کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے
کائنات کا وجود اور اس میں ہونے والے تغیرات، جیسے مینہ برسنا، آندھیوں کا آنا، کہیں چلچلاتی دھوپ، اور کبھی دھوپ میں ہی بارش کا ہونا، ایسے ہی دریاؤں کا سوکھنا، آتش فشاؤں کا پھٹنا، دن اور رات کی آنکھ مچولی، ماہ وسال کا گزرنا اور اس کے بدلتے اثرات، یہ سب اللہ جل شانہٗ کے وجود پر دلیل ہیں کہ کوئی ہے جواِن انتظامات کو سنبھا ل رہا ہے، اور کوئی ہے جس کے ہاتھ میں ان تمام چیزوں کی ڈور ہے، تبھی تو سمندر کی حدود قائم ہیں، اور وہ اپنی حد سے آگے نہیں بڑھتا، سورج روزانہ نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے، لیکن کبھی مغرب سے طلوع نہیں ہوا، بادل پانی ہی برساتا ہے، آگ جلاتی ہی ہے، یہ تمام چیزیں اللہ رب العزت کے حکم کی محتاج ہیں، اور اسی کے فیصلے پر کاربند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ.
(القمر، 54: 49)
’’بے شک ہم نے ہر شے کو ایک مقرّرہ ڈیزائن اور پروگرام کے مطابق بنایا ہے۔ ‘‘
اور ان تمام چیزوں کی تخلیق اور ان کے مسخر ہونے میں غور وفکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚ.
(آلِ عمران، 3: 190)
’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقلِ سلیم والوں کے لیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ ‘‘
اسی طرح موسموں کا بدلنا بھی اللہ تباک وتعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا مظہر ہے کہ کبھی سخت گرمی کا موسم جو جھلسا دینے والی لُو کے ساتھ آتی ہے جو برف تک کو پگھلادے اور کبھی یخ بستہ سردی، جو مائع کو بھی جمادے۔ کبھی ہر طرف ہریالی کی پوشاک اوڑھے پیڑ اور رنگ برنگے پھول اور کبھی اداسی بکھیرتا خشک اور زرد پتوں کا موسم، یہ تمام حالات بھی اللہ جل شانہٗ کی طرف ہی سے ہیں، ان میں سے ہر موسم اپنی ایک منفرد اور الگ خصوصیت اور شناخت رکھتا ہے اور انسان کے لیے بہت غور و فکر کرنے کی چیزیں ہیں۔
سردی کا وجود
سردی کے وجود کے پیچھے بھی اللہ جل شانہٗ کی ایک حکمت پنہاں ہے، اور ایک نظام اس کے پیچھے کار فرما ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اِشْتَکَتِ النَّارُ إِلٰی رَبِّهَا، فَقَالَتْ: ’’رَبِّ اَکَلَ بَعْضِيْ بَعْضًا‘‘، فَاَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِيْ الصَّيْفِ، فَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْـحَرِّ وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الزَّمْهَرِيْرِ۔
’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جہنم نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار! میرا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے، لہٰذا مجھے سانس لینے کی اجازت عنایت فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، تم لوگ جو سردی کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہو وہ جہنم کے (ٹھنڈا) سانس لینے کی وجہ سے ہے اور جو گرمی کی تپش محسوس کرتے ہو وہ جہنم کے (گرم) سانس لینے کی وجہ سے ہے۔ ‘‘
موسمِ سرما مومن کے لیے بہار
موسمِ سرما بے شک خشکی سے بھر پور موسم ہے، لیکن مومن کے لیے یہ بہار کا کام کرتا ہے، جس طرح بہار میں ڈھیروں پھول کھلتے ہیں، اور ہر طرف ہرے بھرے پیڑوں کی دلکشی ورعنائی انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اسی طرح سردیوں میں اعمالِ صالحہ پر بکثرت قادر ہونا، ان پر اجر کا بڑھ جانا، اس کی دیگر فضیلتیں مومن کو وہی مزہ اور فائدہ پہنچاتی ہیں، جیسا لطف انسان بہار کے موسم میں اٹھاتا ہے، وہ نیکیوں کے باغات میں خوب چرتا ہے، اور اعمالِ صالحہ کے میدانوں میں خوب دوڑیں لگاتا ہے، چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:
الشِّتَاءُ رَبِيْعُ الْمُوْمِنِ قَصُرَ نَهَارُهٗ فَصَامَ وَطَالَ لَيْلُہٗ فَقَامَ.
