ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ.
(البقرہ 2: 183)
’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ ‘‘
روزے کا مقصد انسان میں پرہیز گاری کو پیدا کرنا ہے۔ روزہ انسان میں تقویٰ کے ذریعے اعمال صالحہ اور اخلاق کریمانہ پیدا کرتا ہے۔ انسان کا کل وجود اقوال ارمغہ، اعمال صالحہ اور اخلاق کریمانہ کا نام ہے۔ ایک انسان میں انسانیت یہ ہے کہ اس میں دوسرے لوگوں کا درد ہو دوسرے انسانوں سے اس کا تعلق نفع رسانی، ہمدردی اور خیر خواہی کا ہو۔ انسان دوسروں کی تکالیف کو اپنی تکلیف سمجھے۔ دوسروں کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھے، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، دوسروں کے رنج کو اپنا رنج اور دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھے۔ دوسرے انسانوں کی مصیبت اس کو پریشان کردے اور کسی بھی آفت و مصیبت میں یہ دوسرے انسانوں کا مددگار بنے اور ان کا خدمت گزار بنے۔ ہر انسان کی ضرورت میں دوسرے انسانوں کا سہارا بنے۔ ہر حاجت مند کی حاجت کو رفع کرے۔ ہر ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرے اسی جذبے اور عمل کا نام انسان ہے اور اسی جذبے اور عمل کی حقیقت کا نام انسانیت ہے۔
روزہ اور برائی سے دوری
انسان جب روزہ رکھتا ہے تو اس کے آداب کو بجالاتا ہے۔ روزے کے آداب یہ ہیں: روزہ رکھ کر انسان کسی کے ساتھ فحش کلامی نہ کرے۔ کسی کے ساتھ لڑائی و جھگڑا نہ کرے۔ کسی کو کسی قسم کی گالیاں نہ دے۔ اپنی زبان کو بد زبان نہ بنائے۔ اپنے اخلاق کو بدخلقی کا شکار نہ کرے چھوٹے بڑے کی تمیز کرے۔ اگر کوئی اس کو گالیاں دیں تو اس سے الجھے بغیر اسے نظر انداز کرے۔ اگر مجبوراً اس کو جواب دینا ہی پڑے تو کہہ دے میں حالت روزہ سے ہوں روزے کی حالت مجھے تم سے انتقام لینے سے روکتی ہے۔ اگر میں حالت روزہ میں تمہاری زیادتیوں کا جواب زیادتی کی صورت میں دوں تو یہ عمل میرے روزے کے عمل کو بےمعنی اور بےفائدہ اور بےثمر کر دے گی۔ اس لئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه قال رسول اللہ ﷺ و الصیام جنۃ.
’’ رسول اللہﷺ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے۔ ‘‘
و اذا کان یوم صوم احدکم فلا یر فث لا یصخب فان سابہ احد او قاتلہ فلیقل انی امرو صائم.
(صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب ہل یقول انی صائم اذا شئتم، 2: 673، الرقم: 2: 1805)
(صحیح مسلم، کتاب الصیام باب فضل الصیام، 2: 807، الرقم: 1151)
’’ اور روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش کلامی کرے اور نہ جھگڑے اور اگر اس روزے دار کو کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو یہ اسے صرف یہ کہہ دے کہ میں حالت روزہ میں ہوں۔ ‘‘
روزہ فحش کلامی اور لڑائی سے روکتا ہے
