نظامِ تعلیم: معنویت ومقصدیت کا فقدان اور اُس کا حل

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

ملک پاکستان میں نظام تعلیم کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ ان مسائل میں وہ امور بطور خاص قابلِ ذکر ہیں جن کا سامنا Micro Level (چھوٹی سطح) پر کلاس روم کے اندر اساتذہ اور طلبہ و طالبات کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان Micro Level کے مسائل کی طرف وہ تمام حلقہ جات متوجہ ہوں جو نظام تعلیم کی اصلاح کے ذمہ دار ہیں۔ زیر نظر تحریر میں اس حوالے سے چند سفارشات دی جارہی ہیں، جن پر عمل کر کے نظام ِتعلیم کا ہر ذمہ دار اپنی روز مرہ کی ذمہ داریوں کو بہتر بناتے ہوئے اس نظام کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں، چاہے وہ شہروں میں ہوں یا ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں، وہاں ایک خاموش بحران پنپ رہا ہے۔ وہ بحران صرف عمارتوں، کتابوں، یا صرف Infrastructure (بنیادی ڈھانچے) کا نہیں ہے؛ وہ بحران ان تعلیمی اداروں تک جانے والی سڑکوں، کمروں اورعمارتوں کا بھی نہیں ہے؛ بلکہ وہ بحران معنوی بحران ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کے بحران کا بنیادی سبب Meaningfulness (مقصدیت) کا فقدان ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو آج ہمارے نظام تعلیم سے Gradually (بتدریج) ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے پڑھنے اور پڑھانے کے معمول میں سے معنی اور مقصدیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے کلاس رومز آج Erosion of Meaning (معنی کی فرسودگی) کا مظہر بن چکے ہیں۔ نتیجتاً ان تعلیمی اداروں سےایسی قوم پیدا ہو رہی ہے جو پاکستان کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے موثر نہیں ہے۔ طلبہ کلاس رومز میں موجود تو ہیں، مگر ان میں جذبے اور Inspiration (ترغیب) کا فقدان ہے۔ اساتذہ روز مرہ کے تعلیمی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور ان میں Sense of Vocation (پیشے سے لگاؤ کا احساس) کہیں کھو چکا ہے۔ کبھی تدریس ملک پاکستان میں ایک مقدس فریضہ و امانت سمجھی جاتی تھی، مگر آج اس کے برعکس ہے۔

اگر ہم مختلف تحقیقاتی رپورٹس کا جائزہ لیں تو Pakistan Bureau of Statistics کی 2024ء کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری شرح خواندگی تقریباً 62 فیصد ہے مگر 5 سے 16 سال کے درمیان عمر کے تقریباً 25 ملین بچے اس وقت اسکولز سے باہر ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ لیکن صرف یہی المیہ نہیں ہے بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ جو اسکولز میں جا رہے ہیں، وہ کیا پڑھ رہے ہیں؟ وہ اڑھائی کروڑ بچے جو ان اسکولز سے دور ہیں، ان پر ہم تشویش کرتے ہیں، لیکن جو باقی دس کروڑ بچے ان اسکولز میں موجود ہیں، وہ ان اسکولز سے کیا بن کر نکلیں گے؟ مقامِ افسوس یہ ہے کہ یہ امر ہمارے لیےباعثِ تشویش نہیں ہے۔ میرے نزدیک سکولز سے باہر ان اڑھائی کروڑ بچوں سے زیادہ بڑی تشویش ان بچوں کے متعلق ہے جو ان اسکولز میں پڑھ رہے ہیں، مگر ہمیں معلوم ہی نہیں کہ وہ ان اسکولز سے پڑھنے کے بعد کیا بن کر نکلیں گے؟

نظامِ تعلیم کے بحران کے اسباب

ذیل میں ہم ان چند اسباب و وجوہات کا ذکر کررہے ہیں، جن کی وجہ سے ہمارا نظامِ تعلیم بحران کا شکار ہے:

1۔ تفکر و تدبر کا فقدان

ہمارے نظام تعلیم کی ناکامی کا ایک سبب یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہم نے اپنے نظام تعلیم کوRote Memorization (رٹا لگا کر یاد کرنے) پر مرکوز کر دیا ہےاور اس کے اندر تفکری اور Reflective Thinking (غورو فکر پر مبنی سوچ) کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔

2۔ اخلاقی تربیت کا اہتمام نہ ہونا

اخلاقی تربیت کا ہمارے نظامِ تعلیم سے نکل جانا ہمارے نظام تعلیم کے بحران کا دوسرا سبب ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا اہتمام نہ ہونے کے سبب طلبہ کی اخلاقی حالت بتدریج تباہی کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے مگر افسوس کہ ہم اس کی طرف بھی متوجہ نہیں ہیں۔

3۔ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان رشتۂ احترام کا فقدان

اساتذہ اور شاگرد کے درمیان تاریخ میں ہمیشہ احترام کا رشتہ موجود رہا ہے، مگر افسوس کہ آج یہ رشتہ غائب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امر بھی ہمارے نظام تعلیم کی ناکامی کا ایک سبب ہے۔ کیا آج کا شاگرد واقعی استاد کا اتنا احترام کرتا ہے جو آج سے ایک نسل پہلے کیا جاتا تھا؟ وہ احترام کیوں غائب ہو گیا؟ میرے خیال میں یہ اساتذہ کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام اور محبت کے رشتہ پر تو نظام تعلیم کی بنیاد قائم تھی۔ جب ہم نے اسے غائب کر دیا ہے اور اس محبت اور احترام کے رشتے کے بغیر تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں تو ذرا تصور کریں کہ ان اداروں سے کیا نسل پیدا ہو گی؟

کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں ہے کہ ہم استاد اور شاگرد کے محبت اور احترام کے رشتے کے بغیر نظام تعلیم کو استوار کیے ہوئے ہیں؟ استاد اور شاگرد کا یہ رشتہ پاکستان کی ثقافت میں جانا اور پہچانا جاتا تھا، بلکہ روایات میں تو اساتذہ کو والدین کا تسلسل مانا جاتا تھا۔ حضرت امام غزالی رضی اللہ تعالی عنہ احیاء علوم الدین میں فرماتے ہیں: ’’استاد وہ مالی ہے جو نوجوان دلوں کی باغبانی کرتا ہے‘‘۔ کیا آج ہم استاد کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا آج کا استاد واقعی اس قابل ہے کہ وہ اپنے آپ کو نوجوان دلوں کا باغبان کہہ سکے؟ میرا خیال ہے، ایسا نہیں ہے۔

استاد اور شاگرد کے اس رشتہ کے قطع ہونے کی وجوہات کے اوپر کئی تحقیقات ہیں، جن کی روشنی میں ان وجوہات کا علم ہوتا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان رشتۂ احترام کیوں زوال پذیر ہے۔ ذیل میں چند ایک وجوہات ذکر کی جا رہی ہیں:

1۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ جو Teacher-Student Relationship (استاد شاگرد کا تعلق) پر 2024ء میں شائع ہوئی، اس میں ان مختلف شعبہ جات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں ایک اہم پہلو جس نے اس رشتے کو متاثر کیا، وہ سرکاری اور پرائیویٹ اسکولز کے اساتذہ کا تدریس کے دوران اختیار کیا گیا رویہ ہے، جو ان کی اپنی کہی ہوئی بات کے وزن کو گرا دیتا ہے۔ بچوں کو ہر بات ڈانٹ کر سمجھانا اور اگر وہ ایک سے زائد سوالات کر دیں تو ان کو ڈانٹ کر خاموش کروا دینا، اساتذہ اور طلبہ کے رشتہ کے درمیان ایک گہرا شگاف ڈالنے کے مترادف ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹے بچے ہیں، ان کو ڈانٹ کر خاموش کروایا جا سکتا ہے۔ ہاں، ڈانٹ کر خاموش تو کروا دیا جاتا ہے، لیکن ان کی نگاہ سے استاد کی عزت اسی لمحے ختم ہو جاتی ہے، جب اساتذہ ان کو کسی بات پر قائل نہیں کرپاتے، ان کو بات سمجھا کر فیصلہ نہیں کرتے بلکہ ڈانٹ کر کہتے ہیں: ’’ بس یہ حکم ہے‘‘۔ اساتذہ نے خوف وہراس کا استعمال کر کے طلبہ کو خاموش تو کروا دیا لیکن ان کے دل ہار گئے۔ اب وہ دوبارہ جیتنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ اس رپورٹ کے مطابق تقریباً 23 فیصد اساتذہ کی عزت صرف ان کے انتظامی رویوں کی وجہ سے بچوں کے دلوں میں کم ہوئی ہے۔

