سوال: ماہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں کی فضیلت کیا ہے؟
جواب: حج و قربانی کی مناسبت سے ماہ ذوالحجہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کثیر برکتیں اور سعادتیں عطا کر رکھی ہیں۔ ماہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں کو عظمت و فضیلت کا وہ خزانہ عطا کیا گیا ہے کہ ہر ایک رات رمضان المبارک کی لیلۃ القدر کے برابر ہے۔ جس طرح رمضان المبارک کی برکتوں کو سمیٹ کر عید الفطر میں رکھ دیا گیا اور اس دن کو خوشی کے دن کے طور پر مقرر کر دیا گیا۔ ان دس راتوں کے اختتام پر اللہ رب العزت نے عیدالاضحٰی کے دن کو مسرت و شادمانی کے دن کی صورت میں یادگار حیثیت کر دی۔ اس دن کو عرف عام میں قربانی کی عید کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبُّ إِلَی اللهِ أَنْ یُتَعَبَّدَ لَہُ فِیہَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّۃِ یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِنْہَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ وَقِیَامُ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْہَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِقَا.
(الترمذی، السنن، ٣: ١٣١، الرقم: ٧٥٨)
''اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادت بجائے دوسرے اوقات و ایام میں کرنے کے عشرہ ذوالحجہ میں کرنی محبوب تر ہے۔ اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ایک ایک رات کا قیام، لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔ ''
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''ان دس دنوں (عشرہ ذی الحجہ) میں اللہ تعالیٰ کے حضور نیک عمل جتنا پسندیدہ و محبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ و محبوب تر نہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ ! اللہ کے راستہ میں جہاد بھی نہیں، فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ لے کر گھر نہ لوٹا۔ ''
(ابو داود، السنن، ٢: ٣٢٥، الرقم: ٢٤٣٨)
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں عشرۂ ذی الحجہ میں جن اعمال کے کرنے کی فضیلت آئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ ذکر الٰہی کا اہتمام کرنا
اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ان دس دنوں میں اپنا ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ.
(الْحَجّ، 22: 28)
اور مقررہ دنوں کے اندر اللہ کے نام کا ذکر کرو۔
صحابہ کرام اور محدثین و مفسرین کے نزدیک ان ایام معلومات سے مرادعشرہ ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔
2۔ کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کہنا
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
کوئی دن بارگاہ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں، اور نہ ہی کسی دن کا (اچھا) عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو۔
سلف صالحین اس عمل کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔ امام بخاری نے بیان کیا ہے کہ ان دس دنوں میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہما تکبیر کہتے ہوئے بازار نکلتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے۔
3۔ بال ناخن وغیرہ نہ کاٹنا
کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اور ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو اسے چاہئے کہ قربانی کرنے تک اپنے ناخن بال وغیرہ نہ کاٹے۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَہُ أُضْحِیَّۃٌ یُرِیدُ أَنْ یُضَحِّيَ فَلَا یَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا یَقْلِمَنَّ ظُفُرًا.
''جب عشرہ ذی الحجہ داخل ہوجائے (یعنی ماہ ذی الحجہ کا چاند نظر آئے) اور جس شخص کے پاس قربانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ '' (مسلم، الصحیح، ٣: ١٥٦٥، الرقم: ١٩٧٧)
سوال: حج کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں آگاہ فرمائیں؟
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ یہ ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو صاحب استطاعت ہو۔ حج، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ایسا رکن ہے جو اجتماعیت اور اتحاد و یگانگت کا آئینہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ لِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا.
(آل عمران، 3: 97)
''اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو''۔
حج کرنے والے کے لئے جنت ہے۔ حجاج کرام خدا کے مہمان ہوتے ہیں اور ان کی دعا قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔ یہ نفوس ہر قسم کی برائی کا خاتمہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے نیکیوں کے حصول کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص زندگی میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرے تو وہ رب کائنات کی رحمتوں سے نہ صرف محروم ہوجاتا ہے بلکہ ہدایت کے راستے بھی اس کے لئے مسدود ہوجاتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں حج کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے:
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّۃُ.
’’ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کا درمیانی عرصہ گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ جنت ہی ہے۔ ‘‘
(البخاری فی الصحیح، ابواب العمرۃ، 2/ 629، رقم: 1683)
2۔ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ کرم سے نکال دیتا ہے۔ حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ لَمْ یَمْنَعْہُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَۃٌ ظَاہِرَۃٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ، فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ إِنْ شَآءَ یَھُوْدِیًّا وَإِنْ شَآءَ نَصْرَانِیًّا.
’’جس شخص کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں کوئی ظاہری ضرورت یا کوئی ظالم بادشاہ یا روکنے والی بیماری (یعنی سخت مرض) نہ روکے اور وہ پھر (بھی) حج نہ کرے اور (فریضہ حج کی ادائیگی کے بغیر ہی) مر جائے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر (اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے)۔ ‘‘ (الترمذی فی السنن، باب ماجاء فی التغلیظ فی ترک الحج، 3/ 176، رقم: 812)
3۔ اس عظیم سعادت کو حاصل کرنے والے کو بخشش کی نوید سناتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللهِ. إِنْ دَعَوْہُ أَجَابَھُمْ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوْہُ غَفَرَ لَھُمْ.
