ڈاکٹر نعیم انور نعمانی

موجودہ صدی علم و سائنس کی صدی ہے اور یہ جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی سے معمور ہے۔ اس صدی میں جب تہذیبی ٹکراؤ، فکری انتشار اور الحادی فتنوں اور اسلاموفوبیا کے مصنوعی پروپیگنڈہ نے علمی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ایسے وقت میں جس شخصیت نے اسلام کی اصل روح کو معتدل، معیاری اور بین الاقوامی علمی زبان میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اُن میں سے سب سے نمایاں نام شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ہے۔

علمی دنیا کا معتبر نام

عصرِ حاضر میں علمی اور فکری دنیا کا ایک معتبر اور ایک مستند نام شیخ الاسلام کا ہے۔ وہ نہ صرف اسلام کے دینی، فکری اور تحقیقی ورثے کے امین ہیں بلکہ عالمی سطح پر اسلام کی علمی عظمت کے ترجمان بھی ہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو موجودہ صدی میں ’’نشانِ علم‘‘ قرار دینا یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے بلکہ حقیقت کا اظہار ہے اور اُن کے اس عصری اعزاز، نشانِ علم پر اُن کا تحریری مواد اور اُن کی بے شمار تصانیف خود گواہ و شاہد ہیں۔ اب تک اُن کی زبان و قلم سے ایک ہزار کتب کا مواد مختلف صورتوں میں ظہور پذیر ہوچکا ہے۔ انھوں نے اسلام کے ہر موضوع پر مدلل بولا بھی ہے اور محقق لکھا بھی ہے۔ اُن کی زبان و قلم نے قرآن کے معارف کو بھی بیان کیا ہے اور حدیثِ رسول ﷺ کے اسرار و رموز کو بھی آشکار کیا ہے اور اُنھوں نے علمِ فقہ کے اجتھادی اور عصری مسائل کا بھی جامع اور قابل عمل حل دیا ہے اور انھوں نے امت کو اسلام کے قرونِ اولیٰ کے زندہ تصوف کے ساتھ بھی جوڑا ہے اور وہ تصوف جو انسانی احوال کو ایک انقلاب آشنا کردار سے آراستہ کرتا ہے۔ انھوں نے اسلامی قانون کی عملیت، دائمیت اور واقعیت کو بھی عیاں کیا ہے اور ہر زمانے کے لیے اس کے قابل عمل ہونے کو ثابت کیا ہے۔ انھوں نے اسلام کے اصل تصورِ سیاست کو رسول اللہ ﷺ کے مدنی دور اور عہدِ خلافت راشدہؓ کے تناظر میں زندہ کیا ہے۔

انھوں نے ملکی و قومی معیشت کو بھی کردار و سیرت الرسول ﷺ کے حوالے سے تمام انسانی معاشی مسائل کے حل کا ضابطہ و قاعدہ قرار دیا ہے۔

رواں صدی کا نشانِ علم

شیخ الاسلام رواں صدی میں علم کا بہت بڑا نشان اُس وقت بھی ہمارے سامنے ظاہر ہوتے ہیں جب وہ ہزاروں احادیث کی تحقیق و تخریج کرتے ہیں۔ عامۃ الناس اور علماء کے سامنے ہر نشست و مجلس میں مستند اور معتبر احادیث پیش کرتے ہیں۔ عصری مسائل کے حل کے لیے ایک منھج و اسلوب دیتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں عالمی سطح پر شیخ الاسلام نے اسلام کے پیغام کو ساری دنیا کے سامنے اور بالخصوص مغربی دنیا کے سامنے بہت زیادہ اعتدال، امن اور علم کے روشن چہرے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اسلام کو آج کے دور کا دین ثابت کرنے میں اُن کا کردار بڑا ہی کلیدی ہے۔ انھوں نے سینکڑوں صفحات پر مشتمل دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کرکے اسلام کے پرُامن چہرے کی بڑی خوبصورتی کے ساتھ حفاظت اور مدافعت کی ہے۔ اُن کا یہ فتویٰ ساری اسلامی دنیا کی طرف سے اہلِ مغرب کو ایک خوبصورت علمی و تحقیقی جواب ہے جس کا ہر ہر لفظ اسلام کے پُرامن چہرے اور اس کے پیغام محبت اور ہر انسان کی اصلاح اور فلاح کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔

بین المذاہب اسلام کے فروغ کا منہج

شیخ الاسلام نے مغربی دنیا میں بین المذاہب رواداری کو بہت زیادہ فروغ دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں غیر مسلم انسان بڑی تعداد میں اسلام کی طرف راغب ہوئے ہیں اور بے شمار اسلام کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں اور یوں عالمی سطح پر انھوں نے بین المذاہب رواداری اور مکالمے پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور قومی سطح پر انھوں نے تمام مسالک اور دینی جماعتوں کے درمیان مذہبی رواداری کی ہمیشہ بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ اس تصور نے اسلام کو اندرونی اور بیرونی دونوں سطح پر بہت زیادہ مضبوط کیا ہے۔ شیخ الاسلام کے لیکچرز اور اُن کی قلم کے شاہپارے مغربی اور یورپی نوجوانوں کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں۔

اسلام کی روحانی عظمت کا تعارف شیخ الاسلام نے اخلاق، محبت اور خدمتِ خلق اور صفائی قلب و باطن سے کرایا ہے۔ انھوں نے ہر مسلمان کے لیے نفس کی اصلاح کو لازمی قرار دیا ہے۔ انھوں نے معاشرے کے استحکام کو باہمی محبت اور حسن معاشرت کے ساتھ لازم کیا ہے۔

تقریر و تحریر کا آفتابِ جہاں

شیخ الاسلام کی تقریر اور تحریر دونوں ایک جداگانہ رنگ اور ایک منفرد اسلوب رکھتی ہیں۔ وہ عصرِ حاضر میں اپنے اسلوب خطابت میں ایک آفتاب جہاں کی مثل ہیں۔ اُن کے اسلوب خطابت نے اپنوں اور غیروں کو بیک وقت متاثر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے منفرد انداز خطابت سے ہر موضوع کو واضحیت دی ہے، اُن کی خطابت کے ایک ایک لفظ میں قرآن کا نور نظر آتا ہے۔ اُن کی ہر دلیل قرآن و سنت سے مزین ہوتی ہے، وہ عقل و دل کو قائل کرنے والے دلائل بڑی سہولت اور بڑی روانی سے دیتے چلے جاتے ہیں۔ اُن کی خطابت میں علم تصوف کی لطافت اور علم فلسفے کی گہرائی اور علم عصر کی جدت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ یہ تو اُن کی خطابت کا حال ہے جبکہ اُن کی تحریر کی شان یہ ہے کہ اس کا ایک ایک جملہ فصاحت و بلاغت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ وہ تحریر جہاں علمی گہرائی کا احاطہ کرتی ہے۔ وہیں علمی، فکری، روحانی اور جذباتی تاثیر کے ذریعے قاری کو اپنا ہمنوا بنالیتی ہے۔

شیخ الاسلام اور نوجوان نسل

شیخ الاسلام کا ایک سب سے بڑا اور امتیازی تفرد یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی خطابت اور اپنی تحریر کے ذریعے نوجوان نسل کو بڑی تعداد میں نہ صرف قائل کیا ہے بلکہ اُن کو اپنا رفیق سفر بنایا ہے اور اپنی ہر آواز پر اُن کو اپنا ہمنوا بنایا ہے۔ اپنی فکر اور اپنے مشن سے ایسا اُن کو جوڑا ہے کہ وہ دنیا کے ہر ایک جوڑ کو توڑ سکتے ہیں مگر تحریک و مشن کے ساتھ اپنے جوڑ کو آخری سانس تک نبھانے کے لیے اپنے تن من دھن کی بازی لگادیتے ہیں۔ ایسے سرمست اور ایسے سرفروش، ایسے جانثار اور ایسے عقیدت مند نوجوان اور افرادی قوت کا اثاثہ کم ہی تنظیموں اور تحریکوں کو میسر آتا ہے۔

