شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطیبانہ تفردات

پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ بغدادی

فنِ خطابت کی اہمیت و ناگزیریت

’خطابت‘ ایک ایسا سحر آفریں اور مؤثر القلوب اُسلوبِ بیان ہے جس سے لوگوں کی رائے کو بدلا اور اُنہیں اپنا ہمنوا بنایا جاسکتا ہے۔ یہ فن لوگوں کے خیالات کو بدلنے، قیادت کرنے اور اپنے مقاصد و خیالات کو مؤثر طریقے سے دوسروں تک پہنچانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ منصبِ قیادت پر فائزافراد میں اس صلاحیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرنے والی اہم صفات میں سب سے نمایاں صفت بھی یہی قوتِ نطق و بیان ہے۔ یہی قوت انسان کے باطن کی ترجمان، اس کے افکار کی عکاس اور اس کے جذبات کی غماز ہے۔ اظہارِ خیال کا یہی ہنر جب فکری نظم، ادبی حسن اور معنوی مقصدیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے تو وہ خطابت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ خطابت محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ افکار کی ترسیل، اذہان کی تعمیر اور قلوب کی تسخیر کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ انسانی سُخن و بیان کو حُسنِ ازل قرار دیتے ہوئے حضرتِ اقبالؒ نے فرمایا:

حُسنِ ازل کی پیدا ہر چیز میں جھلک ہے
انساں میں وہ سخن ہے، غنچے میں وہ چٹک ہے

(بانگِ درا، جگنو :95)

ایک عبقری اور نابغۂ روز گار شخصیت کی خطابت نے ہمیشہ معاشروں کی فکری تشکیل، سماجی بیداری اور تہذیبی ارتقا میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ اقوام کی تقدیر بدلنے والی تحریکیں اور فکری انقلابات اکثر کسی خطیب کی صدائے دلبری سے جنم لیتے رہے ہیں۔ قانون، سیاست، تعلیم، اخلاق اور اجتماعی شعور کی تشکیل میں خطابت ایک ایسا زندہ اور متحرک وسیلہ ہے جو تحریر کے مقابلے میں زیادہ سریع، گہرا اور دیرپا اثر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عہد میں خطابت کو قیادت اور رہنمائی کا طاقتور ہتھیار سمجھا گیا ہے۔ اسی سحر آفرینی کو قلندرِ لاہوی نے یوں بیان کیا ہے:

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا

(بانگِ درا، خطاب بہ جوانانِ اسلام: 191)

قرآن اور حسنِ بیان کی اہمیت

اسلامی تناظر میں خطابت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اسلام ایک دعوتی، اصلاحی اور ابلاغی دین ہے۔ قرآنِ حکیم نے انسان کو شرفِ بیان عطا کر کے دعوت و ہدایت کے لیے زبان کو بنیادی وسیلہ قرار دیا، جیسا کہ ارشاد ہوا:

خَلَقَ الْاِنْسَانَ. عَلَّمَہُ الْبَیَانَ.

(الرحمن، 55/3- 4)

’’اُسی نے انسان کو پیدا فرمایا۔ اسی نے اِسے بیان سکھایا۔ ‘‘

تخلیقِ انسانی کا ذکر کر کے معاً بعد اُس کی صفتِ بیان کا ذکر کرکے اللہ رب العزت نے یہ واضح فرما دیا کہ زبان و بیان کا یہ وصف انسان کی انفرادی خصوصیت ہے۔

حضرتِ انسان کو یہ خصوصیت اِس لیے بھی عطا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے اپنی دعوتِ توحید کا ذریعہ بنانا تھا، یوں انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ شروع ہوا، تو جہاں اللہ تعالیٰ نے اُنہیں دیگر فضائل سے نوازا، وہیں اُنہیں حسنِ بیان اور خطابت کی اضافی صلاحیت سے بھی نوازا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی بابت فرمایا:

وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ

(ص، 38/20)

’’اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا‘‘

رسالتِ محمدی ﷺ کا بنیادی فریضہ بھی تبلیغ، تبیین اور دعوت تھا، اور یہ تینوں فرائض خطابت کے بغیر نامکمل ہیں۔ خطبۂ جمعہ، خطبۂ عیدین، خطبۂ حجۃ الوداع اور دیگر مواقع پر حضور نبی اکرم ﷺ کی خطابت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اسلام میں خطابت محض ایک فن نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔ اسی ذمہ دارانہ حسنِ خطابت کے وصف کی وجہ سے حضرت موسی اللہ تعالی سے اپنے بھائی حضرت ہارون کو طلب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں:

وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ.

