ترتیب وتدوین: محمد یوسف منہاجین
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ. فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ. قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ. وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ.
(سورة الشمس، 91: 7-10)
’’ اور انسانی جان کی قَسم اور اسے ہمہ پہلو توازن و درستگی دینے والے کی قَسم۔ پھر اس نے اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری (کی تمیز) سمجھا دی۔ بے شک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اس (نفس) کو (رذائل سے) پاک کر لیا (اور اس میں نیکی کی نشو و نما کی)۔ اور بے شک وہ شخص نامراد ہوگیا جس نے اسے (گناہوں میں) ملوث کر لیا (اور نیکی کو دبا دیا)۔ ‘‘
اللہ رب العزت نے انسانی نفس کو بدکاری اور پرہیزگاری کے درمیان تمیز کرنے کی معرفت اور خاص شعور عطا کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جبلت میں یہ بات ودیعت کر دی ہے کہ کون سے کام برے ہیں اور کون سے نیک۔ نیکی اور بدی کے درمیان امتیاز کرنا اس نفس کی وہ بنیادی صلاحیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر جان کے اندر رکھا ہے۔ یہ ایک Basic Potential (بنیادی استعداد)، Capability (قابلیت) اور Ability (صلاحیت) ہے جس کے ذریعے بندہ اچھائی اور برائی میں فرق کر لیتا ہے۔
انسانی نفس میں اچھائی اور برائی کی صلاحیت کا تعلق انسانی شخصیت کی تخلیق سے ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ.
(الحجر، 15: 28)
’’ اور (وہ واقعہ یاد کیجیے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوں۔ ‘‘
انسانی شخصیت کی تشکیل کے دو پہلو ہیں: ایک ظاہری پہلو جو سوکھی ہوئی مٹی اور گارے سے وجود میں آتا ہے۔ اس کے کچھ کیمیائی پہلو اور عناصر (Chemical Elements) ہیں۔ انسانی جسم کے یہ اجزاء زمین کی مٹی اور خوراک سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب یہ فرمایا گیا کہ تمہیں "تراب" (مٹی) سے پیدا کیا گیا، تو اس کی صورت یہ ہے کہ پودوں کے بیج مٹی کی خوراک کھا کر پروان چڑھتے ہیں اور جب ہم وہ پودے اور اناج کھاتے ہیں تو مٹی کے وہ تمام Extracts (خلاصہ/ جوہر) ہمارے جسم کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہر جانور بھی یہ ہی گھاس پھونس اور پودے کھاتا ہے اور اس کا جسم بھی اسی سے بنتا ہے۔ مٹی کے اندر موجود نمکیات اور توانائی کے اجزاء جانوروں میں جاتے ہیں اور جب ہم ان کا گوشت کھاتے ہیں تو ان عناصر سے ہماری زندگی تشکیل پاتی ہے۔
تخلیق کے اگلے مرحلے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ.
(الحجر: 29)
’’ پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکر (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑنا۔ ‘‘
یعنی جب میں انسان کے جسم کو متوازن بنا دوں، اسے برابر کر دوں اور وہ تمام Capabilities (قابلیتیں)، Abilities (صلاحیتیں) اور Potentials (استعداد) جو اسے دینی ہیں، اس کے اندر رکھ دوں اور اس کے اعضاء اور جسمانی قوتوں میں ایک Balance (توازن) پیدا کر دوں، تو پھر میں اس کے اندر اپنی روح پھونکوں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام میں "روحِ ربانی" پھونکی تو ان کے اندر نورِ ربانی کا چراغ روشن ہوا۔ اس مقام پر ملائکہ کو حکم ہوا کہ اسے سجدہ کرو۔
گویا قرآنِ مجید کی رو سے انسان جسمانیت اور روحانیت کا ایک Combination (مرکب) بن گیا۔ جسمانیت "مادیت" کو Reflect (ظاہر) کرتی ہے اور روحانیت "نورانیت" کو۔ گویا ہمارے وجود میں مادہ اور نور دونوں شامل ہیں۔ اگر انسان میں جسمانیت بڑھتی چلی جائے اور وہی غالب آجائے تو وہ حیوانیت اور نفسانیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر روح کا عنصر اور روحانیت غالب آ جائے، تو بندہ ملکوتی صفات، نورانیت اور فرشتوں کی خصلتوں کی طرف بلند ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ دونوں راستے رکھے ہیں، جن کا اشارہ سورۃ الشمس کی مذکورہ آیت نمبر 8 میں کیا گیا ہے کہ اس نفس میں "فجور" یعنی برائی کی طرف راغب ہونے اور گناہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے، اور اس میں "تقویٰ" یعنی پرہیزگار، صاحبِ صفا اور ولی اللہ بننے کی ملکوتی صفت بھی ڈال دی گئی ہے۔ گویا انسانی نفس میں دونوں طرح کے Potentials (امکانات) بنیادی طور پر موجود ہیں۔
چونکہ اوپر دو چیزیں بیان ہوئیں: فجور اور تقویٰ یعنی نیکی اور برائی دونوں کا مادہ انسان میں موجود ہے، اس لیے آخر میں اس کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا.