اب یہ حدیث مبارکہ ہمیں روزے دار کا احترام اور انسانی اکرام کا عمل سیکھتا ہے۔ ایک انسان کے حق عزت اور حق احترام پر سب سے بڑا اور بُرا عمل یہ ہے کہ روزہ رکھ کر فحش کلامی کرے۔ زبان سے بے حیائی کا اظہار کر کے زبان سے نازیبا باتیں کرے۔ زبان کو لغویات میں شاغل کرے۔ لا یصخب کا معنی ہے کہ جب وہ حالت روزہ میں ہو تو وہ روزہ دوسرے انسانوں کو جوڑنے کا حکم دیتا ہے۔ جبکہ یصخب کا عمل دوسرے سے لڑنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ یصخب کا لڑنے، جھگڑنے کا معنی میں استعمال ہوتا ہے اس لئے ایک روزے دار کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ روزہ بھی رکھے اور ساتھ ہی ساتھ لڑائی اور جھگڑے کو بھی اپنا معمول بنائے۔ جھگڑے اور تنازعے کبھی بھی قوم کو سنوارتے نہیں اور عموماً اس جھگڑے اور تنازعے کی بنیاد گالی گلوچ بنتی ہے۔ اس لئے فرمایا اگر کوئی تم سے لڑنے کے لیے گالی دیتا ہے اور اپنی فتنہ پرور طبیعت کی وجہ سے تم سے بکواسات کرے اور مغلظات بولے اور یوں تمہارے جذبات کو مشتعل کرے اور تمہارے احساسات اور غیرت پر حملہ کرے اور تمہاری عزت و تقدس کو پامال کرے اور تمہیں اپنی گالیوں کے ذریعے ذلیل و رسوا کرنا چاہے تو تمہاری طرف سے ان گالیوں کا جواب گالیوں سے نہ دیا جائے۔ بلکہ تم نے ان گالیوں پر صبر کرنا ہے، خود کو روکنا ہے۔ اور ضبط نفس سے کام لینا ہے خود کو بھی سمجھانا ہے اور اسے بھی بتانا ہے کہ انی امرو صائم. اے گالی گلو چ کرنے والے میں بھی تمہاری گالیوں کا جواب دے سکتا ہوں۔ میں بھی اپنی زبان کو تیری زبان کے مشابہ کلام سے ملوث کر سکتا ہوں مگر میں تیری گالیوں پر خاموشی اختیار کرتا ہوں صبر سے کام لیتا ہوں۔ اس لئے کہ میں اس وقت حالت صوم میں ہوں۔ اور روزہ مجھے کہتا ہے کہ کسی کو گالی مت دو۔ کسی کو برا بھلا مت کہو۔ کسی کی عزت مت اچھالو۔ کسی پر تہمت مت لگاؤ۔
روزہ اور ضبط نفس
روزہ مجھے کہتا ہے کہ کسی پر خوامخواہ الزام تراشی نہ کرو کسی کے با عصمت دامن کو تہمت زدہ نہ کرو۔ کسی کو خوامخواہ رسوا نہ کرو اس لئے میں ضبط نفس سے کام لیتا ہوں۔ اپنے نفس کو انتقام سے روکتا ہوں۔ تمہاری گالیوں کے جواب پر قدرت رکھنے کے باوجود ضبط سے اور صبر سے کام لیتا ہوں۔ اس لئے کہ اللہ کے رسول کا میرے لئے اور سب کے لیے یہی حکم ہے کہ روزہ دار کسی قسم کی گالی گلو چ نہ کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص گالیاں دینے سے بھی آگے بڑھ جائے اور آپ سے بلاوجہ لڑنا شروع کر دے میں میں اور توں توں کا سلسلہ شروع کر دے بد تمیزی اور بدلحاظی کا برتاؤ کرنے لگے اور خوامخواہ الجھنے اور لڑنے لگے تو روزے کی حالت میں ایسی جذباتی اور عداوتی حالت میں بھی خود پر کنٹرول رکھے۔ ضبط نفس کا مظاہرہ کر کے اپنے اعضاء و جوارح کو اپنے قابو میں رکھے۔ اس عداوتی ماحول میں بھی کوئی جارحانہ قدم نہ اٹھائے۔ مر نے مارنے اور خون خرابے کا ماحول ہر گز قائم نہ کرے بلکہ خود کو سمجھائے اور اسے بھی بتائیں کہ:
انی امرو صائم میں حالت صوم میں ہوں۔ اس حالت میں مجھے لڑنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس لئے باری تعالیٰ نے روزےکو ڈھال بنایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
الصیام جنۃ، حصن حصین من النار.
