ماہ رمضان المبارک 1447ھ (2026ء) کے آخری عشرہ میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کے موضوع پر اخلاقی و روحانی خطابات ارشاد فرمائے۔ ان فکر انگیز اور روح پرور مجالس میں حضور نبی اکرم ﷺ کے اَخلاقِ کریمانہ کی روشنی میں ہمارے شخصی، خاندانی اور سماجی و معاشرتی رویوں کو سنوارنے کا لائحہ عمل نہایت عمدگی سے بیان کیا گیا۔
یہ تمام خطابات شیخ الاسلام کے فیس بُک پیج اور یوٹیوب چینل، منہاج ٹی وی اور ڈِسکور پاکستان پر براہِ راست نشر کیے گئے جنہیں منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ، مرکزی تعلیمی ادارہ جات، مراکزِ علم، ضلعی مراکز، نظام المدارس کے ہزاروں مدارس، ملک بھر کی مساجد اور بیرونِ ملک اسلامک سنٹرز میں لاکھوں افراد نے براہِ راست دیکھا۔ ان تربیتی خطابات کو رفقاء و کارکنان تحریک اور عامۃ الناس کی اکثریت نے اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ مل کر دیکھا تاکہ حضور نبی اکرم ﷺ کے اَخلاقِ کریمانہ کی روشنی میں وہ اپنی زندگیوں میں سکون اور معاشرے میں مَثبت اقدار کو فروغ دے سکیں۔ مجدد المئۃ الحاضرہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت کے یہ خطابات ان کی کتاب "اَلرَّوْضُ الْبَاسِم مِنْ خُلُقِ النَّبِيِّ الْخَاتِم ﷺ (حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ) میں مذکورہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہوئے۔
ان تمام روحانی و تربیتی نشستوں میں چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، خرم نواز گنڈاپور ناظم اعلی منہاج القرآن انٹرنیشنل، سی ای او ڈسکور پاکستان ڈاکٹر قیصر رفیق، صدر منہاج القرآن ویمن لیگ ڈاکٹر غزالہ قادری، محترمہ فضہ حسین قادری سمیت نائب ناظمین اعلیٰ، مرکزی سربراہان شعبہ جات و فورمز، علماء و مشائخ اور عامۃ الناس خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ذیل میں ان خطابات کے خلاصہ جات نذرِ قارئین ہیں:
1۔ 20ویں رمضان المبارک (10 مارچ 2026ء): پہلی نشست
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے “حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ” کے موضوع پر منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور پر منعقدہ پہلی اخلاقی و تربیتی مجلس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا عملی معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسان کو اعلیٰ اخلاق، کردار اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے، امّ المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے تاریخی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں کہا کہ یہ سیرتِ نبوی ﷺ کے بارے میں تاریخِ انسانیت کی اوّلین معتبر شہادت ہے۔ یہ محض تسلی کے الفاظ نہیں تھے بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے طویل مشاہدے پر مبنی ایک جامع گواہی تھی، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ کی کامیابی کا یقین سات اخلاقی اوصاف کی بنیاد پر ظاہر کیا، جن میں صلہ رحمی، سچائی، کمزوروں کی مدد، محتاجوں کی کفالت، مہمان نوازی اور حق کے راستے میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد شامل ہیں۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان دراصل سیرتِ محمدی ﷺ کا پہلا جامع تعارف ہے اور اگر سیرتِ طیبہ کو ایک کتاب سمجھا جائے تو یہ بیان اس کتاب کی ’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے، جس طرح قرآن مجید کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے اسی طرح سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سات جملے سیرتِ نبوی ﷺ کے بنیادی اخلاقی اصولوں کو واضح کرتے ہیں۔ سورۂ فاتحہ انسان کو انا پرستی سے نکال کر بندگی، عاجزی اور اجتماعیت کا درس دیتی ہے جبکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ اوصاف بھی ایسے ہیں جن کا تعلق دوسروں کی خدمت اور بھلائی سے ہے نہ کہ ذاتی مفاد سے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہے۔ جس طرح قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی ایک سورت پیش کر کے دکھائی جائے، اسی طرح حضور ﷺ کی چالیس سالہ سیرت اہلِ مکہ کے سامنے بطور دلیل پیش کی گئی۔ چودہ سو سے زائد برس گزرنے کے باوجود نہ قرآن کی مثل کوئی کلام پیش کیا جا سکا اور نہ ہی سیرتِ محمدی ﷺ جیسا کردار دنیا میں سامنے آ سکا، اللہ تعالیٰ نے اعلانِ نبوت سے پہلے چالیس برس تک حضور ﷺ کی سیرت کو بطور دلیل دنیا کے سامنے پیش کیا تاکہ جب دعوتِ توحید دی جائے تو لوگ اس کے پیچھے موجود کردار کی سچائی کو دیکھ سکیں۔ ان کے مطابق دعوت کی اصل قوت الفاظ نہیں بلکہ کردار کی سچائی ہوتی ہے۔
2۔ 21 رمضان المبارک (11 مارچ 2026ء): دوسری نشست
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن انٹرنیشنل سیکرٹریٹ پر منعقدہ اخلاقی و روحانی تربیتی مجالس کی دوسری نشست میں ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے موضوع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے مثالی نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہر عمل میں صبر، درگزر، محبت، خدمتِ خلق اور صلۂ رحمی کے عملی اسباق پیش کیے ہیں۔ جو شخص خدمت خلق میں مصروف ہو جائے، اسے کسی خیر سے محروم نہیں رکھتا، اسے عزت اور وقار دیتا ہے اور اسے دائمی و باطنی مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے داعیانِ دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم دین کی دعوت تو دیتے ہیں مگر اپنے کردار اور اخلاق سے اس کی عملی دلیل پیش نہیں کرتے۔ قرآن نے دعوت کا اصول واضح کیا ہے کہ لوگوں کو حکمت اور بہترین انداز میں اللہ کی راہ کی طرف بلایا جائے، اگر داعی کے لہجے میں نفرت، سختی اور بدتہذیبی ہو تو ایسی دعوت لوگوں کے دلوں میں اثر پیدا نہیں کرتی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی دعوت رحمت، محبت اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی، اسی لیے وہ دلوں کو فتح کرتی تھی۔
قرآن مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ معجزات ہیں۔ قرآن الفاظ کی صورت میں محفوظ ہے جبکہ سیرتِ مصطفی ﷺ عملی زندگی کی صورت میں انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے اور قیامت تک ہدایت کا کامل سرچشمہ رہے گی۔
سارے تصوف اور روحانیت کا خلاصہ فتوت ہے، اور فتوت کا نقطۂ کمال یہ ہے کہ انسان اپنی ذات، نفس اور انا کے دائرے سے باہر نکل کر مخلوقِ خدا کے لیے جیئے۔ جب بندہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے بندوں کی فکر کرتا ہے، اُن کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے تو وہ صفاتِ الہیہ کا مظہر بن جاتا ہے، ایسے شخص کو اللہ رب العزت رسوائی، بیچارگی اور بے توقیری سے بچاتا ہے اور اسے اللہ کی رحمت ہروقت سنبھالے رکھتی ہے۔ خدمت خلق اور انسانیت پروری سے انسان کا باطن مضبوط ہوتا ہے، جو لوگ دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی کا ذریعہ بنتے ہیں تو انہیں اللہ تعالیٰ باطن کی مضبوطی عطاء کرتا ہے۔
3۔ 22 رمضان المبارک (12 مارچ 2026ء): تیسری نشست
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے اخلاقی و روحانی تربیتی مجالس ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کی تیسری نشست سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اصحابِ کہف کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ چند نوجوان ظلم و جبر سے بچنے کے لیے اللہ کی رضا کے لیے غار میں پناہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک کتا بھی ہوتا ہے جو غار کے دروازے پر پہرہ دیتا ہے۔ شیخ الاسلام نے اس واقعہ سے اخلاقی سبق اخذ کیا کہ نیک لوگوں کی صحبت انسان کی زندگی بدل سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی نسبت سے ہر مخلوق کو عزت اور مقام عطا فرماتا ہے۔
