تہذیبی غلامی اور زوالِ ادب

ترتیب وتدوین: محمد یوسف منہاجین

گزشتہ سے پیوستہ

موجودہ دور میں ہمارا تصورِ دین ادب سے خالی ہو چکا ہے۔ YouTube اور سوشل میڈیا نے اخلاقی اقدار، آداب اور اعلیٰ روایات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم پر میڈیا کا اثر بہت زیادہ غالب آ چکا ہے؛ ہمارے بچوں کی زبان، لب و لہجہ اور طرزِ گفتگو سب بدل گیا ہے۔ انہوں نے ایک من گھڑت اور جعلی لہجہ اپنا لیا ہے، جو غالباً فلموں اور ڈراموں کی ذہنی و فکری غلامی کا نتیجہ ہے۔

بدقسمتی سے اس ملک میں ثقافتی اور لسانی غلامی جڑ پکڑ چکی ہے۔ آج ٹی وی چینلز پر جو اردو بولی جا رہی ہے، ایسی زبان ہم نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ یہ اردو ادب کی زبان نہیں بلکہ بدتمیزی اور اکھڑ پن کی زبان ہے۔ اس سے نہ صرف Literature (ادب) کا حسن ختم ہوا بلکہ انسانی رشتوں کا احترام بھی پامال ہوگیا۔ بچے سارا دن ڈراموں، Talk Shows اور Morning Shows سے زبان، لباس اور Culture سیکھ رہے ہیں۔ مجھے وہ الفاظ دہراتے ہوئے شرم آتی ہے جو آج کل بچے آپس میں یا والدین کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً بچیاں ایک دوسرے کو "یار" کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔ پہلے زمانے میں اگر یہ لفظ سنا جاتا تو ہم ڈوب مرتے؛ "یار" کے لفظ میں جو ضرورت سے زیادہ Frankness (بے تکلفی) اور بے ہودگی ہے، وہ حیا کے پردے چاک کر دیتی ہے۔ جب گفتگو سے حیا اور کلام سے ادب نکل جائے، تو پھر اخلاق کہاں باقی رہتا ہے؟ آج کل تو بات ہی گالی سے شروع کی جاتی ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ادب کی یہ کمی صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ دین کی دعوت دینے والوں کی زندگیوں سے بھی ادب رخصت ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا تھا کہ حکمت اور نرم دلی سے بات کرو، اور اگر کسی مخالف سے بحث کرنی پڑے تو احسن (بہترین) طریقے سے کرو مگر آج جب سوشل میڈیا پر کسی دوسرے کے نقطہ نظر یا عقیدے کو رد کیا جاتا ہے، تو اس کی ایسی تیسی کر دی جاتی ہے۔ اسے غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں، فتویٰ بازی ہوتی ہے اور سرِ عام تذلیل کی جاتی ہے۔

جب لاکھوں کی تعداد میں نوجوان نسل کسی نام نہاد عالم، امام یا خطیب کی زبان سے یہ لب و لہجہ سنے گی، تو ان کی اپنی زندگیوں میں ادب کہاں سے آئے گا؟

مغرب کی اندھی تقلید اور ہمارا دوہرا معیار

ایک طرف بھارتی ثقافت کا حملہ ہے اور دوسری طرف پورے Western World (مغربی دنیا) کے کلچر کا اثر ہمیں گھیرے ہوئے ہے، جس میں ادب کا وہ مخصوص تصور سرے سے موجود ہی نہیں جو ہمارے دین کا خاصہ ہے۔ مغربی معاشرے نے اپنے بچوں کو کچھ سیکولر انسانی اقدار (Secular Human Values) ضرور دی ہیں؛ مثلاً وہاں اسکولوں میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا، دھوکہ دہی، مکاری اور چوری سے بچنا ہے، دیانت داری اختیار کرنی ہے۔ وہ ان معاملات میں بہت سخت ہیں، مگر چونکہ ان کے ہاں ایمان، حلال و حرام اور بڑوں کے ادب کا مذہبی تصور موجود نہیں، اس لیے وہاں کے بچے اکثر بدتمیز اور گستاخ ہو جاتے ہیں اور والدین کی بات نہیں سنتے۔ وہ اسے اپنی آزادی سمجھتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مغرب سے ان کی اچھی عادات (جیسے سچائی اور وقت کی پابندی) تو نہیں لیتے، مگر ان کی بے راہ روی اور بے ادبی کو فوراً اپنا لیتے ہیں۔

اگر ہمیں باہر کی دنیا، مغرب، یورپ یا امریکہ کی پیروی اور ذہنی غلامی ہی کرنی ہے، تو چاہیے کہ ان کی اچھی باتوں کی بھی پیروی کریں۔ وہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے، جب کہ ہمارے بچے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ وہ دھوکہ دہی نہیں کرتے، ہم کرتے ہیں۔۔۔ وہ چوری نہیں کرتے، ہم کرتے ہیں۔۔۔ وہ کسی کی پیٹھ پیچھے غیبت کا ایک جملہ تک نہیں بولتے، جب کہ ہم غیبت اور چغلی میں ملوث ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ Rude (بدتمیز/اکھڑ) ہیں، تو ہم بھی Rude طریقے سے بات کرنا سیکھ لیتے ہیں۔۔۔ وہ "آزادی" کی بات کرتے ہیں، تو ہم بھی ایسی مکمل آزادی چاہتے ہیں جو ہمارے دین میں نہیں ہے۔ ہم ان کی تمام بد اخلاقیاں اور گناہ تو اپنا لیتے ہیں، مگر ان کی اچھائیاں نہیں لیتے۔