بے شک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا، اسے رذائل سے پاک کیا اور اس میں نیکی کی نشوونما کی۔
تزکیہ نفس کا مفہوم اور انسانی فطرت کے دو پہلو
لفظ تزکیہ کے دو بنیادی معنی ہیں:
1۔ Purification (پاکی) 2۔ Growth (نشوونما)
یعنی وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو ان تمام بری خصلتوں اور گناہ کرنے کے Potentials (مخفی صلاحیتوں) سے پاک کر لیا جو انسان کو برا بنانے والی، اس پر نفسانیت و حیوانیت کو غالب کرنے والی، یہاں تک کہ اسے شیطانیت کی حد تک لے جانے والی ہیں۔ انسان کے اندر یہ تمام Potentials موجود ہیں؛ وہ چاہے تو نفس پرست بن جائے، چاہے تو حیوان بن جائے اور چاہے تو شیطان بن جائے۔ یہ تمام امکانات آیتِ کریمہ کے لفظ "فُجُورَهَا" کے ذریعے اس کے اندر موجود ہیں۔ انسان خود اپنی شخصیت کا ذمہ دار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے تمام صلاحیتیں دے دی ہیں؛ وہ قاتل بننا چاہے تو قاتل بن جائے اور اگر محافظ بننا چاہے تو محافظ بن جائے۔ پس جس شخص نے اپنے نفس کو ان رذائل اور برائی کی طرف لے جانے والے عوامل سے پاک کر لیا، وہ کامیاب ہوا۔
تزکیہ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ برائی کے غلبہ سے بچ کر اپنے اندر موجود نیکی کے Potential، یعنی ملکوتی صفات اور فرشتوں جیسی نیک خصلتوں کو پروان چڑھایا جائے، انہیں نشوونما دی جائے اور Develop کیا جائے۔ یہ باقاعدہ ایک Process اور طریقہ کار ہے۔ اس کے برعکس جس نے اپنے نفس کو گناہوں میں ملوث کر دیا اور نیکی کے اس Potentialکو دبا دیا جس نے اس کے اندر نور اور روحانیت پیدا کرنی تھی تو وہ شخص نامراد اور ناکام ہوگیا۔
اچھائی اور برائی کی طرف میلان انسانی شخصیت کے اندر رکھا گیا ہے
ان آیاتِ کریمہ کو سمجھنے کے بعد اب ہم خُلق اور ادب کے مفہوم کو سمجھتے ہیں۔ یاد رکھیں! ہم جو کچھ بھی اچھائی یا برائی کرتے ہیں، اس کا میلان ہماری شخصیت کے اندر رکھا گیا ہے۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کس طرح کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ والدین کیسی تربیت کرتے ہیں۔۔۔ ہمیں ماحول کیسا ملتا ہے۔۔۔ ہمارا اپنا Focus (توجہ) کن چیزوں پر ہے۔۔۔ ہم اپنی محنت، ریاضت اور مجاہدہ کس سمت میں کرتے ہیں۔۔۔ ؟ انسانی وجود میں اندھیرا بھی ہے اور روشنی بھی۔ اگر ہم غلط سمت، غلط صحبت اور غلط ماحول کا انتخاب کریں گے تو اپنے اندر کے اندھیرے کو بڑھائیں گے اور اگر ہم اچھی سنگت، اچھی رفاقت اور صالح اعمال پر محنت کریں گے تو اپنے اندر کی روشنی میں اضافہ کریں گے۔ یہ ہمارا اپنا Option (انتخاب) ہے۔ قرآنِ مجید نے فرمایا:
وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ
(البلد، 90: 10)
’’ اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیے۔ ‘‘
نیکی، بھلائی اور تقویٰ اختیار کرنے کی صلاحیت دراصل "خوبصورتی" ہے۔ جس طرح ظاہری دنیا میں ہم کسی کو خوبصورت یا بدصورت کہتے ہیں، اسی طرح انسان کے من کے اندر دو طرح کی صلاحیتیں ہیں: یہ خوبصورت اور عمدہ بھی ہیں اور بدصورت اور ناکارہ بھی ہیں۔ Potential Nature (فطرتِ بالقوہ) میں نیکی، تقویٰ اور اچھائی چھپی ہوتی ہے، جبکہ Actual nature (فطرت بالفعل) میں گناہ کا رجحان، لالچ اور نفس پرستی جیسے عناصر موجود ہوتے ہیں۔
انسان کے نفس کے اندر اچھائی اور خوبصورتی کی جو بنیادی قوت چھپی ہوئی ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ اس اندرونی خوبصورتی اور عمدگی کو باہر نکالیں تاکہ وہ محض ایک دبی ہوئی صلاحیت نہ رہے بلکہ ہماری کی زندگی میں ایک "فعل" بن کر ظاہر ہو۔ جب ہم اس چھپی ہوئی صلاحیت کو Activate (متحرک) کر کے ایک عمل کی شکل دے دیتے ہیں، تو یہیں سے خُلق اور ادب کا آغاز ہوتا ہے۔
خلق اور ادب کی حقیقت
جب انسان کے باطن میں چھپی ہوئی اچھائی، عمدگی، بھلائی اور نیکی اس کی عملی زندگی میں ظاہر ہو کر ایک عمدہ اور اچھا فعل بن جائے تو اسے خلق کہا جاتا ہے، جس کی جمع "اخلاق" ہے۔ یہی ہمارے Morals (اخلاقیات) بن جاتے ہیں۔ یعنی "خلق" ہمارے اندر سے برآمد ہوتے ہیں۔ بعد ازاں ہماری داخلی صلاحیتیں اور خارجی عوامل جیسے صحبت، علم، تربیت، پرورش اور ماحول کے سبب یہ نمو پاتے ہیں۔ انسان کی اپنی کوششیں بھی ان نیکیوں کو اندر سے نکالنے، انہیں بڑھانے، طاقتور کرنے اور Promote کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
