علم کی شمع جب خلوصِ نیت سے روشن ہو تو اُس کی تابانی نسلوں کو منوّر کرتی ہے۔ تحریکِ منہاج القرآن چار نسلوں سے قرآن و سنّت کی روشنی کو ہر دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے تجدید و اِحیاءِ دین کا فریضہ سراَنجام دے رہی ہے۔ اِسی علم پرور روایت کے تسلسل میں ماہِ رمضان المبارک 2026ء کے آخری عشرے میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور شیخ حماد مصطفی المدنی القادری کی درج ذیل نئی گراں قدر تصانیف منظرِ عام پر آئی ہیں۔ یہ کتب محض تصانیف نہیں، بلکہ اُمتِ مسلمہ کے لیے فکری سرمایہ، عملی راہ نُمائی اور روحانی زادِ راہ ہیں۔
1.The Travels of Farid-e-Millat Dr Farid-ud-Din Qadri
محسنِ تحریک، عارفِ اَسرارِ اَزل، فریدِ ملّت حضرت ڈاکٹر فرید الدین قادری کثیر الجہات اور جامع الکمالات شخصیت تھے۔ علوم و فنون میں آپ کی گہرائی اور پختگی کا عالم یہ تھا کہ اپنے عہد کے بڑے علماء آپ کے درِ علم پر نیاز مندانہ حاضری دیتے تھے۔ اولیاء و صالحین علمی و روحانی منازِل طے کرنے کے لیے علمی و روحانی اور زیارتی اَسفار اِختیار فرماتے ہیں۔ حضرت فریدِملّت ڈاکٹر فریدالدین قادریؒ نے بھی صالحینِ عظام کے طریق پر تقریباً چھ مختلف اَدوار میں علمی و روحانی اور سیاحتی اَسفار کیے ہیں۔ آپ نے ایران، عراق، ترکی اور شام کے اہم مقامات کی زیارات پر اَہم سفر نامہ لکھا ہے، جو اب انگریزی زبان میں نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔
منہاج یونی ورسٹی لاہور کے Translation and Interpretation Centre نے اِس سفر نامے کو فریدِ ملّتؒ رِیسرچ اِنسٹی ٹیوٹ کے اِشتراک سے اُردو سے انگریزی قالب میں ڈھالا ہے۔ اِس میں مذکور تمام سیاحت شدہ مقامات کے لنکس بھی دیے گئے ہیں، جنہیں کیو آر کوڈ اسکین کرکے وِزٹ کیا جاسکتا ہے۔
2۔ اَلرَّوْضُ الْبَاسِم مِنْ خُلُقِ النَّبِيِّ الْخَاتِم ﷺ
’حضور ﷺ کے اَخلاقِ کریمانہ‘ کے موضوع پرشیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی یہ تصنیف موجودہ دور ميں اُمتِ مسلمہ کے اِصلاحِ اَحوال کے لیے مینارۂ نور ہے۔ چار جلدوں کی یہ کتاب دراَصل 60 جلدوں کے Encyclopedia of Sunna میں سے ’سیرت و اَخلاقِ محمدی‘ پر مشتمل ایک حصہ ہے۔
3۔ والدین اور زوجین: گھریلو رِشتوں میں توازُن (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی یہ اِصلاح آفریں علمی کاوش محض ایک کتاب نہیں، بلکہ خاندانی زندگی کو سنوارنے کا ایک جامع منشور ہے۔ والدین اور زوجین کے حقوق میں توازن قائم رکھنے کے لیے اِنتہائی مفید اور عملی راہ نُمائی فراہم کرتی ہے۔ اِس کی اِنفرادیت یہ ہے کہ زیرِ بحث ہر حدیث کے تحت اس کے عملی فوائد اور مطالب و مضامین بھی بیان کیے گئے ہیں، جو قاری کی اِصلاح کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اِس کتاب سے یہ حقیقت بھی اُجاگر ہوتی ہے کہ خوش گوار گھریلو زندگی والدین کی بے لوث محبت اور میاں بیوی کے رحمت و سکون پر مبنی پاکیزہ بندھن پر اُستوار ہے۔ والدین کی اِطاعت اور شریکِ حیات کے حقوق میں شرعی اَحکامات کے مطابق اِعتدال اور توازُن قائم کیا جائے۔
4۔ نظامِ یوسف: نظم و نسق اور قیادت کے قرآنی اُصول
THE YUSUF FRAMEWORK
(Qur’anic Principles of Management and Leadership)