انہوں نے صوفیاء کرام، خصوصاً حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے پالتو جانور اپنے مالک کے ساتھ وفادار رہتا ہے، اسی طرح انسان کو اپنے رب اور نیک لوگوں کے ساتھ وفاداری اور اخلاص اختیار کرنا چاہیے۔ جانور بھی بعض اوقات اخلاقی رویے اختیار کرتے ہیں، مثال کے طور پر مردار کے پاس جمع ہونے والے جانور ایک دوسرے کے حق کا خیال رکھتے ہیں، اور انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے دوسروں کے حقوق اور اخلاقی ذمہ داریوں کا شعور رکھنا چاہیے۔
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے صلۂ رحمی، رشتہ داروں کے حقوق اور معاشرتی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے محبت، رشتہ داروں کی مدد اور ان کی غلطیوں کو معاف کرنا انسان کی شخصیت کو سنورتا ہے اور معاشرتی برکت پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سچ بولنا، کمزوروں کی مدد، مہمان نوازی، نیکی میں تعاون اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا مسلمانوں کے لیے اخلاقی اصول ہیں۔ انسان میں انا، خود پسندی، ریا کاری، حسد اور تکبر جیسے قلبی و ذہنی مسائل کا علاج حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل، محاسبۂ نفس، عاجزی، اخلاص اور صالحین کی صحبت اختیار کرنا ہے۔
انہوں نے میاں بیوی کے حقوق اور خوشگوار ازدواجی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی، اور کہا کہ شادی میں محبت، احترام، افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری بنیادی اصول ہیں۔ بچوں کی تربیت میں والدین کے کردار پر زور دیتے ہوئے شیخ الاسلام نے کہا کہ والدین کی محبت، شفقت اور اعلیٰ اخلاق خاندان میں صحت مند معاشرتی نظام قائم کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاق، صلۂ رحمی، خدمتِ خلق، عاجزی اور اخلاص کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا انسان کی شخصیت کو سنورتا ہے اور معاشرہ بھی محبت، امن اور خیر خواہی کا گہوارہ بنتا ہے۔
4۔ 23 رمضان المبارک (13 مارچ 2026ء): چوتھی نشست
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے ان علمی و فکری مجالس کی چوتھی اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح قرآن مجید کے معانی و معارف کی کوئی حد نہیں اسی طرح حدیثِ نبوی بھی ایک بحرِ بیکراں ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ انسان کس قدر گہرائی کے ساتھ اس کے اندر اترتا ہے۔
حدیثِ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی روشنی میں سیرت النبی ﷺ پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے صلہ رحمی کرتے ہیں۔ صلۂ رحمی کے لسانی، سماجی، اخلاقی، نفسیاتی اور عملی پہلوؤں کے علاوہ اس کے روحانی اور باطنی معانی بھی ہیں۔ صلۂ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان نہ صرف خونی رشتوں کو مضبوط کرے بلکہ معاشرے میں محبت اور تعلقات کو بھی مضبوط بنائے، رحم کا بنیادی معنی ماں کا رحم ہے جہاں سے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کے اندر بھی مختلف قوتیں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں جیسے سماعت، بصارت، حافظہ، جذبات اور مختلف میلانات۔ یہ سب ایک ہی اصل سے پیدا ہوتے ہیں لیکن زندگی کے مختلف مراحل میں بکھر جاتے ہیں۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کا کمال یہ ہے کہ آپ نہ صرف لوگوں کے درمیان ظاہری تعلقات کو جوڑتے ہیں بلکہ انسان کے باطن اور اندرونی دنیا کو بھی یکجا کر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ کی نگاہِ نبوت انسان کے بکھرے ہوئے باطن کو بھی ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہے۔
آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ظاہر میں تو ایک نظر آتا ہے مگر باطن میں منتشر ہے۔ آنکھ کچھ اور دیکھنا چاہتی ہے، کان کچھ اور سننا چاہتے ہیں، دل کسی اور طرف مائل ہوتا ہے اور ذہن کسی اور سمت میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ یہ باطنی انتشار دراصل روحانی کمزوری کی علامت ہے۔
