اللہ پر یقین کی طاقت اور صبرو شکر کی اہمیت

چیف ایڈیٹر ماہنامہ دختران اسلام

اسلام ایک ایسا نورِ ہدایت ہے جو مایوسی کے اندھیروں کو روشنی عطا کرتا ہے، بے یقینی کو یقین کی قوت بخشتا ہے، ظالم کے مقابلے میں مظلوم کو اظہارِ حق کی توانائی عطا کرتا ہے، جُہدِ مسلسل کی تحریک پیدا کرتا ہے۔ اسلام مایوسی نہیں یقین کا نام ہے، اسلام جمود نہیں تحرک کانام ہے، اسلام کمزوری نہیں قوت کا نام ہے۔ جب انسانی زندگی سے یقین اور تحرک نکل جاتا ہے تو درحقیقت یہ ظاہری حیات کا اختتام ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس ساری کائنات کو ایک خاص تحرک کے ساتھ قائم فرمایا ہے، چاند، سورج، ستارے، سیارے اور یہ اربوں، کھربوں کہکشائیں سب اپنے متعینہ راستوں پر روزِ اول سے رواں دواں ہیں، جس دن کائناتِ ارضی کی یہ قدرتی روانی ساعت بھر ٹھہر گئی تو کرۂ ارض کا وہ آخری لمحہ ہو گا لہٰذا مومن و مومنات کے لئے لازم ہے کہ وہ ایک ایمانی تحرک اور یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں، حالات موافق ہوں یا ناموافق اللہ کی قدرت کاملہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جدوجہد کرنا خود پر لازم ٹھہرا لیں، اللہ رب العزت نے اس تحرک کو آزمائش کے ساتھ جوڑا ہے، جہاں آزمائش ہو گی وہاں ایک خاص قسم کی انرجی بھی ہو گی جو انسان کو تھکنے اور جھکنے نہیں دیتی۔ آزمائش اور مزاحمت سے بہتری کے دروازے کھلتے ہیں ، اسی لئے اللہ رب العزت نے اہل حق کے لئے آزمائش لازم کر دی، اگر ہم قرآن مجید میں قصص القرآن پر نظر دوڑائیں تو ہمیں اللہ رب العزت کے محبوب پیغمبر مزاحمت اور آزمائش کے بیچ کھڑے نظر آئیں گے کیونکہ اللہ رب العزت اپنے سب سے پیارے بندوں کو آزمائشوں سے آزماتا ہے اور پھر اللہ رب العزت نے استقامت والوں کو ہی کامیاب اور انعام یافتہ بندے قرار دیا۔

سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے‘‘ ۔

اس مختصر سی آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے انسانی زندگی کی ساری حقیقتیں کھول کر بیان فرما دیں،انسان کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ اُس نے بہت ساری دنیا جمع کر لی اور ایک آسودہ حال زندگی کے خواب کو عمل کی تعبیر دے دی۔ اللہ رب العزت کے نزدیک ایک کامیاب انسان وہ ہے جو ہر حال میں اللہ رب العزت کا اطاعت گزار اور شکر گزار بندہ نظر آئے اور پھر آزمائشوں پر صبر کرنے والوں کے لئے اللہ رب العزت نے بڑے بڑے انعامات کا اعلان بھی فرمایا۔ حضرت فضیل بن عیاض سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے بندگی کس سے سیکھی ؟فرمایا: میں نے بندگی کے اصول اپنے غلام سے سیکھے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک غلام تھا میں جب اسے خدمت کے لئے بازار سے خرید کر لایا تو غلام سے پوچھا بیٹے تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا جو جی میں آئے اُسی نام سے بلا لیا کریں، غلاموں کے بھی بھلا کوئی نام ہوتے ہیں، میں جب غلام ہو گیا تو نام میں کیا رہا۔ میں نے پوچھا کھاتے کیا ہو؟ تاکہ جو تمہاری پسند ہو اس کا اہتمام کر دیا کروں، اس نے کہا جو آپ چاہیں کھلا دیں غلام کی پسند اورنا پسند کیا۔ فرمایا: پہنتے کیا ہو؟ کہا غلام کو جو لباس دے دیں وہ پہن لے گا۔ حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا وہ میرا غلام ہو کر مجھے ایسے جواب دیتا تھا اور ہم خود کو اللہ کا غلام قرار دے کر عجز و نیاز کے ساتھ سر کیوں نہیں جھکا دیتے کہ وہ اللہ جو ہمارا مالک ہے، ہمارا رازق ہے وہ ہمیں جس حال میں رکھے ہم اس میں صبر و شکر کی تصویر کیوں نہ بنیں؟ آج اگر ہم دل و جان سے یہ بات تسلیم کر لیں کہ ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ اُس نے اپنے بندے کو کس حال میں رکھنا ہے اور پھر صبر و رضا کے ساتھ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہو جائیں تو پھر ہمارے جیسا کوئی کامیاب انسان نہیں ہے، لہٰذا زندگی میں ان نعمتوں پر غور کریں جو بن مانگے اللہ نے ہمیں عطا کررکھی ہیں۔ اگر ہم ان دستیاب نعمتوں کا شکر کرنے لگ جائیں تو زندگی اسی طرح گزر جائے ،شکوے کے لئے ہمیں ایک لمحہ بھی میسر نہ آئے۔