عجب پیمانہ ہے کہ ہر وہ برائی جس سے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور دین نے منع کیا، وہ ہم مغرب سے لے لیتے ہیں، لیکن ہر وہ اچھائی جو Western World کے تعلیمی اداروں اور کلچر میں ہے، اسے قبول نہیں کرتے۔ یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہمارا معاشرہ اور ہماری نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔

انبیاء علیہ السلام کا ادب اور اس کا اجر

اس مضمون کے گزشتہ حصہ (ماہ اپریل 2026ء) میں ہم بارگاہِ الوہیت کے آداب کا مطالعہ کرچکے ہیں، آیئے! اب ہم انبیاء کرام علیہم السلام کے ادب اور اس کے اجر کے بیان کی طرف بڑھتے ہیں:

(1) فرعون کے جادوگر: ادب کا صلہ اور قبولِ ایمان

ادب کے اجر کی ایک عظیم مثال قرآنِ مجید نے فرعون کے جادوگروں کے واقعہ میں بیان فرمائی ہے۔ جب فرعون نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے پورے مصر کے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کیا۔ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ان جادوگروں نے، جو اس وقت کافر تھے، موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا ایک لطیف احساس کرتے ہوئے ان سے اجازت مانگی۔ قرآنِ مجید کی سورۃ الاعراف کی آیات: 115 تا 120 میں یہ تذکرہ موجود ہے کہ انہوں نے کہا:

قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ.

’’ ان جادوگروں نے کہا: اے موسیٰ! یا تو (اپنی چیز) آپ ڈال دیں یا ہم ہی (پہلے) ڈالنے والے ہوجائیں۔ ‘‘

انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو پہلے موقع دے کر ان کا ادب کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "تم ہی پہلے ڈالو"۔ جب انہوں نے اپنی رسیاں پھینکیں تو وہ سانپ بن گئیں، مگر جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان سب کے جعلی سانپوں کو نگل گیا۔ فرعون اور اس کے وزراء یہ سب دیکھ رہے تھے مگر کسی کو ایمان کی توفیق نہ ہوئی، لیکن جادوگروں نے چونکہ موسیٰ علیہ السلام کا ادب کیا تھا اور ان سے اجازت مانگی تھی، اللہ نے اس ادب کا صلہ یہ دیا کہ انہیں فوراً سجدے کی توفیق عطا فرما دی۔ قرآن کہتا ہے:

وَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ. قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.

’’ اور (تمام) جادوگر سجدہ میں گر پڑے۔ وہ بول اٹھے: ہم سارے جہانوں کے (حقیقی) رب پر ایمان لے آئے۔ ‘‘

میرا دل کہتا ہے کہ ان کافروں کو ایمان کی دولت اس "ادب" کے صلہ میں ملی جو انہوں نے مقابلے کے آغاز میں ایک نبی کے احترام میں کیا تھا۔

(2) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کا دوامی ادب

اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں جگہ جگہ بارگاہِ رسالت ﷺ کے آداب سکھائے ہیں۔ سورۃ الحجرات کی ابتدائی آیات اس حوالے سے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ نے امت کو رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے، ان کے سامنے اپنی آواز کو بلند کرنے اور انھیں عام طرز پر بلانے کی ممانعت فرمائی ہے اور آپ ﷺ کی بارگاہ کے آداب بجا لانے والوں کو متقی قرار دیا ہے۔

یہ بارگاہِ رسالت ﷺ کے وہ آداب ہیں جو ہمیں سکھائے جا رہے ہیں۔ افسوس کہ آج ہمارا تصورِ دین اور تصورِ زندگی ادب کے اس پورے تصور سے خالی ہو چکا ہے۔ یہ نکتہ غور طلب ہے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ کو "بلانے" کا طریقہ ہمارے آپس میں ایک دوسرے کو بلانے جیسا نہیں ہو سکتا، تو حضور ﷺ کی ذاتِ گرامی کو کوئی اپنی مثل کیسے تصور کرسکتا ہے؟ اگر کوئی امتی ہونے کا دعویٰ کرے، عالم ہو اور دین کا پیغام پہنچا رہا ہو، مگر آقا علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے ایسے کلمات اور لب و لہجہ استعمال کرے کہ سننے والے کے رونگھٹے کھڑے ہو جائیں، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اس رسول ﷺ کی بارگاہ میں بے ادبی کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے جس کے لیے اللہ نے یہاں تک فرما دیا کہ اگر ان کی مجلس میں تمہاری آواز ذرا سی بھی بلند ہو گئی، تو تمہاری زندگی کے تمام اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہیں خبر تک نہ ہوگی۔

آج اگرچہ آقا علیہ السلام کی ذاتِ اقدس ظاہری اور جسمانی طور پر ہمارے سامنے موجود نہیں، مگر آپ ﷺ کا اسمِ مبارک، آپ ﷺ کی نبوت و رسالت، آپ ﷺ کی سنت و حدیث اور آپ ﷺ کا مقام و مرتبہ قیامت تک امت کے پاس موجود ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آقا علیہ السلام کا روحانی وجود آج بھی ہمارے درمیان ہے، لہذا ادب کا یہ تقاضا کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ مسجدِ نبوی میں جالی مبارک کے سامنے وہی ادب ہے جو ظاہری حیاتِ طیبہ میں تھا، کیونکہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ (صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) میں صراحت موجود ہے کہ جو قریب آ کر سلام کرتا ہے آقا علیہ السلام خود سنتے ہیں اور جو دور سے درود بھیجتا ہے فرشتے اسے پہنچاتے ہیں۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ آقا علیہ السلام کا ادب آج بھی ویسا ہی واجب ہے جیسا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں تھا۔ آپ ﷺ کی نسبتوں کا ادب، آپ ﷺ کی گلی کوچوں کا ادب، آپ ﷺ کی سنت، آپ ﷺ کے اسمِ گرامی، آپ ﷺ کے ذکر کی محفل اور مجلسِ حدیث؛ یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔ اگر ہماری گفتگو اور کلام سے آقا علیہ السلام کا ادب نکل جائے اور ہم ایسے الفاظ منتخب کریں جن سے ان کی شان میں ادنیٰ سی بھی کمی آئے، تو سمجھ لیں کہ دل سے ایمان اور دین رخصت ہو گیا۔

