خواتین کی تربیت اور شیخ الاسلام کا کردار

پروفیسر ڈاکٹر فرح سہیل

ریاستی و عالمی سطح پر فکری و شعوری بیداری میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جہاں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں ڈاکٹر صاحب کی حکمت و دانائی، فکرو نظریہ اور عملی اساس اپنی پوری حتمیت اور قطعیت کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اسی طرح ٹورنٹو کینیڈا میں بھی بیداری کی یہ لہر نہایت تمکنت اور شان و شوکت کے ساتھ انسانی فکرو شعور میں ولولہ تازہ بیدار کرچکی ہے۔

راقمہ کو 2023ء میں ٹورنٹو، کینیڈا جانے کا اتفاق ہوا۔ عزیز و اقارب سے ملاقات کی خوشی تو یقیناً تھی ہی لیکن اس کے ساتھ شیخ الاسلام سے ملاقات کا اشتیاق بھی بے حد تھا۔

ضیاءالدین رازی کے توسط سے مسی ساگا مسلم کمیونٹی سنٹر ڈکسی رود (ٹورنٹو) تک رسائی حاصل ہوئی۔ یہ کمیونٹی سنٹر وہاں پر مقیم خواتین و حضرات کے لیے باہمی میل ملاپ، صلوٰۃ کی ادائیگی کے علاوہ بہت سے روحانی اجتماع منعقد کرنے کا مرکز ہے جہاں پر ہر طبقہ فکر کے افراد اپنی روحانی بالیدگی اور شیخ الاسلام کے فکرو نظر سے فیض یاب ہونے کاذریعہ ہے۔

دیارِ غیر میں موجود اس سنٹر میں جہاں مرد حضرات کے لیے مختلف روحانی محافل کا انعقاد ہوتا ہے وہاں پر خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ منہاج ویمن لیگ کینیڈا کے زیر انتظام اُدھر ’’گوشہ درود‘‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں خواتین نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد درود شریف کے ورد کا شرف حاصل کرتی ہیں۔ اس بابرکت محفل کا اختتام دعا پر ہوتا ہے۔ مجھے بھی اس روح پرور محفل میں حاضر ہونے کا کئی بار شرف حاصل ہوا۔

اسی طرح منہاج ویمن لیگ کینیڈا کی طرف سے محرم الحرام کی نسبت سے سیدہ زینب (سلام اللہ علیھا) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جو کہ 6 اگست 2023ء میں اتوار کے روز رکھی گئی جس میں معروف نعت و منقبت خواں خواتین اور بچیوں نےسیدہ زینب سلام اللہ علیھا اور اہل بیت اطہار کے حضور نذرانے پیش کیے۔ کانفرنس کے اختتام میں راقمہ کو Key Note Speach کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

پوری کانفرنس کے دوران خواتین میں جو محنت و عقیدت اور جوش و جذبہ تھا وہ دیدنی تھا۔ ایسا روح پرور منظر تھا کہ دلوں میں حب آقا علیہ السلام موجیں مار رہی تھی اور آنکھیں ان کی اہل بیت اطہار کے غم میں آنسو بہارہی تھیں اور یہ جذبہ عقیدت و احترام صرف اور صرف وہی شخص ہی دلوں میں پیدا کرسکتا ہے جس کا اپنا قلب و ذہن حبِ رسول ﷺ اور آلِ رسول ﷺ سے لبریز ہو اور بے شک یہ شیخ الاسلام ہی کی حکمت و بصیرت ہے جس کی کرنیں کینیڈا میں رہنے والے افراد کے قلوب و اذہان کو منور کررہی ہیں اور یقیناً یہ علم و حکمت اور بصیرت عطائے ربانی ہے جو کہ خاتم النبیین ﷺ کی وراثت ہے کہ جیسے آپ ﷺ کی ذات بابرکات نے خدا سے ناآشناؤں کو وحدہ لاشریک رب سے ملایا اور دین و شریعت کی فہم و بصیرت عطا کی۔ بے شک نبوت کے ختم ہوجانے کے بعد اولیاء اللہ ہی تجدید و احیائے دین کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ.

