شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا دورہِ پرتگال

خصوصی رپورٹ

گزشتہ ماہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے چیئرمین سپریم کونسل MQI ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور یورپ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پرتگال کے دارالحکومت لزبن کا ایک تاریخی دورہ کیا، جس میں انہوں نے مختلف پروگرامز، تربیتی نشستوں اور بین الاقوامی کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے امن، رواداری اور نئی نسل کی تربیت کا جامع منشور پیش کیا۔ اس دورہ کی اجمالی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:

1۔ مرکزی اسلامک سنٹر لزبن میں منعقدہ "سیرت النبی ﷺ و امنِ عالم کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے سیرتِ طیبہ کو انسانیت کے لیے کامل ضابطہ حیات قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کا واحد حل تعلیماتِ نبوی ﷺ میں مضمر ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، عدل، محبت اور برداشت کا آفاقی پیغام رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو عملی طور پر نافذ کر لیں تو دنیا حقیقی معنوں میں امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ انسان کی زندگی صرف مادی ترقی تک محدود نہیں بلکہ اس کی حقیقی کامیابی روحانی بالیدگی، اعلیٰ اخلاق اور انسانی اقدار کی پاسداری میں ہے، اور یہ تمام اوصاف ہمیں سیرتِ رسول اکرم ﷺ سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

کانفرنس میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں، عیسائی اور دیگر کمیونٹیز کے نمائندگان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔

2۔ لزبن کے مقامی ہال میں منعقدہ"میٹ اینڈ گریٹ سیشن" میں مسلم و غیر مسلم اور پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے خطاب میں انسانی زندگی کے حقیقی مقصد، روحانی تربیت اور دین سے مضبوط تعلق کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی محض مادی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک گہرا روحانی پہلو بھی ہے، جس کی تکمیل ذکرِ الٰہی، عبادات اور دین کی درست معرفت سے ممکن ہے۔ انہوں نے بچوں کی ابتدائی تربیت کو بنیاد قرار دیتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور خود بہترین عملی نمونہ پیش کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ماحول اور معاشرت انسان کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے نوجوان نسل کو مساجد اور دینی مراکز سے وابستہ رکھنا ناگزیر ہے۔ قرآن مجید کو ’’فرقان‘‘ کے طور پر سمجھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی حق و باطل میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس امر کو بھی نمایاں کیا کہ مسجد صرف عبادت کا مقام نہیں بلکہ ایک مؤثر تربیتی مرکز ہے، اور دین کی بقا و فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد، محنت اور استقامت بنیادی تقاضے ہیں۔

نشست کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے اسلام، دیارِ غیر میں بسنے والے مسلمانوں کو درپیش مسائل، پاکستانی کمیونٹی کے چیلنجز، معاشرتی عدم استحکام اور امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود جیسے اہم موضوعات پر سوالات کیے۔

تقریبات میں چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، بلال اُپل، محمد صغیر، کاشف نذیر، سکھ کمیونٹی کے صدر گگندیپ سنگھ، محمد رفیق (مرکزی مسجد لزبن)، محمد یاسین (کیپٹل ہوٹل)، خالد جمال، مبین سید فیصل، پرتگالی و موزمبیق سفارتی حکام ، پاکستانی سفارتخانے کے کونسلر آفیسر محمد اکرام، پاسپورٹ آفیسر غلام مصطفیٰ، باتسہ بانو، عمادے موسیٰ، موزمبیق کے سفیر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات بشمول حسن بوستان، مرینہ شاہ سید، عامر صدیق اور دیگر نے شرکت کی۔

3۔ شیخ الاسلام نے لزبن کے مقامی ہوٹل میں منہاج القرآن ویمن لیگ کی ذمہ داران و کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کی تربیت اور خاندانی نظام پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ شیخ الاسلام نے ماں کے عظیم مقام اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ انسان کی زندگی کا آغاز ماں کے پیٹ سے ہوتا ہے، جہاں بچہ نو ماہ تک ماں کے وجود کا حصہ رہتا ہے۔ اس دوران ماں کی جسمانی اور ذہنی کیفیت براہِ راست بچے کی نشوونما اور شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سائنسی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ ماں کی خوشی، سکون اور ذہنی حالت بچے کے مزاج اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسلام نے ماں کے مقام کو بے حد بلند رکھا ہے، یہاں تک کہ “ماں کے قدموں تلے جنت ہے” کا تصور دراصل اس عظیم ذمہ داری اور قربانی کی عکاسی کرتا ہے جو ماں اپنے بچے کی پرورش میں ادا کرتی ہے۔ ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی ابتدائی تربیت، عادات اور شخصیت کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے والد کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے باپ کی فعال شرکت ضروری ہے۔ اگر باپ بچوں کو وقت دے، ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرے تو بچے کی شخصیت زیادہ پُراعتماد اور متوازن بنتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت، توجہ اور مثبت ماحول فراہم کریں۔ شیخ الاسلام نے زور دیا کہ بچوں کی تربیت میں سختی، بدزبانی، غصہ اور گالی گلوچ جیسے رویے نہایت نقصان دہ ہیں۔ اسلام ہمیں حسنِ اخلاق، نرمی اور محبت کا درس دیتا ہے، اور یہی اصول بچوں کی تربیت میں اختیار کیے جانے چاہئیں۔