(مسند احمد بن حنبل، 2/ 402، الرقم 9214)
’’روزہ ڈھال ہے اور دوزخ کی آگ سے بچاؤ کے لیے محفوظ قلعہ ہے۔ ‘‘
روزے کو باری تعالیٰ نے گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال بنایا ہے۔ جیسے انسان حالت حرب میں زرہ پہن لیتا ہے تو وہ انسان کو دشمن کے حملوں سے بچانے کے لیے ایک ڈھال بن جاتی ہے۔
روزہ برائیوں سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہے
اس زرہ کی وجہ سے دشمن کا حملہ کارگر نہیں ہوتا اور زرہ انسان کو زیادہ اور مہلک نقصان سے بچاتی ہے۔ اور وہ ڈھال انسان کی زندگی کی حفاظت کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی انسان روزہ رکھتا ہے تو یہ روزہ انسان کے لئے گناہوں سے بچنے کے لیے ایک ڈھال بن جاتا ہے۔ روزہ اس دنیا میں انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے اور آخرت میں دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال سے بھی زیادہ ایک قلعہ کی طرح پناہ گاہ بن جائے گی۔ انسان اس روزے کے سبب دوزخ کے عذاب سے بچ جائے گا۔
روزہ اور تعلیم صبر
روزے کا عمل سراسر صبر کا عمل ہے۔ روزہ رکھ کر انسان اپنی جائز خواہشات کو اللہ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ رب کی رضا کی خاطر دن بھر نہ کچھ کھاتا ہے اور نہ کچھ پیتا ہے۔ خود کو حالت صوم اور حالت صبر میں رکھتا ہے۔ پیاس لگتی ہے اسے برداشت کرتا ہے بھوک لگتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ اس لئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
الصیام نصف الصبر.
(سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، 1: 555، الرقم 1745)
’’ روزہ آدھا صبر ہے۔ ‘‘
ہر حال میں اللہ کی رضا کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنا اور خود کو اللہ کی اطاعت میں فنا کر دینا صبر کامل ہے۔ شریعت کے مطابق ظاہر احکام کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنا اور محض فرمانبرداری کی زندگی کو اختیار کرنا نصف الصبر ہے۔ آدھا صبر ہے۔ صبر کامل یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کو اپنے مولا کی خواہش کے تابع کر دے اور اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں فنا کر دے۔
روزے کا عمل انسان کے اندر انسانی اقدار کو زندہ اور تابندہ کرتا ہے۔ روزہ انسان کو اس قول کذب سے بچاتا ہے جو قول معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے اور روزہ انسان کو وہ قوت و طاقت دیتا ہے کہ وہ قول صدق کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔
روزہ اور جھوٹ سے اعراض
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:
عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه قال قال النبی ﷺ من لم یذتح قول الزور و العمل بہ فلیس للہ حاجۃ ان یدع طعامہ و شرابہ.
(صحیح بخاری، کتاب الصوم، 6732)
’’ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص حالت روزہ میں جھوٹ بولنا اور اس پر برے عمل کو ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔ ‘‘
یہ حدیث مبارکہ ایک روزے دار کو خلق صدق اختیار کرنے کی ترغیب دے رہی ہے، خلق کذب اس کے معاملات حیات کو ترک کرنے کے لیے آمادہ کر رہی ہے۔ اگر انسان کی زبان جھوٹ پر کار بند رہے۔ اور جھوٹ انسان کی زندگی پر چھایا رہے۔ جھوٹ سے مملو ہوں۔ انسان کا تعارف ایک جھوٹے اور مکار کا ہو جائے تو فرمایا ایسے شخص کے روزے محض دکھلاوے کے روزے ہیں۔ یہ روزے صرف نمود و نمائش کے ہیں۔ ان روزوں میں حقیقی روزے کی روح نہیں ہے۔ ان روزوں میں صرف بھوکا و پیاسا رہنا ہے۔ ایک طرف جھوٹ بھی مسلسل جاری رہے اور ایک طرف روزہ بھی جاری رہے تو یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔ روزہ اپنی اصل روح کے ساتھ رکھا جائے تو یہ روزہ انسان کے لئے جھوٹ نہ بولنے کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔ روزہ انسان کے اندر ایک زندہ کر دار پیدا کرنا ہے۔