حقیقی صلۂ رحمی یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود تمام قوتیں، رجحانات اور خواہشات ایک مرکز پر جمع ہو جائیں اور وہ مرکز اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ جب انسان کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور عقل، دل اور نفس سب اسی مقصد کے تابع ہو جائیں تو انسان کے اندر وحدت پیدا ہو جاتی ہے، حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اس وحدتِ باطن کی کامل مثال ہے۔ آپ ﷺ کی خواہشات، ترجیحات، محبت، خوف اور امید سب کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی۔ اسی لیے آپ ﷺ کی ذات مبارکہ ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے کامل ہم آہنگی کا نمونہ ہے۔ جب انسان کے دل و دماغ میں یہ وحدت پیدا ہو جائے تو اس کی سماعت، بصارت، عقل اور نفس سب اللہ کی اطاعت کے تابع ہو جاتے ہیں اور اس کی پوری باطنی دنیا اللہ کی عبادت اور اطاعت کی گواہی دینے لگتی ہے۔
5۔ 24 رمضان المبارک (14مارچ2026ء): پانچویں نشست
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پانجویں اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی باطنی اور روحانی زندگی کی اصل بنیاد رحمت، محبت اور شفقت ہے، اور رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ان اوصاف کا کامل مظہر ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو سکھایا کہ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنی اندرونی دنیا کو رحمت اور محبت کے رشتے سے جوڑ لے۔ لفظ ’’رحم‘‘ اور ’’رحمت‘‘ کا مفہوم صرف ظاہری مہربانی نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور انسان کے اندر موجود انتشار کو ختم کرنے کا نام ہے۔ انسان کی باطنی دنیا میں اکثر تضادات اور کشمکش پیدا ہو جاتی ہے۔ خواہشات، جذبات اور مختلف رجحانات آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ ان تمام متضاد قوتوں کو ایک مرکز پر جمع کرنا اور انہیں محبت و شفقت کے رشتے میں باندھنا دراصل رحمت کا عملی مظہر ہے۔
انسان کے اندر جتنا زیادہ غصہ، سختی اور نفرت ہوگی، اتنا ہی وہ رحمت کے سرچشمے سے دور ہوتا جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے غصے کو ٹھنڈک میں، نفرت کو محبت میں اور سختی کو نرمی میں بدل دے۔ یہ عمل خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے محاسبۂ نفس اور مراقبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک انسان اپنی زبان، لہجے اور طبیعت کو نرم نہیں کرتا، اس وقت تک وہ وحدت اور محبت کے نتائج حاصل نہیں کر سکتا، اگر انسان کی اندرونی قوتیں اپنے اصل مرکز یعنی رحمت سے کٹ جائیں تو معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے کے مختلف طبقات—علما، اساتذہ، قائدین اور کارکن اکثر انا اور نفس پرستی کا شکار ہو کر ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ جب دل رحمت کے مرکز سے کٹ جاتا ہے تو زبان دوسروں کے دل زخمی کرنے لگتی ہے اور انسان مکر و فریب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف سورۃ الفاتحہ میں ’’الرحمن الرحیم‘‘ کے الفاظ سے کروایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے وجود میں اللہ کے ساتھ تعلق کی جو صلاحیت رکھی گئی ہے وہ بھی رحمت پر مبنی ہے۔ جب انسان اللہ سے جڑ جاتا ہے تو اس کے اندر وحدت پیدا ہو جاتی ہے اور شرک و انتشار ختم ہو جاتا ہے، انسان کے باطن میں تین بنیادی عناصر ہیں: نفس، قلب اور عقل۔ جب یہ تینوں ایک مضبوط رشتے میں جڑ جائیں تو انسان کی شخصیت مضبوط ہو جاتی ہے اور بیرونی فتنوں کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ لیکن جب یہ باطنی رشتہ کمزور ہو جائے تو بیرونی عوامل انسان کو آسانی سے متاثر کر لیتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج ہماری معاشرتی اور مذہبی زندگی میں اتحاد کی وہ کیفیت نہیں رہی جو ہونی چاہیے۔ دنیا کے موجودہ حالات میں ہر طرف انتشار اور آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی حالات کو شاید ہم فوری طور پر تبدیل نہ کر سکیں، لیکن کم از کم ہمیں اپنی اندرونی اصلاح ضرور کرنی چاہیے۔ جب انسان کے اندر صلہ رحمی اور خیر پیدا ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