2۔ 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق کلاس رومز کے اندر نظم و ضبط (Discipline) پر پوری طرح قدرت نہ رکھنا بھی ایک ایسا عمل ہے، جس کے سبب طلبہ کے دل میں اساتذہ کا احترام کم ہو جاتا ہے۔ جب بچے شکایات لے کر اساتذہ کے پاس آتے ہیں تو وہ حکمت اور محبت کے ساتھ ان کے مسائل کو حل نہیں کرتے یا پھر کچھ خاص طلبہ و طالبات کی طرف داری (Taking Sides) کرنے کا عمل بھی مجموعی طور پر طلبہ کو اساتذہ سے بد دل کر دیتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات سال میں اس سبب سے اساتذہ کی 42 فیصد عزت اور احترام بچوں کی نظروں میں گرا ہے۔ گویا یہ اساتذہ کی اپنی شخصیت کی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی نگاہوں میں ان کا عزت و احترام کم ہوا ہے۔

3۔ اسی طرح اساتذہ کا تدریس میں دلچسپی نہ لینا اور پڑھانے کے دوران ذہنی طور پر غیر حاضر رہنا بھی ایک سبب ہے کہ طلبہ کے دل میں ان اساتذہ کے عزت و احترام میں کمی آ رہی ہے۔ اساتذہ کے اندر پیشہ ورانہ اطمینان موجود نہیں ہے۔ وہ ہر وقت بے چینی کا شکار رہتے ہیں اور مختلف روزگار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جب وہ اپنا فریضہ انجام دینے کے لیے اپنے کلاس رومز میں داخل ہوتے ہیں تو صحیح طرح دلچسپی کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے۔ نتیجتاً سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ و طالبات جو شعور رکھنے والی ایک نسل ہیں، وہ سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں ٹیچر کس لاپرواہی کے ساتھ ہمیں پڑھا رہے ہیں۔ اساتذہ کے اس عمل کو دیکھ کر ان کے دلوں میں ان کا عزت اور احترام کم ہو جاتاہے۔

4۔ طلبہ کے دل میں اساتذہ کے عزت و احترام میں کمی کی ایک وجہ والدین کا اساتذہ کے بارے میں کلام اور اس سے روا رکھا گیا رویہ بھی ہے۔ جب والدین بچوں کے سامنے گھروں میں ان کے اساتذہ کو بد تہذیبی سے مخاطب کرتے ہیں، یا ان پر اظہارِ برہمی کرتے ہیں، یا ان کے حوالے سے طرح طرح کے کلمات بچوں کے سامنے بولتے ہیں تو نتیجہ بچوں کے دلوں میں اساتذہ کے احترام میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق بچوں کی نظروں میں اساتذہ کا 58 فیصد احترام والدین کے رویوں کی وجہ سے بھی کم ہوا ہے۔

5۔ ثقافتی تبدیلی (Cultural Shift) بھی ایک ایسا سبب ہے جو اساتذہ اور طلبہ کے درمیان عزت و احترام کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ہمارے کلچر سے مجموعی طور پر احترام رخصت ہو گیا ہے۔ آج ڈیجیٹل دور ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تو بہت پہنچائی ہیں لیکن Authority کا تصور نوجوان نسل کی نگاہ سے ختم کر دیا ہے۔ اب ان کے لیے کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ معلومات میں اضافہ ہورہا ہے مگر اتھارٹی کا تصور مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ طلبہ و طالبات کی زندگیوں سے ادب کی اہمیت مفقود ہو گئی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا ادب کے کلچر کو ختم کر رہا ہے۔ والدین بھی خود اسی بے ادبی کے معاشرے کی پیداوار بن رہے ہیں، نتیجتاً پھر ویسی ہی تربیت وہ بچوں کو بھی دیتے ہیں۔

6۔ اساتذہ نصاب کو پڑھاتے ہوئے محنت سے کام نہیں لیتے۔ ذہین بچے سمجھ جاتے ہیں کہ استاد نالائق ہے۔ نتیجتاً دل میں وہ عزت اور احترام پیدا نہیں ہوتا۔ خوف کی وجہ سے کوئی زبان سے اگرچہ نہ کہے لیکن کوئی بھی شعور رکھنے والا یا محنت کرنے والا اور مطالعہ کرنے والا طالب علم ہوگا، اس کے دل سے ایسے استاد کی عزت ختم ہو جائے گی جو محنت کر کے طلبہ کے سامنے نہیں آیا اور جس نے اپنا مضمون پڑھانے کا حق ادا نہیں کیا۔