(القصص، 28/34)

’’اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام)، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہیں سو انہیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کر سکیں میں اس بات سے (بھی) ڈرتا ہوں کہ (وہ) لوگ مجھے جھٹلائیں گےo‘‘

اسلامی تاریخ میں انبیاء کرام علیہم السلام سے لے کر صحابۂ کرام، تابعین، ائمہ، صلحاء اور مصلحین تک، سب نے خطابت کو دعوت، اصلاح اور تعلیم کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ عقائد کی تصحیح، اخلاق کی تعمیر، معاشرتی بگاڑ کی اصلاح اور فکری انحراف کے سدِّباب میں منبر و محراب کا ہمیشہ مرکزی کردار رہا ہے ۔ جس کے باعث مسجد محض عبادت گاہ نہیں رہی بلکہ فکری و تہذیبی تربیت کا مرکز بن گئی۔

خطابت میں فرقہ وارانہ اُسلوب و بیان سے اجتناب

تاہم خطابت کی یہ عظمت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب وہ علم، اخلاص، تحقیق اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہو۔ غیر ذمہ دارانہ، جذباتی اور فرقہ وارانہ خطابت نے جہاں معاشروں کو نقصان پہنچایا، وہیں باوقار، مدلل اور اصلاحی خطابت نے دلوں کو جوڑا اور امت کو وحدت کی راہ دکھائی۔ اسی پس منظر میں عصرِ حاضر میں ایسی خطابت کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے جو علم سے مزین، تحقیق سے مضبوط، اسلوب میں متوازن اور مقصد میں خیرِ عامہ کی امین ہو۔ فرقہ وارانہ خطابت سے اجتناب کی تلقین کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں:

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چُھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تقریر سے

محفلِ نَو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اَب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ

(بانگِ درا، سیدکی لوحِ تُربت :٦٤)

خطابت کی تاریخی روایت اور عہدِ حاضر کا فکری جمود

زمانے نے تاریخ کے دامن میں خطابت کے بے شمار شہسوار دیکھے۔ خَطِيْبُ الْأَنْبِيَاءِ حضرت شعیب علیہ السلام سے لے کر حضور نبی اکرم ﷺ تک، خطابت ہمیشہ ہدایت، اصلاح اور انقلاب کا ذریعہ رہی۔ آپ ﷺ افصح العرب والعجم اور اولین و آخرین کے خطیب قرار پائے، اور آپ کے دامن سے خطابت کو شرف و وقار نصیب ہوا۔ بعد ازاں مسلم خطباء نے ہر دور میں اس روایت کو آگے بڑھایا۔ اسی طرح برصغیر میں فنِ خطابت کی ایک طویل اور امیر تاریخ ہے، جو مذہبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کا ایک لازمی جزو رہی ہے، اس خطے نے اس فن کے کئی شہسوار پیدا کیے ہیں ۔ لیکن عہدِ حاضر میں ڈاکٹرفریدالدین کے کاشانے میں آنکھ کھولنے والی اس عہد ساز ہستی نے خطابت کی نئی تاریخ رقم کی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فنِ خطابت کو ثریا سے ہم کنار کر دیا اور اِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا کی عملی تفسیر بن کر سامنے آئے۔

المختصر یہ کہ مجدد المائۃ الحاضرہ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے جب دعوتِ دین اور اصلاحِ احوالِ اُمت کے لیے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو اُس کا بنیادی ذریعہ اُن کا فنِ خطابت ہی بنا۔آپ نے جس دور میں میدانِ خطابت میں قدم رکھا، اس زمانے میں خطابت کا عمومی انداز نہایت روایتی، محدود اور جمود کا شکار تھا۔ بیشتر خطباء رٹے رٹائے خطبات پر اکتفا کرتے؛ سال کے بارہ مہینوں کے لیے چند تقاریر تیار کر لی جاتیں اور پورا سال انہی کو دہرایا جاتا۔ خطاب میں مخصوص طرز لگا کر اشعار یا نثر پڑھنا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا، اور جو اس فن سے ناآشنا ہوتا، اس کا خطاب سامعین کی سماعتوں پر نہایت گراں گزرتا۔ مزید یہ کہ خطابت کا بڑا حصہ فرقہ وارانہ دفاع اور مخالف مسلک کی تردید پر مشتمل ہوتا۔ جب تک تقریر میں مخالفین کو بھرپور انداز میں لتاڑا نہ جاتا، اسے مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسی ماحول میں مناظروں کا بھی زور تھا، جہاں علمی استدلال سے زیادہ مسلکی جوش غالب رہتا، اور سامعین اکثر جذباتی محاذ آرائی پر آمادہ نظر آتے۔

