انسانی زندگی میں وقت کی قدرو قیمت اور اہمیت و ضرورت سے کوئی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ وقت کی قدر ایک مسلمان کے مذہبی فرائض میں سے ہے۔ جو مسلمان وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ اپنا مذہبی فریضہ ہی ادا نہیں کرسکتا۔ قرآن نے زمانے، دن اور رات اور اوقات کی قسمیں کھائی ہیں۔ ان ساری قسموں کا مقصد انسان کو پکار پکار کر وقت کی قدر و اہمیت اور اس کی فضیلت و افادیت کی طرف متوجہ کرنا ہے اور عمرِ عزیز کی گزرتی ہوئی ان موجوں اور لہروں سے نفع اٹھانے کی ترغیب دینا ہے اور اپنی زندگی کےپل پل کو تول کر صرف کرنے کی اہمیت اذہان میں راسخ کرنا ہے۔
باری تعالیٰ نے احکام شریعت کو وقت کے ساتھ متعلق رکھا ہے۔ ہر حکمِ شرعی کی ادائیگی کے لیے ایک خاص وقت مختص ہے جس کی ابتداء کا بھی تعین ہے اور انتہا کا بھی تعین ہے۔ نماز کی ادائیگی کا عمل ہر مسلمان کو روزانہ وقت کی پابندی کا سبق سکھاتا ہے۔ ہر نماز ایک مقررہ وقت پر ادا کی جاسکتی ہے۔ ارشاد فرمایا:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا.
(النساء، 4: 103)
’’بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔ ‘‘
اگر وہ مقررہ وقت نکل جائے تو انسان کا عمل صلوٰۃ ادا نہیں بلکہ قضا ٹھہرتا ہے۔ نماز کی ہیت اور ادائیگی کی صورت میں کوئی فرق نہیں آتا مگر اس کے باوجود مقررہ وقت میں ادا نہ کی گئی نماز ادا نہیں بلکہ قضا بن جاتی ہے۔ روزے اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے ماہ میں فرض کیے ہیں۔ اگر سال بھر روزے رکھے جائیں مگر اس ماہ میں روزے نہ رکھے جائیں تو وہ روزے نفلی روزے ہوں گے، رمضان المبارک کے روزے ہرگز نہیں ہوسکتے۔ حتی کہ اس فرض کی ادائیگی کا وقت گزر جانے کے بعد ساری عمر کے روزے بھی ان کی ادا نہیں بن سکتے۔ جو وقت گذرا، سو وہ گذر گیا، اب وہ واپس نہیں آسکتا۔
سال میں سے حج کا وقت باری تعالیٰ نے ذوی الحج میں مختص کردیا ہے۔ اب اگر کوئی ذوی الحجہ کے مخصوص ایام حج میں حاضر نہیں ہوتا اور مناسکِ حج ادا نہیں کرتا تو بعد ازاں اگرچہ وہ سارا وقت بیت اللہ کے پاس بھی گزار دے، اس کا حج نہیں ہوگا، سارا سال میدان عرفات میں آتا جاتا رہے اور ہر روز حاضر رہے مگر یوم عرفہ حاضر نہ ہونے کے سبب اس کا حج نہیں ہوگا۔
ایک مسلمان کو ہر ہر لحظہ کائنات کا ذرہ ذرہ وقت کی اہمیت کا احساس دلا رہا ہے۔ لیل ونہار کی گردش، سورج کا طلوع و غروب، موسموں کا تغیر و تبدل، ہماری زندگی کی صبح و شام، ہمارا بچپن و لڑکپن، ہماری نوجوانی و جوانی، ہمارا بڑھاپا و ضعف یہ تمام وقت ہی کی علامات ہیں۔ ہماری زندگی کا کل وقت درحقیقت لیل و نہار ہے۔ اس لیے قرآن بیان کرتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا.
(الفرقان، 25: 62)
’’ اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے گردش کرنے والا بنایا اس کے لیے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (ان تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)۔ ‘‘
رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو پانچ چیزوں کی قدر و اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اغتنم خمسا قبل خمس: شبابك قبل هرمك وصحتك قبل سقمك وغناك قبل فقرك وفراغك قبل شغلك.