’’حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، وہ اس سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر اس سے بخشش طلب کریں تو انہیں بخش دیتا ہے۔ (ایک روایت میں) جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا (کے الفاظ بھی ہیں)۔ ‘‘
(ابن ماجہ فی السنن، باب فضل دعاء الحج، 2/ 9، رقم: 2892)
سوال: قربانی کی فضیلت بیان فرمائیں؟
لغت میں قربانی کا مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ
القربان مایتقرب بہ الی اللہ وصارفی التعارف اسماً للنسیکۃ التی ھی الذبیحۃ.
(المفردات للراغب ص، 408)
’’قربانی وہ چیز جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، اصطلاح شرع میں یہ قربانی جانور ذبح کرنے کا نام ہے۔ ‘‘
ارشاد فرمایا:
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ.
(الحج، 22: 34)
’’اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں، اس کے دیئے ہوئے بے زبان چوپائیوں پر۔ ‘‘
احادیث مبارکہ میں بھی قربانی کی فضیلت کو واضح کیا گیا ہے:
1۔ امام ترمذی وابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَاعَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مٰنی اِھْرَاقِ الدَّم ِواِنَّہ، لَیَاْتِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاشعارِھَا وَاَظْلاَفِھَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ بِالْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِھَا نَفْسًا.
(مشکوٰۃ ص 128 باب الاضحیہ)
’’ابن آدم نے قربانی کے دن خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ خدا کے حضور پسندیدہ کوئی کام نہیں کیا اور بے شک وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے۔ لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ ‘‘
2۔ حضور ﷺ قربانی کرتے وقت دعا فرماتے:
بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ
’’الہی محمد ﷺ، آپ کی آل اور آپ کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ ‘‘
(مشکوۃ ص 127)
دوسری روایت میں ہے کہ
اَللّٰھُمَّ ھٰذَا عَنِّیْ وَعَمَّنْ لَّمْ یُضَحِّ مِن اُمَّتِیْ.
’’الہی یہ میری طرف سے اور میرے ان امتیوں کی طرف سے قبول فرما جو قربانی نہیں کرسکے۔ ‘‘
(مشکوۃ ص، 128)
3۔ احنش کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھے قربانی کرتے دیکھا، میں نے پوچھا یہ کیا؟ فرمایا:
اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَوْصَانِیْ اَنْ اُضَحِّی عَنْہُ. فَاَنَا اُضَحِّ عَنْہُ.
(ابوداؤد، ترمذی وغیرہ، مشکوۃ ص، 128)
’’رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس بات کی وصیت فرمائی تھی کہ میں حضور کی طرف سے قربانی کروں۔ سو میں سرکار کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔ ‘‘
سبحان اللہ! کیسے سعادت مند ہیں وہ اہل خیر، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، رسول اکرم ﷺ کی طرف سے آج بھی عمدہ قربانی دیتے ہیں۔ یقیناً آقا ﷺ کی روح خوش ہوگی اور یقینا اس کے طفیل ان کی اپنی قربانی بھی شرف قبولیت پائے گی۔
4۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَاھٰذِہِ الْاَضَاحِیْ قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عِلیہ السَّلاَمُ قَالُوْا فَمَالَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَالصُّوْفِ حَسَنَۃٌ.
’’رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ ہمارے لئے ان میں کیا ثواب ہے؟ فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی۔ عرض کی: یارسول اللہ! اون کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ فرمایا اون کے ہر بال بدلے نیکی ہے۔ ‘‘
(احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
5۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اُمِرْتُ بِیَوْمِ الْاَضْحٰی عِیْداً حَوَلَہُ اللّٰہ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃ، قَالَ لَہ، رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اَرَاَیْتَ اِنْ لَّمْ اَجِدْ اِلاَّ مَنْیِحَۃَ اُنْثٰی اَفَاضَحِیّ بِھَا قَالَ لاَ وَلٰکِنْ خُدْ مِنْ شَعْرِکَ وَاَظْفَارِکَ وَتَقُصَّ شَارِبَکَ وَتَحَلْقَ عَانَنَکَ فَذٰلِکَ تَمَامُ اُضْحِبْتُکَ عِنْدَاللّٰہِ.
(ابوداؤد، نسائی، مشکوۃ ص، 129)
’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے قربانی کے دن عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے مقرر کی ہے۔ ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ! یہ بتائیں کہ اگر میرے پاس منیجہ مؤنث (وہ جانور جو کوئی شخص دوسرے کو دودھ، اون وغیرہ کا فائدہ اٹھانے کے لئے کچھ عرصہ کے لئے دے، بعد میں واپس کرلے) کے سوا کچھ نہ ہو، کیا اسی کی قربانی کردوں؟ فرمایا نہیں، تم اپنے بال اور ناخن تراشواؤ، مونچھیں ترشواؤ (نہ کہ مونڈھواؤ) زیر ناف بال مونڈھو۔ اللہ کے ہاں تمہاری یہی مکمل قربانی ہے۔ ‘‘
آپ نے قربانی کا مفہوم کتنا عام فرمادیا کہ اہل ثروت بھی عمل کرسکیں اور عام مفلس مسلمان بھی۔ خیروبرکت کا دریا بہہ رہا ہے، کہ ہر پیاسا سیراب ہو۔