شیخ الاسلام کی نوجوان نسل کے ساتھ ڈیلنگ بہت ہی منفرد ہے۔ عصرِ حاضر کا نوجوان ہر لمحہ سوچتا ہے خود سے سوال کرتا ہے۔ دوسروں سے سوال پوچھتا ہے اور اپنے سوال کا اطمینان بخش جواب چاہتا ہے۔ وہ سوال کے جواب کو شخصیت کے بھاری تعارف سے نہیں مانتا بلکہ جواب کو عقل و منطق کے میزان پر تول کر جانتا ہے اور مانتا ہے۔

شیخ الاسلام نے نوجوانوں کو کڑے سے کڑے اور انتہائی سخت اور بہت ہی تلخ و ترش اور تنقید سے بھرپور اورمعمور سوالات کرنے پر اُن کو جھڑکا نہیں ہے اور ان کے سوالات پر ناراضگی کا اظہار کبھی نہیں کیا ہے بلکہ اُن کے سوالات پر ان کی خوب حوصلہ افزائی کی ہے اور ان کو ایسا جواب دیا ہے کہ جس جواب نے نہ صرف ان کے دل و ذہن کو مطمئن کیا ہے بلکہ ان کی روح کو بھی سرشاری اور ایمان کی تازگی کی کیفیت دی ہے۔ نوجوانوں کو اپنے سوالوں کا اتنا بھرپور اور اتنا مدلل اور اس قدر دل و جان میں سما جانے والا جواب ہی اُن کے بے پناہ اطمیان اور بے حد سکون کا باعث ہوا ہے۔ اسی اطمینان کی وجہ سے وہ شیخ الاسلام کی قیادت پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

شیخ الاسلام کا اصل پیغام

شیخ الاسلام نے اسلام اور اس کی تعلیمات کو نوجوان نسل کے سامنے اس طرح پیش کیا ہے کہ اسلام ہرگز شدت پسندی کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو سراسر محبت کا نام ہے۔ اسلام جمود کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ اسلام سراسر تحرک کا نام ہے، اسلام علم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ علم اور اسلام باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اسی طرح اسلام کا دوسرا تعارف محبت ہے محبت اللہ سے اور محبت رسول اللہ ﷺ سے اور محبت اللہ کی ساری خلق سے، محبت، جانِ ایمان ہے۔ اسلام کا ایک اور تعارف توازن و اعتدال ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں توازن ضروری ہے۔ زندگی کے ہر رشتے میں توازن لازمی ہے، زندگی کی ہر قدر میں اعتدال ہی اس قدر پر اظہار تشکر ہے۔

اسلام کا ایک اور تعارف یہ ہے کہ یہ انسانیت کا مذہب ہے، یہ اسلام انسانوں میں انسانیت کو پسند کرتا ہے۔ اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں، جہاں انسانیت ہے وہاں اسلام ہے اور جہاں اسلام ہے وہاں انسانیت ہے۔ رواں صدی کے فکری بحران میں شیخ الاسلام کا وجود ایک آفتاب کی مانند ہے۔ شیخ الاسلام کا علمی و فکری کردار نسلِ نو کے لیے نہ صرف ایک علمی ورثہ ہے بلکہ دین کو سمجھنے کے لیے ایک روشن طریق اور ایک واضح راستہ بھی ہے۔