جب یہ افعال پختہ ہو جائیں اور ہمارے میل ملاپ، گفتگو اور برتاؤ میں ظاہر ہوں تو یہ اخلاق کہلاتے ہیں۔ اگر ان اخلاق میں مزید خوبصورتی، نفاست اور عمدگی کا رنگ شامل کر دیا جائے تو اسے "ادب" کہتے ہیں۔ گویا اندرونی بھلائی اگر زندگی کا فعل بن جائے تو وہ "خلق" ہے اور اگر اس خلق میں مزید نکھار اور اعلیٰ درجہ کی خوبصورتی آ جائے تو وہ "ادب" ہے۔ اخلاق کو Morals (اخلاقیات) کہا جاتا ہے جبکہ ادب کو Manners (آداب/سلیقہ) کہتے ہیں۔ یعنی اخلاقی اقدار کی ادائیگی کا طریقہ اگر سنور جائے اور اس میں حسن و جمال آ جائے، تو وہ "طریقۂ ادائیگی" ادب بن جاتا ہے۔
عملِ صالح اور ادب
اس بات کو ایک اور پہلو سے سمجھیں ہم اپنی زندگی میں ہر لمحہ کوئی نہ کوئی کام یعنی "فعل" سرانجام دیتے ہیں؛ جیسے اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، کھانا پینا، ملنا جلنایا نماز پڑھنا، یہ سب افعال ہیں۔ اب ہر کام کو کرنے کے لیے اللہ رب العزت کا ایک حکم یعنی "امر" موجود ہے کہ ایسا کرنا ہے اور ایسا نہیں کرنا، یہ جائز ہے اور یہ ممنوع ہے۔ اگر ہمارے تمام افعال اللہ کے امر کے تابع اور اس کے احکام کے مطابق ہو جائیں، تو وہ "فعل" اب "عملِ صالح" بن جاتا ہے یعنی ہمارے تمام افعال اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق ڈھل جانے کے سبب "اعمالِ صالحہ" میں بدل جاتے ہیں اور جب اس "عملِ صالح" کو نہایت عمدہ اور خوبصورت لباس پہنا دیا جائے تو وہ "ادب" کہلاتا ہے۔ فعل اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حکم کے مطابق ہو تو "عملِ صالح" ہے، اور اگر اس عملِ صالح کو اعلیٰ و عمدہ پیرائے میں ادا کیا جائے تو وہ "ادب" بن جاتا ہے۔
پس ترتیب یہ ہوئی کہ پہلے "امرِ الٰہی" سے "عملِ صالح" بنتا ہے۔۔۔ پھر عمل سے "خلق" (اچھا اخلاق) جنم لیتا ہے۔۔۔ اور جب اس خلق کو سلیقہ اور تہذیب میسر آ جائے تو وہ "ادب" بن جاتا ہے۔ گویا کسی بھی عمل یا اخلاق کی ادائیگی کا وہ عمدہ اور خوبصورت طریقہ جو سلیقہ مندی اور تہذیب سے آراستہ ہو، ادب کہلاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے Culture (ثقافت/تہذیب) کا لفظ بھی دیا جاتا ہے کہ اس عمل کی Culturing (تہذیب و آرائش) ہو گئی اور اس میں سلیقہ آ گیا۔
روزمرہ زندگی میں آداب کے مظاہر
آیئے! ادب کے اس تصور کو ہم اپنی روزمرہ زندگی کی چند مثالوں سے سمجھتے ہیں:
1۔ جب ہم گھر سے باہر نکلتے ہیں، تو کیا اسی حالت میں نکل جاتے ہیں جس میں سو کر اٹھے ہوں؟ نہیں، ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہم اپنے آپ کو کچھ بہتر کرکے گھر سے نکلتے ہیں۔
اسی طرح کیا ہم کپڑے صندوق یا الماری سے نکال کر بغیر استری کیے ہوئے پہن لیتے ہیں؟ تصور کریں کہ اگر کوئی شخص صندوق سے کپڑے نکالے اور انہیں استری کیے بغیر، ان کی سلوٹوں سمیت پہن کر باہر آ جائے تو وہ کیسا لگے گا؟ اگر کپڑے صابن سے دھلے ہوئے اور Dry Clean (صاف ستھرے) ہیں تو یہ "کپڑے کا خلق" یا اس کا "اخلاق" ہے۔ لیکن اگر وہی لباس بہترین طریقے سے Press (استری) کیا ہوا ہو، تو سمجھ لیجیے کہ یہ "لباس کا ادب" ہے۔ دھلے ہوئے صاف ستھرے کپڑے پہننا اخلاق ہے اور انہیں استری کر کے، ان میں Matching (رنگوں کی ہم آہنگی) اور Contrast (تضاد) کا خیال رکھ کر پہننا لباس کا ادب ہے۔
جس طرح بغیر استری کے کپڑے پہننے والے کا تاثر دیکھنے والے پر اچھا نہیں پڑتا، بالکل اسی طرح انسانی طبیعتوں کا حال بھی ہے۔ کئی لوگوں کی طبیعتیں "استری شدہ" یعنی سلجھی ہوئی ہوتی ہیں اور کئی کی نہیں ہوتیں؛ ان کے مزاج میں بے استری کپڑوں کی طرح سلوٹیں ہوتی ہیں۔ طبیعت کی اسی بے ترتیبی اور اکھڑ پن کو "برا اخلاق" یا "بدخلق" کہا جاتا ہے۔
میں نے دیہاتوں میں وہ وقت بھی دیکھا ہے جہاں لوگوں کے پاس صندوق بھی نہیں ہوتے تھے۔ لوگ اپنے کپڑے مٹی کے گھڑوں یا چٹوروں میں رکھا کرتے تھے۔ جب ان گھڑوں سے کپڑے نکالے جاتے تو وہ سلوٹوں سے بھرپور ہوتے تھے۔ اگر آج ہمیں ویسے کپڑے پہننے کو کہا جائے تو ہم اسے کبھی گوارا نہیں کریں گے۔ پس جس طرح ہم لباس کی سلوٹوں کو ناپسند کرتے ہیں، اہلِ ادب اپنی طبیعت، مزاج، اعمال اور اخلاق کے اندر ایسی سلوٹیں اور گندگی برداشت نہیں کرتے۔ وہ اپنی عادات کو دھو کر اجلا کرتے ہیں، انہیں استری کر کے سلجھاتے ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ Matching (موافقت) کے ساتھ انہیں "اخلاقِ حسنہ" اور پھر "ادب" میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