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرقاق)
’’پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو: موت سے پہلے حیات کو، بیماری سے پہلے تندرستی کو، مصروفیت و مشغولیت سے پہلے فراغت و فرصت کو، بڑھاپے و ضعف سے پہلے جوانی کو اور فقر و تنگدستی سے پہلے مالداری کو۔ ‘‘
یہ پانچ چیزیں انسان کو قت کی اہمیت بتارہی ہیں۔ زندگی ایک بہت قیمتی وقت ہے، اس وقت کو بہت عمدگی اور صالحیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ جب وقتِ موت آئے تو یہ حیات ندامت نہ بن جائے۔ آج کی صحت و تندرستی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے صحت و تندرستی میں انسان اپنے وقت کا صحیح استعمال کرے۔ قبل اس کے کوئی بیماری حملہ آور ہوجائے اور وہ انسان کا وقت لے جائے۔
انسان کے پاس لمحاتِ فرصت و فراغت کم ہیں اور مصروفیات و مشغولیات زیادہ ہیں۔ اپنے وقتِ فرصت کو اپنی مشغولیت کا سبب بنایا جائے تاکہ کل مصروفیات کے ہجوم میں کچھ بوجھ کم ہوسکے۔ نوجوانی و جوانی بڑھاپے کے مقابلے میں ایک بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔ اس جوانی میں زیادہ سے زیادہ اعمال کا بوجھ اٹھا لینا چاہیے۔ کل بڑھاپا خود ایک بوجھ بن جائے گا اور یہ مزید بوجھ اٹھانے کا متحمل نہ ہوگا۔ آج اللہ رب العزت نے جو مال و دولت دیا ہے، اس کا صحیح اور موزوں مصرف تلاش کیا جائے۔ اس لیے کہ مال کا اسراف و تبذیر فقر میں مبتلا کرنے والا ہے۔ یہ پانچوں حالتیں انسان کے وقت کی حالتیں ہیں۔
صحت و فراغت ایک عظیم نعمت ہیں
جو شخص وقت کے ہر لمحے اور ہر پل کو تول کر اور سوچ کر گزارتا ہے، وہی کامیاب و کامران ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحت اور فراغت کو ایک نعمت عظیم قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
نعمتان مبغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ.
(سنن ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ ﷺ )
’’دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے کا شکار ہیں، ایک صحت اور دوسری فراغت۔ ‘‘
ہم اپنی صحت کی نعمت کی ناقدری کرتے ہیں۔ صحت میں اپنے جسم کی توانائیوں کا مثبت استعمال نہیں کرتے۔ اپنی جسمانی سرگرمیوں کو مفید نہیں بناتے۔ صحت میں بھی ہم اسراف کا عمل کرتے ہیں اور صحت کی بری طرح ناقدری کرتے ہیں اور حقیقت میں یہی صحت ہماری ذات کی قدر میں اضافہ کرنے والی تھی۔ اچانک بیماری کا حملہ ہوتا ہے اور صحت کی نعمت لٹ جاتی ہے۔ اب مرض سے لڑلڑ کر صحت برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے آج اگر صحت ہے تو اس پر اللہ کی بارگاہ میں شکر گزار ہوجائیں اور اس کی شکر گزاری والے اعمال بجا لائیں اور اپنی ذات کی کامیابی والے افعال خوب سے خوب سرانجام دیں تاکہ کل بیماری میں صحت کی نعمت کے جانے کا پچھتاوا نہ ہو۔
فراغت کی نعمت کی قدر دانی یہ ہے کہ اس فراغت کو مشغولیت میں بدل دیا جائے۔ ایک مسلمان کی زندگی میں مصروفیت و مشغولیت کے بغیر حیات کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں۔ ایک مسلمان ہر وقت یا حقوق اللہ کی ادائیگی میں مصروف رہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور وقت کی اہمیت
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اطاعتِ الہٰی اور اطاعت رسول ﷺ میں ہر وقت خود کو مستعد رکھتے اور اللہ سے یہ دعا کرتے کہ مولا میری جسمانی و روحانی قوتوں پر غفلت کا حملہ نہ ہو۔۔۔ غفلت میرے اندر اطاعت کے جذبے کو کمزور نہ کرے۔۔۔ اور تیری اطاعت کے سبب میری غفلت تیری پکڑ اور گرفت کا باعث نہ بنے۔ فرماتے:
اللھم لا تدعنا فی غمرۃ ولا تاخذنا علی غرۃ ولا تجعلنا من الغافلین.