اگر گھر کا ماحول محبت، احترام اور سکون پر مبنی ہو تو بچے مثبت شخصیت کے حامل بنتے ہیں، جبکہ جھگڑے اور بے ادبی بچوں پر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔ دین کو صرف ظاہری عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے روزمرہ زندگی، گفتگو، رویے اور اخلاق کا حصہ بنانے کی تلقین کی گئی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کے سوالات کو دبایا نہ جائے بلکہ انہیں کھل کر سوال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ بچوں کی جستجو کو سراہتے ہوئے والدین کو ہدایت دی گئی کہ وہ صبر اور محبت کے ساتھ ان کے سوالات کے جوابات دیں تاکہ بچے دین کو سمجھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ خصوصی طور پر خواتین (ماؤں) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی ذات میں دینی شعور پیدا کریں، اپنے کردار اور عمل کو بہتر بنائیں، اور محبت و حکمت کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں۔ کیونکہ ماں ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سے بچے کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔

آخر میں شرکاء کو تلقین کی گئی کہ دین کو اپنی زندگی، گھر کے ماحول اور خاندانی نظام کا حصہ بنائیں، صبر و حکمت کو اپنائیں، اور بچوں کی تربیت کو محبت، سمجھ اور مثبت انداز کے ساتھ انجام دیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، متوازن اور حقیقی اسلامی کردار کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔

4۔ شیخ الاسلام نے منہاج القرآن پرتگال کے ذمہ داران کے ساتھ خصوصی نشست میں روحانی تربیت، تزکیۂ نفس اور دین سے حقیقی وابستگی پر اثر انگیز گفتگو کی۔ آپ نے تحریک کے ابتدائی ایام کے واقعات سنا کر رفقاء کے جذبوں کو مہمیز کیا اور اخلاص کے ساتھ مشن جاری رکھنے کی تلقین کی۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل پرتگال کی مثالی تنظیمی کارکردگی کے اعتراف میں شیخ الاسلام اور ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ایگزیکٹو کونسل کو خصوصی شیلڈ سے نوازا۔ یہ شیلڈ منہاج یورپین کونسل کی طرف سے دی گئی۔ اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن پرتگال کی ایگزیکٹو ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اخلاص، نظم و ضبط اور مسلسل محنت ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہیں۔ انہوں نے منہاج القرآن پرتگال کی تنظیمی خدمات کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یورپ میں تنظیم کے کارکنان دینِ اسلام کے پیغام کو محنت، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ شیخ الاسلام نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس مشن کو مزید فروغ عطا فرمائے اور کارکنان کو استقامت اور اخلاص کے ساتھ خدمتِ دین جاری رکھنے کی توفیق دے۔ انہوں نے شرکاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ نیتوں کی پاکیزگی، باہمی اتحاد اور خدمتِ دین کو اپنی زندگیوں کا محور بنایا جائے تاکہ تنظیمی مقاصد مزید مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

ان تمام نشستوں میں حسن بوستان، مرینہ شاہ سید، عامر صادق، قیصر زبیر نجیب، محمد ظل حسن، علامہ مفتی اعجاز ملک، شاہد مرسلین، حافظ غلام دستگیر، اظہر اعوان، قاری امجد محمود، حافظ امجد، غضنفر نذیر، بابر مغل، سفیان یوسف، قاسم نظیر، شاہد ملک، شمسہ نور، محسن لقمان، عمر شیخ، ڈاکٹر سہیل احمد، سمیرا اسلم، ثمرہ قاسم اور حفظہ سید اور یورپ بھر سے آئے ہوئے تنظیمی عہدیداران نے شرکت کی۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے فاؤنڈنگ ممبرز ڈے کے موقع پر باوقار تقریب کا انعقاد