شیخ الاسلام اور تبلیغ اسلام

شیخ الاسلام اس صدی کی وہ نمایاں عالمی شخصیت ہیں جنھوں نے اسلام کی عالمی شناخت کو سائنٹیفک، علمی، تحقیقی اور مدلل بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی اور بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی ہے۔ وہ اسلام جو دین امن ہے وہ اسلام جو دین عدل ہے، وہ اسلام جو دین رواداری ہے اور وہ اسلام جو انسانی احترام کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور وہ اسلام جو اپنے ہر ماننے والے کو تکریم انسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کے ان ہی تصورات اسلام نے ان کو ہر مسلمان کے دل میں عزت و عظمت بخشی ہے۔ انھوں نے دنیا کے سامنے اسلام کے پرامن اور معتدل گلوبل بیانیہ کو رکھا ہے۔ ساری دنیا میں وہ انٹرنیشنل اسلامک نیریٹو میں ہی قائد تسلیم کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ان کے فتویٰ نے اسلام کو امن کا دین اور محبت کا دین ثابت کیا ہے۔ ان کی تصانیف اور ان کا اسلوب تحریر موضوعات کا بہت زیادہ تنوع رکھتا ہے، وہ اپنی تحریر کو تحقیق کے وسیع میدان سے متعارف کراتے ہیں اور اپنی تحریر کو حوالہ جات کی کثرت سے معمور کرتے ہیں اور ان کی تحریر میں دلائل عقلی اور منطقی ترتیب سے وارد ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تحریر کے ذریعے قاری کو رفتہ رفتہ اپنا ہمنوا بناتے چلے جاتے ہیں۔ حتی کہ ایک موضوع کو پڑھنے والا نہ صرف اس موضوع کا قائل ہوجاتا ہے بلکہ ان کے دلائل کی بنا پر اس موضوع کا زبردست مبلغ بھی ہوجاتا ہے۔

شیخ الاسلام کی متفردانہ جہات

انھوں نے عصر حاضر میں قرآن حکیم کی سائنسی تفسیر بھی کی ہے۔ انھوں نے قرآن کو جدید اذہان کے سوالات کے ساتھ جوڑ کر بھی پیش کیا ہے۔ انھوں نے قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث رسول ﷺ کو بھی نوجوان نسل کے لیے قابل فہم اور مدلل اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ان کی گفتگو اور ان کی تقریر بھی تحریر کی طرح بے شمار خوبیوں سے آراستہ و مزین ہے، وہ اپنی ہر تقریر کو علمی معیار پر قائم رکھتے ہیں اور اپنی ہر تقریر کو بھرپور علمی استدلال پر استوار کرتے ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی ہر تقریر کو روحانی رقت اور باطنی لطافت سے بھی مزین کرتے ہیں۔ وہ عربی خطیبوں کی طرح فصاحت و بلاغت سے مملو کلام کرتے ہیں اور وہ فارسی صوفیا کی طرح اپنی گفتگو کو لطیفانہ پیرائے اور ادبی و روحانی رنگ میں رنگتے ہیں۔ ان کے خطبات ومحاضرات علم بلاغت کی عملی مثالیں ہیں۔ ان کی تقریر اور تحریر کو دنیا بھر کے سکالرز خواہ وہ عرب ہوں یا ترک ہوں یا افریقی ہوں یا یورپی ہوں سب نے ان دونوں کو معتدل قرار دیاہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے دلائل اور اسلوب کی بنا پر ان کی تقریر و تحریر کو ماڈرن بھی تسلیم کیا ہے۔ ان کے سارے تقریری اور تحریری کام نے عصرِ حاضر میں اسلامی فکر کی تجدید کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔

شیخ الاسلام کا اسلوبِ ابلاغِ اسلام

ہر دور تیزی سے بدلتا ہوا دور ہے۔ اس بنا پر ضرورت اس امر کی تھی کہ اسلام کو اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں فکری اعتماد اور تہذیبی وقار اور علمی عظمت کے اسلوب میں پیش کیا جائے۔ شیخ الاسلام نے اسلام کو اس اسلوب میں پیش کرنے کے حوالے سے اولیت کا درجہ پایا ہے۔ اس لیے وہ بجا طور پر اس دور میں اسلام کے علم زندہ کا نشان ہیں اور اسلام کی عظمت کی شان ہیں۔ اسی بنا پر انھوں نے سنت و حدیث میں تجدیدی کارنامہ یہ انجام دیا ہے کہ حدیث و سنت کو انھوں نے پوری تحقیق، مکمل تخریج اور کامل تصحیح کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اصول فقہ اور مقاصد شریعت کو اسلامی قانون کی جدید تعبیر اور کامل تشریح کے اسلوب میں پیش کیا ہے۔

جدید ذہن اور شیخ الاسلام

عصرِ حاضر میں شیخ الاسلام کو یہ طرہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے جدید اذہان کے مطابق اسلام کو پیش کیا ہے۔ بلاشبہ آج کا جدید ذہن ہر بات پر دلیل مانگتا ہے۔ شیخ الاسلام نے دین کی ہر بات کو دلیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انھوں نے دین کی بات کو دلیل کی قوت، منطق کی طاقت اور تحقیق کی قوت کے ساتھ بھی مزین کیا ہے۔ اس لیے ان کا ہر بیانیہ اسلام اپنے اندر یہ تین صفات رکھتا ہے۔

1.Logical coherence
2. Philosophical clarity
4. Evidence-based reasoning

شیخ الاسلام نے جدید فلسفے کے بڑے بڑے چیلنجز کو اپنی تقریر اور تحریر کا موضوع بنایا ہے، انھوں نے اپنے متعدد خطابات کے ذریعے وجود باری تعالیٰ کو دلائل قرآنی اور دلائل سائنسی سے ثابت کیا ہے۔ انھوں نے اخلاق کی مضبوط عقلی بنیادوں کو واضح کیا ہے۔ انھوں نے انسانی آزادی کی حقیقت کو عیاں کیا ہے۔ اسلام کے حوالے سے جو بھی عصری چیلنج آیا ہے انھوں نے اس کا بھی مضبوط دلائل اور واضح موقف کے ساتھ دفاع کیا ہے اور بھرپور قائل کرنے والی زبان اور دلائل پر مائل کھڑے ہوئے ہیں اور اس کو مضبوط کرنے والی قلم کے ساتھ اسلام کی حقانیت کو واضح کیا ہے۔

افرادکی تیاری اور شیخ الاسلام

شیخ الاسلام نے افراد سازی کے حوالے سے بڑا نمایاں، منفرد اور ممتاز کام کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مشن سے وابستہ افراد کو اعلیٰ انسانی کردار اپنانے کے لیے تیار کیا ہے۔ تحریک سے جڑے ہر فرد کے خلق کو تحمل و برداشت سے آراستہ کیا ہے اور ان کے مزاج کو اعتدال و توازن والا بنایا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو علم راسخ کا حامل بنایا ہے اور تمام رفقاء و وابستگان کو اخلاق حسنہ سے مزین ہونے کی خوب تربیت دی ہے۔

اسلام کا عصری بیانیہ

شیخ الاسلام نے آج ساری دنیا کو بھرپور علمی دلائل کے ساتھ آگاہ کیا ہے کہ اسلام دہشت کا دین ہرگز ہرگز نہیں ہے بلکہ اسلام سراسر دینِ رحمت ہے۔ اسلام میں جہاد ظلم بپا کرنے کے لیے ہرگز نہیں ہے بلکہ اسلام جہاد کے ذریعے ظلم کا خاتمہ کرتا ہے۔ اسلام میں قانون شریعت ہرگز ہرگز جبر کانام نہیں ہے بلکہ احکامِ شریعت انسانی عدل اور انسانی مساوات کا آئینہ دار ہے اور اسلام میں نظامِ خلافت خاندانی تسلط اور سیاسی جبر کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اخلاقی نظام اور اعلیٰ انسانی انتظام کا نام ہے۔