7۔ بچوں کی عزت نفس کا خیال نہ رکھنا بھی طلبہ کے دلوں سے اساتذہ کی عزت کو کم کر دیتا ہے۔ دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھنا اگرچہ بچے ہی کیوں نہ ہوں، یہ اخلاقی تربیت کا حصہ ہے۔ اگر اساتذہ کرام کلاس میں بچوں کو’’تم‘‘ اور ’’ تو‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور انہیں’’آپ‘‘ نہیں کہتے اور نہ ہی انھیں دوسروں کو بھی ’’ آپ‘‘ کہہ کر بلانا سکھاتے ہیں، انھیں غیر معیاری زبان والفاظ کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں اور انھیں بد تہذیبی سے ڈانٹتے ہیں تو بچوں کے دلوں میں اساتذہ کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔

یاد رکھیں! مذکورہ امور بہت حساس شعبہ جات (Sensitive Areas) ہیں۔ یہ Independent Elements نہیں ہیں کہ اگر ایک عنصر کو متاثر کر دیں گے تو اس کا فرق دوسری جانب نہیں پڑے گا۔ نہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ساری چیزیں باہم جڑی ہوئی (Connected) ہیں اور یہ سارے Elements مل کر اقوام بناتے ہیں یا انھیں تباہ کرتے ہیں۔ جب ہم ان میں سے کسی ایک عنصر کو بھی متاثر کرتے ہیں یا تباہ کر دیتے ہیں تو اس کا یقیناً اثر دوسری جانب کہیں نہ کہیں پڑنا ہے۔ افسوس کہ ہمارے منتظمین، حکمران اور ذمہ داران جب اس طرح کا شعور اور فہم نہیں رکھتے اور اثرات (Implications) کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں تو اس رویے اور طرزِ عمل سے اقوام تباہ ہوتی ہیں مگر تعمیر و ترقی کی منازل کبھی طے نہیں ہوسکتیں۔

4۔ معنویت کا فقدان

ہمارے نظامِ تعلیم میں معنویت کا فقدان (Meaninglessness) اس کے بحران میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اساتذہ جانتے ہی نہیں کہ وہ جو کچھ پڑھا رہے ہیں، یہ کیوں کر رہے ہیں؟ ان کی ہر روز کی کلاس کا مقصد کیا ہے؟ اس سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ وہ تعلیمی نظام اور پڑھائی جس سے ہم جڑے ہوئے ہیں، کیا اس کا مقصد صرف ڈگریز (Degrees) حاصل کرنا ہے یا اس سے کچھ اور بھی مراد ہے؟ یہ معنویت کہیں کھو چکی ہے اور اس کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج ایک پوری نسل تعلیمی اداروں سے بھی بیزار ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ملازمت کرنی ہے تو ہم Short Courses کریں، آن لائن سیکھنے کے پروگرامز (E-Learning Programs) کا حصہ بنیں، Certificates حاصل کریں اور براہ راست جا کر ملازمت کریں۔ ہم خواہ مخواہ کیوں اپنے کئی سال ڈگری کے حصول کے لئے کالجز اور یونیورسٹیز میں ضائع کرتے ہیں۔

یہ سوچ اس لئے طلبہ کے اندر پیدا ہوئی کہ ہم نے اداروں کو صرف ڈگری بانٹنے کی مشین بنا دیا ہے۔ ہم نے تعلیم کی معنویت ختم کر دی۔ یہ تعلیمی ادارے دراصل شخصیت سازی کے ادارے ہیں لیکن اگر یہاں سے شخصیت سازی کا تصور ہی ختم ہو جائے اور صرف ڈگریز ملیں اور ان ڈگریز کے باوجود بھی ملازمت نہ ملےتو پھر طالب علم کہتا ہے کہ میں براہ راست ایسےTechnical Coursesاور سرٹیفکیٹس کیوں نہ کر لوں جس سے مجھے ملازمت آسانی سے مل جائے گی اور میرا روزگار بہتر ہو جائے گا۔ اداروں کا طلبہ کی شخصیت سازی میں کردار ادا نہ کرنا، اس نظام تعلیم میں معنویت اور بے مقصدیت کو فروغ دے رہا ہے۔ معنویت اور مقصدیت کا فقدان (Meaninglessness) اساتذہ اور طلبہ دونوں میں اضطراب (Anxieties) اور افسردگی (Depression) پیدا کرنے کا باعث بھی ہے۔