روزہ اپنے روزے دار کو ایک اعلیٰ کردار کی ضمانت عطا کرتا ہے۔ روزے میں اگر زبان بولتی رہے اور اس زبان پر نہ کھانا آئے اور نہ پینا آئے مگر یہ زبان مسلسل جھوٹ بولتی رہے تو یہ لسان کذب روزے کی روح اور جڑ کو کاٹ دیتی ہے۔ روزے کی اصل حقیقت کو دفن کر دیتی ہے۔ اسلئے فرمایا روزے کے ذریعے اللہ کا مقصود تم کو محض بھوکا اور پیاسا رکھنا نہیں ہے بلکہ اللہ کا مقصود اس روزے کی حالت میں تمہاری روح کو جسم پر غالب کرنا ہے جب جسم پر روح کے اثرات غالب آ جاتےہیں تو پھر انسان صرف صدق ہی صدق کو اختیار کرتا ہے۔
انسانی شہوات اور روزہ کا کنٹرول
انسانی زندگی میں گناہ انسانی شہوات کی بناء پر ظاہر ہو تے ہیں۔ انسان کے اندر شہوات کا ایک سمندر ہے۔ انسان اپنی شہوات اور خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے۔ انسان میں شہوات کبھی شہوات مالیہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں اور کبھی یہ خواہشات نفسانی کی صورت میں عیاں ہوتی ہیں اور کبھی شہوات دنیوی کی صورت میں تغلب پاتی ہیں غرضیکہ شہوات انسانی نے انسان کی آزادی کو غلامی میں بدل دیا ہے۔ انسان بندہ خدا بننے کی بجائے بندہ شہوات بن جاتا ہے ان شہوات کو متوازن بنانے کے لیے باری تعالیٰ نے انسانوں پر روزوں کو فرض کیا ہے۔
شہوات انسانی کا عروج انسانی زندگی کے شباب و نوجوانی میں ہوتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے نو جوانوں کو مخاطب ہو تے ہوئے ارشاد فرمایا:
عن عبداللہ قال قال رسول اللہ ﷺ یا معشر الشباب من استطاع الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر و احصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء.
(متفق علیہ)
(صحیح بخاری، کتاب النکاح باب من لم یستطع الباءۃ فلیھم، 5: 1950، الرقم: 4779)
(صحیح المسلم، کتاب النکاح، باب استحباب النکاح لمن تافت نفسہ الیہ، 2: 1018، الرقم 1400)
’’ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے نوجوانو! جو تم میں سے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ یہ نکاح نگاہ کو جھکاتا اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزے رکھے بے شک یہ اس کے لیے برائی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ‘‘
گناہ کی وجہ شہوت نفسانی ہے
یہ حدیث مبارکہ اہل ایمان پر واضح کرتی ہے انسان اپنی شہوات سے مجبور ہو کر گناہ کی طرف راغب ہوتا ہے۔ انسان کے اس رجحان اور میلان کو قابو کرنے کے لیے لازم ہے کہ انسانی وجود میں سرکش شہوات کو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے تابع کیا جائے۔ شہوات نفسانی کا بہترین علاج نکاح ہے۔ نکاح کا عمل اللہ کے حکم سے ہے اور نکاح کا عمل سنت رسول ﷺ اور انبیاء علیھم السلام سے سنت صحابہ اور سنت ائمہ کبار ہے۔ جو اس کی استطاعت نہ رکھے اس کے لیے حکم ہے کہ روزہ رکھے۔ روزہ رکھنے کا عمل اس کی شہوات پر ضبط کے بندھ باندھ دے گا اور اس کی شہوات کو طہارت دے دے گا۔ اس لئے روزہ ان شہوات و خواہشات کے باب میں وجاءٌ کی کیفیت رکھتا ہے اور روزہ بری خواہشات اور بری شہوات کو توڑتا ہے اور ان کو کمزور کرتا ہے۔ انسان روزے کے باعث ایسی بری شہوات پر سواری نہیں کرتا۔ اور اپنی شہوات کے گھوڑے سر پٹ دوڑاتا نہیں۔ روزہ ان شہوات کو توڑ کر کمزور کر دیتا ہے جس کے باعث انسان گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اس لئے روز ے کے بارے میں یہی بیان کیا گیا ہے کہ
الصیام جنۃ.
’’ روزہ ڈھال ہے۔ ‘‘
یہ روزہ بری خواہشات و شہوات سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
عن ابی ھریرۃ ان لنبی ﷺ صعد المنبر فقال امین امین امین. قیل رسول اللہ انک حین صعدت المنبر قلت آمین آمین آمین قال ان جبرائیل اتانی فقال من احدک شھر رمضان ولم یغفر لہ فدخل النار فابعدہ اللہ قل امین فقلت امین و من ادرک ابو یہ احدا ھما فلم یبرھما فمات فدخل النار فاتعدہ اللہ قل آمین فقلت امین و من ذکرت عندہ فلم یصل علیک فمات فدخل النار فابعد اللہ قل امین فقلت امین.