اسلام کے ہر شعبے کی فعالیت اور شیخ الاسلام

شیخ الاسلام کا ایک اور تجدیدی و اجتھادی کام یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کے کسی بھی شعبے کو معطل نہیں ہونے دیا ہے۔ جس جس شعبے پر زمانے کی گرد پڑی ہے جس شعبے میں بھی افراط آیا ہے اور اس میں جو تفریط ہوئی ہے اس کی انھوں نے بڑی جامع اصلاح کی ہے۔ اسلام کے اس شعبے کو اپنی اصل کی طرف لوٹاتے ہوئے انھوں نے اس کو بحال کیا ہے۔ اسلام کا روشن، تابدار اور نتیجہ خیز شعبہ، سلوک و تصوف ہے۔ اس شعبے کا نا م لیوا بعض طبقات اور بعض حاملین نے اپنی بدسلوکی کی بنا پر اس شعبے کو بدنام کردیا۔ اس کو بدعات سے معمور اور شریعت سے دور کیا اور اس نہایت اہم شعبے کو اپنی عقیدت کے ساتھ منجمد کرلیا اور اخلاق حسنہ سے اس کو دور کردیا۔ نیز اسے اپنی خواہشوں کا مرکز ومحور بنالیا، خدا پرستی کی بجائے اس کو اپنی ذات پرستی پر قائم کردیا۔ محبت رسول ﷺ کی بجائے، اسے اپنی ذات کے حصار میں محدود کردیا، اس شعبے کا تعلق روح انسان سے کاٹ دیا۔ اسے دید حق سے کاٹ کر دید نفس میں جکڑ دیا۔

عصر حاضر میں اس شعبے کو لاحق اس عصری چیلنج کو بھی شیخ الاسلام نے قبول کیا، جب ظاہری خرافات کی بنا پر ہر کوئی اس کا انکار کررہا تھا تو شیخ الاسلام نے علم تصوف و سلوک کو اس کی اصل یعنی قرآن و سنت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ جس کی بنیادیں عہدِ رسالتمآب ﷺ اور عہدِ صحابہؓ میں ہمیں نظر آتی ہیں۔ تصوف کے حاملین اور اس کے ماننے والوں کو اصحابِ صفہ کے کردار میں اپنے کردار کی تشکیل کی فکر دی ہے۔ شیخ الاسلام نے علم تصوف و سلوک کو بدعات سے پاک کیا ہے۔ اس شعبے کو شریعت اسلامی کے مکمل تابع کیا ہے اور اس شعبے کا مرکز و محور اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کو قرار دیا ہے اور اس کے حاملین کو اخلاق و محبت اور انسانی فلاح و خدمت کا پیکرِ مجسم بنایا ہے۔ علم، تصوف و سلوک کے اس تعارف نے نوجوان نسل کو جوق در جوق اس راہ کا مسافر بنایا ہے۔