2۔ عملی زندگی میں ادب کا یہ نظام ہر جگہ موجود ہے۔ جس طرح لباس پہننے کا ایک ادب ہے، ویسے ہی کھانے پینے کے بھی مخصوص آداب ہیں۔ اگر کوئی شخص دسترخوان پر بیٹھ کر تیزی سے کھانا شروع کر دے، دوسرے کے حصے سے لقمے اٹھائے، سالن اپنے کپڑوں پر گرائے اور منہ بھر کر باتیں کرے تو دیکھنے والا یہی کہے گا کہ یہ انسانوں کا نہیں بلکہ حیوانوں کا طریقہ ہے۔ کھانے میں "اخلاق" یہ ہے کہ حلال کھانا کھایا جائے اور کھانے کا "ادب" یہ ہے کہ اپنے آگے سے کھایا جائے، چھوٹے لقمے لیے جائیں اور تہذیب کے ساتھ کھایا جائے۔
3۔ سونے جاگنے، چلنے پھرنے، حتیٰ کہ غم اور خوشی کے بھی آداب ہیں۔ اگر کوئی شخص خوشی میں بلند بانگ قہقہے لگائے، تالیاں پیٹے اور شور مچائے تو یہ اخلاق اور ادب دونوں کے منافی ہے۔
4۔ اسی طرح جب ہم مسجد میں آتے ہیں تو مسجد کے جداگانہ آداب ہیں۔ وضو اور نماز کے اپنے ارکان، فرائض، واجبات اور سنن ہیں، مگر ان سب کے ساتھ ساتھ "آداب" بھی ہیں۔ سجدہ کرنے کا اپنا ایک ادب ہے۔
5۔ جب ہم کسی سے ملیں تو سلام کرنے اور ملاقات کرنے کا بھی ایک ادب ہے۔ اگر ہم کسی سے ہاتھ ملاتے وقت اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیں، تو یہ "سلام کا ادب" نہیں ہے۔ ایسا کرنے والے کو لوگ "بداخلاق" کہیں گے کیونکہ اس نے عمل تو کیا مگر اس عمل کو ادب کا لباس نہیں پہنایا۔
قرآن مجید کو بلا وضو نہ چھونا اور اس کی تلاوت کے تقاضوں کو پورا کرنا قرآن کا ادب ہے۔ مسجد میں داخل ہونے، نماز ادا کرنے، حج اور عمرہ کے مناسک بجا لانے کے اپنے اپنے آداب ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرنے اور دعا مانگنے کا بھی ایک سلیقہ ہے۔
الغرض دنیا میں انجام دینے والے ہر عمل کا اپنا ادب ہے۔ دوستی کے آداب ہیں، مریض کی عیادت کے آداب ہیں، میزبان اور مہمان بننے کے آداب ہیں، مجلس میں بیٹھنے کے بھی آداب ہیں۔ چلنے کے آداب یہ ہیں کہ انسان اکڑ کر اور تکبر سے نہ چلے بلکہ عاجزی اور دھیمے پن کے ساتھ چلے۔
اسی طرح زندگی کے تمام رشتوں میں ادب ہی بنیاد ہے۔ بہن بھائیوں کے ساتھ تعلق، والدین کی تکریم اور چھوٹوں پر شفقت؛ یہ سب آدابِ زندگی ہیں۔ اپنے برابر والوں سے ملاقات میں نرمی اختیار کرنا ادب ہے۔۔۔ ہمسائے کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کہ وہ ہماری ہمسائیگی میں رہنا پسند کرے، یہ پڑوسی کا ادب ہے۔۔۔ ہماری مجلس میں بیٹھنے والے کو سکون اور سرور ملے، یہ محفل کا ادب ہے۔۔۔ حتیٰ کہ مطالعہ کرنے، دوستی نبھانے اور راستے میں چلنے کے بھی آداب ہیں۔۔۔ راستے میں چلتے ہوئے پودوں، پرندوں، کتوں، بلیوں اور ہر جاندار کی زندگی کا خیال رکھنا بھی ادب میں شامل ہے۔
کسی کو بدتمیز کہنا کیسا ہے؟
ہمارے معاشرے اور روزمرہ کی زندگی میں "ادب" کے لیے ایک جملہ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے کہ "فلاں شخص کو بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے"۔ اس لفظ "تمیز" سے مراد دراصل شعور ہے۔ جب اس شعور کو نکھار کر ایک عمدہ شکل دے دی جائے تو وہ "ادب" بن جاتی ہے۔ مگر یہاں ایک لطیف نکتہ بھی یاد رکھیں کہ جب ہم کسی دوسرے کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ "اسے تمیز نہیں ہے"، تو اس وقت دوسرے کی تمیز کا تو پتہ نہیں کہ وہ ہے یا نہیں، مگر یہ جملہ بولنے والے کی اپنی تمیز ضرور ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ کسی کو یہ کہنا کہ ’’اسے بات کرنے، ملنے یا سلام کرنے کا طریقہ نہیں آتا‘‘، دراصل خود ہمارے اپنے اخلاق اور ادب کی نفی ہے۔ ادب کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ ناپسندیدہ سلوک کرے، ناگواری یا زیادتی کی بات کرے تو اس زیادتی کا ردِ عمل ہمارے چہرے کے تاثرات یا زبان سے ظاہر نہ ہو۔ کسی کی برائی کے جواب میں اپنے اندر ناگواری پیدا نہ ہونے دینا ہی "حسنِ خلق" اور " حسنِ ادب"ہے۔
دعوتِ دین کا ادب: حکمت اور نبوی ﷺ طریقہ کار
دنیا بھر میں دین کی دعوت دینے والے مبلغین کے لیے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ "دعوتِ دین" کے بھی مخصوص آداب ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کسی کو دین کی طرف بلائیں اور گفتگو کا آغاز ہی جہنم کے تذکرے سے کر دیں، یا اگر کوئی ہماری بات نہ مانے تو اسے دوزخی بنادیں۔ یہ دعوت کا طریقہ نہیں ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ۔
(النحل، 16: 125)
’’ (اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے۔ ‘‘