یہ کتاب پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی قرآن، مینجمنٹ اور لیڈرشپ سیریز کی چوتھی کتاب ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کی کہانی دراصل ہر درد مند اور صاحبِ بصیرت اِنسان کی کہانی ہے۔ یہ کتاب سورۃ یوسف کو محض ایک تاریخی حکایت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی، نفسیات، اَخلاقی اِستقامت، قیادت سازی، بحران کی بہترین تنظیم اور روحانی خود آگہی کے مکمل سفر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سورۃ یوسف کا یہ مطالعہ قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ آزمائشیں رکاوٹ نہیں بلکہ اللہ کی تدبیر کا حصہ ہوتی ہیں اور صبر، حکمت اور اعتماد کے ساتھ یہی آزمائشیں انسان کو منزلِ مقصود تک پہنچا دیتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اِس سے قبل ’دستورِ مدینہ‘ پر اپنی نادر و منفرد تحقیق میں ریاستِ مدینہ اور نظامِ مصطفیٰ کے خدوخال کو نہایت محققانہ اُسلوب میں اجاگر کر چکے ہیں۔ اُسی علمی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اب آپ نے ’نظامِ یوسف‘ پر تاریخی نوعیت کا یہ گراں قدر کام انجام دیا ہے، جس میں مینجمنٹ اور لیڈرشپ کے تمام اُصول اور خدوخال براہِ راست قرآنِ حکیم کی آیاتِ بیّنات سے اَخذ کیے گئے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے قرآنی بیانیہ کی گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے واضح اور مربوط انداز میں پیش کیا ہے کہ یہ کتاب ایک ساتھ روحانی مطالعہ، فکری راہ نُمائی اور عملی تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ طلبہ، اساتذہ، محققین، تربیتی ماہرین، کارپوریٹ لیڈرز اور عام قارئین سب اِس میں اپنے لیے روشنی پائیں گے۔ یہ کتاب ہمیں صرف سیدنا یوسف علیہ السلام کی کہانی نہیں سناتی بلکہ یہ ہمیں اپنی کہانی سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
5۔ بین المذاہب رواداری: تاریخ، تصوّرات اور مکالماتی اِمکانات
پاکستان کی پہلی یونیسکو چئیر برائے تعلیمِ امن اور بین الثقافتی مکالمہ کے حامل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی یہ نئی گراں قدر تصنیف اَربابِ اِقتدار، پالیسی سازوں، مذہبی راہ نُماؤں، اسکالرز اور عامۃ الناس کے لیے فکری کشادگی اور تہذیبی ہم آہنگی کی جانب اَہم سنگِ میل ہے۔
یہ کتاب واضح کرتی ہے کہ اِسلام کا اصل چہرہ جبر اور تصادم کا نہیں، بلکہ رحمت، مکالمہ اور اِنسانیت کی بقا و فلاح کا ہے۔ مذاہب کے مابین مکالمہ وقتی مصلحت نہیں، بلکہ اشتراکِ خیر کا بنیادی شرعی و اخلاقی اصول ہے۔ اِس کتاب کے مطالعے سے آپ جان سکیں گے کہ اِسلام کے آفاقی پیغام میں تکریمِ انسانیت، مساوات اور اَمنِ عالم کی حقیقی بنیاد کیا ہے؟ کیا میثاقِ مدینہ اِنسانی تاریخ میں کثیر المذاہب معاشرے کا پہلا دستوری منشور تھا؟ کیا تمام مذاہب میں مقدس ہستیوں کی حرمت و ناموس کی پاس داری ضروری قرار دی گئی ہے؟
6. FAITH FOR A FRAGILE PLANET
(Environmental Stewardship & Global Sustainability)
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس کتاب میں ماحولیاتی بحران کا ایک قابلِ عمل اور حکیمانہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ ماحول کا تحفظ محض ایک سیاسی ترجیح یا سائنسی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس فریضہ ہے جو دینی روایات اور اَقدار کے قلب میں پیوست ہے۔ یہ کتاب ہر اُس شخص کے لیے ایک جامع گائیڈ بک ہے جو عصرِ حاضر کے ماحولیاتی اِضطراب کو محسوس کرتا ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکار مشترکہ اِنسانی مفادات کی بنا پر کرۂ اَرض کو سنوارنے کا کارنامہ سر اَنجام دے سکتے ہیں۔