یہ پس منظر اس لیے بیان کرنا ضروری ہے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ شیخ الاسلام نے کس فکری، سماجی اور تبلیغی و دعوتی ماحول میں مصطفوی مشن کے فروغ کے لیے خطابت کا آغاز فرمایا اور اِس فن پر بھی طاری جمود کو توڑا اور اِس کی اِصلاح کرتے ہوئے اِسے دعوتِ دین کا مؤثر ذریعہ بنا دیا۔

شیخ الاسلام اور صنعتِ خطابت میں فکری انقلاب

ایسے ماحول میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے نہ صرف اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ ملکِ عزیز میں خطابت کو ایک نیا فکری اور اسلوبی رخ عطا کیا۔ آپ نے خطابت کے روایتی پیمانوں کو یکسر بدل دیا۔ نہ گلا پھاڑنا ضروری رہا، نہ طرز لگانا کامیابی کی علامت ٹھہرا؛ نہ موضوعات کی یکسانیت باقی رہی، نہ فرقہ وارانہ خطابت کو قبولِ عام حاصل رہا۔

آپ کی تقاریر نے سامعین کے ذوق کو بدل دیا۔ عوام نے محض جوش نہیں بلکہ علمیت کا مطالبہ کرنا شروع کیا، اور خطباء سے تحقیق، حوالہ جات اور فکری استدلال کی توقع رکھی جانے لگی۔ زبانی خطابت کی جگہ میز پر مستند کتب رکھ کر حوالہ کے ساتھ گفتگو کامیابی کی علامت بن گئی۔ یوں لاحاصل مناظرے دم توڑنے لگے اور منبر و محراب سے دشنام طرازی کا رواج ماند پڑنے لگا۔ بلا شبہ اس فکری انقلاب کا سہرا شیخ الاسلام ہی کے سر جاتا ہے۔

شیخ الاسلام کے خطیبانہ تفردات

عصرِ حاضر کے خطیب بے بدل حضور شیخ الاسلام کی خطابت محض اظہارِ خیال نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و فنی نظام ہے، جس کے اندر کئی ایسے امتیازی اوصاف مجتمع ہیں جو انہیں اپنے عہد کے خطباء میں ممتاز اور منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ یہ تفردات محض انفرادی خوبیاں نہیں بلکہ ایک مربوط دبستانِ خطابت کی تشکیل کرتے ہیں۔ ذیل میں ہم آپ کی دل‌نشیں خطابت کے چند نمایاں تفردات کا ذکر کرتے ہیں، جن کے ذریعے قارئین کے لیے آپ کی خطابت اور فنِ گویائی کی عظمت اور اثر پذیری کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

1۔ موضوعاتی تنوع: وسعتِ علم کا آئینہ

آپ کی خطابت کا سب سے نمایاں اور بنیادی وصف موضوعاتی تنوع ہے۔ یہ تنوع محض موضوعات کی کثرت نہیں بلکہ ہر موضوع پر گرفت، درک اور گہرائی کا نام ہے۔ آپ کی خطابت میں قرآنیات، تفسیریات، حدیث و اصولِ حدیث، اعتقادیات، فقہ و اصولِ فقہ، اخلاقیات، روحانیات، سیرت، تاریخ، فلسفہ، سائنس، قانون، سیاست اور عصری مسائل اس طرح باہم پیوست نظر آتے ہیں کہ کوئی موضوع اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔

اکثر علما کا کوئی نہ کوئی مخصوص علمی ذوق ہوتا ہے، جس میں وہ خصوصی مہارت رکھتے ہیں اور اسی دائرے میں وہ عمدہ طور پر لکھ اور بول سکتے ہیں؛ لیکن جب اس مخصوص موضوع سے ہٹ کر گفتگو کی نوبت آئے تو بسا اوقات وہ اس کا حق ادا نہیں کر پاتے۔ اس کے برعکس حضور شیخ الاسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ امتیازی وصف عطا فرمایا ہے کہ ہر موضوع اُن کے لیے گویا ایک free zone بن جاتا ہے، اور وہ جس موضوع پر بھی خطاب فرماتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہی ان کا اصل اختصاص ہے۔ ہر عنوان ایک نئے زاویۂ نگاہ کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ جس گوشۂ علم پر لب کشا ہوتے ہیں وہ ایک بحرِ مواج بن جاتا ہے، اور اہلِ فن انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ یہ تنوع آپ کے وسیع مطالعہ، وسعتِ نظری اور فکری جامعیت کا روشن اور بین ثبوت ہے، اور یہی وصف آپ کے حلقۂ سامعین کو غیر معمولی وسعت عطا کرتا ہے۔

