ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن و سنت کے بیشتر مضامین انسانی زندگی کو متوازن بنائے رکھنے سے متعلق ہے۔ اسلام ایک ایسا الوہی نظام عطا کرتا ہے جو انسانیت کو ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی عطا کرتا ہے۔ رہنمائی کا یہ سلسلہ عبادت و ریاضت، حلال و حرام تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک انسان کو اس کے روزانہ کے معمولات، سونا، جاگنا، کھانا، عبادت، ریاضت الغرض تمام امور پر راہنمائی مہیا کی گئی ہے مگرافسوس بحیثیت مسلمان ہم ان الوہی ہدایات و تعلیمات کو فراموش کر چکے ہیں۔ وقت کا ضیاع ہو، خوراک کا ضیاع ہو، اللہ کی اطاعت کردہ نعمتوں کی حفاظت میں غفلت ہو یا اس کے انعام و اکرام کا ضیاع ہو، ہر معاملے میں ہم آنکھیں بند کر کے چل رہے ہیں اور نتیجتاً بیماری، غربت اور افلاس ہم پر مسلط ہے۔ یہ غربت ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ ہے۔ آئیے ذیل میں کچھ ایسے اعداد و شمار پڑھتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج بھی اللہ رب العزت کی عطا میں کوئی کمی نہیں ہے مگر حفاظت کے معاملے میں ہم مجرمانہ رویوں سے دو چار ہیں۔
خوراک کی پیداوار میں مسلسل کمی اور خوراک کا ضیاع یہ دونوں المیے بیک وقت پاکستان میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو خدانخواستہ ایشیا کی فوڈ باسکٹ پاکستان میں ہمیں وہ تمام تکلیف دہ مناظر دیکھنے کو مل سکتے ہیں جو ہم افریقی ممالک میں دیکھتے ہیں۔ جہاں تک خوراک کی پیداوار میں کمی کا سوال ہے تو ہم پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ناگہانی آفات، سیلاب، بارشوں، موسمی تغیرات اور پانی کی کم یابی کی وجہ سے زرعی سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صورت حال ناگفتنی ہے۔ ہر سال پنجاب میں سیلاب آتے ہیں جس کا سب سے زیادہ نشانہ رورل ایریا بنتا ہے۔ 2025ء میں آنے والے سیلاب سے ہزاروں ایکڑ زرخیز رقبہ کھڑی فصلوں سمیت تباہ ہوا اور اس تباہی کے سبب سے 33لاکھ افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں، لاکھوں کسان اور مزارع فصلوں کی تباہی کی وجہ سے ایک مقروض کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔ روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلابوں کے باعث 78فیصد نقصان دیہی علاقوں میں ہوا۔ یہ دیہی علاقے درحقیقت زراعت کا مرکز ہیں۔ جب یہاں سرگرمیاں سکڑتی ہیں تو اس کے اثرات پورے پاکستان پر مرتب ہوتے ہیں۔ سیلاب کی تباہیوں سے بچنے کے اسباب کیا ہیں؟ آج ہمارا یہ موضوع نہیں ہے چونکہ اس پر بہت لکھا جا چکا، اگر ہم نے چھوٹے، بڑے مطلوبہ تعداد کے ڈیمز تعمیر کیے ہوتے تو یہی پانی جو ہمیں فصلوں سمیت ڈبو دیتا ہے، یہ ہمارے لئے سونا بن جاتا۔
اب دوسرا سب سے بڑا سوال خوراک کے ضیاع کا ہے، جی ہاں ہم ایک ایسی قوم ہیں جو خوراک کو ضائع کرنے میں بہت سخی ہیں، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام 2024ء کے حوالے سے جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے اور خوراک کے مجموعی ضیاع کے حوالے سے چوتھے نمبر پر ہے۔ کبھی کبھی ہم خوراک ضائع کرنے والی دوسری قوم کا بھی ٹائٹل اپنے نام کر لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 1.3بلین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے جو کہ خوراک کی عالمی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ اس ضمن میں غریب اور ترقی پذیر ملک پاکستان کا فی کس سالانہ بنیادوں پر خوراک کے ضیاع کے حوالے سے پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہونا باعث تشویش ہے۔ ایک طرف پاکستان میں 60ملین سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور دوسری طرف خوراک ضائع کرنے والے ملکوں کی فہرست میں ہم دوسرے نمبر پر ہیں، شاید اس طرف ہمارے پالیسی سازوں کا کبھی دھیان نہیں گیا۔ اگر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اس قسم کی رپورٹس جاری نہ کریں تو ہمیں احساس تک نہ ہو کہ ہم کس شعبے میں کس گراوٹ کا شکار ہیں۔