صحیح بخاری، مسند احمد بن حنبل اور صحیح ابن حبان کی مستند احادیث میں صلح حدیبیہ کے موقع کا ایک واقعہ درج ہے۔ عروہ بن مسعود (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) نے جب حدیبیہ کے میدان میں صحابہ کرام کا اپنے نبی ﷺ کے ساتھ والہانہ تعلق دیکھا، تو واپس جا کر مشرکینِ مکہ سے کہا: "لوگو! ان سے جنگ نہ کرنا، میں اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھ کر آیا ہوں کہ ان کے غلام ان کا کس طرح ادب کرتے ہیں۔ وہ تمہیں ان کی جان تک کبھی نہیں پہنچنے دیں گے۔ وہ اُن کے وضو کے پانی کے قطروں، لعابِ دہن اور سر کے بالوں تک کو نیچے نہیں گرنے دیتے۔ "

(الطبرانی، المعجم الکبیر، 29: 9، الرقم: 13)، (صحیح بخاری، کتاب الشروط، 2: 974، الرقم: 2581)

یہ سیرت کی عام کتابوں کی باتیں نہیں بلکہ صحیح بخاری کی حدیث ہے، جو 1500 صحابہ کے متفقہ عمل اور ان کے ایمان کی گواہی دے رہی ہے۔

آج ہمارا معاشرہ اور تصورِ دین ادب سے اتنا خالی ہو گیا ہے کہ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان معمولات کا ذکر کیا جائے، تو کچھ لوگ اسے "شخصیت پرستی" کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم نے صحیح بخاری و مسلم کو یا تو پڑھا نہیں، یا پھر ان حقائق سے آنکھیں چرا لی ہیں۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر من گھڑت باتیں تو کی جاتی ہیں، مگر بارگاہِ رسالت ﷺ کے ان آداب کو چھپایا جاتا ہے جو صحابہ کا شیوہ تھے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے ہو رہا تھا؛ لعابِ دہن کو اٹھانا، وضو کا پانی یا موئے مبارک (بال) لینا، اگر یہ "شخصیت پرستی" ہوتی یا شرک و بدعت کے زمرے میں آتا، تو آقا علیہ السلام اسے سختی سے منع فرما دیتے۔ لیکن آپ ﷺ کی خاموشی اور اسے برقرار رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عینِ ایمان اور ادب کا حصہ تھا۔ ہم نام تو صحابہ اور اہل بیت کا لیتے ہیں، مگر ہمارے عمل اور عقیدہ کا ان کے نقشِ قدم سے کوئی میل نہیں ہے۔

ó حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ایک روایت بیان کی ہے، اس کا بنیادی مضمون صحیح بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے۔ کچھ لوگوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے علمِ مبارک پر شک کیا، تو آپ ﷺ جلال میں منبر پر تشریف لائے اور فرمایا:

سَلُونِی فانکم لاتسئلونی عن شئی الا انبتکم بہ

آج مجھ سے جو پوچھنا ہے پوچھ لو۔ آج تم دنیا و آخرت کا جو سوال کرو گے، میں اسی منبر پر کھڑے کھڑے جواب دوں گا۔

لوگوں نے طرح طرح کے سوال کیے۔ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ جنھیں لوگ طعنہ دیتے تھے، انھوں نے اپنے باپ کا نام پوچھا اور کسی نے مرنے کے بعد اپنا ٹھکانہ پوچھا۔ (صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، 6: 2669، الرقم: 6864) جب لوگوں کے بے جا سوالات بڑھے اور آقا علیہ السلام کے چہرہِ انور پر جلال کے آثار نظر آئے تو سیدنا عمر فاروق علیہ السلام تڑپ کر کھڑے ہو گئے: فقبل رجلہ (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 2: 196)

آقا علیہ السلام کے قدمِ مبارک پر گر کر ان کا بوسہ لینے لگے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! معاف فرما دیں، جس سے بھی غلطی ہوئی، اسے درگزر فرمائیں۔ ہم اللہ کے رب ہونے، آپ کی رسالت و نبوت اور قرآن کی امامت پر دل و جان سے راضی ہیں۔

یہ ہے وہ مقامِ ادب جہاں ایک جلیل القدر صحابی اپنے نبی کے جلال کو دیکھ کر ان کے قدموں میں گر جاتا ہے تاکہ امت کی بخشش کا سامان ہو سکے۔ اگر ہماری گفتگو اور کلام سے یہ ادب نکل جائے، تو سمجھ لیں کہ دین کی بنیاد ہی گر گئی۔