ہر انسان کے اندر خیر اور بھلائی کا ایک سرچشمہ ہے۔ دنیاوی خواہشات اور نفسانی تقاضے اس سرچشمے کو خشک کر دیتے ہیں۔ اس لیے انسان کو اپنے باطن کی طرف لوٹنا ہوگا اور اسے دوبارہ زندہ کرنا ہوگا تاکہ خیر اور محبت کی بارش نصیب ہو، جب انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہوتا ہے اور اپنے اندر کی حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو یہی بیداری اس کے روحانی سفر کی ابتدا بن جاتی ہے۔ صلہ رحمی صرف ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ نفس انسان کو بار بار اپنی طرف کھینچتا ہے، دنیا اپنی طرف بلاتی ہے، مگر سالک کو ہر مرتبہ اپنے قبلہ کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔
جیسے کوئی شخص لاہور سے کراچی سفر کرنا چاہے تو اسے درمیان کے تمام اسٹیشنوں سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح روحانی سفر بھی مرحلہ وار طے ہوتا ہے۔ جب انسان کے رشتے منقطع ہو جاتے ہیں تو وہ روحانی طور پر مردہ ہو جاتا ہے، اور جب اللہ سے جڑ جاتا ہے تو دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ آج ہماری ترجیحات الٹ گئی ہیں۔ جس چیز کو مقدم ہونا چاہیے تھا اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ نفس کو نیچے ہونا چاہیے تھا مگر اسے تخت پر بٹھا دیا گیا ہے اور دل کو قید کر دیا گیا ہے۔ اصل ترتیب یہ ہے کہ دل مرکز بنے، عقل اس کی معاون ہو اور نفس تابع ہو۔ جب یہ ترتیب درست ہو جاتی ہے تو انسان کے اندر نرمی، محبت اور ذکرِ الٰہی کی دائمی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
6۔ 25 رمضان المبارک (15 مارچ2026ء): چھٹی نشست
منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ پر رمضان المبارک کے عشرۂ اخیرہ میں ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ چھٹی اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو انسانیت کے لئے کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ کی مبارک حیاتِ طیبہ سچائی، امانت، رحم، محبت اور اعلیٰ اخلاق کا ایسا عملی نمونہ ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مشہور حدیثِ خدیجہ میں ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی جن عظیم صفات کا ذکر کیا، ان میں ایک بنیادی وصف ’’صدق الحدیث‘‘ یعنی ہمیشہ سچ بولنا ہے۔ شیخ الاسلام نے واضح کیا کہ سچ بولنا اور بات ہے جبکہ سچائی کا پیکر بن جانا ایک بلند تر مقام ہے، صداقت محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری شخصیت کا مرکز ہے۔ صدق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ظاہر و باطن، دل و دماغ اور زبان و عمل میں کوئی تضاد باقی نہ رہے۔ جب انسان کی شخصیت کے تمام پہلو ایک ہی حقیقت یعنی سچائی پر جمع ہو جائیں تو اسے حقیقی صداقت کہا جاتا ہے۔
دینِ اسلام میں روحانیت کی بنیاد مقامِ صدق ہے۔ نیکی، خیر، اخلاص اور تمام اخلاقی خوبیاں اسی سرچشمۂ صدق سے پھوٹتی ہیں۔ اگر انسان جھوٹ کا عادی ہو تو اس کی دیگر نیکیاں بھی اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔ اس لئے اخلاقیات کا مسلمہ اصول ہے کہ سچائی تمام نیکیوں کی جڑ ہے، جو شخص ہمیشہ سچ بولتا ہے اور جھوٹ سے مکمل اجتناب کرتا ہے، اس کی شخصیت میں تضاد ختم ہو جاتا ہے اور وہ سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفت الحق کا مظہر بننے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ انسان کے اندر بے سکونی، اضطراب اور تضاد پیدا کر دیتا ہے۔
سماجیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اعتماد (Trust) کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا سوشل کیپیٹل ہوتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس کی روشن مثال ہے کہ اعلانِ نبوت سے پہلے ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو صادق و امین کے لقب سے یاد کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی سچائی اور امانت داری پر سب کو مکمل اعتماد تھا۔ انسانی دماغ کی فطری ساخت سچ بولنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ سچ بولنے سے دماغ پر کم دباؤ پڑتا ہے جبکہ جھوٹ بولنے کے لیے دماغ کو اضافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ جھوٹ بولنے والا شخص پہلے اصل حقیقت کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، پھر ایک نئی کہانی گھڑتا ہے اور اسے یاد رکھنے کے لیے مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ذہنی تناؤ بڑھتا ہے، اعصاب متاثر ہوتے ہیں اور انسان کی توجہ اور سکون ختم ہو جاتا ہے۔
سچائی انسان کو اندرونی سکون اور اعتماد عطا کرتی ہے جبکہ جھوٹ انسان کو ذہنی انتشار اور بے چینی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچائی کو سکون اور نجات کا راستہ قرار دیا ہے، جو شخص ظاہر و باطن میں سچائی کو اختیار کر لیتا ہے وہ نفسیاتی دباؤ سے آزاد ہو کر مضبوط اور بااعتماد شخصیت بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور معاشرے میں اعتماد اور استحکام پیدا کرتے ہیں۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے امت کو واضح ہدایت فرمائی کہ ہمیشہ سچ بولو اور سچائی کو اپنی زندگی کا شعار بناؤ۔ جب انسان کی فکر، نیت، قول اور عمل سب سچائی پر قائم ہو جائیں تو وہ صدیقین کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص جھوٹ کو اپنا معمول بنا لے، وہ اللہ کے نزدیک کذاب شمار ہوتا ہے، مسلمان اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سچائی کو اپنائیں تاکہ ان کی شخصیت میں ظاہر و باطن کا تضاد ختم ہو اور وہ سیرتِ مصطفوی ﷺ کی حقیقی پیروی کرتے ہوئے ایک صالح اور بااعتماد معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
7۔ 26 رمضان المبارک (16 مارچ 2026ء) ساتویں نشست (عالمی روحانی اجتماع)
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ پر منعقدہ 27ویں شبِ رمضان المبارک کے سالانہ عالمی روحانی اجتماع سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے نزولِ وحی کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کی جن صفاتِ عالیہ کا ذکر کیا، وہ درحقیقت انسانی تاریخ میں سیرتِ نبوی ﷺ کا پہلا جامع تعارف ہے۔ ان میں سے ایک بنیادی وصف صدق الحدیث ہے، یعنی حضور نبی اکرم ﷺ کا ظاہر و باطن سراپا سچائی ہونا۔ جس طرح قرآنِ مجید کے معانی کی کوئی حد نہیں ہے، کوئی جتنا اِس میں ڈوبتا جائے گا نئے سے نئے معانی اُس پر عیاں ہوتے جائیں گے، اِسی طرح سیرتِ نبوی اور نبوتِ محمدی ﷺ کے اتنے درجات ہیں کہ جو جتنا اِس میں غوطہ زن ہوگا اُس پر اُتنے ہی معانی و مفاہیم کُھلتے جائیں گے۔
حدیثِ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک پہلو 'صدق' بیان ہوا ہے، جس کا سادہ معنیٰ ہے سچ۔ سچ بولنا ایک بات ہے اور سچا ہونا اور بات ہے، رسول اللہ ﷺ سر تا پا سچائی کا پیکر ہیں۔ ہم تمام تر نقائص اور خرابیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ جو شخص خرابی کی اصل وجہ اپنے اندر تلاش کرتا ہے، وہ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن جو ہر خرابی دوسروں میں ڈھونڈتا رہے، اس کے لیے اپنے نفس کی اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ صداقت محض ایک اخلاقی خوبی نہیں ہے، بلکہ جب انسانی وجود کے ظاہر اور باطن کے تمام گوشے ایک حق و صداقت کے مرکز پر جمع ہو جائیں تو یہ کیفیت سچائی بنتی ہے۔