معنویت اور مقصدیت (Meaningfulness) درحقیقت ایک پائیدار مقصد یا اخلاقی رہنمائی ہے جو انسان کی زندگی کو سمت فراہم کرتی ہے۔ انسان کے اندر جو Existential Emptiness (وجودی خالی پن ) پیدا ہو جاتا ہے، درحقیقت مقصدیت اس کا علاج ہے یعنی زندگی کو کوئی نہ کوئی مقصد فراہم کرنا۔ اساتذہ کیوں پڑھا رہے ہیں اور وہ اس مقدس پیشہ سے کیوں منسلک ہیں؟ طلبہ کیوں علم حاصل کر رہے ہیں؟ کیا اساتذہ صرف تنخواہ کے لیے اورطلبہ صرف ڈگری حاصل کرنے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی مقصد نہیں ہے اور یہ سب کچھ ایک بیکار سرگرمی ہو رہی ہے۔ یہ ایک ایسا رجحان اور طرزِعمل ہے کہ جس کی طرف ہمیں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے تمام اعمال (Activities) کی بنیاد نیت کو قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ اِمْرِئٍ مَّا نَوَیٰ

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی اس نے نیت کی ہے۔

یاد رکھیں !نیت ہی مقصدیت کا دروازہ ہےکہ انسان جو عمل کر رہا ہے، اس کی نیت کیا ہے؟ بطور استاد اس کی نیت کیا ہے اور بطور شاگرد اس کی نیت کیا ہے؟ پاکستان کے نظامِ تعلیم میں طلبہ اور اساتذہ اپنا Why (مقصد) کھو بیٹھے ہیں۔ وہ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، مگر وہ یہ سارا عمل’’کیوں‘‘ کرتے ہیں، اس کا ان کے پاس جواب نہیں ہے۔ اگر ان سے ان کا مقصد پوچھا جائے تو ویسے ہی کوئی سیاسی بیان دے دیتے ہوں گے لیکن حقیقت میں ان کے دل کے پاس شاید اس کا جواب نہ ہو کہ وہ یہ کیوں کر رہے ہیں۔ یہ ایک Existential Emptiness (وجودی خلا) ہے جو درحقیقت ان کو گھیرے ہوئے ہے اور جس نے ان کا مقصد گم کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صدیوں پہلے اس کی نشان دہی فرما دی تھی کہ یہ مقصد گم جائے گا۔ ارشاد فرمایا:

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ.

(المومنون، 23: 115)

’’سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (وبے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئو گے؟۔ ‘‘

ضرورت اس امر کی ہم اپنے نظامِ تعلیم، اساتذہ، طلبہ، نصاب، تعلیمی ماحول کے تناظر میں اس مقصد کو تلاش کریں جسے ہم گم کر چکے ہیں۔

اگر نظامِ تعلیم میں مقصدیت کا عنصر شامل کر لیا جائے تو یہ اساتذہ و طلبہ پر بہت مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے والی Academic Reports کا خلاصہ یہ ہے کہ جو طلبہ مقصدیت اور معنویت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو باقی طلبہ کے مقابلے میں ان کی کارکردگی 30 فیصد زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ یعنی اگر طالب علم مقصدیت سے سرشار ہو اور معنویت اس کے ساتھ وابستہ ہو تو وہ 30 فیصد بہتر نتائج حاصل کرتا ہے۔

اسی طرح انہوں نے یہ بھی نتیجہ اخذکیا ہے کہ اگر طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے ساتھ معنویت وابستہ ہو جائے تو ان میں اضطراب بھی ختم ہو جاتا ہے۔ Harvard Medical School کے ایک سروے Neuroimaging Studies کے مطابق جب اساتذہ پڑھاتے ہوئے معنویت کھو بیٹھتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ کام وہ کیوں کر رہے ہیں تو اس کام کی انجام دہی کے دوران وہ افسردگی، اضطراب اورBehavioral Issues کا شکار ہوتے ہیں۔ نتیجتاً کلاس میں طلبہ کو جھڑکنا، غصے کا اظہار کرنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا ان کا معمول بن جاتا ہے۔