2۔ کمالِ نظم: فکری ترتیب کا شاہکار

ڈاکٹر طاہرالقادری کی خطابت میں محض ربط نہیں بلکہ کمالِ ربط پایا جاتا ہے۔ آپ کی گفتگو ایک مربوط فکری نظم کے تحت آگے بڑھتی ہے، جس میں ہر نکتہ اپنے محل پر آتا ہے اور ہر دلیل اپنے مقام پر بیٹھتی ہے۔ نہ آغاز میں ابہام ہوتا ہے، نہ اختتام میں انتشار۔ بلاشبہ اس کے پسِ پشت ہر خطاب کے لیے کثرتِ مطالعہ کارفرما ہوتا ہے؛ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر خطاب سے قبل مکمل تیاری اور بھرپور ہوم ورک ہی آپ کے خطاب کو نقطۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے۔

آپ کا اسلوب تدریجی ہے؛ سامع قدم بہ قدم علم و فکر کی منازل طے کرتا ہے۔ سادہ سے دقیق کی طرف سفر اتنی سہولت کے ساتھ ہوتا ہے کہ مبتدی بھی دقائقِ علم سے مانوس ہو جاتا ہے۔ یہ نظمِ تکلم دراصل نظمِ فکر اور نظمِ شخصیت کا آئینہ دار ہے، اور یہی وصف آپ کو تاریخِ خطابت میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

3۔ ادیبانہ حسن: زبان و بیان کی جمالیات

ادیبانہ حسن و زیبائی آپ کی خطابت میں ایک مستقل قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ الفاظ کے انتخاب میں شائستگی، تراکیب میں موزونیت، اور جملوں میں روانی پائی جاتی ہے۔ عربی و فارسی تراکیب کا استعمال نہ تصنع کا شائبہ رکھتا ہے، نہ ثقالت پیدا کرتا ہے، بلکہ معنی میں وقار اور اظہار میں لطافت پیدا کرتا ہے۔

بقول شاعر مشرق:

مثلِ خورشیدِ سَحر فکر کی تابانی میں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

(ضربِ کلیم،مردِ بزرگ :141)

استعارات، تشبیہات اور تمثیلات محض آرائش نہیں بلکہ فکر کے ابلاغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ زبان میں نغمگی ہے، بیان میں ایجاز ہے، اور تخیل میں رفعت۔ یہی ادیبانہ جمال خطابت کو محض تقریر نہیں بلکہ ایک فکری و ادبی تجربہ بنا دیتا ہے۔

4۔ بر محل اور موزوں گفتگو: ایک خطیب کا نمایاں وصف

معروضی حالات کے مطابق برجستہ و شستہ گفتگو کرنا کسی بھی خطیب کا نمایاں وصف ہوتا ہے۔ آپ کی خطابت کا ایک نمایاں اور اعلیٰ وصف یہ ہے کہ آپ موقع و محل کی کامل رعایت کے ساتھ گفتگو فرماتے ہیں۔ جس طرح کی مجلس اور ماحول ہو، آپ کی گفتگو بھی بعینہٖ اسی کے مطابق ہوتی ہے؛ خالص علمی ماحول ہو تو علمی رنگ غالب ہوتا ہے، روحانی فضا ہو تو کلام روح پرور بن جاتا ہے، اصلاحی و تربیتی موقع ہو تو انداز ناصحانہ اور مؤثر ہوتا ہے، سیاسی مناسبت ہو تو گفتگو حقائق پر مبنی اور بصیرت افروز ہوتی ہے، اور اگر غیر رسمی نشست ہو تو اس میں سلاست اور بے تکلفی نمایاں ہوتی ہے۔ الغرض! موقع و محل کو پیشِ نظر رکھ کر گفتگو کرنا آپ کا امتیازی وصف اور خاصۂ خطابت ہے۔ حکیم الامت حضرتِ اقبال نے حالات و زمانہ کی رعایت سے متعلق کتنی خوبصورت بات کی ہے کہ:

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

(ضربِ کلیم، مومن: 58)

دوسرے مقام پر کسی قائدکی اسی حکمت و دانائی کو یوں بیان فرمایا ہے:

