیونکہ اس وقت کے حالات ایسے تھے کہ شفاف تفتیش نہ ہو سکی تھی۔ اس واقعہ میں اس وقت کے بااثر افراد کے ملوث ہونے کی اطلاعات تھیں، اس وجہ سے شفاف تفتیش نہیں ہوئی تھی

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ بھی بڑاحساس ہے۔ اس میں بھی نواز، شہبازحکومت ملوث ہے۔ جس کے زیراثر تمام پولیس افسران تھے جس کی وجہ سے اس وقت واقعہ کی شفاف تفتیش نہ ہونے دی گئی بلکہ اس سانحہ میں کسی بھی زخمی، چشم دید گواہان اور شہداء کے لواحقین کے بیانات بھی قلمبند نہیں کئے گئے۔ جس کی وجہ سے نئی JIT تشکیل دینے کی قانونی ضرورت پیدا ہوئی۔ ٹرائل کورٹ ازخود فوجداری مقدمہ کی سماعت کے دوران شفاف ٹرائل کے لئے بقیہ شہادت برآمدگی، فرانزک اور ڈیجیٹل وغیرہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتی بلکہ صرف اور صرف JIT ہی شفاف ٹرائل کے لئے ان تقاضوں کو پورا کرسکتی ہے۔ اس لئے نئی JIT کو شفاف تفتیش سے روکا نہیں جا سکتا ہے

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین 12 سال سے انسداد دہشت گردی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان تک حصولِ انصاف کیلئے مسلسل قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ 12 سال کاعرصہ گزرجانے کے باوجود بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین انصاف سے محروم ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن اچانک یا حادثاتی طور پر برپا نہیں ہوا تھا بلکہ نواز، شہباز حکومت کی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ بیئرز کو ہٹانا تو ایک بہانا تھا، اصل مقصد حکومت کے ماورائے آئین وقانون طرزِ حکمرانی کے خلاف شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تحریک اور جدوجہد کو روکنا تھا۔ نواز، شہباز حکومت کا اصل ایجنڈا ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو اور ان کی تحریک کو ختم کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک ارادوں سے شیخ الاسلام کو محفوظ رکھا اور الحمدللہ شیخ الاسلام کی آواز اور تحریک منہاج القرآن کا پیغام پوری دنیا کے کونے کونے میں آج بھی گونج رہا ہے

شیخ الاسلام نے گزشتہ گزرے ہوئے بارہ سالوں کا ہر دن حصولِ انصاف کی جدوجہد میں گزارا۔ الحمدللہ اس جدوجہد میں نہ قیادت کے عزم میں کوئی شکن آئی اور نہ ہی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے عزم و ہمت اور حوصلے کو وقت کی نمرودی، فرعونی اور قارونی قوتیں متزلزل کر سکیں

شیخ الاسلام نے ہمیشہ آئین وقانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کی ہے اور ملک کو خطرات اور گرداب سے نکالنے کے لیے 23دسمبر 2012ء کو مینارپاکستان کے سائے تلے ’’سیاست نہیں ریاست بچا ؤ‘‘ کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اور موجودہ سیاسی، انتخابی اور معاشی استحصال سے نجات دلانے کے لیے لاکھوں افرادکے اجتماع میں نظام کی تبدیلی اور انتخابی اصلاحات کا پوراعملی پیکچ پیش کیا اور اسے باقاعدہ عملی جامہ پنانے کے لیے تحریک کا آغاز کی

اس سلسلہ میں مورخہ 13جنوری 2013ء کو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی ،حقیقی جمہوریت کے قیام ،استحصالی نظام کے خاتمے اور انتظامی اصلاحات کے لئے ملکی سیاسی تاریخ کا پہلا پُرامن لانگ مارچ کیا اور لاکھوں افراد نے عوام دشمن فرسودہ نظامِ انتخاب کے خلاف نفرت کا اظہارکیااور2013ء میں اس وقت کی حکومت کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ بھی کیاتھا