دعوتِ دین کا پہلا ادب "حکمت" اور دانشمندی ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمارا مخاطب کون ہے۔۔۔ ؟ اس کی عمر، اس کی ذہنی سطح، اس کا مزاج اور اس کا پس منظر کیا ہے۔۔۔ ؟ کون سی بات اس پر اچھا اثر کرے گی اور کون سی برا۔۔۔ ؟ اگر ہم ان چیزوں کا لحاظ نہیں رکھتے تو ہم حکمت کے خلاف تبلیغ کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے اتنے سخت، تلخ اور بھونڈے طریقے سے دعوت دی کہ اگلا شخص دین سے متنفر ہو کر بھاگ گیا، تو ہم نے اسے قریب لانے کے بجائے ہمیشہ کے لیے دور کر دیا۔
حضور نبی نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے دعوتِ دین کے ادب کی ایک عظیم مثال ملتی ہے۔ ایک نوجوان آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بڑی جرأت کے ساتھ گناہ اور بدکاری کی اجازت مانگی۔ یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین لرز گئے، مگر رحمتِ عالم ﷺ نے اس نوجوان کو شفقت سے قریب بلایا، اسے اپنے پاس بٹھایا اور اس کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر نہایت آہستگی سے گفتگو فرمائی۔
آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: "بیٹے! کیا تم پسند کرو گے کہ کوئی تمہاری ماں کے ساتھ یہ گناہ کرے؟" اس نے عرض کیا: "نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ " پھر آپ ﷺ نے اس کی بہن، خالہ، پھوپھی اور دیگر رشتوں کا ذکر کیا۔ جب وہ ہر رشتے کے بارے میں انکار کرتا گیا، تو آخر میں آپ ﷺ نے اسے سمجھایا کہ "بیٹے! تم جس کسی کے ساتھ بھی یہ گناہ کرو گے، وہ بھی تو کسی کی ماں، کسی کی بیٹی، کسی کی بہن یا کسی کی خالہ ہوگی۔ "
جب آپ ﷺ نے اسے اس کے اپنے رشتوں کی مثال دے کر سمجھایا اور سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، تو وہ نوجوان کہتا ہے کہ اس کے بعد مرتے دم تک میری نگاہ میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ یہ ہے دعوتِ دین کا وہ ادب جس نے ایک انسان کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔
دعوتِ دین میں پہلے حکمت ہے، پھر موعظہ حسنہ (خوبصورت نصیحت)۔ اگر ہمارا مخاطب کسی دوسرے مذہب، مسلک یا نظریہ کا حامل ہے اور ہمیں اس سے بحث یا مناظرہ کرنا پڑ جائے، تو پھر قرآن کا حکم ہے:
وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ.
(النحل، 16: 125)
’’ اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجیے جو نہایت حسین ہو۔ ‘‘
اگر Debate (بحث) یا مجادلہ کرنا بھی پڑے، تو وہ "حسن" سے بڑھ کر "احسن" یعنی اعلیٰ ترین درجے کی عمدگی، خوش خلقی اور Courtesy (خوش اخلاقی) کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس میں مخاطب کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہئیں، اسے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، اور نہ ہی اسے "اوئے توئے" کہہ کر مخاطب کرنا چاہیے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ذرا سے اختلاف پر دوسروں کو گمراہ، بے ایمان، کافر یا جہنمی قرار دے کر اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ ہم ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جیسے پوری عمارت کو آگ لگا کر تباہ کر رہے ہوں۔
یاد رکھیں! دعوتِ دین حکمت اور دانائی سے شروع کریں، پیارے کلمات اور نصیحت کے ساتھ آگے بڑھیں اور اگر ہماری رائے سے اختلاف رائے رکھنے والا ہمارے سامنے آئے تو ہمارے اندر ادب، اخلاق، نرمی اور مروت مزید بڑھ جائے۔ یہی دعوتِ دین کا اصل ادب ہے۔
تنظیمی اور سماجی زندگی کے آداب
دعوتِ دین دینے والے مبلغین، واعظین اور مصلحین کے لیے جہاں انفرادی آداب ضروری ہیں، وہیں جب ایک جماعت یا تنظیم بنتی ہے تو اس کے آداب الگ ہو جاتے ہیں۔ قیادت سنبھالنے کا اپنا ایک ادب ہے اور کارکن ہونے کا اپنا۔ قائد کا منصب بہت بڑا ہے؛ اگر وہ اپنے ماتحتوں کے لیے ماں باپ جیسا شفیق کردار ادا نہیں کرتا، تو وہ قیادت کے ادب سے ناواقف ہے۔ ایک حقیقی قائد وہ نہیں جو اپنے کارکنوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھڑکے، ان کی تذلیل کرے یا بات بات پر ان کی گرفت کرے۔ قیادت تو نام ہے شفقت، نگرانی، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا۔ قائد میں ماں جیسی ممتا اور باپ جیسا سایہ ہونا چاہیے، یہی قیادت کا اصل ادب ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دینِ اسلام میں ہر عمل کے لیے ایک ظاہری اور باطنی حسن مقرر کیا گیا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی کام نہایت عمدہ طریقے سے انجام دینا، اس کے ظاہر و باطن میں وہ خوبصورتی پیدا کرنا جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے، "ادب" کہلاتا ہے۔ ہمارا پورا دین ادب سے لبریز ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ "جس کے پاس ادب نہیں، اس کے پاس دین نہیں"۔ یا سادہ لفظوں میں "بے ادب، بے دین"۔ مگر یاد رہے، یہاں بھی ایک ادب ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے؛ اگر آپ کسی کو بے ادب دیکھیں تو اسے براہِ راست یہ نہ کہیں کہ "تم بے ادب یا بے دین ہو"۔ کسی کو بے ایمان یا جہنمی قرار دینا خود خلافِ ادب فعل ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں سے ان کی عقل اور ذہنی استعداد کے مطابق بات کرو، یہی گفتگو کا ادب ہے۔
بارگاہِ الوہیت میں ادب: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا طرزِ عمل
دین اور دنیا کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جو ادب سے خالی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق، انبیاء و رسل ﷺ کی محبت، صحابہ کرامl، اہل بیت اطہار علیہم السلام ، سلف صالحین اور اولیاء و صالحین رحمھم اللہ کی نسبت؛ ان سب میں ادب ہی کلید ہے۔ ان کا نام لینے، ان کا ذکر کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے میں ادب کے پہلو پوشیدہ ہیں۔
اللہ رب العزت کے ساتھ کلام کرنے کا ادب کیا ہے؟ اس کی ایک بہترین مثال قرآن مجید میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے تذکرے سے ملتی ہے۔ سورۃ الشعراء میں ارشاد ہے:
الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ. وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ. وَ اِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ.
(الشعراء، 26: 78-80)
’’ وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے۔ اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ ‘‘
ابراہیم علیہ السلام کے اس طرزِ کلام پر غور کریں، یہاں ادب کی ایک نہایت باریک اور لطیف صورت نظر آتی ہے۔ ان آیات میں مختلف افعال کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے۔ فرمایا: ’’اس نے پیدا کیا‘‘ اور ’’وہی ہدایت دیتا ہے‘‘۔ پھر فرمایا: ’’وہی کھلاتا ہے‘‘ اور ’’وہی پلاتا ہے‘‘ ۔ ان چاروں افعال (پیدائش، ہدایت، طعام، قیام) کی نسبت براہِ راست اللہ کی طرف کی۔
لیکن جب بیماری اور شفا کا ذکر آیا، تو ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ "وہی مجھے بیمار کرتا ہے اور وہی شفا دیتا ہے"۔ حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ بیماری اور شفا دونوں اللہ ہی کی طرف سے ہیں، مگر کلام کا ادب دیکھیے! بیماری چونکہ ایک "نقص" اور تکلیف ہے، اس لیے اسے اللہ کی طرف منسوب کرنے کے بجائے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا: وَ اِذَا مَرِضْتُ "اور جب میں مریض ہوتا ہوں"۔ بیماری کا ذکر اپنی طرف کیا اور شفا کا ذکر اللہ کی طرف منسوب کیا۔ یہ باری تعالیٰ کی بارگاہ میں کلام کا وہ اعلیٰ ادب ہے جو ایک نبی نے ہمیں سکھایا کہ خیر کی نسبت رب کی طرف کرو اور نقص کو اپنی طرف منسوب کرو۔
بارگاہِ خداوندی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ادب
اللہ رب العزت کے حضور کلام کے ادب کی ایک اور عظیم مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ہے، جس کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۃ المائدہ (آیات: 116 تا 118) میں ملتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے ان لوگوں کے سامنے سوال فرمائے گا جنہوں نے آپ کو الہٰ (خدا) یا خدا کا بیٹا بنا لیا تھا اور آپ کی پوجا شروع کر دی تھی۔ اس سوال کا مقصد دراصل ان مشرکین کی گرفت کرنا ہوگا جنہوں نے شرک کی راہ اختیار کی۔
قرآن کہتا ہے کہ اللہ پاک پوچھے گا: "اے عیسیٰ! کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا میری اور میری ماں کی عبادت کرو؟" اب غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اس کا منطقی جواب تو یہ بنتا تھا کہ "باری تعالیٰ! میں نے ایسا نہیں کہا تھا"۔ لیکن قرآن ہمیں یہاں ادب کی وہ لطافت اور نظافت سکھا رہا ہے جس کا تصور عام انسان نہیں کر سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے خود کو Defend (دفاع) نہیں کیا، بلکہ عرض کیا:
اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَـہٗ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ.