اگر ہم معنویت و مقصدیت کے سے خالی افراد کو استاد کے منصب پر فائز کردیتے ہیں تو گویا ہم نے طلبہ کے اوپر ایک مریض مقرر کر دیا ہے جو اپنے اس رویہ کے باعث بچوں کا مستقبل برباد کر رہا ہے۔ مقتدر حلقوں اور والدین کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم نے اپنے بچوں کو روز ایک مریض کے آگے چھوڑ کے آتے ہیں کہ وہ ان کی شخصیت کو تباہ کر کے انھیں ہر روز اڑھائی تین بجے ہمیں واپس کر دے۔ اسکول کی انتظامیہ ہو، یا کسی تعلیمی نظام کے ذمہ داریا حکومت، کسی کے پا س کوئی Mechanism نہیں ہے کہ وہ Assessment کر سکیں کہ ہماری نسل مریضوں کے آگے بیٹھی ہے یا صحت مند افراد ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں۔

جب استاد میں معنویت کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے تو وہ شدید تھکن محسوس کرنے لگ جاتا ہے اور اس کے اندر Motivation نہیں رہتی۔ اب وہ جب بھی بچہ سے مخاطب ہوگا تو اسے جھڑکے گا، ڈانٹے گا، غصے سے جواب دے گا اور Reactionary Approach کے ساتھ سلوک کرے گا، الفاظ اور زبان کا استعمال درست نہیں ہوگا تو نتیجتاً بچے بھی اس سے یہی کچھ سیکھیں گے۔ لہذا اسکولز پرنسپلز اور انتظامیہ کا فریضہ ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ کلاس روم کے اندر موجود استاد صحت مند ہو، اعصاب کا مضبوط ہو اور اس کا اضطراب اور افسردگی سامنے بیٹھے ہوئے بچوں کے اعصاب تباہ نہ کر رہی ہو۔ اس لئے کہ بچوں کا معاملہ بہت حساس ہوتا ہے۔ اس جانب متوجہ نہ ہونے کے سبب ہم بچوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اس کے ذمہ دار اساتذہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور والدین بھی ہیں۔

معنویت و مقصدیت کے جسمانی فوائد

سائنسی تحقیقات بتاتی ہیں کہ معنویت (Meaningfulness) صرف انسان کے اندر جذباتی و شعوری استحکام اور Motivation ہی پیدا نہیں کرتی بلکہ زندگی میں معنویت اور مقصدیت کا ہونا جسمانی صحت کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ ٹوکیو یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق جو لوگ معنویت و مقصدیت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں یا کسی بھی شعبے میں کام کرتے ہیں، وہ بقیہ افراد کے مقابلے میں زیادہ عمر پاتے ہیں۔ اس لئے کہ جن کی زندگی سے جینے کا مقصد چلا جاتا ہے، وہ پھر جو بھی عمل کرتے ہیں، ان کے ہاں اس عمل کی کوئی معنویت نہیں ہوتی۔ ان کی Motivation to Live بھی چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ افسردگی اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی پرواہ (Care) بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس جینے کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ آہستہ آہستہ بیماریوں میں گھرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کی عمر مختصر ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف وہ لوگ جو ایک مقصد کے لیے جیتے ہیں، وہ اپنی صحت کا خیال بھی رکھتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مقصد ہے جس کی انہوں نے تکمیل کرنی ہے۔ وہFocused رہتے ہیں اور سائنسی طور پر ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی عمر بھی بڑھا دیتا ہے۔ پس اگر معنویت و مقصدیت نصیب ہو جائے تو پھر وہاں پر جذباتی استحکام بھی نصیب ہوتا ہے، شعور بھی پروان چڑھتا ہے، حوصلہ بھی نصیب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیاوی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور اللہ بھی راضی ہوتا ہے۔