یہاں اس امر پر بھی شکوہ بنتا ہے کہ 57 اسلامی ممالک کے دو ارب سے زائد انسانوں کی ضروریات، اُن کے مسائل کی درست تشخیص کے لئے ہمارے پاس اعداد و شمار یا سروے کا کوئی مستند نظام موجود نہیں ہے۔ اس معاملے میں ہم غیر ملکی عالمی سروے اداروں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مرہون منت ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں پاکستان کی بھوک کے عالمی انڈکس میں انتہائی 123غریب ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 106ہے جو ایک سنجیدہ اور غور طلب مسئلہ ہے۔ ایک ایسا ملک جسے اللہ نے سر سبز میدانوں، پہاڑوں، دنیا کے بڑے نہری نظام سے نواز رکھا ہے اس ملک کی غربت کا یہ عالم ہے کہ وہاں 6کروڑ سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ اگر دیانتداری کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو کم وبیش 10کروڑ سے زائد افراد غربت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اگر حالیہ پٹرول کی قیمتوں اور ہوشربا یوٹیلٹی بلوں کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ تعداد اس سے بھی بڑھ جاتی ہے چونکہ غریب عوام کو اُن کی مجموعی آمدن سے زائد یوٹیلٹی بلز موصول ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 36ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے یعنی ہر شخص 122کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے اگر 36ملین ٹن خوراک کے ضیاع کا روپوں میں اندازہ لگایا جائے تو یہ 4ارب ڈالر سے زائد کی رقم بنتی ہے۔ اس کے برعکس ہمسایہ ملک بھارت میں خوراک کے ضیاع کی سالانہ فی کس شرح 54کلوگرام ہے۔
خوراک کے ضیاع میں بہت سارے عوامل کارفرما ہیں، جن میں ناقص انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کا فقدان، فوڈ سٹوریج کی سہولیات میں کمی، نقل و حمل اور سپلائی چین اور اس حوالے سے کسانوں کی تربیت اور خوراک کی ٹرانسپورٹیشن میں بروئے کار آنے والی افرادی قوت کی ناتجربہ کاری سرفہرست ہے۔ یہاں خوراک کے ضیاع کی ایک اور نشاندہی بے محل نہ ہو گی، ہم شادی بیاہ اور دعوتوں میں خوراک کی بے حرمتی اور ضیاع کے جو مناظر دیکھتے ہیں وہ بھی اس ضیاع میں شامل ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم خوراک کے ضیاع کے اعداد و شمار کو کم سے کم سطح پر کیسے لائیں؟ سورہ عبس میں اللہ رب العزت نے فرمایا: ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنی غذا کی طرف دیکھے‘‘ اس آیت مبارکہ کی تفسیر حدیث مبارک میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر 7آنتوں میں کھاتا ہے یعنی مومن صرف اتنا کھاتا ہے جس سے وہ جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھ سکے اور کافر اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ کتنا کھارہا ہے۔ یہ تعلیم ہے کہ پیٹ بھر کر مت کھاؤ، پیٹ بھر کر کھانا بھی خوراک کا ضیاع بھی ہے اور صحت کا نقصان بھی ہے۔ ایک اور حدیث مبارک میں آپ ﷺ نے فرمایا: انسان نے پیٹ سے زیادہ برا برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لئے چند لقمے کھاناکافی ہے جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں۔ اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی کھانے کے لئے، ایک پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے رکھے۔ آپ ﷺ نے ایک بڑی توند والے فربہ شخص کو دیکھا اور اپنے دست مبارک سے اس کے بڑے ہوئے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر یہ اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ ہوتا تو تیرے لیے بہتر ہوتا یعنی آپ ﷺ کااشارہ اس طرف تھا کہ اس شخص نے اگر اپنے کھانے میں سے کسی اور شریک کیا ہوتا تو اس کی توند کی حالت یہ نہ ہوتی۔
بحیثیت مسلمان ہمارے سامنے ہمارے پیارے نبی حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ بطور ماڈل موجود ہے۔ اس سے استفادہ کرنے سے ہم اس المیہ سے باہر نکل سکتے ہیں۔