بعد ازاں پاکستان عوامی تحریک نے 11مئی 2013ء کو ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں کرپٹ نظامِ انتخاب کے خلاف دھرنا دیاجس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے نئے نظام کا حکومتی وانتظامی ڈھانچہ اور سستے و فوری عدل و انصاف کی فراہمی کی پالیسی قوم کے سامنے پیش کی

اس وقت ملک میں دو قانون موجود ہیں: اشرافیہ کے لیے الگ قانون اور عوام کے لئے الگ قانون۔ اشرافیہ میں سے کوئی جرم کرتا ہے تووہ اپنی مال ودولت اورطاقت کے بل بوتے پر ہرسطح پر معاملات کو Manage کرلیتا ہے جبکہ عام آدمی جرم نہ بھی کرے تو اس کو جھوٹے مقدمے میں سزا ہوجاتی ہے

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 2014ء میں عوام کی خوشحالی کے لئے 10 نکاتی انقلابی پروگرام بھی قوم کے سامنے پیش کیا اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بے روزگاری، کرپشن، لاقانونیت اور عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے ماہ جون 2014ء کو پاکستان آکر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان پر نواز، شہبازحکومت بوکھلا اُٹھی اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی اور مورخہ 17 جون 2014ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن برپاکیا اور اپنے مذموم ومکروہ ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی، چادر اور چار دیواری کا تقدس بُری طرح پامال کیاگیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقصد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی اس تحریک اور جدوجہد کو روکنا تھ

آج ملک وقوم اضطراب کا شکار ہیں اور ملکی معیشت تباہی کے دہانے کی طرف جا رہی ہے، ملک کے سیاسی ،اقتصادی مسائل گھمبیر ہو چکے ہیں۔ آج تمام سیاسی پارٹیاں صرف سیاست کررہی ہیں اور ان کے پاس ملک وقوم کے ان گھمبیرمسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جن کی بصیرت اور دور اندیشی کی ایک دنیا معترف ہے، انھوں نے 2012ء میں آج سے 14 سال قبل ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کا نعرہ لگایاتھا کہ اپنی اپنی سیاست کو چھوڑکر ریاست کو بچانے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں لیکن سٹیٹس کو کی حامی جماعتیں اور دیگر مقتدر قوتوں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی، جس وجہ سے ملک کے حالات تیزی سے اس سمت کی طر ف جا رہے ہیں جہاں ملک وقوم کیلئے مزیدمشکلات ہی مشکلات ہیں

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حصولِ انصاف کی جدوجہد کو 12سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی قائد تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری کی ذاتی دلچسپی اور راہنمائی میں انسداددہشت گردی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک مسلسل قانونی چارہ جوئی پوری طاقت، عزم، استقامت کے ساتھ جاری وساری ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین اور شہداء کے لواحقین کو انصاف نہیں مل جاتا اور اس سانحہ میں ملوث عناصر اپنے عبرت ناک انجام سے دوچارنہیں ہو جاتے

حصولِ انصاف کی اس جدوجہد میں شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری پر غیر متزلزل یقین اور اعتماد کا اظہار قابلِ فخر اور قابلِ تقلید ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے گزشتہ گزرے ہوئے بارہ سالوں کا ہر دن حصولِ انصاف کی جدوجہد میں گزارا۔ الحمدللہ اس جدوجہد میں نہ قیادت کے عزم میں کوئی شکن آئی اور نہ ہی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے عزم و ہمت اور حوصلے کو وقت کی نمرودی، فرعونی اور قارونی قوتیں متزلزل کر سکیں

اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ وہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے درجات بلند کرے، ان کی قبروں کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنائے اور ظالم نظام اور اس کی محافظ استحصالی قوتوں کے خلاف شہداء نے جو جانی قربانیاں دیں اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے، شہداء کے خون کے صدقے پاکستان کو ہر قسم کے ظلم اور استحصال سے پاک کرے، شہداء کی ان قربانیوں کے صدقے پاکستان میں مصطفوی انقلاب کا سورج طلوع ہو اور پاکستان حقیقی معنوں میں امن، سلامتی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