ó امام بخاری نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الادب المفرد" میں باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حضور نبی اکرم ﷺ کے دستِ مبارک اور قدمِ مبارک چومنے کا ذکر ہے۔ (البخاری، الادب المفرد، باب: 444۔ 445، ص: 338۔ 339) علمِ حدیث کا یہ اصول ہے کہ جب کوئی محدث کسی خاص موضوع پر "باب"قائم کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنا علمی مسلک اور عقیدہ بیان کر رہا ہوتا ہے۔ امام بخاری کا "ہاتھ اور پاؤں چومنے" کا باب قائم کرنا اور اس کے تحت احادیث لانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسے عینِ ادب اور جائز سمجھتے تھے۔ جامع ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں بھی اس حوالے سے کثیر روایات موجود ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مختلف مواقع پر بارگاہِ رسالت ﷺ میں کس درجہ کے والہانہ ادب کا مظاہرہ کیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس شعورِ ادب کو آج ہمیں اپنے مذہبی شعور، ذکرِ رسول ﷺ اور نسبتِ رسول ﷺ میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے اندر یہ ادب باقی نہ رہا تو پھر تباہی مقدر ہے۔ "بے ادب، بے دین" کا جملہ صرف کہنے کی بات نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے؛ کیونکہ ادب نہ رہے تو نہ نسبتِ رسول ﷺ باقی رہتی ہے اور نہ ہی دین کی روح۔

ادب کا وہی شعور واپس لانا ہوگا جو ابوبکر و عمر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب کا معیار تھا۔ تحریکِ منہاج القرآن کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اس نے امت کو ادب کا شعور دیا ہے اور یہ شعور محض جذباتی نہیں بلکہ پوری دلیل کے ساتھ دیا ہے۔ ہم نے ادب سے معمور ایمان کا وہ تصور پیش کیا ہے جو براہِ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے تھے تو ان کی زبانوں پر حیا اور ادب کی وہ حدود ہوتی تھیں جو آج ہمارے ہاں مفقود ہو چکی ہیں۔ آج کل ہم اپنی زبانوں سے وہ حیا کھو چکے ہیں، ہم ذکرِ رسول ﷺ کرتے ہوئے حدود پامال کر دیتے ہیں اور ایسے بات کرتے ہیں جیسے کسی عام یا مخالف آدمی کی بات کر رہے ہوں۔

ó حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آقا ﷺ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے۔ وہاں ایک چمڑے کا مشکیزہ لٹکا ہوا تھا جس سے حضور نبی اکرم ﷺ نے پانی نوش فرمایا۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے چمڑے کا وہ حصہ کاٹ کر سنبھال لیا جہاں حضور نبی اکرم ﷺ کے لبِ مبارک لگے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ کیوں کاٹا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہاں آقا ﷺ کے لبِ مبارک لگے ہیں، اب مجھے یہ گوارا نہیں کہ یہاں کسی اور کا منہ لگے اور کوئی بے ادبی ہو جائے۔ (الطبرانی، المعجم الاوسط، 1: 294، الرقم: 654)

گزشتہ چودہ سو سال میں کسی امام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس ادب کو "مبالغہ" نہیں کہا۔ یاد رکھیں! ادب تو نام ہی معمول کے عمل سے ہٹ کر اس والہانہ پن کا ہے جو عام فہم سے بالا ہو۔ جب بارگاہ اونچی ہوتی چلی جاتی ہے، تو حسنِ ادب کا مرتبہ اور اس کے تقاضے بھی بلند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ آداب تھے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ کے لیے قائم کیے تھے۔

بقائے دین کا راز: شعورِ ادب کی منتقلی

دین اور ایمان کا قصر جب تک قائم ہے، وہ اسی ادب کے شعور کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ جس دن معاشرے سے ادب کا یہ خاص جوہر رخصت ہو گیا، تو ڈر ہے کہ کہیں وہاں سے دین اور ایمان بھی رخصت نہ ہو جائے۔ لہٰذا، علمائے کرام، وعظ کرنے والے، مساجد کے خطباء اور سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں تک اپنی آواز پہنچانے والے مبلغین کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنی نسلوں کی مٹتی ہوئی اقدار کو بچائیں، ان کے اندر حیا پیدا کریں اور ان کے ڈگمگاتے ہوئے ایمان کی حفاظت کریں، تو ہمیں "ادب سے لبریز دین" کا تصور واپس لانا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسا اسلامک کلچر منتقل کرنا ہوگا جو سراپا ادب ہو۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے نشانیاں بتاتے ہوئے فرمایا:

"قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب اکابر (بڑوں) سے تعلق کاٹ دیا جائے گا اور 'اصاغر' (چھوٹوں/نااہلوں) سے علم حاصل کیا جائے گا۔ "

(الطبرانی، المعجم الکبیر، 22: 361، الرقم: 998)

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب معاشرے میں بڑوں کی عزت و احترام ختم ہو جائے گا، ان سے فیض پانے کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا اور وہ لوگ جو علمی و اخلاقی لحاظ سے "چھوٹے" اور ظرف میں تنگ ہوں گے، وہ خود کو بڑا بنا کر پیش کریں گے اور لوگ ان کی پیروی کریں گے؛ تو سمجھ لو کہ فتنوں کا دور شروع ہو گیا۔

اکابر سے تمسک: خیر و برکت کی ضمانت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

جب تک مسلمان اپنا علم آقا علیہ السلام کے صحابہ سے لیتے رہیں گے، وہ خیر پر رہیں گے لیکن وہ زمانہ ہلاکت کا ہوگا جب لوگ اپنے اسلاف پر طعن زنی کریں گے، ان پر تنقید کو فیشن سمجھیں گے اور ان سے علم لینے کو عار (شرم) محسوس کریں گے۔

(الطبرانی، المعجم الکبیر، 9: 114، الرقم: 8592)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علم لینے کا مطلب وہی "ادبِ صحابہ" ہے جو میں نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ پھر ان کے بعد یہ سلسلہ نسل در نسل اکابرین سے آگے منتقل ہوتا رہا اور حضرت حسن بصری، بایزید بسطامی، بشر الحافی، جنید بغدادی، معروف کرخی، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، داتا گنج بخش علی ہجویری اور بابا فرید الدین گنج شکر (رحمہم اللہ) جیسے نفوسِ قدسیہ سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا۔ جب تک امت اپنے ان اکابر سے علمی و روحانی رشتہ استوار رکھے گی، خیر باقی رہے گی۔ آج کا دور ایسا ہی ہے جہاں انٹرنیٹ سے معلومات لے کر ہر کوئی علامہ بن جاتا ہے، مگر اس نے کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیے ہوتے۔ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا:

من تفقہ من بطون الکتب ضیع الاحکام.