’’سردی کا موسم مومن کے لیے بہار ہے، سردیوں کا دن چھوٹا ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس میں روزہ رکھتا ہے، اور رات لمبی ہوتی ہے، چنانچہ وہ اس میں قیام کرتا ہے۔ ‘‘
ایسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’سردی کا موسم عبادت کرنے والو ں کے لیے غنیمت کا موسم ہے۔ ‘‘
نیز مشہور تابعی عبید بن عمیر لیثیؒ جب سردی کا موسم آتا تو فرماتے:
’’اے اہلِ قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے راتیں لمبی ہوگئی ہیں، اور تمہارےروزے رکھنے کے لیے دن چھوٹے ہوگئے ہیں، لہٰذا اسے غنیمت جانو۔ ‘‘
موسمِ سرما میں نبی کریم ﷺ نے کثرت سے اعمالِ صالحہ کرنے کی ترغیب دی ہے، نیز موسمِ سرما اعمالِ صالحہ کی ادائیگی کے لیے، اور قضا روزوں کے لیے ایک بہترین سہولت ہے، جس میں کم مشقت برداشت کرتے ہوئے انسان اجرِ عظیم کا مستحق بن سکتا ہے
ایسے ہی موسمِ سرما میں بوجہ مشقت مختلف اعمال کا اجر بھی بڑھا دیا جاتا ہے، اور ان پر اللہ تبارک وتعالیٰ ڈھیروں اجر عنایت فرماتے ہیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا يَمْحُو اللہُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ ’’إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَی الْمَکَارِهِ، وَکَثْرَۃُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ.
’’کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردے اور درجات بلند کردے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! ضرور بتلائیے! آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: (سردی وغیرہ کی) مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم بڑھانا، پس یہی رباط (یعنی اپنے نفس کو اللہ کی اِطاعت میں روکنا) ہے۔ ‘‘
سردی کی شدت کی وجہ سےاکثر نرم گرم بستر کوچھوڑ کر اُٹھ کر وضو کرنا اور مسجد جانا ایک شاق امر ہے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا سبب بتلایا ہے۔ معلوم ہوا کہ سردی کا موسم کثرت کے ساتھ عبادات کرنے کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔
موسمِ سرما اور تعلیماتِ نبوی ﷺ
اسلام کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے معتقدین کو زندگی گزارنے کے تمام احسن طریقے سکھائے ہیں، کوئی بھی شخص اسلام کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں معاملہ میں ہم اسلام کو رہنما نہیں پاتے، بلکہ دنیوی واُخروی، داخلی و خارجی تمام چیزوں کے متعلق اسلام ہمیں تعلیمات سے روشناس کراتا ہے۔ موسم سرما بھی ان تعلیمات سے خالی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے، نیز خلفاء اربعہ اور اسلاف امت نے اس موسم میں بھی احکاماتِ الٰہی کی طرف توجہ دلائی ہے، چنانچہ سب سے پہلے یہ جان لیں کہ تمام موسم، ان میں آنے والے حالات، اور ان کا انسانی زندگی پر اثر یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ہے، کسی موسم کی اپنی کوئی خوبی نہیں کہ اس کے آتے ہی راحتیں میسر ہوجائیں، اور کسی موسم کی خود کارستانی نہیں کہ اس کے دوران صعوبتیں پیدا ہوجائیں، یہ سب محض ارادۂ خداوندی سے ہے، اس لیے سردی ہو یا گرمی ہمیں موسم یا زمانہ کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا ایک ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قَالَ اللہُ: يَسُبُّ بَنُوْ آدَمَ الدَّہْرَ وَاَنَا الدَّھْرُ، بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ.
’’ (حدیث قدسی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ جل شانہ فرماتے ہیں: ’’بنی آدم زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، جبکہ میں زمانہ ہوں، رات دن کا پلٹنا میرے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘
اسی طرح موسمِ سرما میں ہونے والے موسمی بخارکی وجہ سے کئی لوگ بیمار ہوجاتے ہیں، اور نادانی میں بیماریوں کو بھی کوسنے لگ جاتے ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے امِ سائب رضی اللہ عنہا کو بخار کو برا کہنے سے منع فرمایا، اور اس کی وجہ بھی بتلائی کہ یہ گناہوں کو ایسے دور کرتا ہےجیسے بھٹی لوہے سے زنگ کو دور کرتی ہے۔
اعمالِ صالحہ
موسمِ سرما میں نبی کریم ﷺ نے کثرت سے اعمالِ صالحہ کرنے کی ترغیب دی ہے، نیز موسمِ سرما اعمالِ صالحہ کی ادائیگی کے لیے، اور قضا روزوں کے لیے ایک بہترین سہولت ہے، جس میں کم مشقت برداشت کرتے ہوئے انسان اجرِ عظیم کا مستحق بن سکتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَۃُ الْبَارِدۃُ۔ ‘‘ یعنی ’’سردیوں میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔ ‘‘
مشہور تابعی عبید بن عمیر لیثیؒ جب سردی کا موسم آتا تو فرماتے: ’’اے اہلِ قرآن!تمہاری نمازوں کے لیے راتیں لمبی ہوگئی ہیں، اور تمہارےروزے رکھنے کے لیے دن چھوٹے ہوگئے ہیں، لہٰذا اسے غنیمت جانو۔ ‘‘
نادار اور مفلس لوگوں کے ساتھ ہمدردی
اُخوت، ایثاراور ہمدردی یہ ایسے جذبے ہیں جو اسلام نے ہی متعارف کروائے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کی جیسی ترغیب اسلام دیتا ہے، اور کوئی نہیں دیتا۔ بھائی چارگی، صلہ رحمی، رحم دلی، اسلام کی اہم تعلیمات ہیں، جن میں اسلام صرف مسلمانوں کو ہی خاص نہیں کرتا، بلکہ غیر مسلموں حتیٰ کہ چوپایوں تک کو اس میں شامل کرتا ہے۔ ایسے ہی سردی کے موسم میں بعض غریب افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنے لیے گرم لباسوں کا انتظام نہیں کرپاتے، نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو ایسے نادار اور مفلس لوگوں کی مدد کرنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا:
اَيُّمَا مُسْلِمٍ کَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلٰی عُرْيٍ کَسَاهُ اللهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّۃِ.
’’جو کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کپڑا پہنائے گا، اللہ رب العزت اسے جنت کا لباس پہنائیں گے۔ ‘‘
سردی کی شدت سے پناہ
ہر چیز میں خیر و شر دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ہر چیز میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے خیر و عافیت طلب کی ہے، جبکہ اس چیز کے شر سے پناہ مانگی ہے۔ ایسے ہی سردی کے شر سے بھی نبی کریم ﷺ نے پناہ چاہی ہے، چنانچہ حضرت ابو سعید خدری وحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
’’ اگر سخت سردی کا دن ہو، اور اس وقت کوئی بندہ یہ دعا: ’’لَا إِلَہَ إِلَّا اللهُ، مَا اَشَدَّ بَرْدَ هٰذَا الْيَوْمِ، اللّٰهُمَّ اَجِرْنِيْ مِنْ زَمْهَرِيْرِ جَهَنَّمَ‘‘ پڑھے، تو اللہ جل شانہ جہنم سے ارشاد فرماتے ہیں: ’’میرے بندے نے تیرے زمہریر نامی علاقے سے پناہ مانگی ہے، اور میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دی۔ ‘‘
موسمِ سرما میں شرعی سہولتیں
قانونِ الٰہی ہے کہ ہر تنگی آسانی لیے پھرتی ہے، ایسے ہی فقہاء کے یہاں ایک اصول متعارف ہے کہ ’’الْمَشَقَّۃُ تَجْلِبُ التَّیْسِیْرَ‘‘ کہ مشقت آسانی کو کھینچتی ہے، لہٰذا جہاں موسمِ سرما چند سختیوں کو اپنے دامن میں لیے پھرتا ہے، وہیں ڈھیروں راحتیں بھی یہ اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ شریعت نے جاڑے کے اس موسم میں پیش آنے والی پریشانیوں اور مشقتوں کا علاج بھی بعض سہولتوں کی صورت میں دیا ہے، جس میں سے چند درج ذیل ہیں:
1: گرم پانی کا استعمال
سردیوں میں پانی ٹھنڈا ہوتا ہے، جو جسم انسانی کو بیمار کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ نے سردی کی حالت میں ٹھنڈے پانی کے استعمال کرنے کو لازم نہیں قرار دیا، بلکہ گرم پانی استعمال کرنےکی بھی سہولت دی۔ تاہم گرم پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں ٹھنڈے پانی کے استعمال کرنے پر بیش بہا فضائل بھی بیان کیے۔ ایک روایت میں سردی کی حالت میں اعضائے وضو کو مکمل دھونا، اور وضو اچھی طرح کرنے کو گناہوں کو مٹانے کا ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔
2: تیمم کرنا
یہ بھی شرعی سہولیات میں سے ہے کہ سخت سردی کی حالت میں اگر گرم پانی دستیاب نہ ہو، اور ٹھنڈے پانی کے استعمال سے مرض کے بڑھنے یا جان جانے کا خطرہ ہو تو ایسی حالت میں تیمم کر کے پاکی حاصل کی جائے۔ غزوہ ذات السلاسل میں سخت سردی کی حالت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نےرخصت پر عمل کرتے ہوئے ایسے ہی تیمم کر کے نماز پڑھائی۔ نبی کریم ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ مسکرانے لگے، اور کچھ بھی نہ فرمایا۔
3: موزوں پر مسح کرنا
شریعت کی طرف سےایک سہولت یہ بھی دی گئی ہے کہ اگر سردی ہو یا عام حالات میں بھی موزوں پر مسح کرنا چاہیں تو یہ جائز ہے، البتہ فقہاء نے موزوں پر مسح کرنے کے لیے چند شرائط بیان کی ہیں، اگر ان شرائط کا خیال رکھا جائے تو موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
4: گھر میں نماز پڑھنا
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، اور اس کے فضائل میں کئی احادیث، نیز اس کے ترک کرنے پر کئی وعیدیں بھی احادیث میں آئی ہیں۔ لیکن فقہاء نے چند صورتوں میں گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ انہی صورتوں میں سے ایک صورت سخت سردی کا ہونا ہے، اگر سخت سردی ہو تو گھر میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، جیسا کہ نافعؒ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ: ’’انہوں نے ایک مرتبہ ’’ضجنان‘‘ نامی جگہ میں سردی کی ایک رات میں اذان دی، اور پھر فرمایا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو، اور پھر حضور ﷺ کا فعل ذکر کیا کہ آپ ﷺ بھی بارش اور سردی کی رات میں یہ حکم دیا کرتے تھے۔ ‘‘
موسمِ سرما اور حفاظتی اقدامات
موسمِ سرما کو انسان کی صحت کا دشمن بتایا گیا ہے، اور اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے، چنانچہ سلیم بن عامرؒ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب سردیاں آتیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے ماتحتوں کو خط لکھتے، جن کا مضمون یہ ہوتا:
’’سرما آپہنچا، جو ایک دشمن ہے؛ اس کے مقابلے کے لیے اونی کپڑے، موزے اور جرابیں وغیرہ تیار کرو، اون ہی کا لباس پہنو اور اوپر بھی اونی چادریں اوڑھو؛ کیونکہ سرما وہ دشمن ہے جو جلد داخل ہوتا ہے اور دیر سے جان چھوڑتا ہے۔ ‘‘
اللہ رب العزت نے اون اور اس کے رُویں کو اپنی نعمت میں شمار کیا ہے، جس سے انسان سردیوں میں اپنے لیے لباس تیار کرتا ہے، لہٰذا ایسے موقعوں پر انسان کو مناسب گرم لباس کا انتظام کرنا چاہیے، تاکہ وہ اللہ کے دیے ہوئے اس جسم کو مزید طاعات میں لگاسکے۔
موسمِ سرما کا پیغام
اللہ تبارک وتعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش اور دن رات کی تبدیلی میں اہلِ عقل کے لیے کئی عبرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ موسموں کا آنا، ماہ وسال کا گزرنا، ہرے بھرے درختوں کا سوکھ کر جھڑنا، پتوں کا ٹوٹ کر گرنا، یہ بتاتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے، کوئی بھی چیز ابدی نہیں۔ موسمِ سرما‘ یہ پیغام دیتا ہے کہ جس طرح میرے آنے سے درختوں کی دلکشی اور رعنائی عنقاء ہوئی، ان کے پتے جھڑ گئے، اور خس و خاشاک بن کر کچرے کے ڈھیروں پر پڑے، ایسے ہی انسان کا ایک وقت مقرر ہے، جس کے آتے ہی ساری لذتیں بے کارہوجائیں گی، اور اس وقت وہ ساری تمناؤوں اور تمام خواہشات کو چھوڑ کر اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہوجائے گا، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ اپنی حقیقی منزل کو پہچانے اور اس کی تیاری کرے، قبل اس کے کہ فرشتۂ اجل لبیک کہہ دے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس موسمِ سرما کو ہمارے لیے خیر کا باعث بنائے، آمین۔