(ڈاکٹر عبدالستار نویر، الوقت ھوالحیاۃ، ص17)
’’اے اللہ ہمیں شدت میں نہ چھوڑ اور ہمیں غفلت میں نہ پکڑ اور ہمیں غفلت کرنے والوں میں سے نہ بنا۔ ‘‘
مزید برآں فرماتے تھے زمانے کی گردش ایک عجیب معاملہ ہے لیکن انسان کی غفلت اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ اس انسان کو اپنی عمر اور اپنی زندگی کی ان ساعتوں پر آنسو بہانے چاہئیں جو بغیر اطاعت کے گذر گئیں اور بندہ اللہ کی اطاعت اور عبادت نہ کرسکا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور وقت میں برکت کی دعا
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، اللہ رب العزت کی بارگاہ میں وقت کی ہر ساعت میں برکت کی دعا یوں کرتے:
اللھم انا نسئلک صلاح الساعات والبرکۃ فی الاوقات.
(ڈاکٹر عبدالستار نویر، الوقت ھوالحیاۃ، ص 18)
’’اے اللہ ہم تجھ سے زندگی کی ساعتوں کی بہتری اور اپنی زندگی کے اوقات کی برکت مانگتے ہیں۔ ‘‘
وقت تو ہر کسی کا گزرتا ہے مگر سوال یہ ہے کس کا وقت کس طرح اور کیسے گزرتا ہے۔۔۔؟ کون اپنے وقت میں بنتا ہے اور کون اپنے وقت میں بگڑتا ہے۔۔۔ ؟ کس کا وقت اس کی ذات کو نفع دیتا ہے اور کون سا وقت اس کی ذات کو نقصان و خسارہ دیتا ہے۔۔۔ ؟ کس کی زندگی کا وقت نفع میں گزر رہا ہے اور کس کی زندگی کا وقت نقصان اور خسارہ میں گزر رہا ہے۔۔۔ ؟ کون انسان، ان الانسان لفی خسر کا پیکر بنا ہوا ہے اور خود ہی کو نقصان پہنچارہا ہے۔۔۔ ؟ ہم اللہ کی عبادت کے لیے مسجد میں آتے ہیں تو ہم اپنے اوپر اس وقت کا عائد کردہ فرض ادا کرتے ہیں تو اس فرض کی ادائیگی کے ساتھ ہم رب سے برکت مانگنے آتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی صحت کی نعمت مانگنے آتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی کامیابی مانگنے آتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی ضرورت کی کفالت مانگنے آتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی شدید حاجت کی تکمیل کے لیے رب کے حضور آتے ہیں۔۔۔ ہم خود کو خدا سے مانگنے آتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی ذات کی معرفت مانگنے آتے ہیں۔۔۔ حتی کہ ہم خدا سے خدا کو مانگنے آتے ہیں۔۔۔ یہی مانگنے کا وقت ہی ہماری زندگی کا بہترین وقت بن جاتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک وقت ہی حیات ہے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنی زندگی کو اپنی کتاب زیست قرار دیتے کہ اس میں موجود دن کی حیثیت میری کتابِ حیات کے صفحات کی سی ہے۔ فرماتے کہ میں اپنی کتابِ زیست کے صفحات اعمالِ صالحات سے معمور کرنے کی سعی ہر روز کرتا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ میری کتاب زندگی کا ہر ہر صفحہ اپنے اندر بےپناہ اعمالِ صالحہ اور اعمالِ خیر لیے ہو۔ فرماتے ہیں:
الایام صحائف اعمالکم فخلدوھا صالح اعمالکم.
(عبدالفتاح ابوغدہ، قیمۃ الزمن عندالعلماء، ص 15)
’’یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو۔ ‘‘
عملِ مسلسل حیاتِ مسلسل ہے
انسان کو ہر لمحہ کوئی نہ کوئی کام کرتے رہنا چاہیے۔ یہی انسان کے وقت کا بہترین استعمال ہے، کبھی اور کسی وقت وہ فارغ نہ ہو۔ ہر چیز کو ایک مقصد کے ساتھ کرے۔ اپنے عمل کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ مستقل اور مسلسل کی صفت عملِ قلیل کو بھی عمل کثیر بنادیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو کامیابی و کامرانی کا راز بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
احب الاعمال الی اللہ ادومھا وان قل.
(صحیح مسلم، باب فضیلۃ العمل الدائم۔۔۔)
’’اللہ کو وہ عمل محبوب ہے جو دائمی ہو اگرچہ مقدار میں کم ہو۔ ‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس دن سے زیادہ کسی چیز پر نادم نہیں ہوتا جو میری عمر سے کم ہوجائے اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے نزدیک وقت کی اہمیت
ہماری یہ زندگی اعمال صالحہ بڑھانے کا وقت ہے۔ ہماری زیست کا یہ وقت اپنی دنیوی اور اخروی نجات کے حصول کا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ فرماتے کہ دن رات کی گردش آپ کی عمر کو کم کررہی ہے تو پھر آپ اپنے عمل میں سست کیوں ہیں۔
(شیخ عبدالفتاح ابوغدہ، قیمۃ الزمن عندالعلماء، ص 25)
گویا وقت کا گزرنا، عمل کا گزرنا ہے۔ انسان کے وقتِ زیست میں سب سے قیمتی چیز یہ ہے کہ اس وقت کو عمل سے بھرپور اور معمور کردیا جائے۔ وقت کے کسی حصہ کو بھی عمل کے بغیر نہ رہنے دیا جائے۔ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ کام کل تک کے لیے موخر کردیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں ایک دن کا کام مشکل سے مکمل کرتا ہوں اور اگر آج کا کام بھی کل پر چھوڑ دوں گا تومیرے ذمہ دو دن کا کام ہوجائے گا تو پھر بعد ازاں میں دو دن کا کام کیسے کروں گا۔
(شیخ عبدالفتاح ابوغدہ، قیمۃ الزمن عندالعلماء، ص 26)
وقت میں عذرِ کل، قتلِ وقت ہے
آج کے کام کو کل کا کام بنانا ایک دھوکہ ہے۔ ہمیشہ کل کی عادت بچوں کا بہلاوا ہے کہ فلاں کھلونا تمھیں کل لے کر دیا جائے گا۔ کل پر کام چھوڑنا، غفلت اور غیر ذمہ داری کی نشانی ہے۔ ہماری زندگیوں سے آج کا وقت مرنا نہیں چاہیے اور نہ ہماری زندگیوں سے لفظ آج مرنا چاہیے۔ ہمارا آج ہی ہمارا کل ہے اور ہمارے آنے والا کل بھی آج ہے۔ اس لیے اقبال نے کہا:
؎فقط امروز ہے تیرا زمانہ
ہم آج کے بوجھ کو کل پر نہ لادیں، اس لیے کہ خود کل اپنے بوجھ اور اپنی ذمہ داری کے ساتھ ہماری زندگیوں میں طلوع ہونے والا ہے۔ کل کی رٹ انسان کی زندگی کو خال بنادیتی ہے جبکہ انسان کی کامیابی اعمال میں ہے۔ عمل ہی انسان کے وقت کا بہترین استعمال ہے۔ کامیاب لوگ وہ ہیں جو اپنے آج کو کل نہ بنائیں بلکہ اپنے آنے والے کل کو بھی آج بنادیں۔ کسی نے کیا خوب کہا:
ہر شبی گویم کہ فردا ترک این سودا کنم
باز چون فردا شود، امروز را فردا کنم
ہر شب میں کہتا ہوں کہ کل میں اس سودا (عشق) کو ترک کردوں گا، پھر جب فردا (کل) آجاتی ہے تو میں (امروز) آج کو (فردا) کردیتا ہوں۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ اور وقت کی اہمیت
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہاری زندگی کے ایام ہی تمھارا وقت ہیں۔ تیرے لیے کسی دن کا خالی جانا اور عمل کے بغیر گزرنا اور مقصدِ حیات سے بے پرواہ بسر ہونا ہی تیرے وقت کا ضائع ہونا ہے۔ تیرے یوم کا ضائع ہونا تیرے وقت کا ضائع ہونا ہے، تیرے ایام کا ضائع ہونا تیری زندگی کے اوقات کا ضائع ہونا ہے۔ فرماتے ہیں:
یا ابن ادم انما انت ایام فاذا ذہب یوم ذہب بعضک.
(ڈاکٹر عبدالستارنویر، الوقت ھوالحیاۃ، ص 29)
اے ابن آدم! تو ایام ہی کا مجموعہ ہے۔ جب ایک دن گزر جائے تو یوں سمجھ کہ تیری زندگی کا ایک حصہ بھی گزر گیا۔
مزید برآں فرماتے ہیں میں نے ایسی اقوام کو دیکھا ہے جن کے ہاں وقت کی اہمیت اور قدرو قیمت تمہارے پاس موجود دراہم و دنانیر کی محبت سے بھی کہیں زیادہ تھی۔
امام ابن جوزیؒ اور وقت کی اہمیت
چھٹی صدی ہجری کے ایک معروف عالم امام بن الجوزیؒ اپنے بیٹے کو وقت کی قدرو اہمیت اور زندگی کی نعمت کی قدر دانی کی نصیحت و تعلیم ہوئے فرماتے ہیں:
وانظر کل ساعۃ من ساعاتک بما ذا تذہب.
اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب کر کہ اور اس بات کا اندازہ کر تیری زندگی کا ایک ایک لمحہ کس عمل میں گزر رہا ہےاور کیسے گزر رہا ہے؟ گویا اپنے زندگی کے وقت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ زندگی کے ایک ایک سانس کو بھی کسی عمل میں گزاریں۔ مزید فرماتے ہیں:
ولاتھمل نفسک
کسی بھی لمحہ حیات میں خود کو بیکار نہ رہنے دو۔ ہر لمحہ کوئی نہ کوئی کام کرتے رہو اور طبیعت کو ایسا بناؤ کہ:
وعودھا اشرف مایکون من العمل واحسنہ
(ڈاکٹر عبدالستارنویر، الوقت ھوالحیاۃ، ص 35)
ہر لمحہ ایک بہترین، افضل، احسن، اشرف اور اعلیٰ عمل تمہارے وجود سے ہر سانس کے بدلے میں جاری ہو۔ تمہاری ذات احسن، ارفع اور اعلیٰ عمل کی پہچان بن جائے۔ اگر تیری زندگی کی ساعتیں ایسی ہوجائیں تو گویا تو نے اپنی زندگی کے وقت کا صحیح استعمال کیا ہے۔
خلاصۂ کلام
وقت انسان کے پاس ایک سرمایہ حیات ہے جو ہر شخص کو قدرت نے یکساں عطاکیا ہے۔ جو لوگ اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں، وہی زندگی میں کامیابی و سرفرازی پاتے ہیں۔ وقت کا صحیح استعمال ہی ایک وحشی انسان کو مہذب انسان، ایک جاہل کو عالم، ایک مفلس کو تونگر ایک نادان کو دانا، ایک غریب کو امیر اور ایک گدا کو شاہ بناتا ہے۔ انسانی زندگی میں علم وکمال کسبی چیزیں ہیں، یہ کسی قوم یا فرد کی میراث نہیں۔ جو لوگ بھی وقت کی قدرو قیمت جانتے ہیں اور محنت و مشقت کرتے ہیں، وہی کامیاب و سرفراز ہوتے ہیں۔ جو اقوام وقت کی قدر کرنا جانتی ہیں، وہی صحراؤں کو گلشن میں بدل دیتی ہیں، وہ فضاؤں پر قبضہ کرسکتی ہیں، وہ عناصر کو مسخر کرسکتی ہیں، وہ پہاڑوں کے جگر پاش پاش کرسکتی ہیں، وہ ستاروں پر کمندیں ڈال سکتی ہیں اور وہ زمانے کی زمامِ قیادت سنبھال سکتی ہیں۔
اس کے برعکس جو اقوام وقت کو ضائع کرتی ہیں وقت ان کو ضائع کردیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی کاوشوں کے میدان کو بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے مگر بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم ہر میدانِ کاوش میں ہمارا وقت بہترین گزر رہا ہو۔ ہمارے وقت کا بہترین مصرف ہر لمحہ بڑھتا چلا جائے۔ وقت انسان کے پاس درحقیقت ایک مہلتِ حیات کا نام ہے۔ وقت انسان کے پاس ایک نعمتِ حیات کا نام ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کی نگاہ اقدس میں ایک بہترین مسلمان اور ایک عمدہ انسان وہ ہے جس کا وقت اور جس کی حیات فضول اور بے مقصد کاموں سے بچ جائے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ.