(ابن خزیمہ، الصحیح، 3: 192، الرقم: 1888)
(صحیح ابن حبان، 3: 188، الرقم: 907)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو تین بار آمین آمین آمین فرمایا عرض کیا گیا یارسول اللہ ﷺ آپ منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ نے آمین آمین آمین فرمایا (اس کی کیا وجہ ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس حاضر ہوئے۔ اور کہنے لگے جس شخص نے ماہ رمضان پایا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی تو وہ آگ میں گیا اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کر دے۔ اے حبیب خدا آپ آمین کہیں اس پر میں نے آمین کہا اور جس شخص نے ماں باپ دونوں کو پایا یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ نیکی نہ کی اور مر گیا تو وہ آ گ میں گیا اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے اے حبیب خدا آپ آمین کہیں تو میں نے آمین کہا اور وہ شخص جس کے پاس آپکا ذکر کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا اور اسی حالت میں مر گیا تو وہ بھی آگ میں گیا اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔ اے حبیب خدا آپ آمین کہیں تو میں نے آمین کہا۔ ‘‘
خلاصہ کلام
رمضان المبارک کے روزے انسان کے لیے اللہ کی بارگاہ سے سالانہ ایک ماہ پر مشتمل اخلاقی وروحانی اور انسانی ومعاشرتی کورس ہے جس کے ذریعے انسان کو اپنی خواہشات اور شہوات کو اپنے تابع اور اپنے کنٹرول اور اپنے ضبط واختیار میں کرنے اور رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اور روزے کے ذریعے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کونسی خواہشات و شہوات کا انتخاب کرنا ہے اور کونسی شہوات و خواہشات کو ترک کرنا ہے۔ روزے کے ذریعے کن کن انسانی قدروں کو اپنانا ہے اور کن کن بری عادتوں کو چھوڑنا ہے۔ روزہ انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔ روزہ انسان کو صدق کا درس دیتا ہے اور روزہ انسان کو جھوٹ سے کلیۃ لاتعلقی اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ روزہ انسان کے وجود کو گناہوں سے بچاتا ہے اور روزہ انسان کو اللہ کی فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ نافرمانی و معصیت سے بچاتا ہے۔ روزہ انسان کو دوسرے انسانوں کے جملہ حقوق ادا کرنے کی تربیت دیتا ہے اور انسانی حقوق کے احترام اور ان کی ادائیگی کا تقاضہ کرتا ہے، روزہ انسان کو انسان سے ملاتا اور جوڑتا ہے۔ روزہ انسان کو اخلاق سئہ اور اخلاق رزیلہ سے بچاتا ہے لغو و بیہودہ باتوں سے روزہ انسان کو روکتا ہے۔ روزہ انسان کو غیبت اور چغل خوری کے مرض سے محفوظ کرتا ہے۔ روزے کا عمل انسان کو گناہوں سے دھو دیتا ہے۔ روزہ انسان کو پاک و صاف کر دیتا ہے اور اس کے وجود سے انسانوں کے متعلق گناہوں اور اس کے وجود سے رب کے احکامات سے متعلق گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اذا صمت فلیصم سمعک ویعدک و لسانک عن الکذب و الماثم ودع اذی الخادم.
(مصنف ابن ابي شیبہ، باب مايومر به الصاءم، رقم: 8880)
’’ جب تو روزہ رکھے تو ایسا روزہ رکھ کہ تیرے کان بھی روزہ رکھیں کہ وہ اچھی بات سنیں اور تیری آنکھ بھی روزہ رکھے (تیری آنکھ اللہ کے انوار کو دیکھے) اور تیری زبان بھی روزہ رکھے (کہ وہ ہمیشہ قول خیر کہے) اور زبان تلاوت قرآن کرے۔ ‘‘
تیرا کان، تیری آنکھ، تیری زبان پر گناہ و کذب چھوڑ دیں اور ہر گناہ سے تیرا وجود لاتعلق ہو جائے۔ اور اذیت وتکلیف دہی سے تو کنارہ کش ہو جائے تو یہ تیرا روزہ ہے۔
گویا روزے کے عمل اور رمضان المبارک نے ایک انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنا دیا ہے۔ اب اس انسانیت کو اس نے سارا سال قائم رکھنا ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے ہمدرد اور خیرخواہ اور نفع رساں بننا ہے۔
باری تعالیٰ ان قرآنی افکار کو سمجھنے اور ان کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین