برصغیر کی فکری، روحانی اور تہذیبی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد کے مروجہ فکرو فلسفہ سے بلند ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے راہنمائی کا روشن مینار بن جاتی ہیں۔ ان کی فکر محض ایک زمانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ صدیوں تک انسانی اذہان کو بیدار اور دلوں کو منور کرتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار ہستی کا نام حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ ہے، جنہیں دنیا شاعرِ مشرق سے جانتی اور مخاطب کرتی ہے۔
ہر سال جب 21 اپریل کا دن آتا ہے تو اہلِ فکر و دانش اس عظیم مفکر کی تعلیمات اور فکروفلسفہ پر روشنی ڈالتے اور امت کو خودی کا فراموش کر دیا جانے والا سبق یاد دلاتے ہیں۔ حکیم الامت نے فقط مسلمانان برصغیر کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اعلیٰ اخلاقی انسانی اقدار اپنانے کی تحریک دی۔ حکیم الامت کی زندگی اور ان کی فکر کا مطالعہ دراصل ایک ایسے فکری سفر کا آغاز ہے جو انسان کو خود شناسی سے خدا شناسی تک لے جاتا ہے۔ علامہ محمد اقبال صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک دانائے راز فطرت اور نباض عصر، عظیم مفکر اور مصلح بھی تھے۔ ان کی شخصیت میں علم، روحانیت، سیاست، فلسفہ اور ادب کا ایسا حسین امتزاج نظر آتا ہے جو تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی گم گشتہ پہچان کروائی اور غیرت و حمیت کے ساتھ جینے کی سوچ دی۔ علامہ محمد اقبال کا کلام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ ان کے اشعار میں جہاں ایک طرف عشقِ رسول ﷺ کی حرارت ہے تو دوسری طرف ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ کی یاد اور مستقبل کی امید بھی جھلکتی ہے۔ علامہ محمد اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فکری اور جسمانی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کو خواب غفلت سے جگایا اور خودی کا درس دیا۔
حکیم الامت کی فکر کا سب سے بنیادی تصور "خودی" ہے۔ ان کے نزدیک خودی دراصل انسان کے اندر موجود وہ روحانی قوت ہے جو اسے عظمت اور بلندی کی طرف لے جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے منظوم اظہارِ خیال کے ذریعے امت کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ اپنی خودی کو پہچان لیں اور اسے مضبوط بنا لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ذہنی یا جسمانی اعتبار سے غلام نہیں رکھ سکتی۔ اقبال کا منظوم فلسفہ حیات کا ایک ایک نکتہ قرآن کریم کی تعلیمات سے ماخوذ ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری اور فلسفہ کے ذریعے یہ واضح کیا کہ مسلمان جب تک اپنی روحانی طاقت کو نہیں پہچانیں گے، اس وقت تک وہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ علامہ محمد اقبال کے نزدیک خودی کا استحکام علم، عشق اور عمل کے ذریعے ممکن ہے۔
علامہ محمد اقبال کی پوری فکر کا محور عشقِ رسول ﷺ ہے۔ ان کے اشعار میں حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار بار بار نظر آتا ہے۔ علامہ محمد اقبال کے نزدیک مسلمان کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ وہ اپنے دل کو حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت سے معمور کر لے اور اپنی زندگی کو سیرت نبوی ﷺ کے مطابق ڈھال لے۔ شاعر مشرق نے بارہا اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جب تک مسلمان حضور نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا معیار نہیں بناتے، اس وقت تک وہ حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ محمد اقبال کی شاعری میں عشق، ایمان اور عمل کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
آپ کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو پارہ پارہ ملتِ اسلامیہ کا درد ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا گہرا مطالعہ کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے ان کی نشاندہی بھی کی۔ علامہ محمد اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ان کا اپنے اصل پیغام سے دور ہو جانا ہے۔ حکیم الامت نے اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں کو صرف جذباتی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان محض ماضی کی عظمت پر فخر کرنے کے بجائے حال اور مستقبل کی تعمیر پر توجہ دیں۔ جب ہم پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ملک دراصل علامہ محمد اقبال کی فکری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ان کا تصورِ پاکستان ایک ایسی ریاست کا تھا جہاں عدل، مساوات اور اسلامی اقدار کو فروغ حاصل ہو۔
آج کا دور تیز رفتار تبدیلیوں کا دور ہے۔ دنیا میں فکری، سیاسی اور معاشی سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی فکر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ آج کے اس دور زوال میں جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں تو امت کشت ویراں نظر آتی ہے، بھائی بھائی کا گلہ کاٹ رہا، امت کے وسائل اغیار کی دسترس میں ہیں، اس دور زوال میں ایک تحریک اور شخصیت ایسی ہے جو اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بکھری ہوئی امت کو یکجا کرتی نظر آتی ہے، وہ تحریک، تحریک منہاج القرآن ہے اور وہ شخصیت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کی ہے۔ اس تحریک کا کردار حکیم الامت کے افکار و فلسفہ کی عملی تعبیر ہے۔ تحریک منہاج القرآن جوانوں کو اقبال کا شاہین بنانے کے لیے انھیں علم، امن، محبت اور اخلاق سکھا رہی ہے۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی فکر سے اعتدال اور توازن کے اسلامی اصولوں کا احیاء ہو رہا ہے، اور منتشر امت مسلمہ کو قرآن و سنت کے پرچم تلے یکجا کیا جا رہا ہے۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کا اسلوب دعوت و فکر وہی ہے جس کی طرف حکیم الامت نے توجہ مبذول کروائی۔
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ فی زمانہ شرق و غرب نوجوانوں کو علمی و فکری اعتبار سے بیدار کر رہے ہیں۔ اگر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خدمات کا جائزہ لیں تو آپ کی جملہ خدمات ہمیں فکرِ اقبال کی عملی تعبیر نظر آتی ہیں۔ شیخ الاسلام نے دینی و فکری خدمات کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشیات کے میدان میں بھی قابلِ قدر کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیقات اور تصنیفات کے ذریعے واضح کیا کہ اسلامی اقتصادی نظام نہ صرف موجودہ معاشی بحرانوں کا مؤثر حل پیش کرتا ہے بلکہ عدل، توازن اور فلاحِ انسانی پر مبنی ایک پائیدار معاشی نظام کی تشکیل میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح اگر ہم شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے تعلیمی وژن کی بات کریں تو ان کا تعلیمی وژن ایک ہمہ گیر فکری منصوبے کی صورت میں سامنے آتا ہے جس کا مقصد علم کو محض تدریس یا پیشہ ورانہ ضرورت تک محدود رکھنا نہیں بلکہ اسے کردار سازی، فکری بیداری اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔ اِسی جامع تصور کے تحت انہوں نے تعلیمی میدان میں ایک مضبوط نظام قائم کیا۔ ان کے قائم کردہ تعلیمی نیٹ ورک کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دینی اور عصری علوم کو ایک متوازن نصاب کے تحت یکجا کیا گیا ہے، تاکہ ایسے لوگ تیار ہوں جو علم، کردار اور فکری بصیرت کے اعتبار سے معاشرے کی رہنمائی کے قابل ہوں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تعلیمی کاوشیں ایسے فکری اِحیاء کی نمائندگی کرتی ہیں جو علم کو قومی ترقی اور امت کی فلاح کے لیے بنیادی قوت قرار دیتی ہیں۔
اقتصادی اور تعلیمی کاوشوں کے ساتھ ساتھ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے عصرِ حاضر میں اتحادِ امت کے فروغ کو اپنی دعوتی اور فکری جدوجہد کا بنیادی محور بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے خطبات، تصانیف اور عالمی سطح پر ہونے والی علمی و دعوتی سرگرمیوں کے ذریعے یہ پیغام عام کیا کہ امتِ مسلمہ کی قوت اُس کے اتحاد، اعتدال اور باہمی احترام میں مضمر ہے۔ شیخ الاسلام نے مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی نفی کرنے اور مشترکہ اسلامی اقدار کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اُن کی علمی کاوشوں کا مقصد یہ رہا کہ مسلمان اختلافات کے باوجود مشترکہ دینی بنیادوں پر متحد ہوں اور باہمی احترام، رواداری اور اخوت کے ذریعے ایک مضبوط اور متوازن اسلامی معاشرے کی تشکیل کریں۔