(سنن ترمذی)
وہ شخص بہترین مسلمان ہے جو اپنی زندگی سے بے مقصد چیزوں کو نکال دے۔
لا یعنی بے مقصد چیزیں کیا ہیں؟ ہمیں یہ بات ہارون الرشید کے اس واقعہ سے بھی سمجھ آسکتی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک حیرت انگیز کرتب دکھایا گیا۔ ایک شخص نے دربار کے فرش پر ایک سوئی کھڑی کی اور خود تھوڑی دور دس سوئیاں اٹھائے ہوئے کھڑا ہوگیا۔ اس نے دور سے کھڑے ہوکر سوئی پھینکی اور وہ سوئی فرش پر کھڑی سوئی کے ناکے سے گزر گئی۔ سب درباریوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس طرح اس نے دس سوئیاں پھینکیں اور دس کی دس سوئی کے ناکے سے گذر گئیں۔
ہارون الرشید نے اس کے حیرت انگیز کمال پر انعام دینے کا فیصلہ کیا اور حکم دیا اس کو دس دینار انعام دیئے جائیں اور دس کوڑے مارے جائیں۔ درباری حیران ہوئے کہ دس دینار کی توسمجھ آتی ہے مگر دس کوڑوں کی سمجھ نہیں آتی۔ اس عجیب و غریب انعام کی وجہ ہارون الرشید نے یہ بتائی کہ دس دینار اس شخص کی ذہانت اور اس کے پختہ نشانہ رکھنے کا انعام ہے اور دس کوڑے اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنی خداداد صلاحیتیں اور اپنا قیمتی وقت ایک ایسے کام میں صرف کیا جس کا دین و دنیا کو کوئی فائدہ نہیں۔
محترم قارئین! وقت ہمارے پاس ایک نعمتِ خداوندی ہے۔ یہ وقت دنیا کی سب سے بڑی قیمتی چیز ہے۔ اس لیے کہا گیا: الوقت من ذہب۔ وقت بھی ایک سونا ہے۔۔۔ الوقت ھوالحیاۃ، یہ وقت ہماری حیات ہے۔۔۔ الوقت کالسیف ان لم تقطعہ قطعک۔ وقت دو دھاری تلوار ہے اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو یہ تمہیں کاٹ دے گا۔۔۔ الوقت سیف قاطع۔ وقت کاٹنے والی دو دھاری تلوار ہے۔
آج ہمیں اپنے کاروانِ حیات میں کامیابی کی منزل پر پہنچنا ہے تو ہمیں اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا ہے، ہمیں ہر روز کو بہتر کرنا ہے اور ہمیں اپنے آج کو سنوارنا ہے۔ ہمارا آج اگر سنور جائے گا تو ہمارا کل بھی سنور جائے گا۔ ہمارا آج ہی ہمارا کل زمانہ ہے۔ اس لیے اقبال نے کہا:
زمانہ کی یہ گردش جاودانہ
حقیقت ایک تو، باقی فسانہ
کسی نے دوش دیکھا ہے نہ فردا
فقط امروز ہے تیرا زمانہ