(المائدۃ، 5: 116)
’’ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو یقینا تو اسے جانتا، تو ہر اس (بات) کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں۔ ‘‘
سبحان اللہ! یہ اللہ کی بارگاہ میں کلام کا کتنا اونچا مقام ہے۔ اپنی سچی صفائی پیش کرنے کے بجائے معاملہ کو اللہ کے علم کے سپرد کر دینا ہی "ادبِ الوہیت" کا کمال ہے۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ "میں نے نہیں کہا"، بلکہ یہ عرض کیا کہ "تو تو بہتر جانتا ہے"، یعنی اللہ کے علمِ کامل کے سامنے اپنی زبان کھولنا بھی خلافِ ادب سمجھا۔
حضرت خضر علیہ السلام اور بارگاہِ الہٰیہ کا ادب
اسی طرح جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور وہ ایک سفر پر روانہ ہوئے، تو وہاں پیش آنے والے واقعات میں بھی ادب کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے تین کام کیے: 1۔ ایک مسکین کی کشتی میں عیب پیدا کیا (اسے توڑ دیا)، 2۔ ایک لڑکے کو قتل کیا، 3۔ دو یتیم بچوں کی گرتی ہوئی دیوار کو بغیر اجرت کے تعمیر کر دیا۔
جب موسیٰ علیہ السلام نے کشتی توڑنے کی وجہ پوچھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ پیچھے ایک ظالم بادشاہ آ رہا تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی قبضے میں لے رہا تھا۔ اگر ان غریبوں کی کشتی سلامت ہوتی تو وہ اسے چھین لیتا اور ان کا روزگار ختم ہو جاتا۔ قرآن اس جواب کو یوں نقل کرتا ہے:
فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا.
(الکہف، 18: 79)
’’ پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں۔ ‘‘
یہاں غور فرمائیں، چونکہ کشتی میں ’’عیب‘‘ ڈالنے کا ذکر تھا اور عیب ایک نقص ہے، اس لیے حضرت خضر علیہ السلام نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کیا کہ ’’میں نے ارادہ کیا‘‘ ۔
لیکن جب ان یتیم بچوں کی دیوار کی تعمیر کا ذکر آیا، جس کے نیچے ان کے بزرگوں کا چھوڑا ہوا خزانہ دفن تھا اور اس کی حفاظت ایک نیکی اور بھلائی کا کام تھا، تو وہاں حضرت خضر علیہ السلام نے کلام کا اسلوب بدل دیا۔ آپ نے فرمایا:
فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا.
(الکہف، 18: 82)
سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں۔ ‘‘
ان دونوں واقعات کا موازنہ (Comparison) کریں؛ جب "عیب" کا ذکر تھا تو فرمایا "میں نے ارادہ کیا"، اور جب "بھلائی اور نفع" کا ذکر آیا تو اس فعل کی نسبت اللہ کی طرف کر دی کہ "تیرے رب نے ارادہ فرمایا"۔ یہی وہ اصل ادب ہے کہ ہر خیر اور کمال کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے اور ہر نقص یا بظاہر نظر آنے والی برائی کا ذمہ دار اپنی ذات کو قرار دیا جائے۔ اسے بارگاہِ الوہیت کے ساتھ "ادبِ کلام" کہتے ہیں۔
یاد رکھیں! جب بھی اللہ رب العزت کا ذکر کیا جائے، تو ہرگز بے ادبی سے نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں ایک نکتہ ذہن نشین کر لیں کہ جب ہم کہتے ہیں "اللہ ایسا کرتا ہے" یا "اللہ فرماتا ہے"، تو یہ جملے اللہ کی توحید کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کلمات میں دونوں طریقے جائز ہیں؛ یعنی آپ "اللہ فرماتا ہے" بھی کہہ سکتے ہیں اور ادب کے اظہار کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں" یا "اللہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں" بھی کہہ سکتے ہیں۔ تاہم، جب بھی اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اس کی عبادت ہو، اطاعت ہو یا اس کے کلام (قرآنِ مجید) کی تلاوت ہو، تو انسان کا پورا وجود سراپا ادب ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ دورانِ تلاوت یا ذکر الٰہی توجہ کا کسی اور طرف بھٹک جانا بھی بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔
قصہ یوسف علیہ السلام سے حیا کا قرآنی تصور
تین چیزیں ہمیشہ یاد رکھیں: ایمان، حیا اور ادب۔
ایمان، حیا کے اندر ہے اور حیا ادب کے اندر پوشیدہ ہے۔ جب تک ہمارے تصورِ دین میں ادب قائم ہے، تب تک ہمارے اندر حیا قائم ہے اور جتنا حیا مضبوط رہے گا، اتنا ہی ایمان مضبوط ہوگا۔ اگر حیا کمزور ہوا تو ایمان رخصت ہونا شروع ہو جائے گا اور حیا تب ہی جاتا ہے جب ادب ختم ہو جائے۔ آپس کے تعلقات میں بھی ادب اور حیا کا لحاظ رکھنا عینِ ایمان کا تقاضا ہے۔
سیدنا یوسف علیہ السلام کے عمل سے قرآنِ مجید نے حیا اور ظرف کی بلندی کا ایک عظیم شاہکار بیان کیا ہے۔ آیئے! اس واقعہ سے حیا اور ادب کے چند مظاہر کا مطالعہ کرتے ہیں:
1۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے تقریباً سات سے نو سال قید میں گزارے۔ آپ کو قید میں بھجوانے والی زلیخا تھی، جو عزیزِ مصر کی زوجہ تھی اور جس نے آپ کو پالا تھا۔ جب اس کی خواہش پوری نہ ہوئی اور اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا۔ بعد ازاں زلیخا نے آپ پر الزام لگایا اور آپ علیہ السلام کو قید کروادیا۔
نو سال کے طویل عرصہ کے بعد جب بادشاہ کے ایک خواب کی تعبیر بتانے کے لیے آپ کو دربار میں بلایا گیا تو اس وقت یوسف علیہ السلام چاہتے تو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے زلیخا کا نام لے کر اسے رسوا کر سکتے تھے کہ اس نے مجھ پر غلط الزام لگایا لیکن انبیاء علیہم السلام کے ادب اور ان کی حیا کا عالم دیکھیے کہ جب بادشاہ کا قاصد پیغام لے کر آیا کہ آپ قید سے باہر تشریف لائیں تو آپ فوراً باہر نہیں آئے۔ آپ اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتے تھے، اپنا Defense (دفاع) کرنا چاہتے تھے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ یوسف گنہگار نہیں تھا۔ اصولی طور پر آپ کو قاصد سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ "جاؤ بادشاہ سے کہو کہ وہ زلیخا سے پوچھے کہ حقیقت کیا ہے؟ کیا واقعی میں نے گناہ کا ارادہ کیا تھا یا مجھ پر الزام لگایا گیا؟" لیکن یہاں انبیاء علیہم السلام کے شعور اور حیا کا وہ معیار سامنے آتا ہے جس کی مثال پوری کائنات میں نہیں ملتی۔ چونکہ زلیخا نے آپ کو پالا تھا، آپ پر احسان کیا تھا، آپ نے ان کے گھر میں ایک طویل وقت گزارا تھا، یہ الگ بات کہ بعد میں وہ اپنی خواہش کی غلام بن کر انتقام پر اتر آئی، مگر یوسف علیہ السلام نے ان کے پرانے احسانات کا بھرم رکھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی صفائی پیش کرتے وقت بھی زلیخا کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا بلکہ نہایت پردہ داری اور ظرف کے ساتھ بات کی۔ آپ نے بادشاہ کے سامنے زلیخا کا نام لینا گوارا نہیں کیا تاکہ اس کا پردہ چاک نہ ہو۔ علیہ السلام آپ نے اس قاصد سے فرمایا:
قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ.