اے رہروِ فرزانہ! رستے میں اگر تیرے
گُلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو

(بانگِ درا، غزلیات: 296)

5۔ صوتی آہنگ: آواز کی معنویت

آپ کی آواز محض صوت و صدا نہیں بلکہ گہرے معارف و معانی کی حامل آواز ہے۔ لہجوں کا تنوع، صوتی آہنگ اور موضوع کے مطابق صوتی زیرو و بم سامع پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ علمی موضوعات میں وقار اور ٹھہراؤ، فکری مباحث میں دھیما مگر اثر انگیز انداز، اصلاحی گفتگو میں شفقت اور نرمی یہ سب آپ کی صوتی مہارت کا حصہ ہیں۔

کہیں آواز بادلوں کی گھن گرج بن جاتی ہے، کہیں شبنم کی طرح دل پر اترتی ہے، اور کہیں جراح کے نشتر کی مانند دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی صوتی تنوع آپ کی خطابت کو زندہ اور متحرک رکھتا ہے کہ آپ کے سامعین گھنٹوں یکساں توجہ اور انہماک سے آپ کو سماعت کرتے ہیں اور قطعاً اُکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ ایسے ہی دل آویز خطاب کی بابت اقبال فرماتے ہیں:

نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

(بالِ جبریل، مسجد قُرطُبہ: 95)

6۔ ابلاغِ عام: علمی رفعت سے عوام تک کا سفر

بہت سے خطباء علم کی بلندیوں تک تو پہنچ جاتے ہیں، مگر عوام تک نہیں پہنچ پاتے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا امتیاز یہ ہے کہ وہ بلند ترین علمی مباحث کو بھی اس اسلوب میں بیان کرتے ہیں کہ ہر سطح کا سامع مستفید ہوتا ہے۔ نیز اپنے سامعین کے ذوق، فہم اور علمی سطح کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ گویا آپ ہر مجلس میں حاضرین کے حسبِ حال اندازِ بیان اختیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی گفتگو سادہ ہونے کے باوجود گہرے معانی کی حامل ہوتی ہے، اور ہر طبقے کا سامع اسے بہ آسانی سمجھ لیتا ہے اور اس سے فیض یاب ہوتا ہے۔ادق سے ادق موضوع پر بھی آپ کا پیرایۂ اظہار ایسا واضح، دلنشیں اور مربوط ہوتا ہے کہ مفہوم دل و دماغ دونوں میں اتر جاتا ہے۔ یہی ابلاغِ عام خطابت کی روح ہے، اور یہی وصف آپ کو عوام و خواص میں یکساں مقبول بناتا ہے۔

7۔ عنصرِ تخلیقیت : خطابت میں جدّت و تخلیق

آپ کی خطابت تقلید کی اسیر نہیں بلکہ تخلیق کی علمبردار ہے۔ اسلوب ہو یا موضوع، ہر دو سطحوں پر تخلیقی ندرت نمایاں ہے۔ نئے عنوانات، نئے زاویے اور نئی تعبیرات آپ کی خطابت کو تازگی اور جدت عطا کرتی ہیں۔ قدیم اور جدید کا حسین امتزاج آپ کی تخلیقی بصیرت کا ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تکرار، جو روایتی خطابت کی ایک بڑی کمزوری رہی ہے، آپ کے ہاں شاذ ہی نظر آتا ہے۔ ہر تقریر نئے اُفق وا کرتی ہے اور فکر کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔ قرآنی معارف پر گہرے فکر و تدبر نے شیخ الاسلام کو یہ شان عطا کی ہے جس کی بابت اقبال فرماتے ہیں:

قُرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
ﷲ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار

(ضربِ کلیم، اِشتراکیت: 148)

8۔ خطابت میں تحقیقی و تخریجی روایت کا آغاز

آپ کی خطابت کا ایک مضبوط ستون تحقیقی اور تخریجی مزاج ہے۔ کوئی بات بغیر دلیل کے زبان پر نہیں آتی، اور کوئی دعویٰ حوالہ کے بغیر پیش نہیں کیا جاتا۔ آپ کے دلائل محض خطیبانہ جوش نہیں بلکہ مستند علمی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں۔

آپ ہر خطاب کے لیے اس طرح تیاری فرماتے ہیں گویا اس موضوع پر پہلی مرتبہ گفتگو کرنے جا رہے ہوں۔ اس موضوع پر دستیاب تمام مواد کا حتی المقدور احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اگر اس پر پہلے بھی خطاب فرما چکے ہوں تو محض تکرار سے قطعی اجتناب کرتے ہیں۔ ایک موقع پر طلبہ کو مطالعے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