"جس نے دین کا علم صرف کتابوں کے اوراق سے سیکھا اور اکابر علماء کے سامنے بیٹھ کر سلیقہ نہیں سیکھا، اس نے دین کے احکام کو ضائع کر دیا۔ " (ابن جماعۃ الکتانی، تذکرۃ السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم، ص: 197)

سلف صالحین کے علمی آداب کے چند نمونے

1۔ خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے کہ لوگ اکابر علماء اور مشائخ کی اس طرح تعظیم کرتے تھے جیسے اس دور میں خلفاء اور بادشاہوں کی کی جاتی تھی۔ ایسا خوف سے نہیں بلکہ محبت اور علمی مرتبے کی وجہ سے تھا۔ (الخطیب البغدادی، الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، 1: 182، رقم: 288)

2۔ حضرت یحییٰ بن عبدالملک الموصلی بیان کرتے ہیں کہ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ان کے شاگرد اس طرح بیٹھتے کہ کسی کو آواز بلند کرنے کی جرأت نہ ہوتی، سب سراپا ادب ہوتے تھے۔ (ایضاً، الرقم: 289)

3۔ امام یحییٰ بن سعید القطان (جو فنِ حدیث کے بہت بڑے امام ہیں) نے نمازِ عصر کے بعد حدیث کا درس دینا شروع کیا۔ ان کے سامنے اس وقت کے جلیل القدر محدثین، جن میں امام علی بن المدینی، امام یحییٰ بن معین اور خود امام احمد بن حنبل جیسے لوگ شامل تھے، وہ سب ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ عصر سے لے کر مغرب کی اذان تک یہ تمام ائمہ، جن کے نام سے آج دنیا واقف ہے، صرف ادب کی وجہ سے بیٹھے بھی نہیں اور کھڑے ہو کر اپنے استاد سے حدیث کا سماع کرتے رہے۔

(ایضاً، ص: 185، الرقم: 299)

یہ وہ ادب کے پیکر تھے جنہوں نے علم کو محض الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید تہذیب بنا کر امت تک پہنچایا۔

4۔ سلف صالحین کے ہاں ادب کا معیار یہ تھا کہ امام احمد بن حنبل، جو خود ایک بہت بڑے امام ہیں، جب دیکھتے کہ ان کے استاد امام شافعی گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے ہیں، تو وہ ان کے گھوڑے کی رکاب پکڑ کر ساتھ ساتھ پیدل چلنا شروع کر دیتے تھے۔ کسی نے اس منظر کو دیکھ کر انہیں طعنہ دیا کہ آپ اتنے بڑے عالم ہو کر ایک سوار کی رکاب پکڑ کر چل رہے ہیں؟ امام احمد بن حنبل نے جواب دیا: "دیکھو! اس گھوڑے کی دوسری رکاب ابھی خالی ہے، اگر تم نے بھی علم کا کوئی راز پانا ہے اور علم کی حقیقت تک پہنچنا ہے، تو تم بھی اس دوسری رکاب کو پکڑ لو اور ہمارے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دو۔ " (ابن عبدالبر، الانتقاء، ص: 75)

5۔ امام دارمی نے اپنی کتاب میں باقاعدہ علماء کے ادب پر ایک باب قائم کیا ہے۔ امام ربیع بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی کا رعب اور ان کا ادب ہمارے دلوں میں اس قدر بسا ہوا تھا کہ اگر وہ ہماری طرف دیکھ رہے ہوتے، تو پیاس کی شدت کے باوجود ہماری یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ہم پانی کا ایک گھونٹ بھی بھر سکیں۔ ہم ان کے سامنے پانی پینا بھی بے ادبی تصور کرتے تھے۔

(سنن الدارمی، باب فی توقیر العلماء، 1: 122)

6۔ خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" میں سلف صالحین کا یہ طریقہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ اور شیوخ کا ذکر کرتے ہوئے کبھی تنہا نام نہیں لیتے تھے، بلکہ ان کی عدم موجودگی (غیاب) میں بھی ہمیشہ کوئی نہ کوئی تعظیمی لقب ساتھ لگاتے تھے۔ (الطیب البغدادی، الجامع لاخلاق الراوی، 1: 182، رقم: 299)

یہ اس "خیر القرون" کا کلچر تھا جس کی گواہی خود آقا علیہ السلام نے دی ہے کہ میرا زمانہ بہترین ہے، پھر میرے بعد آنے والوں کا اور پھر ان کے بعد آنے والوں کا۔ ان اعلیٰ نسلوں میں اکابر کے ادب کا عالم ہی کچھ اور تھا۔

