احسان اور اخلاص کی حقیقت

ڈاکٹر محمد اقبال چشتی

قرآنِ کریم کا اعلان محض ایک تسلی نہیں بلکہ ایک اَٹل الٰہی قانون ہے، جو اس کائنات کے اخلاقی و روحانی نظام کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قدر و قیمت عمل کی کثرت یا ظاہری چمک کی نہیں بلکہ احسان اور اخلاص کی ہے۔ مُحسن وہ ہے جو ہر عمل اس شعور کے ساتھ انجام دے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ مقام نصیب نہ ہو تو کم از کم یہ یقین اس کے دل میں زندہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیکھ رہا ہے۔ یہی کیفیتِ احسان بندے کے عمل کو وزن، روح اور دوام عطا کرتی ہے۔

مُحسنین کون لوگ ہیں؟

اسلامی تناظر میں مُحسنین سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی کو کسی صلہ، شہرت یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ خالصتًا رضائے الٰہی کے لیے انجام دیتے ہیں۔ ان کی عبادت خاموش ہوتی ہے، خدمت بے آواز ہوتی ہے اور قربانی بے نمائش۔ ایسے لوگ معاشرے میں چراغ کی مانند ہوتے ہیں؛ خود کو موم بتی کی مانند جَلا کر دوسروں کو روشنی فراہم کرتے ہیں مگر اپنی روشنی کا اعلان نہیں کرتے۔ قرآن مجید نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا، چاہے دنیا انہیں پہچانے یا نہ پہچانے، کیونکہ ان کا معاملہ لوگوں سے نہیں بلکہ ربِّ کریم سے ہوتا ہے۔

اس کے برعکس جو لوگ دکھاوے کے لیے عمل کرتے ہیں، جن کا مقصد لوگوں سے تعریف و داد کا حصول اور سماجی پہچان ہوتا ہے، وہ اخلاص کے اس مقام سے محروم رہتے ہیں۔ ریاکاری عمل کو کھوکھلا کر دیتی ہے؛ بظاہر نیکی ہوتی ہے مگر باطن میں نیت کی خرابی اور ریاء کاری اُسے بے وزن بنا دیتی ہے۔ ایسے اعمال نہ احسان کے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور نہ ہی اخلاص کی خوشبو رکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ محسنین اور مخلصین کی صف میں شامل نہیں ہوتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا معیار نیت ہے، نمائش نہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ.

(التوبہ، 9: 120)

’’بے شک اللہ نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں فرماتا۔ ‘‘

یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بندہ اگر خاموشی سے نیکی کرے، اگر نیکی کرنے والے کا دل اللہ کے حضور جھکا ہوا ہو اور اس کی نیت پاکیزہ ہو، تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ دنیا میں شاید اس کے عمل کا چرچا نہ ہو، مگر آخرت میں وہ عمل نور بن کر سامنے آئے گا۔

پس حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کو اخلاص کے سانچے میں ڈھالے، دکھاوے سے بچے، اور احسان کے اس درجے کو حاصل کرے جہاں عمل صرف اللہ کے لیے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ محسنین اور مخلصین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔

مذکورہ بالا آیت کی آفاقی وسعت دیکھیں کہ پورے قرآن میں یہ آیت تین مرتبہ ذکر کی گئی ہے۔ (1) سورۃ توبہ، آیت نمبر 120، (2) سورۃ ھود، آیت نمبر: 115، (3) سورۃ یوسف، آیت نمبر: 90۔ یعنی قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر یہ فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی اِحسان کرنے والے کا اَجر ضائع نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا

محسنین وہ لوگ ہیں جنہوں نے جو بھی نیکی کا کام کیا اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوقِ خدا سے کوئی اَجر، صلہ، معاوضہ یا انعام طلب کرنے کی خواہش نہ رکھی۔ مثال کے طور پر امام بخاریؒ کا نام اگر آج بھی دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر دینِ متین کے ساتھ مخلص اور مُحسن تھے۔ اگر علم الحدیث کی بات ہوگی تو امام بخاریؒ کا ذکر کیے بغیر یہ بات مکمل نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ اُنہوں نے مختلف ممالک کے طول وعرض میں جا کر نبی اکرم ﷺ کی اَحادیث جمع کیں اور یہ کارنامہ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے محض اِخلاص اور نیکی کے حصول کی خاطر کیا۔ اُن کے اِخلاس کی قدرو قیمت یہ ہے کہ آج بھی ان کانام علم الحدیث کے تناظر میں زندہ ہے اور ہمیشہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔

امام مالکؒ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آپ ’’موطأ‘‘تصنیف فرما رہے ہیں جبکہ اسی طرز پر اور لوگ بھی کتابیں لکھ چکے ہیں، تو آپؒ نے نہایت بصیرت افروز جواب دیا کہ اصل بقا ءتعداد، شہرت یا اسلوب میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہوتی ہے۔ آپؒ کے نزدیک وہی علمی کاوش زندہ رہتی ہے جو خالصتًا اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، کیونکہ علم اگر نیت کی آمیزش سے پاک نہ ہو تو وقت کی گرد میں گم ہو جاتا ہے۔ امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا:

مَا كَانَ لِلَّهِ بَقِيَ.

(صنعانی، محمد بن اسماعیل، توضیح الافکار، جلد1، ص 49)

’’جو کام اللہ تعالیٰ کے لیے (اِخلاص اور اِحسان کے ساتھ کیا گیا) ہو، وہی باقی رہتا ہے۔

یہ مختصر مگر جامع جملہ امام مالکؒ کے علمی منہج اور فکر کا نچوڑ ہے، اور اسی اخلاص نے آپ کی تالیف کردہ کتاب ’’موطأ ‘‘ کو زندہ وجاوید بنا دیا۔

تاریخ نے امام مالکؒ کے اس اصول کی تصدیق کر دی کہ صدیاں گزرنے کے باوجود موطأ امام مالک آج بھی امت کے علمی ورثے میں زندہ، معتبر اور مقبول ہے، اور یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اخلاص علم کو دوام عطا کرتا ہے۔

اِسی طرح ہمارے اسلاف علماء و محدثین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اُنہوں نے کس عرق ریزی کے ساتھ دینِ متین کی خدمت کی اور اللہ تعالیٰ کے دین کے ساتھ مخلص و محسن بن کر رہے اور آج بھی اُن کا نام زندہ وتابندہ ہے اور قیامت تک روشن رہے گا۔

اللہ کے نزدیک تقوی، اخلاص اور نیت کی حقیقت

اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال کی قدر و قیمت اُن کی ظاہری شکل یا کثرت سے نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاص اور نیت کی سچائی سے متعین ہوتی ہے۔ جو عمل صرف دکھاوے، شہرت یا لوگوں کی داد کے لیے کیا جائے وہ بظاہر نیکی ہونے کے باوجود اللہ کے ہاں وزن نہیں رکھتا، جبکہ خالص نیت اور تقویٰ کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا عمل بھی قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے۔ اسی لیے اسلام انسان کو ظاہر کی اصلاح کے ساتھ باطن کی پاکیزگی کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ اللہ دلوں کے حال کو جانتا ہے اور وہی نیت کے مطابق اعمال کو قبول فرماتا ہے۔ امام بغوی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا﴾ قَالَ مُقَاتِلٌ: لَنْ يُرْفَعَ إِلَى اللَّهِ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا، ﴿وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ﴾، وَلَكِنْ تُرْفَعُ إِلَيْهِ مِنْكُمُ الْأَعْمَالُ الصَّالِحَةُ وَالتَّقْوَى وَالْإِخْلَاصُ، مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ.

(بغوی، معالم التنزیل، جلد 3، ص 289)

’’اللہ تک نہ اُن (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اُن کا خون۔ امام مقاتلؒ فرماتے ہیں: اللہ کی طرف نہ اُن کا گوشت اٹھایا جاتا ہے اور نہ اُن کا خون، ’’بلکہ تمہارا تقویٰ اُس تک پہنچتا ہے‘‘ یعنی تمہاری طرف سے اللہ کے حضور نیک اعمال، تقویٰ اور اخلاص پہنچتے ہیں، وہ اعمال جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے ہوں۔ ‘‘

اسی طرح اگر اخلاص اور احسان کی مزید بات کی جائے اور حدیثِ نبوی کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جو عمل اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے صرف کیا جائے اُس کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، إِنِّي أَتَصَدَّقُ بِالشَّيْءِ، وَأَصْنَعُ الشَّيْءَ، أُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَثَنَاءَ النَّاسِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ شَيْئًا شُورِكَ فِيهِ.

(قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد15، ص 233)

’’یا رسول ﷺ! بے شک میں جب بھی کوئی صدقہ کرتا ہوں یا کوئی نیک عمل انجام دیتا ہوں، اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا بھی چاہتا ہوں اور لوگوں کی تعریف بھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے عمل کو قبول نہیں کرتا جس میں (اللہ کے ساتھ) کسی اور کو شریک کیا جائے۔ ‘‘

ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!

إنَّا لَنَعْمَلُ الْعَمَلَ نُريْدُ بهِ وَجْهَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُثْنَى بِهِ عَلَيْنَا فَيُعْجِبُنَا ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ لَا يَقْبَلُ مَا شُوْرِكَ فِيْهِ.

(ابو الحسن مقاتل بن سلیمان، تفسیر القرآن، جلد2، ص 304)

’’بے شک ہم ضرور جب کوئی نیک عمل کرتے ہیں، اس میں اللہ عزوجل کی رضا چاہتے ہیں، پھر اُس عمل پر لوگ ہماری تعریف بھی کرتے ہیں اور وہ تعریف ہمیں اچھی لگتی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، وہ ایسے عمل کو قبول نہیں کرتا جس میں (اس کی رضا کے ساتھ) کسی اور کو شریک کیا گیا ہو۔ ‘‘

امام سلمی لکھتے ہیں:

العمل الصالح ما أريد به وجه الله لا غير والأجر الحسن.... وقال بعضهم من ربط عمله بالإخلاص صلح عمله ومن صلح فله عند الله أجر حسن.

(سلمی، تفسیر السلمی، جلد1، ص 400)

’’نیک عمل وہی ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اور اسی پر اچھا اجر ملتا ہے۔ اور بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ جس شخص نے اپنے عمل کو اخلاص کے ساتھ جوڑ دیا، اس کا عمل درست ہو گیا، اور جس کا عمل درست ہو گیا، اس کے لیے اللہ کے ہاں بہترین اجر ہے۔ ‘‘

کسی بھی عمل کی قبولیت کا مدار اخلاص پر مبنی ہے

کسی بھی عمل کی قبولیت کا اصل دار و مدار اس کی ظاہری صورت یا کثرت پر نہیں بلکہ اخلاص پر ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال اور نیتوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ جو عمل صرف اسی کی رضا کے لیے کیا جائے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں وزن اور قدر پا لیتا ہے، جبکہ دکھاوے، شہرت یا دنیاوی مفاد کی آمیزش عمل کو بے اثر بنا دیتی ہے۔ اسلام انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ نیکی کی روح اخلاص ہے، اور یہی اخلاص عمل کو زندہ، بابرکت اور قابلِ قبول بناتا ہے، کیونکہ اللہ کے نزدیک وہی عمل معتبر ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ، وَأَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ إِيمَانَهُ.

(طبرانی، المعجم الکبیر، جلد20، ص 188، رقم: 412)

’’جس نے اللہ کی رضا کے لیے کسی کو کوئی چیز دی، اور اللہ کے لیے کسی سے کچھ روکا، اور اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے کسی کے ساتھ بغض رکھا، تو ضرور اُس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ ‘‘

اس حدیث کے تناظر میں دیکھا جائے تو تمام دین اخلاص و احسان پر مبنی ہے۔ اگر کوئی اس میں ریاء کاری یا نمود و نمائش کرتا ہے تو وہ نیکی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور اُسے معلوم بھی نہیں ہوتا۔

دورِ جدید میں دکھاوا اور نمائش

دورِ جدید میں عبادات، خیرات اور نیکی کے اعمال کو سوشل تشہیر اور ذاتی نمائش کا ذریعہ بنا دینا ایک خطرناک فکری اور روحانی بیماری بنتا جا رہا ہے، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں ریاء کاری، دکھاوا اور نمائش کو صریح گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نیکی کو اس کی ظاہری نمائش سے نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی سے پرکھتا ہے، کیونکہ جو عمل اللہ کے سوا کسی اور کو راضی کرنے کے لیے کیا جائے وہ ثواب کے بجائے وبال بن جاتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مومن کا شعار یہ ہے کہ وہ نیک عمل کرتے وقت اخلاص کو بنیاد بنائے اور احسان کے درجے پر فائز ہونے کی کوشش کرے، یعنی اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے نہ کہ لوگوں کی داد و تحسین کو۔ اس لیے حقیقی دینداری اسی میں ہے کہ نیکی خاموشی، عاجزی اور خلوص کے ساتھ کی جائے، کیونکہ اللہ وہ عمل قبول فرماتا ہے جو دکھاوے سے پاک اور صرف اسی کے لیے ہو۔