علم و شعور سے وابستگی قومی مسائل کا حل

شیخ الاسلام کا ایک اور بڑا کارنامہ تجدیدی و اجتھادی فکر اپنی قوم مسلم اور بالخصوص پاکستانی قوم کو دینا ہے۔ اس قوم کے سب مسائل کا حل خواہ وہ مسائل اس کے سیاسی ہوں یا اس کے مذہبی مسائل ہوں اور قومی مسائل کے باب میں جو چیز بھی اس کو درپیش ہے، اس کا حل صرف اور صرف اس قوم کو علم اور شعور سے آراستہ کرنے میں ہے۔ شیخ الاسلام نے اپنی مذہبی جدوجہد اور سیاسی جدوجہد میں یکساں طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ جب تک اس قوم کو مضبوط علم اور پختہ شعور سے آراستہ نہ کیا جائے، اس وقت تک اس قوم کے نہ مذہبی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس کے سیاسی مسائل کا کوئی حل سامنے آسکتا ہے۔ وہ اپنی مذہبی جدوجہد اور سیاسی جدوجہد میں قوم کے جملہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تعلیم و شعور کو مسلسل اورمستقل اپنی جدوجہد کا حصہ بنارہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ منھاج القرآن کا تعارف پوری قوم اور ساری دنیا کے سامنے مضبوط علم، صائب فکر اور اعلیٰ شعور کے ساتھ ہی ہوا ہے۔ شیخ الاسلام نے اس قوم کو علم سے جوڑنے کے لیے عوامی مراکز علم اور ہر سطح پر تعلیمی اداروں کا قیام، بے شمار اسکولز اور کالجز کے نیٹ ورک اور بیداری شعور کی مہمات اور اب ملک بھر میں مراکزِ علم کا بڑی تعداد میں قیام، علم و شعور سے مضبوطی سے جوڑنے کے لیے ہی ہے۔

شیخ الاسلام اپنی فکر میں قوم کے مسائل کو اندھیرے کی مانند جانتے ہیں، اس اندھیرے کا حل وہ چراغ علم کی صورت میں دیکھتے ہیں قومی مسائل کے اندھیرے کو قومی سطح پر علم کے بے شمار چراغ جلاکر اس کو دور کرسکتے ہیں پھر انھوں نے اس علم کو گہرے شعور کے ساتھ جوڑ کر امت اور قوم کو اپنے مسائل کے حل کے لیے صراط مستقیم پر گامزن کردیا ہے۔

خلاصہ کلام

شیخ الاسلام کا تعارف عصرِ حاضر میں علم و شعور کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ گویا علم و شعور کا نام شیخ الاسلام ہے اور خود شیخ الاسلام کا نام علم و شعور ہے، اس عمومی تعارف کے بعد اپنے اجتماعی تعارف میں وہ دین اسلام کے گہرے فہم کا نام رکھنے والے ہیں۔ وہ مضبوط اور راسخ علم کا حوالہ ہیں، وہ اپنی تقریر و تحریر کو دلائل سے مزین کرنے والے ہیں، وہ اسلام کو جدید ذہن کے سانچے میں سمجھانے والے ہیں، وہ اپنی گفتگو اور اپنے کلام کے الفاظ سے انسانی دلوں کو روشن کرنے والے ہیں اور وہ ہزاروں صفحات کا علمی و تحقیقی خزانہ اسلام کے مختلف موضوعات پر دینے والے ہیں۔ وہ قوم کا اعلیٰ اخلاق بنانے والے ہیں اور قوم کو کردار احسن کا عملی ثبوت دینے والے ہیں۔ وہ اپنے وجود میں اسلام کی عالمی اور عملی شناخت کے ترجمان ہیں۔

وہ اس صدی میں اسلام کےعلمی اور روحانی امتیاز کی علامت ہیں، وہ اسلام کے علمی سرمائے اور بین الاقوامی کردار اور اسلامی تشخص کی زندہ علامت ہیں۔ عصر حاضر میں وہ اسلام کا روشن ستارہ ہیں۔ وہ اسلام کی فکری وحدت، مذہبی رواداری اور روحانی وقار کی نشانی ہیں۔ اُن کی زبان دور جدید میں اسلام کی دلیل ہے اور ان کی قلم عصر رواں میں اجتھاد و تجدید کی علامت ہے۔ ان کا علمی استدلال ذہنوں اور دلوں کا فاتح ہے۔ ان کا عقلی و منطقی ربط اور تسلسل فکرو عقیدے کی آبیاری ہے۔ ان کی روحانی صداقت دلوں کا اطمینان ہے۔ ان کی ادبی لطافت ذہنوں کا سرور ہے۔ وہ عصر حاضر کی فکری دھند میں ایک درخشاں ستارے کی مانند ہیں اور ایک تاباں مینارہ نور کی طرح ہیں۔ انھوں عصر رواں میں اسلام کو اس طرح انسانوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ اس کو ماضی کا بوجھ نہیں بنایا ہے بلکہ اسے شاندار ماضی کا اثاثہ بنایا ہے اور اس کو حال کی شکستگی نہیں بنایا ہے بلکہ موجودہ حال کو سنوارنے کا بہت بڑا اور موثر ذریعہ بنایا ہے اور اسلام کو مستقبل کی سراسر ایک امید بنایا ہے اور ایک روشن آس بنایا ہے۔ قوم کی نجات اور کامیابی کا واحد ایک آسرا اور ایک سہارا بنایا ہے۔

اسلام کے موضوع پر شیخ الاسلام کی ہر گفتگو اور ہر تقریر عقل و ذہن کو بھی تڑپاتی ہے اور باطن و روح کو بھی رولاتی ہے۔ وہ روایت اور تجدید کے درمیان ایک ہم آہنگ پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ روایت کے بھی امین ہیں وہ ایسی Classical scholarship رکھتے ہیں جو اصول فقہ کی گہرائی کو بھی خوب سمجھتی ہے جو حدیث کی باریکیوں کو بھی اچھی طرح جانتی ہے جو تفسیر کو بھی وقت نظر سے پرکھتی ہے۔ جو سیرت کے تاریخی شعور کا بھی احاطہ کرتی ہے جو تصوف کو بھی قدافلح من زکھا کے رنگ میں رنگتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں بھرپور Modern Intellectual relevane تجدیدیت کی حامل شخصیت بھی ہیں۔ ان کی شخصیت عصر حاضر میں جدید و قدیم تصورات، احکام اور علم کے باب میں ایک Intellectual Brige-Builder کی بھی ہے۔

شیخ الاسلام عصر حاضر میں اسلام کی تعلیمات کے باب میں ساری دنیا میں انسانیت پروری کے مبلغ ہیں، امن عالم کے داعی ہیں، اخلاق حسنہ کے حقیقی طلبگار ہیں اور علم راسخ کے عظیم عالمی رہبر ہیں، وہ جدید دنیا میں اسلام کے Intellectual Diplomat بن کر سامنے آئے ہیں۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جو جدید دنیا کی زبان کو خوب سمجھتی ہے۔ نیز اسی تناظر میں اسلام کو اس کی روح کے ساتھ کل عالم کے سامنے پیش کرنے والی ہے۔ شیخ الاسلام نے اسلام کو عصر حاضر میں الزام نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اسلام کو مناظرے کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے کے ساتھ پیش کیا ہے۔

انھوں نے اسلام کو شدت کے ساتھ نہیں بلکہ وسطیت کے تصور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اسلام کو تفرقہ بازی کے ذریعے نہیں بلکہ وحدت نسل انسانی و محبت مسلم کے آفاقی تصور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ موضوع بہت طویل ہے اس کو چند سطور و صفحات میں سمیٹنا بڑا ہی مشکل ہے۔ اس موضوع کو نظم کی زبان میں بیان کرتے ہوئے کسی نے کیا خوب کہا ہے:

یہ جو ہر دور کے سوالوں کا جواب رکھتا ہے
وہ علم دین کا اک زندہ نصاب رکھتا ہے

روایتوں کو نئی عقل کا ہنر دے کر
وہ اجتھاد کو وقتوں کا جواب رکھتا ہے

کتاب و سنت کی روح کو سمجھانے میں
وہ عقل و دل کا عجب ارتباط رکھتا ہے

وہ عالمی شعور میں دین کی پہچان بنا
یہی سبب ہے کہ ہر دل میں وقار رکھتا ہے

یہ قادری ہے فقط شخص کا نہیں نام
یہ ایک عہد ہے، علم کا اعتبار رکھتا ہے