7۔ مسند دارمی میں امام زہری بیان کرتے ہیں کہ میں علم حاصل کرنے کے لیے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر جایا کرتا تھا۔ میرا ان سے اتنا قریبی تعلق تھا کہ اگر میں چاہتا تو بلا جھجھک گھر کے اندر داخل ہو سکتا تھا، لیکن میرا ادب مجھے یہ نہیں کرنے دیتا تھا۔ میں باہر چوکھٹ پر جا کر بیٹھ جاتا اور کبھی ان کے دروازہ پر دستک نہیں دیتا تھا کہ میں آ گیا ہوں۔ میں اس وقت تک خاموشی سے انتظار کرتا جب تک وہ خود دروازہ نہ کھول دیتے۔

(الدارمی، السنن، 1: 159، الرقم: 579)

جب اس درجۂ ادب کے ساتھ علم حاصل کیا جاتا ہے، تو پھر انسان اپنے وقت کا امام بن کر علم کے آسمان پر سورج کی طرح چمکتا ہے۔

8۔ یہی حال حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا تھا۔ آپ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے دروازے پر جا کر بیٹھ جاتے۔ آپ حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے کزن اور حضور نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت میں سے تھے، لیکن جب استاد کے پاس جاتے تو ان کے دروازے پر بیٹھ جاتے۔ اس وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ خود باہر نہ نکلتے۔ ائمہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات تیز ہوا چلتی، گرد و غبار اڑتا اور آپ کے جسم و لباس پر پڑتا، کبھی سخت دھوپ آ جاتی مگر آپ نے کبھی دروازہ پر دستک دینا گوارا نہیں کیا کہ کہیں استاد کے آرام میں ذرہ برابر خلل نہ پڑ جائے۔

(السمھودی، جواہرالعقدین فی فضل الشرفین، ص: 343)

سلف صالحین کا یہی مستقل طریقہ تھا اور یہی وہ دور تھا جب ایمان، دین اور اسلام اپنی اصل روح کے ساتھ سلامت تھے۔

ایک نبوی پیشین گوئی: کثرتِ خطباء اور قلتِ فقہاء

ہم جس زندگی اور جس دور میں آج موجود ہیں، اس کا تذکرہ امام بخاری کی کتاب "الادب المفرد" میں حدیث نمبر 789 کے تحت ملتا ہے۔ یہ دین، ایمان، ادب اور حیا کا وہ تصور ہے جو آقا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی منزلوں کا ذکر کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ عنہ اپنے شاگردوں اور تابعین سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

إِنَّكُمْ فِي زمان كَثِيرٍ فُقَهَاءُہ قَلِيلٌ خُطَبَاءُہ.

"اے لوگو! تم آج ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں دین کا حقیقی فہم رکھنے والے (فقہاء) بہت زیادہ ہیں، مگر خطاب کرنے والے (خطباء) بہت کم ہیں۔ آج کا دور وہ ہے جہاں مانگنے والے اور حاجت مند کم ہیں لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے زیادہ ہیں۔ آج تمہارا نیک عمل تمہاری خواہشاتِ نفسانی کا قائد (Leader) ہے، یعنی تمہاری خواہشیں تمہارے نیک عمل کی پیروی کرتی ہیں۔ (البخاری، الادب المفرد، الرقم: 789)

پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مستقبل کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا: تمہارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں دین کا حقیقی فہم رکھنے والے لوگ کم ہو جائیں گے (قلیل فقہاء) اور خطاب کرنے والے بہت زیادہ ہو جائیں گے (کثیر خطباء) اس دور میں مانگنے والے اور مال بنانے والے تو بہت ہوں گے، لیکن للہیت کے ساتھ خرچ کرنے والے کم رہ جائیں گے۔ سب سے بڑی نشانی یہ بتائی کہ اس زمانے میں خواہشاتِ نفسانی "قائد" بن جائیں گی اور نیک عمل پیچھے رہ جائیں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں فقہاء اور خطباء کا جو موازنہ کیا گیا ہے، اس میں ایک گہرا راز پوشیدہ ہے۔ بہت سے لوگ جو خطاب کو بطور پیشہ (Profession) اپنا لیتے ہیں، وہ اکثر دین کے حقیقی فہم سے خالی ہوتے ہیں۔ وہ دین کی سچی معرفت، اس کے آداب، اس کی حیا اور اس کی اصل قدروں کے عارف نہیں ہوتے۔

اس زمانے میں تو سوشل میڈیا نہیں تھا، مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ "سوشل میڈیا سپیکرز" اور "یوٹیوبر خطباء" کی ایک فوج ظفر موج آ گئی ہے۔ جس کا جو جی چاہتا ہے، وہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر یا سیل فون آن کر کے خطاب شروع کر دیتا ہے۔ یہی وہ امر ہے جس کے بارے میں انھوں نے فرمایا کہ اُس زمانے میں دین کی حقیقی معرفت اور فہم بہت کم لوگوں کے پاس ہوگی۔ ادب، حیا اور شعور جو دین کی اصل روح ہے، اسے تھامنے والے کم رہ جائیں گے۔ آج ہمارے دور میں جھوٹ اور بد اخلاقی کے ہاتھ میں قیادت آ گئی ہے اور انسان کا نفس اسے جس طرف چاہتا ہے، لے جاتا ہے۔

پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس دورِ زوال کا حل بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"لوگو! جان لو کہ جب آخری زمانہ آئے گا تو اس وقت 'حسنِ ادب' سیکھنا بہت سے نیک اعمال سے زیادہ بہتر اور افضل ہوگا۔ "

اچھا اخلاق، حیا، بہترین سیرت، گفتگو کا سلیقہ، طرزِ کلام اور بزرگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا ڈھنگ؛ اسے "حسنِ ادب" کہتے ہیں۔ آپ نے مزید فرمایا:

آخری زمانے میں بہت سے نفلی اور دینی عمل ایسے ہوں گے جن سے بڑھ کر درجہ حسنِ ادب کا ہوگا۔

کیونکہ اگر کسی عمل کی بنیاد میں ادب اور حیا موجود نہ ہو، تو وہ عمل بے کار اور بے اثر ہو جاتا ہے۔ جب عمل سے ادب نکل جائے تو روح نکل جاتی ہے۔ لہٰذا اس دور میں اپنے ایمان کو بچانے کے لیے ہمیں اسی ادب کے شعور کی طرف پلٹنا ہوگا جو صحابہ اور سلف صالحین کا خاصہ تھا۔

ó امام مالک نے اپنی "موطا" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت کو ایمان افروز اضافوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور اور آنے والے زمانوں کا تقابل کرتے ہوئے ایک عظیم نکتہ ارشاد فرمایا:

"اے انسان! جان لے کہ جس زمانے میں تو اس وقت موجود ہے، یہاں دین کا فہم رکھنے والے فقہاء کثیر ہیں اور قرآن پڑھ کر خطاب کرنے والے خطباء بہت کم ہیں۔ یعنی اس دور کا حسن یہ ہے کہ یہاں قرآن کی دی ہوئی حدوں اور دین کی حدود کی حفاظت کی جاتی ہے اور انہیں قائم رکھا جاتا ہے۔ "

لیکن ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ہولناک نقشہ کھینچا کہ عنقریب وہ زمانہ بھی آئے گا جب قرآن کے حروف اور الفاظ کو تو بڑا محفوظ کیا جائے گا، زبانی کلامی باتیں بہت ہوں گی، لیکن قرآن کی اصل روح اور اس کی حدود کو توڑ دیا جائے گا۔

(مالک، الموطا، 1: 173، الرقم: 417)

آج ہم اسی دور میں پہنچ چکے ہیں جہاں اسلام کی اخلاقی حدود، ادب کی حدود اور حیا کی قدروں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ الفاظ کا تحفظ تو ہے مگر اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا:

اجل صحابہ اور تابعین کے دور میں لوگ نمازوں کو طول دیتے تھے؛ ان کا قیام، رکوع اور سجود ذوق و شوق، دلجمعی، کیف اور سرور سے بھرپور ہوتا تھا، جبکہ ان کے خطابات مختصر ہوتے تھے۔ لیکن آنے والے زمانوں میں معاملہ الٹ جائے گا؛ خطبے اور تقریریں تو بہت لمبی لمبی ہوں گی، مگر نمازوں کو چھوٹا (مختصر) کر دیا جائے گا۔

آج کا دور وہی ہے جس کی آپ رضی اللہ عنہ نے نشاندہی کی تھی کہ خواہشاتِ نفسانی آگے چلیں گی اور عمل پیچھے پیچھے چلے گا۔ ہم اپنی پوری جدوجہد، اپنی محنت اور اپنی زندگی کو اپنی خواہشوں (مال، عزت، منصب اور شہرت) کے مطابق چلاتے ہیں، جس کی وجہ سے خواہش "قائد" بن گئی ہے اور عمل اس کا پیروکار۔

امام مالک نے یہاں تک فرمایا: قد یقراء القرآن من لا خیر فیہ

ایک وقت ایسا آئے گا کہ قرآن کا بیان اور دین کی باتیں وہ لوگ کریں گے جن کے اپنے وجود میں رتی برابر خیر نہیں ہوگی۔ جن کی طبیعتوں میں نہ ادب ہوگا، نہ حیا، نہ لحاظ بلکہ ان کے اندر شر ہوگا مگر زبان پر قرآن اور اسلام کا تذکرہ ہوگا۔

(القرطبی، الجامع الاحکام القرآن، 1: 437)

ادب: خصائصِ نبوت کا پچیسواں حصہ

امام بخاری نے "الادب المفرد" میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

اَلْہَدْیُ الصَّالِحُ وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

(البخاری، الادب المفرد، ص: 276، الرقم: 791)

یعنی اچھا ادب سیکھنا، اچھے ادب پر زندگی گزارنا، عمدہ سیرت و اخلاق اور اپنی گفتگو و نقطہ نظر میں اعتدال (اقتصاد) رکھنا؛ یہ نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک لازمی جز ہے۔

یہ وہ صفات اور شمائلِ انبیاء ہیں جن کے بغیر کسی نبی کو نبوت عطا نہیں کی جاتی۔ یہ حدیث امام مالک، امام احمد، امام ابوداؤد اور امام بخاری سب نے روایت کی ہے تاکہ واضح ہو سکے کہ ادب کے بغیر دین کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جو شخص ادب سے خالی ہو گیا، وہ حقیقت میں دین سے خالی ہو گیا۔

اہل علم اور اہل دعوت کے آدابِ ظاہر و باطن

علم تب تک "علمِ نافع" نہیں بنتا جب تک اس پر اخلاق کا لباس نہ ہو اور اس کے آداب ظاہر و باطن سے عیاں نہ ہوں۔ سلف صالحین کے نزدیک ایک مبلغ اور عالم کے لیے درج ذیل آداب پر کاربند ہونا ضروری ہیں:

1۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ خوشی اور بشاشت ہو، نہ کہ خشکی اور ترش روئی۔ وہ لوگوں کے لیے سلامتی کا باعث بنے۔

2۔ وہ اپنے غصہ پر مکمل کنٹرول رکھے اور کسی کی طبیعت کے لیے اذیت کا باعث نہ بنے۔

3۔ جب وہ دین کی دعوت دے، تو اپنی زندگی میں انصاف اور تلطف کو اپنائے اور سب کے لیے دل میں محبت رکھے۔