آج کل بہت سارے پیر، بہت سارے علماء اور مفتیان دکھاوے کے ساتھ لوگوں کے سامنے آتے ہیں اور باتیں تصوف و روحانیت کی کرتے ہیں جبکہ اُن کے قول و فعل میں خود تضاد نظر آرہا ہوتا ہے۔

قرآنی وعدہ اور حیاتِ ایمانی

قرآنِ کریم کا یہ بلیغ اعلان کہ ’’بیشک اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ ایک ایسا ابدی اصول ہے جو ایمان، عمل اور اخلاق تینوں کو یکجا کر دیتا ہے۔ یہ آیت بندۂ مؤمن کو یقین عطا کرتی ہے کہ اس کی محنت، قربانی اور نیکی خواہ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہی کیوں نہ ہو، ربِ کریم کے ہاں محفوظ ہے اور ضائع نہیں ہو سکتی۔

اسلام میں احسان محض ظاہری عبادت کا نام نہیں بلکہ باطن کی کیفیت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے احسان کی تعریف یوں فرمائی: ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ یہی احساس بندے کے اعمال کو زندہ، بامقصد اور بابرکت بنا دیتا ہے۔ محسن وہ ہے جو ہر نیکی میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھے، نہ کہ اپنی نمائش کو۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر عمل کی روح اخلاص ہے۔ نیت اگر خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے اور اگر نیت خراب ہو تو بڑا عمل بھی بے وزن رہ جاتا ہے۔ مخلص بندہ تعریف و تحسین کا محتاج نہیں ہوتا؛ اسے یہ یقین کافی ہوتا ہے کہ اللہ اس کے عمل کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ یہی اخلاص محسنین کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر محسنین کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے، ان کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور ان کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ محسنین کی نیکی وقتی نہیں ہوتی بلکہ مستقل ہوتی ہے، اور ان کا اجر محض دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی محفوظ رہتا ہے۔

دوسری طرف ریا یعنی دکھاوا ایک ایسا روحانی مرض ہے جو عمل کی اصل قدر کو ختم کر دیتا ہے۔ جو لوگ نیکی اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ دیکھیں، تعریف کریں اور واہ واہ کریں، وہ دراصل اللہ کے لیے نہیں بلکہ مخلوق کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ایسے اعمال بظاہر نیکی نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں اخلاص سے خالی ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ نہ محسنین میں شمار ہوتے ہیں اور نہ ہی مخلصین میں۔

حاصلِ کلام

بندۂ مؤمن کو اپنے ہر عمل میں اخلاص کو لازم پکڑنا چاہیے اور دکھاوے سے خود کو بچانا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کے ہاں وہی عمل معتبر ہوتا ہے جو دل کی گہرائی سے، خالص نیت کے ساتھ اور صرف اس کی رضا کے لیے کیا جائے۔ اسلام نے ریاکاری کو سختی سے ناپسند کیا ہے، کیونکہ یہ نیت کو آلودہ اور عمل کو بے روح بنا دیتی ہے۔ دکھاوے والے لوگ اپنی نیکی کا صلہ دنیا میں چاہتے ہیں، اس لیے آخرت میں ان کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا، کیونکہ قبولیت کا معیار لوگوں کی داد نہیں بلکہ دل کی سچائی ہے۔ اصل کامیابی اعمال کی تعداد میں نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی میں ہے۔ جو بندہ خاموشی سے نیکی کرتا ہے، کسی تعریف کا طالب نہیں ہوتا اور ہر عمل اللہ تعالیٰ کے لیے کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں محسن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا، چاہے دنیا انہیں پہچانے یا نہ پہچانے۔