19 فروری 2026ء کو شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں شیخ الاسلام کی علمی و تحقیقی مساعی اور ایمان و کردار کی حفاظت کے ضمن میں اُن کی عملی خدمات کو مختلف فکری نشستوں اور سیمینارز کے ذریعے اجاگر کیا جارہا ہے۔ بلاشبہ اہلِ علم ہستیاں زمین پر اللہ کی نعمتِ خاص ہوتی ہیں، یہ وہ ہستیاں ہیں جو بھٹکی ہوئی انسانیت کو علم وشعور کے نور سے راستہ دکھاتی ہیں۔ شیخ الاسلام کی انسانی خدمت اور علمی و تحقیقی مساعی کی بہت ساری جہتیں ہیں اور انہوں نے دینی و دنیاوی علوم کی ہر شاخ کو اپنی محنت شاقہ سے برگ و بار کیا ہے اور تزکیۂ نفس و علم نافع کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ جہاں تک محنت اور جُہدِ مسلسل کا تعلق ہے تو شیخ الاسلام اس ضمن میں ایک خوش بخت انسان ہیں کہ جنہیں اللہ نے دینی و سماجی علوم سےبہرہ مند بھی کیا اور پھر اِس علم کی ترویج و اشاعت اور اس کے فروغ کی محنت کے جذبہ اور توانائی سے بھی سرفراز کیا اور وہ اِس اعتبار سے بھی خوش قسمت انسان ہیں کہ اُن کی خدمات کو اُن کی زندگی میں ہی شرق و غرب میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اہلِ علم شخصیات اُن کے علم و فضل کا کھلے دل و دماغ سے اعتراف بھی کرتی ہیں اور اِن کی تحقیقات سے استفادہ کا فخریہ اظہار بھی کرتی ہیں اور شیخ الاسلام نے گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کی عظیم جامعات اور علمی شخصیات کی توجہ حاصل کی ہے اور تحقیق و تدوین کے علمی کلچر کو ازسرنو زندہ کیا ہے۔ آج یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کی نامور یونیورسٹیوں میں آپ کی تجدیدی خدمات اور امن بیانیے کو بے حد سراہا جارہا ہے اور اُن کی ہمہ جہت تجدیدی اور اجتہادی فکر پر بی ایس ، ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اعلیٰ پایہ کے مقالہ جات لکھے جارہے ہیں۔
انیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں اگر کسی علمی و فکری شخصیت نے دینی روایت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے علم، تحقیق، کردار اور امن کے پیغام کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا تو اُن میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اس وقت دنیا اپنی نوعیت کے حیرت انگیز سیاسی، سماجی، فکری انتشار اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے چیلنجز سے دو چار ہے۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے ان مسائل کا حل بھی اپنی تصانیف میں دیا ہے جن میں فتنہ الخوارج کے رد میں لکھی گئی اُن کی شہرہ آفاق کتاب نمایاں ہے ۔آپ نے حال ہی میں حضور نبی اکرمﷺ کے اخلاقِ کریمانہ پر ’’الروض الباسم من خلق النبی الخاتم‘‘ انسائیکلوپیڈیا تالیف فرمایا ہے ، اس انسائیکلوپیڈیا میں بھی انسانیت کو درپیش مسائل کا حل موجود ہے۔
اہلِ علم ہمیشہ سے اقوام کی فکری رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے آئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرے فکری اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں تو یہی علمائے حق ہوتے ہیں جو چراغِ علم و حکمت جلا کر انسانیت کو راستہ دکھاتے ہیں۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ بھی اُنہی خوش نصیب ہستیوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم نافع، بصیرتِ فکر اور استقامتِ کردار سے نوازا۔ اُن کی شخصیت محض ایک دینی محقق یا ایک بلند پایہ مصنف تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ایک عہد ساز مفکر، محقق، مصلح اور امن کے عالمی سفیر کے طور پر اپنی عالمی شناخت رکھتے ہیں۔