4۔ اس کے دل میں کسی کے لیے غل، حسد، سختی یا بغاوت کا انداز نہ ہو بلکہ وہ غضب، کبر، ریاکاری اور خود پسندی سے پاک ہو۔

5۔ اس کی طبیعت میں بخل، طمع، لالچ، فخر اور دنیا طلبی کی حرص نہ ہو اور نہ ہی اسے اپنی مدح (تعریف) کی تمنا ہو۔

6۔ اس کی گفتگو میں جھوٹ، چالاکی اور ہوشیاری نہ ہو اور وہ گالی گلوچ یا حیا سے خالی کلمات استعمال نہ کرے۔

حصولِ علم سے پہلے حصولِ ادب: اسلاف کا طریقہ

سلف صالحین اور اولیاء فرماتے ہیں کہ جب تک یہ ظاہر و باطن کے آداب و اخلاق کسی میں جمع نہ ہوں، اسے دین کی دعوت ہی نہیں دینی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم دور میں طالب علم دین کا علم حاصل کرنے سے پہلے برسوں تک صرف اپنا ادب سنوارنے پر محنت کیا کرتے تھے تاکہ وہ علم کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل بن سکیں۔

1۔ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں (یعنی تابعین کے دور میں) لوگ علم حاصل کرنے سے پہلے سالہا سال صرف ادب، حیا اور حسنِ سیرت سیکھنے پر صرف کر دیتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ جب تک برتن (کردار) پاکیزہ نہ ہو، اس میں علم کا نور نہیں ٹھہر سکتا۔ (ابن جماعۃ الکتانی، تذکرۃ السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم، ص: 31)

2۔ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"مجھے اولیاء، صلحاء اور علماء کے حالات و حکایات سننا اپنی فقہی مسائل کی مجلس سے زیادہ پسند ہے۔ "

(ابن عبدالبر، جامع بیان العلم وفضلہ، 1: 127)

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بزرگوں کے واقعات سے زندگی کا عملی ادب معلوم ہوتا ہے اور یہی ادب دین کی اصل جان ہے۔

3۔ امام مالک رضی اللہ عنہ اپنا بچپن یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے نصیحت کرتی تھیں کہ "بیٹے! حضرت ربیعہ کی مجلس میں جایا کرو اور ان سے علم سیکھنے سے پہلے 'ادب' سیکھا کرو۔ " (ابن فرحون المالکی، الدیباج المذہب، ص: 29)

یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ جس کے پاس ادب نہیں ہوتا، اس کا علم اس کے لیے نفع بخش ہونے کے بجائے سانپ اور اژدہا بن جاتا ہے جو اسے اور معاشرے کو ڈستا ہے۔ علم بغیر ادب کے ایک ایسا زہر ہے جو انسان میں تکبر پیدا کر دیتا ہے۔

4۔ حضرت عبدالرحمن بن قاسم جو امام مالک کے جلیل القدر شاگرد ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام مالک کی صحبت میں 20 برس رہا۔ ان بیس سالوں میں 18 برس میں نے صرف اور صرف آپ سے "ادب" سیکھا، اور بقیہ دو سالوں میں علم، فنون اور روایات حاصل کیں۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے: "آج میرے دل میں یہ تمنا ہے کہ کاش! آخری دو سال جو میں نے علم سیکھنے پر لگائے تھے، وہ بھی ادب سیکھنے پر ہی لگا دیتا۔ " (محمد بن فتح السوسی، الدرۃ الخریدہ۔ ۔ ، 2: 3)

5۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا کہ "حقیقت میں دین کا دو تہائی (2/3) حصہ ادب ہے۔ "

(ابن الجوزی، صفۃ الصفوہ، 2: 339)

6۔ سلف صالحین تو یہاں تک کہتے تھے کہ ہمیں ادب کا ایک باب سیکھ لینا علم کے 70 ابواب سیکھنے سے زیادہ محبوب ہے۔

(ابن جماعۃ الکتانی، تذکرۃ السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم، ص: 32)

ہمیں جو کچھ ادب سے ملتا ہے، وہ خالی علم سے حاصل نہیں ہوتا۔ اگر علم ہو اور ادب نہ ہو تو وہ ہلاکت ہے، لیکن اگر علم کم بھی ہو اور ادب کامل ہو، تو وہ حسنِ سیرت اور حیا کی صورت میں دین کی روح کو سلامت رکھتا ہے۔

ادب ہی دین کی سلامتی ہے

دین اور ادب کا انتہائی گہرا رشتہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیاں حقیقی دین کے نور سے منور ہو جائیں، تو ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں ادب کو واپس لانا ہوگا۔ چاہے وہ عالم ہو یا داعی، کارکن ہو یا مبلغ، باپ ہو یا ماں، بیٹا ہو یا بیٹی؛ ہر ایک پر یہ واجب ہے کہ وہ دین کو بچانے کے لیے ادب اور حیا کی ان اقدار کو پھر سے زندہ کرے۔ انہی حدود کو قائم کرنے سے دین کی سلامتی ہوتی ہے جو سلف صالحین کا طریقہ تھا۔

تحریکِ منہاج القرآن دراصل "ادبِ دین" کی تحریک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وجود پر پختہ ایمان، حقیقی معرفت اور ادب سے معمور دین ہی وہ راستہ ہے جو ہماری زندگیوں کو دمِ آخر تک منور رکھے گا۔ جب ہمارا وجود ادب سے منور ہوگا، تب ہی ہمیں کامل دین نصیب ہوگا اور اسی میں ہمارے ایمان کی حفاظت ہے۔