چونکہ ٹھنڈی ہوائیں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت سردیوں کی آمد کی نشاندہی کرتا ہے، اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے فعال اقدامات کرنا ضروری ہے۔ موسمی بیماریوں سے لے کر موسم کی وجہ سے جسمانی سرگرمیوں میں کمی تک، سرد مہینے اکثر صحت کے مختلف چیلنجز لاتے ہیں۔ تاہم، صحیح احتیاطی تدابیر اور طرز زندگی میں ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ، آپ اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور سردیوں کے موسم میں ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔
سردیوں کے موسم میں صحت مند رہنے کے 10 اہم نکات
اس دوران آپ کو صحت مند اور مضبوط رکھنے کے لیے یہاں دس موثر تجاویز ہیں۔
متوازن غذا کو برقرار رکھیں: ایک غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا کا استعمال سال بھر اہم ہے، لیکن یہ خاص طور پر سردیوں کے دوران اہم ہے۔ اپنے کھانوں میں کافی مقدار میں پھل، سبزیاں، سادا اناج، دبلی پتلی پروٹین اور صحت مند چکنائی شامل کریں۔ اپنے مدافعتی نظام کو تقویت دینے کے لیے موسمی پیداوار اور وٹامن سی، وٹامن ڈی اور زنک سے بھرپور غذاؤں کا انتخاب کریں۔
ہائیڈریٹڈ رہیں: اگرچہ موسم سرد ہے، ہائیڈریٹ رہنا ضروری ہے۔ اپنے جسم کے افعال کو سہارا دینے کے لیے روزانہ مناسب مقدار میں پانی پائیں۔ گرم جڑی بوٹیوں والی چائے، سوپ اور شوربے بھی گرمی اور سکون فراہم کرتے ہوئے آپ کے سیال کی مقدار میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
نیند کو ترجیح دیں: معیاری نیند مجموعی صحت اور مضبوط مدافعتی نظام کے لیے ضروری ہے۔ ہر رات 7-9 گھنٹے کی نیند کا مقصد بنائیں۔ سونے کے وقت کا معمول بنائیں، اپنے سونے کے کمرے کو آرام دہ اور سونے کے لیے سازگار رکھیں، اور اپنی نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سونے سے پہلے اسکرین کا وقت محدود کریں۔
موسمِ سرما‘ یہ پیغام دیتا ہے کہ جس طرح میرے آنے سے درختوں کی دلکشی اور رعنائی عنقاء ہوئی، ان کے پتے جھڑ گئے، اور خس و خاشاک بن کر کچرے کے ڈھیروں پر پڑے، ایسے ہی انسان کا ایک وقت مقرر ہے، جس کے آتے ہی ساری لذتیں بے کارہوجائیں گی، اور اس وقت وہ ساری تمناؤوں اور تمام خواہشات کو چھوڑ کر اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہوجائے گا، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ اپنی حقیقی منزل کو پہچانے اور اس کی تیاری کرے، قبل اس کے کہ فرشتۂ اجل لبیک کہہ دے
روزانہ ورزش: سرد درجہ حرارت یا ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے سردیوں کے دوران جسمانی سرگرمیاں کم ہو سکتی ہیں۔ تاہم، انڈور ورزش تلاش کرنا یا موسم سرما کے کھیلوں میں مشغول ہونا فٹنس کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ سادہ سرگرمیاں جیسے انڈور یوگا، واک، یا گھریلو ورزش آپ کو متحرک رکھ سکتی ہیں اور آپ کے موڈ کو بڑھا سکتی ہیں۔
اچھی حفظان صحت کی مشق کریں: سردیوں میں اکثر سردی اور فلو کے معاملات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن اور پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں، ضرورت پڑنے پر ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں، اور جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے چہرے کو چھونے سے گریز کریں۔
قوت مدافعت بڑھانا: صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور سے مشورہ کرنے کے بعد سپلیمنٹس پر غور کریں۔ وٹامن ڈی، سی، اور زنک سپلیمنٹس آپ کے مدافعتی نظام کی مدد کر سکتے ہیں، خاص طور پر سیاہ، سرد مہینوں کے دوران جب سورج کی نمائش محدود ہوتی۔
سردی سے بچاؤ: ہائپوتھرمیا یا فراسٹ بائٹ جیسی بیماریوں سے بچنے کے لیے موسم کے مطابق مناسب لباس پہنیں۔ ضرورت پڑنے پر کپڑے، ٹوپیاں، دستانے، سکارف اور واٹر پروف جوتے پہنیں۔ اپنے گھر کو گرم اور اچھی طرح سے موصل رکھیں۔
تناؤ کو کنٹرول کریں: ونٹر بلیوز یا سیزنل ایفیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) دماغی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ تناؤ کے انتظام کی تکنیکوں پر عمل کریں جیسے مراقبہ، یوگا، گہری سانس لینے کی مشقیں، یا ایسے مشاغل جو آپ کو خوشی دیتے ہیں۔ پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا یا ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مدد لینا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
سماجی سرگرمیاں: سرد موسم کے باوجود سماجی روابط برقرار رکھیں۔ حفاظتی رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے، دوستوں اور خاندان کے ساتھ بات چیت کرنا، یا تو عملی طور پر یا ذاتی طور پر، تنہائی اور تنہائی کے احساسات سے نمٹنے میں مدد کر سکتا ہے۔
ویکسین کروائیں: اپنے آپ کو اور دوسروں کو قابل علاج بیماریوں سے بچانے کے لیے فلو اور دیگر تجویز کردہ ویکسین لینے پر غور کریں۔ ضروری ویکسین کے بارے میں رہنمائی کے لیے اپنے ہیلتھ کیئر سینٹرز پر موجود میڈیکل سٹاف سے مشورہ کریں۔
موسم سرما کے مسائل
موسم سرما کے مسائل میں نزلہ و زکام، سانس کی بیماریاں، خشک جلد، اور سردی کی وجہ سے ہونے والی جسمانی تھکاوٹ شامل ہیں۔ سرد موسم مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتا ہے اور وٹامن ڈی کی کمی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ خشک ہوا جلد کی خشکی اور سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر دمہ کے مریضوں کے لیے۔
عمومی مسائل
بیماریاں: نزلہ، زکام، برونکائٹس، اور نورو وائرس جیسی عام بیماریاں عموماًپھیلتی ہیں۔
سانس کی مشکلات: ٹھنڈی ہوا میں سانس لینے سے پھیپھڑوں میں ہوا کی گزرگاہیں تنگ ہو سکتی ہیں، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، بالخصوص دمہ کے مریضوں کو۔
خشک جلد: سردی، کم نمی اور گرم شاور کی وجہ سے جلد خشک، خارش والی اور پھٹی ہوئی ہو سکتی ہے۔
مدافعتی نظام میں کمی: سرد موسم مدافعتی خلیوں کی کارکردگی کو سست کر سکتا ہے اور سورج کی روشنی کی کمی کی وجہ سے وٹامن ڈی کی سطح کم ہو سکتی ہے، جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وزن میں اضافہ: سردیوں کے دوران سرگرمی کم ہونے اور زیادہ کھانے کی وجہ سے وزن بڑھ سکتا ہے۔
موسم سرما کا افسردگی (SAD): کم دن اور قدرتی روشنی کی کمی کی وجہ سے کچھ لوگوں میں موڈ میں تبدیلی آسکتی ہے۔
حل اور بچاؤ
صحت مند طرز زندگی: متوازن غذا کھائیں، پانی زیادہ پئیں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور نیند پوری لیں۔
جلد کا خیال رکھیں: جلد کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے موئسچرائزر کا استعمال کریں اور بہت زیادہ گرم شاورز سے پرہیز کریں۔ زیادہ گرم پانی جلد پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
سانس کی حفاظت: دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں والے افراد کو سرد موسم میں احتیاط کرنی چاہیے، ہوا کو نمی دار رکھنے کے لیے ہوسکے تو humidifier کا استعمال کریں اور گھر کے اندر صفائی کا خیال رکھیں۔
مدافعتی نظام کو مضبوط کریں: وٹامن ڈی کے لیے دھوپ میں وقت گزاریں، اپنی غذا میں لہسن اور پیاز جیسی چیزیں شامل کریں، اور صحت مند چکنائی کا استعمال کریں۔
فعال رہیں: سرد موسم میں بھی متحرک رہیں، جیسے کہ گھر کے اندر ورزش کرنا یا گرم کپڑے پہن کر باہر سیر کرنا۔