شیخ الاسلام کی علمی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے دینی اور دنیاوی علوم کے درمیان حائل مصنوعی فکری دیواروں کو منہدم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، ان مساعی میں خواتین کی تعلیم و تربیت اور اُن کے سماجی وقار کی بحالی سرفہرست ہے۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے قرآن و سُنت، حدیث، فقہ، اصول، سیرت اور تصوف جیسے خالص دینی علوم کے ساتھ ساتھ سماجیات، قانون، سیاست، معاشیات جیسے عصری موضوعات پر ان کی گرفت اُن کی ہمہ جہت علمی شخصیت کا ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں اور خطابات صرف مدارس یا مساجد تک محدود نہیں رہے بلکہ جامعات، تحقیقی اداروں اور عالمی فکری فورمز تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
شیخ الاسلام کی فکری سنگت میں رہنے والے ہزار ہا طلبا و طالبات کی تربیت ایک ایسا
عظیم کارنامہ ہے جس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی،شیخ الاسلام نئی نسل کو لکھنا، بولنا
،پڑھنا اورامور زندگی کو انجام دینے کا ویژن مہیا کررہے ہیں۔
محنت، جُہدِ مسلسل اور مقصد سے وابستگی شیخ الاسلام کی زندگی کا وہ نمایاں وصف ہے جو
انہیں معاصر تحاریک اور اہلِ علم سے ممتاز کرتا ہے۔ ہزاروں لیکچرز، سینکڑوں کتب، درجنوں
انسائیکلوپیڈیاز اور سینکڑوں تحقیقی مقالات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ علم ان کے لیے
محض ایک شعبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عبادت ہے۔ علم کو انہوں نے نہ صرف حاصل کیا بلکہ
اسے عام فہم، قابلِ عمل اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی بنایا۔ یہی “علم نافع” کا وہ
تصور ہے جس پر وہ دہائیوں سے زور دیتے آ رہے ہیں۔
عصرِ حاضر میں جب مذہب کو شدت پسندی اور تشدد کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کی گئیں تو شیخ الاسلام نے دلیل، تحقیق اور استدلال کے ساتھ اسلام کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ دہشت گردی کے خلاف ان کا تاریخی اور مدلل فتویٰ ہو یا عالمی سطح پر امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی احترام کے موضوعات پر ان کی کاوشیں، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی امن کے داعی ہیں۔ برطانیہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے علمی حلقوں میں اُن کے امن بیانیے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے کہ کسی عالم کی خدمات کو اُس کی زندگی ہی میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو۔ دنیا کی نامور جامعات میں شیخ الاسلام کی فکر، تجدیدی کاوشوں اور اجتہادی خدمات پر بی ایس، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ صرف فردِ واحد کی کامیابی نہیں بلکہ اسلامی فکر کی اُس روایت کی فتح ہے جو علم، دلیل اور اعتدال پر یقین رکھتی ہے۔ اہلِ علم شخصیات کا کھلے دل سے اُن کے علم و فضل کا اعتراف کرنا بھی اسی حقیقت کی دلیل ہے۔
شیخ الاسلام کی شخصیت کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو اُن کا تنظیمی اور ادارہ جاتی وژن ہے۔ انہوں نے علم کو افراد تک محدود رکھنے کے بجائے اداروں کے ذریعے منظم کیا، نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا اور ایک ایسا علمی و فکری ماحول تشکیل دیا جس میں تحقیق، برداشت اور خدمتِ انسانیت کو بنیادی قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی ادارہ جاتی سوچ کسی بھی فکر کو دوام بخشتی ہے۔
75 برس کی یہ علمی و فکری مسافت دراصل آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ سالگرہ محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ اس بات کا موقع ہے کہ ہم علم، کردار، محنت اور اخلاص کی اُن اقدار کو یاد کریں جو شیخ الاسلام کی زندگی کا خلاصہ ہیں۔ آج مسلم دنیا کو فکری قیادت، اعتدال پسند بیانیے اور مضبوط علمی بنیادوں کی شدید ضرورت ہے، شیخ الاسلام کی خدمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ علم اگر خلوص، محنت اور انسان دوستی کے ساتھ جڑ جائے تو وہ سرحدوں کا محتاج نہیں رہتا۔
بلاشبہ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ علم کو محض الفاظ نہیں بلکہ عمل، اصلاح اور امن کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہی اُن کا پیغام ہے اور یہی اُن کی زندگی کا حاصل۔