”میرے بیٹو! اگر میں بغیر مطالعہ کے سو خطابات بھی کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں، لیکن میں ہمیشہ ہر خطاب کے لیے اس طرح مطالعہ کرتا ہوں جیسے میں اس موضوع پر پہلی بار خطاب کر رہا ہوں۔ “

یہ بات راقم کے ذاتی مشاہدہ میں ہے کہ آپ ایک خطاب کے لیے کئی کئی دن گھنٹوں مطالعہ پر صرف کرتے ہیں اور کسی بھی موضوع پر سطحی معلومات کی بجائے نادر نکات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہی مسلسل تیاری اور تازہ مطالعہ آپ کے خطابات کو جان دار، مؤثر اور ہمہ وقت نیا بنا دیتا ہے۔

یہ تحقیقی معیار سامع کے دل میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور خطابت کو علمی وقار عطا کرتا ہے۔ یہی وصف آپ کی گفتگو کو وقتی اثر سے نکال کر دیرپا فکری سرمایہ بنا دیتا ہے۔

9۔ بیان و خطابت میں شستگی و شائستگی

شیخ الاسلام کے فنِ خطابت کا ایک نادر پہلو آپ کا مہذب اور سنجیدہ اُسلوبِ بیان ہے۔ آپ کی گفتگو یا تحریر سطحی، بازاری اور غیر سنجیدہ انداز سے کاملاً پاک ہوتی ہے۔ الفاظ کا انتخاب باوقار، مہذب اور با معنی ہوتا ہے، جو سامع کے ذوق اور فہم کی رعایت رکھتاہے۔ آپ کی کوئی بھی گفتگو نہ محض جذبات بھڑکانے کے لیے ہوتی ہے اور نہ ہی غیر ضروری شوخی یا بے وزنی کا شکار ہوتی ہے، بلکہ آپ سنجیدگی اور شائستگی کے ساتھ اپنی بات مؤثر انداز میں پہنچاتے نظر آتے ہیں۔آپ کے بارے میں بالیقین یہ کہا جا سکتا ہے کہ طویل عہدِ خطابت کے باوجود آپ کی زبان نہ کبھی رکاکت کا شکار ہوئی، نہ ابتذال کی طرف مائل۔ اختلاف بھی ہوا تو وقار کے ساتھ، رد بھی ہوا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ یہ شائستگی محض اخلاقی وصف نہیں بلکہ ایک فکری اصول ہے، جو خطابت کو تہذیبی بلندی عطا کرتا ہے اور سامع کو فکری آسودگی فراہم کرتا ہے۔ حضور شیخ الاسلام اِس وصف کے کمال پر فائز ہیں۔

10۔ مؤثر القلوب اور سحر آفریں خطیب

حضور شیخ الاسلام کی سحر آفریں اور دل پذیر خطابت کا اعجاز ہے کہ دنیا بھر میں دیئے گئے آپ کے خطابات کا اثر نہ صرف آپ کے رفقاء اور کارکنان میں محسوس کیا جاتا ہے بلکہ عامۃ الناس، نوجوانوں اور علمی و مذہبی حلقوں میں بھی اس کا مثبت اثر دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر اُن کے بیانات جن میں الحاد کا ردّ، ذہنی و نفسیاتی مسائل کا حل اور اَخلاقی و روحانی تربیت جیسے موضوعات کو ٹھوس دینی دلائل کے ساتھ سمجھایا گیا ہے، نے بہت سے سننے والوں کے فکری دائرۂ کار کو وسعت دی ہے اور اُنہیں قبولیتِ عامہ حاصل ہوئی ہے۔

مختصر یہ کہ علمی استناد، زبان و بیان پر عبور، الفاظ کا چناؤ، جملوں کی ساخت، محاوراتی روانی، معاصر تناظر، الفاظ کی ادائیگی اور صوتی آہنگ حضرتِ شیخ الاسلام کے ایسے خطیبانہ تفردات ہیں جو آپ کی خطابت کو محض ایک فن نہیں بلکہ ایک مکمل دبستانِ خطابت بنا دیتے ہیں، ایسا دبستان جس میں علم، ادب، فکر، تحقیق اور تہذیب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ایسے ہی فردِ فرید اور خطیبِ عدیم النظیر کے بارے میں دانائے راز حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں:

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

(بالِ جبریل، غزلیات :55)