(النحل، 16: 125)

’’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجیے جو نہایت حسین ہو، بے شک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔ ‘‘

اسی طرح غیر انبیاء میں مقربین الہٰی، صالحین اور اولیاء اللہ پروردگار کے راستے کی طرف بلانے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اور عصر حاضر میں شیخ الاسلام کا نام آسمان دنیا پر آفتاب و ماہتاب کی طرح روشن و درخشندہ ہے جن کی فہم و فراست ان کے نظریہ و فکر میں بھرپور جھلکتی ہے کہ جس کی تابانی ملک پاکستان سے لے کرکرہ ارض کے بے شمار ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ ریاستی سطح پر اعتراف کے علاوہ عالمی سطح پر بھی شیخ الاسلام کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ بلاشک و شبہ شیخ الاسلام ایک فرد واحد نہیں بلکہ علم و فکر کی ایک ایسی کہکشاں ہے جو قرطاس فلک پر بھرپور شان و شوکت سے جمگا رہی ہے اور جس کی روشنی سے دنیا بھر کے تقریباً 100 سے زائد ممالک میں اسلام کا آفاقی پیغام پھیل چکا ہے۔ میں نے کینیڈا کے وزٹ کے دوران بخوبی جائزہ لیا کہ یہ ان کی مقناطیسی شخصیت ہے جس نے بے دین معاشروں میں رہنے والے مسلمانوں کو حق سے وابستگی کی طرف راغب کیا ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ ایسے ماحول میں نوجوان نسل کی دین سے وابستگی بے حد ضروری اور ناگزیر ہے تاکہ یہی نوجوان مستقبل میں دین دار انسان بن سکیں۔ اسی طرح کینیڈا میں قیام کے دوران ’’شان اولیاء‘‘ پر منہاج ویمن لیگ کینیڈا کی طرف سے محفل کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف عمر کی خواتین نے اولیاء کی شان میں کلام پیش کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اولیاء کی مقناطیسی صحبت میں بیٹھنے کے فوائد و برکات بیان کیے کیونکہ اولیاء کرام کا تذکرہ ہم مسلمانوں کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ہے اور محبت و سرور کے ساتھ ذکر کی محفلیں سجانے کے فوائد و برکات سے بہرہ مند ہونے کی عصر حاضر کی نوجوان نسل کو بالخصوص دیارِ غیر میں بہت ضرورت ہے۔ اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندوں کی پاکیزہ زندگی کے ساتھ جڑنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی دیا ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل اولیاء اللہ کے پاکیزہ تذکرے سے فیض یاب ہوتے ہوئے ان کے سیرت و کردار کے عملی پہلوؤں کا مشاہدہ کرسکے اور میں نے دیکھا ہے کہ یہ جذبہ شیخ الاسلام نے بیرون دنیا میں مقیم نہ صرف حضرات میں پیدا کیا بلکہ خواتین اور نوجوان بچیاں بھی اس سے فیض یاب ہورہی ہیں۔

ٹورنٹو (کینیڈا) جیسے ملک میں رہتے ہوئے خواتین اور خاص طور پر نوجوان بچیوں کا ایسی محافل میں شرکت کرنا بہت بڑی کامیابی ہے جس کا سہرا شیخ الاسلام کی پر پیشانی پر ہی جچتا ہے۔

اس حوالے سے لکھنے کے لیے ذہن میں میرے کینیڈا اسفر کی بہت سی یاداشت مجتمع ہے جس میں ہر طرف ڈاکٹر صاحب کی فکری بصیرت اور فہم و ادراک اور علم و حکمت نظر آتی ہے جس کو انھوں نے درست اور موزوں انداز میں استعمال کرتے ہوئے ملحد معاشروں میں رہنے والی نوجوان نسل کو خدا سے ملادیا ہے، یقیناً یہ کمال حکمت ہے۔

ٹورنٹو (کینیڈا) میں منہاج القرآن ویمن لیگ سے منسلک خواتین گھروں میں بھی میلاد النبی ﷺ کا انعقاد کرتی ہیں، جن میں میں نے بھی شرکت کا شرف حاصل کیا اور عشق رسول ﷺ کے اس جذبے سے سرشار ہوکر میں نے ٹورنٹو کینیڈا میں مقیم اپنی خواہر ڈاکٹر صدف کے گھر میں بھی میلاد کی محفل سجائی جس میں ویمن لیگ ٹورنٹو کی کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت فرمائی۔

ایک اور اعزاز جو مجھے واپسی سے پہلے حاصل ہوا، وہ جمعہ کے روز شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے ملاقات کا شرف تھا، جس نے دل کو ازحد روحانی سرور بخشا۔ ڈاکٹر صاحب کی جاذبِ ادب شخصیت، شفقت آمیز گفتگو اور خلوص سے بھرپور انداز نے اس ملاقات کو نہایت یادگار بنا دیا۔ ان کی توجہ اور مہمان نوازی نے دل پر گہرا اثر چھوڑا اور روح کو تازگی بخشی۔

؎ یہ سعادت بھی نصیب والوں کو ملتی ہے
کہ اہلِ دل کی دعا زندگی سنوار دیتی ہے