کونسل آف فاؤنڈنگ اینڈ سینئر ممبرز منہاج القرآن انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام فاؤنڈنگ ممبرز ڈے کے موقع پر گذشتہ ماہ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک پُروقار خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ہر سال یہ دن شیخ الاسلام کے اوائل دور، خصوصاً 1980 ء کی دہائی میں تحریک منہاج القرآن سے وابستہ ہونے والے اُن رفقاء کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں منایا جاتا ہے جنہوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس عظیم مصطفوی مشن کی آبیاری، اداروں کے قیام اور اُن کے استحکام میں شیخ الاسلام کے شانہ بشانہ نمایاں کردار ادا کیا۔ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی تحاریک میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ تحریک کے بانیان کو یاد رکھا جائے اور انہیں ہر سال خراجِ تحسین پیش کرنے کی روایت قائم کی جائے۔ ایسی روایات سے احسان، شکرگزاری اور وفا کا کلچر فروغ پاتا ہے۔

ó نائب ناظمِ اعلیٰ کوآرڈینیشن محترم ڈاکٹر محمد رفیق نجم نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ اس تقریب کا بنیادی مقصد اُن مکرم و محتشم فاؤنڈنگ ممبرز اور رفقاء کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے، جنہوں نے 17 اکتوبر 1980ء سے تحریک منہاج القرآن کے آغاز کے ساتھ ہی شیخ الاسلام کے شانہ بشانہ اس عظیم مصطفوی مشن کی آبیاری میں اپنا وقت، صلاحیتیں اور وسائل صرف کیے۔ آج تحریک منہاج القرآن کا دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیلاؤ اور اس کا تناور اور سایہ دار درخت بن جانا، آپ معززین کی اخلاص، محنت اور قربانیوں کا روشن ثبوت ہے۔ آپ میں سے ہر شخص فقط ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد اور ایک تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے، جنہوں نے اپنی جوانی، وقت، وسائل اور سماجی مقام کو دین کے اس عظیم مشن کے لیے وقف کیا۔

ó سیکرٹری کونسل آف فاؤنڈنگ ممبرز محترم شہزاد رسول قادری نے کہا کہ ابتدائی دور کے وہ ساتھی جنہوں نے نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی اور ہر مشکل اور آزمائش کے وقت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، آج کا یہ عظیم دن درحقیقت اُن جانثار رفقاء کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ ہم اُن تمام فاؤنڈنگ اور سینئر ممبرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس عظیم مصطفوی مشن کی بنیادوں میں اپنا خونِ جگر، وقت اور صلاحیتیں صرف کیں۔ آج تحریک منہاج القرآن کا دنیا بھر میں پھیلاؤ اُنہی بزرگوں کی اخلاص، قربانیوں اور استقامت کا نتیجہ ہے۔ آپ سب ہمارے لیے موٹیویشن اور رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ ہم آپ کی محبت، اخلاص اور قربانیوں سے سبق لیتے ہیں۔ آپ اپنی قیمتی نصیحتوں اور تجربات سے ہماری رہنمائی فرماتے رہا کریں تاکہ ہم اس عظیم مشن کو آئندہ نسلوں تک اسی جذبے اور اخلاص کے ساتھ منتقل کر سکیں۔

ó محترم علامہ شاہد لطیف قادری (صدر منہاجینز، ڈائریکٹر ریسورسز اینڈ ڈویلپمنٹ) نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت اور اُن کی خدمات ایسی ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی اُن کا تذکرہ فخر کے ساتھ کریں گی، اور جو شخص اُن کے دور کو دیکھنے یا اُن سے نسبت رکھنے کا دعویٰ کرے گا، لوگ اُسے خوش نصیب اور صاحبِ سعادت سمجھیں گے۔ تحریک منہاج القرآن کے فاؤنڈنگ اور سینئر ممبرز وہ خوش نصیب افراد ہیں جنہوں نے شیخ الاسلام کی جوانی کے دور میں اُن کے ساتھ سفر کیے، مشکلات برداشت کیں اور اس عظیم مصطفوی مشن کی آبیاری میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ رفقاء کی قربانیاں اور استقامت اس تحریک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

شیخ الاسلام کی سب سے بڑی شفقت اور بصیرت یہ ہے کہ انہوں نے آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیے پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی صورت میں ایسی قیادت تیار کی گئی ہے جو نہ صرف اس مشن کو آگے بڑھا رہی ہے بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں مؤثر انداز میں پہنچا رہی ہے۔ تحریک منہاج القرآن کی اصل طاقت عمارات یا وسائل نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جو اخلاص، محبت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ اس مشن سے وابستہ ہیں۔

ó اس تقریب میں سینئرممبران نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر کسی دور میں ایمان کے تحفظ اور دین کی خدمت کرنے والی کوئی جماعت موجود ہو تو اُس کے ساتھ شامل ہو جانا ہی ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم اس تحریک کے آغاز سے ہی اس کے ساتھ وابستہ ہوئے اور الحمد للہ تعالیٰ آج تک اس کے ساتھ تعلق کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم مشن سے وابستہ کر کے بے پناہ سعادت عطا فرمائی ہے۔ شیخ الاسلام کی شخصیت نے انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ دین کی خدمت علم، اخلاص اور استقامت کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ تحریک منہاج القرآن کے ابتدائی ایام میں کارکنان نے بے شمار مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا، مگر شیخ الاسلام کی قیادت اور حوصلہ افزائی نے انہیں ثابت قدم رکھا۔ ان ایام میں دین کی خدمت کا جذبہ اور اتحاد ہی اصل طاقت تھا، جس نے اس تحریک کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم مشن کے ساتھ اخلاص اور استقامت کے ساتھ وابستہ رکھے اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اس روحانی امانت کو آئندہ نسلوں تک صحیح انداز میں منتقل کر سکیں۔

ó صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے فاؤنڈنگ ممبرز ڈے کی تقریب میں نہایت فکرانگیز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی بھی نیک مشن کے آغاز میں شامل ہونا محض ایک تنظیمی وابستگی نہیں بلکہ ایک ایسی سعادت ہے جو انسان کو اُس مشن کی تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہے۔ آج جو آسانیاں، وسعتیں اور ثمرات دکھائی دیتے ہیں، وہ دراصل انہی لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہیں جنہوں نے ابتدا میں خاموشی، استقامت اور یقین کے ساتھ اس چراغ کو روشن رکھا۔ اولین افراد کا مقام ہمیشہ منفرد ہوتا ہے۔ بعد میں آنے والے افراد یقیناً بڑی خدمات انجام دیتے ہیں، ادارے قائم کرتے ہیں، علمی و دعوتی کاموں کو فروغ دیتے ہیں مگر ''ابتدا'' کا شرف صرف انہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنہوں نے نتائج ظاہر ہونے سے پہلے یقین کیا اور ظاہری کامیابیوں کے بغیر اخلاص، اعتماد اور وفاداری کے ساتھ ایک مشن کا ہاتھ تھاما۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں کسی نیک عمل کا اجراء کرتا ہے، پھر بعد میں لوگ اس پر عمل کریں، تو اس کے لیے ان سب کے برابر اجر لکھا جاتا ہے، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ یہ ایسا عظیم اجر ہے جس کا تسلسل وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور قیامت تک ملتا رہے گا۔ یہ اصول صرف دینی روایت تک محدود نہیں بلکہ تاریخِ انسانی میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ بغداد کی علمی سرزمین ہو، برصغیر کی اصلاحی تحریکیں ہوں یا روحانی سلاسل کی تاریخ، ہر جگہ وہی لوگ اصل بنیاد قرار پاتے ہیں جو ابتدا میں اخلاص، اطاعت اور بے نفسی کے ساتھ جڑتے ہیں۔

صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل نے فاؤنڈنگ ممبرز کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز صرف فخر کا نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ہر فاؤنڈنگ ممبر اپنے علاقے میں ماہانہ بنیاد پر تنظیمی سرگرمیوں میں شریک ہو۔ اپنے تجربات اور یادداشتوں کو تحریری شکل میں محفوظ کرے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہوں۔ نئی نسل کے ساتھ رابطہ رکھے اور انہیں تحریک کے پیغام سے جوڑے۔ اپنی اولاد کو بھی اس مشن کا حصہ بنائے تاکہ روحانی وراثت منتقل ہو سکے۔ اختلافی معاملات سے دور رہتے ہوئے ایک سرپرست کا کردار ادا کرے اور مثبت یادیں، محبت اور اتحاد کی فضا قائم رکھے۔

فاؤنڈنگ ممبرز وہ خوش نصیب و فیض یافتہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت اس قافلے کا ساتھ دیا جب یہ محض ایک تصوّر، امید اور پیغام تھا۔ اس عظیم مشن کے ساتھ تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے، اس کی خدمت کو جاری رکھا جائے، اس نسبت کی حفاظت کی جائے اور اس امانت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا جائے تاکہ یہ قافلہ اخلاص، وفا، خدمت اور برکت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مشن کو قیامت تک جاری و ساری رکھے اور اس سے وابستہ افراد کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

ó تقریب میں سینئر ممبرزمحترم احمد نواز انجم، محترم سید گلزار شاہ، محترم پروفیسر سلیمان خان، محترم ڈاکٹر ظفر علی ناز قریشی، محترم قاضی زاہد حسین، محترم سید مظفر حسین شاہ محترم عبد الخالق چشتی نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس خوبصورت اور باوقارتقریب میں ملک بھر سے بنفس نفیس اور آن لائن سیکڑوں فاؤنڈنگ ممبرز نے شرکت کی۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے لیے "یونیسکو چیئر" کی تفویض

منہاجینز کے زیرِاہتمام تقریبِ تحسین کا انعقاد

11 اپریل 2026ء مرکزی سیکرٹریٹ منہاج القرآن انٹرنیشنل، لاہور میں منہاجینز فورم کے زیر اہتمام منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو یونیسکو (UNESCO) کی جانب سے "چیئر برائے تعلیم، امن اور بین الثقافتی مکالمہ" تفویض کیے جانے پر ایک پروقار "تقریبِ تحسین" منعقد کی گئی۔ منہاجینز فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں تحریک کے مرکزی قائدین، اساتذہ منہاج یونیورسٹی، اساتذہ کالج آف شریعہ، منہاجینز اورہر طبقہ زندگی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

ó اس پر وقار تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے محترم خرم نواز گنڈاپور (ناظمِ اعلیٰ) نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو یونیسکو چیئر برائے تعلیم، امن اور بین الثقافتی مکالمہ ملنا تحریک منہاج القرآن اور پاکستان کے لئے ایک تاریخی اعزاز ہے، یہ امر باعثِ فخر ہے کہ پاکستان میں سب سے پہلے جس ادارے کو اس عالمی چیئر کے قیام کے لئے منتخب کیا گیا وہ منہاج یونیورسٹی لاہور ہے، جو تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کا ایک نمایاں تعلیمی ادارہ ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو تحریک کی چار دہائیوں پر محیط بین الاقوامی خدمات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن نے ہمیشہ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور مکالمے کو فروغ دیا۔ تحریک منہاج القرآن نے نہ صرف بین المذاہب تعلقات کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کیے بلکہ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد کے حقوق، احترام اور مساوات کے لیے بھی آواز بلند کی۔

ó تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترم پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد (وائس چانسلر، MUL) نے کہا شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے چار دہائیاں قبل جس وژن کی بنیاد رکھی گئی تھی، آج وہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے قائم ہونے والے ادارے اس ویژن کی عملی تعبیر ہیں اور یہ اعزاز اسی تسلسل کی ایک نمایاں کڑی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں، جن کی قیادت میں رہنے والے افراد نہ صرف علمی رہنمائی حاصل کرتے ہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبہ جات میں سیکھنے کے بے شمار مواقع بھی پاتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری ایک ممتاز محقق، ماہرِ معاشیات اور سماجی سائنسدان ہیں، جن کی علمی مہارت زندگی کے مختلف پہلوؤں پر محیط ہے۔ ان کی تحقیق اور فکری کاوشیں نہ صرف تعلیمی میدان میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں بلکہ معاشرتی بہتری اور پائیدار ترقی کے لئے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ó محترم پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد (رجسٹرار، MUL) نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیسکو چیئرز اُن اداروں اور شخصیات کو دی جاتی ہیں جو علمی میدان میں نمایاں کارکردگی اور تحقیق کے فروغ میں منفرد مقام رکھتے ہوں، عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لئے قائم یونیسکو چیئرز یورپ، امریکہ اور افریقہ سمیت مختلف خطوں میں سرگرم عمل ہیں اور اب منہاج یونیورسٹی لاہور کا اس عالمی نیٹ ورک میں شامل ہونا پاکستان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے، کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان علمی و تحقیقی میدان میں عالمی سطح پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی قیادت میں منہاج یونیورسٹی لاہور میں متعدد ریسرچ و ٹریننگ سینٹرز قائم کیے گئے، جن میں پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، اسلامک اکنامکس اور دیگر عالمی معیار کے تحقیقی مراکز شامل ہیں۔ ان اداروں نے تحقیق، تربیت اور علمی مکالمے کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور یہی ماحول یونیسکو چیئر کے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

ó محترم حاجی امین قادری (چیئرمین ڈائریکٹوریٹ آف ریسورسز) نے اس تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اس فکری جدوجہد کا تسلسل ہے جس کی بنیاد شیخ الاسلام نے رکھی۔ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی آنکھوں سے تحریک منہاج القرآن کے سفر کو ترقی کرتے دیکھا ہے۔ ابتداء ہی سے اس تحریک کا مقصد بین المذاہب رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور امن کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ تحریک کے پروگرامز میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کرنا اور ان کے ساتھ مثبت مکالمہ کرنا اسی فکر کا عملی اظہار تھا، جس نے معاشرے میں برداشت اور احترام کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کا قیام بھی اسی وژن کا تسلسل ہے، جہاں علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ آج کی یہ تقریب اس اعزاز کے اعتراف میں سجائی گئی ہے، جو نہ صرف ایک شخصیت بلکہ ایک نظریہ اور ایک تحریک کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے۔

ó محترم محمد شاہد لطیف (صدر منہاجینز فورم) نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں تحریک نے جس انداز سے عالمی سطح پر مقام حاصل کیا ہے، یہ اس کی مخلص قیادت، فکری گہرائی اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ اعزاز درحقیقت پوری تحریک کے لئے باعثِ فخر ہے۔ تحریک منہاج القرآن کو اگر ایک ہیرے سے تشبیہ دی جائے تو یہ ہر زاویے سے اپنی الگ چمک رکھتی ہے اور ہر دیکھنے والا اپنی بصیرت اور ظرف کے مطابق اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔ عام قیادت اور تجدیدی قیادت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ تجدیدی قیادت وہ ہوتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیض کی حامل ہو اور اس میں تین بنیادی اوصاف پائے جاتے ہیں: قابلیت، اہلیت اور طلب۔ خوش نصیبی سے تحریک منہاج القرآن کی قیادت ان تمام اوصاف کی حامل ہے۔ تحریک کی ترقی محض تنظیمی ڈھانچے یا ظاہری وسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری روحانی اور فکری قوت کارفرما ہے۔ تحریک کی کامیابی کا اصل راز قیادت کا دنیا سے بے نیاز ہونا اور اخلاص پر مبنی فکر ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے اس مشن کو عالمی سطح پر ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ جب قیادت کا دل دنیاوی مفادات سے آزاد ہو جائے تو پھر اس کی جدوجہد نسلوں کے ایمان اور کردار کی تشکیل کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

ó محترم پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں کہا آج کی تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک طویل فکری، علمی اور تحریکی سفر کی یادگار روداد ہے، جس کے پیچھے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی گزشتہ چار دہائیوں پر محیط جدوجہد، بصیرت اور انقلابی سوچ کارفرما ہے، جب دنیا میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور بھی مشکل تھا، اس وقت شیخ الاسلام نے اتحادِ امت، رواداری اور مکالمے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ 1980 ءکی دہائی میں جب فرقہ واریت اپنے عروج پر تھی، اس وقت مختلف مکاتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ایک خواب محسوس ہوتا تھا مگر تحریک منہاج القرآن نے اسے عملی شکل دی۔ بعد ازاں 1990ءکی دہائی میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے جو اقدامات کئے گئے، آج وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماڈل ہیں۔

منہاج القرآن کی جدوجہد محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی اور ادارہ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس فکر کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ادارے قائم کئے گئے، جن میں منہاج ایجوکیشن سوسائٹی، نظام المدارس پاکستان اور بالخصوص منہاج یونیورسٹی لاہور شامل ہیں۔ منہاج یونیورسٹی لاہور صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری، تحقیقی اور عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والا مرکز ہے، یونیورسٹی میں قائم کئے گئے ریسرچ سینٹرز، جدید علوم، بین المذاہب مکالمہ، انسدادِ انتہا پسندی، مائیگریشن اسٹڈیز اور اسلامی بینکاری جیسے شعبہ جات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ادارہ وقت کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کی کامیابی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تحریک ہے، جو علم، تحقیق، امن، رواداری اور انسانیت کی خدمت کے ہر میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یونیسکو چیئر محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ یہ چیئر تحقیق، پالیسی سازی، بین الاقوامی مکالمہ اور امن کے فروغ کے لئے ایک فعال پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جس کے ذریعے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اس چیئر کے تحت نہ صرف علمی و تحقیقی کام ہوگا بلکہ کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی اور یہ سب کچھ منہاج القرآن کی فکر کے تحت انجام پائے گا۔