5۔ اساتذہ کی تقرری کے لئے کسی پیمانہ کا نہ ہونا

ہم بہت سارے شعبہ جات میں تقرری (Appointment) کرنے سے پہلے لوگوں کی ذہنی صلاحیت، ان کا IQ Level (ذہانت کی سطح)، ان کا صبر (Patience) کا امتحان لیتے ہیں۔ کیا ہم نے اساتذہ کی تقرری کے لئے بھی اس طرح کا کوئی امتحان رکھا ہے؟ ایسا نہ کرنا بھی ہمارے نظام تعلیم کو ایک بحرانی کیفیت سے دوچار کیے ہوئے ہے۔

ہمیں شعور ہی نہیں ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں۔ یہ اصل میں قوم کی وہ فصل ہے جس نے اس ملک کو سرسبز کرنا ہے۔ اس فصل کی حفاظت، اسے سجانے اور سنوارنے کی ذمہ داری اساتذہ کی ہے۔ لہذا ان اساتذہ کی تربیت اور اس حوالے سے ان کی جانچ پڑتال اشد ضروری ہے تاکہ یہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ احسن طریق پر انجام دے سکیں۔

اساتذہ کی تربیت (Training) کا ایک مؤثر نظام سنگاپور حکومت نے متعارف (Introduce) کروایا ہے۔ انھوں نے اساتذہ کی Monitoring کی کہ وہ ذہنی طور پر کتنے صحت مند ہیں؟ اس حوالے سے انھوں نے اپنے اساتذہ کو ایک امتحان سے گزارا، جس کے نتیجہ میں اساتذہ کے اضطراب میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی، یعنی ان کی کارکردگی (Performance) میں پہلے کی نسبت 45 فیصد بہتری ہوئی۔

ہمارے ہاں تو اساتذہ (خواتین و حضرات) اپنے گھروں میں ہونے والے جھگڑوں، جھنجھلاہٹ اور الجھنوں کا بھی سارا غصہ اپنے سامنے بیٹھے ان معصوم بچوں پر نکالتے ہیں جو ان سے تعلیم وتربیت حاصل کرنے آئے ہیں۔ ایسا کرنا ایک قابلِ گرفت عمل ہے اور بندہ اللہ رب العزت کے حضور اس کا جوابدہ ہے۔ اس لئے کہ اگر تدریس کو بطورِ پیشہ منتخب کر ہی لیا ہے تو اس کے ساتھ انصاف کریں۔ انسان اپنے اچھے بُرے کام کا اللہ کو جواب دہ ہے۔ ایک قوم کے مستقبل کو سنوارنا بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے جسے ہم سب سے آسان ملازمت سمجھتے ہیں کہ کوئی کام نہیں ملا تو اسکول میں استاد لگ گئے۔

یاد رکھیں !یہ بہت زیادہ جوابدہی والا کام ہے، اس لئے انسان دیگر سو کام کر لے مگر تدریس کو بطورِ پیشہ اختیار کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے۔ اس لئے کہ پھر اس کے ساتھ سیکڑوں لوگوں کے مستقبل جڑ جائیں گے اور ہر ایک کا جواب اللہ رب العزت کے حضور اسے دینا ہو گا۔ پہلے وہ شخص فقط اپنا ذمہ دار تھا اور اپنی ذات کا جواب دہ تھا، اب وہ ہر اس بچے کے مستقبل کابھی جواب دہ بن جائے گا کہ جو اس سے وابستہ ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جس زندگی کو ’’حیاۃً طیبہ‘‘ کہا، درحقیقت مقصدیت و معنویت کے حصول کے بعد استاد ایسی زندگی کے مصداق بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی دنیا بھی Emotional Management کے ذریعے اچھی کر دیتا ہے اور پھر ایسے اساتذہ کے سامنے بیٹھے ہوئے بچے بھی انہیں عزت دیتے ہیں اور وہ اپنی ذمہ داری کو بھی بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں۔ پھر انھیں ایک Self-Satisfaction ملتی ہے کہ ان کے پڑھائے ہوئے بچے ملک و ملت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ وہ انھیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اللہ بھی ان سے راضی ہوتا ہے کہ انہوں نے بندگی کا حق ادا کیا ہے۔ گویا اس زندگی اور اپنے پیشہ میں معنویت و مقصدیت کو اپنانے کے بعد ان کی زندگی بھی طوالت اختیار کر جاتی ہے اور وہ اچھی صحت کے ساتھ بھی جیتے ہیں۔ یعنی دونوں پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھنے سے اللہ تعالیٰ ان کی زندگی سنوار دیتا ہے۔