مہ وستارہ سے آگے مقام ہے جس کا!

سمیہ اسلام

’مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا! ’یہ مصرع علامہ محمد اقبالؒ کے اس فکری نظام کی نمائندگی کرتا ہے جس میں انسان کو محض زمینی حدود تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے لامحدود امکانات، بلند مقاصد اور روحانی و فکری عروج کا حامل وجود قرار دیا جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اصل انسان وہ ہے جو ستاروں کی گردش سے بھی آگے اپنا مقام پہچانتا ہے، جو وقت کا اسیر نہیں بلکہ وقت کو معنی عطا کرتا ہے۔ یہ مصرع محض شعری تخیل نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام کا عکاس ہے۔ یہ مصرع اقبال کے اس تصورِ انسان کو واضح کرتا ہے جس میں انسان کائنات کی مادی وسعتوں سے آگے، روحانی، فکری اور اخلاقی بلندیوں کا امین ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان تقدیر کا محکوم نہیں بلکہ تقدیر ساز ہے، وہ زمان و مکان کی قیود سے بلند ہو کر اپنی ذات کے جوہر کو پہچانتا ہے اور کائنات میں بامعنی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو انسان کو ستاروں کی گردش سے آگے لے جا کر لامحدود امکانات سے روشناس کراتی ہے۔

اقبال کے فلسفۂ خودی میں انسان کی اصل قدر اس کے شعور، مقصدیت اور مسلسل ارتقا میں پوشیدہ ہے۔ وہ ایسا انسان نہیں چاہتے جو حالات کے سامنے سر جھکا دے بلکہ ایسا مردِ مومن مطلوب ہے جو اپنی فکری و روحانی قوت سے زمانے کا رخ موڑ دے۔ ’’مہ و ستارہ سے آگے مقام‘‘ دراصل اسی انسانی عظمت، مسلسل جدوجہد اور آفاقی وژن کی علامت ہے۔

اگر اس مصرع کو عصرِ حاضر کی کسی شخصیت کے ساتھ مربوط کیا جائے تو ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت اس فکری وسعت، ہمہ گیری اور آفاقی جہت کی بھرپور نمائندگی کرتی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے علم، عمل، فکر، روحانیت، سیاست، دعوت اور اصلاحِ معاشرہ کے میدانوں میں گہرے اور دیرپا نقوش ثبت کیے۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کا نام ہیں، ایسی تحریک جو انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتی ہے اور اسے مہ و ستارہ سے آگے کے مقام کی طرف بلاتی ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری محض ایک عالمِ دین یا سیاسی راہنما نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فکری و عملی تحریک کا عنوان ہیں۔ انہوں نے دین کو محض رسوم و عبادات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی کے ہر شعبےعلم، سیاست، معاشرت، معیشت، اخلاق اور روحانیت سے جوڑ کر پیش کیا۔

علمی میدان میں ڈاکٹر طاہر القادری کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، تصوف، فلسفہ اور عصری علوم پر ان کی تصانیف اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ علم کو جامد نہیں بلکہ زندہ اور متحرک حقیقت سمجھتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ علم انسان کو محض معلومات نہیں دیتا بلکہ شعور، مقصد اور سمت عطا کرتا ہےاور یہی اقبال کے تصورِ خودی کا بنیادی تقاضا ہے۔

عملی سطح پر ان کی جدوجہد اصلاحِ معاشرہ کے گرد گھومتی ہے۔ امن، رواداری، بین المذاہب رواداری اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ان کی کاوشیں عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہیں۔ یہ وہی آفاقی فکر ہے جس کی جھلک اقبال کے ہاں ملتی ہے، جہاں انسان محض اپنے قبیلے، قوم یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر کا پیغام بن جاتا ہے۔

روحانیت کے باب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے تصوف کو عملی زندگی سے جوڑ کر پیش کیا۔ ان کے نزدیک روحانیت دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ یہ تصور بھی اقبال کے اس پیغام سے ہم آہنگ ہے جس میں عشق، عمل اور شعور ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم پیوست ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ

’’مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا‘‘

کا عملی اظہار ہمیں ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری وسعت، علمی گہرائی اور ہمہ گیر جدوجہد میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتے ہیں، اسے جمود سے نکال کر حرکت، مایوسی سے نکال کر امید اور محدود سوچ سے نکال کر آفاقی وژن عطا کرتے ہیں۔ یہی اقبال کا خواب تھا اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو نہ صرف ستاروں سے آگے لے جاتا ہےبلکہ اپنی ذات کی تکمیل اور انسانیت کی خدمت کی طرف بھی گامزن کرنا ہے۔

مزید غور کیا جائے تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبالؒ کا تصورِ انسان محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی تقاضوں سے بھرپور ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک ’’مہ و ستارہ سے آگے مقام‘‘ پانے والا انسان وہ ہے جو اپنی ذات میں انقلاب پیدا کرے اور پھر اسی انقلاب کو معاشرے تک منتقل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال فرد کو قوم کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اگر فرد بیدار ہو جائے تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

اسی زاویے سے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی جدوجہد کو دیکھا جائے تو ان کی فکر کا مرکز بھی انسان کی تعمیرِ نو ہے۔ وہ انسان کو صرف عبادت گزار نہیں بلکہ باکردار، باشعور، ذمہ دار اور فعال شہری بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ جب تک انسان اپنے باطن کو علم، اخلاق اور روحانیت سے منور نہیں کرتا، وہ بیرونی دنیا میں کوئی دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل وہی نکتہ ہے جسے اقبال ’’خودی کی بیداری‘‘ کا نام دیتے ہیں۔

فکر اور تحریک کا امتزاج

ڈاکٹر طاہر القادری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کی فکر محض خطبات یا تحریروں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک منظم تحریک کی صورت اختیار کر گئی۔ انہوں نے علم کو اداروں کی شکل دی، تربیت کو نظام بنایا اور دعوت کو عالمی سطح تک پہنچایا۔ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ وقت کے دھارے کے ساتھ بہنے کے بجائے وقت کو نئی سمت دینے کا شعور رکھتے ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو اقبال کے مردِ مومن کو ’’زمانے کا امام‘‘ بناتا ہے۔

سیاست میں اخلاقی شعور

عصرِ حاضر میں سیاست کو عام طور پر مفادات، اقتدار اور طاقت کی کشمکش سمجھا جاتا ہے، مگر ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست کو اخلاق، دیانت اور عوامی خدمت سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک سیاست اگر انسان کی فلاح، عدل کے قیام اور ظلم کے خاتمے کا ذریعہ نہ بنے تو وہ محض ایک کھیل رہ جاتی ہے۔ یہ تصور بھی اقبال کے سیاسی شعور سے ہم آہنگ ہے، جہاں سیاست دین سے جدا نہیں بلکہ اس کی عملی توسیع ہے۔

عالمی سطح پر آفاقی پیغام

ڈاکٹر طاہر القادری کی دعوت کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے مغرب میں اسلام کے پرامن، علمی اور انسان دوست تشخص کو اجاگر کیا۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ان کا تاریخی فتویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسلام کو زندگی، امن اور انسانیت کا مذہب بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اقبال بھی یہی چاہتے تھے کہ مسلمان تنگ نظری اور جمود سے نکل کر آفاقی کردار ادا کریں اور دنیا کو امن و انصاف کا پیغام دیں۔