ó تقریب میں نظامت کے فرائض محترم عین الحق بغدادی نے سرانجام دیے۔ تقریب کے اختتام پر اس تاریخی کامیابی کی خوشی میں کیک کاٹا گیا۔ شرکاء نے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو مبارکباد پیش کی اور ان کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کا 53واں سالانہ عرس مبارک

رپورٹ: حافظ عبدالقدیر قادری

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے والدِ گرامی حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کا 53واں سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ بستی لوہلے شاہ، جھنگ صدر میں منعقد ہوا۔ اس روحانی تقریب میں ملک بھر سے علماء و مشائخ، قراء و نعت خوان اور عقیدت مندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ عرس مبارک کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز دربارِ عالیہ پر چادر پوشی کی روح پرور تقریب سے ہوا۔ ایڈمنسٹریٹر دربارِ فرید الحاج صبغت اللہ قادری، صاحبزادہ محمد طاہر قادری، حافظ عبدالقدیر قادری، نائب ناظمِ اعلیٰ منہاج القرآن جواد حامد، برگیڈیئر (ر) عمر حیات، جی ایم ملک، رانا محمد ادریس قادری، نور اللہ صدیقی اور دیگر مرکزی قائدین نے مزارِ اقدس پر چادر پوشی کی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔

مرکزی تقریب میں قراء کرام نے تلاوت قرآن اور ثنا خوانان نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ عالمی شہرت یافتہ نقیب صفدر علی محسن، صاحبزادہ تسلیم احمد صابری اور علامہ منہاج الدین قادری نے نقابت کے فرائض سرانجام دیے۔

ó عرس مبارک کی اس تقریب میں صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے "فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ: علم، روحانیت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج" کے موضوع پر خصوصی خطاب فرمایا۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ بیسویں صدی کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جن کی ذات میں علم و حکمت، تصوف و روحانیت، ادب و شاعری، جدید و قدیم طب، فہم و فراست اور اخلاص و کردار ایک حسین اور متوازن امتزاج کے ساتھ جلوہ گر تھے۔ آپ محض ایک عالم یا معالج نہ تھے بلکہ ایک ایسے مربی، مرشد اور صاحبِ نظر انسان تھے جنہوں نے اپنے عہد میں علم، روحانیت اور کردار سازی کے میدان میں گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔

کسی بھی شخصیت کی اصل قدر و منزلت کا اندازہ اس کے علم، فکر، کردار اور اس علمی و روحانی ورثے سے ہوتا ہے جو وہ اپنے بعد چھوڑ جاتی ہے۔ حضرت فریدِ ملت قادریؒ اس اعتبار سے ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہانت، وسعتِ مطالعہ اور فکری جامعیت سے نوازا تھا۔ آپ نے دینی اور عصری علوم کے درمیان ایسا حسین ربط قائم کیا جو اپنے عہد میں بہت کم شخصیات کو نصیب ہوا۔ آپ کی ذات اس حقیقت کی روشن مثال بن گئی کہ دین اور دنیا کا متوازن امتزاج ہی امت کی درست رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے۔

حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کا علمی ذوق اور تصنیفی سرمایہ، بالخصوص ان کا سفرنامہ، اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سفرنامہ محض سفری مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ ایک صاحبِ بصیرت، صاحبِ دل اور عارفانہ نگاہ رکھنے والے عالم کی نظر سے دیکھی گئی دنیا کی ایسی تصویر ہے جس میں تاریخ، ادب، روحانیت اور دینی شعور ایک دوسرے میں گھلے ملے دکھائی دیتے ہیں۔ ایران، عراق، ترکی اور شام کے سفر پر مبنی یہ تحریر اپنے اندر ایسی علمی و روحانی گہرائی رکھتی ہے کہ اسے صرف ایک سفرنامہ کہنا اس کے مقام کو محدود کرنا ہوگا۔ آپ جہاں بھی گئے، وہاں صرف مقامات کی ظاہری کیفیت بیان نہیں کی بلکہ ان کے تاریخی پس منظر، علمی اہمیت، روحانی تاثیر اور باطنی اسرار کو بھی نہایت دل نشیں انداز میں قلم بند کیا۔ اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری، روحانی مشاہدات کا بیان، قرآن و حدیث کے حوالے، عربی و فارسی ادب سے استشہاد، اور تہذیب و معاشرت پر باریک نظر، یہ سب عناصر مل کر آپ کے سفرنامے کو ایک منفرد علمی و ادبی شاہکار بنا دیتے ہیں۔ بطور معالج آپ کی تجزیاتی نگاہ نے اس سفرنامے کو ایک خاص فکری اور مشاہداتی جہت بھی عطا کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ دنیا کو محض ایک مادی منظرنامہ نہیں بلکہ آیاتِ الٰہی کے ظہور کے طور پر دیکھتے تھے۔

حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے سفرنامے کا اسلوب ایسا ہے کہ وہ تاریخ کے اوراق کے درمیان سے قاری کو گزار کر قرآن و حدیث کے حوالوں سے روشنی فراہم کرتے ہیں، پھر ادب، شاعری اور روحانیت کے ذریعے ایک مکمل فکری و روحانی فضا قائم کر دیتے ہیں۔ حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے محدود مدت میں چار ممالک کا سفر کیا، مگر اپنے مشاہدات، علمی گہرائی اور روحانی بصیرت کے ذریعے اسے ایک لازوال علمی و ادبی سرمایہ بنا دیا۔ آپ کا علم سے تعلق محض تدریس یا تصنیف تک محدود نہ تھا بلکہ آپ نایاب کتب کے شائق، وسیع المطالعہ عالم اور اعلیٰ علمی ذوق رکھنے والے محقق تھے۔ آپ کا ذاتی کتب خانہ، جو آج بھی فریدِ ملّت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں علمی سرمایے کے طور پر محفوظ ہے، آپ کی علمی وسعت اور کتاب دوستی کا زندہ ثبوت ہے۔ آپ کی شخصیت ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک مستقل جہانِ علم و معرفت کی حیثیت رکھتی تھی۔

حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے بڑی اور روشن میراث ان کی تربیتی عظمت ہے۔ تاریخ میں عظیم شخصیات صرف اپنی ذات کے باعث عظیم نہیں ہوتیں بلکہ وہ آئندہ نسلوں کی فکری و روحانی تشکیل بھی کرتی ہیں۔ آپ کی زندگی کا ایک نمایاں ترین پہلو یہ ہے کہ آپ نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی صورت میں ایک ایسی عظیم شخصیت کی تربیت فرمائی جس نے عالمی سطح پر دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت، تجدید و احیائے دین، اُمت کی فکری رہنمائی اور روحانی بیداری کا عظیم کام انجام دیا۔ اس اعتبار سے آپ کی حیاتِ طیبہ محض ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ ایک پورے فکری و روحانی سلسلے کی بنیاد ہے۔

آپ کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اخلاص، علم، محبتِ رسول ﷺ ، حلال رزق، سادگی، کردار، ایثار اور نسلوں کی دینی تربیت ہی وہ اقدار ہیں جن سے عظیم معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسلوں کے عقائد، کردار اور دینی شعور کی حفاظت کریں، انہیں صالح ماحول فراہم کریں اور ایسی تربیت کا اہتمام کریں جو انہیں دین، علم اور اخلاق کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھے۔ اللہ رب العزت ہمیں حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و روحانی فیوض سے بہرہ مند فرمائے، ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری نسلوں کو علم، عمل، اخلاص اور محبتِ رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال فرمائے۔

عرس مبارک کی اس روح پرور تقریب کا اختتام حضرت فریدِ ملتؒ کے درجات کی بلندی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، ملکِ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کی خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے نائب صدر بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) اقبال احمد خان کا انتقال پرملال

گزشتہ ماہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے نائب صدر بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان انتقال فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، محترم ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، محترم ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈا پور اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کی جملہ مرکزی قیادت نے بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان کے انتقال پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ مرحوم ایک نہایت مخلص، محنتی اور ذمہ دار شخصیت تھے، جنہوں نے تحریک منہاج القرآن کے استحکام اور فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات اور وابستگی کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم اخلاص وفا کا پیکر، دیانتدار، ایماندار، انتہائی خوش اخلاق، خوش گفتاراور مصطفوی مشن کا عظیم سرمایہ تھے۔ تحریک منہاج القرآن کے لیے اُن کی 25 سالہ غیرمعمولی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ رب العزت ان کی بخشش و مغفرت فرمائے اور اُن کے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اُن کی اولاد کو دینِ مبین کی راہ پر استقامت عطا کرے۔ آمین

مرحوم کی نماز جنازہ صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں جملہ مرکزی قائدین، سٹاف اور کثیر تحریکی کارکنان نے شرکت کی اور ان کی بخشش و مغفرت کے لئے دعا کی اور مرحوم کے پسماندگان بالخصوص راجہ فیض رسول (بیٹے)، سمیع الرحمن اور شجاع الرحمن (نواسے) و دیگر لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔

اللہ تعالیٰ بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل و اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