(یوسف، 12: 50)
’’اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟‘‘
آپ نے دوسری خواتین کا تذکرہ کر کے زلیخا کا پردہ رکھا لیکن جب ان عورتوں سے تفتیش ہوئی، تو زلیخا کا ضمیر پکار اٹھا اور وہ خود بول پڑی:
الْـٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ؗ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ.
(یوسف، 12: 51)
اب تو حق آشکار ہو چکا ہے (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے ہی انہیں اپنی مطلب براری کے لیے پھسلانا چاہا تھا اور بے شک وہی سچے ہیں۔ ‘‘
اس نے اعتراف کر لیا کہ غلطی اس کی تھی اور یوسف سچے ہیں۔ یہ حیا ہے۔ جب حیا ہوتا ہے تو ادب جنم لیتا ہے اور جب ادب ہوتا ہے تو ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔
یوسف علیہ السلام کی زندگی کا دوسرا بڑا امتحان وہ تھا جب بچپن میں ان کے بھائیوں نے بے وفائی کی، انہیں کنویں میں پھینکا اور پھر غلام بنا کر بیچ دیا۔ چالیس سال بعد جب والدِ گرامی سیدنا یعقوب علیہ السلام اور تمام بھائی مصر پہنچے اور یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا تو اس وقت آپ کا اپنے والد سے گفتگو کا انداز دیکھیے آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ.
(یوسف، 12: 100)
"اور اللہ نے مجھ پر بڑا احسان کیا جب اس نے مجھے جیل سے نکال لیا۔ "
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جیل کا واقعہ تو مصر کا مقامی معاملہ تھا، اس کا بھائیوں کی اس زیادتی سے کوئی تعلق نہیں تھا جو انہوں نے چالیس سال پہلے کی تھی۔ یوسف علیہ السلام نے اللہ کے احسان کا ذکر کرتے ہوئے کنویں سے نکالنے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ جیل سے نکالنے کا ذکر کیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اگر وہ کنویں کا ذکر کرتے تو سامنے بیٹھے ہوئے بھائیوں کو شدید Embarrassment (شرمندگی) ہوتی، انہیں اپنی پرانی خطا یاد آتی اور وہ شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں شرمندہ کرنا گوارا نہیں کیا اور حیا اور پردہ داری کا ایک اعلیٰ تصور قائم فرما دیا۔
3۔ مزید براں، جب اس پورے معاملہ کی وجہ بیان کی، تو اپنا نام پہلے رکھا۔ فرمایا:
وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ.
(یوسف، 12: 100)
’’اور آپ سب کو صحرا سے (یہاں) لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد پیدا کر دیا تھا۔ ‘‘
حالانکہ حقیقت میں فساد تو بھائیوں نے کیا تھا، یوسف علیہ السلام تو معصوم بچے تھے جن پر ظلم ہوا تھا، آپ کا اس فتنہ میں کوئی کردار نہیں تھا۔ مگر کمالِ ظرف دیکھیے کہ بھائیوں کو براہِ راست مجرم ٹھہرانے کے بجائے فرمایا کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان رخنہ ڈال دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی ذات کو بھی اس میں شامل کر لیا تاکہ بھائیوں پر سارا بوجھ نہ پڑے اور وہ خود کو تنہا گنہگار نہ سمجھیں۔
یہ ہے وہ ادب اور حیا کا عالم جو انبیاء علیہم السلام نے انسانیت کو عطا کیا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے، اپنی گفتگو اور اپنے کردار میں یہی نبوی شعور پیدا کرنا ہوگا کہ کس طرح دوسروں کے عیوب پر پردہ رکھا جاتا ہے اور کس طرح اپنے مخالفین کو بھی عزت و احترام کے ساتھ ڈیل (Deal) کیا جاتا ہے۔ ہمیں انبیاء علیہم السلام کی ان سنتوں سے اپنے شعور کو جلا بخشنی چاہیے کہ کس طرح مشکل وقت میں بھی ادب اور حیا کا دامن نہیں چھوڑا جاتا۔
(جاری ہے)