یہ کتاب پالیسی سازوں، ماحولیاتی کارکنوں اور مذہبی راہ نُماؤں کے لیے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ آئیے! ماحولیاتی بہتری کی اِس cause میں پروفیسرڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے ساتھ شامل ہوں۔
7. LABOUR RIGHTS (Historic, Legal and Islamic Perspectives)
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی یہ نئی تصنیف محنت کشوں کے حقوق کا تاریخی، قانونی اور اسلامی تناظر میں فقید المثال مطالعہ پیش کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی قوت کا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے محنت کشوں اور کمزوروں کے ساتھ کتنا عادلانہ اور نفع بخش رویہ اِختیار کرتا ہے۔ اِسلام کے پیش کردہ اُصولوں کا دیگر مذہبی روایات اور دنیا بھر کے جدید قانونی نظاموں سے تقابلی جائزہ اس کتاب کا اہم حصہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ کتاب پاکستان کے لیبر لاء کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے اور بین الاقوامی معیاراتِ محنت کے اِرتقا کا جائزہ دیتی ہے۔ اس کتاب کے آخر میں مفید اور قابلِ عمل پالیسی سفارشات تجویز کرتی ہے۔
8. PATHS OF THE LOVERS (Tales of Love, Devotion and Mindfulness)
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی یہ انگریزی کتاب سلف صالحین اور اَولیاء کاملین کے اَحوال کا اِیمان اَفروز اور رُوح پرور تذکرہ اور تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور تجلیۂ روح کے لیے عُشاق و محبین کی مجالس اور صحبتوں کا حسین بیان ہے۔ یہ کتاب اِیمان اَفروز واقعات و تذکار کا مجموعہ ہے جنہیں پڑھ کر اِنسان میں اِصلاح کا داعیہ بیدار ہوتاہے اور واقعاتی اندازِ تحریر غیر محسوس طریقے سے قلبی و باطنی کیفیات بدل دیتا ہے۔
9. PAST & PRESENT (How Muslims Enrich Our Society)
شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری کی یہ نئی منفرد کتاب سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضیات، جدید مالیاتی تکنیک، اے آئی، ڈیجیٹل کرنسی، ماحولیاتی شعور، سائنسی ایجادات، تحقیق و ترقی، حکمرانی، وکالت اور ادارہ سازی کے میدانوں میں مسلمانوں کے کارہاے نمایاں اُجاگر کرتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے ہر دور میں عالمی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ یہ کتاب ان اِمکانات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں مسلمان کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ کتاب شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری کے قائم کردہ علمی و فکری اور تحقیقی ادارے ’بیت الحکمۃ (House of Widsom)‘ کی جانب سے طبع کی گئی ہے۔
ó یہ نو (9) کتابیں دراصل ایک ہی چراغ کی نَو (9) کِرنیں ہیں۔ وہ چراغ جو حضرت فریدِ ملّتؒ کے علم و عرفان سے روشن ہوا، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر و نظر سے پروان چڑھا، اور اب ان کے فرزندانِ گرامی اور رُفقاءِ علم کے ہاتھوں عالمِ انسانیت کے ہر گوشے کو منور کر رہا ہے۔ عقیدہ و اخلاق، خاندان و معاشرت، ماحول و حکمرانی، مینجمنٹ اور لیڈرشپ، محنت و انصاف، روحانیت و تصوف؛ کوئی دائرہ ان کے علمی فیضان سے خالی نہیں۔ یہ علمی شمعیں بھی اِس بات کی گواہ ہیں کہ قلم کی عبادت اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہے۔