دینِ اسلام میں نیت، اخلاص، روحانیت اور تمام اعمالِ صالحہ کی بنیاد صدق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ، خیر، روحانیت اور طہارت سمیت ہر بھلائی کی جڑ صدق ہی سے پھوٹتی ہے اور اسی سے انسانی کردار میں حقیقی پاکیزگی اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔ وجودِ انسانی میں ہر اچھائی صداقت سے پھوٹتی ہے۔ جو شخص ہمیشہ سچ بولتا ہے اس کی طبیعت میں تضاد ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفتِ حق اس کی شخصیت میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ سچائی تمام نیکیوں کی جڑ ہے، جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کی کوئی نیکی اثر پذیر نہیں ہوتی۔ ہماری عبادات بھی اسی لیے بےاثر رہتی ہیں کیونکہ شخصیت میں صداقت کی کیفیت قائم نہیں ہے۔ جو شخص زبان کا سچا ہو اس کا ضمیر بیدار رہتا ہے اور اسے معاشرتی وقار حاصل ہوتا ہے۔ سچ جس طرح دنیاوی فوائد کا باعث ہے، اسی طرح روحانی ثمرات بھی عطاء کرتا ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ محبت اور عبادت میں سکون کا لاتا ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق انسانی دماغ کی فطری حالت سچائی پر مبنی ہے۔ فطرت نے انسان کیلئے سچ کو آسان بنایا ہے جبکہ جھوٹ بولنے پر دماغ کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ ٹربل کا شکار ہوتا ہے، جس سے اس کی صلاحیتوں میں کمی آتی ہے۔
سچ بولنا انسانی دماغ اور باطن کو راحت عطاء کرتا ہے، جبکہ جھوٹا شخص روحانی اور باطنی سکون سے ہمیشہ محروم رہتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے شخص کی تمام صلاحیتیں سچ چھپانے میں صرف ہو جاتی ہیں۔ سچائی ذہنی و جسمانی تناؤ سے نجات دیتی ہے، اور روحانی و قلبی سکون عطاء کرتی ہے۔ اندرونی راحت کا حامل شخص ناقابل قابلِ تسخیر ہوتا ہے۔ جبکہ جھوٹ شخصیت میں تضادات لاتا ہے، یہ تضادات انسان کو ناکامیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور مستقل صداقت کی کیفیت میں رہنے والا شخص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ہاں سچا (صدیق) لکھا جاتا ہے۔
سچائی صرف زبان سے سچ بولنے تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری شخصیت، نیت، ارادے، عمل، معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی کا ہونا ضروری ہے۔ جب انسان کے قول، نیت، ارادہ، وعدہ، عمل اور معاملات سب سچائی پر قائم ہوں تو اسے حقیقی معنیٰ میں صدق حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی اخلاقیات میں سچائی کی متعدد جہات ہیں جن میں صدق القول (بات کی سچائی)، صدق النیۃ (نیت کی سچائی)، صدق العزم (ارادے کی سچائی)، صدق الوفا (وعدہ کی پاسداری)، صدق العمل (عمل میں اخلاص) اور صدق المعاملہ (معاملات میں دیانت) شامل ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کے بغیر کامل سچائی حاصل نہیں ہو سکتی۔
قرآن مجید نے سچائی کے مقام کو نہایت بلند قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ رہو، کیونکہ سچوں کی صحبت انسان کو بھی سچائی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کے دن صرف سچائی ہی انسان کے کام آئے گی، اور ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے واضح کر دیے جائیں گے۔ صدق محض وقتی سچ نہیں ہے بلکہ، کامل سچائی یہ ہے کہ انسان کا دل بھی سچ بولے، انسان کا نفس بھی سچ بولے، انسان کے باطن بھی سچ بولے۔ جیسے اُس کا ظاہر تمام کا تمام سچ بولتا ہے ایسے اُس کا باطن بھی سچ کا آئنہ دار ہو۔ آنکھ کی سچائی یہ ہے کہ وہ کائنات میں جس چیز کو دیکھیں اُس سے عبرت حاصل کرے۔ آنکھوں کی بصارت اگر بصیرت بن جائے تو یہ آنکھوں کی سچائی ہے۔ کانوں کی سچائی یہ ہے کہ وہ صرف حق کی آواز سنیں اور باطل کی بات کو قبول نہ کریں۔ عقل کی سچائی یہ ہے کہ وہ جب آپ کو گائیڈ کرے تو وہ دھوکے سے پاک ہوکر آپ کو رائے دے۔ دل کی سچائی یہ ہے کہ جب وہ دوسرے کے متعلق فیصلہ کرے تو کدورت، نفرت اور حقارت و بغض کے جذبات سے خالی ہو۔ نیت کی سچائی یہ ہے کہ انسان کے عمل کا ظاہرا اور باطن یکساں ہو، انسان کی نیت اُسی طرح سچی ہو جیسے اس کا عمل دیکھنے میں نظر آ رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب معاشرے کی فضا صدق، امانت اور پاکیزہ کردار سے معطّر تھی۔ آج زمانے کی رفتار نے ہمیں اُن درخشاں اَقدار سے بہت دُور اور بہت نیچے لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ اب اُن عظیم قدروں کی صرف مدھم سی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ معاملات میں سچائی یہ ہے کہ ہر معاملے کی بنیاد سچائی، شفافیت اور ایمانداری پر ہونی چاہیے۔ ہر لین دین میں صداقت کا ہونا لازمی ہے، اور دھوکہ، فریب یا جعل سازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ سچوں اور سچائی سے محبت فرماتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی صرف اَخلاقیات کا ایک چیپٹر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوبیت کا مضمون ہے۔ سچ بولنے کا عمل انسان کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا محبوب بنا دیتا ہے۔ کوئی نیکی یا گناہ چھوٹا اور معمولی نہیں ہے۔ چھوٹی سی دیانت بھی محفوظ ہے اور چھوٹی سی خیانت بھی محفوظ ہے۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔
جھوٹ انسان کے اندر بہت سی سوچوں سے جنم لیتا ہے۔ سب سے پہلا جھوٹ یہ ہے کہ انسان خود کو وہ سمجھتا ہے جو وہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہی سے جھوٹ کی ابتداء ہو جاتی ہے۔ سچی عقل وہ ہے جو یہ سمجھے کہ میں ناکافی ہوں، کافی وہ فرمان ہے جو اللہ اور اُس کے رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ جو عقل وحئ الٰہی کے سامنے جھک جائے اور اللہ تعالیٰ کے نبی کے فرمان کے آگے جھک جائے وہ عقل سچی ہے۔ عقل عیّار اور نفس مکّار ہے، اور ہماری زندگی ان دونوں کشتیوں میں سوار ہے۔ نفس اپنے ہر عیب کو سنوار کر پیش کرتا ہے اور عقل اکثر اسے تصدیق دے دیتی ہے۔ ان دونوں کے مکر و فریب سے نجات پانا ضروری ہے۔
شیخ الاسلام نے موجودہ دور کے اخلاقی انحطاط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں نفس کی مکاریاں اور عقل کی عیاریاں انسانی زندگی پر غالب آ چکی ہیں، جس کے باعث سچائی اور دیانت جیسی اقدار کمزور ہو رہی ہیں۔ امّت مسلمہ کو سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی لے کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سچائی کو فروغ دینا ہوگا، قیامت کے دن انسان کے اعمال کا حساب اتنی باریکی سے ہوگا کہ زمین، اعضاء اور انسان کا پورا وجود اس کے اعمال کی گواہی دے گا۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ دنیا کی عارضی کامیابی کے بجائے آخرت کی دائمی کامیابی کو اپنا معیار بنائے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان اپنی شخصیت کو اس قدر سچائی سے مزین کرے کہ لوگ اسے دیکھ کر سچائی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی محبت، قربِ الٰہی اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
ó لیلۃ القدر کی مناسب سے 27ویں شبِ رمضان المبارک کو منعقدہ اس عالمی روحانی اجتماع کے آغاز میں عظیم الشان محفلِ حسنِ قرأت و نعت بھی منعقد ہوئی جن میں قراء اور نعت خواں حضرات نے ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ اس عالمی روحانی اجتماع میں ڈاکٹر محمد فاروق رانا نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور شیخ حمادمصطفی مدنی القادری کی منظرِ عام پر آنے والی کتب کا تعارف پیش کیا۔ نظامتِ ایجوکیشنل اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (EPD) اورنظامتِ تربیت کے سکالرز نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، منہاج القرآن انٹرنیشنل یوکے کے سینئر بانی راہنما حاجی عبدالغفور قادری، ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرم نواز گنڈاپور، صدر منہاج القرآن ویمن لیگ انٹرنیشنل ڈاکٹر غزالہ قادری، محترمہ فضہ حسین قادری، نائب ناظمین اعلیٰ تحریک، علمائے کرام و مشائخ عظام اور مرکزی قائدین تحریک منہاج القرآن و جملہ فورمز سمیت کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