انسان، کائنات اور ذمہ داری کا شعور

اقبالؒ کے ہاں ’’مہ و ستارہ سے آگے مقام‘‘ محض رفعتِ مقام کا استعارہ نہیں بلکہ ذمہ داری کے بوجھ کی علامت بھی ہے۔ جتنا بلند مقام، اتنی ہی بڑی ذمہ داری۔ اقبال کے نزدیک انسان کائنات میں تماشائی نہیں بلکہ شریکِ تخلیق ہے، جو اپنے ارادے، نیت اور عمل سے کائناتی نظم میں معنویت پیدا کرتا ہے۔ یہ تصور انسان کو غرور نہیں بلکہ جواب دہی کا احساس دیتا ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر میں بھی یہی ذمہ داری مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ علم کو امتیاز نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عالم وہی ہے جو علم کو عوام کی رہنمائی، معاشرے کی اصلاح اور ظلم کے خلاف آواز بنانے کے لیے استعمال کرے۔ یہ شعور انسان کو محض ستاروں سے آگے نہیں لے جاتا بلکہ اسے انسانیت کے سامنے جواب دہ بھی بناتا ہے۔

جمود کے خلاف فکری بغاوت

اقبالؒ کی شاعری کا ایک نمایاں وصف جمود کے خلاف بغاوت ہے۔ وہ روایت پرستی، اندھی تقلید اور ذہنی غلامی کو انسان کے لیے سب سے بڑی زنجیر سمجھتے ہیں۔ ’’مہ و ستارہ سے آگے‘‘ دراصل اس ذہنی قید سے آزادی کا اعلان ہے، جہاں انسان ماضی کا قیدی بننے کے بجائے مستقبل کا معمار بنتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی جدوجہد بھی فکری جمود کو توڑنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ انہوں نے دین کو خوف، سختی اور تنگ نظری کے حصار سے نکال کر دلیل، محبت اور حکمت کی زبان میں پیش کیا۔ یہ انداز نوجوان ذہن کو سوال کرنے، سوچنے اور تخلیقی بننے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہی وہ فکری آزادی ہے جسے اقبال انسان کی اصل معراج سمجھتے ہیں۔

علم اور وجدان کا امتزاج

اقبالؒ کے نزدیک علم اگر وجدان سے خالی ہو تو وہ خشک عقل بن جاتا ہے، اور وجدان اگر علم سے محروم ہو تو وہ گمراہی میں بدل سکتا ہے۔ اس لیے اقبال علم اور عشق، عقل اور دل کے امتزاج پر زور دیتے ہیں۔ ’’مہ و ستارہ سے آگے‘‘ وہی جا سکتا ہے جو ان دونوں قوتوں کو یکجا کر لیتا ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت میں بھی یہ امتزاج نمایاں ہے۔ ایک طرف وہ دقیق علمی مباحث، فقہی دلائل اور تحقیقی معیار رکھتے ہیں، تو دوسری طرف روحانی کیفیات، ذکر، تزکیۂ نفس اور اخلاقی تربیت کو نظر انداز نہیں کرتے۔

روحانی بلندی اور اخلاقی جمال

اقبالؒ کے نزدیک اصل بلندی ظاہری طاقت یا سائنسی ترقی نہیں بلکہ اخلاقی عظمت ہے۔ اگر انسان اخلاق میں پست ہو تو وہ چاہے چاند پر پہنچ جائے، پھر بھی مہ و ستارہ سے آگے نہیں جاتا۔ اس لیے اقبال اخلاق، صداقت، خودداری اور وفا کو انسانی عظمت کا معیار قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی فکر میں بھی اخلاق مرکزی قدر ہے۔ وہ تبدیلی کا آغاز فقط نعروں سے نہیں بلکہ کردار کی اصلاح سے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک معاشرہ اسی وقت بلند ہو سکتا ہے جب فرد سچ، عدل، صبر اور خدمت کو اپنی زندگی کا اصول بنا لے۔

یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ

’’مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا‘‘

ایک ایسا فکری تسلسل ہے جو اقبالؒ کے خواب سے نکل کر عصرِ حاضر میں نئی صورتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر و جدوجہد اسی تسلسل کی ایک معاصر تعبیر ہے، جو انسان کو طاقت نہیں بلکہ شعور، شہرت نہیں بلکہ خدمت، اور بلندی نہیں بلکہ ذمہ داری کا راستہ دکھاتی ہے۔